Ayah 13:1تفسیر : 1۔” المر “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے کہ میں اللہ ہوں جانتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔” تلک “ آیات ” الکتاب “ وہ خبریں جو آپ کے سامنے بیان کی گئی ہیں اور وہ آیات ( نشانیاں) تورات ، انجیل اور ما قبل کتابوں میں گزر چکی ہیں ۔ ” والذین انزل الیک “ یہ قرآن جو آپ پر نازل کیا گیا ۔” من ربک الحق “ یہ حق ہے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو ۔ یہ عبارت اس طرح تھی ۔ ’ ’ وھو الحق فاعتصم بہ “ اس صورت میں یہ محل رفع میں واقع ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور ” والحق “ اس کی خبر ہے اور بعض نے کہا کہ یہ حالت نصب میں واقع ہے۔ اس صورت میں عبارت یوں ہوگی ۔ ” تلک “ آیات ” الکتاب وآیات الذین انزل الیک “ اور وہ آیات جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہیں ۔ پھر حق کو ابتداء میں لے کر آئے عبارت یہ ہوئی ۔ ” ذلک الحق “ ابن عبارس ؓ کا قول ہے کہ کتاب سے مراد قرآن ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ یہ قرآن کی نشانیاں ہیں ۔ آیت کا مطلب یہ بنے گا کہ یہ قرآن جو آپ کی طرف نازل کیا گیا تمہارے رب کی طرف سے وہ حق ہے ” ولکن اکثر الناس لا یومنون “ مقاتل کا قول ہے کہ یہ مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے کہا کہ محمد اپنی طرف سے کہتے ہیں ان کے قول کی تردید کی ، پھر ربوبیت کے دلائل ذکر کیے اور ارشاد فرمایا۔
Ayah 13:22۔” اللہ الذی رفع السموات بغیر عمد ترونھا “ اس کا معنی ستون ہے اس کا مفرد عمود آتا ہے۔ جیسے ادیم جمع ہے ادم کی ۔ اسی طرح عمد ہے جیسے رسول کی جمع رسل ہے۔ معنی یہ ہے کہ آسمان بغیر ستونوں کے بنایا گیا ہے۔ یہی صحیح ہے۔ آسمان کے نہ کوئی ستون ہیں جن پر وہ کھڑا ہے اور نہ ہی اس کے اوپر کوئی چیز ہے جس سے باندھ کر اس کو لٹکا یا گیا ہو ۔ ایاس بن معاویہ کا قول ہے ۔ آسمان زمین کو ڈھانپے ہوئے ہے مثل ” قبہ “ کے ، بعض نے کہا کہ ” ترونھا “ راجع ہے عمد کی طرف ۔ اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ اس کے ستون ہیں لیکن نظر نہیں آ رہے اور بعض لوگوں کا گمان ہے کہ آسمان کے ستون بڑے بڑے پہاڑ ہیں جو پوری دنیا کو احاطہ میں لیے ہوئے ہیں اور آسمان ان پر مشتمل ہے۔ (قبہ) کی طرح ” ثم استوی علی العرش “ اس پر اس کو بلند کیا ۔ ” وسخر الشمس والقمر “ اور اس سے منافع حاصل کرنے کے لیے تمارے لیے جھکایا ۔ ” کل یجری “ یہ چلتے ہیں جب تک اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ” لا جل مسمی “ وقت مقررہ تک جب تک دنیا کو فنا نہیں کیا گیا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اجل مسمی سے مراد اس کے درجات اور منازل ہیں جن سے آگے کوئی تجاوز نہیں کرسکتا ۔ ” یدبر الامر “ ان تمام امور کے فیصلے وہ اکیلے کرتا ہے۔” یفصل الآیات “ وہی تمام دلائل کو کھول کر بیان کرتا ہے۔ ” لعلکم بلقاء ربکم توقنون “ تا کہ تم اس کی ملاقات پر یقین رکھو اور اس کے وعدے پر بھی اور اس کی تصدیق کرو۔
Ayah 13:3تفسیر 3۔” وھو الذین مد الارض “ مد کا معنی ہے بچھانا۔ ” وجعل فیھا رواسی “ ثابت شدہ پہاڑ ( جمے ہوئے پہاڑ) اس کی واحد راسیۃ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ۔ کوہ ابو قبیس زمین پر سب سے پہلے قائم کیا گیا ۔ ” وانھارا “ اور اس زمین میں نہریں جاری کیں ۔ ” ومن کل الثمرات جعل فیھا زوجین اثنین “ دو قسم کے پھل ، ان میں بعض سرخ ہیں اور بعض زرد ہیں اور بعض ان میں کڑوے ہیں اور بعض کٹھے۔ ” یغشی اللیل النھار “ رات کی تاریکی سے دن کی روشنی کو چھپا دیتا ہے اور دن کی روشنی سے رات کے اندھیرے کو زائل کردیتا ہے۔ ” ان فی ذلک لایات لقوم یتفکرون “ تفکر کہا جاتا ہے اشیاء کے مختلف معانی کی وجہ سے دل کو پھیرنا ۔
Ayah 13:44۔” و فی الارض قطع متجاورات “ یعنی وہ بعض بعض کے ساتھ قریب قریب ہیں ۔ بعض زمین اگانے کے قابل ہے اور بعض زمین بنجر ہے جو کوئی چیز اگا نہیں سکتی اور کسی زمین میں سزہ کم ہے اور کسی زمین میں سبزہ زیادہ ہوتا ہے۔ ” وجنات “ اور اس میں باغات بھی ہیں ۔ ” من اعناب وزرع و نخیل صنوان “ ابن کثیر ابو عمر حفص یعقوب کے نزدیک یہ مرفوع ہیں اور جنات پر عطف ہے اور بعض حضرات نے ان کو مجرور پڑھا ہے۔ اس صورت میں اعناب پر عطف نسق ہوگا ۔ صنوان جمع ہے صنو کی ۔ اس کھجور کو کہا جاتا ہے جن کی جڑیں تو ایک ہوں اور اوپر شاخیں مختلف ہوں۔ ” وغیر صنوان “ اس سے مراد وہ اکیل کھجور جو ایک ہی تنے پر کھڑی ہو ۔ اہل تفسیر کا قول ہے کہ صنوان جو مجتمع ہوں اور غیر صنوان جو مجتمع نہ ہوں ۔ جیسے قنوان جمع ہے ” قنو “ کی ۔ اسی سے نبی کریم ﷺ کا فرمان جو حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں منقول ہے کہ ابن عباس ؓ کے متعلق فرمایا آدمی کا چچا اس کے باپ کا صنو ہوتا ہے ۔ صنوان اور قنوان کے تثنیہ اور جمع ہونے میں کوئی فرق نہیں مگر اعراب میں فرق ہے۔ صنوان کے نون تثنیہ میں مکسور ہوتا ہوے اور بغیر تنوین کے ہوتا ہے اور جمع میں تنوین کے ساتھ ہوتا ہے۔ ” یسفی بماء واحد “ ابن عامر ، عاصم ، یعقوب نے ” یسفی “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ تمام پانیوں کے ساتھ بولا جاتا ہے ( اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ ذکر کیا ہے) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
” وجنات “ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد ” و نفضل بعضھا علی بعض “ ذکر کیا ۔ یہاں پر بعضہ ذکر نہیں کیا ۔ پانی وہ جسم کا جسم پتلا اور مائع ہے ، ہر بڑھنے والی چیز کی حیات اس پانی میں ہے۔” و نفضل بعضھا علی بعض فی الاکل “ اس سے مراد پھل اور کھانے کی اشیاء حمزہ اور کسائی نے ” ویفضل “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے۔” یدبر الامر یفصل الآیات “ اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ ” نفضل “ پڑھا ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ ہم کھانے کی بعض چیزوں کو بعض پر فضلیت دیتے ہیں ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ہم بعض کھانے کو بعض پر فضلیت دیتے ہیں ۔ فارسی میں کہا جاتا ہے اچھی کھجور ، دقل ، میٹھی ، کڑوی ۔ مجاہدرحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک باپ سے سب بنی آدم پیدا ہوئے لیکن کوئی اچھا ہے کوئی برا۔
بنی آدمی کی مثال زمین جیسی ہے کہ بعض زمین بنجر ہے اور بعض زرخیز
حس (رح) نے کہا کہ اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے دلوں سے دی ہے۔ زمین کا ایک خمیر تھا۔ اللہ نے اپنے دست قدرت سے اس کو پھیلایا ، بچھایا اور پاس پاس اس کے جدا جدا ٹکڑے کردیئے۔ پھر اس پر آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس سے نکالے پھل پھول ، کھیتیاں ، درخت پیدا کیے اور دوسرے حصے کو شوریلا ، نمکین ، کلر اور بنجر کردیا ، باوجودیکہ سب پر ایک ہی طرح کا پانی برسایا، آدمیوں کی حالت بھی اسی طرح ہے سب کو آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا اور سب کے لیے ہدایت نامہ آسمان سے اتارا ، کچھ دل تو اس کی وجہ سے نرم پڑگئے اور ان کے اندر خشوع پیدا ہوگیا اور کچھ سخت ہوگئے اور غافل بن گئے ۔ حسن (رح) کا قول ہے خدا کی قسم جو بھی قرآن کا ہم نشین ہوا تو اٹھنے کے وقت کچھ زیادتی لے کر اٹھا یا نقصان لے کر اٹھایا ، اللہ نے فرمایا،” وننزل من القرآن ما ھو شفاء ورحمۃ اللمومنین ولا یزید الظالمین الاخسار “۔۔۔ ” ان فی ذلک “ جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے۔” لایات لقوم یعقلون “
Ayah 13:5وان تعجب فعجب قولھم کی تفسیر
تفسیر 5۔” وان تعجب فعجب قولھم “ تعجب اس کیفیت کا نام ہے کہ کسی امر بعید کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ۔ یہاں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے کہ آپ ﷺ ان کے اس قول پر تعجب نہ کریں کہ یہ اس بات کا اقرار تو کرتے ہیں کہ اول تخلیق اللہ نے کی لیکن یہ دوبارہ پیدا کیے جانے کے منکر ہیں کیونکہ مشرکین دوبارہ اٹھائے جانے کے منکر تھے۔ اگرچہ ابتداء پیدا کیے جانے کے قائل تھے اور یہ بات دل میں بار بار کھٹکتی ہے کہ پہلی بار کسی چیز کو بنانا مشکل ہے بنسبت دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے ، یہ جگہ بطور تعجب کے ہے یا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرک جو آپ کے دعوائے رسالت کی تکذیب کر رہے ہیں اور واضح دلائل کے باوجود پھر بھی ایسی چیزوں کی پوجا کررہے ہیں جن میں نہ نفع پہنچانے کی طاقت ہے اور نہ ہی نقصان پہنچانے کی طاقت اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھ رہے ہیں کہ اللہ نے ان کی مثالیں بیان فرمائی ہیں ۔ ان کے اس قول کی بناء پر آپ کو تعجب ہو رہا ہے اور یہ لوگ بھی تعجب کررہے ہیں کہ ” اء ذا کنا ترابا ً “ مرنے کے بعد مٹی مٹی ہوجائیں گے ” اثنا لفی خلق جدید “ آپ کو لوٹایا جائے گا نئی تخلیق کے ساتھ جس طر ح کہ تم مرنے سے پہلے تھے ۔ نافع، کسائی اور یعقوب رحمہم اللہ نے ’ ائذا “ ہمزہ استفہام کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ” ء انا “ خبر کے ترک پر ۔ ابو جعفر اور ابن عامر نے اس کے برعکس لیا ہے ۔ اسی طرح ” سبحان الذی “ دونوں جگہوں ” المومنون “ اور ” الم سجدہ “ پر اسی طرح پڑھا ہے اور باقی فراء نے اس میں استفہام کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح صافات کی دونوں جگہوں میں لیکن ابو جعفر نے نافع کی موافقت کی ہے صافات کی شروع میں ۔ انہوں نے جملہ استفہام کا مقدم کیا اور یعقوب دوسری جگہ استفہام کو ذکر نہیں کرتے۔ ” اولئک الذین کفروا بربھم و الئک الاغلال فی اعناقھم “ قیامت کے دن ” واولئک اصحب النار ھم فیھا خالدون “۔
Ayah 13:66۔” ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ “ استعجال کہا جاتا ہے کسی کام کو جلد یطلب کرنا یا مقررہ وقت سے پہلے کسی چیز کو طلب کرنا ۔ یہاں ” سیئۃ “ سے مراد سزا و عذاب ہے اور ” حسنہ “ سے مراد نعمت و عافیت یعنی مشرکین مکہ عافیت کی جگہ عذاب کے طالب تھے اور استہزاء کے طور پر کہتے تھے۔
اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی اور درد ناک عذاب بھیج دے۔” وقد خلت من قبلھم المثلات “ ان سے پہلے امتیں گزر چکی ہیں جنہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور رسولوں کو جھٹلایا ۔ اس وجہ سے ان کو سزائیں پڑیں۔ مثلات جمع ہے مثلہ کی ، میم کے فتحہ اور ثاء کے ضمہ کے ساتھ جیسے صدقہ اور صدقات جھٹلایا ۔ اس وجہ سے ان کو سزائیں پڑیں ، مثلات جمع ہے مثلہ کی ۔ میم کے فتحہ اور ثاء کے ضمہ کے ساتھ جیسے صدقہ اور صدقات ہے۔ ” وان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمھم وان ربک لشدید العقاب “۔
Ayah 13:77۔” ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ “ یعنی محمد ﷺ یہ کوئی معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا ۔ ” آیۃ من ربہ “ اس کی نبوت پر دلیل اور حجت بنے۔” انما انت منذر “ بمعنی ڈرانے والا ” ولکل قوم ھاد “ یعنی ہر ایک قوم کے لیے ایک نبی جوان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ کلبی (رح) کا قول ہے کہ ایک دعوت دینے والا ان کو دعوت دیتا ہے حق کو طرف یا گمراہی کی طرف ۔ عکرمہ (رح) کا قول ہے ہادی سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ یعنی آپ (علیہ السلام) تو صرف ڈرانے والے اور ہر قوم کو سیدھا راستہ دکھانے والے ، سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ہادی اللہ تعالیٰ ہیں ۔
Ayah 13:8تفسیر 8۔” اللہ یعلم ما تحمل کل انثی “ مذکر ہو یا مؤنث جو وہ اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہے برابر ہے کہ وہ تمام الخلقت ہے یا نا قص الخلقت ہے ، ایک ہے یا دو یا اس سے زائد۔
وما تغیض الارحام و ما تزداد کی تفسیر
” وما تغیض الارحام “ اور جو رحموں میں کم بیشی ہوتی ہے۔” وما تزداد “ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ تغیض الارحام سے مراد حالت حمل میں حیض کا آنا ۔ جب حاملہ عورت کو حیض آنے لگ جائے تو بچے کے لیے نقصان ہوتا ہے کیونکہ رحم میں حیض کا خون بچے کے لیے غذا کا سبب ہوتا ہے۔ جب حیض جاری ہوگیا تو اس کی غذا منقطع ہوگئی ، اس سے بچے کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور اگر خون جاری نہ ہو تو یہ بچے کی غذائیت میں فائدہ مند ہوتا ہے اور اس سے بچہ بڑھتا ہے۔
اور بعض نے کہا کہ جب حاملہ عورت کو حیض آنے لگ جائے تو بچے کی غذا میں کمی آئے گی اور حمل کی مدت میں اضافہ ہوگا ۔ مثال کے طور پر اگر اس حاملہ نے نو ماہ پاکی کی حالت میں گزارے ، پھر اس کے بعد اس نے پانچ دن حیض کے دیکھے تو اب ان پانچ دنوں میں بچے کی غذا میں نقصان ہوا ، لہٰذا اتنی مدت حمل میں زیادتی بڑھے گی۔
حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ ” غیضھا “ سے مراد نو ماہ کی مدت حمل میں نقصان ہے اور ” والزیادۃ “ نو ماہ سے زیادتی مراد ہے اور بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد نقصان اور بچے کا گرجانا اور زیادتی سے مراد تمام الخلقت ہوجانا بناوٹ کا پورا ہوجانا ۔ مدت حمل کی کم از کم چھ ماہ ہے ، اس مدت کے دوران وہ زندہ رہ سکتا ہے اور پرورش بھی پاسکتا ہے اور اس کی اکثرت مدت میں اختلاف ہے۔
رضاعت کی مدت مقدار میں ائمہ کے مختلف اقوال
بعض نے کہا کہ اکثر مدت دو سال ہے ، یہی قول حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے اور بعض حضرات کے نزدیک اس کی اکثر مدت چار سال ہے۔ اسی طرف امام شافعی (رح) گئے ہیں ۔ حماد بن سلمہ کا قول ہے کہ ہرم بن حبان کو ہرم اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنی ماں کے پیٹ میں چار سال تک رہا ۔ ” وکل شیء عندہ بمقدار “ یہ حد مقرر سے کوئی چیز نہ بڑھ سکتی ہے اور نہ گھٹ سکتی ہے۔
Ayah 13:99۔” عالم الغیب والشھادۃ الکبیر “ ہر چیز اس سے پست اور کم درجہ ہے۔
” المتعال “ کہ وہ اپنی قدرت سے ہر چیز پر غالب ہے۔
Ayah 13:1010۔” سو اء منکم من اسرا القول ومن جھربہ “ کہ اللہ کے علم میں سب برابر ہیں خواہ وہ اپنی بات پوشیدہ طور پر کریں یا جہر کے طور پر ۔ ” ومن ھو مستخف باللیل “ رات کے اندھیروں میں دوسروں کو چھپائے رکھنا ۔ ” وسارب بالھنار “ جو دن کو نکلے تو سب اسی کی طرف دیکھیں ۔ ” سرب “ سین کے فتحہ اور راء کے سکون کے ساتھ راستہ کو کہتے ہیں۔
مستخف باللیل و سارب بالنہار کی تفسیر
قیتیبی (رح) کا قول ہے ” سارب بالنھار “ سے مراد دن میں اپنے کام کاج میں مشغول ہونے والا ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس آیت میں فرمایا گیا کہ مستخف سے مراد رات کو چھپ کر زنا کرنے والا اور ” سارب بالنھار “ کا مطلب ہے کہ دن میں باہر نکل کر وہ لوگوں کو دکھاتا ہے کہ میں جرم سے پاک ہوں اور بعض نے کہا کہ مستخف باللیل کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قول کو ظاہر کردینا جیسا کہ کہا جاتا ہے پوشیدہ چیز کو جب ظاہر کردیا جائے اور اس بات کو پوشیدہ رکھنا جس کو وہ چھپائے۔
Ayah 13:1111۔” لہ معقبات “ اللہ تعالیٰ کے فرشتے جو دن رات اترتے اور چڑھتے ہیں ۔ جب رات والے فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو دن والے فرشتے زمین کی طرف اترتے ہیں اور جب دن والے فرشتے اوپر جاتے ہیں تو رات والے فرشتے نیچے اترتے ہیں ۔ ” تعقیب “ کسی چیز کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا لوٹ جانا ۔ اس کو مؤنث کے لفظ سے ذکر کیا کیونکہ اس ا واحد معقب ہے اور جمع معقبا ت آتی ہے، جیسا کہ ابناوات سعد اور رجالات بکر ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے آگے پیچھے آتے جاتے رہتے ہیں ۔ فجر اور عصر کی نماز میں ان کا اجتماع ہوتا رہتا ہے ، رات بھر جو فرشتے تم میں رہتے ہیں جب وہ چڑھ جاتے ہیں تو ان کا رب باوجود یہ کہ بخوبی واقف ہے پھر بھی فرشتوں سے پوچھتا ہے ، تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ، فرشتے عرض کرتے ہیں ان کو ہم نے نماز پڑھتے چھوڑا ہے۔ جب ہم ان میں پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ ” من بین یدیہ ومن خلفہ “ یعنی چھپنے والے اور ظاہر ہونے والوں میں سے ہر ایک کے آگے ” یحفظونہ من امر اللہ ‘ ‘ یعنی اللہ کا حکم آگیا ، اللہ کی اجازت سے وہ ان کی حفاظت کرتے ہیں جب تک کہ تقدیر نہ آجائے۔ جب تقدیرکا لکھا ہوا آجاتا ہے تو یہ اس سے الگ ہوجاتے ہیں ، بعض نے کہا کہ وہ اللہ کے امر کی حفاظت کرتے ہیں جس کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
مجاہد (رح) کا قول ہے کہ کوئی شخص ایسا نہیں کہ جس پر ایک فرشتہ مؤکل موجود نہ ہو جو اس کے سوتے وقت جاگتے وقت اس کی حفاظت کرتا ہے اور ہر جن و انس اور کیڑے مکوڑے سے اس کی نگہداشت کرتا ہے جو چیز بندے پر آنا چاہتی ہے فرشتہ اس سے کہتا ہے ہٹ جائو ، ہاں اللہ ہی کا حکم کسی چیز کے آ پہنچنے کو ہوتا ہے تو وہ چیز پہنچ جاتی ہے۔ کعب احبار کا بیان ہے کہ اگر اللہ فرشتوں کو تم پر مامور نہ کردیتا جو کھانے پینے اور برہنگی کے وقت تمہارے قریب رہتے ہیں تو جنات تم کو جھپٹ لیتے۔
عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ اس آیت میں امراء کی قید و بند سے تمہیں حفاظت دی جائے گی ، ان کے سامنے اور ان کی پیٹھ پیچھے۔ بعض نے کہا کہ اس سے دو فرشتے مراد ہیں جو دائیں اور بائیں کندھے پر بیٹھے ہوئے ہیں جو نیکیاں اور بدیاں لکھنے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اذ یتلفی المتلقیان عن الیمین وعن الشمال قعید “ ابن جریج کا قول ہے کہ ” یحفظونہ “ کا معنی ہے کہ وہ اللہ کے حکم کی حفاظت کرتے ہیں یعنی نیکیوں اور برائیوں سے ( نیکی پر عمل کرنے اور برائیوں سے بچنے کے بارے میں) اور بعض حضرات نے کہا کہ ھاضمیر نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہے۔
جو یبر سے روایت ہے کہ ضحاک نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لیے اللہ کی طرف سے کچھ فرشتے مقرر ہیں جو آپ کے پیچھے رہتے ہیں اور شیاطین، جن و انس کے شر اور حوادث سے آپ کی حفاظت کرتے ہیں۔
عبد الرحمن بن زید کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول عامر بن طفیل اور اربد بن ربیعہ کے سلسلے میں ہوئی ۔ کلبی (رح) نے ابو صالح کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ عامر بن طفیل عامری اور اربد بن ربیعہ عامر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادے سے چلے ۔ رسول اللہ ﷺ مسجد کے اندر صحابہ کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے، دونوں مسجد میں داخل ہوئے ، عامر بن طفیل کا نا تھا مگر بہت حسین تھا، خوبصورتی کی وجہ سے لوگ نظراٹھا کر اس کی طرف دیکھنے لگے ۔ ایک شخص نے عرض کیا یہ عامر بن طفیل آپ کی طرف آ رہا ہے، فرمایا آنے دو ، اگر اللہ کو اس کی بھلائی منظور ہوئی تو اس کو ہدایت کر دے گا ، عامر آ کر کھڑا ہوگیا اور بولا محمد (ﷺ) اگر میں مسلمان ہو جائوں تو مجھے کیا ملے گا : فرمایا جو دوسرے مسلمانوں کے حقوق و فرائض ہوں گے وہ تمہارے ہوں گے ، کہنے لگا اپنے بعد یہ حکومت میرے سپرد کرو ۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کا اختیار مجھے نہیں ، یہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے جس طرح چاہے کرے، کہنے لگا آپ صحرایوں میں مجھے حاکم بنادیں اور شہریوں پر آپ حاکم رہیں ۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ بھی نہیں ہوسکتا ، بولا پھر آپ (علیہ السلام) مجھے کیا دیں گے ؟ میں گھوڑوں کی لگامیں تمہارے سپرد کر دوں گا جن پر سوار ہو کر تم جہاد کرو گے ۔ بولا کیا آج تک میرے پاس یہ نہیں ہیں ، اچھا آپ میرے ساتھ اٹھ کر آئیں ، میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں ، آپ ﷺ کو اٹھ کر اس کے ساتھ ہو لئے ۔ عامر نے اربد سے کہہ دیا تھا کہ جب تو مجھے محمد (ﷺ) کے ساتھ مشغول دیکھے تو ان کے پیچھے سے آ کر تلوار سے حملہ کردینا ، چناچہ عامرجب رسول اللہ ﷺ سے کچھ جھگڑا اور گفتگو میں لوٹ پوٹ کرنے لگا تو اربد حملہ کرنے کے ارادے سے گھوم کر حضور ﷺ کے پیچھے آگیا اور ایک بالشت تلوار نیام سے کھینچ بھی لی لیکن اللہ نے اس کو روک دیا اور وہ پوری تلوار نہ کھینچ سکا۔ عامرا س کی طرف اشارے بھی کرتا رہا۔
رسول اللہ ﷺ نے جو منہ پھیر کر اربد کو دیکھا اور تلوار نکالنے میں مشغول پاپا تو دعا کی ، اے اللہ ! جس طرح تو چاہے میری طرف سے ان کا کام تمام کر دے ، اس روز ابر نام کا بھی نہ تھا، سخت گرمی کا دن تھا اور فضا صاف تھی یکدم اربد پر بجلی ٹوٹ پڑی اور اس کو سوختہ کردیا ، عامر پیٹھ پھیر کر بھاگا اور کہنے لگا محمد (ﷺ) تم نے اپنے رب سے دعا کی ، اس نے اربد کو مار ڈالا ، خدا کی قسم میں تیرے اوپر اتنے کم مو (تھوڑے بال والے) گھوڑے اور نوجوان چڑھا کے لائوں گا کہ اس سارے میدان کو بھر دوں گا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تجھے ایسا کرنے ہی نہ دے گا اور قبیلہ کی دو شاخیں قبائل اوس خزرج بھی تجھے ایسا نہ کرنے دیں گے۔ غرض عامر ایک سلولیہ عورت کے گھرجا کر اترا اور صبح کو اٹھ کر ہتھیار باندھے، چہرہ کا رنگ بدلا ہوا تھا ، گھوڑے پر سوار ہو کر ایڑھی لگائی اور دوڑتا ہوا صحرا میں پہنچا اور غرور سے کہنے لگا اے موت کے فرشتے میرے سامنے نکل کر آ ، پھر کچھ شعر پڑھنے لگا اور بولا ، قسم ہے لات و عزیٰ کی ، اگر میں دوپہر محمد ( ﷺ) اور اس کے ساتھی یعنی ملک الموت تک پہنچ گیا تو اپنا یہ برچھا دونوں کے آر پار کر دوں گا ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بھیجا جس نے اپنے پر کی ایک جھپٹ اس کے منہ پر رسید کی اور عامر چکرا کر زمین میں گرپڑا ۔ اس وقت اس کے زانو پر ایک بڑ ی گلٹی نکل آئی ، مجبوراً سلولیہ عورت کے گھر لوٹ آیا اور کہنے لگا ، اونٹ کی گلبٹی کی طرح گلٹی اور سلولیہ عورت کے گھر میں موت ، پھر گھوڑا منگوا کر سوار ہوا اور دوڑتا ہوا چل دیا ۔ آخر گھوڑے کی پشت پر ہی مرگیا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی دعا قبول فرمائی ۔ عامر طاعون کی بیماری سے مراد اور اربد بجلی سے ہلاک ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس قصہ کے متعلق یہ آیا ت نازل فرمائیں ۔ ” سواء منکم من اسرا القول۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ لہ معصبات من بین یدیہ “ یعنی رسول اللہ ﷺ کی حفاظت وہ فرشتے کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے آگے پیچھے ہیں۔
” ان اللہ لا یغیر ما بقول “ کسی قوم کی عافیت و نعمت کو نہیں بدلتا ۔ ” حتی یغیر وا ما بانفسھم “ یہاں تک کہ وہ برے اعمال کی جگہ اچھے اعمال کو اختیار نہ کرلیں ۔ ” واذا ارادہ اللہ بقول سوء “ یعنی عذاب کے ذریعے یا ہلاکت کے ذریعے ۔” فلا مردلۃ “ تو اس کو کوئی لوٹانے والا نہیں ۔ ” وما لھم من دونہ من وال “ کوئی ایسا ٹھکانہ جو اس کو دے دے اور بعض نے کہا کہ ان سے عذاب کو دفع کرسکے۔
Ayah 13:12تفسیر 12۔” ھو الذی یریکم البرق خوفاً و طمعا ً “ بعض نے کہا کہ خوف سے مراد بجلی کی کڑ اور طمعا ً سے مراد بارش سے ہونے والا نفع اور بعض نے کہا کہ سفر میں بارش کے ضرر کا خوف یا مشقت کا پہنچنا اور مقیم کا طمع کرنا کہ اس سے برکت و نفع حاصل ہوگا ۔ بعض نے کہا کہ خوف اس سے جب وہ اپنے گھروں سے دور ہوں اور طمع جب کرتے جب وہ اپنے مکانات میں موجود ہوں۔
” وینشئی السحاب الثقال ‘ ‘ بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے بادلوں کو اٹھایا تو بادل ظاہر ہوگئے ۔ ” سحب “ جمع ہے اس کی واحد ” سحابۃ “ آتی ہے۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ بادل پانی کی چھلنی ہے۔
Ayah 13:13رعد فرشتے کی تسبیح
” ویسبح الرعد بحمدہ “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے کہ رعد فرشتے کا نام ہے جو بادلوں کو ہنکاتا ہے اور بادلوں سے نکلنے والی آواز اس کی تسبیح ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص رعد کی آواز سن کر ” سبحان الذی یسبح الرعد بحمدہ والملائکۃ من خیفتہ وھو کلی کل شی قدیر “ اگر اس پر بجلی گرپڑے تو وہ اپنے دین اسلام پر مرے گا ۔
حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ جب وہ رعد کی آواز سنتے تھے باتیں کرنا چھوڑ دیتے تھے اور یہ کہتے تھے۔” سبحان الذی من یسبح الرعدبحمدہ والملائکۃ من خیفتہ “ اور فرماتے تھے کہ یہ زمین والوں کے لیے سخت دھمکی ہے۔ بعض احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر میرے بندے اطاعت کرتے، تورات میں ان کو بارش سے سیرات کرتا اور دن میں ان پر دھوپ نکال دیتا اور ان کو رعد کی آواز بھی نہ سناتا۔
حضرت جویبر نے ضحاک (رح) کے حوالے سے ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رعد فرشتہ بادلوں پر مامور ہے جہاں حکم ہوتا ہے بادلوں کو چلاتا ہے اور پانی کے سمندر اس کے انگوٹھے کے گڑھے میں ہیں اور وہ اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے اور جب وہ پاکی بیان کرتا ہے تو آسمان کا کوئی فرشتہ ایسا باقی نہیں رہتا جو اس کی تسبیح کے ساتھ بھی بلند آواز سے تسبیح نہ کرے۔ اس وقت بارش اترتی ہے ” والملائکۃ من خفیتہ “ ملائکہ کی تسبیح اللہ عزوجل کے خوف اور خشیت کی وجہ سے ہے۔ بعض نے کہا کہ ان فرشتوں سے مراد رعد کے مدد گار فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے خوف رکھتے ہیں ، عاجز ی اختیار کرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
” ویرسل الصواعق “ جمع ہے ساعقہ کی ، ہلاک کرنے والی بجلی جو آسمان سے عذاب کی شکل میں زمین پر اترتی ہے۔ ” ویصیب بھا من یشاء “ جیسا کہ بجلی کی کڑک اربد بن ربیعہ کو پہنچی ۔ محمد بن علی باقر کا قول ہے بجلی مسلمان اور غیر مسلم سب پر گرتی ہے مگر ذکر کرنے والے مسلمان پر نہیں گرتی۔
وھم یجادلون فی اللہ کی تفسیر
” وھم یجادلون “ اور وہ جھگڑتے ہیں ۔ ” فی اللہ “ یہ آیت اربد بن ربیعہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ جب اس نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ تمہارا رب کس چیز کا ہے موتی کا ہے یا قوت کا ہے یا سونے کا ہے اس پر آسمان سے ایک بجلی گری جس نے اربد کو جلا دیا ۔ حضرت بصری (رح) سے اس آیت ” ویرسل الصواعق “ کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا کہ عرب کے شیطانوں میں سے ایک شخص تھا جس کی طرف نبی کریم ﷺ نے چند آدمیوں کو اللہ و رسول اللہ ﷺ کی طرف دعوت دینے کے لیے بھیجا ۔ وہ کہنے لگا کہ محمد (ﷺ) کا رب جس کی طرف تم مجھے بلا رہ ہو ، بتائو کس چیز کا بنا ہوا ہے سونے کا ہے ، چاندی کا ہے ، لوہے کا ہے ، تانبے کا ہے، ان لوگوں نے اس کے قول کو بڑی گستاخی سمجھا اور واپس آ کر خدمت گرامی میں عرض کیا ، یا رسول اللہ (ﷺ) آپ (علیہ السلام) نے ہمیں ایسے آدمی کے پاس بھیجا کہ اس سے بڑھ کر کافر دل اور اللہ کا سرکش اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کے پا س پھر جائو ، حسب الحکم صحابہ کرام ؓ دوبارہ گئے۔ اس شخص نے پہلی بار سے زیادہ گستاخانہ کلمات زبان سے نکالے اور کہنے لگے محمد (ﷺ) کے کہنے سے میں ایسے رب کو مان لوں جو نہ مجھے دکھائی دیتا ہے نہ اس کو پہچانتا ہوں ، صحابہ ؓ لوٹ آئے اور عرض کیا ، یا رسول اللہ اس نے تو پہلی دفعہ سے زیادہ بری بات کہی ہے ، فرمایا پھر لوٹ کر جائو ۔ صحابہ ؓ پھر لوٹ گئے ، اس سے گفتگو کر ہی رہے تھے کہ وہ اپنی سابقہ بات کہہ رہا تھا کہ اچانک بادل آئے اور سب کے سروں پر آگئے اور اس میں گرج اور چمک پیدا ہوئی اور ایک کڑک اس شخص پر گر پڑی وہ سب کے سامنے سوختہ ہوگیا ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آپ ﷺ کو اطلاع دینے کیلئے دوڑتے ہوئے آئے ، راستے میں صحابہ ؓ کی ایک جماعت اور مل گئی اور انہوں نے کہا وہ آدمی جل گیا ، لو ٹ کر آنے والوں نے دریافت کیا تم کو کیسے معلوم ہوا ؟ صحابہ کرام ؓ نے کہا اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے پاس وحی بھیجی اور یہ آیت نازل فرمائی ” ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشاء وھم یجادلون فی اللہ “۔۔۔۔۔
” وھو شدید المحال “ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ اس کا معنی ہے کہ بہت سخت پکڑا ، بن عباس ؓ نے کہا کہ اس سے مراد شدید الحول ہے۔ حسن (رح) کا قول ہے سخت کینہ والا ، مجاہد (رح) کا قول ہے سخت قوت والا ۔ ابو عبیدہ نے فرمایا کہ اس کا معنھی ہے سخت سزا دینے والا ۔ بعض نے کہا کہ سخت مکرو فریب ۔ ” محال مما حلۃ “ اور ” مما کرۃ “ مغالیہ سب کے ایک معنی ہیں۔
Ayah 13:14لہ دعوۃ الحق کی تفسیر
تفسیر 14۔” لہ دعوۃ الحق “ اس سے مراد اللہ کے لیے سچائی کی دعا کرنا ۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا ” دعوۃ حق “ سے مراد توحید ہے۔ ابن عباس ؓ نے کہا کہ ” دعوۃ الحق “ سے مراد ” شھادۃ ان لا الہ الا اللہ “ بعض نے کہا کہ اس سے مراد اخلاص سے دعا کرنا اور خالص دعا صرف اللہ عزوجل کے لیے ہوتی ہے۔ ” والذین یدعون من دونہ “ اور بتون کی پوجا کرتے ہیں اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر ” لا یستجیبون لھم شیئ “ نہ ان سے کسی بات کا جواب دیتے ہیں نہ نفع کا اور نہ ضرر کا ۔ ” الا کباسط کفیہ الی الماء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغیہ “ اس ہاتھ پھیلانے والے کی طرح تا کہ وہ پانی کو پکڑسکے اور پانی کو پکڑنے والا اس کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں آتی اور نہ وہ کسی حد تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح ان بتوں کی پوجا کرنے والا اس کو نہ یہ بت نفع دیتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور بعض نے کہا کہ یہ ایسے ہے جیسے پیاسا شخص کنویں کے کنارے بیٹھا ہوا اور پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے اور یہ آواز لگا تار ہے آ پانی ، آ پانی نہ تو وہ خود پانی تک پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی پانی اس تک پہنچ سکتا ہے، لہٰذا اس کے ہاتھوں کا پھیلانا اور اس کا پانی کو پکارنا کچھ نفع نہیں دیتا اور نہ ہی وہ پانی اس کے منہ تک پہنچ سکتا ہے اسی طرح جو لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں نہ تو ان کا پکارنا ان کو نفع دیتا ہے اور نہ ہی وہ کسی چیز پر قادر ہیں ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس پیاسے شخص کی طرح جس نے پانی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ پانی اسے اس وقت تک نفع نہیں دے سکتا جب تک اس سے چلو نہ بھر لے اور نہ ہی پانی اس کے منہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اگرچہ وہ اس بازو پھیلائے رکھے، ایسی مثال کافروں کے متعلق بیان کی ہے کہ کفارکا بتوں کی پوجا کرنا محض نقصان کے اور کچھ نہیں ۔” وما دعاء الکفرین “ کافروں ، بتوں کو پکارنا ” الا فی ضلال “ ان کو گمراہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ، جب یہ اس کی طرف احتیاجیت رکھیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وضل عنھم ما کانوا یفترون وما کانوا یدعون “ ضحاک نے ابن عباس ؓ کا یہ تشریحی قول نقل کیا ہے کہ کافروں کا اپنے رب کو پکارنا بالکل بےسود ہے کیونکہ ان کی آواز ( دعائیں) رب تک پہنچتی ہی نہیں۔
Ayah 13:1515۔” وللہ یسجد من فی السموات والارض طوعا ً “ اس سے مراد فرشتے اور مؤمنین ہیں ۔ ” وکرھا “ منافقین و کافرین جو تلوار کے ڈر کی وجہ سے سجدہ کرتے ہیں ۔ ناپسندیدگی سے سرجھکاتے ہیں ۔ ” و ظلالھم “ بالتبع ان کے سائے بھی سر بسجود ہوتے ہیں ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے مؤمنین کے سائے سجدہ کرتے ہیں خوشی سے کیونکہ مؤمنین کو سجدہ سے صرف رضا الٰہی مقصود ہوتا ہے اور کافر کا سجدہ مجبوری سے کیونکہ وہ سجدہ کرتا ہے مگر نا پسندیدگی کی وجہ سے۔” بالغدو والاصال “ جب وہ صبح و شام سجدہ کرتے ہیں تو ان کے سائے بھی ان کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں ۔ اصال جمع ہے اصیل کی عصر اور غروب شمس کے درمیان وقت کو کہا جاتا ہے، بعض نے کہا کہ ” ضلالھم “ سے مراد اشخاص ہیں جو صبح کے وقت اور عشاء کے وقت سجدہ کرتے ہیں۔
Ayah 13:1616۔” قل من رب السموات والارض “ یعنی ان دونوں کو پیدا کرنے والا اور ان کو پھیرنے والا کون ہے تو وہ کہیں گے اللہ ۔ مشرکین ، کفار اس بات کو مانتے تھے کہ ان کا خالق اللہ ہے، آسمان اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے تو جب آپ کو یہ جواب دیں تو اے محمد (ﷺ) آپ بھی کہہ دیجئے اللہ ۔ روایت میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مشرکوں سے پوچھا کہ آسمان و زمین کا خالق کون ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ ہی بتایئے اس پر اللہ نے فرمایا ” قل “ اے محمد ” اللہ “ یہ کہنے سے ان پر حجت لازم کردی ہے۔ ” قال افاتخذتم من دونہ اولیائ “ کیا تم اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرتے ہو ، اسی طور پر کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، بغیر کسی کی مدد کے اور تم اس کے سوا کسی اور کو پوجتے ہو ، یعنی بتوں کو پوجتے ہو۔
” لا یملکون لانفسھم نفعا ً ولا ضرا ً “ تو پھر تمہارے لیے کیسے مالک ہوں گے پھر ان کی مثال بیان کی ۔ ” قل ھل یستوی الاعمی والبصیر “ اسی طرح کافر اور مؤمن برابر نہیں ہوسکتے۔” ام ھل تستوی “ حمزہ ، کسائی ، ابوبکر کے نزدیک ” یستوی “ یاء کے ساتھ ہے ۔ دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔” الظلمات والنور “ جیسے اندھیرا اور نور برابر نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح کفر اور ایمان برابر نہیں ہوسکتے ۔” ام جعلوا “ یعنی بنا رکھے ہیں شریک ” للہ شرکاء خلقوا کخلفہ فتشابہ الخلق علیھم “ انہوں نے جن معبودوں کو شریک بنا رکھا ہے وہ کسی چیز کے خالق نہیں کہ ان کو اللہ کی تخلیق اور معبودوں کی تخلیق میں اشتباہ ہوجاتا اور یہ کہتے کہ اللہ خالق ہے اس لیے معبود ہے اور ہمارے معبود بھی خالق ہیں ، اسی لیے وہ بھی مستحق عبادت ہیں۔” قل اللہ خالق کل شیء وھو الواحد القھار “ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی مثال بیان کی ہے حق و باطل کی ۔
Ayah 13:17تفسیر 17۔” انزل “ نازل کیا اللہ عزوجل نے ” من السماء ماء “ مراد بارش ہے۔ ” فسالت “ اس پانی سے ” اودیۃ بقدرھا “ وادیوں کے اندازے کے مطابق چھوٹی ہوں یا بڑی ۔ ” فاحتمل السیل “ وادیوں میں بہنے والا پانی ” زبدا رابیا ً “ وہ جھاگ جو پانی کے اوپر آجاتی ہے۔” رابیا “ کا معنی ہے وہ عالی اور بلند جو پانی کے اوپر جمع ہوتی ہے، میل کچیل اور باقی پانی صاف شفاف رہ جاتا ہے ۔ یہی مثال حق کی ہے اور وہ جھاگ جو وادی کے کنارے پر پڑے یا درختوں کے ساتھ لگی وہ باطل ہے۔ بعض نے کہا کہ ” انزل من السماء ماء “ یہ مثال ہے قرآن کی اور وادی کی مثال دل ہیں کہ قرآن ان کے دلوں میں اترتا ہے اور مختلف قسم کے دل جتنے یقین کے پختہ ہوں گے اتنا ہی وہ اس قرآن کو مانیں گے ۔ بعض اس سے مشکوک ہوں گے اور بعض دل مردہ ہوں گے ، یہ دونوں مثالیں بیان کی ہی۔
” ومما یوقدون علیہ فی النار “ حمزہ اور کسائی و حفص نے ” یوقدون “ پڑھا ہے اس لیے کہ اللہ کا فرمان ” یوم ینفع الناس “ اور اس کا خطاب یہاں نہیں ہے۔ ” ومما توقدون “ اور وہ اشیاء جن کو آگ پر تپاتے ہیں ، ایقاد کہا جاتا ہے پگھلانے کے لیے کسی چیزکو آگ میں تپانا ۔” ابتغاء حلیۃ “ زینت کو طلب کرنے کے لیے اس سے مراد سونا چاندی ہیں کیونکہ عام طور پر یہی آگ سے پگھلائے جاتے ہیں ۔ ” او متاع “ اس سے سامان طلب کرتے ہیں جس سے یہ فائدہ اٹھاتے ہیں یا کھیتی کے اوزار کے لیے لوہا وغیرہ پگھلایا جاتا ہے یا ظروف بنانے کے لیے تانبا ، پیتل پگھلایا جاتا ہے۔
” زبد مثلہ کذلک یضرب اللہ الحق والباطل “ جب ان کو پگھلایا جاتا ہے تو پانی کی جھاگ کی طرح ہوجاتے ہیں اور باقی اس جھاگ سے صاف ستھرے ہو کر جواہرات کی شکل بن جاتے ہیں ، یہ مثال حق کی ہے اور وہ جھاگ جس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا گیا ۔ اس کی مثال باطل کی سی ہے۔” فاما الزید “ وہ ندی جو اوپر سے بہتی ہے۔ ” فیذھب جفاء “ وہ میل کچیل جو سیلاب یا پگھلائی ہوئی دھات کے اوپر آ کر ادھر ادھر منتشر ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ وادی اور سیلابی نالے نے کوڑا کرکٹ ادھر ادھر پھینک دیا ۔ بعض حضرات نے کہا کہ جفاء کا معنی ہے منتشر پراگندہ ، اسی طرح کہا جاتا ہے ” اجفات القدر “ جب ہنڈیا ابلنے لگے اور جھاگ چھوڑنے لگے جب وہ جوش مارنا چھوڑ دے تو اس میں کوئی جھاگ باقی نہ رہے۔
اگر باطل کچھ دیر کے لیے اٹھے گا تو پھر وہ خاموش ہوجائے گا ۔ بعض نے کہا کہ ” جفاء “ سے مراد متفرق جدا جدا ہونا ، ہوا نے ماحول کو پراگندہ کردیا جب وہ جدا جدا اور منتشر ہوجائے۔ ” واما ما ینفع الناس “ یعنی اصل پانی اور دھات تو زمین پر قائم رہتا ہے۔ ’ ’ فیمکث فی الارض “ باقی رہے اور ضائع نہ ہو ۔ ” کذلک یضرب اللہ الامثال “ اللہ تعالیٰ نے یہی مثال بیان کی ہے حق و باطل کی ۔ باطل کی مثال جھاگ کی طرح ہے یہ حق کو ضائع کردیتا ہے جیسے پانی کہ جھاگ نکل جانے کے بعد پانی خالص ہوجاتا ہے ، بعض نے کہا کہ مؤمنین کی تسلی کے لیے کہا ، یہ مثال مشرکین کی ہے کہ حقیقت میں یہ اس جھاگ کی طرح ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں اور مؤمنین کی مثال و حقیقت اس پانی کی طرح ہے جو اپنے مکان میں بقاء و ثابت رہے۔
Ayah 13:18تفسیر : 18۔” للذینی استجابوا “ رب کا کہا مانا ” لربھم “ اس کی اطاعت کی ۔ ” الحسنیٰ “ اس سے مراد جنت ہے۔ ” والذین لم یستجیبوا لہ لو ان لھم ما فی الارض جمیعا ً و مثلہ معہ لا فتدوا بہ “ یعنی قیامت کے دن اگر کل زمین کی دولت ان کو مل جائے تو دوزخ سے اپنی رہائی کے لیے وہ دے دینگے۔
” اولئک لھم سوء الحساب “ ابراہیم نخعی کا بیان ہے کہ سوء حساب یہ ہے کہ ان سے سختی کے ساتھ حساب فہمی کی جائے گی اور کوئی گناہ معاف نہیں کیا جائے گا۔ ” وما واھم “ آخرت میں ان کا ٹھکانہ ” جھنم وبئس المھاد “ اس کا معنی ہے بچھونا وہ حجر ا ہے جو ان کے لیے بچھایا جائے گا ۔
Ayah 13:1919۔” افمن یعلم ان ما انزل الیک من ربک الحق ‘ اس پر وہ ایمان لے آئیں اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کریں ۔ ” کمن ھو اعمی “ جو نہ اس کو جانتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ حمزہ اور ابی جہل کے بارے میں نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا کہ یہ عمار اور ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اس میں پہلا قول یہ ہے کہ حمزہ اور عمار ہیں اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد ابو جہل ہیں اور وہ اعمی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ کیا حق کو دیکھنے والا اور اس کی پیرو ی کرنے والا اور جو حق کو نہ دیکھنے والا اور نہ پہچاننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔” انما یتذکر ‘ بمعنی نصیحت کے ہے۔ ” اولو الالباب “ عقل والے مراد ہیں۔
Ayah 13:2020۔” الذین یوفون بعھد اللہ “ جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جو ان پر فرض کیا گیا تو تم اس کی مخالفت نہ کرو ۔ ” ولا ینقضون المیثاق “ عہد سے مراد وہ ہے جب سب حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا گیا تھا اور ان سے عہد لیا تھا۔
Ayah 13:21تفسیر 21۔” والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل “ اس سے مراد ایمان لانا ہے تمام کتب اور رسولوں پر اور ان کے درمیان کسی قسم کا فرق نہ کرنا ۔
والذین یصلون ما امر اللہ کی تفسیر
اکثر مفسرین رحمہم اللہ نے کہا کہ اس سے مراد صلہ رحمی ہے۔
حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کا بیان ہے میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ اللہ نے فرمایا ہے میں ہی اللہ ہوں ، میں ہی رحمن ہوں ، میں نے رحم کو پیدا کیا اور اپنے نام سے لفظ رحم کو مشتق کیا ہے جو اس کو جوڑے رکھے گا میں اس کو اپنے ساتھ جوڑے رکھوں گا اور جو اس کو کاٹے گا اس سے میں قطع تعلق کرلوں گا۔
صلہ رحمی کے متعلق احادیث
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ، پیدا کرچکا تو رحم نے کھڑے ہو کر رحمن کی کمر پکڑ لی ۔ اللہ نے فرمایا ، کیا ہے رحم نے عرض کیا یہ اس کی جگہ ہے جو قطع تعلق سے تیری پناہ چاہتا ہے ، اللہ نے فرمایا کیا تو اس بات سے خوش نہیں جو تجھے جوڑے رکھے گا میں اسے جوڑے رکھوں گا اور جو تجھے توڑے گا میں اس سے قطع تعلق کروں گا ، رحم نے عرض کیا بیشک میں اس پر راضی ہوں ، اے میرے رب ! اللہ نے فرمایا پس یہ تیرے لیے ہے ۔ پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے امرشاد فرمایا چاہو تو یہ پڑھو ” فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطعوا ارحامکم “
حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ اپنے والد سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن تین چیزیں عرش کے نیچے ہوں گے ۔ قرآن مجید ، امانت رحم ، قرآن حجت رے گا اس کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے اور رحم ندا کرے گا خوب سن لو جس نے مجھے جوڑے رکھا اللہ اس سے تعلق رکھے گا اور جس نے مجھے توڑا اللہ اس سے قطع تعلق کرلے گا ۔ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص چاہتا ہو کہ اللہ اس کے رزق میں وسعت اور عمر میں درازی عطا کرے گا تو وہ قرابت داروں کو جوڑے رکھے۔
حضرت ابوبکر ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی گناہ ایسا نہیں جس کی سزا اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں دے دے اور اس کو آخرت میں بدلہ دیا جائے گا، وہ ہے قطعی رحمی کرنا ۔
جبیر بن مطعم ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا یہ فرماتے ہوئے کہ قطع تعلق کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کے سامنے آیا اور عرض کیا مجھے خبر دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور دوزخ سے دور کردے ، فرمایا اللہ کی بندگی کر ، کسی چیز کو اس کا شریک نہ قرار دے نماز قائم کر ، زکوٰۃ ادا کر اور رشتہ داری کو جوڑے رکھے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا رشتہ قرابت کو جوڑنے والا نہیں جو برابر کا بدلہ دے دے بلکہ قرابت کو جوڑنے والا وہ ہے کہ اگر رشتہ قرابت ٹوٹ گیا ہو تو وہ اس کو جوڑلے۔ سفیان عن قطر سے روایت فرماتے ہیں کہ جب قطع رحمی کی جائے تو اس کو جوڑ دو ۔ ” و یخشون ربھم و یخافون سوء الحساب “۔
Ayah 13:22تفسیر 22۔” والذین صبروا “ اللہ تعالیٰ کی طاعت میں ثابت قدم رہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے اللہ تعالیٰ نے جو احکام ان کے سپرد کیے ان پر ثابت قدم رہے۔ عطاء کا قول ہے کہ مصائب و شدائد پر صابر رہے اور بعض علماء نے کہا کہ صبر سے مراد نفسانی خواہشات سے اجتناب کرنا ۔ ” ابتغاء وجہ ربھم “ اللہ کی تعظیم کی وجہ سے ان بتوں کی مخالفت کرے۔” واقاموالصلوٰۃ وانفقوا مما رزقنھم سرا وعلانیۃ “ وہ زکوٰۃ ادا کرتے تھے۔
گناہ اگر ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرو کیونکہ نیکی گناہوں کو مٹا دیتی ہے
” ویدرون بالحسنۃ السیئۃ “ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نیک اعمال برے اعمال کو مٹا دیتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا فرمان ” ان الحسنات یذھبن السیئات “ کا معنی یہی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی برا عمل کرے تو اسے چاہیے کہ اس کے ساتھ نیک عمل بھی کرے تا کہ اس کی نیکی اس کی برائی کو مٹا دے ۔ اگر برائی چھپ کر کی ہے تو نیکی ویسے کرے اور اگر برائی علانیہ کی ہے تو نیکی بھی اعلانیہ کرو۔
عقبہ بن عامر سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص گناہوں کے بعد نیکیاں کرلیتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے کوئی اتنی تنگ زرہ پہن رکھی ہو جس سے اس کا دم گھٹ رہا ہو ، پھر اس نے ایک نیکی کرلی تو ایک کڑی ٹوٹ گئی ، پھر دوسری کڑی ٹوٹ گئی یہاں تک کہ وہ زمین پر گر پڑی ۔ ابن کیسان کا قول ہے آیت کا معنی ہے کہ وہ توبہ کے ذریعہ گناہ کو معاف کردیتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ شر کو شر کے ساتھ بدلہ نہ دو بلکہ شر کو خیر کے ساتھ بدلہ دو ۔ قتیبی (رح) کا قول ہے کہ جب برائی کرو تو اس کے بدلے میں نیکی کرو۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ ان کو نیکی کے ساتھ بدلہ دو ، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاما ً “ حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ جب کوئی تمہیں کسی چیز سے محروم کر دے تم اس کو عطا کرو اور جو تمہارے اوپر ظلم کرے تو تم ان کو معاف کر دو اور کوئی شخص تمہارے ساتھ قطع رحمی کرے تم اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ عبد اللہ بن مبارک کا قول ہے :” اولئک لھم عقبی الدار “ اس سے مراد جنت ہے یعنی اللہ ان کو آخرت میں ثواب عطا کرتا ہے، پھر اس کو بیان فرمایا۔
Ayah 13:2323۔” جنات عدن “ اس کی اقامت کی جگہ باغات ہوں گے۔” ید خلونھا ومن صلح من آبائھم وازواجھم وذریاتھم والملائکۃ یدخلون علیھم من کل باب “ بعض نے کہا اس سے جنت کے دروازے ہیں اور بعض نے کہا کہ قصور کے ابواب مراد ہے۔
Ayah 13:2424۔” سلام علیکم “ وہ کہتے تھے سلام علیکم اور بعض نے کہا کہ جنتی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آفات سے سلامت رکھے جن سے تم دنیا میں ڈرتے تھے۔ مقاتل کا قول ہے ان پر فرشتے ایک دن رات کی مقدار کے برابر ا ن کے پاس آتے ، تین مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایا اور تحائف لے کر آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو۔
” بما صبرتم فنعم عقبی الدار “ ارطاۃ بن منذر فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص ” مشیخۃ الجند “ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ ابو الحجاج نے کہا ک میں ابو امامہ کے پا س بیٹھا اور کہا کہ جنت کے اندر اپنی مسند پر مؤمن راحت اندوز ہوں گے ، خادموں کی دو قطاریں اس کے سامنے ہوں گی ، دونوں قطاروں کے سروں پر ایک بند دروازہ ہوگا ، دروازے پر فرشتہ اندر آنے کا طلب گار ہوگا ، مؤمن اپنے قریبی خادم سے اور وہ خادم اپنے برابر والے خادم سے اور یونہی سلسلہ وار ہر خادم اپنے متصل خادم سے کہے گا کہ فرشتہ دروازہ پر خواستگار اجازت ہے۔ یہاں تک کہ آخری خادم جو دروازے سے متصل ہوگا ، وہ دروازہ کھول دے گا ، فرشتہ اندر آ کر سلام کرے گا اور واپس چلا جائے گا ۔
Ayah 13:2525۔” والذین ینفضون عھد اللہ من بعد میثاقہ “ جو کفار کے ساتھ کیا تھا۔ ” ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل “ یعنی وہ بعض انبیاء پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر ایمان نہیں لاتے۔ بعض نے کہا کہ وہ قطعی رحمی کرتے ہیں ۔ ” ویفسدون فی الارض “ یعنی وہ گناہوں والے اعمال کرتے تھے۔ ” اولئک لھم اللعنۃ ولھم سوء الدار “ اس سے مراد آگ ہے۔
Ayah 13:26تفسیر 26۔” اللہ یسط الرزق لمن یشاء و یقدر “ اللہ جس پر چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ ” وفرحوا بالحیوۃ الدنیا “ اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں جو شرارت اور تکبر میں ملوث ہیں ۔ فر ح کہا جاتا ہے من چاہی چیز کے ملنے سے دل کا سرور آجانا ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا سے خوشی حاصل کرنا ( دنیا ملنے کی بناء پر خوش ہونا) حرام ہے۔” وما الحیوۃ الدنیا فی الاخرۃ الا متاع “ یعنی تھوڑا سا فائدہ جو زائل ہونے والا۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس کی مثال چھوٹی پیالی ، پلیٹ، پیالہ ، ہنڈیا کی سی ہے کہ ان سے نفع لے کر ان کو پھینک دیا جاتا ہے اس کی مثال دنیا کی ہے۔
Ayah 13:2727۔” ویقول الذین کفروا “ اس سے مراد اہل مکہ ہیں ۔ ” لو لا انزل علیہ آیۃ من ربہ قل ان اللہ یضل من یشاء ویھدی الیہ من اناب “ جس کی توجہ کو اپنی طرف پھیرنا چاہتا ہے پھیر دیتا ہے اور بعض نے کہا کہ اس کو دین کی طرف ہدایت دے دیتا ہے جو دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔
Ayah 13:2828۔” الذین امنوا “ یہ محل نصب میں واقع ہے ” من اناب “ سے بدل ہے۔ ” وتطمئن “ ان کے دل سکون میں ہوجاتے ہیں ۔ ” قلوبھم بذکر اللہ “ مقاتل کا بیان ہے کہ بذکر اللہ سے مراد قرآن ہے۔ دل کو سکون ہوتا ہے یقین کے ساتھ اور اضطراب ہوتا ہے شک کی بناء پر ” الا بذکر اللہ تطمئن القلوب “ مؤمنین کے دلوں کو تسکین اور ان کا یقین پختہ ہوتا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد پختہ عہد ہے کہ جب کوئی مسلمان اللہ سے پختہ عہد کرتا ہے کسی چیز پر تو ان کے دل مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ سوال ، اگر کہا جائے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں ارشاد فرمایا ” انما المومنون الذین اذذکر اللہ جلت قلوبھم “ مؤمن وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور اس جگہ ذکر الٰہی کو مؤمن کے قلب کا اطمینان فرمایا گیا ہے۔ ایک حالت میں خوف اور اطمیان ایک دل میں کیسے جمع ہوسکتے ہیں۔
اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا کہ عذاب کے ذکر کے وقت مؤمن کا دل ڈر جاتا ہے اور ثواب کے وعد کے ذکر کے وقت اس کے اندر اطمینان پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس کا دل ڈر جاتا ہے ، جب اللہ تعالیٰ اس سے سخت حساب لے گا اور چین پاتا ہے اللہ کے فضل و کرم کے ذکر سے۔