Ayah 9:1فضائل و خواص سورة توبہ
خاصیت آیت 32‘ 33
یریدون ان یطفئوا نور اللہ بافوا ھھم ویابی اللہ الا ان یتم نورہ ولو کرہ الکفرون ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون
اس آیت کو شیشہ کے نئے گلاس میں لکھے اور اسے عود و عنبر کی دھونی دے پھر اسے یاسمین کے خالص عطر سے دھوئے اور سبز شیشہ کے برتن میں اونچی جگہ رکھ دے جب ضرورت پڑے اس عطر کو اپنے دونوں ابرئوں کے درمیان لگالے تو اسے لوگوں میں محبت اور عزت و مرتبہ ملے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس آیت کو ہرن کے چمڑے پر زعفران اور عرق گلاب سے لکھے اور کستوری کی دھونی دے۔ اس کو جو آدمی اپنے دائیں بازو پر باندھے گا اسے لوگوں میں محبت و عزت اور مرتبہ و دبدبہ حاصل ہوگا۔
خاصیت آیت 46
ولو ارا دوا الخروج لاء عدوا لہ عدۃ ولکن کرہ اللہ انبعاثھم فثبطھم وقیل اقعدوا مع القعدین
اس آیت کو ریشم کے گول کاٹے ہوئے ٹکڑے میں لکھے جو ٹکڑا مہینہ کے اول دنوں میں کاٹا گیا ہو اور آیت کے ارد گرد بھاگنے والے یا چور کا نام اور اسکی ماں کا نام لکھے ( فلاں بن فلانۃ) پھر اسے لیکر شہر سے باہر ایسی جگہ چلا جائے جہاں اسے کوئی نہ دیکھے اور اس گول ٹکڑے کے درمیان میں نئی میخ گاڑے پھر اسے مٹی سے چھپا دے تو بھگوڑا اور چور و اپس آجائے گا۔
خاصیت آیت 129
فان تولوا فقل حسبی اللہ لآ الہ الا ھو ط علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم جمعہ کی رات میں آدھی رات کوا سے تین سو مرتبہ پڑھے اور ہر بار کے آخر میں کہے۔ یارب حسبی علی فلان بن فلانۃ اعطف قلبہ وذالہ الی تو بہت جلد اس کے دل میں اللہ تعالیٰ اس پر شفقت و محبت ڈال دیں گے اور اسے اس کا مسخر و تابع بنادیں گے۔ یہ مجربات میں سے ہے۔
حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھی (رح) کی نایاب قرآنی تفسیر
” تفسیر میرٹھی “ سے منتخب آیات کے فضائل و خواص
فضیلت و خاصیت سورة اعراف
فضائل۔ جو اس سورت کو پڑھے گا قیامت کو اللہ پاک اس کے اور شیطان کے درمیان پردہ حائل کردے گا آدم (علیہ السلام) اس کی شفاعت کریں گے۔
فضیلت و خاصیت سورة انفال و توبہ
فضائل۔ حضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص سورة انفال اور توبہ پڑھا کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور گواہی دوں گا کہ وہ نفاق سے مبرا ہے اور اس کا پڑھنے والا ہر منافق و ہر منافقہ کی تعداد پر دس دس نیکیاں پائے گا ‘ جب تک دنیا میں زندہ رہے گا عرش اور اس کے اٹھانے والے فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے رہیں گے۔
سورۃ التوبۃ
سورۃ برأت کے شروع میں بسم اللہ نہ ہونے کی وجہ
مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ساری سورت مدنی ہے سوائے آخر کی دو آیتوں کے۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سورة توبہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ یہ رسوا کرنے والی ہے۔ مشرکین کے بارے میں نازل ہوتی رہی یہاں تک کہ ان کو گمان ہونے لگا کوئی ان میں سے کسی کا تذکرہ اس سے نہ بچ سکے گا۔ پھر میں نے پوچھا سورة الانفال ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ سورة بدر ہے۔ میں نے سوال کیا سورة حشر ؟ فرمایا تو اس کو سورة بنو نضیر کہہ لے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ سے سوال کیا کہ سورة انفال مثانی سورتوں میں سے ہے اور سورة برأۃ مئین میں سے ہے آپ کو کس چیز نے ابھارا کہ آپ ؓ نے ان دونوں سورتوں کو ملا دیا اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں لکھی اور تم نے اس کو سبع طوال میں رکھ دیا ؟ تو حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ آپ (علیہ السلام) پر قرآن مجید کی سورتیں ہر وقت اترتی رہتی تھیں۔ جب بھی کوئی آیت اترتی تو آپ کاتبین میں سے کسی کو بلاتے اور فرماتے کہ اس آیت کو اس سورت میں رکھ دو جس میں ان ان باتوں کا تذکرہ ہے۔ مدینہ میں اور سورة برأۃ آخر میں نازل ہوئی ہے اور اس کے مضامین سورة انفال سے ملتے جلتے ہیں اور آپ (علیہ السلام) دنیا سے تشریف لے گئے اور ہمیں یہ بیان نہیں کیا کہ یہ سورة توبہ انفال کا حصہ ہے۔ اسی وجہ سے میں نے ان دونوں کو ملا دیا اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بھی نہیں لکھی اور اس کو سبع طوال میں رکھ دیا۔
(آیت 1-2)
تفسیر 1” برآء ۃ مین اللہ و رسولہ “ یعنی یہ اللہ کی طرف سے برأت ہے اور یہ مصدر ہے نشاۃ ار دناء ۃ کی طرح۔ مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ تبوک کی طرف روانہ ہوئے تو منافقین جھوٹی خبریں پھیلانے لگے اور مشرکین رسول اللہ ﷺ سے کئے ہوئے عہد توڑنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے عہد توڑنے کا حکم دیا اور یہ عہد توڑنے کا حکم اس آیت میں ہے ” واما تخافن من قوم خیانۃ “ الآیۃ زجاج فرماتے ہیں کہ براء ۃ یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ ان کو عہد دینے اور اس کے پورا کرنے سے بری ہیں۔ جب خود انہوں نے اس کو توڑ دیا ہے ” الی الذین عھدتم من المشرکین “ خطاب نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو ہے اگرچہ نبی کریم ﷺ نے ہی عہد کیا تھا اس لئے کہ صحابہ کرام ؓ اس عہد پر راضی تھے تو گویا انہوں نے خود کیا۔
Ayah 9:2(2) ” فسیحوا فی الارض “ یہاں گفتگو میں خبر سے خطاب کے صیغوں کی طرف رجوع کیا ہے۔ یعنی آپ (علیہ السلام) ان کو کہہ دیں کہ چلو زمین میں آگے پیچھے امن کے ساتھ مسلمانوں میں سے کسی کے خوف کے بغیر ” اربعۃ اشھر واعلموآ انکم غیر معجزی اللہ “ ‘ نہ اس سے بچ سکتے ہو اور نہ بھاگ سکتے ہو ” وان اللہ مخزی الکفرین “ یعنی دنیا میں ان کو قتل کے ذریعے ذلیل کرنے والا ہے اور آخرت میں عذاب کے ذریعے۔
اشھر حرم کون سے دن ہیں
علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ مدت اور وہ کون لوگ تھے جن کے عہد سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے برأت کا اعلان کیا ؟ ایک جماعت نے کا کہ یہ مدت اللہ کی طرف سے مشرکین کو دی گئی ہے کہ جن کا معاہدہ چار ماہ سے کم تھا ان کے معاہدہ کی مدت چار ماہ کردی گئی ہے اور جن کے معاہدہ کی مدت متعین نہ تھی اس کو چار ماہ کے ساتھ متعین کردیا ہے کہ اس کے بعد جنگ ہوگی پھر جہاں وہ ملیں گے قتل کئے جائیں گے مگر یہ کہ وہ توبہ کرلیں اور سا مدت کی ابتداء حج اکبر کے دن سے اور اس کی مدت اختتام ربیع الثانی کی دس تاریخ تھی اور جن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ تھا ان کو مہلت دی تاکہ حرام مہینے ختم ہوجائیں اور یہ پچاس دن تھے اور زہری (رح) فرماتے ہیں کہ چار مہینے شوال، ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم ہیں۔ اس لئے کہ یہ آیت شوال میں نازل ہوئی تھی اور پہلا قول زیادہ درست ہے اور اسی پر اکثر مفسرین ہیں۔
اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ چار مہینے کی مدت ان مشرکوں کے لئے تھی جن سے چار ماہ سے کم معاہدہ ہوا تھا کہ وہ چار ماہ مکمل کرلیں اور جن کے معاہدہ کی مدت چار ماہ سے زائد تھی تو اس مدت کے مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔ اللہ کے فرمان ” فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم “ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان مشرکوں سے لڑائی کا حکم دیا جنہوں نے آپ (علیہ السلام) سے لڑائی کی تو فرمایا ” قاتلا فی سبیل اللہ الذین یقاتلو نکم “ تو آپ (علیہ السلام) صرف ان مشرکوں سے لڑائی کرتے تھے جنہوں نے آپ (علیہ السلام) سے قتال کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام مشرکوں سے لڑائی کرنے اور ان سے بری ہونے کا حکم دیا اور ان کی چار ماہ کی مدت دی تو ان مشرکوں میں سے کسی کے لئے بھی چار ماہ سے زائد مدت نہ تھی خواہ ان سے اس اعلان برأت سے پہلے کوئی معاہدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو تو مدت سب کے لئے چار ماہ مقرر ہوئی اور ان چار ماہ کے بعد تمام مشرکوں کے خون حلال کردیئے گئے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت غزوہ تبوک سے پہلے نازل ہوئیھی۔ محمد بن اسحاق اور مجاہد و دیگر مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اہل مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال قریش سے معاہدہ کیا کہ دس سال وہ مسلمانوں سے لڑائی نہ کریں گے لوگ امن سے رہیں گے اور قبیلہ خزاعہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اور بنو بکر قریش کے عہد میں داخل ہوگیا۔ پھر بنو بکرے نے خزاعہ پر حملہ کیا اور کافی نقصان پہنچایا اور قریش نے بنو بکر کی ہتھیاروں سے مدد کی۔
جب بنو بکر اور قریش خزاعہ پر غالب آگئے اور اپنا عہدہ توڑ دیا تو عمرو بن سالم خزاعی مدینہ گیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر چند اشعار کہے جن میں سارا واقعہ بیان کر کے مدد کی درخواست کی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر میں نے تمہاری مدد نہ کی تو کسی کی مدد نہ کی اور آپ (علیہ السلام) نے ہجرت کے آٹھویں سال مکہ کی طرف لشکر کی ۔ جب ہجرت کا نواں سال تھا تو رسول اللہ ﷺ نے حج کا ارادہ کیا، پھر فرمایا کہ وہاں مشرکین آئیں گے اور ننگے طواف کریں گے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اس سال حج کا امیر بنا کر بھیجا تاکہ وہ لوگوں کا حج قائم کریں اور آپ کو سورة برأۃ کی ابتدائی چالیس آیتیں دیں کہ یہ تمام حاجیوں پر پڑھ کر سنا دیں۔ پھر آپ ؓ کے بعد حضرت علی ؓ کو اپنی اونٹنی عضباء پر بھیجا کہ وہ لوگوں پر سورة برأۃ کی شروع کی آیتیں پڑھیں اور یہ حکم دیا کہ وہ مکہ اور منیٰ اور عرفہ میں یہ اعلان کریں کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کا ذمہ بری ہے ہر مشرک سے اب کوئی بیت اللہ کا ننگے طواف نہ کرے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ لوٹے اور پوچھا اے آقا (ﷺ ) میرے ماں اور باپ آپ پر قربان ، کیا میرے بارے میں کچھ حکم اترا ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں لیکن مناسب یہ تھا کہ یہ اعلان میرے گھر کا کوئی بندہ کرتا۔ کیا اے ابوبکرچ کیا تو اس بات سے راضی نہیں کہ تو میرے ساتھ غار میں تھا اور حوض پر میرے ساتھ ہوگا ؟ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کوچ کیا کہ آپ ؓ حج کے امیر تھے اور حضرت علی ؓ برأت کا اعلان کرتے پھر یوم الترویہ سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقی ؓ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کے مناسک بیان کئے اور حج قائم کیا اور عرب اس سال میں اپنے جاہلیت کے حج کے مرتبوں پر تھے۔ جب یوم النحر آیا تو حضرت علی بن ابی طالب ؓ کھڑے ہوئے اور لوگوں میں اعلان کیا اور ان پر سورة برأت پڑھی۔ زید بن تبع فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ آپ ؓ اس سال کس چیز کے ساتھ بھیجے گئے ؟ تو آپ ؓ نے فرمایا کہ چار چیزوں کے ساتھ بھیجا گیا۔ (1) کوئی بیت اللہ کا ننگے طواف نہ کرے۔ (2) جس کا رسول اللہ ﷺ سے کوئی معاہدہ متعین مدت تک تھا تو وہ اس مدت تک باقی رہے گا اور جس کا معاہدہ کسی مدت تک نہ تھا تو وہ چار ماہ تک ہے۔ (3) جنت میں صرف ایمان والا داخل ہوگا۔ (4) مسلمان اور مشرک اس سال کے بعد جمع نہ ہوں گے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے دسویں سال حجتہ الوداع کیا۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر بنا کر بھیجا اور پھر ان کو معزول کر کے حضر ت علی ؓ ک امیر حج کیوں بنادیا ؟ ہم جواب دیں گے علماء نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو معزول نہیں کیا تھا آپ ہی امیر حج تھے۔ حضرت علی ؓ کو تو ان آیات کا اعلان کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ اس کا سبب یہ بنا کہ عرب کی عادت اور عرف یہ تھا کہ جن سے معاہدہ کیا ہو یا تو ان کا سردار عہد توڑے یا اس کے خاندان کا کوئی فرد ایسا کرے تو حضرت علی ؓ کو اس وجہ سے بھیجا کہ وہ یہ نہ کہیں کہ یہ طریقہ ہمارے عرف و عادت کے خلاف ہے اور اس بات پر دلیل کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہی امیر حج تھے۔
وہ حدیث ہے جس کو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مجھے اس حج میں نحر کے دن دو اعلان کرنے والوں کے ساتھ بھیجا کہ ہم منیٰ میں اعلان کریں کہ سن لو کہ آج کے سال کے بعد کوء مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی بیت اللہ کا طواف کرے۔
Ayah 9:3تفسیر (3) (و اذان “ اس کا عطف ” براء ۃ “ پر ہے یعنی اعلان ہے اور اس سے نماز کی اذان دینا ہے۔ ” من اللہ ورسولہ الی النسا یوم الحج الاکبر “ حج اکبر کے دن میں اختلاف ہے۔
یوم الحج الاکبر کی تفسیر میں مختلف اقوال
(1) عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عرفہ کا دن ہے اور یہی بات حضرت عمر بن خطاب ؓ اور ابن زبیر ؓ سے بھی مروی ہے اور یہی عطاء ، طائوس، مجاہد اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ کا قول ہے اور (2) ایک جماعت نے کہا یہ قربانی کا دن ہے۔
(3) یحیٰی بن جزار سے مروی ہے کہ حضرت علی ؓ یوم النحر میں سفید خچر پر سوار ہو کر جبانہ کی طرف جانے لگے تو ایک شخص آیا اور آپ ؓ کی سواری کی لگام پکڑ کر حج اکبر کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ تیرا یہ دن ہے، اس کا راستہ چھوڑ دے اور یہی بات عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ اور مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے اور یہی شعبی نخعی رحمہما اللہ اور سعید بن جبیر ؓ اور سدی (رح) کا قول ہے۔
(4) ابن جریج نے مجاہد سے روایت کیا کہ حج اکبر کا دن منیٰ کے تمام ایام ہیں۔ سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ یوم الحج الاکبر سے مراد اوقات حج مراد ہیں۔ یعنی منی کے تمام ایام جیسے یوم صفین، یوم جمل، یوم بعاث سے مراد وقت اور زمانہ ہے۔ عبداللہ بن حارث (رح) فرماتے ہیں کہ حج اکبر کا دن وہ ہے جس میں آپ (علیہ السلام) نے حج کیا اور یہی ابن سیرین (رح) کا قول ہے کیونکہ اس دن میں مسلمانوں کا حج اور یہود و نصاریٰ و مشرکین کی عید جمع ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے اور بعد میں کبھی ایسا نہیں ہوا اور علماء کا حج اکبر میں بھی اختلاف ہے۔ 5 مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حج اکبر قران اور حج اصغر افراد ہے۔
6 اور زہری، شعبی اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حج اکبر حج ہے اور حج اصغر عمر ہے ” ان اللہ بریء من المشرکین و رسولہذ یعنی اور اس کا رسول بھی مشرکین سے بری ہے۔ یعقوب نے لام کے نصب کے ساتھ ” ان اللہ و رسولہ بری “ پڑھا ہے۔” فان تبتم “ کفر سے لوٹ جائو اور خالص توحید پر آ جائو ” فھو خیرلکم و ان تولیتم “ ایمان سے اعراض کرو ” فاعلموا ٓ انکم غیر معجزی اللہ و بشر الذین کفروا بعذاب الیم “
Ayah 9:4” الا الذین عھدتم من المشرکین “ یہ استثناء ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” براء ۃ من اللہ ور سولہ “ سے ۔ یعنی بری ہے اللہ اور اس کا رسول ان عہدوں سے جو تم نے مشرکین سے کئے۔ سوائے اس عہد کے جو تم نے مشرکین سے کیا اور یہ بنو ضمرہ کے لوگ ہیں یہ کنانہ قبیلہ کی ایک شاخ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کے عہد کی مدت پوری کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان کے عہد کی مدت نو ماہ باقی رہ گئی تھی۔ ان کی مدت اس لئے پوری کی گئی کہ انہوں نے عہد نہ توڑا تھا اور یہی معنی ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ثم ینقصو کم شیئاً کا ولم یظھروا علیکم احداً فاتموآ الیھم عھدھم الی ملتھم ط ان اللہ یحب المتقین “
Ayah 9:5(5) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم “ بعض نے کہا یہ چار مہینے رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم ہیں۔ مجاہد اور ابن اسحاق رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ معاہدہ کے مہینے ہیں کہ جس کا معاہدہ ہے تو اس کا معاہدہ چار ماہ تک باقی رہے گا اور جس کا عہد نہیں تھا تو اس کی مدت محرم ختم ہونے تک ۔ پچاس دن ہے ان مہینوں کو ” حروم “ اس وجہ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں مئومنین پر مشرکوں کے خون حرام کردیئے ہیں۔ مجاہد کے اس قول پر ایک اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو پچاس دن ہوں گے۔ اشہر حرم تو پورے نہیں ہوں گے بلکہ اشہر حرم کا جزو اور حصہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ نے اشہر حرم کا گزر جانا فرمایا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دس ذی الحجہ سے آخر محرم تک ایک ایسی مدت تھی جس کا اتصال پچھلے مہینوں سے تھا اس لئے اشہر حرم کا لفظ ذکر کردیا گیا۔ ” فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم “ حل یا حرم میں ” وخذوھم “ ان کو قیدی بنائو ” واحصروھم ان کو گھیر لو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مشرک قلعہ بند ہوجائیں تو ان کا محاصرہ کرلو۔ نکلنے نہ دو تاکہ وہ مجبور ہو کر یا جنگ کریں یا مسلمان ہوجائیں یا جزیہ ادا کرنا قبول کرلیں۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ مکہ میں داخل ہونے اور ممالک اسلامیہ میں گھومنے پھرنے سے کافروں کو روک دو ۔ واقعدولھم کل مرصد “ یعنی ہر راستے پر مرصد وہ جگہ جس میں دشمن کا انتظار کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے رصدت الشئی میں نے اس چیز کی تاک لگائی۔ مطلب یہ ہے کہ تم مشرکوں کی گھات میں لگے رہو کہ جس طرف سے وہ آئیں تم ان کو گرفتار کرلو تاکہ مکہ میں داخل وہنے اور ملک میں پھیلنے نہ پائیں۔ بعض نے کہا مکہ کے راستوں پر بیٹھ جائو تاکہ وہ اس میں داخل نہ ہو سکیں۔ ” فان تابوا اگر وہ شرک سے توبہ کرلیں۔ واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فخلوا سبیلھم “ ان کو چھوڑ دو کہ اپنے شہروں میں چلیں پھر اور مکہ میں داخل ہوں۔” ان اللہ غفور رحیم “ اس کے لئے جو توبہ کرے ” رحیم “ حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت سے ان تمام تر آیات کو منسوخ کردیا جن میں مسلمانوں کو کافروں نے ظلم و ایذا پر صبر کرنے اور درگزر کرنے کی تلقین کی گئی۔
Ayah 9:66” وان احد من المشرکین استجارک “ یعنی جن مشرکین کے قتل کا میں نے حکم دیا ہے اگر ان میں سے کوئی آپ سے پناہ مانگے اور امن طلب کرے تاکہ وہ اللہ کے کلام کو سن لے ” فاجرہ “ تو اس کو پناہ اور امان دے دیں ” حتی یسمع کلم اللہ ثم ابلغہ مامنہ “ یعنی اگر وہ اسلام نہ لائیں تو اس کو اس کی امن کی جگہ یعنی اس کی قوم کے پاس پہنچا دیں۔ پھر اگر وہ آپ سے لڑائی کرے اور آپ لڑنے پر قادر ہوں تو اس کو قتل کردیں۔ ذلک بانھم قوم لا یعلمون یعنی اللہ کے دین اور اس کی توحید کو نہیں جانتے تو وہ اللہ کا کلام سننے کے محتاج ہیں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت محکم ہے قیامت کے دن تک
Ayah 9:7كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ یہ سوال تعجب کے کے طریقے پر ہے اور اس کا مطلب انکار کرنا ہے یعنی یہ لوگ دھوکہ دیتے ہیں اور عہد توڑتے ہیں تو ان کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر کوئی عہد نہیں ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے استثناء کیا اور فرمایا ” الا الذین عھدتم عند المسجد الحرام “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ قریش ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اہل مکہ ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن معاہدہ کیا تھا ” فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم “ پھر وہ سیدھے نہیں رہے اور عہد کو توڑا اور بنی بکر کی خزاعہ پر حملہ میں مدد کی تو فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے چار ماہ مدت مقرر کردی کہ ان چار ماہ میں اسلام لے آئیں یا جس شہر میں چاہیں چلے جائیں تو وہ چار ماہ سے پہلے اسلام لے آئے۔ سدی ، کلبی اور ابن اسحاق رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے بکر کے قبیلے بنو خزیمہ، بنو مدلج اور بنو ضمرہ اور بنود یل مراد ہیں یہ لوگ حدیبیہ کے دن قریش کے عہد میں داخل ہوگئے تھے ان میں سے قریش اور بنو بکر کی شاخ بنو دیل نے عہد شکنی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے عہد پورا کرنے کا حکم دیا جنہوں نے عہد نہیں توڑا یعنی بنو ضمرہ ۔ یہ قول درستگی کے زیادہ قریب ہے۔ اس لئے کہ یہ آیت قریش کے عہد توڑنے اور فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی ہے تو ایک گزر جانے والے اقعہ کے بارے میں کیسے مستقبل کا حکم لگایا جاسکتا ہے ؟ کہ ” فما استقاموا لکم فاستقیموا الھم “ اور یہ تو وہ لوگ مراد ہیں جن کے بارے میں کہا ” الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصو کم شیئاً “ یعنی وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے قریش کی طرح عہد شکنی نہیں کی اور رسول اللہ ﷺ کے خلفاء یعنی بنی خزاعہ کے خلاف بن بکر کی مدد نہیں کی۔” ان اللہ یحب المتقین “
Ayah 9:8(8) ” کیف وان یظھروا علیکم “ یہ بھی پہلی آیت پر لوٹ رہا ہے یعنی کیسے ہوسکتا ہے ان کے لئے عہد اللہ کے پاس کہ اگر وہ غالب آجائیں تم پر ” لا یرقبوا فیکم الا ولا ذمۃ “ اخفش (رح) فرماتے ہیں کہ کیسے تم ان سے قتال نہیں کرتے حالانکہ اگر وہ تم پر کامیاب ہوجائیں تو وہ حفاظت نہ کریں گے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ” لا یرقبوا “ کا معنی وہ نہیں انتظار کریں گے۔
قطرب کہتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ وہ تم میں کسی رشتہ داری کی رعایت نہیں کرتے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” الا “ بمعنی قرابت ہے اور یمان کہتے ہیں رشتہ داری کے معنی میں ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” الال “ بمعنی عہد ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ” الا ولا ذمۃ “ دونوں کا معنی عہد ہے لفظوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے دونوں کو ذکر کیا ہے۔ ابو مجلز اور مجاہد رحمہما عنہ کے پاس آئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے کہا مسلیمہ کی کتاب پڑھو، انہوں نے پڑھی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ یہ کلام ” اِل “ یعنی اللہ تعالیٰ سے نہیں نکلی اور اس تاویل پر دلیل یہ ہے کہ عکرمہ کی قرأت میں ” لا یرقبون فی مئومن ایلاً “ بالیاء کے ساتھ ہے بمعنی اللہ عزوجل ” یرضونکم بافواھھم “ یعنی صرف اپنی زبان سے تمہاری اطاعت کرتے ہیں دل سے نہیں کرتے ” وتابی قلوبھم “ ایمان کا ” و اکثر ھم فاسقون “ اگر یہ اعتراض ہو کہ یہ آیت مشرکین کے بارے میں ہے اور وہ سارے فاسق تھے تو آیت میں اکثر کو کیوں ذکر کیا گیا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ یہاں فسق سے معاہدہ توڑنا مراد ہے اور مشرکین میں بھی بعض ایسے لوگ تھے جنہوں نے عہد پورا کیا اور اکثر نے عہد توڑا تو اس لئے کہا ” و اکثر ھم فاسقون “
Ayah 9:9تفسیر 9” اشتروا بایت اللہ ثمنا قلیلاً “ کیونکہ انہوں نے ان چند لقموں کی خاطر رسول اللہ ﷺ سے کیا ہوا عہد توڑ دیا جو ان کو ابو سفیان نے کھلائے تھے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ابو سفیان نے اپنے حلیفوں کو خوراک دی ” قصدوا عن سبیلہ “ تو انہوں نے لوگوں کو اللہ کے دین میں داخل ہونے سے روکا اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ طائف والوں نے ان کو مال کی مدد دی تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ پر قوی ہوجائیں ” انھم سآئ “ برا ہے۔” ماکانوا یعملون “
Ayah 9:1010” لایرقبون فی مومن الاولا ذمۃ “ فرماتے ہیں اے مومنوں تم ان پر شفقت نہ کرو جیسا کہ اگر وہ غالب آجاتے تو تم پر شفقت نہ کرتے و اولئک ھم المعتدون “ عہد توڑ کر۔
Ayah 9:1111 ” فان تابوا “ شرک سے ” واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فاخوانکم “ پس وہ تمہارے بھائی ہیں ” فی الدین “ ان کو وہ فوائد ملیں گے جو تمہیں ملتے ہیں اور ان پر وہ ذمہ داریاں ہوں گی جو تم پر ہیں۔” ونفصل الایت لقوم یعلمون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت نے اہل قبلہ کے خون حرام کردیئے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تم کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیا گیا ہے۔ پس جو زکوۃ نہیں دیتا تو اس کی نماز بھی نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو خلیفہ بنایا گیا اور عرب میں سے جس نے کافر ہونا تھا ہوگیا تو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کہا آپ لوگوں سے کیسے قتال کریں گے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کروں جب تک وہ ” لا الہ الا اللہ ‘ نہ کہ ہیں جب وہ ” لا الہ الا اللہ ‘ کہہ لیں تو وہ مجھ سے اپنا مال اور جان بچا لے گئے مگر اس کے حق کے ساتھ اور اس کا حساب اللہ پر ہے ؟
تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میں ضرور قتال کروں گا۔ اس سے جس نے نماز اور زکوۃ میں فرق کیا کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھے بکری کا بچہ نہ دیں جو رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے تو میں اس کی وجہ سے ان سے قتال کروں گا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے یہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر صدیق ؓ کے سینہ کو قتال کے لئے کھول دیا ہے تو میں نے پہچان لیا کہ یہ حق ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذبح کیا ہوا جانور کھایا توبہ وہ مسلم ہے جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ذمہ ہے۔
Ayah 9:12تفسیر 12” وان نکثوآ ایمانھم “ اپنے عہد کو توڑیں ” من م بعد عھدھم “ یعنی قریش کے مشرکین ” وطعنوا فی دینکم “ اور اس میں عیب نکالیں۔ پس یہ دلیل ہے اس بات پر کہ جو ذمی دین اسلام میں عیب نکالے اور اعلانیہ تو اس کا کوئی معاہدہ باقی نہ رہے گا۔” فقاتلوآ ائمۃ الکفر “ اہل کوفہ اور اہل شام نے (ائمہ) دو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے جہاں بھی ہو اور باقی حضرات نے دوسرے ہمزہ کو لین کے ساتھ پڑھا ہے اور ائمتہ الکفر ۔ مکہ کے مشرکین کے سرداروں اور قائدین کو ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابوسفیان بن حرب اور ابوجہل بن ہشام اور سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابی جہل اور قریش کے تمام سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ان لوگوں نے عہد توڑ ا اور رسول اللہ ﷺ کے نکالنے کا ارادہ کیا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ فارس اور روم والے مراد ہیں۔ حذیفہ بن یمان ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے مصداق قتل کردیئے گئے اور اب تک اس کا مصداق نہیں آئے ” انھم لا ایمان لھم “ یعنی ان کے عہد نہیں ہیں۔ یمین کی جمع ہے۔ قطرب (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے عہد کو پورا کرنا نہیں ہے اور بعض نے کہا یہ امان سے ہے یعنی ان کو امن نہ دو اور جہاں پائو قتل کر دو ” لعلھم ینتھون “ تاکہ وہ تمہارے دین میں عیب نکالنے سے اعتراض کردیں اور تم پر غالب ہونے سے بھی اور بعض نے کہا کہ کفر سے باز آجائیں۔ مسلمانوں کو قتال پر ابھارا ہے۔
Ayah 9:1313” الا تقاتلون فومانکثوآ ایمانھم “ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حدیبیہ کی صلح کا عہد توڑا اور خزاعہ کے خلاف بنوبکر کی مدد کی۔” وھموا باخراج الرسول “ مکہ سے جب وہ دارالندوہ میں جمع ہوئے ” وھم بدء وکم “ قتال کے ساتھ ” اول مرۃ “ یعنی بدر کے دن کیونکہ جب قافلہ محفوظ ہوگیا تو وہ کہنے لگے ہم محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے اور مفسرین رحمہما اللہ کی ایک جماعت نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے خزاعہ کے قتال پر ابتداء کی ” اتخشونھم “ کیا تم ان سے ڈر کر ان سے قتال چھوڑ رہے ہو ؟” فاللہ احق ان تخشوہ “ ان سے قتال چھوڑنے میں ” ان کنتم مئومنین “
Ayah 9:14تفسیر 14” قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم “ ان کو اللہ تمہارے ہاتھوں سے قتل کروائے گا۔” ویخزھم “ قید اور مغلوبیت سے ان کو ذلیل کرے گا۔ ” ویخزھم وینصرکم علیھم ویشف صدور قوم مومنین “ ان تکالیف سے جو مسلمانوں کو ان کے ہاتھوں پہنچیں۔ مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے حلیف خزاعہ کے سینے مراد ہیں کہ قریش نے ان کے خلاف بنوبکر کی مدد کی تو اللہ تعالیٰ نے بنوبکر کے سنیوں کو نبی کریم ﷺ اور مئومنین سے شفاد دی۔
Ayah 9:1515” ویذھب غیظ قلوبھم دلوں کا قرب اور یہ بنو بکر نے قریش کی مدد کی مسلمانوں کے خلاف اس وجہ سے محسوس کیا ویتوب اللہ علی من یشآئ “ پس اس کو اسلام کی طرف ہدایت کر دے۔ جیسا کہ ابوسفیان اور عکرمہ بن ابوجہل اور سہیل بن عمرو کے ساتھ کیا ” واللہ حکیم علیم “ روایت کیا گیا ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم خزاعہ کے بنو بکر کے علاوہ سب سے تلوار اٹھا لو عصر تک۔
Ayah 9:1616” ام حسبتم ان تترکوا “ بعض نے کہا یہ خطاب منافقین کو ہے اور بعض نے کہا ان مئومنین کو خطاب ہے جن پر قتال بھاری تھا تو فرمایا کہ کیا تمہارا خیال ہے کہ تم کو چھوڑ دیا جائے گا اور جہاد کا حکم دے کر تمہارا امتحان نہیں لیا جائے گا تاکہ جھوٹا سچے سے ظاہر ہوجائے۔” ولما یعلم اللہ الذین جھدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المومنین ولیجۃ “ اندرونی دوست کہ ان کو اپنے راز بیان کریں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” ولیجۃ “ بمعنی خیانت ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں دھوکہ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں اولیاء اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں ہر وہ چیز جس کو تو دوسری چیز میں داخل کر دے اور وہ اس میں سے نہ ہو تو یہ ولیجہ ہے اور آدمی کسی قوم کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ان میں سے نہیں ہوتا۔ اس کو ” ولیجۃ الرجل “ کہا جاتا ہے جو اس کے اندرونی معاملات کے ساتھ خاص ہو۔ دوسرے لوگوں کے علاوہ اس کو کہا جاتا ہے ” ھو ولیجتی “ واحد اور جمع کے لئے ” وھم و لیجتی “ ” واللہ خبیر بما تعملون “
Ayah 9:1717” ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عباس ؓ کو بدر کے دن قید کیا گیا تو مسلمانوں نے ان کو کفر اور قطع رحمی پر شرم دلائی اور حضرت علی ؓ نے سخت باتیں کیں تو حضرت عباس ؓ کہنے لگے کہ تم ہماری برائیاں ذکر کرتے ہو اور ہماری اچھائیاں ذکر نہیں کرتے تو حضرت علی ؓ نے پوچھا کیا تمہاری بھی کوئی خوبیاں ہیں ؟ انہوں نے کہا ہم مسجد حرام کو آباد و تعمیر کرتے ہیں کعبہ کی چوکیداری کرتے ہیں اور حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے عباس ؓ کی تردید میں یہ آیت اتاری ” ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ “ یعنی مشرکین کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کی مساجد کو تعمیر کریں، مسلمانوں پر ان کو روکنا واجب کیا ہے۔
اس لئے کہ مساجد تنہا اللہ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں تو جو شخص اللہ کا منکر ہے تو اس کے لئے اس کو تعمیر کرنا جائز نہیں۔ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ اس سے مراد معروف تعمیر اور اس کی مرمت ہے کہ اس سے کافر کو روکا جائے گا یہاں تک کہ اگر وہ وصیت کرے تو اس کو پورا نہیں کیا جائے گا اور بعض نے عمارۃ کے لفظ کو مسجد میں داخل ہونے اور اس میں بیٹھنے پر محمول کیا ہے۔ مساجد اللہ جمع کا لفظ ہے اور اس سے مراد صرف مسجد حرام ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مشرکین کو موڑا جائے کہ وہ مسجد حرام کے اہل ہوجائیں۔ ابن کثیر اور اہل بصرہ رحمہما اللہ نے (مسجد اللہ) واحد کا صیغہ پڑھا ہے اور اس سے مسجد حرام مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” وعمارۃ المسجد الحرام “ اور ” یقربوا المسجد الحرام “ کی وجہ سے اور دیگر حضرات نے ” مساجد اللہ “ جمع کا صیغہ پڑھا ہے اور اس سے بھی مسجد حرام مراد ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جمع کا لفظ کہا ہے اس لئے کہ یہ تمام مساجد کا قبلہ ہے۔ فراء (رح) فرماتے ہیں بسا اوقات عرب واحد بول کر جمع اور جمع بول کر واحد مراد لیتے ہیں جیسے آدمی گھوڑے پر سوار ہو تو کہتا ہے ” اخذت فی رکوب البر اذین “ حالانکہ مراد ایک گھوڑے پر سوار ہوتا ہے) اور کہا جاتا ہے ” فلان کثیر الدرھم و الدینار “ مراد دراہم اور دانانیر ہوتے ہیں۔ ” شھدین علی انفسھم بالکفر “ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ وہ خود کو کافر نہ کہتے تھے لیکن ان کی کفر یہ کلام ان کے کفر پر گواہ ہے اور ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان کی ان کے کفر پر گواہی ان کا بتوں کو سجدہ کرنا ہے کیونکہ قریش نے بیت الحرام کے باہر بت گاڑھے ہوئے تھے اور بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے۔ جب ایک چکر مکمل ہوتا تو بتوں کو سجد کرتے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے دوری پیدا ہوتی۔ اور سدی (رح) فرماتے ہیں ان کی خود پر کفر کی گواہی دینا کہ نصرانی سے پوچھا جائے تو کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے میں نصرانی ہوں اور یہودی سے پوچھا جائے تو وہ کہتا ہے میں یہودی ہوں اور مشرک سے پوچھا جائے تیرا دین کیا ہے ؟ تو وہ کہے گا مشرک ہوں۔” اولٓئک حبطت اعمالھم اس لئے کہ یہ غیر اللہ کیلئے ہیں وفی النار ھم خلدون “
Ayah 9:18تفسیر 18” انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر و اقام الصدوۃ واتی الزکوۃ ولم یخش الا اللہ “ دین کے معاملہ میں غیر اللہ سے نہ ڈرے اور اللہ کا حکم اس کے غیر سے ڈر کر نہ چھوڑے۔ ” فعسی اولئک ان یکونوا من المھتدین “ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عسیٰ امید کے معنی میں نہیں بلکہ واجب کے معنی میں ہوتا ہے یعنی پس یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ جو اللہ کی اطاعت کو مضبوطی سے تھامتے ہیں جو جنت تک پہنچا دیتی ہے۔ حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد کو آباد کر رہا ہے تو اس کے ایمان کی گواہی دے دو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو صبح یا شام کو مسجد کی طرف گیا تو جب بھی صبح شام وہ مسجد کی طرف جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جنت میں مہمانی تیار کریں گے۔
محمود بن لبید سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان ؓ نے مسجد کی تعمیر کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس کو ناپسند کیا اور یہ چاہا کہ آپ ؓ یہ کام چھوڑ دیں تو حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جس نے اللہ کے لئے مسجد بنائی تو اللہ تعالیٰ اس مسجد کی طرح کا گھر اس کے لئے جنت میں بنائیں گے۔ ابو عاصم نے اسی سند سے حدیث بیان کی اور اس میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائیں گے۔
Ayah 9:19(آیت 19)
آیت کا شان نزول
تفسیر 19” اجعلتم سقایۃ الحاج “ نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ حاجیوں کو پانی پلانے کے بعد مجھے یہ پرواہ نہیں کہ میں کوئی عمل نہ کروں اور دوسرے نے کہا کہ مجھے پرواہ نہیں کہ کوئی عمل نہ کروں مسجد حرام کی تعمیر کے بعد اور تیسرے نے کہا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ان دونوں عملوں سے افضل ہے جو تم نے کہے تو حضرت عمر ؓ نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا کہ تم اپنی آوازیں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس بلند نہ کرو وہ جمعہ کا دن تھا لیکن جب میں نما زپڑھ کر حضور ﷺ کی مجلس میں جائوں گا تو اس بارے میں پوچھوں گا جس میں تمہارا اختلاف ہے تو حضرت عمر ؓ نے آپ (علیہ السلام) سے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عباس ؓ بدر کے دن قید کئے گئے تو کہنے لگے کہ اگر تم اسلام ہجرت اور جہاد میں ہم سے آگے بڑھ گئے ہو تو ہم مسجد حرام کی تعمیر کرتے ہیں اور حاجیوں کو پلانی پلاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور بتایا کہ ان کا مسجد حرام کو تعمیر کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا ان کو رشک کے ساتھ نفع نہ دے گا اور اللہ پر ایمان لانا اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ جہاد کرنا ان اعمال سے بہتر ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
اور حسن، شعبی اور محمد بن کعب قرظی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت علی بن ابی طالب ، عباس بن عبدالمطلب اور طلحہ بن شبیہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے آپ س میں فخر کیا تو طلحہ ؓ کہنے لگے میں بیت اللہ کا نگران ہوں میرے ہاتھ میں اس کی چابیاں ہیں اور عباس ؓ کہنے لگے میں حاجیوں کو پانی پلاتا ہوں اور حضرت علی ؓ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ تم کیا کہہ رہے ہو، میں نے چھ مہینے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی، لوگوں سے پہلے اور میں نے جہاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” اجعلتم سقایۃ الحاج “ سقایۃ مصدر ہے رعایۃ اور حمایۃ کی طرح ” وعمارۃ المسجد الحرام کمن امن باللہ وا لیوم الاخر “ اس میں اختصار ہے اصل عبارت یہ ہے کہ کیا تم حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر کو اس شخص کے ایمان کی طرح سمجھتے ہو۔ الخ۔ اور بعض نے کہا سقایۃ اور عمارۃ بمعنی ساقی اور عامر ہے یعنی تم پانی پلانے والے اور مسجد حرام کی تعمیر کرنے والے کو اس شخص کی طرح سمجھتے ہو۔ جو شخص ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول (والعاقبۃ للتقوی) یعنی منتقین کی طرح ہے اس پر عبد اللہ بن زبیر ؓ اور ابی بن کعب ؓ کی قرات دلالت کرتی ہے (اجعلتم سقاۃ الحاج و عمرۃ المسجد الحرام) ساقی اور عامر کی جمع کی بنا پر۔ الخ
” وجھد فی سبیل اللہ ط لایستون عند اللہ ط واللہ لایھدی القوم الظلمین “ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ زمزم کے پلانے والے کے پاس آئے اور پانی طلب کیا تو عباس ؓ نے کہا اے فضل تو اپنی ماں کے پاس جا اور اس کے پاس سے پانی لے آ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو مجھے پلا تو عباس ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول ! لوگوں نے اس مشکیزہ میں اپنے ہاتھ ڈالے ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے پلا پھر اسی سے پیا اور زمزم پر تشریف لائے تو لوگ پانی کھینچ کر پلا رہے تھے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم کام کرو کیونکہ تم ایک نیک کام پر ہو۔ پھر فرمایا اگر اس پر رسی نہ ہوتی اور اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا۔ بکر بن عبداللہ مزنی (رح) کہتے ہیں کہ میں ابن عباسی ؓ کے ساتھ بیٹھا تھا تو ان کے پاس ایک بدو آیا اور پوچھا کیا ہے کہ میں تمہارے چچا کے بیٹوں کو دیھتا ہوں کہ وہ شہد اور دودھ لوگوں کو پلاتے ہیں اور تم نیند پلاتے ہو ؟ کیا یہ تمہارے بخل کی وجہ سے ہے ؟ تو ابن عباس ؓ نے فرمایا الحمد للہ ہمیں کوئی حاجت اور بخل نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر تشریف لائے اور آپ (علیہ السلام) کے پیچھے اسامہ بن زیاد تھے تو آپ (علیہ السلام) نے پانی مانگا ہم نے نبیذ کا برتن پیش کیا تو آپ (علیہ السلام) نے نوش فرمایا اور باقی اسامہ کو دے دیا اور فرمایا تم نے اچھا کام کیا ۔ اسی طرح کرتے رہو تو ہم نہیں چاہتے کہ جس چیز کا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اس کو تبدیل کردیں۔
Ayah 9:20تفسیر 20” الذین امنوا وھاجروا وجھدوا فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم اعظم درجۃ “ درجہ سے مراد فضیلت ہے ” عند اللہ “ ان لوگوں سے جو حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر پر فخر کرتے ہیں ” واولئک ھم الفآئزون “ آگ سے نجات پانے والے ہیں۔
Ayah 9:2121 یبشرھم ربھم برحمۃ منہ و رضوان وجنت لھم فیھا نعیم مقیم
Ayah 9:2222 خلدین فیھآ ابداً ط ان اللہ عندہ اجر عظیم
Ayah 9:2323” یایھا الذین امنوا لاتتخذوآ آبآء کم و اخوانکم اولیآء “ یہ آیت ماقبل سے متصل ہے۔ حضرت عباس اور طلحہ ؓ کے قصہ اور ان کے ہجرت سے رکنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا تو ان کو ان کے گھر والوں اور اولاد نے روکا اور ان کو قسمیں دیں کہ ہمیں ضائع نہ کرو تو ان کے دل نرم ہوگئے اور ہجرت چھوڑ کر ان کے پاس رہ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان نو لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مرتد ہو کہ مکہ چلے گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دوستی سے منع کردیا اور یہ آیت نازل فرمائی ” یا یھا الذین امنوا لاتتخذوا آباء کم واخوانکم اولیائ “ اندرونی راز دان اور دوست کہ تم ان تک اپنے راز پہنچائو اور تم ہجرت اور جہاد میں ان کے ساتھ ٹھہرنے کو ترجیح دو ۔” ان استحبوا الکفر علی الایمان ط ومن یتولھم منکم “ اور ان کو مسلمانوں کے رازوں پر مطلع کرے اور ان کے ساتھ رہنے کو ہجرت اور جہاد پر ترجیح دے ” فاولئک ھم الظلمون “ کیونکہ اس وقت اسی کا ایمان معتبر تھا جس نے ہجرت کی ہو۔ پس یہی معنی ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” فاولئک ھم الظلمون “ کا۔
Ayah 9:24تفسیر 24۔” قل “ اے محمد ! (ﷺ) ان ہجرت سے پیچھے رہنے والوں کو کہہ دیں کہ ” ان کان ایائو کم “ جب پہلی آیت نازل ہوئی تو وہ لوگ کہنے لگے جو ایمان تو لائے تھے لیکن ہجرت نہ کی کی تھی کہ اگر ہم ہجرت کرتے تو ہمارے مال ضائع ہوجاتے اور تجارت ختم ہوجاتی اور گھر ویران ہوجاتے اور ہم رشتہ داری کو توڑدیتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔” ان کان ابائوکم وابناوکم اخوانکم وازواجکم وعشیرتکم “ ابوبکر نے عاصم رحمہما اللہ سے ” عشر اتکم “ الف کے ساتھ جمع کا صیغہ ہونے کی بناء پر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر الف کے واحد کا صیغہ پڑھا ہے ۔ اس لیے کہ عشیرۃ جمع پر واقع ہوا ہے اور اس قرأت کو یہ بات تقویت دیتی ہے کہ ابو الحسن اخفش (رح) نے فرمایا کہ عرب عشیرۃ کی جمع العشیرات لاتے ہیں اور ہم اس کی جمع العشائر لاتے ہیں۔ و اموال افترفتموھا وتجارۃ تخشون کسادھا ومسکن ترضونھا یعنی جن محلوں اور گھروں کو تم پسند کرتے ہو۔ احب الیکم من اللہ ورسولہ وجھاد فی سبیلہ فتربصوا تم انتظار کرو۔ حتی یاتی اللہ بامرہ عطاء (رح) فرماتے ہیں اپنا فیصلہ لائے اور مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ مراد ہے اور یہ دھمکی کا امر ہے ” واللہ لا یھدی “ توفیق نہیں دیتا اور رہنمائی نہیں کرتا ۔ القوم الفسقین طاعت سے نکلنے والوں کو۔