12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الف لام را۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔

1۔” الر تلک آیات الکتاب المبین “ یعنی اس کا حلال و حرام اور حدود و احکام واضح ہیں ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ظاہر ہے اللہ کی قسم ! اس کی برکت اور ہدایت ۔ پس یہ ” بان “ بمعنی ظھر اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا حق باطل سے حلال حرام سے واضح کیا گیا ہے۔ پس یہ ’ ابان “ سے ہے بمعنی اظھر۔
Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سجمھ سکو

2۔” انا انزلناہ “ یعنی کتاب ” قرآنا عربیا لعکم تعقلون “ یعنی ہم نے اس کو تمہاری لغت میں اتارا تا کہ تم اس کے معانی جان لو اور جو احکام اس میں ہیں وہ سمجھ لو۔
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں۔ اور تم اس سے پہلے بیخبر تھے۔

3۔” نحن نقص علیک احسن القصص “ اور قاص وہ شخص جو آثار کی پیروی کرے اور ٹھیک خبر دے۔ معنی یہ ہے کہ ہم بیان کرتے ہیں آپ کے لیے گزشتہ امتوں اور گزشتہ زمانوں کی خبریں اچھے انداز بیان میں اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد صرف یوسف (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ اس کا نام احسن القصص اس وجہ سے رکھا ہے کہ اس میں عبرت ، حکمتیں اور ایسے نکتے اور فوائد ہیں جو دنیا اور آخرت کے لیے مفید ہیں جیسے بادشاہوں اور ملکوں اور علماء کے حالات اور عورتوں کے مکر اور دشمنوں کی تکلیف پر صبر اور ان پر قدرت پانے کے بعد ان سے اچھا در گزر کرنا اور اس کے علاوہ دیگر فوائد ہیں ۔ خالد بن معدان (رح) فرماتے ہیں کہ سورة یوسف (علیہ السلام) اور سورة مریم ان سے اہل جنت جنت میں لطیف حاصل کریں گے۔ اور ابن عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ سورة یوسف کو جو غمزدہ شخص سنے گا وہ راحت پائے گا ۔” بما اوحینا الیک (ما) مصدریہ ہے یعنی ہمارا آپ کو وحی کرنا ۔ ” ھذا القرآن وان کنت من قبلہ “ ہماری وحی سے پہلے۔” لمن الغافلین “ اس قصہ سے ناواقف تھے اس کو نہیں جانتے تھے۔ سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر کافی عرصہ اس کی تلاوت کی ۔ تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اگر آپ (علیہ السلام) ہمیں حدیث بیان کرتے تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ۔ ” اللہ نزل احسن الحدیث “ پھر انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اگر آپ ہم پر کوئی قصہ بیان کرتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” نحن نقص علیک احسن القصص “ پھر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں نصیحت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم للذکر اللہ “۔
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

لفظ یوسف کی تحقیق تفسیر 4۔” اذ قال یوسف لا بیہ “ یعنی اس وقت کو یاد کریں جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد کو کہا اور یوسف عبرانی نام ہے۔ اسی وجہ سے منصرف نہیں ہوتا اور بعض نے کہا ہے کہ عربی نام ہے۔ ابو الحسن اقطع (رح) سے لفظ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ الاسف لغت میں بمعنی غم ہے اور اسیف لغت میں غلام کے معنی میں ہے اور یوسف (علیہ السلام) میں یہ دونوں چیزیں جمع ہوگئیں۔ اس لیے ان کا نام یوسف رکھا گیا ۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیشک کریم بیٹا کریم کا یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب کا تذکرہ یا ایت ابو جعفر اور ابن عمر رحمہما اللہ نے ” یا ابت ‘ ‘ تاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے تمام قرآن میں ” یا ابتاہ “ کی تقدیر پر اور وجہ یہ ہے کہ اس کی اصل ” یا ابتاہ “ الف کے ساتھ ہے اور یہ یاد اضافت سے بدل ہے تو الف کو حذف کردیا گیا ۔ جیسا کہ تاء کو حذف کیا جاتا ہے تو زبر باقی رہ گیا جو الف پر دلالت رہا ہے جیسا کہ زیر باقی ہو تو یاء کے حذف کے وقت یاء پر دلالت کرتی ہے اور دیگر حضرات نے ” یا ابت “ تاء کی زبر کے ساتھ تمام قرآن میں پڑھا ہے اور وجہ یہ ہے کہ اس کی اصل ” یا ابتی “ ہے تو یاء کی تخفیف کی غرض سے حذف کردیا گیا اور زیر پر اکتفاء کیا گیا ۔ اس لیے کہ نداء میں حذف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا قول ” یا عباد فاتقون “ دلالت کرتا ہے اور دیگر حضرات نے ” یا ابت “ تاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ اس کی اصل ” یا ابت “ ہے اور جزم کو زیر کی حرکت دی جاتی ہے ۔ ” انی رایت احد عشر کو کبا “ یعنی آسمان کے ستاروں میں سیس تارے اور کوکب کا نصب تفسیر کی بناء پر ہے۔ ” والشمس والقمر رایتھم لی ساجدین “۔ ” رایتھا الی ساجدات “ نہیں کہا حالانکہ ھاء اور میم اور یاء اور نون ذوالعقول سے کنایہ ہے۔ اس لیے کہ جب ان کا ایسا فعل بتایا جو ذوی العقول سے ہوسکتا ہے یعنی سجدہ کرنا تو تعبیر بھی ذوی العقول کی اختیار کی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یا یھا النمل ادخلوا مساکنکم “ اور اس خواب کی تعبیر میں ستارے ان کے بھائی ہیں اور یہ گیارہ تھے اور سورج ان کے والد اور چاند ان کی والدہ ۔ یہ قتادہ نے کہا ہے اور سدی (رح) نے کہا ہے کہ قمر سے ان کی خالہ مراد ہیں کیونکہ ان کی والدہ راحیل وفات پاچکی تھیں اور ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ قمران کے والد اور شمس والدہ ہیں اس لیے کہ شمس مؤنث ہے اور قمر مذکر ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے بارہ سال کی عمر میں یہ خواب دیکھا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ جمعہ کی رات لیلۃ القدر میں یہ خواب دیکھا۔ جب خواب دیکھا تو والد کو بتایا۔
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

خواب کی تعبیر کے ساتھ والد کی نصیحت 5۔” قال یا بنی لا تقصص رویاک علی اخوتک “ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کا خواب وحی ہوتا ہے تو یعقوب (علیہ السلام) نے جان لیا کہ جب بھائی اس کو سنیں گے تو حسد کریں گے ۔ اسی لیے اس کو چھپانے کا حکم دیا ۔ ” فیکیدوا لک کیدا “ پس وہ آپ کے ہلاک کرنے کی تدبیریں کریں گے کیونکہ وہ اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے۔ لک کا لام صلہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لربھم یرھبون “ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ان کے قول ” نصحتک ونصحت لک “ اور ” شکر تک “ ” وشکرتک لک “ کی طرح ہے۔ ” ان الشیطان للانسان عدو مبین “ یعنی شیطان اپنی پرانی دشمنی کی وجہ سے ان کو تدبیروں پر ابھارے گا ۔ ابو سلمہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں خواب دیکھتا تھا جو مجھے مریض کردیتے تھے حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اچھے خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ۔ پس جب تم میں سے کوئی وہ چیز دیکھے جس کو پسند کرتا ہے تو وہ کسی پسندیدہ شخص کو ہی بیان کرے اور جب کوئی ناپسند چیز دیکھے تو اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے پناہ مانگے اور شیطان کے شر سے اور تین دفعہ تھوک پھینک دے اور وہ کسی کو بیان نہ کرے کیونکہ وہ اس کو نقصان نہ دے گا ۔ حضرت ابو زریں عقیلی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رئویا صالحہ نبوت کے چالیس اجزاء یا چھپالیس اجزاء میں سے ایک جزاء ہیں۔ ” وھی علی رجل طائر “ جب تک اس کو بیان کرنے ، پس جب اس کو بیان کیا تو وہ واقع ہوجاتی ہے اور میرا خیال ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو اس کو صرف دوست یا سمجھ دار آدمی کو بیان کرے۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (ممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بیشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

تفسیر : 6۔” وکذلک یجتبیک ربک “ تجھے چن لے گا ۔ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو کہا جیسا کہ اس خواب کے ذریعے تیرا مرتبہ بلند کیا ، اسی طرح تیرا رب تجھے چن لے گا ۔ ” ویعلمک من تاویل الا حادیث “ تاویل سے مرادخوابوں کی تعبیر ہے۔ اس کا نام تاویل رکھا گیا ہے اس لیے کہ اس کا معاملہ اس کی طرف لوٹتا ہے جو اس نے خواب میں دیکھا تھا اور تاویل اس کو کہتے ہیں جس کی طرف کسی کا م کا انجام ہو۔ ” ویتم نعمتہ علیک “ یعنی نبوت کے ساتھ ” وعلی آل یعقوب “ یعنی ان کی اولاد پر کیونکہ ان کی ساری اولاد انبیاء (علیہم السلام) تھے۔ ” کما اتمھا علی ابویک من قبل ابراہیم واسحق ان ربک علیم حکیم “ اور بعض نے کہا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر نعمت مکمل کرنے سے مراد ان کو خلیل بنانا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ان کو ذبح سے نجات دینا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یعقوب اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کو ان کی صلب سے نکالنا مراد ہے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کے اس خواب اور اس کی حقیقت کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا اور یہی اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اسی سال کا وقفہ تھا۔ پس جب یہ خواب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو پہنچا تو انہوں نے حسد کیا ۔ اور کہنے لگے کہ ہم بھائی تمہارے آگے سجدہ کرنے پر اس وقت تک راضی نہیں جب تک کہ تمہارے والدین تم پر سجدہ نہ کریں ۔ ان کے بھائی بغاوت اور حسد پر اتر آئے۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

ہاں یوسف اور انکے بھائیوں کے (قصے) میں پوچھنے والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

7۔” لقد کان فی یوسف واخوتہ “ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں بکثرت نشانیاں ہیں ۔ ان کے نام روبیل اور بعض نے روبین نون کے ساتھ کہا ہے یہ بھائیوں میں سے بڑا تھا۔ شمعون ، لاوی ، یہوذا ، زبالون اور بعض نے کہا کہ زبلون ، آشر اور ان کی ماں لیا بنت لابان یہ یعقوب (علیہ السلام) کے ماموں کی بیٹی تھی۔ یعقوب (علیہ السلام) کی دو باندیوں سے چار بچے ہوئے۔ ایک باندی کا نام زلقۃ اور دوسری کا یلھمۃ ہے اور بچوں کے نام وان ، نفتالی اور بعض نے کہا ہے نفتولی ، جاد اور اشیر۔ پھر لیا کی وفات ہوگئی تو یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی بہن راحیل سے نکاح کیا تو ان سے یوسف (علیہ السلام) اور بنیا مین پیدا ہوئے اور بعض نے کہا ہے ابن یامین ، تو یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے بارہ ہوگئے۔ آیت للسائلین کی تفسیر ” آیات ابن کثیر (رح) نے ” آیۃ “ واحد کا صیغہ پڑھا ہے یعنی نصیحت و عبرت اور بعض نے کہا ہے تعجب اور دیگر حضرات نے ” آیات “ جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ للسائلین۔ کیونکہ یہود نے رسول اللہ ﷺ سے یوسف (علیہ السلام) کے قصہ کے بارے میں سوال کیا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے کنعان سے مصر منتقل ہونے کا سبب پوچھا تھا تو نبی کریم ﷺ نے یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ سنا دیا تو انہوں نے اس قصہ کو تورات کے موافق پایا تو بڑا تعجب کیا تو یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” آیات للسائلین “ کا یعنی رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر دال ہے اور بعض نے کہا ہے سوال کرنے والوں اور سوال نہ کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” سواء للسائلین “ کی طرح ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ عبرت ہے عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے کیونکہ یہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے حسد اور حسد کے انجام اور یوسف (علیہ السلام) کے قصاء شہوت پر صبر کرنے اور غلامی اور قید پر صبر کرنے اور اس کے انجام میں بادشاہی ملنے اور یعقوب (علیہ السلام) کے غم اور فراق یوسف (علیہ السلام) پر صبر کرنے پر مشتمل ہے۔
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں۔

8۔” اذقالوا لیوسف “ لام جواب قسم ہے اصل عبارت ” واللہ لیوسف “ ہے۔ واخوہ اس سے مراد ان کے بھائی بنیا مین ہیں ۔ ” احب لی ابینا منا “ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی بنیا مین ایک ماں سے تھے اور یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف سے بڑی شدید محبت تھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی جو اپنے والد کا زیادہ میلان دیکھتے جو ان کے ساتھ نہیں تھا، جس کی وجہ سے دوسرے بیٹوں نے یہ کہا۔ عصبۃ کی مختلف تفاسیر ” ونحن عصبۃ “ یعنی جماعت ہیں اور یہ دس تھے ۔ فراء (رح) فرماتے ہیں کہ عصبہ دس یا زائد کی جماعت اور بعض نے کہا ایک سے دس تک بعض نے کہا ایک سے دس تک مراد ہے اور بعض نے کہا ہے تین سے دس تک بعض نے کہا ایک دس تک مراد ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ دس سے پندرہ تک ، بعض نے دس سے چالیس تک کہا ہے بعض نے کہا کہ اس جماعت کو کہا جاتا ہے جو آپس میں متفق اور ایک دوسرے کا تعاون کرنے والی ہو۔ عصبۃ کا لفظوں میں واحد نہیں آتا۔ جیسے نفسر اور رھط کا واحد نہیں آتا۔ ” ان ابانا لفی ضلال مبین “ یعنی یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو ہم پر ترجیح دینے میں واضح غلطی پر ہیں ۔ یہاں دین سے گمراہ ہونا مراد نہیں ہے اگر وہ یہ مراد لیتے تو کافر ہوجاتے بلکہ دنیاوی تدبیر میں غلطی کرنا مراد ہے کہ ہم دنیا میں زیادہ نفع دینے والے ہیں کہ کاشت کاری کرتے ہیں جانوروں کو چرانے میں یوسف سے زیادہ ماہر اور تجربہ کار ہیں تو ہم محبت کے زیادہ لائق ہیں ، وہ ہم سے محبت پھیر کر غلطی کرنے والے ہیں۔
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالوں یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو جائیگی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے۔

یوسف (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا مشورہ کس نے دیا 9۔” اقتلوا یوسف “ اس کے قائل میں اختلاف ہے۔ 1۔ وہب (رح) فرماتے ہیں کہ شمعون نے کہا ۔ 2۔ کعب (رح) فرماتے ہیں کہ دان نے کہا۔ 3۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ک روبیل نے کہا ” او اطر حوہ ارضا “ ایسی زمین میں ڈال دو جو اس کے باپ سے دور ہو ۔ اور بعض نے کہا ایسی زمین میں کہ درندے ان کو کھا جائیں۔ ے ” یخل لکم تا کہ تم اس سے چھٹکارا حاصل کرلو اور باپ کی محبت تمہاری طرف خالصتا ً ہوجائے ” وجہ ابیکم “ یوسف (علیہ السلام) کی طرف زیادہ متوجہ ہونے سے ہٹ جائے۔ ” وتکونوا من بعدہ “ یوسف (علیہ السلام) کے قتل کے بعد توجہ ہماری طرف ہوجائے گی ۔” قوما صالحین “ توبہ کرنے والی یعنی یہ کام کرنے کے بعد توبہ کرلیں گے ، اللہ تعالیٰ گناہ معاف کردیں گے۔ مقاتل کا قول ہے کہ صالحین کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے معاملات ، باپ کے ساتھ درست ہوجائیں گے۔
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہتے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کہ کوئی راہ گیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو) ۔

تفسیر :۔ 10۔” قال قائل منھم لا تقتلوا یوسف “ یہ قائل یہوذا تھا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ روبیل تھا یہ سب بھائیوں میں بڑا اور اچھنی رائے رکھنے والا تھا اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے کہ یہ یہوذا تھا۔ اس نے قتل سے منع کیا اور کہا کہ قتل کبیرہ گناہ ہے۔” والقوہ فی غیابت الجب “ ابو علی جعفر اور نافع رحمہما اللہ نے غیابات الجب پڑھا ہے جمع کا صیغہ دونوں حرفوں میں اور باقی حضرات نے ” غیابت الجب “ واحد کاصیغہ، یعنی کنویں کے نیچے اور اس کی تاریکی میں اور ” الغیابۃ “ ہر وہ جگہ جو تجھ سے کسی چیز کو ڈھانپ لے اور غائب کر دے اور الجب وہ کنواں جس کی منڈیر نہ ہو ۔ اس لیے کہ وہ ٹوٹا ہوا ہے اور منڈیر نہیں بنائی گئی۔ ” یلتقطہ “ اس کو لے ۔ ” التقاط “ کسی چیز کا ایسی جگہ سے لینا جس کا انسان کا وہم و گما ن نہ ہو ۔ ’ بعض السیارۃ “ یعنی مسافروں میں سے کوئی اور اس کو کسی دوسری طرف لے جائیں تو تم اس سے راحت پا جائو۔ ” ان کنتم فاعلین “ اگر تم نے اپنے فعل کا پختہ ارادہ کرلیا ہے۔ وہ اس وقت بالغ تو تھے لیکن ابھی تک نبوت نہیں ملی تھی اور بعض نے کہا ہے کہ وہ بالغ نہ تھے لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ خود انہوں نے کہا ہے کہ ” وتکونوا من بعدہ قوما صالحین “ اور کہا ” یا ابانا استغفر لنا ذنوبنا “ اور بچے کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ محمد بن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے بھائیوں کا فعل کئی جرائم پر مشتمل تھا۔ اس میں قطع رحمی ، والدین کی نا فرمنی ، چھوٹے معصوم بچے پر رحم نہ کرنا ، امانت میں خیانت ، وعدہ توڑنا اور باپ سے جھوٹ بولنے جیسے جرائم داخل ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سارے گناہ معاف کردیئے تا کہ کوئی بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو اور بعض اہل علم نے فرمایا ہے کہ انہوں نے بھائی کے قتل کا ارادہ کیا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو بچایا ۔ اگر وہ ایسا کرلیتے تو سارے ہلاک ہوجاتے ۔ یہ سارے کام ان سے نبوت ملنے سے پہلے صادر ہوئے ۔ ابو عمرو بن علاء (رح) سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے یہ کیسے کہہ دیا ” نلعب “ حالانکہ وہ تو نبی تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ کام ان کی نبوت ملنے سے پہلے کے ہیں ۔ جب انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے والد سے جدا کرنے کا مشورہ کرلیا تو اس بارے میں کوئی بہانہ تلاش کرنے لگے کہ کیسے جدا کیا جائے۔
Ayah 12:11

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(یہ مشورہ کرکے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ ابا جان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اسکے خیر خواہ ہیں ؟

11۔” قالوا “ یعقوب کو ” یا ابانا مالک لا تامنا علی یوسف “ ابو جعفر نے ” تامنا “ بغیر اشمام کے پڑھا ہے اور یہی نافع سے روایت ہے اور باقی حضرات نے پیش کا پہلے مدغم نون میں اشمام کیا ہے تا کہ معلوم ہوجائے کہ اس کی اصل ” لا تامننا “ دو نون کے ساتھ ہے۔ ” تفعلنا “ کے وزن پر تو پہلے نون کو دوسرے نون میں ادغام کیا گیا ہے اس کے انکار سے ابتداء کی ہے کہ یعقوب یوسف (علیہما السلام) کو ان کے ساتھ نہ بھیجیں گے۔ گویا کہ یوں کہا ہے کہ آپ اس کو ہمارے ساتھ نہ بھیجیں گے ، کیا آپ (علیہ السلام) کو ہم سے اس کے معاملہ میں کوئی ڈر ہے ؟ ” وانا لہ لناصحون “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کلام میں تقدیم و تاخی رہے کیونکہ انہوں نے اپنے والد کو کہا تھا ” ارسلہ معنا “ تو ان کے والد نے کہا ” انی لیحزننی ان تذھبوا بہ “ تو اس وقت بیٹوں نے کہا ” یا ابانا مالک لا تامنا علی یوسف وانا لہ لناصحون “ النصح یہاں خیر خواہی کے ساتھ قائم ہونا اور بعض نے کہا ہے نیکی اور شفقت ، ہم اس پر شفیق ہیں اس کی خیر خواہی کریں گے ہم اس کی حفاظت کریں گے یہاں تک کہ ہم یوسف (علیہ السلام) کو آپس کے پاس لے آئینگے۔
Ayah 12:12

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اسکے نگہبان ہیں۔

تفسیر : 12۔” ارسلہ معنا غدا “ صحراء کی طرف بھیج دیا ” یرتع ویلعب “ ابو عمرو اور ابن عامر رحمہما اللہ نے دونوں میں نون کے جزم کے ساتھ پڑھا ہے اور ” نرتع “ میں عین کے جزم کے ساتھ اور یعقوب نے ” نرتع “ نون کے ساتھ اور ” یلعب “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور اہل کوفہ نے دونوں میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ” یرتع “ کی عین کو جزم دیا ہے یعنی یوسف (علیہ السلام) اور دیگر حضرات نے ” نرتع “ نون کے ساتھ اور ” ویعلب “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ” الرتع “ پناہ گاہ میں وسعت دینا کہا جاتا ہے ۔ ” رتع فلان فی مالہ “ جب اپنے مال کو شہوات میں خرچ کرے، مراد یہ ہے کہ ہم کھائیں اور پئیں اور کھیل کود کریں اور اہل حجاز نے ” یرتع “ عین کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ ” یفتعل ‘ ‘ کے وزن پر رعی سے ہے، پھر ابن کثیر (رح) نے دونوں میں نون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہم پہرہ دیں اور ایک دوسرے کی حفاظت کریں اور ابو جعفر اور نافع نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں خبر دیتے ہوئے یعنی جانور چریں جیسا کہ ہم کھاتے پیتے ہیں ۔” وانا لہ لحافظون “
Ayah 12:13

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جداہو جائے) اور مجھے یہ بھی خوف ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔

13۔” قال “ ان کو یعقوب (علیہ السلام) نے ” انی لیحزننی ان تذھبوا بہ “ تمہارا اس کو لے جانا مجھے غمگین کر دے گا اور الحزن یہاں محبوب کے فراق پر دل کی تکلیف ۔ ” واخاف ان یاکلہ الذنب وانتم عنہ غافلون “ کیونکہ یعقوب نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بھیڑ یے نے یوسف (علیہ السلام) پر حملہ کیا تو وہ اس سے ڈرتے تھے۔ اسی وجہ سے کہا مجھے خوف ہے کہ اس کو بھیڑ یا نہ کھاجائے۔ ابن کثیر ، اسماعیل اور قالون رحمہما اللہ نے نافع ، عاصم اور ابن عامر رحمہما اللہ نے ” الذنب “ ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ابو عمرو نے پڑھا ہے ” اذا لم یدرج “ اور حمزہ نے۔ جب وقف نہ کیا جائے اور کسائی اور روش نے نافع سے اور ابو عمرو نے اور الدرج میں اور حمزہ نے وقف میں ۔ ” الذنب “ ہمزہ کو چھوڑنے کے ساتھ کہ یہ اصل ہے اس لیے کہ یہ ان کے قول ” تذبت الریح “ سے ہے جب ہر طرف سے آئے اور ” الذنب “ کی جمع ” اذئو باوذئابا “ ہمزہ کے ساتھ اور ہمزہ کو چھوڑنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمزہ کو تخفیف کی غرض سے یاء سے تبدیل کردیا گیا ہے اس کے سکون کی وجہ سے اور ما قبل کی زیر کی وجہ سے۔
Ayah 12:14

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں اسے بھیڑ یا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑ گے۔

14۔” قالو لئن اکلہ الذنب ونحن عصبۃ “ اس افراد ہیں ” انا اذا لخاسرون ‘ ‘ کمزور اور عاجز ہوجائیں گے۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اسکو گہرے کنوئیں میں ڈال دیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کو اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور انکو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی۔

آزمائش یوسف 15۔” فلما ذھبوا بہ واجمعوا “ یعنی جب انہوں نے پختہ ارادہ کرلیا ۔ ان یجعلوہ ان کو ڈال دو ” فی غیابۃ الجب واوحینا الیہ لتنبئنھم بامر ھم ھذا وھم لا یشعرون “ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو وحی کی کہ ہم آپ کے خواب کو سچ کردکھائیں گے اور آپ کے بھائیوں کو آپ ان کے فعل کی خبر دیں گے اور ان کو اللہ کی اس وحی کی خبر ہی نہ تھی۔ مجاہد (رح) نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ کچھ عصہ کے بعد نہیں پہچانیں گے۔ جب ان کو خبر دی جائے گی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں یہ ایسا ہی ہوا کہ جب یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس داخل ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا لیکن ان بھائیوں نے ان کو نہیں پہچانا ۔ وہب اور ان کے علاوہ نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو انتہائی اکرام سے لیا اور ان کو اٹھا کرلے گئے ، پھر جب جنگل میں گئے تو ان کو سواری سے نیچے پھینک دیا اور ان کو مارنے لگے ، جب ان کو ایک مارتا تو وہ مدد کے لیے دوسرے کے پاس بھاگتے وہ بھی ان کو مارتا ۔ تو وہ سب مل کر ان کو مارتے رہے کسی کو رحم نہ آیا یہاں تک کہ وہ قتل کرنے لگے اور یوسف (علیہ السلام) رو رو کر یہ کہتے رہے کہ اے ابا جان ! اگر آپ کو معلوم ہو ائے کہ یہ لوگ آپ کے بیٹے کے ساتھ کیا کررہے ہیں تو یہوذا نے ان کو کہا کیا تم نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ اس کو قتل نہ کرو گے ؟ تو وہ یوسف (علیہ السلام) کو کنویں کے پاس لے گئے تا کہ اس میں ڈال دیں ۔ اس وقت یوسف (علیہ السلام) کی عمربارہ سال اور بعض نے کہا اٹھارہ سال تھی ۔ تو وہ راستہ سے ہٹ کر ایک ایسے کنویں پر آئے جس کا منہ تنگ اور نیچے سے وسیع تھا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) کے گھر سے تین فرسخ دور تھا ۔ کعب (رح) فرماتے ہیں کہ مدین اور مصر کے درمیان تھا اور وہب (رح) فرماتے ہیں کہ اردن کی زمین میں تھا۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ بیت المقدس کا کنواں تھا وہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کو جب کنویں میں ڈالنے لگے تو آپ (علیہ السلام) کنویں کی منڈیر سے چمٹ گئے تو انہوں نے آپ (علیہ السلام) کے ہاتھ باندھ دیئے اور قمیض اتار لی ۔ تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ اے بھائیو ! میری قمیص تو واپس کر دو کہ میں جسم چھپا لوں ، تو انہوں نے کہا سورج اور چاند اور ستاروں کو بلا کر وہ تجھے چھپا لیں اور ان کو کنویں میں ڈال دیا اور بعض نے کہا ہے کہ ڈول میں بٹھا کر نیچے اتار دیا ۔ جب آدھے کنویں تک پہنچے تو رسی چھوڑ دی تا کہ وہ چوٹ لگنے سے مرجائیں لیکن کنوئیں میں پانی تھا۔ یوسف (علیہ السلام) اس میں گرگئے پھر وہیں ایک پتھر تھا اس پر کھڑے ہوگئے اور بعض نے کہا ہے کہ جب نیچے ڈال دیا تو یوسف (علیہ السلام) رونے لگے تو انہوں نے آواز دی یوسف (علیہ السلام) سمجھے کہ ان کو یوسف (علیہ السلام) پر رحم آگیا ہے اس لیے آپ نے آواز دی اوپر سے ، انہوں نے پتھر مار کر کچلنے کی کوشش کی تو یہوذ ا نے ان کو روک دیا اور یہوذا روزانہ ان کے پاس کھانا لاتا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) اس کنویں میں تین رات رہے۔ ” واوحینا الیہ لتنبئنھم “ اور اکثر حضرات کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی طرف اس کی وحی کی اور ان کی طرف جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا جو ان کا جی بہلائیں اور نکلنے کی خوشخبری دیں اور یہ خبر دیں کہ یوسف (علیہ السلام) ان کو ان کے فعل کی خبر دیں گے اور اس کی جزاء دیں گے اور ان کو شعور نہ ہوگا ۔ ابنا عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پھر انہوں نے بکری کا بچہ ذبح کر کے اس کا خون یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پر لگا دیا۔
Ayah 12:16

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

تفسیر 16۔” وجائو اباھم عشاء یبکون “ اہل معانی فرماتے ہیں کہ وہ لوگ رات کی تاریکی میں آئے تا کہ جھوٹے عذر پر زیادہ جرأت کرسکیں اور روایت کیا گیا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے جب ان کی چیخ و پکار اور واویلا سنا تو گھر سے نکلے اور پوچھا اے میرے بیٹو ! کیا بکریوں کا کوئی نقصان ہوگیا ؟ انہوں نے کہا نہیں ، کہا کہ پھر کیا تکلیف پہنچی ہے ؟ اور یوسف (علیہ السلام) کہاں ہے ؟
Ayah 12:17

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو دوڑ نے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔ تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے۔

17۔” قالوا یا ابانا انا ذھبنا نستبق “ ہم تیر اندازی کرنے لگ گئے اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے پیدل دوڑ لگائی ” وترکنا یوسف عند متاعنا “ ہمارے کپڑوں وغیرہ کے پاس ان کو چھوڑا ” فاکلہ الذئب وما انت بمؤمن لنا “ آپ ہماری تصدیق کرنے والے نہیں ” ولو کنا “ اگرچہ ہم ہیں ” صادقین “ اگر یہ اعتراض ہو کہ انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) پر کیسے تہمت لگا دی کہ آپ (علیہ السلام) سچے کی تصدیق نہ کریں گے ’ تو جواب یہ ہے کہ مطلب یہ ہے کہ آپ اس معاملہ میں ہمیں متہم سمجھیں گے کیونکہ ابتداء میں ہی آپ کو ہم سے خوف اور آپ (علیہ السلام) اس کے حق میں ہم پر اعتمادنہ کر رہے تھے اور بعض نے کہا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ آپ ہماری تصدیق نہ کریں گے کیونکہ ہماری سچائی پر کوئی دلیل نہیں ہے ، اگرچہ ہم اللہ کے ہاں سچے ہیں ۔
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا حقیقت الحال یوں نہیں تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو اچھا صبر اور وہی خوب ہے اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے۔

18۔” وجاوا علی قمیصہ بدم کذب “ جھوٹا خون اس لیے کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کا خون نہ تھا۔ قمیص یوسف اور ام کذب اور بعض نے کہا ہے ایسے خون کے ساتھ جس میں جھوٹ بولا گیا تو مصدر کو اسم کی جگہ رکھا گیا ہے۔ ان لوگوں نے قمیص کو خو ن سے لت پت کردیا تھا لیکن اس کو پھاڑا نہ تھا تو یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ بھیڑیے نے یوسف (علیہ السلام) کو کیسے کھایا ہے کہ قمیص بالکل نہیں پھٹی تو ان کو متہم سمجھا۔ ” قال بل سولت “ مزین کیا ہے ” لکم انفسکم امر فصبرجمیل “ معنی یہ ہے کہ میرا معاملہ جمیل ہے یا مجھ پر صبر جمیل لازم ہے۔” واللہ المستعان علی ما تصفون “ یعنی میں صبر پر اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں ، صبر جمیل وہ صبر جس میں کوئی شکوہ اور واویلا نہ ہو ۔ وہ لوگ ایک بھیڑیا بھی پکڑ لائے کہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کو کھایا ہے تو یعقوب (علیہ السلام) نے پوچھا کہ اے بھیڑیے تو نے میرے بیٹے اور میرے دل کے ٹکڑے کو کھایا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی قوت گویائی دی تو اس نے عرض کیا اللہ کی قسم ! ا میں نے آپ (علیہ السلام) کے بیٹے کا چہرہ بھی کبھی نہیں دیکھا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے پوچھا تو کنعان کی زمین میں کیا کرنے آیا ہوا ہے ؟ سا نے کہا میں رشتہ داروں کے پاس آیا ہوا تھا ، ان لوگوں نے مجھے شکار کرلیا الحاصل یوسف (علیہ السلام) کنویں میں تین دن رہے۔
Ayah 12:19

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

(اب خدا کی شان دیکھو) کہ اس (کنوئیں) کے قریب ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لئے) اپنا سقا بھیجا اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اسکو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپالیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا۔

معجزہ یوسف ۔۔۔۔ یوسف کی برکت سے کھارا پانی میٹھاہو گیا۔ تفسیر 19۔” وجاء ت سیارۃ “ یہ مسافر لوگ تھے۔ یہ زمین میں سیر کرتے ہیں اس لیے ان کو سیارہ کہا گیا ہے۔ یہ مدین کے لوگ تھے مصر جا رہے تھے ، راستہ بھول گئے اور اس کنویں کے قریب پڑائو ڈالا یہ کنواں آبادی سے دور تھا اس کا پانی کھارا تھا، جب یوسف (علیہ السلام) کو اس میں ڈالا گیا تو پانی میٹھا ہوگیا ۔ ان لوگوں نے اپنا ایک آدمی جس کا نام مالک بن ذعر تھا پانی تلاش کرنے بھیجا۔ پس یہی مطلب ہے اللہ کے قول ” فارسلوا واردھم “ واردو وہ شخص جو اپنے ساتھیوں سے پانی پر پہلے پہنچے ، اس نے رسیاں اور ڈول سنبھالے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو حسن اپنی دادی سارہ سے وراثت میں ملا ” فادلیٰ دلوہ “ اس کو کنویں میں ڈال دیا تو یوسف (علیہ السلام) رسی کو چمٹ گئے ، جب مالک نے ڈول نکالا تو وہ بڑا خوبصورت لڑکا تھا ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) کو حسن کا نصف حصہ دیا گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ یہ حسن یوسف (علیہ السلام) کو اپنی دادی سارہ سے وراثت میں ملا تھا ان کو حسن کا چھٹا حصہ دیا گیا تھا اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حسن کے دو ثلث لے گئے۔ جب مالک بن ذعر نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا ” قال یا بشری “ اکثر حضرات نے الف اور یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور وجہ یہ ہے کہ بشریٰ یاء متکلم کی طرف مضاف ہے اور یہ منادی مضاف ہے۔ اس کی جگہ نصب ہے اور کوفی حضرات نے ” یا بشری “ یاء اضافت کے بغیر پڑھا ہے اور حمزہ اور کسائی رحمہما نے راء کا امالہ کیا ہے اور عاصم نے اس کو زبردی ہے اور اس کو یاء متکلم سے الگ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بشریٰ یہاں نکرہ ہے تو اس کو نکرہ کی طرح ندا کی ہے جیسے تیسرا قول ” یا راجلا ً ویا راکبا “ جب تو نے نداء کو عام بنادیا ہے تو اس کی جگہ نصب ہے تنوین کے ساتھ مگر فعلی کے وزن میں تنوین کا راستہ نہیں ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ بشری منادی ہو ارادہ سے معرفہ بنا ہو۔ جیسے ” یا رجل نادی المستقی رجلا من اصحابہ اسمہ بشری فنکنو بشر ی فی موضع رفع و قیل بشر المستقی اصحابہ یقول ابشروا “ ھذا غلام “۔ ابن مجاہد (رح) نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ کنویں کی دیواریں جب یوسف (علیہ السلام) کو نکالا گیا تو رونے لگیں۔” واسروہ بضاعۃ “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مالک بن ذعر اور اس کے تاجر ساتھیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو چھپالیا اور کہنے لگے کہ یہ پونجی ہے اس کو چھپالیا تا کہ دوسرے قافلہ والے ان سے شرکت کا مطالبہ نہ کریں اور بعض نے کہا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ان کی اصلیت چھپالی اور کہنے لگے کہ یہ ہمارا غلام ہے جو بھاگ گیا تھا۔” واللہ علیم بما یعملون “ پھر یہوذا یوسف (علیہ السلام) کے پاس کھانا لایا لیکن آپ (علیہ السلام) کنویں میں نہ تھے تو اس نے دوسرے بھائیوں کو بتایا سب نے مل کر تلاش کیا تو مالک اور اس کے ساتھیوں تک پہنچ گئے ، ان کے پاس یوسف (علیہ السلام) تھے۔ تفسیر :۔ تو ان کو کہا کہ یہ ہمارا بھگوڑا غلام ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو دھمکیاں دیں تو انہوں نے بھی یہی بات کہی، پھر انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو بیچ دیا ، پس یہی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان۔
Ayah 12:20

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور اسکو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدو دے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انھیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ بھی نہ تھا۔

خریدار یوسف اور ان کے سکے 20۔” وشروہ “ یعنی انہوں نیب بیچ دیا ۔” بثمن بخس “ ضحاک ، مقاتل اور سدی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ بمعنی حرام ہے اس لیے کہ آزاد کی قیمت حرام ہے اور حرام نام بخس رکھا گیا ہے اس لیے کہ اس میں برکت نہیں ہوتی اور ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ نہ سے روایت ہے بخس بمعنی کھوٹے ۔ اور عکرمہ اور شعبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ تھوڑی سی قیمت کے بدلے ۔ ” دراھم “ یہ ثمن سے بدل ہے۔” معدودۃ “ یہاں عدد کا ذکر عبارت ہے ان کے کم ہونے سے اور بعض نے کہا ہے کہ ” معدودۃ “ اس وجہ سے کہا ہے کہ اس زمانے میں وہ لوگ چالیس درہم سے کم کا وزن نہ کرتے تھے ان کو گنتے تھے جب ایک اوقیہ ہوجاتے تو وز ن کرتے۔ ان دراہم کے عدد میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ، ابن مسعودؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ بیس درہم تھے ان سب کو دو دو درہم آئے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بارہ درہم تھے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ چالیس درہم تھے۔ ” وکانوا ‘ ‘ یعنی یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ” فیہ “ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ” من الزاھدین ‘ ‘ اس لیے کہ ان کو یوسف (علیہ السلام) کا عند اللہ مرتبہ معلوم نہ تھا اور بعض نے کہا ہے کہ ثمن سے بےرغبت تھے کیونکہ ان کا مقصد قیمت حاصل کرنا نہ تھا ان کا مقصد تو یوسف (علیہ السلام) کو ان کے والد سے دور کرنا تھا۔ پھر مالک بن ذعر اور اس کے ساتھی چلے گئے ان کے پیچھے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی گئے اور کہنے لگے کہ اس کو مضبوط باندھ دو ، یہ بھاگ نہ جائے تو وہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کو مصر لے گئے، وہاں مالک نے یوسف (علیہ السلام) کو بیچنے کے لیے پیش کردیا ۔ ابن عباس ؓ کے قول میں ان کو قطفیر نے خریدا ۔ یہ مصر کے خزانوں کا نگران اور بادشاہ کا معتمد تھا ، اس کو عزیر کہا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں مصر اور اس کے اطراف کا بادشاہ قوم عمالقہ کا شخص ریان بن ولید بن شروان تھا اور کہا گیا ہے کہ یہ بادشاہ یوسف (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا تھا اور یوسف (علیہ السلام) کی اتباع کی تھی ۔ پھر یوسف (علیہ السلام) کی زندگی میں مرگیا ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب وہ مصر میں داخل ہوئے تو قطفیر کی مالک سے ملاقات ہوئی تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کو بیس دینار ایک جوڑی جوتوں کی اور دو سفید کپڑوں کے عوض خرید لیا ۔ وہب بن منبہ (رح) فرماتے ہیں کہ جب مسافر مصر آئے تو بازار میں یوسف (علیہ السلام) کو بیچنے کیلئے پیش کیا تو اتنی بولی لگی کہ آپ (علیہ السلام) کی قیمت آپ (علیہ السلام) کے وزن سونا اور چاندی اور کستوری اور ریشم بنی ۔ اس وقت یوسف (علیہ السلام) کا وزن چار سورطل تھا اور عمرہ تیرہ سال تھی تو قطفیر نے مالک بن ذعر سے اس قیمت پر یوسف (علیہ السلام) کو خرید لیا ۔ پس یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان۔
Ayah 12:21

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہ اس کو عزت و اکرام سے رکھو ' عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سر زمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

مصر میں یوسف کے خریدار 21۔” وقال الذین اشتراہ من مصر لا مراتہ “ اس کا نام راعیل تھا اور بعض نے کہا کہ زلیخا تھا۔ ” اکرمی مثواہ “ یعنی ان کا کھانا پینا ، پہننا ، رہائش وغیرہ اور بعض نے کہا ہے کھانے ، پہننے ، رہائش میں اس کا اکرام کر ، اور قتادہ اور ابن جریج رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے رہنے کی جگہ ان کا اکرام کرو۔ ” عسیٰ ان ینفعنا ‘ ‘ ہم اس کو نفع کے ساتھ بیچ دیں ۔ اگر بیچنے کا ارادہ ہو یا جب ہمارے کچھ کام کرلیں ۔ ” او نتخذہ ولدا ‘ ‘ یعنی ہم اس کو متنبی بنالیں۔ تین اشخاص بڑے فہم و فراست ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تین لوگ بڑے فراست والے تھے۔ ایک عزیز جس نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کہا ” اکرمی مثواہ عسیٰ ان ینفعنا “ اور شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے والد کو ” یا ابت استاجرہ “ کہا۔ اور ابوبکر ؓ بڑے فراست والے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمر ؓ کو خلیفہ بنایا ۔ ” وجذلک مکنا لیوسف فی الارض “ یعنی مصر کی زمین میں ۔ جس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو قتل سے نجات دی اور کنویں سے نکالا اسی طرح ہم نے ان کو زمین میں صر میں قدرت دی اور ان کو اس کے خزانوں کا نگران بنایا ۔ ” ولنعلمہ من تاویل الاحادیث “ یعنی ہم نے ان کو زمین میں قدرت دی تھی تا کہ ہم ان کو خوابوں کی تعبیر بتائیں ۔ ” واللہ غالب علی امرہ “ بعض نے کہا ہے کہ ھاء اس کے امر میں اللہ تعالیٰ سے کنایہ ہے۔ فرماتے ہیں بیشک اللہ اپنے امر پر غالب ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اس پر کوئی چیز غالب نہیں ہے اور اس پر کسی رد کرنے والے کا حکم رد نہ کیا جائے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ یوسف (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہا ہے۔ اس کا معنی بیشک اللہ یوسف (علیہ السلام) کے امر پر غالب ہے تدبیر کے ساتھ اس کو کسی کے سپرد نہ کرے گا یہاں تک کہ اس کو ان کے علم کی انتہائی تک پہنچا دے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون “ کہ اللہ کیا کرنے والے ہیں۔
Ayah 12:22

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکو کاروں کو ہم اسی طرح بدلا دیا کرتے ہیں۔

بلغ اشد کی تفسیر تفسیر 22۔” ولما بلغ اشدہ “ اپنی جوانی کی انتہاء اور قوت کو جب پہنچ گئے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تینتیس سال کی عمر ہوتی ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ تیس سال اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ بیس سال اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اٹھارہ سے تیس سال تک۔ اور مالک سے (اشدہ) کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا بالغ ہونا ۔ ” آتیناہ حکما و علما “ حکم سے مراد نبوت اور علم سے فقہ فی الدین اور بعض نے کہا حکما یعنی قوم کی دستگی اور علم یعنی خواب کی تعبیر اور بعض نے کہا ہے کہ عالم اور حکیم میں فرق یہ ہے کہ عالم وہ ہے جو اشیاء کو جانتا ہو اور حکیم وہ ہے جو اپنے علم کے مقتضاء پر عمل کرتا ہو ۔ ” وکذالک نجزی المحسنین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مؤمنین کو اور انہی سے یہ بھی روایت ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں کو اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو جیسے یوسف (علیہ السلام) نے صبر کیا۔
Ayah 12:23

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے انکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یو سف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے وہ (یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔

23۔” ورادتہ التی ھو فی بیتھا عن نفسہ ‘ ‘ یعنی عزیز کی بیوی نے اور مراودۃ فعل کو طلب کرنا اور یہاں مراد یہ ہے کہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف بلایا تا کہ وہ اس سے جماع کریں۔” وغلقت الابواب “ یعنی ان کو بند کردیا ، سات دروازے تھے۔ ہیت کی مختلف قراتیں ” وقالت ھیت لک “ یعنی آ اور متوجہ ہو ، اہل کوفہ اور بصرہ نے ” ھیت لک “ ھاء اور تاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور اہل مدینہ اور اہل شام نے ’ ’ ھیت “ ھاء کی زیر اور تاء کے زبر کے ساتھ اور ابن کئیر نے ” ھیت “ ھاء کے زبر اور تاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور وجہ یہ ہے کہ اس کلمہ میں تین لغتیں ہیں ۔ ’ ’ ھیت وھیت و ھیت “ اور سارے ھلم بعنی ادھر آ ، کے معنی میں ہیں اور سلمیٰ اور قتادہ رحمہما اللہ نے ” ھیت لک “ ھاء کی زیر اور تاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ مہمورز جئت کی مثال پر ، یعنی میں آپ کے لیے تیار ہو اور اور ابو عمرو اور کسائی رحمہما اللہ نے اس کا انکار کیا ہے اور ان دونوں نے کہا ہے کہ یہ عرب سے منقول نہیں ہے اور پہلا عرب کے ہاں مشہور ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں مجھے نبی کریم ﷺ نے ” ھیت لک “ پڑھایا تھا۔ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کسائی کہتے تھے یہ اہل حوران کی لغت ہے جو حجاز میں واقع ہوئی ہے اس کا معنی ہے ادھر آ اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں : بھی حورانیہ میں ھلم ہے۔ مجاہد اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ یہ عربی لغت ہے یہ کلمہ کسی کام پر ابھارنے اور کسی چیز پر متوجہ کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں عرب ” ھیت “ کو تنبیہ اور جمع نہیں پڑھتے اور مؤنث پڑھتے ہیں اور یہ ہر حال میں واحد کی صورت میں ہے۔ ” قال “ یوسف (علیہ السلام) نے اس کو اس وقت کہا ” معاذ اللہ “ یعنی میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور اللہ سے حفاظت مانگتا ہوں اس کام سے جس کی طرف تو مجھے بلا رہی ہے۔” انہ ربی “ یعنی تیرا خاوند قطفیر میرا سید ہے۔ احسن مثنوی کی دو تفسیریں ’ ’ احسن مثوای “ میرا ٹھکانہ اچھا کیا ۔ یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ھاء اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ میرا رب ہے اس نے میرا ٹھکانہ اچھا کیا ہے ، یعنی مجھے ٹھکانہ دیا اور کنویں کی مصیبتوں سے مجھے عافیت دی ۔ ” انہ لا یفلح الظالمون “ یعنی اگر میں نے یہ کام کیا اور اس کے گھر والوں میں خیانت کی اس کے اچھا ٹھکانہ دینے کے بعد تو میں ظالم ہوں گا اور ظالم فلاں نہیں پاتے اور بعض نے کہا کہ ظالم سے زانی مراد ہیں ، یعنی نیک بخت نہیں ہوتے۔
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے انکا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا اور اگر وہ پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لئے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے۔

ھمت بہ وھم بھا کی تفسیر تفسیر : 24۔” ولقد ھمت بہ وھم بھا “۔۔۔” ھم “ بمعنی فعل کے قریب ہونا لیکن اس میں داخل نہ ہونا ، پس اس عورت کا ” ھم “ اس کا معصیت اور زنا کا پختہ ارادہ تھا اور بہر حال یوسف (علیہ السلام) کا ” ھم “ تو ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنا کمر بند کھول لیا تھا اور خائن کی جگہ بیٹھ چکے تھے اور مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ اپنی شلوار کھول لی تھی اور کپڑے اتارنے لگے تھے اور یہ اکثر متقدمین مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے جیسے سعید بن جبیر (رح) ، حسن اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ شیطان ان دونوں کے درمیان جاری ہوچکا تھا۔ پس اس نے ایک ہاتھ یوسف (علیہ السلام) کی گردن پر اور دوسرا ہاتھ اس عورت کی گردن پر مارکر ان دونوں کو جمع کردیا ۔ ابو عبیدہ قاسم بن سلام (رح) فرماتے ہیں کہ ایک قوم نے اس قول کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بات انبیاء علہیم السلام کے حال کے مناسب نہیں ہے اور قول وہی جو اس امت کے مقتدمین نے کہا ہے اور وہ زیادہ جاننے والے تھے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں بغیر علم کے کوئی بات کہیں اور سدی اور اسحاق رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب عزیز کی بیوی نے یوسف (علیہ السلام) کو پھسلانے کا ارادہ کیا تو ان کی خوبیاں بیان کرنے لگی اور اپنی طرف شوق دلانے لگی ۔ پس کہنے لگی اے یوسف ! آپ کے بال کتنے اچھے ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ یہ میرے جسم سے سب سے پہلے جھڑیں گے تو وہ کہنے لگی کہ آپ کی آنکھیں کتنی اچھی ہیں ، یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میری قبر میں یہ سب سے پہلے میرے چہرے پر بہیں گی ۔ کہنے لگی آپ کا چہرہ کتنا خوبصورت ہے ، یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ یہ مٹی کے لیے وہ اس کو کھائے گی ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اس نے کہا کہ ریشم کا بستر بچھا ہوا ہے پس آپ اس پر لیٹ کر اپنی ضرورت پوری کرلیں ۔ یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ تب تو میرا جنت کا حصہ چلا جائے گا تو وہ ان کو لالچ ڈرہی اور یوسف (علیہ السلام) بھر پور نوجوان تھے۔ آپ کے بھی وہی جذبات تھے جو ایک نوجوان کے ہوسکتے ہیں اور وہ بڑی خوبصورت عورت تھی حتیٰ کہ یوسف (علیہ السلام) بھی تھوڑے ترم ہونے لگے اور ارادہ کرنے ہی لگے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی کی اس برہان سے دستگیری کی جس کا قرآن میں تذکرہ ہے اور بعض متاخرین کا گمان ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے حال کے مناسب نہیں ہے اور انہوں نے فرمایا کہ کلام ” ولقد ھمت بہ “ پر مکمل ہوچکی ہے ۔ پھر یوسف (علیہ السلام) کی خبردینے کے لئے نئی کلام لائے اور فرمایا ” وھم بھا لولا ان رای برھان ربہ ‘ ‘ اس میں بھی تقدیم و تاخیر ہے۔ یعنی ” لو لا ان رای برھان ربہ لھم بھا “ لیکن انہوں نے برہان دیکھ لی اس لیے ارادہ نہیں کیا اور نحویوں نے متاخرین کی اس توجیہ کا انکار کیا ہے کہ عرب ” لولا “ کو فعل سے مؤخر نہیں کرتے اس لیے جس شخص کا ارادہ کہنے کا ہو ” لو لا زید لقمت “ تو وہ یہ نہیں کہتا ” لقد قمت لولا زید “ اور بعض نے کہا ہے اس نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں یہ ارادہ کیا کہ وہ اس کو بچھونا بنالیں اور یوسف (علیہ السلام) نے اس کا ارادہ کیا یعنی یہ تمنا کی کہ وہ ان کی بیوی ہوتی اور یہ تاویل اور اس کی مثل دیگر تاویلات پسندیدہ نہیں ہیں کیونکہ یہ ان متقدمین علماء کے اقوال کے خلاف ہیں جن سے علم اور دین حاصل کیا گیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ جو کا م یوسف (علیہ السلام) نے کہا تھا یہ صغائر میں سے ہے اور صغائر انبیاء (علیہم السلام) سے ممکن ہیں اور روایت کیا گیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) جب قید سے نکل بادشاہ پر داخل ہوئے اور عورت نے بھی اقرار کرلیا تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ تو جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کو کہا کہ اس وقت بھی خیانت نہ کی تھی جب آپ نے اس عورت کا ارادہ کرلیا تھا اے یوسف (علیہ السلام) ؟ تویوسف (علیہ السلام) نے اس وقت کہا ” وما ابری نفسی “ آلایۃ۔ اور حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علہیم السلام کے ذنوب قرآن مجید میں ان کو عار دلانے کے لیے نہیں بیان کیے بلکہ ان کو اس لیے ذکر کیا ان پر اپنی نعمت کے مواقع کو بیان کردیں اور تا کہ کوئی شخص بھی اپنے رب کی رحمت سے ناامید نہ ہو اور بعض نے کہا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو ذنوب ( خلاف اولیٰ کاموں) میں مبتلا کیا تا کہ وہ تنہا طہارت اور عزت والا رہے اور قیامت کے دن تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کو معصیت کی وجہ سے انکساری کے ساتھ ملے اور بعض نے کہا ہے کہ تا کہ ان کو اہل ذنوب کا مقتداء بنا دے کہ وہ بھی رحمت کی امید رکھیں اور مغفرت اور معافی سے نا امیدی چھوڑ دیں اور بعض اہل حقائق رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ ” ھم “ دو قسم کے ہیں (1)” ھم “ جو ثابت ہوا اور وہ جب اس کے ساتھ پختہ ارادہ اور رضا مندی ہو جیسے عزیز کی بیوی کا ” ھم “ اور اس ” ھم “ پر بندہ سے مواخذہ ہوگا اور دوسرا ” ھم “ عارض ۔ اور یہ خطرہ اور دل میں خیال آنا ہے جس میں نہ اختیار ہوتا ہے اور نہ پختہ ارادہ، جیسے یوسف (علیہ السلام) کا ” ھم “ اور بندہ سے اس ” ھم “ پر مواخذہ نہ ہوگا جب تک اس کا تکلم نہ کرلیں یا اس کے مطابق عمل نہ کرے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب بندہ یہ خیال کرتا ہے کہ میں نیکی کروں گا تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہوں جب تک عمل نہ کرے پھر جب وہ اس کو کرلیتا ہے تو میں اس کے لیے اس کی نیکی کی دس مثل لکھتا ہوں اور جب دل میں خیال کرتا ہے کہ کوئی برائی کا کام کرے گا تو میں اس کو بخشتا جب تک وہ اس کام کو نہ کرلے ، پھر جب وہ کام کرلیتا ہے تو میں اس کے لیے اس کی مثل گناہ لاکھ لیتا ہوں۔ برہان سے کیا مراد ہے ؟ ” لولا ان رای برھان ربہ “ اس برہان میں اختلاف ہے۔ 1۔ قتادہ اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) کی صورت دیکھ لی تھی ، وہ آپ (علیہ السلام) کو کہہ رہے تھے اے یوسف (علیہ السلام) تو بیوقوفوں والا کام کر رہا ہے حالانکہ تیرا نام انبیاء (علیہم السلام) میں لکھا ہوا ہے۔ 2۔ حسن ، سعید بن جبیر ، مجاہد ، عکرمہ اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کے لیے گھر کی چھت پھٹ گئی تو یعقوب (علیہ السلام) کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی انگلی کو دانتوں میں دبایا ہوا ہے۔ 3۔ سعید بن جبیر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان کے لیے یعقوب (علیہ السلام) کی شکل بنادی گئی تو آپ (علیہ السلام) کے سینہ پر ہاتھ مارا تو شہوت آپ (علیہ السلام) کی انگلیوں کے پوروں سے نکل گئی۔ 4۔ سدی (رح) کا قول ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو غیبی آواز آئی یوسف تو جب تک اس پر نہیں پڑا ۔ تیری حالت اس پرندے کی طرح ہے جو ہوا میں اڑرہا ہو اور اس کی کوئی پکڑ نہ سکتا ہو اور جب تو اس میں پڑجائے گا تو تیری حالت اس پرندے کی طرح ہوجائے گی جو مرکر زمین پر گرگیا ہو کہ کسی چیز کو دفع نہ کرسکتا ہو ۔ قبل از وقوع تیری حالت اس سرکش بیل کی طرح ہے جو کسی کے قابو میں نہ آسکتا ہو اور وقوع کے بعد تیری حالت اس بیل کی طرح ہوجائے گی جو مردہ پڑا ہوا اور اس کی سینگوں کی جڑوں میں چیونٹیاں گھس رہی ہیں اور وہ کسی کو دفع نہ کرسکتا ہو۔ 5۔ مجاہد (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” وھم بھا “ کی تفسیر میں کہ آپ (علیہ السلام) نے شلوار کھول لی اور اس جگہ بیٹھ گئے جہاں کی آدمی عورت کے لیے بیٹھتا ہے تو اچانک ایک ہتھیلی بغیر بازو اور جوڑ کے ظاہرہوئی اس پر لکھا ہوا تھا ” وان علیکم لحافظین کراما ً کاتبین یعلمون ماتفعلون “ تو آپ (علیہ السلام) خوف سے کھڑے ہوگئے اور وہ بھی کھڑی ہوگئی۔ پھر جب ان دونوں سے رعب ختم ہوگیا تو دونوں دوبارہ لوٹے تو پھر وہ ہتھیلی ظاہر ہوئی جس پر لکھا ہوا تھا کہ ” ولا تقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ وساء سبیلاً “ تو گھبرا کر کھڑے ہوگئے اور وہ بھی کھڑی ہوگئی ۔ پھر جب دونوں سے رعب جاتا رہا تو دوبارہ لوٹے تو وہی ہاتھ ظاہر ہوا ، اس پر لکھا ہوا دیکھا ” واتقوایوما ترجعون فیہ الی اللہ “ تو گھبرا کر کھڑے ہوگئے وہ بھی کھڑی ہوگئی ۔ پھر جب دونوں سے رعب جاتا رہا تو دونوں لوٹے تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو فرمایا کہ میرے بندے کو گناہ میں پڑنے سے پہلے پکڑ لو تو جبرئیل (علیہ السلام) اپنی انگلیوں کو دانتوں میں دبائے ہوئے نیچے اترے اور ک ہنے لگے اے یوسف (علیہ السلام) آپ بیوقوفوں والا عمل کر رہے ہیں حالانکہ آپ (علیہ السلام) کا نام انبیاء میں لکھا ہوا ہے۔ 6۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنا پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بدن سے لگا دیا جس کی وجہ سے سارا جوش انگلیوں کے پوروں سے نکل گیا ۔ محمد بن کعب قرظی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب ارادہ کیا اور چھت کی طرف سر اٹھایا تو کسی دیوار پر لکھا ہوا دیکھا ۔ ” لا تقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا ً “۔ 7۔ عطیہ نے ابن عباس ؓ کا قول ” برہان رب “ کے متعلق نقل کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرشتے کی صورت دیکھ لی تھی۔ 8۔ جعفر بن محمد الصادق ؓ نے فرمایا کہ برہان سے مراد وہ نبوت ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینے میں ودیعت رکھی تھی وہ اللہ تعالیٰ نے اور ان کے درمیان حائل ہوگئی۔ 9۔ اور علی بن حسین (رح) سے روایت ہے کہ کمرہ میں بت تھا، اس عورت نے اس کو کپڑے سے ڈھانپ دیا تو یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا تو نے یہ کیوں کیا ؟ اس نے کہا مجھے اس سے حیاء آتی ہے کہ یہ مجھے کسی گناہ میں دیکھے۔ تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا تو اس سے حیاء کرتی ہے جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ سمجھتا ہے ؟ تو میں تو زیادہ حق دار ہوں کہ میں اپنے رب سے حیاء کروں اور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔” لولا ان رای برھان ربہ “۔۔۔۔۔۔ ” لولا “ کا جواب محذوف ہے یعنی اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتے تو معصیت میں واقع ہوجاتے۔ سوء اور فحشاء کی تفسیر ” کذلک لنصرف عنہ السوء و الفحشائ “ ” السوئ “ گناہ اور بعض نے کہا ہے ” السوء “ براکام اور ” الفحشائ “ بمعنی زنا ہے۔ ” انہ من عبادنا المخلصلین “ اہل مدینہ اور اہل کوفہ نے ” المخلصین “ لام کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے جہاں بھی ہو جب اس کے بعد ” الدین “ کا لفظ نہ ہو ۔ کو فیوں نے ” مخلصا “ سورة مریم (علیہما السلام) میں زیادہ کیا ہے۔ پس انہوں نے فتحہ دیا ہے اور ” المخلصین “ کا معنی نبوت کے لیے چنے ہوئے ۔ اس کی دلیل ” انا اخلصنا بخالصۃ ذکری الدار “ اور دیگر حضرات نے لام کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی طاعت اور عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرنے والے ہیں۔
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا۔ تو عورت بو لی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اسکی اسکے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے ؟

تفسیر 25۔” واستبقا الباب “ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے رب کی دلیل دیکھی تو دروازے کی طرف دوڑے اور وہ عورت بھی آپ (علیہ السلام) کو پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگی تا کہ یوسف (علیہ السلام) باہر نہ نکل سکیں ۔ یوسف (علیہ السلام) آگے بڑھے اور عورت نے آپ (علیہ السلام) کو پکڑ لیا اور پیچھے سے ان کی قمیص کو چمٹ گئی تو زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف کھینچا تا کہ وہ باہر نہ نکل سکیں ۔” وقدت قمیصہ من دبروالفیا سیدھا لدی الباب ‘ ‘ یعنی اس عورت کا خاوند قطفیر دروازے کے پاس راعیل کے چچا کے لڑکے کے ساتھ بیٹھا تھا تو اس کو دیکھ کر ڈر گئی اور ” قالت “ اپنے خاوند کو جلدی سے کہتے ہوئے۔” ما جزاء من اراد باھلک سوا “ سوء سے مراد زنا ، پھر اس کو ڈر ہوا کہ کہیں یوسف (علیہ السلام) کو قتل ہی نہ کر دے تو کہنے لگی ” الا ان یسبحن “ قید کیا جائے ” او عذاب الیم “ کوڑوں کو مار جب یوسف (علیہ السلام) نے اس کی یہ بات سنی تو فرمایا۔