11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہیں۔

تفسیر : 1۔ ” الر کتاب “ یعنی یہ کتاب ” احکمت ایاتہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کسی دوسری کتاب کے ذریعے منسوخ نہیں کی گئیں جیسے پہلی کتابیں اور شریعتیں قرآن کے ذریعے منسوخ کی گئی ہیں ۔ ” ثم فصلت “ احکام حلال و حرام کو بیان کیا گیا ۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ امرو نہی کے ذریعے محکم کی گئی اور وعدہ و عید کے ذریعے تفصیل کی گئی ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ احکمت یعنی اللہ نے اس کو محکم کیا کہ نہ اس میں کوئی اختلاف ہے اور نہ کوئی تنافض مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” فصلت “ یعنی اس کی تفسیر کی گئی اور بعض نے کہا ” فصلت “ یعنی تھوڑی تھوڑ ی تاری گئی ۔ ” من لدن حکیم خبیر “۔
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔

تفسیر 2:۔ ” ان لا تعبدوا الا اللہ “ یعنی اس کتاب میں یہ حکم ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو اس صورت میں ان محل رفع میں ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ محل جر میں ہے۔ اصل عبارت ہے ” یان لا تعبدوا الا اللہ “ ۔۔۔ ” انی لکم منہ “ اللہ سے ” نذیر “ نافرمانوں کے لیے ڈرانے والے ” بشیر “ اطاعت گزاروں کے لیے خوشخبری دینے والے ہیں ۔
Ayah 11:3

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم کو ایک وقت مقرر تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور صاحب بزرگی کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب سے ڈر ہے۔

۔ ” وان “ پہلے ان پر عطف ہے ۔ ” استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ “ یعنی اسی کی طرف لوٹو طاعت کے ساتھ ، فراء (رح) فرماتے ہیں کہ ” ثم “ یہاں وائو کے معنی میں ہے۔ یعنی ” وتویوالیہ “ اس لیے کہ استغفار توبہ کرنا ہے اور توبہ کرنا استغفار ہے۔ ” یمتعکم متا عا ً حسنا “ تم کو اچھی زندگی دے گا جس میں امن و کشادگی ہوگی اور بعض نے کہا ہے کہ اچھی زندگی تھوڑے پر راضی ہونا اور تقدیر الٰہی پر صبر کرنا ہے۔ ” الی اجل مسمی “ کیونکہ ہر شخص کی مدت زندگی مقرر ہے۔ ” ویوت کل ذی فصل فضلہ “ یعنی دنیا میں ہر نیک عمل کرنے والے کو آخرت میں اس کا اجر وثواب دے گا ، ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا میں جس کی عبادت زیادہ ہوگی آخرت کے دن جنت میں اس کے درجات زیادہ ہوں گے۔ اس لیے کہ درجات اعمال کی وجہ سے ملیں گے ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر زیادہ ہوں گی ، جنت میں داخل ہوگا اور جس کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی وہ اعراف میں رہے گا ، بعد میں جنت میں داخل ہوگا ، بعض نے مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جو اللہ کے لیے عمل کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ مستقبل میں بھی اس کو عبادت کرنے کی توفیق دیں گے۔ ” وان تولوا فانی اخاف علیکم عذاب یوم کبیر “ اور وہ قیامت کا دن ہے۔
Ayah 11:4

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

4۔ ” الی اللہ مرجعکم وھو علی کل شی قدیر “۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سُن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے۔

آیت کا شان نزول 5۔” الا انھم یثنون صدور ھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ شخص شیریں کلام والا اچھی صور ت والا تھا۔ نبی کریم ﷺ کو اچھے طریقے سے ملتا اور دل میں نا پسندیدگی ہوئی ۔ ” یثنون صدورھم “ یعنی دل میں جو بغض اور عداوت ہے اس کو مخفی رکھتے ہیں ۔ عبد اللہ بن شداد (رح) فرماتے ہیں کہ آیت ایک منافق کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرتے تو اپنے سینے کو جھکا لیتا ، سر نیچے کرلیتا اور چہر ہ ڈھانپ لیتا تا کہ آپ (علیہ السلام) اس کو نہ دیکھ سکیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے تھے تا کہ اللہ کی کتاب اور اس کا ذکر نہ سن سکیں اور بعض نے کہا ہے کہ ایک کافر شخص اپنے گھر داخل ہوتا اور پردہ ڈال لیتا اور کمر جھکا لیتا اور کپڑوں سے خود کو ڈھانپ لیتا اور کہتا کیا اللہ میرے دل کی بات کو جانتا ہے ۔ اور سدی فرماتے ہیں یثنون یعنی اپنے دلوں کے ساتھ اعراض کرتے ہیں ، یہ ان کے قول ثنیت عنانی سے مشتق ہے اور بعض نے کہا ہے نرمی کرتے ہیں اس سے ثنی الثوب ہے۔ ابن عباس ؓ نے ” یثنونی “ یحلولی کے وزن پر پڑھا ہے۔ فعل کو صدور کے لیے قرار دیا ہے اور اس کا معنی ثنی میں مبالغہ کرتا ہے۔ ” لیستخفوا منہ “ یعنی اللہ کے رسول ﷺ سے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ تا کہ وہ اللہ سے چھپ جائیں اگر ان کو طاقت ہو ۔ ” الا حین یستغشون ثیابھم “ اپنے سروں کو کپڑوں سے ڈھانپتے ہیں ۔ ” یعلم مایسرون وما یعلنون انہ علیم بذات الصدور “ از ہری (رح) فرماتے ہیں کہ پوری آیت کا معنی یہ ہے کہ یہ جو لوگ دل میں نبی کریم ﷺ کی دشمنی چھپاتے ہیں ہم پر ان کا حال چھپا ہوا نہیں ہے ۔ محمد بن عباد بن جعفر فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس ؓ کو یہ آیت ” الا انھم یثنون صدورھم “ پڑھتے سنا تو ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ چند قضائے حاجت کرنے سے حیاء کرتے تھے کہ یہ آسمان کی طرف چڑھے گا اور بیویوں سے جماع کرنے سے حیاء کرتے تھے کہ یہ بھی آسمان کی طرف چڑھے گا تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر کوئی چلنے پھر نے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے۔ وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے۔

تفسیر : 6” وما من دابۃ فی الارض “ یعنی کوئی دابہ ایسا نہیں ہے من صلہ ہے اور دابہ ہر اس حیوان کو کہتے ہیں جو زمین پر رینگے۔” الا علی اللہ رزقھا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کے رزق کی ذمہ داری لی ہے اگر چاہے تو رزق دے اور اگر چاہے تو رزق نہ دے اور بعض نے کہا ہے کہ علی بمعنی من ہے یعنی اللہ کی طرف سے اس کا رزق ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جو رزق اس کے پاس آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بسا اوقات اس کو رزق نہیں دیتا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرجاتا ہے۔ مستقر اور مستودع کی مختلف تفاسیر ” ویعلم مستقرھا ومستودعھا “ 1۔ ابن مقسم (رح) فرماتے ہیں اور یہی ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے کہ مستقر وہ جگہ جس کو وہ ٹھکانہ بنائے اور رات اور دن کو اس میں قرار پکڑے اور مستودع وہ جگہ جس میں مرنے کے بعد دفن کیا جائے گا ۔ 2۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ مستقر مائوں کے رحم اور مستودع وہ جگہ جہاں موت آئے گی۔ 3۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ مستقر مائوں کے رحم اور مستودع آباء کی پشت اور اسی کو سعید بن جبیر ؓ ، علی بن طلحہ اور عکرمہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ 4۔ بعض نے کہا کہ مستقر جنت یا جہنم اور مستودع قبر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کے بیان میں فرمایا ہے۔” حسنت مستقرا او مقاما “۔۔۔۔” کل فی کتاب مبین “ یعنی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اس کی ہر چیز لوح محفوظ میں لکھ دی گئی ہے۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

7۔ ” وھو الذین خلق السموات والارض فی ستۃ ایام و کان عرشہ علی الماء ‘ ‘ آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے اور یہ پانی ہوا کی پشت پر تھا۔ کعب (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سبز یاقوت کو پیدا کیا پھر رعب کی نگاہ اس پر ڈالی تو وہ پانی بن گیا ۔ پھر ہوا کو پیدا کیا اور پانی کو اس کی پشت پر رکھ دیا اور پھر عرش کو پانی پر رکھ دیا ۔ ضمر ہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا اور اس سے جو مخلوق پیدا کرنی تھی وہ بھی لکھی اور جو کچھ آگے ہونے والا ہے مخلوق ہے وہ بھی لکھا۔ پھر اس کتاب نے ہزار سال اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تمحید کی مخلوق کے پیدا ہونے سے پہلے۔ ” لیبلوکم “ تا کہ تمہیں تمہارا امتحان لے حالانکہ وہ خوب جانتا ہے تمہارے اعمال کو ایکم احسن عملا ً اللہ کی اطاعت والے عمل کیے اور اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچا ۔ ” ولئن قلت “ اے محمد ﷺ ” انکم معبوثون من بعد الموت لیقولن الذین کفروا ان ھذا الا سحر مبین “ ان کی مراد قرآن تھا اور حمزہ کسائی نے ” ساحر “ پڑھا ہے یعنی ان کی مراد محمد ﷺ تھے۔
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب کو روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزأ کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی۔

تفسیر 8۔” ولئن اخرنا عنھم العذاب الی امۃ معدودۃ “ متعین وقت تک اور امت کا اصل معنی جماعت ہے۔ گویا کہ فرمایا کہ ایک امت کے ختم ہونے اور دوسری کے آنے تک ۔ ” لیقولن ما یحبسہ “ یعنی کون سی چیز اس کو روک رہی ہے۔ یہ بات وہ عذاب کو جلدی طلب کرنے اور مذاق اڑانے کے لیے کرتے تھے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ عذاب کچھ بھی نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” الا یوم یاتیھم “ یعنی عذاب ” لیس مصروفا عنھم و حاق بھم ما کانوا بہ یستھزون “ یعنی ان کو استہزاء کا وبال ۔
Ayah 11:9

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اسکو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا ہے )

9۔ ” ولائن اذقنا الانسان منا رحمۃ “ نعمت اور کشادگی ثم نزعنا ھا منہ یعنی ہم اس سے اس کو چھین لیں انہ لیوس سخت ناامید ہوجاتا ہے ” کفور “ نعمت کا۔
Ayah 11:10

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بیشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنیوالا ہے۔

10۔” ولئن اذقناہ نعماء بعد ضراء مستہ “ مصیبت کے بعد جوان کو پہنچی ہو ۔” لیقولن ذھب السیئات عنی سختیاں مجھ سے چلی گئیں انہ لفرح فخور متکبر ہے فرح بمعنی دل میں لذت اپنی پسندیدہ چیز کے ملنے کی وجہ سے اور فخر اپنے مناقب شما ر کرکے لوگوں پر بڑا بنتا اس سے روکا گیا ہے۔
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

11۔ ” الا الذین صبروا ‘ یہ استثناء منقطع ہے اس کا معنی ہے ” لکن الذین صبروا “ الا بمعنی لکن کے ہے ” وعملوا الصالحات “ کیونکہ ان کو اگر کوئی شدت پہنچے تو صبر کرتے ہیں اور اگر نعمت ملے تو شکر کرتے ہیں ۔ ” اولئک لھم مغفرۃ “ ان کے گناہوں کی ” واجر کبیر “ اور وہ جنت ہے۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو ۔ اس (خیال) سے تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا ؟ یا اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ (اے محمد) تم تو صرف نصیحت کرنیوالے ہو اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے۔

12۔ ” فلعلک “ اے محمد ﷺ ” تارک بعض مایوحیٰ الیک “ کہ وہ ان کو نہ پہنچائیں ۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ کفار مکہ نے جب کہا ” ائت بقرآن غیر ھذا “ جس میں ہمارے معبودوں کو برا بھلا نہ کہا گیا ہو تو نبی کریم ﷺ نے ارادہ کیا کہ ظاہر ا ً ان کے معبودوں کو چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ ” فلعلک تارک بعض ما یوحیٰ الیک “ یعنی معبودوں کو برا کھلا کہنا ” وضائق بہ صدرک “ شاید کہ آپ کو دلی تنگی ہو رہی ہے ” ان یقولوا لولا انزل علیہ کنز “ جس کو خرچ کرے ” او جاء معہ ملک “ یا کوئی فرشتہ جو اس کی تصدیق کرے ۔ اس بات کو عبد اللہ بن امیہ مخزو می نے کہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” انما انت نذیر “ آپ تو صرف آیات عذاب پہنچانے والے ہیں ” واللہ علی کل شیء وکیل “ وہ ہر چیز کا محافظ ہے۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

یہ کیا کہتے ہیں کہ اس نے قرآن از خود بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ خدا کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا بھی لو

تفسیر 13۔” ام یقولون افتراہ “ بلکہ وہ کہتے ہیں آپ نے اس کو گھڑ لیا ہے ” قل فاتوا بعشر سورة مثلہ مفتریات “ اگر یہ اعتراض ہو کہ سورة یونس میں فرمایا ” فاتوا بسورۃ مثلہ “ وہ اس سے عاجز تھے پھر ان کو یہ کیسے کہہ دیا کہ ” فاتوا بعشر سود مثلہ “ یہ تو ایسے ہوگیا کہ کوئی آدمی دوسرے کو کہے مجھے ایک درہم دے وہ اس سے عاجز ہو تو اس کو کہے مجھے دس درہم دے ؟ اس کا جواب بعض حضرات کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ سورة ہودپہلے نازل ہوئی تھی اور سورة یونس بعد میں ۔ لیکن مبرد (رح) نے اس کا انکار کیا اور فرمایا کہ سورة یونس پہلے نازل ہوئی تھی اور سوال کا جواب یہ دیا کہ سورة یونس میں ” فاتوا بسورۃ مثلہ “ کا معنی یہ ہے کہ اس کی مثل غیب کی خبر دینے اور احکا م اور وعدہ و عید میں کوئی ایک سورة لائو تو وہ عاجز ہوگئے تو ان کو سورة ہود میں فرمایا کہ اگر تم اس سورة کی مثل اخبار ، احکام اور وعدہ وعیدیں سورت لانے سے عاجز ہو تو محض بلاغت میں اس کی مثل دس سورتیں لائو جو خبر اور وعدہ وعید میں اگرچہ اس جیسی نہ ہوں ۔ ” وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صادقین “۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئے۔

14۔” فان لم یستجیبوالکم “ اے محمد کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا لفظ جمع کا ہے اور مراد تنہا رسو ل ﷺ ہیں ۔ ” فاعملوا “ بعض نے کہا یہ خطاب مؤمنین کو ہے اور بعض نے کہا کہ خطاب مشرکین کو ہے۔ ” انما انزل بعلم اللہ ‘ ‘ یعنی قرآن اور بعض نے کہا یہ خطاب مؤمنین کو ہے اور بعض نے کہا کہ خطاب مشرکین کو ہے۔” انما انزل بعلم اللہ ‘ ‘ یعنی قرآن اور بعض نے کہا ہے کہ اس کو اتارا اور اس میں اس کا علم ہے۔” وان لا الہ الا ھو “ یعنی جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ” فھل انتم مسلمون “ اس کا لفظ استفہام ہے اور معنی امر ہے یعنی اسلام لے آئو۔
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طا لب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انھیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور اس میں انکی حق تلفی نہیں کی جاتی۔

15۔” من کان یرید الحیوۃ الدنیا “ یعنی جو شخص اپنے علم سے دنیا کا ارادہ کرتا ہو ۔ ” وزینتھا “ یہ آیت ہر اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کوئی بھی نیک کام کرے اور اللہ کے غیر کا ارادہ کرتا ہو۔ ” نوف الیھم اعمالھم فیھا “ یعنی ان کے اعمال کا اجر دنیا میں وسعت رزق اور تکالیف دور کرنے کی صورت میں دے دیں گے۔” وھم فیھا لا یبخسون “ یعنی دنیا میں ان کا حصہ کم نہ ہوگا ۔
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں (آتش جہنم) کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے سب ضائع ہوا۔

16۔” اولئک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار وحبط ماصنعوا فیھا و باطل ما کانوا یعلمون “ اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ریا کار لوگ مراد ہیں ، ہم تک روایت پہنچی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ خوف مجھے تم پر شرک اصغر کا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! شرک اصغر کیا ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ریاء اور بعض نے کہا آیت کفار کے بارے میں ہے اور بہ حال مؤمن تو وہ دنیا اور آخرت کا ارادہ کرتا ہے اور اس کا آخرت کا ارادہ غالب ہوتا ہے تو اس کو دنیا میں نیکیوں کی جزاء اور آخرت میں ان پر ثواب دیا جاتا ہے۔ انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ کسی مؤمن کی نیکی کا ظلم نہیں کرتے ۔ اس نیکی پر دنیا میں رزق دیا جاتا ہے اور آخرت میں جزاء دی جاتی ہے اور بہر حال کافر کو اس کی اچھائیوں کے بدلے دنیا میں اس کو کھلایا جاتا ہے حتیٰ کہ جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جس پر اس کو خیر دی جائے گی۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے ؟ ) یہی لوگ تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لانے۔

17۔” افمن کان علی بینۃ “ بیان میں ” من ربہ “ بعض نے کہا ہے کہ آیت میں حذف ہے اور معنی یہ ہے کہ کیا بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے بیان پر ہوا اس شخص کی طرح ہے جو دنیا کی زندگی اور اس کی رونق کا ارادہ رکھتا ہو یا جو شخص اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہو وہ اس شخص کی طرح ہے جو گمراہی اور جہالت میں ہو اور ” علی بینۃ من ربہ “ سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں ۔ ” ویتلوہ شاھد منہ “ یعنی اس کے پیچھے وہ ہے جو اس کے سچے ہونے کی گواہی دے۔ ” ویتلوہ شاھد “ سے کیا مراد ہے اس شاہد میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ ، علقمہ ، ابراہیم ، مجاہد ، عکرمہ اور ضحاک رحمہما اللہ اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شاہد جبرئیل (علیہ السلام) ہیں اور حسن اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی زبان ہے اور ابن جریج نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ فرشتہ ہے جو نبی کریم ﷺ کی حفاظت کرتا تھا اور آپ (علیہ السلام) کو راہ دکھاتا تھا اور حسین ابن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ وہ شاہد قرآن اور اس کے الفاظ اور اس کا اعجاز ہے اور بعض نے کہا ہے کہ شاہد حضرت علی ؓ ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ قریش کے ہر آدمی کے بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل ہوئی ہے تو ان سے ایک شخص نے کہا آپ ؓ کے بارے میں کوئی سی آیت نازل ہوئی ہے ؟ تو آپ ؓ نے فرمایا ” ویتلوہ شاھد منہ “ اور بعض نے کہا ہے کہ شاہد انجیل ہے ۔ ” ومن قبلہ “ یعنی محمد ﷺ کے آنے سے پہلے اور بعض نے کہا ہے کہ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے ” کتاب موسیٰ “ یعنی تھی موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ” اماما ً ورحمۃ “ ان کے لیے جو اس کی اتباع کریں ، یعنی توریت جو قرآن کی تصدیق کرنے والی اور نبی کریم ﷺ کی شاہد تھی ۔ ” اولئک یومنون بہ “ یعنی محمد ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اور بعض نے کہا ہے کہ اہل کتاب میں سے اسلام لانے والے مراد ہیں ۔ ” ومن یکفربہ “ یعنی محمد ﷺ کا اور بعض نے کہا قرآن کا ۔” من الاحزاب “ تمام ملتوں کے کفار میں سے ” فالنارموعدہ “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہے کہ اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اس امت ( دعوت ) میں سے جو کوئی کافر اور مشرک اور یہودی و عیسائی ایسی حالت میں مرے گا کہ جس ( ہدایت ) کو مجھ دے کر بھیجا گیا ہے وہ اس پر ایمان نہ لایا ہوگا تو وہ ضرور دوزخیوں میں سے ہوگا ۔ ” فلا تک فی مریۃ منہ “ اس سے شک میں نہ پڑا ’ ’ انہ الحق من ربک ولکن اکثر الناس لایومنون “۔
Ayahs 11:18–19

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ؟ ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں۔

تفسیر : 18۔” ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا ً “ پس گمان کیا کہ اللہ کی اولاد یا شریک ہے ۔ یعنی اس سے بڑا کوئی ظالم نہیں ۔ ” اولئک “ یعنی جھوٹ بولنے والے اور جھٹلانے والے ۔ ” یعرضون علی ربھم “ پس وہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔” ویقول الاشھاد “ یعنی وہ فرشتے جو ان کے اعمال کی نگرانی کرتے ہیں ۔ یہ بات مجاہد (رح) نے کہی ہے اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ انبیاء (علیہم السلام) اور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور یہی ضحاک (رح) کا قول ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تمام مخلوق مراد ہے۔ عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ مؤمن کو قریب کریں گے۔ پس اس پر اپنا بازو رکھیں گے اور اس کو ڈھانپ لیں گے اور پوچھیں گے کہ کیا تو فلاں گناہ پہچانتا ہے ؟ کیا تو فلاں گناہ پہنچانتا ہے تو وہ عرض کرے گا جی اے میرے رب حتیٰ کہ جب تمام گناہوں کا اقرار کرا لیں گے تو وہ بندہ دل میں خیال کرے گا کہ وہ ہلاک ہوگیا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دنیا میں تجھ پر میں نے پردہ ڈالا اور آج کے دن میں تجھے بخشتا ہوں پھر اس کو اس کی نیکیوں کا صحیفہ دیا جائے گا اور بہر حال کافر اور منافق ان کو سب لوگوں کے سامنے پکارا جائے گا ۔” ھو لاء الذین کذبوا علی ربھم الا لعنۃ اللہ علی الظالمین “۔
Ayah 11:20

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) ہرا نہیں سکتے اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر) ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ (شدت کفر سے تمہاری بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ (تم کو) دیکھ سکتے تھے۔

تفسیر : 20” اولئک لم یکونوا معجزین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سبقت لے جانے والے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں بھاگنے والے ۔ ” فی الارض وما کان لھم من دون اللہ من اولیاء “ یعنی مدد گار جو ان کے ہمارے عذاب سے حفاظت کریں ۔ ” یضاعف لھم العذاب “ یعنی ان کا عذاب زیادہ کیا جائے گا اور بعض نے کہا ہے کہ دوسروں کو گمراہ کرنے اور دوسروں کے اور ان کی اتباع کرنے کی وجہ سے ان کو دگنا عذاب ہوگا۔ ابن کثیر ، ابن عامر اور یعقوب نے ( یضعف) عین کی شد کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور باقی حضرات نے ( یضاعف) الف کے ساتھ عین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔” ما کانوا یستطیعون السمع وما کانوا یبصرون “ ہدایت کو۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ حق کے سننے سے بہرے ہیں کہ اس کو نہیں سنتے اور ہدایت کو دیکھ نہیں سکتے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ مشرکین اور ان کے دنیا اور آخرت میں اللہ کی اطاعت کرنے کے درمیان حائل اور رکاوٹ ہے۔ بہر حال دنیا میں فرمایا کہ ” ما کانوا یستطعیون السمع “ اور یہ اللہ کی اطاعت ہے اور آخرت کے بارے میں فرمایا کہ ” فلا یستطیعون خاشعۃ ابصارھم “۔
Ayah 11:21

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ یہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتارہا۔

تفسیر : 21۔” اولئک الذین خسروا انفسھم “ اپنے آپ کو خسارہ کیا ” وضل عنھم ما کانوا یفترون “ وہ فرشتوں اور بتوں کو سفارشی خیال کرتے تھے۔
Ayah 11:22

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سب زیادہ نقصان پانیوالے ہیں۔

22۔” لا جرم “ یعنی حق ہے اور بعض نے کہا کیوں نہیں اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ لا محالہ ” انھم فی الآخرۃ ھم الاخسرون “ یعنی اپنے غیر کی بنسبت اگرچہ تمام خسارہ میں ہوں گے۔
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی یہی صاحب جنت ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

23۔” ان الذین امنوا وعملوا الصالحات و اخبتوا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے خوف کیا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ رجوع کیا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مطمئن ہوگئے ۔ ” الی ربھم “ یعنی اپنے رب کا ” اولئک اصحاب الجنۃ ھم فیھا خالدون “
Ayah 11:24

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فرقوں (یعنی کافر ومومن) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہر ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

24۔” مثل الفریقین ‘ ‘ فریقین سے مراد مؤمن اور کافر ” کالا عمی والاصم والبصیر والسمیع ھل یستویان مثلا ھل یستویان “ فرمایا یستو ون نہیں فرمایا کیونکہ اعمی اور اصم دونوں ایک ہی چیز میں واقع ہیں گویا کہ یہ دونوں کافر کی صفات ہیں اور بصیر اور سمیع ایک ہی جانب میں واقع ہیں گویا کہ یہ مومن کی صفات ہیں ” افلا تذکرون “۔
Ayah 11:25

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو انکی قوم کی طرف بھیجا تو (انہوں نے ان سے کہا) کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے (اور پیغام پہنچانے) آیا ہوں

25۔ ” ولقد ارسلنا نوحا ً الیٰ قومہ انی لکم نذیر مبین “
Ayah 11:26

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے۔

26۔” ان لا تعبدو الا اللہ انی اخاف علیکم عذاب یوم الیم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) کو چالیس سال کی عمر میں نبی بنا کر بھیجا اور اپنی قوم کو نو سو پچاس سال دین کی طرف دعوت دی اور طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے اور ان کی عمر ایک ہزار پچاس سال ہوئی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ سو سال کی عمر میں نبی بنائے گئے اور بعض نے کہا کہ پچاس سال کی عمر میں اور بعض نے کہا ہے کہ دو سو پچاس سال کی عمر میں بھیجے گئے اور نو سو پچاس سال دعوت دی اور طوفان کے بعد دو سو پچاس سال زندہ رہے تو نوح (علیہ السلام) کی عمر کل چودہ سو پچاس سال ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فلبث فیھمالف سنۃ الا خمیسن عاما ً ) یعنی ان میں داعی بن کر اتنی مدت رہے۔
Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو انکی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں۔ اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں اور وہ بھی رائے ظاہرے سے (نہ غور وتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

تفسیر : 27۔” فقال الملاء الذین کفروا من قومہ “ ملا قوم کے سردار اور معزز لوگ ” ما نراک “ اے نوح الا بشر ا ایک آدمی ہے ” مثلثا وما نراک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا “ اراذلنا سے مراد ہمارے نچلے طبقہ کے لوگ والرذل ہر نچلے درجے کی چیز کو رذل کہا جاتا ہے ، رذل کی جمع ارذل آتی ہے اور ارذل کی جمع اراذل آتی ہے جیسے کلب کی جمع اکلب اور اکلب کی جمع اکالب آتی ہے۔ سورة شعراء میں ہے واتبعک الارذلون مراد نچلے طبقے کے لوگ ۔ عکرمہ نے کہا نچلے طبقے سے مراد جو لا ہے موچی نہیں ۔ ” بادی الرای “ ہمزہ کے ساتھ پڑھیں تو معنی ہوگا پہلی رائے میں یعنی ان کا ارادہ تھا کہ پہلی رائے میں بغیر غور و فکر کے آپ کی اتباع کرلیں ۔ ” وما نری لکم علینا من فضل بن نظنکم کاذبین “۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں ؟ اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ 28۔” قال “ نوح (علیہ السلام) ” یا قوم ارایتم ان کنت علی بینۃ من ربی واتانی رحمۃ “ یعنی ہدایت اور معرفت ” من عندہ فعمیت علیکم “ یعنی تم پر مخفی رہ گئی ہو یا تم پر وہ چیز ملتبس رہ گئی ہو ۔ اور حمزہ ، کسائی اور حفص نے ( فعمیت علیکم) عن کے پیش اور میم کے شد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی مشتبہ اور خلط ملط ہوگئی تم پر ” انلز مکموھا “ یعنی کیا ہم تم کو بینہ اور رحمت لازم کردیں گے۔” وانتم لھا کارہون “ تم اس کو نہ چاہتے ہو گے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر انبیاء (علیہم السلام) اس پر قادر ہوتے کہ اپنی قوم کو ہدایت لازم کردیں تو لازم ایسا کرتے لیکن وہ اس پر قادر نہ تھے۔
Ayahs 11:29–30

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے قوم ! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں۔ میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انکو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور برادران ملت اگر میں انکو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لئے) کون میری مدد کرسکتا ہے ؟ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

29۔” ویاقوم لا اسالکم علیہ مالا “ وحی اور رسالت کے پہنچانے پر ” ان اجری الا اعلیٰ اللہ وما انا بطارد الذین امنوا “ یہ دلیل ہے کہ انہوں نے نوح (علیہ السلام) سے مؤمنین کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔” انھم ملا قوا ربھم “ یعنی قیامت میں اپنے رب کی طرف جانے والے ہیں تو وہ ان کو دھتکارنے والے کو بدلہ دے گا ۔” ولکنی ارا کم قوماً تجھلون “۔
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دیگا جو انکے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں۔

تفسیر : 31” ولا اقول لکم عندی خزائن اللہ “ کہ جو تم مطالبہ کرو گے وہ میں لے آئوں گا ۔” ولا اعلم الغیب “ کہ جو تم چاہو تمہیں بتلا دوں اور بعض نے کہا ہے ان لوگوں نے جب نوح (علیہ السلام) کو کہا جو لوگ آپ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ہیں وہ صرف ظاہر میں آپ کے متبع ہیں ۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا میں تمہیں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے غیب کے خزانے ہیں جن میں سے لوگوں کی پوشیدہ باتیں جان لیتا ہوں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں کہ جو لوگ دل میں چھپاتے ہیں اس کو جان لوں میرے ذمہ تو ان کے ظاہری ایمان کو قبول کرتا ہے۔ ” ولا اقول انی ملک “ یہ ان کے قول ” وما نراک الا بشر امثلا “ کا جواب ہے۔” ولا اقول للذین تنردری اعینکم “ یعنی تمہاری آنکھیں ان کو حقیر سمجھتی ہیں یعنی مؤمنین کیونکہ انہوں نے مؤمنین کو ” ھم اراذلنا “ کہا تھا۔ ” لن یوتیھم اللہ خیرا “ یعنی توفیق اور ایمان اور اجر ” اللہ اعلم بما فی انفسھم “ خیر اور شر مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ ” انی اذا لمن الظالمین “ اگر میں نے یہ کہا ۔
Ayah 11:32

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر نازل کرو۔

32۔” قالو ! بنوح قد جادلتنا جدا خاصمنا “ کے معنی میں ہے ” فاکثرت جدالنا فاتنا بما تعدنا “ عذاب کا جو وعدہ کیا تھا۔” ان کنت من الصادقین “۔
Ayah 11:33

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ اس کو تو خدا ہی چاہے گا تو نازل کریگا۔ اور تم (اس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے۔

33۔ ” قال انما یا تیکم بہ اللہ ان شاء “ یعنی عذاب کو ” وما انتم بمعجزین “
Ayah 11:34

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیر خواہی کروں اور خدا یہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیر خواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے۔ اور تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

34۔” ولا ینفعکم نصحی “ میری نصیحت ” ان ارادت ان انصح لکم ان کان اللہ یرید ان بغویکم ھو ربکم “ اسی کے لئے حکم اور معاملہ ہے ۔ ” والیہ ترجعون ” پس تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا ۔
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے نے قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ و کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں برئی الذمہ ہوں۔

35۔” ام یقولون افتراہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی نوح (علیہ السلام) اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی محمد ﷺ ” قل ان افتریتہ فعلی اجرامی “ یعنی میرا گناہ اور میرے جرم کا وبال ۔ اجرام گناہ کرنے کو کہتے ہیں ۔ ” وانا بری مما تجرمون “ مجھ سیت مہارے گناہوں کا مواخذہ نہ ہوگا۔
Ayah 11:36

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لاچکے ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ تو جو کام یہ کر رہے ہیں انکی وجہ سے غم نہ کھاؤ۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ 36۔” واوحی الی نوح انہ لن یومن من قومک الا من قد امن “ ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم ان کو اتنا مارتی کہ وہ گرپڑتے پھر وہ ان کو کسی گھر کے کونے میں ڈال دیتے کہ وہ مرچکے ہیں ۔ وہ دوسرے دن پھر نکلتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ۔ روایت کیا گیا ہے کہ ان کی قوم کا ایک بوڑھا شخص لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا اپنے بیٹے کے ساتھ جارہا تھا تو بیٹے کو کہنے لگا یہ مجنوں بوڑھا تجھے دھوکہ میں نہ ڈال دے تو بیٹے نے کہا ابا جان ! مجھے اپنی لاٹھی دیں تو وہ لاٹھی لے کر نوح (علیہ السلام) کو اتنا مارا کہ سر پھاڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی ۔ ” انہ لن یومن من قومک الا من قد آمن فلا تبئس “ آپ نہ عم کریں۔” بما کانوا یفعلون “ کیونکہ میں ان کو ہلاک کرنے والا ہوں اور اس ہلاکت سے ان کو کوئی چھٹکارا نہیں تو اس وقت نوح (علیہ السلام) نے بددعا کی۔ ” رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا ‘ ‘ عبید بن عمیر لیثی سے روایت ہے کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ وہ لوگ نوح (علیہ السلام) کو گلے میں کپڑا ڈال کر گھسیٹتے یہاں تک کہ آپ (علیہ السلام) بیہوش ہوجاتے جب ہوش آتا تو کہتے اے میرے رب ! میری قوم کو بخش دے یہ نہیں جانتے ، حتیٰ کہ جب وہ نافرمانی میں بہت بڑھ گئے اور ان کو سخت تکالیف پہنچائیں اور کئی نسلوں کا انتظار کیا لیکن ہر آنے والی نسل پہلی سے بری تھی حتیٰ کہ آخر والی نسل کہنے لگی کہ یہ ہمارے آباء و اجداد کے ساتھ اسی طرح مجنون تھا وہ اس کی بات نہ مانتے تھے تو نوح (علیہ السلام) نے اللہ کو شکایت کی اور کہا ” رب انی دعوت قومی ۔۔۔۔ الخ “ تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی۔
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیے جائیں گے۔

حضرت جبرائیل کی نگرانی میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا کشتی بنانا تفسیر 37” واصنع الفلک باعیننا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہمارے علم کے ساتھ اور بعض نے کہا ہماری حفاظت میں ۔” ووحینا “ یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ۔” ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون “ طوفان کے ساتھ ، بعض نے کہا ہے کہ معنی یہ ہے کہ کفار کو مہلت دینے میں مجھ سے مخاطب نہ ہوں کیونکہ میں نے ان کو غرق کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اپنے بیٹے کنعان اور اپنی بیوی واعلہ کے بارے میں مجھ سے خطاب نہ کریں کیونکہ وہ دونوں قوم نوح کے ساتھ ہلاک ہوں گے۔ قصہ میں یہ بات بھی ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کا رب آپ کا حکم دیتا ہے کہ آپ کشتی بنائیں تو نوح (علیہ السلام) نے کہا میں کشتی کیسے بنائوں ، میں بڑھئی تو نہیں ہوں ؟ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا آپ کے رب نے کہا ہے کہ آپ بنائیں آپ میری نگرانی میں ہیں تو نوح (علیہ السلام) نے تیشہ وغیرہ اوزار لیے اور بالکل ٹھیک بنادی ۔
Ayah 11:38

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

تو (نوح نے) کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب انکی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے ' وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اسی طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کا کشتی بنانے کا واقعہ 38” ویصنع الفلک “ جب اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا حکم دیا تو نوح (علیہ السلام) کشتی بنانے لگے خود لکڑیاں کاٹتے اور لوہا رگڑتے اور تارکول وغیرہ کے ذریعے کشتی کی ہیئت پر لکڑیاں جوڑتے جب لوگ آپ کے پاس سے گزرتے تو مذاق اڑاتے اور کہتے اے نوح (علیہ السلام) ! نبوت کے بعد بڑھئی بھی ہوگیا ؟ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی عورتوں کو بانجھ کردیا کہ پھر ان کا کوئی بچہ پیدا نہ ہوا ۔ اہل توریت کا گمان ہے کہ ساگوان کی لکڑی سے کشتی بنانے کا حکم ملا اور اوزار سے بنانے کا حکم ہوا اور اس کو اندر اور باہر سے تارکول ملنے کا حکم دیا اور اس کا طول اسی گز اور عرض پچاس گزر رکھا اور اونچائی تیس گز اور ایک ذراع کندھے تک کا تھا اور حکم ہوا اس کے تین حصے بنانے کا اور ان میں روشندان رکھنے کا تو نوح (علیہ السلام) نے ویسا ہی کیا ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ دو سال میں کشتی بنائی اور کشتی کی لمبائی تین سو گز اور چوڑائی پچاس گز اور اونچائی تیس گز تھی اور یہ ساگوان کی لکڑی کی تھی ۔ اور اس کے تین حصے بنائے ، نیچے والے حصے میں وحشی جانوروں ، درندوں ، کیڑے مکوڑوں کو رسوا کیا اور درمیانے حصہ میں چوپایوں اور مویشیوں کو اور نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے اپنا زاد سفر لے کر اوپر والے حصہ میں سوار ہوئے۔ زید بن اسلم (رح) سے روایت ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے سو سال درخت لگائے اور ان کو کاٹا ، پھر سو سال کشتی بنائی اور بعض نے کہا چالیس سال درخت لگائے اور چالیس سال لکڑی خشک کی اور کعب احبار سے روایت ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے تیس سال میں کشتی تیار کی اور مروی ہے کہ جب جانوروں کے گوبر وغیرہ زیادہ ہوگئے تو نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ ہاتھی کی دم کو دبائیں جب دبایا تو اس سے ایک خنزیرنی نکلے تو وہ سارل گندگی ، گوبر لید وغیرہ کھا گئے۔ پھر چوہا کشتی کی رسیوں کو کاٹنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ شیر کی آنکھوں کے درمیان ہاتھ ماریں تو اس کے نتھنے سے بلی اور بلا نکلے اور چوہوں کو کھا گئے۔ ” وکلما مرعلیہ ملا من قومہ سخر وامنہ “ کیونکہ وہ کہنے لگے کہ یہ کہتا تھا کہ یہ نبی ہے اب یہ بڑھئی بن گیا ہے اور روایت کیا گیا ہے کہ وہ نوح (علیہ السلام) سے پوچھتے آپ کیا کر رہے ہیں ؟ وہ جواب دیتے گھر بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے گا تو وہ ہنستے ” قال ان تسخروا منا فانا نسخرمنکم کما تسخرون “ اگر یہ اعتراض ہو کہ نبی (علیہ السلام) سے مذاق اڑان کیسے ممکن ہے ؟ تو جواب یہ ہے کہ مطلب یہ ہے کہ اگر تم ہم سے مذاق کرتے ہو تو عنقریب اپنے مذاق کا انجام دیکھ لو گے۔
Ayah 11:39

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے ؟

تفسیر : 39” فسوس تعلمون من یاتیہ عذاب یخزیہ “ اس کو ذلیل کر دے ” ویحل علیہ “ ثابت ہو اس پر ” عذاب مقیم “ دائمی عذاب ہے۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا۔ تو ہم نے نوح (کو) حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجا ئیگا) اسکو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو اور جو ایمان لایا ہو اسکو کشتی میں سوار کرلو اور انکے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے۔

40” حتی اذا جاء امرنا “ ہمارا عذاب ” وقا التنور “ اس تنور میں اختلاف ہے۔ عکرمہ اور زہری رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ زمین کا ظاہر مراد ہے کیونکہ نوح (علیہ السلام) کو کہا گیا تھا کہ جب آپ پانی کو دیکھیں کہ زمین کے ظاہر سے پھوٹ رہا ہے تو آپ (علیہ السلام) کشتی پر سوار ہوجائیں۔ تندور سے کیا مراد ہے ؟ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ” فار التنور “ یعنی فجر طلوع ہوئی اور صبح روشنی ہوگئی اور حسن ، مجاہد اور شعبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ وہ تندور مراد ہے جس میں روٹی لگائی جاتی ہے اور یہی اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور عطیہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے ۔ حسن رحمہ فرماتے ہیں کہ یہ تندور پتھر کا تھا۔ حضرت حواء اس میں روٹیاں پکاتی تھیں تو نوح (علیہ السلام) کو کہا گیا کہ جب اس تندور سے پانی جوش مارے تو آپ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کے ساتھ کشتی میں سوارہو جائیں ۔ علماء کا اس تندور کی جگہ میں اختلاف ہے۔ مجاہد اور شعبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ کوفہ کی ایک جانب تھا اور شبعبی (رح) تو اس بات پر قسم کھاتے تھے کہ تندور نے کوفہ کی ایک جانب سے جوش مارا تھا اور فرماتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) نے کوفہ کی مسجد کے وسط میں کشتی بنائی تھی اور تندور داخل ہونے والے کے دائیں جانب باب کندہ کے قریب تھا اور اس سے پانی کا پھوٹنا نوح (علیہ السلام) کے لیے علامت تھا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تندور آدم (علیہ السلام) کا تھا اور شام کی ایک جگہ عین وردہ میں تھا اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ تندور ہندوستان میں تھا اور فوران بمعنی جوش مارنا۔ ’ ’ قلنا احمل فیھا “ کشتی میں سوار کیجیے ” من کل زوجین اثنین ‘ ‘ زوجان ہر ایسی دو چیزیں کہ ان میں سے ایک دوسرے سے مستغنی نہ ہو ۔ ان میں سے ہر ایک کو زوج کہا جاتا ہے ، کہا جاتا ہے زوج خف اور زوج نعل یہاں زوجین سے مرادمذکر اور مونث ہیں ۔ حفص نے یہاں اور سورة المومنین میں ” من کل “ متنوین کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ہر قسم سے دو جوڑے ہیں اس کو تاکید کے یہ ذکر کیا ہے اور قصد میں یہ بھی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! میں ہر قسم کے جوڑے کیسے سوار کروں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے تمام وحشی جانور اور درندے اور حشرات اور پرندے ان کے پاس جمع کردیتے تو وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے ہر جنس کو اٹھاتے ، ان کے دائیں ہاتھ میں مذکر اور بائیں میں مؤنث آتی ، ان کو کشتی میں سوار کراتے۔ ” واھلک “ یعنی اور اپنے گھر والوں یعنی اولاد و عیال کو سوار کریں۔ ” الا من سبق علیہ القول “ ہلاکت کا قول سبقت کرچکا ہو ، یعنی نوح (علیہ السلام) کی بیوی واعلہ اور بیٹا کنعان ” ومن امن “ جو ایمان لائے ان کو بھی رسواکر لیں۔ متبعین نوح (علیہ السلام) کی تعداد ” وما آمن معہ الا قلیل “ ان کی تعداد میں اختلاف ہے۔ قتادہ ، ابن جریج اور محمد بن کعب قرظی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ کشتی میں صرف آٹھ افراد تھے۔ نوح علیہ السلام، آپ کی بیوی اور تین بیٹے ، سام ، حام ، یافث اور ان کی بیویاں اور اعمش (رح) فرماتے ہیں کہ سات افراد تھے نوح (علیہ السلام) اور ان کے تین بیٹے اور تین بہوئیں اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ عورتوں کے علاوہ دس افراد تھے نوح (علیہ السلام) ، ان کے بیٹے سام ، حام ، یافث اور چھ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی بیویاں بھی ۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ بہتر 72 افراد مرد و عورت تھے اور نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے اور ان کی بیویاں تو کل اٹھہر 78 ہوئے۔ آدھے مردا اور آدھی عورتیں اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں اسی (80) مرد تھے ، ان میں ایک جرہم بھی تھے۔ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت نوح نے اپنے ساتھ اسی آدمیوں کو سوار کرلیا تھا اور آپ کی زبان عربی تھی۔ یہ بھی حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ سب سے پہلے حضرت نوح نے کشتی میں چھوٹی چیونٹی کو لیا اور سب سے آخر میں گدھے کو ۔ گدھا داخل ہونے لگا اور اس کا سینہ اندر آگیا تو ابلیس اس کی دم سے لٹک گیا جس کی وجہ سے اس کی ٹانگیں اٹھ نہ سکیں ۔ حضرت نوح نے فرمایا : ارے ! اندر آ جا ۔ گدھا اٹھا ، مگر اٹھ نہ سکا ۔ حضرت نوح نے فرمایا ارے اندر آجا، خواہ شیطان ہی تیرے ساتھ ہو ۔ یہ لفظ بیساختگی میں آپ کی زبان سے نکل گیا ۔ ان الفاظ کو سنتے ہی شیطان نے گدھے کا راستہ چھوڑ دیا ۔ گدھا اندر آگیا اور شیطان بھی اس کے ساتھ داخل ہوگیا۔ حضرت نوح نے فرمایا دشمن خدا تجھے کس نے داخل کیا ؟ شیطان نے کہا آپ نے ( گدھے سے) نہیں فرمایا تھا کہ اندر آ جا ، خواہ شیطان ہی تیرے ساتھ ہو ۔ آپ نے فرمایا : دشمن خدا ! نکل جا۔ شیطان نے کہا : اب تو مجھے اپنے ساتھ سوار کرنے کے بغیر آپ کیلئے کوئی چارہ نہیں ۔ لوگوں کا خیال ہے کہ شیطان کشتی کی پشت پر تھا۔ بعض اہل روایت کا خیال ہے کہ سانپ اور بچھو حضرت نو ح کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ہمیں بھی چڑھا لیجئے۔ حضرت نوح نے فرمایا : تم ضرور رساں اور سبب مصیبت ہو ، میں تم کو نہیں چڑھائوں گا ۔ کہنے لگے : آپ ہمیں چڑھا تو لیجئے ہم ذمہ دار ہیں کہ جو بھی آپ کا ذکرکرے گا ہم اس کو ضرر نہیں پہنچائیں گے۔ چناچہ جس سانپ اور بچھو کے ضرر کے خوف سے سلام علی نوح فی العالمین پڑھا ۔ اس کو سانپ اور بچھو نے کوئی ضرر نہیں پہنچایا ۔ حسن کا قول ہے کہ حضرت نوح نے کشتی میں صرف ان جانوروں کو چڑھایا تھا جو بچہ یا انڈہ دیتے ہیں ۔ جو کیچڑ سے پیدا ہیں جیسے مچھر ، پسو وغیرہ ان کو کشتی میں سوار نہیں کیا تھا۔