14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الر (یہ) ایک (پرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لئے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لیجاؤ۔ (یعنی) انکے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے راستے کی طرف۔

تفسیر : 1۔” الر کتب “ کتب خبر ہذا متبداء محذوف کی ۔ ” انزلناہ الیک “ اے محمد ! ( ﷺ) ہم نے آپ کی طرف قربان نازل کیا ۔ ” لتخرج الناس من الظلمات الی النور “ ‘ تا کہ وہ تمہیں دعوت دے گمراہی سے نور ایمان کی طرف ۔ ” باذن ربھم “ اپنے رب کے حکم سے۔ بعض نے کہا کہ اپنے رب کے علم سے ” الی صراط العزیز الحمید “ اپنے دین کی طرف ، عزیز غالب اور حمید وہ ہے جو حمد کا مستحق ہو۔
Ayah 14:2

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے۔

2۔” اللہ “ ابو جعفر ، نافع ، ابن عامر نے لفظ اللہ کو مرفوع پڑھا کیونکہ یہ حملہ مستانفہ ہے اور اس کے ما بعد اس کی خبر ہے اور دوسرے حضرات نے مجرور پڑھا ہے۔ اس صورت میں ” للعزیز الحمید “ کے لیے صفت ہوگی ۔ یعقوب جب اس کو ملا کر پڑھتے تو مجرور پڑھتے ۔ ابو عمرو کا قول ہے کہ مجرور تقدیم و تاخیر کی وجہ سے ہے۔ عبارت اس طرح ہوگی ۔” الی صراط اللہ العزیز الحمد “۔۔۔۔۔ ” الذی لہ ما فی السموات وما فی الارض وویل للکافرین من عذاب شدید “۔
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں) خدا کے راستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں۔

تفسیر 3۔” الذین یستحبون “ اس سے مراد جو کچھ وہ اختیار کرتے ہیں ۔ ” الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ و یصدون عن سبیل اللہ “ یعنی وہ لوگوں کو اللہ کے دین قبول کرنے سے روکتے ہیں ۔” ویبغونھا عوجا ً “ وہ تلاش کرتے ہیں کجی کو اور حق سے منہ موڑ کر اللہ کے راستے کے طلب گار ہوتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ ھا ضمیر لوٹ رہی ہے دنیا کی طرف ، معنی اس کا یہ ہوگا کہ راہ حق سے منہ موڑ کر دنیا کے طلب گار ہوتے ہیں بمعنی حرام مال چاہتے ہیں ۔ ” اولئک فی ضلال بعید “
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انھیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتادے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

4۔” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم “ ان کی لغت کے مطابق تا کہ اس سے بات کو سمجھ لیں ۔ اگر سوال کیا جائے کہ یہ کیسے ہو ہوسکتا ہے حالانکہ آپ ﷺ پوری مخلوق کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ عرب میں ان کی زبان کے مطابق آپ ﷺ کو بھیجا گیا تھا۔ دوسرے لوگ عرب کے تابع ہیں ، پھر انبیاء (علیہم السلام) نے اپنے اطراف لوگوں کو مختلف زبانوں میں ترجمہ سکھلا کر بھیجا تا کہ ان کو ان کی زبانوں میں تبلیغ کرے۔ ” فیضل اللہ من یشاء و یھدی من یشاء وھو العزیز الحکیم “۔
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دیکر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور انکو خدا کے دن یاد دلاؤ۔ اور اس میں ان لوگوں کے لئے جو صابر و شاکر ہیں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں۔

5۔” ولقد ارسلنا موسیٰ بایاتنا ان اخرج بایاتنا ان اخرج قومک من الظلمت الی النور “ دعوت کے ذریعے وہ کفر کو ایمان کی طرف لے آئے ۔ ” وذکر ھم بایام اللہ “ ابن عباس ؓ وا بی بن کعب ؓ مجاہد و قتادہ نے اس کا معنی ” بنعم اللہ “ کیا ہے ( اللہ کی نعمتیں) مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ اس سے مراد ما قبل امتوں کے واقعات ہیں ۔ جیسا کہ محاورات میں بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص ایام العرب کا عالم ہے یعنی عرب کی لڑائیوں سے واقف ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اپنی قوم کو وہ واقعات بتلائو جو اللہ نے گزشتہ ایام میں ظاہر کیے خوا ہ وہ نعمت کی صورت میں ہوں یا مصیبت یا مشکل کی صورت میں ہوں ۔ ان کو وہ ایام یاد دلاء کیونکہ ان کے ہاں یہ دن معلوم ہیں ۔” ان فی ذلک لایات لکل صبار شکور “ صبار کہتے ہیں بہت زیادہ صبر ادا کرنے والا اور شکور کہا جاتا ہے جو بہت زیادہ شکر ادا کرنے والا ہو ۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مؤمن کے لیے اس میں بڑی نشانیاں ہیں اور صبر و شکر مؤمن کی خصلتوں میں سے ہونی چاہیے۔
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جبکہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی۔ وہ لوگ تمہیں بڑے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی۔

6۔” واذ قال موسیٰ لقومہ اذ کروا نعمتہ اللہ علیکم اذانجاکم من ال فرعون یسومونکم سوء العذاب وبذبحون ابناء کم “ فراء کا قول ہے کہ یہاں وائو کو ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آل فرعون کو مختلف قسم کے عذاب دیئے گئے ذبح کے علاوہ ۔ اور اگر یہاں سے وائو کو حذف کردیں تو اس صورت میں ” یذبحون “ اور ” یقتلون “ کی تفسیر ہوگی کہ ان کو عذاب دیا گیا ۔ قتل کی صورت میں اور بچوں کو ذبح کرنے کی صورت میں ۔ ” ویستحیون نساء کم “ عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔” وفی ذلک بلاء من ربکم عظیم “۔ (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دیدیے اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو بھیجا گیا ہم اس کے منکر ہیں اور جس امر کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو ہم تو اس کی جانب سے بڑے شبہ میں ہیں جو ( ہم کو ) تردد میں ڈالے ہوئے ہیں ان کے پیغمبروں نے کہا کیا ( تم کو) اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک ہے، جو کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے وہ تم کو بلا رہا ہے تا کہ تمہارے گناہ معاف کر دے اور معین وقت تک تم کو ( خیر و خوبی کے ساتھ) حیات دے انہوں نے کہا کہ تم محض ایک آدمی ہو جیسے ہم ہیں تم یوں چاہتے ہو کہ ہمارے آبائو اجداد جس چیز کی عبادت کرتے تھے ( یعنی بت) اس سے ہم کو روک دو سو کوئی صاف معجزہ دکھلائو۔
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دونگا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کے) میرا عذاب (بھی) سخت ہے۔

تفسیر 7۔” واذ تاذن ربکم “ تاذن بمعنی اعلم کے ہے ، اطلاع دے دی بتلا دیا ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اذن و تاذن “ ان دونوں کا معنی ایک ہی ہے جیسے ” اوعد ، توعد “ ہے ۔ ” لئن شکرتم “ میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے بایں معنی ان پر ایمان لائو گے اور اطاعت کرو گے ۔” لا زیدنکم “ تمہیں نعمت میں اور زیادہ دیں گے۔ ( شکر کہتے ہیں کہ موجود چیز پر اور جو چیز ضائع ہوجائے اس پر صبر کرے) یا شکر موجودہ نعمت کو برقرار رکھتا ہے اور غیر موجود کے حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔ بعض نے کہا کہ اگر تم نیکی کرنے میں میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہارے ثواب میں زیادتی کروں گا ۔” ولئن کفرتم “ میری نعمتوں کا انکار کیا اور ان پر شکر ادا نہ کیا تو ” ان عذابی لشدید “ ۔
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو خدا بھی بےنیاز (اور) قابل تعریف ہے۔

8۔” وقال موسیٰ ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ لغنی حمید “ اللہ تمام مخلوق سے بےنیاز ہے۔ حمید وہ اپنے افعال میں قابل ستائش ہے ، اس لیے کہ وہ فضل و عادل والا ہے۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح (علیہ السلام) اور عاد وثمود کی قوم ؟ اور جو ان کے بعد تھے جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک ہیں۔

9۔” الم یاتکم نباء الذین “ یہ خب رہے الذین کی ۔” من قبلکم قوم نوح و عاد وثمود والذین من بعدھم لا یعلمھم الا اللہ “ بعد قوم سے مرادنوح عاد ، ثمود ہیں ۔ بعد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت کے پڑھنے کے بعد ارشاد فرمایا نسب بیان کرنے والے جھوٹے ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور عدنان کے درمیان تیس قرن ہوئے ہیں جن سے سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی وقف نہیں ۔ مالک بن انس ؓ کو یہ امرپسندیدہ نہ تھا کہ کوئی شخص مسلسل اپنے اسلاف کا سلسلہ پشت در پشت حضرت آدم (علیہ السلام) تک جوڑتا چلا جائے اور اسی طرح نبی کریم ﷺ کے متعلق بھی یہی رائے ہے۔ ” جاء تھم رسلھم بالبینات “ واضح نشانیوں کے ساتھ ” فردوا ایدیھم فی افواھھم “ ابن مسعود ؓ کا قول ہے کہ وہ غصہ کی وجہ سے اپنی انگلیوں کو کاٹتے ہیں ۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے :” عضوا علیکم الا نامل من الغیط “ ابن عباس ؓ کا قول ہے جب انہوں نے اللہ کی کتاب سنی تو تعجب کیا تو اس تعجب و استہزاء کی وجہ سے اپنے ہاتھ منہ میں دے دیئے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے کہ انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور جو وہ لے آئے اس کی تردید کی ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ میں نے فلاں کی بات اس کے منہ میں لوٹا دی اور اس کی تکذیب کردی ۔ کلبی (رح) کا قول ہے کہ انہوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کرکے پیغمبروں کو خاموش رہنے کے لیے اشارے کردیئے اور اشارہ کر کے بتلایا کہ منہ بند رکھو ، ایسی باتیں نہ کرو۔ مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ پیغمبروں کے منہ پر ان کو خاموش کرنے کے لیے رکھ دیئے۔ بعض نے کہا کہ ’ ’ ایدی “ نعمت کے معنی میں ہے۔ یعنی انہوں نے پیغمبروں کے احکام اور شریعت کو پیغمبروں کے منہ پر لوٹا دیا اور انکار کیا ۔ ” افواھھم “ سے مراد ان کی نعمتیں ہیں ۔ ” وقالوا “ امتیں کہنے لگیں اپنے اپنے رسولوں کو ” انا کفرنا بما ارسلتم بہ وانا لفی شک مما تدعوننا الیہ مریب “ شک کا مؤجب ہے۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنیوالا ہے ؟ اور تمہیں اس لئے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کیلئے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوچتے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کردو تو (اچھا) کوئی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)

10۔” قالت رسلھم افی اللہ شک “ یہ استفہام بمعنی نفی کے ہے جس کا ہم اعتقاد کرتے ہیں اس کے بارے میں شک میں ہیں ۔ ” فاطر السموات الارض “ ان دونوں کو پید ا کرنے والا ہے۔” یدعو کم لیغفرلکم من دنوبکم “ اس سے مراد تمہارے گناہ۔ ” من صلۃ “ ہے ” ویوخرکم الی اجل مسمی “ جس مدت میں اللہ نے ان کو زمین میں چھوڑے رکھا۔ اس مدت میں وہ عذاب دینے سے جلدی نہیں کرتا ۔” قالوا “ رسول ان سے کہنے لگے ” ان انتم الا بشر مثلنا “ صورت میں اور جسم میں ہماری طرح ہو فرشتے تو ہو نہیں۔” تریدون “ اس قول و دعوت سے تمہارا مقصد یہ تھا ۔” ان تصدونا ۔۔۔۔ تا ۔۔ بسلطان مبین “ ان کے دعوے میں یہ واضح دلیل وحجت ہے۔
Ayah 14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے۔ اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں۔ اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔

تفسیر 11۔” قالت لھم رسلھم۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ علی من یشاء من عبادہ “ نبوت اور حکمت کے ساتھ ۔ ” وما کان اللہ ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ فلیتوکل المومنون “۔
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

ہم کیونکر خدا پر بھروسا نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) راستے بتائے ہیں جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

تفسیر 12۔” وما لنا ان لا نتو کل علی اللہ “ اور یہ پچانتے ہیں کہ کوئی چیزر اس کی قضاء قدرت کے ان کو نہیں پہنچتی ۔ ” وقد ھدانا سبلنا “ ہمارے لیے واضح کر دے ، ہدایت کے راستے کو اور نجات کا راستہ دکھلا دے۔” والنصبرن “ لام برائے قسم کے لیے ہے۔ اصل میں اس طرح تھا۔ ” واللہ لنصبرن “۔۔۔۔ ” علی ما آذیتمونا وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون “ ۔
Ayah 14:13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا (ہمارے) مذہب میں داخل ہوجاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دینگے

13۔” وقال الذین کفروا لرسلھم لنخرجنکم من ارضنا او لتعودن فی ملتنا “ یا لوٹ جائو ہمارے دین کی طرف۔” فاوحی الیھم ربھم لنھلکن الظالمین “۔
Ayah 14:14

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے۔ اور میرے عذاب سے خوف کرے

14۔” ولنسکننکم الارض من بعدھم “ ان کی ہلاکت کے بعد ” ذلک لمن خاف مقامی “ جو میرے سامنے قیامت کے دن کھڑے ہونے سے ڈرتا ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” ولمن خاف مقام ربہ جنتان “ بندے کی اضافت اپنی طرف کی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ” ندمت علی ضربک “ اس کا مطلب یہ ہے کہ ” علی ضربی ایاک “ ۔۔۔” وخاف وعید “ اور میری سزا سے ڈرا۔
Ayah 14:15

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو سرکش ضدی نامراد رہ گیا۔

15۔” واستفتحوا “ اس کا مطلب ہے کہ ان سے مدد مطلب کرو ، ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ اس کی ضمیر ما قبل امتوں کی طرف راجع ہے کیونکہ وہ امتیں کہا کرتی تھیں کہ اگر یہ انبیاء و رسل (علیہم السلام) صادق ہیں تو پھر ہم پر عذاب نازل فرما۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا فرمان ” واذا قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجازۃ من السماء “ اے اللہ ! اگر یہ ہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کردے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے کہ ” استفتحوا “ کی ضمیر رسل کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب رسولوں نے دیکھا کہ ان کی قوم ایمان نہیں لاتی تو وہ اللہ سے مدد مانگنے لگتے اور قوم کے لیے عذاب کی دعا کرتے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا ” رب لد نذر علی الارض من الکافرین دیارا “ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارشادفرمایا ” ربنا اطمس علی اموالھم و اشدد علی قلوبھم “۔۔۔ ” وخاب “ خسارے میں پڑگیا اور بعض نے کہا کہ وہ ہلاکت میں پڑگیا ۔” کل جبار عنید “۔ جبار عنید کی تفسیر میں مختلف اقوال جبار کہتے ہیں کہ جو اپنی ذات سے اعلیٰ اور بالا کسی کو نہ سمجھے ۔ جبر یہ کہا جاتا ہے کہ انتہائی بلندی کو طلب کرنا کہ اس سے اونچی کوئی چیز نہ ہو ۔ اس معنی کی بناء پر اس صفت کا استحقاق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ جبار اس کو کہا جاتا ہے جو مخلوق کو اپنے حکم پر چلنے کے لیے مجبور کرے اور عنید کا معنی ہے حق سے عناد رکھنے والا سچائی سے بیزار ہونے والا ۔ حضرت ابن عبا س ؓ نے عنید کا ترجمہ کیا ہے حق سے روگردانی کرنے والا ۔ مقاتل (رح) نے اس کا ترجمہ کیا تکبر کرنے والا ۔ قتادہ (رح) نے اس کا ترجمہ کیا کہ عنید وہ شخص ہے جو لاالہ الا اللہ کا انکار کرے۔
Ayah 14:16

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

تفسیر 16۔” من ورائہ جھنم “ ان کے آگے جہنم ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وکان وراء ھم ملک ‘ ‘ یعنی ” امامھم “ ( ان کے آگے) ابو عبیدہ کا قول ہے کہ یہ اضداد میں سے ہے۔ اخفش کا قول ہے کہ جیسے کہا جاتا ہے کہ یہ کام تمہارے پیچھے آ رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کام بعد میں تمہارے پاس ہوگا اور میں فلاح کے پیچھے کھڑا ہوں ۔ یعنی اس کی آڑ میں ہوں اور مقاتل (رح) کا قول ہے اس کے پیچھے جہنم ہے اس کے بعد ” ویسفی من ماء صدید “ یعنی وہ پانی جو دوزخیوں کے پیٹ اور کھالوں سے بہے گا وہ پیپ اور خون ہوگا ۔ محمد بن کعب کا قول ہے وہ پانی جو زنا کاروں کے اعضاء نہانی سے بہے گا وہ کافروں کو پلایا جائے گا ۔
Ayah 14:17

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔

17۔” یتجرعۃ “ اس کو گھونٹ گھونٹ کر پئے گا ۔ ایک ہی مرتبہ نہیں پئے گا بلکہ گھونٹ گھونٹ کر کے اس کی کڑواہٹ اور اس کا بہت زیادہ گرم ہونے کی وجہ سے ۔” ولا یکاد یسیغہ “ یکاد صلۃ ہے۔ آسانی کے ساتھ اس کو نہیں پی سکے گا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لم یکدا یراھا “ وہ نہیں دیکھے گا ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کو آسانی کے ساتھ نگل نہیں سکے گا ۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ وہ اپنے پیٹ میں درد محسوس کرے گا ۔ ( اس کو ہضم نہیں کرسکتا ) ۔ حضرت ابو امامہ (رح) سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں اس فرمان کے بارے میں ” ویسقی من ماء صدید یتجرعہ “ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ دوزخی جب اس کے پینے کے لیے منہ کے قریب کرے گا تو وہ ناپسند کرے گا ۔ جب وہ اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کا چہر بھون جائے گا اور سر بمع بالوں و کھال کے اس میں گرجائے گا اور جب وہ اس کو پئے گا اس کی آنتیں کٹ جائیں گی ۔ یہاں تک کہ وہ اس کے پیچھے سے نکل جائیں گی۔ جیسا کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ” وسقوا ماء حمیما فقطع امعاء ھم “ کہ ان کو گرم پانی پلایا جائے گا جس وجہ سے ان کی آنتیں کٹ جائیں گی اور وہ کہیں گے ” وان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمھل یشوی الوجوہ “۔۔۔۔ ” ویاتیہ الموت من کل مکان “ وہ موت کی سختیاں اور شدائد ہیں اور ” من کل مکان “ سے مراد جسم کا ہر حصہ ، ابراہیم تیمی (رح) کا قول ہے یہاں تک کہ ہر بال کے نیچے سے ان پر موت کی سختی محسوس ہوگی ۔ بعض نے کہا کہ موت کا فرشتہ ان کے سامنے سے پیچھے سے اوپر سے نیچے سے دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے آئے گا ۔ ” وما ھو بمیت “ وہ اس سے راحت نہیں پائے گا ۔ ابن جریج (رح) کا قول ہے کہ ان کی سانس گلے میں اٹکی رہے گی ، نہ منہ سے باہر نکلے گی اور نہ اندر ہی اترے گی کہ اس سے زندگی حاصل ہو ۔ اس کی مثال ” لا یموت فیھا ولا یحیٰ ۔۔۔۔۔۔ ” ومن ورائہ “ اور اس عذاب کے بعد ۔ ” عذاب غلیظ “ بہت سخت عذاب ہوگا ۔ بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مراد ہے دوزخ میں ہمیشہ رہنا ۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا انکے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے جائے (اسی طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے۔

18۔” مثل کفروا برھم اعمالھم “ جن لوگوں نے اعمال کے ساتھ اپنے رب سے کفر کیا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ’ ’ ویوم القیامۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجوھم مسودۃ “ ان لوگوں کے چہروں کو دیکھو جنہوں نے اللہ کے ساتھ جھوٹ بالا ، وہ کالے ہیں۔ ” کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف “ دن کو عصوف کہا گیا اس کا معنی ہے ہوا کا تیز چلنا ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ دن گرم ہے یا دن ٹھنڈا ہے۔ وہ ہوا ٹھنڈی یا گرم ہوتی ہے نہ کہ دن ۔ بعض نے کہا کہ عبارت اسی طرح تھی ۔” یوم عاصف ایریح “ ریح کو حذف کردیا گیا ۔ اس سے اللہ رب العزت نے کفار کے اعمال کی مثال بیان کی ہے کہ کافروں نے دنیا کے اندر جو نیک اعمال کیے وہ ان کو کچھ نفع بخش نہیں ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا رکھا تھا جیسے ہوا کے ساتھ مٹی کے ذرات موجود ہوں تو اس ہوا سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لا یقدرون “ اس سے مرادکفا رہیں۔” مما کسبوا “ جو انہوں نے دنیا میں کمایا ۔” علی شیء “ آخرت میں کوئی بدلہ نہیں ہوگا ۔” ذلک ھو الضلال البعید “۔
Ayah 14:19

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے ؟ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کردے۔

تفسیر 19۔” الم تر ان اللہ خلق السموات والارض “ حمزہ اور کسائی نے ” خالق السموات والارض “ پڑھا ہے۔ اسی طرح سورة نور میں ہے ” خالق کل دابۃ “ ان صورتوں میں یہ مضاف ہوگا اور دوسرے قراء نے خلق ماضی پڑھا ہے اور آگے جملہ منصوب پڑھا ہے۔ ” بالحق “ ان دونوں کو پیدا کیا ہے حق کے لیے یعنی امر عظیم کے لیے پیدا کیا ، بےفائدہ نہیں بنایا ۔” ان یشاء یذھبکم ویات بخلق جدید “ تمہارے علاوہ کسی اور کو وہ لے آئے جو تم سے زیادہ فرمانبردار ہو۔
Ayah 14:20

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں۔

20۔” وما ذلک علی اللہ العزیز “ یہ تمام چیزیں اس کی قدرت میں آسان ہیں کوئی بھی چیز اللہ کے ہاں دشوار نہیں ، وہ بزرگ اور بلند عظمت والا ہے۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف العقل متبع اپنے (رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لئے نہیں ہے۔

21۔” وبرزوا اللہ جمعیا ً “ یعنی وہ سب کے سب اپنی قبروں سے باہر نکل آئے اور سب ظاہر ہوجائیں گے۔” فقال الضعفائ “ ان کی پیروی کرنے والے لوگ کہیں گے ” للذین استکبروا “ یعنی ان لیڈروں سے کہیں جو پیغمبروں کی پیروی سے روکتے تھے۔” انا کنا لکم تبعا ً “ جمع تابع کی ہے جیسے حرس جمع ہے حارس کی ۔ ” فھل انتم مغنون “ دفاع کرنے والے ہو ۔ ” عنا من عذاب اللہ من شی قالوا “ اپنے پیروکاروں سے کہو کہ وہ تمہیں اس عذاب سے نجات دیں ۔” لو ھدانا اللہ لھدینا کم “ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تو تم کو بھی ہدایت دیتے لیکن جب ہم گمراہ ہوئے تو پھر ہم نے تمہیں گمراہی کی طرف دعوت دی ۔” سواء علینا اجز عنا ام صبرنا مالنا من محیص “ نہ ان کے لیے بھاگنے کی جگہ ہوگی اور نہ ہی وہ اس ( جہنم) سے نجا ت پائیں گے۔ دوزخیوں کی فریاد مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ دوزخی آگ میں کہیں گے آئو ہم سب مل کر خوف فریاد کریں ۔ چناچہ وہ پانچ سو برس تک فریاد کریں گے۔ ان کو یہ فریاد کچھ نفع نہیں پہنچا سکے گی ۔ پھر وہ کہیں گے کہ آئو سب اس پر صبر کریں ۔ چناچہ وہ پانچ برس تک صبر کریں گے اور جب دیکھیں گے کہ کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو پھر کہیں گے ” سواء علینا اجز عنا ام صبرنا مالنا من محیص “۔ محمد بن کعب قرظی (رح) کا ب یان ہے کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ دوزخی ، دوزخ کے منتظمین سے کہیں گے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ” وقال الذین فی النار لخزنۃ جھنم ادعوا ربکم یخفف عنا یوما ً من العذاب “ اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ایک دن ہی ہمارے عذاب میں تخفیف کر دے۔ منتظمین دوزخ جواب دیں گے ” اولم تک تاتیکم رسلکم بالبینات قالوا بلی “ کیا تمہارے پاس رسول واضح دلائل لے کر نہیں آئے تھے، انہوں نے کہا کیوں نہیں ۔ پھر جہنم کے خازنین کہیں گے ” ادعوا وما دعا الکافرین الا فی ضلال “ کہ تم خود دعا کرو کافروں کی دعا سوائے ناکامی کے اور کچھ نتیجہ نہیں۔ جب وہ اس سے مایوس ہوجائیں گے تو آواز دیں گے ” یا مالک لیقض علینا ربک ‘ ‘ اے مالک ! تمہارا رب تو ہمارا کام تمام ہی کر دے ، مالک ان کو اسی (80) برس تک کوئی جواب نہیں دے گا ۔ اسی برس میں ہر سال تین سو ساٹھ دن کا ہی ہوگا لیکن ہر دن ہزار برس کا ہوگا ، اسی برس کے بعد جواب دے گا تم کو یہیں رہنا ہوگا ، جب وہ ناامید ہوجائیں گے تو وہ ایک دوسرے سے کہیں گے تم پر جو مصیبت آنی تھی وہ آہی گئی ، ہم کو صبر کرنا چاہیے ، شاید یہ صبر ہمارے لیے کچھ نفع مند کار گر ہو ۔ جس طرح دنیا میں جن لوگوں نے اللہ کی اطاعت پر صبر کیا تھا تو ان کو فائدہ ہوا، وہ صبر کرنے پر جمع ہوجائیں گے اور طویل مدت صبر پر قائم رہیں گے ۔ پھر جزع فزع کریں گے اور طویل مدت تک کرتے رہیں گے پھر پکاریں گے۔” سواء علینا اجز عنا ام صبرنا ما لنا من محیص “ یعنی کوئی نجات کا مقام نہیں ۔ پھر ان میں ابلیس کھڑے ہو کر ان کو خطاب کرے گا اور کہے گا ۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

جب (حساب کتاب کا) کام فیصل ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہنا مان لیا۔ (آج) مجھے ملامت نہ کرو اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بیشک جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے۔

وقال الشیطان لما قضی الامر کی تفسیر تفسیر 22۔” وقال الشیطان لما قضی الامر ان اللہ وعد کم وعد الحق “ جب وہ شیطان کی بات سن لیں گے تو اپنے آپ سے نفرت ہوجائے گی ، اس پر ان کو آواز دی جائے گی جتنی نفرت آج تم کو اپنے آپ سے ہو رہی ہے، اس سے زیادہ نفرت اللہ کو تم سے اس وقت بھی جب تم کو ایمان کی دعوت دی جا رہی تھی اور تم انکار کر رہے تھے ، یہ سن کر وہ پکار اٹھیں گے اے نفرت اللہ کو تم سے اس وقت تھی جب تم کو ایمان کی دعوت دی جا رہی تھی اور تم انکار کررہے تھے ، یہ سن کر وہ پکار اٹھیں گے اے نفرت اللہ کو تم سے اس وقت تھی جب تم کو ایمان کی دعوت دی جا رہی تھی اور تم انکار کررہے تھے ، یہ سن کر وہ پکار اٹھیں گے اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو پھر لوٹا دے ہم اچھے عمل کریں گے ہم کو یقین آگیا ، اللہ تعالیٰ ان کی تردید میں فرمائے گا ۔ ” ولا شئنا لا تینا کل نفس ھداھا “ پھر وہ تیسری بار پکاریں گے، اے ہمارے رب ! ہم تیری دعوت قبول کریں گے اور پیغمبروں کا بھی اتباع کریں گے تو ہم کو تھوڑی مدت کیلئے مہلت دے دے ، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل مالکم من زوال “ کیا تم نے اس سے پہلے قسم کھا کر نہیں کہا تھا کہ ہم کو فنا نہیں ۔ پھر وہ چوتھی مرتبہ پکاریں گے۔ اے ہمارے ! تو ہمیں یہاں سے نکال دے ، ہم جو کچھ پہلے کرچکے ان کے سوا دوسرے عمل کریں گے۔ پھر ان کو جواب دیا جائے گا ۔” الم تکن آیاتی تتلی علیکم فکنتم بھا تکذبون “ کہ کیا ہم نے تم کو ایسی اور اتنی زندگی نہیں دی تھی کہ اس میں جو نصیحت پکڑنے والا تھا نصیحت پکڑ لیتا اور کیا تمہارے پاس ڈرانے والا نہیں پہنچا تھا ۔ پھر ایک مدت تک ٹھہرنے کے بعد اللہ ان سے فرمائے گا اس میں ذلت کے ساتھ رہو، مجھ سے بات بھی نہ کرو ، اس وقت وہ بالکل مایوس ہوں گے اور دعا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور باہم نوحہ کریں گے اور دوزخ کا دروازہ بند کردیا جائے گا ۔” وقال الشیطان “ اس سے ابلیس مراد ہے۔ ” لما قصی الامر “ جب وہ فیصلے سے فارغ ہوجائے گا جتنی جنت میں دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے ۔ مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ دوزخ میں شیطان کے لیے منبر بنایا جائے گا ، تمام کفار اپنے اپنے سرداروں کے ساتھ اس کے آس پاس جمع ہوں گے اور یہ ان سے کہے گا ۔” ان اللہ وعد کم وعد الحق “ بیشک اللہ نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا وہ سچا تھا۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا ۔ ( ووعدتکم فاخلفتکم) ( بس میں نے تم سے وعدہ کیا تھا اب اس سے وعدہ کے ساتھ خلاف ورزی کی) اور پھر کہا جائے گا کہ شیطان ان سے کہے گا کہ میں نے تمہیں کہا تھا کہ نہ کوئی جنت ہے اور نہ ہی دوزخ ( وما کان لی علیکم من سلطن اور نہ کوئی اس پر میرے پاس دلیل تھی) اور بعض نے کہا کہ اس وقت وہ لوگ شیطان سے کہیں گے کہ تم نے اپنے دعوے کے مطابق کوئی دلیل کیوں نہ دی ۔ ( الا ان دعوتکم ) شیطان کہے گا کہ میں نے تو صرف تمہیں دعوت دی تھی یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ ( فاستجبتم لی فلا تلو مونی ولو موا انفسکم) اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا ، لہٰذا اب تم مجھ پر ملامت نہ منقطع ہے ( فاستجبتم لی فلا تلومونی ولو موا انفسکم) اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا ۔ لہٰذا اب تم مجھ پر ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو کیونکہ تم نے میری دعوت کو اور میری پیروی کو بغیر کسی دلیل اور حجت کے اختیار کیا ۔ ” ما انا بمصرخکم “ میں تمہاری داد رسی نہیں کرسکتا ۔ ” وما انتم بمصرخی “ اور نہ ہی تم میری مدد کو پہنچ گے۔ حمزہ اور اعمش نے ” بمصرخی “ یاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے جن کے نزدیک کسرہ ہے وہ کہتے ہیں کہ التفاء ساکنین کی وجہ سے یاء کو کسرہ دیا کیونکہ یاء کسرہ کو چاہتی ہے ۔ نحویین کے نزدیک یہ جائز نہیں اور بعض نے کہا کہ یہ لغت بنی یر بوع کے نزدیک ہے ۔ یہ اصل میں ” بمصرخینی “ نو ن اضافت کا وجہ سے گرگیا ، پھر دو یائوں میں التفاء ساکنین آیا یاء کو یاء میں مدعم کردیا۔ ” انی کفرت بما اشرکتمونی من قبل “ آج سے پہلے دنیا میں جو تم مجھ کو اللہ کے ساتھ عبادت وطاعت میں شریک کرتے تھے آج اس شرک کا میں انکار کرتا ہوں اور تم سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں ۔ ” ان الظالمین “ مراد کافر ہیں ۔ ” لھم عذاب الیم “ امت مسلمہ کی شفاعت نبی کریم ﷺ کریں گے اور کافروں کا سفارشی شیطان ہو گا حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے حدیث شفاعت کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب لوگ سفارش کرواتے کرواتے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچیں گے تو آپ کہیں گے کہ میں تم کو پتہ بتاتا ہوں تم نبی امی کے پاس جائو وہ سب سے زیادہ صاحب فضلیت والے ہیں ۔ آخر لوگ میرے پاس آئیں گے اور اللہ مجھے کھڑے ہو کر گزارش کرنے کی اجازت دے گا ۔ پھر میری مجلس ایک بےمثال پاکیزہ ترین خوشبو سے مہکا دی جائے گی ۔ ایسی مہک ہوگی کہ کسی نے ایسی خوشبو نہیں سونگھی ، پھر میں اپنے رب کے سامنے حاضر ہو کر شفاعت کروں گا ۔ اللہ میری شفاعت قبول فرمائے گا اور سر کے بالوں سے پائوں کے ناخن تک مجھے نور ہی نور کر دے گا ۔ سر تا قدم نور ہی نور کر دے گا ، یہ دیکھ کر کافر کہیں گے کہ مسلمانوں کو تو سفارشی مل گیا ، اب ہماری سفارش کون کرے گا ؟ خود ہی جواب دیں گے اب تو ابلیس ہی جس نے ہم کو گمراہ کیا تھا ہمارے سامنے ہے کوئی سفارشی موجود ہی نہیں ہے۔ جب یہ لوگ ابلیس کے پاس پہنچیں گے اس کو کہیں گے کہ تو ہمارے لیے سفارش کر ۔ ابلیس جونہی اٹھے گا اس کی مجلس میں بد ترین بو اڑنے لگی گی ، ایسی بدبو پہلے کسی نے نہیں سونگھی ہوگی ، پھر ابلیس ان کو جہنم کی طرف لے جائے گا اور ان سے کہے گا ” ان اللہ وعد کم وعد الحق “۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے وہ بہشتوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں انکی صاحب سلامت سلام ہوگا۔

تفسیر 23۔” وادخل الذین آمنوا وعملوالصلحت ۔۔۔۔ تا ۔۔ فیھا سلام “ بعض ، بعض کو سلام کرتے ہیں اور فرشتے ان پر سلامتی بھیجتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ
Ayah 14:24

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (اور ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں۔

24۔” الم ترکیف ضرب اللہ مثلا ً “ کہ کیا تم نہیں جانتے مثل کہتے ہیں کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ من کل الوجوہ تشبیہ دی جائے۔ ” کلمۃ طیبہ “ اس سے مراد لا الہ الا اللہ ہے ” کشجرۃ طیبہ “ اس سے مراد کھجور ہے کہ جس کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ ابو ظبیان نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ درخت جنت میں ہے۔” اصلھا ثابت “ زمین میں اس کی جڑیں ” وفرعھا “ اس کی بلندی ” فی السمائ “ اسی طرح یہ کلمہ مؤمن کے دل میں راسخ ہے۔ معرفت و تصدیق کے ساسھت جب ان الفاظ کے ساتھ کلام کرتا ہے تو اس طرف چڑھتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل کے پاس پہنچ جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” الیہ یصعدالکم الطیب والعمل الصالح یرفعہ “۔
Ayah 14:25

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو اور خدا لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

25۔” توتی اکلھا “ اس کے پھل اس کو ڈھانپ لیں گے۔” کل حین باذن ربھا “ لغت میں حین ایک وقت کو کہا جاتا ہے۔ کل حین کی مختلف تفاسیر اس کے معنی میں مفسرین رحمہم اللہ کا اختلاف ہے۔ مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ کا قول ہے کہ یہاں حین سے مراد ایک مکمل سال ہے کیونکہ کھجور سال میں ایک مرتبہ پھل دیتی ہے۔ سعید بن جبیر و قتادہ و حسن رحمہم اللہ کا قول ہے کہ اس سے چھ ماہ مراد ہیں کہ اس مدت میں پھل کا ظاہر ہونا پھر پکنا ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد چھ ماہ ہی ہیں ۔ بعض نے کہا کہ چار ماہ اس کے ظاہر ہونے سے لے کر اس کے پانے تک سعید بن المسیب نے کہا کہ اس سے مراد دو ماہ ہیں ، اتنی مدت میں پھل کاٹنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ ربیع بن انس کا قول ہے کہ ” کل حین “ سے مراد صبح و شام ہے کیونکہ صبح و شام ، دن وت رات ، گرمی و سردی ، تر ہو یا خشک ہر وقت موجود ہوتی ہے ۔ اسی طرح مؤمن کا عمل دن کے اول و آخر اوپر جاتا رہتا ہے اس کے ایمان کی برکت کی وجہ سے وہ کبھی اس سے نہیں کٹے گا بلکہ ہر وقت اس کا نیک عمل اوپر جاتا رہتا ہے۔ ایمان کی مثال درخت کے ساتھ دینے میں حکمت ایمان کی مثال درخت کے ساتھ دینے میں یہ حکمت ہے کہ جس طرح درخت تین چیزوں کے بغیر درخت نہیں رہ سکتا ، پانی ، مضبوط تنا اور اس کی اونچائی ، اس طرح ایمان تین چیزوں کے بغیر نام نہیں ہوسکتا ، تصدیق بالقلب ، زبان سے اقرار کرنا اور عمل بالا رکان۔ انسان کو کھجور کے ساتھ تشبیہ دینے کی حکمت عبد اللہ بن دینار (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے ، اس کی مثال مسلمان جیسی ہے بتائو وہ کون سا درخت ہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں اس درخت کے متعلق آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن مجھے حیا آئی (کہ مجھ سے بڑھ بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین موجود ہیں) پھر صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) آپ ہمیں اس کے متعلق بتلائیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا کہ یہ بات میں نے اپنے والد حضرت عمر بن الخطاب ؓ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے وہاں یہ بات کیوں نہ کہی ، اگر تم اس طرح کہہ دیتے تو میرے لیے ایسا ایسا ہوتا ۔ کھجور کے ساتھ تشبیہ دینے میں حکمت یہ ہے کہ نخلہ تمام درختوں میں سے ایک ایسا درخت ہے جو انسان کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ اس طور پر کہ اگر کھجور کا سر کاٹ دیا جائے تو وہ خشک ہوجاتی ہے جبکہ دوسرے درختوں کے سر کاٹ دیئے جائیں تو وہ نہیں سوکھتے اور انسان کے ساتھ ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ یہ پھل اس وقت نہیں دیتی جبکہ اس کے ساتھ نر مادہ کو جوڑا نہ جائے اور اس وجہ سے بھی کہ اس کو آدم (علیہ السلام) کے بچے ہوئے گارے سے بنایا گیا ۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی پھوپھی کا اکرام کرو ، کہا گیا کہ یہ کیا یہ ہماری پھوپھی ہے ، فرمایا کھجور ۔ ” ویضرب اللہ الامثال اللناس لعلھم یتذکرون “۔
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے اسکو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں۔

26۔” ومثل کلمۃ خبیثۃ “ کلمہ خبیثہ سے مراد شرک ہے۔ ” کشجرۃ خبیثۃ “ اس سے مراد حنظل ( کوڑ تما) کا درخت ہے۔ بعض نے کہا کہ لہسن کا درخت ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مرادپیلو کا درخت ہے۔ ” احتثت “ وہ زمین سے اکھڑ جائے۔ ” من فوق الارض ما لھا من قرار “ وہ زمین پر ثابت نہیں یعنی اس کی جڑیں زمین میں مضبوط نہیں اور نہ ہی اس کی شاخیں بلندی پر پہنچتی ہیں ۔ یہی مثال کافر کی ہے کہ اس کے کسی کام میں خیر نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی اچھا کام اوپر جاتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کا نیک عمل ہوتا ہے۔
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے۔ اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

قول ثابت کی وضاحت 27۔” یثبت اللہ الذین آمنوا بالقول الثابت “ اس سے کلمہ توحید مراد ہے اور وہ لا الہ الا اللہ ہے۔ ” فی الحیوۃ الدنیا “ موت سے پہلے۔” وفی الاخرۃ “ اس سے مراد قبر ہے۔ یہی اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور بعض نے کہا کہ ” فی الحیوۃ الدنیا “ سے مراد قبر میں سوال و جواب کا ہونا ہے اور آخرت میں جی اٹھنے کے بعد سوال و جواب ہوگا ۔ یہی صحیح ہے۔ حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب مسلمان سے قبر میں سوال پوچھا جائے گا تو وہ گواہی دے گا ” ان لاالہ الا اللہ وان محمد ا ً رسول اللہ “ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” یثبت اللہ الذین آمنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الآخرۃ “ کا یہی مطلب ہے۔ اسی سند کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے ، فرمایا ” یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت “ یہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی کہ کہا جائے گا تمہارا رب کون ہے ؟ تو وہ کہے گا میرا رب اللہ ہے اور نبی محمد ﷺ ہیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت “۔ اثبات عذاب القبر حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ وہاں سے چلے جاتے ہیں تو وہ ان کے جانے کی قدموں کی آہٹ سنتا ہے ، پھر اس میت کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں تو وہ دونوں فرشتے میت سے کہتے ہیں کہ اس رجل ( محمد ﷺ) کے متعلق تم کیا کہتے ہو ؟ اگر میت مؤمن ہو تو وہ کہے گی کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے بھیجے ہوئے ہیں فرشتے اس کو کہیں گے دیکھو اپنی جگہ کی طرف جو جہنم میں تمہارے لیے بنائی گئی تھی ، اللہ نے تمہیں اس کے بدلے میں جنت میں جلہ عطا کی ہے تو وہ دونوں جگہیں دیکھتا ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اس کے لیے قبر کو کشادہ کردیا جاتا ہے، پھر انہوں نے حضرت انس ؓ کی حدیث کی طرح حدیث نقل کی ہے۔ اگر وہ میت منافق یا کافر ہوئی تو جب اس سے کہا جائے گا کہ تم اس رجل کے متعلق کیا کہتے ہو تو وہ کہے گا کہ میں نہیں جانتا ، میں وہی کچھ کہتا ہوں جو لوگ کہا کرتے ہیں تو اس سے کہا جائے گا نہ تو جانتا ہے اور نہ تو کہہ سکتا ہے ۔ پھر اس کو لوہے کو ہتھوڑے کے ساتھ مارا جائے گا ، پھر وہ چیخے گا اس کی چیخ و پکار جن و انس کے علاوہ سب سنتے ہیں ۔ حضرت ابو یرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میت جوتوں کی آہٹ سنتی ہے جب لوگ قبر سے واپس جاتے ہیں پھر اس میت کو بٹھاتے ہیں اور اس کے کفن کو اس کی گردن میں ڈال دیتے ہیں پھر اس سے سوال کرتے ہیں۔ قبر مؤمن کیلئے کشادہ اور منافق و کافر کیلئے تنگ کردی جاتی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب قبر میں دو فرشتے کالے رنگ نیلگوں آنکھوں والے آئیں گے ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے تو وہ دونوں کہتے ہیں کہ تو اس رجل کے متعلق کیا کہتا ہے ؟ تو وہ مؤمن شخص کہتا ہے کہ وہ عبد اللہ اور اس کے بھیجے ہوئے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں ،” ان لا الہ الا اللہ وان محمدا ً عبدہ و رسولہ “ پھر وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم تھا کہ تم یہی کہو گے پھر اس کی قبر کو ستر ذراع وسیع کردیا جاتا ہے ، پھر اس کو منور کردیا جاتا ہے ، پھر ان کو کہا جاتا ہے سوجا ۔ پھر اس کو کہا جاتا ہے کہ اپنے اہل والوں کی طرف لوٹ جائو اور ان کو خبر دو ، پھر اس کو کہا جائے گا کہ سو جادلہن کے سونے کی طرح جس کو سوائے اس شخص کے جو سب گھر والوں میں اس کو پیاری ہوتی ہے اور کوئی نہیں اٹھاتا یہاں تک کہ اللہ اس کو خواب گاہ سے اٹھائے گا اور اگر مردہ منافق ہوگا تو جواب دے گا کہ میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تھا ، میں نے بھی ویسے ہی کہہ دیا ، مجھے کچھ معلوم نہیں ، فرشتے کہیں گے ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ تو یہ بات کہے گا پھر زمین کو حکم دیا جائے گا تو اس پر وہ مل جا۔ زمین اس منافق کو اتنا دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر نکل جائیں گی۔ اس طرح برابر عذاب میں مبتلا رہے گا ، یہاں تک کہ اللہ اس کو اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا ۔ قبر میں مردے کو زندہ کیا جاتا ہے اور اس سے حساب کتاب لیا جاتا ہے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن کی روح جب قبض کی جاتی ہے تو قبر میں اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور میت کو بٹھاتے ہیں اور اس سے سوالات کرتے ہیں کہ تمہارا رب کون ہے ؟ اور تمہارا دین کیا ہے اور تمہارا نبی کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور میرا دین اسلام ہے اور میرا نبی محمد ﷺ ہیں اور دوسری روایت میں آتا ہے کہ اس کو دوسری مرتبہ کہا جائے گا کہ تمہارا رب کون ہے اور تمہارا دین کیا ہے ؟ اور تمہارا نبی کون ہے ؟ یہی آخری فتنہ ہے جو مؤمنین پر پیش آتا ہے اللہ اس پر ثابت قدم رکھتے ہیں ۔ پھر وہ شخص کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور میرا دین اسلام ہے اور میرا نبی محمد ﷺ ہیں ۔ آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا ۔ فرمایا یہی مطلب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ” یثبت اللہ الذین آمنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ “۔ حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب دفن سے فارغ ہوئے ، آپ قبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اپنے بھائی کے استغفار کرو اور اللہ سے اس کے لیے ثابت قدمی مانگو کیونکہ اس سے اس وقت سوال کیا جاتا ہے ۔ حضرت عمرو بن العاص کے سامنے جب موت کا تذکرہ آتا تو اس پر وہ خوب روتے اور ارشاد فرماتے کہ جب میں مر جائوں تو میرے ساتھ نوحہ کرنے والی اور نہ آگز کو میرے ساتھ لایا جائے۔ جب مجھے دفن کر چکو، میری قبر پر مٹی برابر کرلو اور قبر کو کوہان نما بنادینا ، پھر میری قبر کے اراد گرد اتنی دیر ٹھہرے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کو تقسم نہیں کیا جاتا تا کہ میں تمہارے کھڑے ہونے سے مانوس رہوں اور فرشتوں کی واپسی تم واپس نہ لوٹ جانا ۔ ” یض اللہ الظالمین “ مشرکین قبر میں سوال کے جوابات کی رہنمائی حاصل نہیں کرسکتے۔” ویفعل اللہ ما یشاء “ اس کی توفیق سے اور اس کی رسوائی اور ثابت قدمی کا باقی رہنا یا اس کا باقی نہ رہنا ۔
Ayah 14:28

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا ؟

تفسیر 28۔” الم ترالی الذین بدلو ا نعمۃ اللہ کفرا “ عمرو عطاء سے مروی ہے کہ ابن عباس ؓ نے اس قول کے بارے میں فرمایا کہ واللہ وہ قریش کفار تھے۔ حضرت عمر ؓ نے ارشاد فرمایا کہ وہ نا شکرے قریش تھے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت محمد ﷺ کی ذات تھی ۔ ” واحلوا قومھم دارالبوار “ بوار سے مراد بدر کا دن ہے۔” بدلوا نعمۃ اللہ “ سے مراد جنہوں نے اللہ کی نعمتوں کو بدل ڈالا اس طور پر کہ ان میں ایک بڑی نعمت (محمد ﷺ) اللہ نے بھیجی اس کا انہوں نے انکار کیا اور ان لوگوں کی پیروی کی جو کفر پر ڈٹے ر ہوئے تھے اور وہ ہلاکت کی جگہ پڑے رہے ، پھر دارالبوار کی وضاحت کی۔
Ayah 14:29

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہونگے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

29۔” جھنم یصلونھا “ اس میں وہ داخل ہوں گے۔” وبئس القرار “ جہنم بری جگہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ جنہوں نے اللہ کی نعمت کو بدل دیا انکار کر کے اس سے مراد کفار قریش ہیں کہ بدر کے دن انہوں نے فخر کیا اور عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ قریش کے دو بڑے گروہ جو سب سے زیادہ بدکار تھے ان میں بنی مغیرۃ اور بنی امیہ ہیں ۔ بنی مغیرہ کے شر سے تو بدر کی لڑائی میں تمہاری حفاظت ہوچکی اور بنو امیہ کو ایک وقت تک مزے اڑانے کا موقع دیا گیا ۔
Ayah 14:30

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اسکے راستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھالو آخر تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

30۔” وجعلوا اللہ اندادًا “ اس سے مراد اللہ کی مثل دوسروں کو قرار دیا ، باوجود یکہ اللہ کا کو ث مثل نہیں ۔ ” لیضلوا “ ابن کثیر اور ابو عمرو نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔ اسی طرح سورة حج میں لقمان اور زمر میں بھی پڑھا ہے اور دوسرے قراء کے نزدیک یاء کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ” عن سبیلہ قل تمتعوا “ زندہ رہو دنیا میں ۔” فان مصیر کم الی النار “۔
Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہوگا اور نہ دوستی (کام آئے گی) ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں۔

31۔” قل لعبادی الذین آمنوا یقیموا الصلوٰۃ “ یہ مجزوم ہے جرا ہونے کی وجہ سے۔” وینفقوا مما رزقناھم سراو علانیۃ من قبل ان یاتی یوم لابیع ولا خلال “ نہ ان میں کوئی دوستی ہوگی اور نہ ہی کوئی خریدو فروخت۔
Ayah 14:32

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں ( اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اسکے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیرفرمان کیا۔

تفسیر 32۔” اللہ الذی خلق السموات ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ فی البحر بامرہ “ اس کی اجازت سے ” وسخرلکم الابھار “ ان کو تمہارے تابع کردیا جس طرح تم چاہو اس کو جاری کرسکتے ہو۔
Ayah 14:33

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا۔

33۔” وسخر لکم الشمس والقمر دائبین “ یہ دونوں دن و رات چلتے رہتے تا کہ اس کے ذریعے بندے اپنے مصالح کو انجام دیں ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنی اطاعت میں ان کو تیز رفتار بنادیا ۔ ” وسخر لکم اللیل والنھار “ یہ ایک دوسرے کے پیچھے آتی ہے اور دن رات کے پیچھے اور رات دن کے پیچھے آتی ہے۔
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے۔

” واتا کم من کل ماسالتموہ “ وہ تمہارے پاس سب کچھ آگئی جو تم نے ان سے سوال کیا تھا۔ دوسرے شئی کو محذوف قرار دیا جس پر پہلا شئی دلالت کررہا ہے اور بعض نے کہا کہ بہ تکثیر پر دلالت کر رہا ہے ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص تمام اشیاء کو جانتا ہے اور اس کے پاس بہت سارے لوگ آتے ہیں اور ان میں سے تم بعض لوگوں کا ارادہ رکھتے ہو ۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فتحنا علیھم ابواب کل شیء “ حسن نے ” کل “ کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور ما بمعنی نفی کے ہے۔ اس صورت میں آیت کا معنی ہے کہ تمہیں وہ چیزیں بھی عطا کی گئیں جو انہوں نے جو انہوں نے طلب کیں اور وہ اشیاء بھی دیں جو انہوں نے طلب نہیں کیں ۔ ” وان تعدوا نعمۃ اللہ “ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ” لا تحصو تھا “ ان نعمتوں کو تم شمار نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کرسکتے ہو۔ ’ ’ ان الانسان لظلوم کفار “ نافرمانی کر کے اپنی جان کے ساتھ ظلم کرتے ہو اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے رب کی نا شکری کرنے کا ظلم ، بعض نے کہا کہ ظلوم یہ ہے کہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرتا جو اس پر نہیں اور کافر وہ ہے جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کرے۔
Ayah 14:35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لئے) امن کی جگہ بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ۔

35۔” واذقال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد “ بلد سے مراد سے حرام ہے۔” آمنا “ امن والا شہر ” واجنبنی “ اور دور فرما۔” وبنی ان نعبد الاصنام “ ۔۔۔۔۔۔ ’ ’ اجنبتہ جنباً ، جنبتہ ، تجنیبا ً ، اجتنا با ً ، ان سب کا منی ایک ہی ہے۔ شبہ اور اس کا ازالہ اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بتوں کی پوجا کرنے سے معصوم تھے، پھر یہ سوال کرنا درست نہیں ۔ دوسرا یہ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی وبنی ان نعبد الاصنام حالانکہ کیسے کر رہے ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے بعض لوگوں نے بت پرستی کو شروع کیا ہوا تھا، پھر یہ کیسے صحیح ہوگا ۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ دعا ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں ہوئی کہ آپ ہمیشہ بتوں کی پوجا سے محفوظ رہے۔ باقی آپ کی اولاد میں دعا بایں طور پر قبول ہوئی کہ سب بت پرستی کی طرف نہیں گئے۔ بعض نے کہا کہ بنی سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی صلبی اولاد ہے۔ بعض نے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اپنی اولاد میں سے ہے ان کے لیے تھی جو ایمان والے تھے۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔

36۔” رب انھن اضللنن کثیرا ً من الناس “ ان بتوں کی پوجا کرنے کی وجہ سے بہت سارے لوگ راہ دایت سے بھٹک گئے۔ حتیٰ کہ بہت سارے لوگ بتوں کی عبادت کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے ” انما ذلکم الشیطان یخوف الیاء ہ “ اور بعض نے کہا کہ یہاں گمراہی کی نسبت بتوں کی طرف کی کنو کہ انہی کے سبب کی وجہ سے جیسا کہ کہنے والے نے یوں کہا کہ مجھے دنیا نے فتنے میں ڈالا ہوا ہے۔ یہاں فتنہ کی نسبت دنیا کی طرف کی کیونکہ یہ فتنہ کا سبب ہے۔ ’ ’ فمن تبعنی فانہ منی “ یعنی وہ میرے دین اور ملت کا پیروکار ہے۔ ” ومن عصانی فانک غفور الرحیم “ سدی (رح) کا قول ہے کہ جس نے میری نافرمانی کی پھر اس نے توبہ اختیار کی ۔ مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ جس نے شرک کے علاوہ کوئی گناہ کیا اور بعض نے کہا کہ یا اس کو معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتا ۔