10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الرا، یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں۔

تفسیر :(1)” الر “ اور ” المر “ اہل حجاز، اہل شام اور حفص نے راء کے فتحہ کے ساتھ اور باقی حضرات نے راء کے امالہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عباس ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ” آلر “ میں اللہ دیکھ رہا ہے اور ” المر “ بمعنی میں اللہ جانتا اور دیکھتا ہوں اور سعید جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ” آلر “ اور ” حم “ اور ” ن “ یہ حرف رحمن کے اسم ہیں اور مکمل کلام حروف تہجی کی بحث میں گزر چکی ہے۔ ” تلک ایت الکتب الحکیم “ یعنی یہ اور کتاب حکیم سے مراد قرآن ہے اور بعض نے کہا آیات سے وہ آیات مراد ہیں جو اس سے پہلے نازل کردی تھیں۔ اسی لیے تو تلک فرمایا ہے کیونکہ تلک غائب مؤنث کے لیے اشارہ کرنے کے لیے آتا ہے اور حکیم بمعنی حلال و حرام حدود اور احکام میں پختہ یہاں فعیل کا وزن مفعل کے وزن پر ہے کیونکہ دوسری جگہ فرمایا ” کتاب احکمت آیاتہ ‘ ‘ اور بعض نے کہا ہے کہ حکیم بمعنی حاکم ہے فعیل کا وزن فاعل کے معنی میں ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وانزل معھم الکتاب بالحق لیحکم بین الناس “ اور بعض نے کہا محکوم کے معنی میں ہے فعیل کا وزن مفعول کے معنی ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں انصاف ، احسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیا گیا ہے اور گناہ ، بےحیائی ، زنا سے روکا گیا اور جو یہ باتیں مانے اس کے لیے جنت اور جو نافرمانی کرے اس کے لیے جہنم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں انکا سچا درجہ ہے (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگر ہے۔

تفسیر (2)” اکان للناس عجبا “ عجب وہ حالت جو خلاف عادت چیز دیکھنے کی وجہ سے بندہ پر طاری ہوتی ہے۔ اس آیت کا سبب ناول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو مشرکین کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بہت بڑے ہیں کہ اس کا رسول کوئی انسان ہو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اکان للناس “ یعنی مکہ والوں کو یہاں الف ڈانٹ کے لیے ہے۔ ” عجبا ان اوحینا الیٰ رجل منھم “ یعنی محمد ﷺ ” ان انذر الناس “ ان کو خوف دلانے کے ساتھ بتادیں۔ ” وبشر الذین امنوا ان لھم قدم صدق عند ربھم “ اس کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو اعمال آگے بھیجے ان کے بدلے اچھا بدلہ ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ سچا ثواب ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ نیک بختی ہے پہلے ذکر میں ، زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی شفاعت ہے اور عطاء (رح) فرماتے ہیں ایسا سچا مقام جس کو نہ کوئی زوال ہوگا نہ اس میں کوئی تنگی ہوگی اور بعض نے کہا بلند مرتبہ اور یہاں قدم موصوف کی اپنی صف صدق کی طرف اضافت کی گئی ہے جیسے مسجد الجامع حب الحصید میں اضافت ہے ۔ ” قال الکافرون ان ھذا لساحر مبین “ نافع اور اہل بصرہ اور اہل شام نے بغیر الف کے ” لسحر “ پڑھا ہے کہ قرآن مجید مراد ہے اور ابن کثیر (رح) اور اہل کوفہ نے الف کے ساتھ ’ ’ لساحر “ پڑھا ہے کہ اور اس سے مراد محمد ﷺ کو لیتے ہیں۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کام کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کئے بغیر (کسی کی) سفارش نہیں کرسکتا۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو تم اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

(3)” ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش یدبر الامر “ تنہا ان کے فیصلے کرتا ہے۔ ” ما من شفیع الامن بعد اذنہ “ مطلب یہ ہے کہ سفارش کرنے والے اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہ کرسکیں گے۔ اس آیت میں نضر بن حارث کی تردید ہے وہ کہتا تھا کہ قیامت کے دن لات اور عزیٰ میری سفارش کریں گے ۔ ” ذلکم اللہ ربکم ‘ ‘ یعنی جس نے یہ کام کیے وہی تمہارا رب ہے اس کے سوائی کوئی تمہارا رب نہیں ہے۔ ” فاعبدوہ افلا تذکرون “ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیونکہ (خدا سے) انکار کرتے تھے۔

(4) ” الیہ مرجعکم جمعیا ً وعد اللہ حقاً “ سچا ہے وعدہ اس کا خلاف نہ ہوگا ۔ یہ مصدر کی وجہ سے منصوب یعنی ” وعدکم وعداً حقاً “ انہ یبدوا الخلق ثم یعیدہ “ یعنی ابتداء ان کو زندہ کیا پھر ان کو موت دے گا پھر ان کو زندہ کرے گا ۔ اکثر کی قرأت ” انہ “ الف کی زیر کے ساتھ ہے استئناف کی بناء پر اور ابو جعفر نے ” انہ “ زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ” بانہ “ ( اس وجہ سے) یا ” لانہ “ ( اس لیے) ہے۔ ” لیجزی الذی امنوا وعملوا الصالحات بالقسط “ انصاف کے ساتھ ” والذین کفروا لھم شراب من حمیم “ گرم پانی کہ اس کی حرارت انتہاء کو پہنچ چکی ہو ۔ ” و عذاب الیم بما کانوا یکفرون “۔
Ayah 10:5

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لئے وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

تفسیر :(5) ” ھو الذی جعل الشمس ضیاء ضیاء دن کی روشنی کو کہتے ہیں ” والقمر نورا “ رات میں چاند کو نور والا بعض نے کہا ہے کہ سورج کو ضیاء والا اور قمر کو نور والا بنایا ۔ ” وقدرہ منازل “ یعنی ان کی منازل مقرر کیں کہ نہ ان سے آگے بڑھ سکتا ہے نہ پہلے رک سکتا ہے۔ یہاں تثنیہ کی ضمیر استعمال کر کے ” قدرھما “ کیوں نہیں کہا ؟ تو بعض نے جواب دیا کہ منازل تو دونوں کے لیے مقرر کی ہیں لیکن ایک کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ “ اور بعض نے کہا کہ ضمیر کی طرف لوٹ رہی ہے کیونکہ چاند کے ذریعے مہینوں اور سالوں کے ختم ہونے کی پہچان ہوتی ہے نہ کہ سورج کے ذریعے اور چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں ان کے نام یہ ہیں : شرطین ، بطین ، ثریا ، دبران ، ھقعۃ ، ھنعۃ ، ذراع، نسر ، طوف ، جبھۃ ، زبرۃ ، عواء ، سماک ، غفر ، زبانی ، اکلیل، قلب ، شولہ ، نعایم ، بلدۃ ، سعد الذابح ، سعد بلع ، سعد السعود ، سعد الاخبیۃ ، فرغ الدلوالمقدم ، فرغ الدلوالمؤخر ، بطن الحوت اور یہ منزلیں برجوں پر تقسیم ہیں اور وہ بارہ برج ہیں ۔ حمل ، ثور ، جوزا ، سرطان ، اسد ، سنبلہ ، میزان ، عنقریب ، قوس ، جدی ، دلو ، حوت ۔ ہر برج کی دو منزلیں مکمل اور ایک منزل کا تیسرا حصہ ہے ۔ چاندہر رات ایک منزل طے کرتا ہے۔ اگر مہینہ تیس کا ہو تو دو راتیں چھپتا ہے اور اگر انتیس کا ہو تو ایک رات چھپتا ہے، تو یہ منزلیں ہوئیں اور سورج کا قیام ہر منزل میں تیرہ دن مکمل اور ایک دن کا تیسرا حصہ ہوتا ہے تو سال کا اختتام اس کے منزلیں طے کرنے سے ہوتا ہے۔” لتعلمواعدد النبین “ یعنی منزل مقرر کیں تا کہ تم سالوں کے داخل ہونے اور ختم ہونے کو جان سکو ” والحساب “ یعنی مہینوں ، دنوں اور گھڑیوں کا حساب جان سکو ” ما خلق اللہ ذلک “ ذلک کا اشارہ منازل کی تقدیر کی طرف ہے ، اگر سورج اور چاند کی طرف ہوتا تو تلک سے اشارہ فرماتے ۔ ” الا بالحق “ یعنی ان کو بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ اپنی کاریگری اور اپنی قدرت کی دلیل ظاہر کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ ’ ’ یفصل الایت لقوم یعلمون “ ابن کثیر ، ابو عمرو ، حفص اور یعقوب رحمہما اللہ نے ” یفصل “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” ما خلق “ کی وجہ سے اور باقی حضرات نے ” نفصل “ نون کے ساتھ تعلیم کی وجہ سے۔
Ayah 10:6

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

رات اور دن کے (ایک دوسرے کے) پیچھے آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

(6)” ان فی اختلاف الیل والنھار وما فی خلق اللہ فی السموات والارض لایت لقوم یتقون “ ایمان لاتے نہیں ۔
Ayah 10:7

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطمئن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔

(7) ” ان الذین لا یرجون لقاء نا “ یعنی نہ ہمارے عذاب سے ڈرتے ہیں اور نہ ہمارے ثواب کی امید کرتے ہیں ۔ رجاء خوف اور طمع کے معنی میں ہوتا ہے۔ ” ورضوا بالحیوۃ الدنیا “ پس اس کو اختیار کیا اور اسی کے لیے عمل کیا ” وطمانوا بھا والذین ھم عن ایتنا غفلون “ یعنی ہمارے دلائل سے غافل ہیں ان سے عبرت نہیں لیتے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عن ایاتنا یعنی محمد ﷺ اور قرآن سے غافل ہیں یعنی اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 10:8

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان کا ٹھکانا ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے۔

تفسیر :(8)” اولئلک ماواھم النار بما کانوا یکسبون “ کفر اور تکذیب اور معاصی پر جمے رہنے کی وجہ سے ۔
Ayah 10:9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہ رہی ہوں گی۔

(9)” ان الذین امنوا وعملوا الصالحات یھدیھم ربم بایمانھم “ اس میں عبارت مقدر ہے، یعنی ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کی جنت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ” تجری من تحتھم الانھار “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ان کو صراط پر جنت کی طرف ہدایت دے گا ان کے لیے نور بنائے گا جس کے ذریعے وہ چلیں گے اور بعض نے کہا ہے کہ ” یھدیھم “ کا معنی یہ ہے کہ ان کا ثواب اور بدلہ دے گا اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کو اپنے دین کی ہدایت دے گا ۔ یعنی ان کے اپنی ہدایت کی تصدیق کرنے کی وجہ سے ۔ ” تجری من تحتھم الانھار ‘ ‘ یعنی ان کے سامنے ، اللہ تعالیٰ کے قول ” قد جعل ربک تحتک سریا “ کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان کے نیچے تھا اور وہ اس پر بیٹھی تھی بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ ان کے سامنے تھا اور بعض نے کہا ہے ” تجری من تحتھم “ یعنی ان کے حکم کے ساتھ ، فی جنت النعیم “۔
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

(جب وہ) ان میں (ان کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان اللہ اور آپس میں انکی دعا سلام علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول (یہ ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے۔

جنتیوں کا کلام اور ان کے کھانے کی صفات (10)” دعواھم “ یعنی ان کا قول اور کلام اور بعض نے کہا ان کی دعا ” فیھا سبحانک اللھم “ یہ پاکی بیان کرنے کا کلمہ ہے اللہ تعالیٰ ہر برائی سے پاک ہیں۔ ہم تک روایت پہنچی کہ بیشک جنت والے حمد اور تسبیح الہام کیے جائیں گے جیسے سانس الہام کیے گئے ہیں ۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کلمہ جنتیوں اور ان کے خدام کے درمیان علامت ہوگا جب کھانے کا ارادہ کریں گے تو ” سبحانک اللھم “ کہیں گے تو وہ جو یہ چاہیں گے ان کے پاس لائیں گے دستر خوانوں پر ، ہر دستر خوان ایک میل لمبا ایک میل چوڑا ہر دستر خوان پر ستر ہزار پیالے ہوں گے ہر پیالے میں الگ رنگ کا کھانا ہوگا وہ کھانے آپس میں ملتے جلتے نہ ہوں گے جب کھانے سے فارغ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی حمد کریں گے یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” وآخر دعواھم ان الحمد للہ رب العالمین “ کا ۔ ” وتحیتھم فیھا سلام “ ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور بعض نے کہا فرشتے ملاقات کے وقت ان کو سلام کریں گے اور بعض نے کہا ان کے پاس فرشتے ان کے رب کے پاس سے سلام لائیں گے ، ” وآخر دعواھم ان الحمد للہ رب العالمین “ مراد یہ ہے کہ وہ اپنی کلام کو تسبیح سے شرعو کریں گے اور حمد کے ساتھ ختم کریں گے۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی۔ سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کو توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

غصہ کی حالت میں اپنے اہل و عیال کیلئے بد دعا نہیں کہنی چاہئے (11)” ولو یعجل اللہ للناس الشر استعجالھم بالخیر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ غصہ کے وقت آدمی اپنے اہل و عیال کو جو کچھ کہتا ہے وہ مراد ہے جیسے ” لعنکم اللہ “ اور ” لا بارک اللہ فیکم “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد آدمی کا اپنے آپ اور اہل و عیال اور مال پر ایسی بددعا کرنا جس کی قبولیت کو وہ خود بھی پسند نہیں کرتا ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ شر کے بارے لوگوں کی دعا جلدی قبول کرلیں ، جیسے وہ خیر کے بارے میں جلدی قبولیت چاہتے ہیں تو ” لقضی الیھم اجلھم “ ابن عامر اور یعقوب نے ( لقضی) قاف اور ضاد کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے ( اجلھم) زبر کے ساتھ یعنی البتہ جس پر بددعا کی ہے۔ اس کو ہلاک کردیتا ہے اور موت دے دیتا اور دیگرحضرات نے ( لقضی) قاف کے پیش اور ضاد کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے ( اجلھم) پیش کے ساتھ ۔ یعنی ان کی ہلاکت سے فارغ ہوچکے ہوتے اور وہ سب مرچکے ہوتے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ اس نے کہا تھا کہ اے اللہ ! اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر، اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلالت کر رہا ہے۔” فنذر الذین لا یرجون لقاء نا “ یعنی بعث اور حساب کا خوف نہیں کرتے۔ ” فی طًغیانھم یعمھون “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ ! میں نے آپ سے ایک عہد کیا تھا جس کے خلاف آپ نہ کریں گے کیونکہ میں ایک انسان ہوں مجھ سے بھی وہ باتیں صادر ہوجاتی ہیں جو کسی انسان سے صادر ہوتی ہیں تو جس مؤمن کو بھی میں نے تکلیف دی ہو یا برا بھلا کہا ہو یا کوڑا مارا ہو یا لعنت کی ہو تو آپ اس کو اس کے لیے رحمت اور صفائی ستھرائی اور قیامت کے دن اپنے قرب کا ذریعہ بنادیں ۔
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں تو (بےلحاظ ہوجاتا اور) اس طرح گزر جاتا ہے کہ گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں۔

تفسیر :(12)” واذا مس الانسان الضر “ ضر سے مراد مشقت اور سختی ہے ۔ ” دعا نا لجنبہ “ اپنے پہلو پر لیٹے ہوئے ” او قاعدا ً او قائما “ یعنی تمام حالات میں کیونکہ انسان ان حالتوں میں کسی حالت سے باہر نہیں ہوتا ۔” فلما کشفنا ہم دور کردیں عنہ ضرہ مرکان لم یدعنا الی ضرمسہ یعنی تکلیف پہنچنے سے پہلے جو حالت تھی اسی پر آجاتا ہے اور اپنی مصیبت اور مشقت بھول جاتا ہے۔ گویا کہ اس نے ہم سے اس تکلیف دور کرنے کی دعا ہی نہ کی تھی ۔ ” کذلک زین للمسرفین “ کفر اور معصیت میں حد سے تجاوز کنے والوں کے لیے ” ما کانوا یعملون “ نافرمانیوں میں سے ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ مسرفین کے لیے یہ مزین کیا گیا ہے کہ مصیبت کے وقت دعا کریں اور راحت کے وقت شکر چھوڑ دیں ۔
Ayah 10:13

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

(13)” ولقد اھلکنا القرون من قبلکم لما ظلموا “ ظلم سے مراد شرک کیا ۔ ” وجاء تھم رسلھم بالبینات وما کانوا لیئومنوا کذالک “ یعنی جیسے ہم نے ان کو ہلاک کیا ان کے کفر کی وجہ سے ” نجزی ہم سزا دیتے اور ہلاک کرتے ہیں اور القوم المجرمین “ کافروں کو ان کے محمد ﷺ کی تکذیب کرنے کی وجہ سے ۔ اس آیت میں کفار مکہ کو پہلی امتوں کے عذاب سے ڈرایا ہے۔
Ayah 10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔

(14)” ثم جعلنا کم خلائف “ یعنی خلیفے ” فی الارض من بعدھم “ ان امتوں کے بعد جن کو ہم نے ہلاک کیا ۔ ” لنظر کیف تعلمون “ حالانکہ وہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ حضرت ابو سعیدخدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سن لو یہ دنیا بڑی میٹھی اور سرسبز ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا خلیفہ بنائے گا تا کہ دیکھ لے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اسکو بدل دو ۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے۔

مشرکین مکہ کی بےجامن مانیاں تفسیر :(15) واذ تتلی علیھم آیاتنا بینات “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں یعنی مکہ کے مشرکین اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ پانچ افراد تھے۔ عبد اللہ بن امیہ مخزومی ، ولید بن مغیرہ ، مکرز بن حفص ، عمرو بن عبید اللہ بن ابی قیس عامری اور عاص بن عامر بن ہشام ۔ ” قال الذین لایرجون لقاء نا “ یہ وہی لوگ جن کا ابھی تذکرہ ہوا ۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو کہا کہ اگر آپ (علیہ السلام) چاہتے ہیں کہ ہم آپ (علیہ السلام) پر ایمان لائیں تو ” ائت بقرآن غیر ھذا “ کہ جس میں لات ، عزی اور مناۃ کی عبادت چھوڑنے اور ان کے عیوب کا ذکر نہ ہو اور اگر اللہ تعالیٰ ایسا قرآن نہ اتاریں تو آپ (علیہ السلام) اپنی طرف سے ایسی باتیں کہہ دیں ۔ ” او بدلہ “ عذاب کی آیت کی جگہ رحمت کی آیت کردیں اور حرام کی جگہ حلال کردیں یا حلال کی جگہ حرام کردیں ۔ ” قل “ ” اے محمد ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی “ میری اپنی جانب سے ” ان اتبع الا ما یوحیٰ الی “ یعنی جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اور منع کرتا ہوں اس میں اسی کی پیروی کرتے ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے ” ان اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم “۔
Ayah 10:16

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی) ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا بھلا تم سمجھتے نہیں ؟

(16)” قل لو شاء اللہ ما تلوتہ علیکم “ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو یہ قرآن مجھ پر نہ اتارتے ” ولا ادراکم بہ “ اور نہ تمہیں اس کی خبر دیتے بزی نے ابن کثیر رحمہما اللہ سے ” ولا دراکم بہ “ قصر کے ساتھ پڑھا ہے ، مراد یہ ہے کہ تم کو اس کا علم میرے تم پر پڑھنے کے بغیر نہ دینا ، اور ابن عباس ؓ نے اس کو ” ولا انذرتکم بہ “ پڑھا ہے۔ باب انداز سے ۔” فقدلبثت فیکم عمرا “ چالیس سال ” من قبلہ “ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اور میں تمہارے پاس اس عرصہ میں کچھ نہیں لایا ۔ ” فلا تعقلون “ کہ یہ میری طرف سے نہیں ہے۔ اور نبی کریم ﷺ ان میں وحی سے پہلے چالیس سال رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی۔ پھر مکہ میں وحی کے بعد تیرہ سال رہے ، پھر ہجرت کی اور مدینہ میں دس سال مقیم رہے اور تریسٹھ برس کی عمر میں دارفانی سے کوچ کر گئے اور انس ؓ نے روایت کیا ہے کہ وحی کے بعد مکہ میں دس سال اور مدینہ میں دس سال اور مدینہ میں دس سال مقیم رہے اور ساتھ برس کی عمر میں وفات پائی اور پہلا قول زیادہ مشہور اور ظاہر ہے۔
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر چھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بیشک گنہگار فلاح نہیں بائیں گے۔

(17)” فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا “ پس گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک یا اولاد ہے ۔ ” او کذب بآیاتہ “ محمد ﷺ اور قرآن کو ” انہ لایفلح المجرمون “ مشرکین نجات نہیں پائیں گے۔
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انکا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کرسکتی ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک ہے اور (اسکی شان) انکے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔

تفسیر :۔ (18)” ویعبدون من دون اللہ مالا یضرھم “ اگر اس کی نافرمانی کریں اور اس کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ” ولا ینفعھم “ اگر ان بتوں کی عبادت کریں ۔ ” ویقولون ھولاء شفعا ئو نا عند اللہ قل اتنبئون اللہ “ کیا تم اللہ کو خبر دیتے ہو ” بما لا یعلم “ اللہ اس کے صحیح ہونے کو اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کو خبر دیتے ہو کہ اس کا کوئی شریک ہے اور اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر بھی سارش کرنے والے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تو اپنا کوئی شریک معلوم نہیں ۔” فی السموات ولا فی الارض سبحنہ و تعلیٰ عما یشرکون “۔ حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ” تشرکون “ تاء کے ساتھ یہاں اور سورة النحل میں دو جگہ پڑھا ہے اور سورة الروم میں بھی اور دیگر حضرات نے تمام کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور (سب) لوگ پہلے ایک ہی امت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔

(19) ” وما کان الناس الا امۃ واحدۃ “ یعنی اسلا م پر اور ہم اس میں اختلاف کو سورة بقرہ میں ذکر کرچکے ہیں ۔ ” فاختلفوا “ مؤمن اور کافر گروہ بن گئے ۔ ” ولو لا کملۃ سبقت من ربک “ بایں طور کہ ہر امت کے لیے ایک وقت مقررکر دیا ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس امت کو مہلت دینا اور دنیا میں عذاب دے کر ہلاک نہ کرنا ہے۔ ” لقضی بینھم “ عذاب نازل کر کے اور جھٹلانے والوں کو جلدی سزا دے کر اور یہ عذاب فیصلہ ہوتا ہے ان کے درمیان ۔ ” فیما فیہ یختلفون “ جس (رح) فرماتے ہیں کہ اگر اللہ کے حکم میں یہ بات طے نہ ہوچکی ہوتی کہ قیامت سے پہلے ان کے ثواب اور عقاب میں اختلاف کا یہ فیصلہ نہ کریں گے تو دنیا میں ہی ان کا فیصلہ کر کے مؤمن کو جنت میں اور کافر کو جہنم میں داخل کردیا جاتا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے وعدہ کا وقت قیامت کے دن کو مقرر کردیا ہے۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا ہی کو ہے۔ سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

(20)” ویقولون “ یعنی مکہ والے ” لو لا انز ل علیہ “ یعنی محمد ﷺ پر ” ایۃ من ربہ “ جس کا ہم مطالبہ کرتے ہیں ۔” فقل انما الغیب للہ “ یعنی آپ (علیہ السلام) فرما دیں کہ تم نے مجھ سے غیب کی بات کا سوال کیا ہے اور غیب کا علم صرف اللہ کو ہے، کوئی اور نہیں جانتا اور بعض نے کہا غیب سے مراد آیتوں کا نازل ہونا ہے کہ وہ کب نازل ہوں گی اس کو کوئی نہیں جانتا ۔ ” فانتظروا “ ان کے نازل ہونے کا ” انی معکم من المنتظرین “ اور بعض نے کہا کہ تم اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو جو ہمارے درمیان حق کو باطل پر ظاہر کر کے کرے گا ۔
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں۔

(21)” واذ ا اذقنا الناس “ یعنی کفار کو ” رحمۃ من م بعد ضراء “ یعنی راحت اور نرمی مصائب کے بعد اور بعض نے کہا قحط کے بعد بارش ، ” مستھم “ یعنی ان کو پہنچے ” اذا لھم مکر فی ایتنا “۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ تکذیب اور مذاق اڑانا اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق آیا ہے وہ کہتے ہیں کہ وہاں ستارے کی وجہ سے بارش آئی ہے۔” قال للہ اسرع مکرا “ جلدی عذاب دینے والا اور سخت پکڑنے والا جزاء پر مکمل با اختیار ہے۔ مراد یہ ہے کہ ان کا عذاب حق کو ٹالنے کی ان کی کوششوں سے بہت تیزی سے آئے گا ۔” ان رسلنا “ ہمارے حفاظت کرنے والے ” یکتبون ما تمکرون “۔ روح نے یعقوب سے ” یمکرون “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 10:22

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں سے) سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کر کے اس سے دعا مانگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں۔

تفسیر :(22)” ھو الذی یسیرکم “ تم کو چلاتا اور سوار کراتا ہے اور ابو جعفر اور ابن عامر رحمہما اللہ نے ” ینشر کم “ نون اور شین کے ساتھ نثر سے پڑھا ہے اور وہ پھیلانا ۔ فی البرجانور کی پیٹھوں پر ۔ ” والبحر “ کشتیوں پر ” حتی اذا کنتم فی الفلک “ فلک کا استعمال واحد اور جمع دونوں ہوتا ہے۔ ” وجرین بھم “ کشتیاں لوگوں کو لے کر چلیں ۔ یہاں خطاب کے صیغوں سے غائب کے صیغہ کی طرف رجوع کیا ۔ ’ یریح طیبۃ “ نرم ” وفرحوابھا “ ہوا سے ” جاء تھا ریح “ کشتیوں پر سخت آندھی آجاتی ہے۔ عاصف کا معنی سخت آندھی ’ ’ ریحی عاصف “ نہیں کہاکیون کہ اریح عاصف کے ساتھ مختص ہے اور بعض نے کہا ہے الریح مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ ” وجاء ھم “ کشتی کے سواروں پر ” الموج “ پانی کی حرکت اور اوپر نیچے ہوتا ۔ ” من کل مکان وظنوا انھم احیط بھم “ ہلاکت کے قریب ہوگئے۔ یعنی ان کو ہلاکت نے گھیر لیا ۔ ” دعو اللہ مخلصین لہ الدین “ خالص اللہ کو پکارتے ہیں اللہ کے غیر کو نہیں پکارتے اور کہتے ہیں کہ ’ لئن انجیتنا من ھذہ “ اس سخت طوفانی ہوا سے ” لنکونن من الشکرین “ تیرے ایمان لا کر اور اطاعت کر کے۔
Ayah 10:23

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں لوگو ! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا۔ (تم) دنیا کی زندگی کے فائدے (اُٹھالو) پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

(23) ” فلما انجھم اذا ھم یبغون فی الارض “ ظلم کرتے ہیں اور زمین میں اللہ کے حکم کے علاوہ کی طرف جاتے ہیں ۔ ” بغیر الحق “ قتال کے ساتھ ” یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم “ اس لیے کہ اس کا وبال تم پر ہی لوٹے گا ۔ پھر نئی کلام شروع اور فرمایا ” متاع الحیوۃ الدنیا “ یعنی ” ھذا متاع الحیوۃ الدنیا “ یہ خبر ہے اس کا مبتداء محذوف ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” لم یلبثوا الا ساعۃ من نھار بلغ “ ہے ، یعنی یہ بلاغ ہے ، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ لکام متصل ہے ” البیغ “ مبتداء ہے اور متاع اس کی خبر ہے ، اور مطلب یہ ہے کہ تمہاری سرکشی دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا نفع ہے یہ تمہاری آخرت کا ذخیرہ نہیں بن سکتا کیونکہ اس کی وجہ سے تم عذاب کے مستحق ہوگئے اور حفص (رح) نے متاع کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی تم دنیا کی زندگی کا تھوڑا نفع اٹھا رہے ہو ۔” ثم الینا مرجعکم فننبئکم بما کنتم تعلمون “۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کی مثال مینہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی۔ اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔ ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لئے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

تفسیر (24)” انما مثل الحیوۃ الدنیا “ اس کے فنا اور زوال میں ” کماء انزلنا ہ من السماء فاختلط بہ “ بارش کے ساتھ ” نبات الارض ‘ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پانی سے ہر رنگ کی چیزیں اگیں ۔ ” مما یا کل الناس “ غلہ اور پھل ” والانعام “ گھاس چارہ ” حتی اذا اخذت الارض زخرفھا “ اپنے حسن اور رونق اور سرسبز ہوگئی۔ ” وازینت “ یعنی تزئین و آرائش وزیبائش اور اس طرح ابن مسعود ؓ کی قرأت میں تزینت ہے۔ ” وظن اھلھا انھم قادرون علیھا “ اس کے کاٹنے اور چننے پر ۔ ضمیر الارض کی طرف لوٹ رہی ہے لیکن مراد نبایات ہیں ، اور بعض نے کہا ہے اس کو ” الفلۃ “ کی طرف لوٹایا ہے اور بعض نے کہا ہے ” الزینۃ “ کی طرف ۔ ” اتاھا امرنا “ ہمارا فیصلہ اس کو ہلاک کرنے کا ” لیلا او نھارا فجعلنا ھا حصیدا ً “ یعنی کٹی ہوئی ” کان لم تغن بالامس “ گویا کہ گزشتہ کل یہاں کچھ تھا ہی نہیں اور اس کی اصل غنی بالمکان سے ہے جب وہ اس میں مقیم ہو ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کو چمٹنے والے پر اللہ کا حکم اور عذاب آنا ہے اور وہ غافل ہوتا ہے ۔ ” کذلک نفصل الآیات لقوم یتفکرون “ ۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

(25) ” واللہ یدعوالی دارالسلام “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ سلام اللہ تعالیٰ ہیں اور اس کا گھر جنت ہے اور بعض نے کہا ہے کہ سلام سلامتی کے معنی میں ہے جنت کو دارالسلام اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جو اس میں داخل ہوگا آفات سے محفوظ ہوجائے گا ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس فرشتے آئے ۔ آپ (علیہ السلام) سو رہے تھے تو وہ کہنے لگے کہ تمہارے اس ساتھی کی ایک مثال ہے اس کے لیے مثان بیان کرو تو ان میں سے بعض نے کہا کہ سوئے ہوئے ہیں تو وہ کہنے لگے کہ تمہارے اس ساتھی کی ایک مثال ہے اس کے لیے مثال بیان کرو تو ان میں سے بعض نے کہا کہ یہ سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا بیشک آنکھ سوئی ہوئی ہے اور دل جاگ رہا ہے ۔ پھر ہو فرشتے کہنے لگے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے کہ اس نے ایک گھر بنایا اور اس میں دستر خوان سجایا اور ایک داعی بھیجا ( اس دستر خوان کی طرف) پس جس نے داعی کی بات کو قبول کرلیا وہ گھر میں داخل ہوا اور دستر خوان سے کھایا اور جس نے داعی کی بات کو قبول نہ کیا وہ گھر میں داخل نہ ہوا اور دسترخوان سے نہ کھایا ۔ پھر وہ فرشتے کہنے لگے کہ اس بات کی تفسیر کروتا کہ وہ اس کو سمجھ لیں تو بعض نے کہا کہ یہ سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ آنکھ سو رہی ہے اور دل جاگ رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ گھر جنت ہے اور داعی محمد ﷺ ہیں ۔ پس جس شخص نے محمد ﷺ کی اطاعت کی تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے محمد ﷺ کی نافرمانی کی تو اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور محمد ﷺ لوگوں کے درمیان فرق ہیں ۔ ” ویھدی من یشاء الی صراط مستقیم “ پس صراط مستقیم اسلام ہے۔ دعوت کو عام کیا حجت کو ظاہر کرنے کے لیے اور ہدایت کو خاص کیا مخلوق سے مستغنی ہونے کی وجہ سے
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے نیکو کاری کی انکے لئے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور انکے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

حسن عبادت کا صلہ جنت میں کیا ہوگا تفسیر (26)” للذین احسنوالحسنیٰ وزیادۃ “ یعنی جو لوگ دنیا میں اچھے عمل کرتے ہیں ان کے لیے حسنیٰ ہے اور حسنیٰ جنت ہے اور زیادہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ۔ یہ صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت کا قول ہے جن میں حضرت ابوبکر صدیق ، حذیفہ، ابو موسیٰ ، عبادہ بن صامت ؓ ہیں اور یہی حسن ، عکرمہ ، عطاء ، مقاتل ، ضحاک اور سدی رحمہم اللہ کا قول ہے۔ حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ پڑھی ” للذین احسنوا الحسنیٰ پھر فرمایا کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جہنمی جہنم میں تو ایک پکارنے والا آواز دے گا اے اہل جنت تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک وعدہ تھا اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ وہ پورا کردیں تو جنتی کہیں کہ وہ کون سا وعدہ ہے ؟ کیا ہمارا ترازو بھاری نہیں اور ہمارے چہرے سفید ، چمک دار نہیں کیے اور ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور ہمیں جہنم سے نہیں بچایا ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ حجاب اٹھا دیئے جائیں گے تو سب لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھیں گے ۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھنے سے زیادہ محبوب چیز کوئی نہ دی گئی ہوگی اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حسنیٰ نیکی کی مثل نیکی نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھانا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ الحسنیٰ نیکی کی مثل نیکی اور زیادۃ مغفرت اور رضا مندی ۔” ولا برھق وجوھم قتر “ غبار قترۃ کی جمع ہے۔ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ چہرے کی سیاہی ” ولا ذلۃ “ ذلت اور قتادہ فرماتے ہیں مشقت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں یہ ان کے اپنے رب کی طرف دیکھنے کے بعد ہے ” اولئک اصحب الجنۃ ھم فیھا خلدون “۔
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلّت چھا جائے گی اور کوئی انکو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دئیے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

(27) ” والذین کسبوا السیات جزاء سیئۃ م بمثلھا “ یعنی ان کے لیے اس کی مثل ہوگا جیسے دوسری جگہ فرماتا ” ومن جاء بالسیئۃ فلا یجزی الا مثلھا “ ۔۔۔۔۔ ” و ترھقھم ذلہ مالھم من اللہ من عاصم م اور من صلہ ہے یعنی ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ ” کانما اغشیت “ پہنچائے گئے ” وجوھھم قطعا “ قطعۃ کی جمع ہے۔ ” من اللیل مظلما “ ہمارے نزدیک اس پر نصب حال ہونے کی وجہ سے نہ کہ صف ہونے کی وجہ سے۔ اسی وجہ سے تو ” مظلمۃ “ نہیں کہا ۔ اصل عبارت یوں ہے ” قطعا من الیل مظلما اوقطعا من اللیل المظلم “ اور ابن کثیر کسائی اور یعقوب نے ( قطعا ً ) طاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی بعض کا فرمان ( یقطع من اللیل) اولئک اصحب النار ھم فیھا خلدون۔
Ayah 10:28

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور انکے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو تو نہیں پوجا کرتے تھے۔

(28) ویوم نحشر ھم جمعیا ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم یعنی تم اپنی جگہ کو لازم پکڑو انتم و شرکائو کم “ ۔ یعنی بت : اور مطلب یہ ہے کہ پھر ہم ان شرک کرنے والوں کو کہیں گے کہ تم اور تمہارے شرکاء اپنی جگہ کو لازم پکڑو وہاں سے نہ ہٹو ۔” فزیلنا “ ہم مؤمنین کو ان سے دور کردیں گے اور ان کے آپس کے دنیاوی رشتے کاٹ دیں گے ۔ یہاں تک کہ ان کے معبود بھی ان سے بیزاری کا اعلان کریں گے۔ ” بینھم “ مشرکین اور ان کے شرکاء کو اور دنیا کا جو تعلق تھا وہ ختم کردیں گے۔ یہ اس ” شرکاء و ھم “ یعنی بت ” ما کنتم ایا تعبدون “ ہمارے مطالبہ کی وجہ سے تو وہ مشرکین کہیں گے کیوں نہیں ہم تو تمہاری عبادت کرتے تھے تو بت جواب میں کہیں گے :
Ayah 10:29

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بیخبر تھے۔

(29)” فکفیٰ باللہ شھیدا ً بیننا و بینکم ان کنا عن عبادتکم لغافلین “ ہم تو تمہاری عبادت سے غافل تھے کیونکہ نہ ہم سن سکتے تھے اور نہ دیکھ سکتے تھے اور نہ عقل رکھتے تھے۔
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

(30)” ھنالک تبلوا “ یعنی آزمالے گا اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ جان لے گا اور واقف ہوجائے گا اور حمزہ ، کسائی اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” تتلوا “ پڑھا ہے دوتاء کے ساتھ یعنی پڑھ لے گا ۔” کل نفس ‘ ‘ اپنے نامہ اعمال کو ” ما اسلفت “ جو خیر یا شر آگے بھیجا اور بغض نے کہا ہے معائنہ کرلے گا ۔ ” وردوا الی اللہ “ اس کے حکم کی طرف ۔ ” مولا ھم الحق “ جو ان کے معاملہ کا مالک ہے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” وان الکافرین لا مولیٰ لھم “ اور یہاں اللہ تعالیٰ کو ان کا مولیٰ کہا جارہا ہے ؟ تو جواب یہ ہے کہ اس آیت میں مولیٰ بمعنی مالک ہے اور دوسری آیت میں مولیٰ بمعنی مدد گار ہے کہ کافروں کا کو لی مدد گار نہ ہوگا ، ” وضل عنھم ما کانوا یفترون “ دنیا میں تکذیب کرنے کی وجہ سے۔
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے ؟ یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے ؟ اور جاندار سے بےجان کون پیدا کرتا ہے ؟ اور (دنیا کے) کاموں کا انتظام کون کرتا ہے ؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں ؟

(31)” قل من یرزقکم من السماء والارض “ یعنی آسمان سے بارش کے ذریعے اور زمین سے نباتات کے ذریعے۔” ام من یملک السمع والابصار “ یعنی تمہیں کان اور آنکھیں دے ک ومن یخرج الحی من المیت و یخرج المیت من الحی “ زندہ کو نطفہ سے نکالتا ہے اور نطفہ کو زندہ سے۔ ” ومن یدبر الامر “ یعنی امور کا فیصلہ کرتا ہے ۔ ” فسقولون اللہ “ کہ وہ اللہ ہی یہ تمام کام کرتا ہے۔ ” فقل افلا تتقون “ کیا تم اس کا شریک کرنے میں اس کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا ؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

(32) ” فذلکم اللہ ربکم “ جو یہ تمام کام کرتا ہے وہ یہ تمہارا رب ہے ” الحق فما ذا بعد الحق الا الضلال فانی تصرفون “ پس تم اس کی عبادت سے کہاں پھرے جا رہے ہو حالانکہ تم اس کا اقرار کرتے ہو۔
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا۔ کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

تفسیر (33)” کذلک “ کلبی (رح) فرماتے ہکذا اسی طرح ” حقت “ واجب ہوگیا ۔ ” کلمۃ ربک “ اس کا سابق حکم ” علی الذین فسواق “ کفر کیا ، ” انھم لا یومنون “۔ ابو جعفر اور نافع اور ابن عمر نے کلمات ربک جمع کا صیغہ پڑھا ہے یہاں اور المومن میں اور دیگرحضرات نے واحد کا صیغہ۔
Ayah 10:34

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ مخلوقات کو ابتداًء پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اک سے جا رہے ہو ؟

(34)” قل ھل من شرکائکم “ تمہارے بتوں میں سے ” من یبدئو الخلق “ مخلوق کو بغیر کسی اصل اور بغیر مثال کے پیدا کر دے۔” ثم یعیدہ “ پھر موت سے اس کو پہلے جیسا زندہ کر دے ، اگر وہ آپ کو جواب دیں تو ٹھیک ورنہ پس ’ ’ قل “ آپ کہہ دیں ” اللہ یبدو الخلق ثم یعیدہ فانی توفکون “ یعنی پھیرے جا رہے ہو سیدھے راستے سے۔
Ayah 10:35

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا راستہ دکھائے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا راستہ دکھاتا ہے بھلا جو حق کا راستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے راستہ نہ بتائے راستہ نہ پائے ؟ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو ؟

(35)” قل ھل من شرکائکم من یھدی الی الحق “ جب وہ کہیں نہیں اور لازمی طور پر وہ کہیں گے ” قل اللہ یھدی للحق “ حق کی طرف ” افمن یھدی الی الحق احق ان یتبع امن لا یھدی الا ان یھدی “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ھاء کے سکون کے ساتھ اول کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے دال کی شد کے ساتھ پڑھا ہے ، پھر ابو جعفر اور قالون نے ھاء کی سکون کے ساتھ دونوں طرح پڑھا ہے اور ابو عمر و زبر اور سکون کے درمیان ھاء داخل کرتے ہیں اور حفص نے یاء کے زبر اور یاء کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور ابوبکر دونوں یاء کو زیر اور باقی حضرات دونوں کے زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس کا معنی تمام صورتوں میں ” ہدایت دیتا “ ہے۔ پس جنہوں نے دال کو بغیر شد کے ذکر کیا ہے اس نے کہا ہے ” ھدیتہ فھدی “ یعنی اس نے ہدایت حاصل کی اور جس نے دال کی شد پڑھی ہے تو تاء کا دال میں ادغام کیا ہے ، پھر ابو عمرو و تخفیف کو ترجیح دینے میں اپنے مذہب کا قصد کرتے ہیں اور جنہوں نے ھاء کو ساکن پڑھا ہے انہوں نے ھاء کو اس کی حالت پر چھوڑ دیا ہے ۔ جیسا کہ ” تعدوا یخصمون “ میں کہا ہے جس ھاء کو زیردی ہے تو التفائے ساکنین کی وجہ سے اور جزم فرماتے ہیں کہ کسرہ کی حرکت دی جائے گی اور جس نے یاء کو ھاء کے ساتھ زیر دی ہے تو کسرہ کو کسرہ کے تابع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” الا ان یھدی “ ہے ۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ جو حق کی طرف راہ دکھاتا ہے وہ زیادہ اتباع کا حق دار ہے یا وہ بت جو خود راہ پر نہیں چل سکتے مگر یہ کہ ان کو راہ دکھائی جائے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ بتوں کے بارے میں یہ کیسے کہہ دیا ” الا ان یھدی “ حالانکہ بتوں سے تو ہدایت پر چلنے یا ہدایت حاصل کرنے کا تصور ہی نہیں ہے ؟ تو جواب یہ ہے کہ بتوں کے حق میں ہدایت کا معنی منتقل ہونا ہے یعنی وہ بت خود ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہوسکتے جب تک ان کو اٹھا کر منتقل نہ کیا جائے۔ اس آیت میں بتوں کا عاجز ہونا بیان کیا ہے اور دوسرا جواب یہ ہے کہ ہدایت کو مجازا ً ذکر کیا ہے کہ مشرکین نے جب بتوں کو معبود بنایا اور ان کو سننے اور عقل رکھنے والوں کے مرتبہ میں اتارا تو اللہ نے ان کے لیے وہ تعبیر اختیار کی وہ علم اور عقل رکھنے والے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔ ” فما لکم کیف تحکمون “ تم کیسے فیصلے کرتے ہو جب تم نے گمان کیا کہ اللہ کا شریک ہے۔
Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بیشک خدا تمہارے (سب) اعمال سے واقف ہے۔

تفسیر (36)” وما یتبع اکثرھم الا ظنا “ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ بت معبود ہیں اور ان کا گمان ہے کہ وہ آخرت میں ان کی سفارش کریں گے ، اس ظن پر نہ کوئی کتاب ہے اور نہ کوئی رسول اور اکثر سے مراد یہ بات کہنے والے تمام لوگ مراد ہیں ۔ ” ان الظن لا یغنی من الحق شیئا “ یعنی ان سے اللہ کے عذاب کو دور نہیں کرسکتا ، اور بعض نے کہا علم کے قائم مقام ہے ۔ ” ان اللہ علیم بما یفعلون “ ۔
Ayah 10:37

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں انکی تصدیق کرتا ہے اور انہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے۔

(37) ” وما کان ھذا القرآن ان یفتری من دون اللہ “ فراء فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کی مثل کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ کے غیر سے گھڑا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” وما کان لنبی ان یغل “ کی طرح اور بعض نے کہا ہے کہ ” ان “ لا م کے معنی میں ہے یعنی ” وما کان ھذا القرآن لیفتری من دون اللہ “ ولکن تصدیق الذی بین یدیہ “ قرآن کے سامنے توریت اور انجیل کی اور بعض نے کہا کہ قرآن کے آگے قیامت اور بعث کی تصدیق ہے۔ ” و تفصیل الکتاب “ یعنی کتاب میں جو حلال و حرام ، فرائض و احکام ہیں ان کا بیان ہے ۔ ” لا ریب فیہ من رب العالمین ۔
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو۔

(38)” ام یقولون “ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں ” ام “ وائو کے معنی میں ہے یعنی اور وہ کہتے ہیں ۔ افتراہ محمد ﷺ نے اپنی طرف سے قرآن گھڑ لیا ہے۔ ” قل فاتوا بسورۃ من مثلہ “ قرآن کے مشابہ ” وادعوا من استطعتم “ ان میں سے جن کی تم عبادت کرتے ہو ” من دون اللہ “ تا کہ وہ تمہاری اس پر مدد کریں ۔ ” ان کنتم صادقین “ کہ محمد ﷺ نے اس کو گھڑ لیا ہے ۔ پھر فرمایا ۔
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟

(39)” بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمۃ “ یعنی قرآن کو جھٹلایا حالانکہ اس کے علم کا انہوں نے احاطہ نہ کیا تھا ۔ ” ولما یاتھم تاویلہ “ یعنی اس کا انجام جو اللہ نے قرآن میں وعدہ کیا ۔ مراد یہ ہے کہ ان کو معلوم نہ تھا کہ ان کے معاملہ کا انجام کیا لوٹے گا ۔ ” کذلک کذب الذین من قبلھم “ یعنی جس طرح ان کفار نے قرآن کو جھٹلایا ، اسی طرح ان سے پہلی امتوں کے کفار نے بھی جھٹلایا ۔ ” فانظر کیف کان عاقبۃ الظالمین “ مشرکین کا انجام ہلاکت کے ساتھ ۔
Ayah 10:40

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمہارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے۔

(40)” ومنھم من یومن بہ “ یعنی آپ (علیہ السلام) کی قوم میں سے بعض قرآن پر ایمان لاتے ہیں ۔ ” ومنھم من لا یومن بہ “ اللہ کے علم سابق کی وجہ سے ” وربک اعلم بالمفسدین “ ایسے جو ایمان نہیں لاتے۔