Ayah 15:1تفسیر 1۔۔۔۔۔۔” الر “ اس کا معنی ہے کہ میں اللہ ہوں اور دیکھنے والا ہوں۔” تلک آیات الکتاب “ یہ اس کتاب کی واضح نشانیاں ہیں ۔ ” وقرآن “ قرآن کی نشانیاں ہیں ۔ ” مبین “ حلال و حرام اور حق و باطل کے درمیان واضح دلائل اور نشانیاں موجود ہیں۔
ایک شبہ کا ازالہ
سوال یہ ہے کہ پہلے کتاب کا ذکر کر کے پھر دوبارہ قرآن مبین کہنے کا کیا مطلب ہے ؟ دونوں کا معنی تو ایک ہی ہے ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ ہر ایک کا ذکر علیحدہ فائدے کے لیے ہے کیونکہ کتاب کہا جاتا ہے جو اس کے اندر لکھا جائے اور قرآن کہتے ہیں بعض اشیاء کا جمع کرنا ۔ بعض نے جواب دیا کہ کتاب سے مراد توریت و انجیل ہے اور قرآن سے مراد یہ کتاب ہے۔
Ayah 15:2تفسیر :۔” ربما “ ابو جعفر ، نافع ، عاصم ن، باء کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ۔” رب “ تقلیل کے لیے آتا ہے لیکن مجازا ً اظہار کثرت کے لیے آتا ہے۔ رب اسم پر داخل ہوتا ہے اور کبھی کبھار فعل پر بھی داخل ہوتا ہے۔ جیسے ” رب رجل جاءنی وربما جاءنی رجل “ یہاں پر یہ فعل پر داخل ہے۔ ” یود “ وہ آرزو کریں گے۔” الذین کفروا لو کانوا مسلمین “۔
لو کانوا مسلمین کی مختلف تفاسیر
جس حالت میں کافر اسلام کی تمنا کریں گے اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔ ضحاک (رح) کا قول ہے کہ جب ان کا معائنہ کیا جائے گا یا اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا ۔ بعض نے کہا قیامت کے دن ، مشہور قول یہی ہے کہ جب مؤمنین کو اللہ دروزخ سے نجات دے گا اس وقت یہ تمنا کریں گے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ جب دوزخی دوزخ میں جمع ہوجائیں گے اور حسب مشیت خدا ان کے ساتھ کچھ اہل قبلہ بھی ہوں گے تو کافر مسلمانوں سے کہیں گے کہ کیا تم مسلمان نہ تھے۔ مسلمان کہیں گے ، تھے ، کیوں نہیں ۔ کافر کہیں گے تو اسلام سے کیا فائدہ ہوا ؟ تم بھی ہمارے ساتھ دوزخ میں آگئے ، مسلمان کہیں گے ہمارے کچھ گناہ تھے جن کی وجہ سے اللہ نے ہم کو پکڑ لیا ۔ یہ گفتگو اللہ سنے گا تو حکم دے گا اہل قبلہ میں سے جو بھی دوزخ کے اندر اس کو نکال لیا جائے ، چناچہ سب مسلمان نکال لیے جائیں گے ، دوزخی کافر جب یہ دیکھیں گے تو کہیں گے کاش ! ہم بھی مسلمان ہوتے تو ہم کو بھی ان کی طرح نکال لیا جاتا ۔ پھر حضور ﷺ نے آیت ” ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین “ تلاوت فرمائی۔
شبہ اور اس کا ازالہ
سوال : یہاں پر ” ربما “ کیسے فرمایا حالانکہ ربما تقبل کے لیے آتا ہے اور یہ تمنا کرنے والے کافر بہت زیادہ ہوں گے ؟
جواب یہ دیا کہ ” ربما “ کو تکثیر کے لیے ذکر کیا گیا یا اس وجہ سے کہ وہ سب عذاب میں مشغول ہوں گے وہ ندامت کیلئے فارغ نہیں ہوں گے اور ان کے دلوں میں کبھی کبھار یہ آرزو آتی ہے۔
Ayah 15:33۔” ذرہم “ اے محمد ! ان کافروں کو ” یاکلوا “ یعنی ان کو چھوڑ دو دنیا میں ” ویتمتعوا “ اس کی لذت سے فائدہ اٹھا لیں ۔ ” ویلھھم “ ان کو مشغول رکھے ۔” الامل “ اپنے حصے سے لے لیں ، ایمان و اطاعت سے۔” فسوف یعلمون “ جب قیامت کے دن وارد ہوں گے اور اپنی سزا کا مزہ چکھ لیں گے اور جو کچھ انہوں نے کیا اس کا انجام دیکھ لیں گے ، یہ کافروں کے لیے بطور تہدید اور وعید ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ ان کی تہدید کو رہنے دو اور ” فسوف یعلمون “ دوسری تہدید ہے تو یہاں زندگی میں کہاں عیش ہوسکتی ہے ان دونوں تہدیدوں کے متعلق یہ آیت جہاد کی آیت سے منسوخ ہوگئی۔
Ayah 15:4تفسیر 4۔” وما اھلکنا من قریۃ “ اہل قریہ میں سے کتنی ہلاک کیں ” الا ولھا کتاب معلوم “ ان کیلئے ایک وقت متعین تھا نہ اس سے پہلے یہاں تک کہ ان پر عذاب پہنچ گیا اور نہ ہی عذاب ان سے موخر ہوگا ۔
Ayah 15:55۔” ما تسبق من امۃ اجلھا “ نہ اس کی ہلاکت ہوسکتی ہے وقت سے پہلے۔ ” ومایستاخرون “ ان کی موت نہ پہلے آسکتی ہے اور نہ دیر سے آسکتی ہے۔ بعض نے کہا کہ ان کے عذاب میں جلدی یا تاخیر نہیں ہوسکتی ۔ بعض نے کہا کہ ان کی زندگی کا وقت متعین ہے۔
Ayah 15:66۔” وقالوا “ مشرکین مکہ کہتے تھے ” یایھا الذین نزل علیہ الذکر “ اس سے مراد قرآن ہے اور اس سے مراد محمد ﷺ ہیں ۔” انک لمجنون “ وہ بطور استہزاء کے کہتے کہ اس شخص پر قرآن اتارا گیا ہے ؟
Ayah 15:77۔” لو ما “ ھلا کے معنی میں ہے یعنی برانگیختہ کرنا ۔ ” تاتینا بالملائکۃ “ اپنے دعوے کی صداقت کی شہادت دیں تا کہ وہ گواہی دیں کہ آپ اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں ۔ ’ ’ ان کنت من الصدیق “ کہ آپ نبی ہیں۔
Ayah 15:88۔” ما نزل الملائکۃ “ اہل کوفہ میں سے ابی بکر کے علاوہ دونوں کے ساتھ پڑھا ہے۔ الملائکہ منصوب ہے اور ابوبکر نے ان کو تنزل پڑھا تھا اور ملائکہ کو مرفوع پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے بھی تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور الملائکۃ کو مرفوع پڑھا ہے۔ ” الا بالحق “ اس سے مراد عذاب ہے ، اگر ان پر فرشتے نازل ہوتے تو یہ عذاب لانے میں جلدی کرتے۔ ” وما کانو ا اذا منظرین ‘ ‘ عذاب کو موخر کرنے والے ، کفار فرشتوں کے نزول کے متعلق یہ مطالبہ کرتے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے اسی طرح جواب دیا ۔ معنی یہ ہوگا کہ اگر کفار کو ہم فرشتے سامنے رکھا دیں تو کفار سے مہلت ختم کردی جائے گی اور ان کو فی الحال عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ۔
Ayahs 15:9–109۔” انا نحن نزلنا الذکر “ اس سے مراد قرآن ہے۔ ” وانا لہ لحافظون “ کہ ہم اس قرآن کو شیطان سے محفوظ کرلیں گے کہ نہ وہ اس میں زیادتی کرسکے گا اور نہ اس میں کمی کرسکے گا اور نہ اس کو تبدیل کرسکے گا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ “ والباطل سے مراد ابلیس ہے کہ وہ قرآن میں کسی قسم کی زیادتی پر قادر ہوگا نہ ہی وہ اس قرآن سے کسی قسم کی کمی کرسکے گا ۔ بعض نے کہا کہ ” لہ “ کی ضمیر محمد ﷺ کی طرف راجع ہے ۔ اس صورت میں آیت کا معنی ہوگا کہ ہم محمد ﷺ کی حفاظت فرمائیں گے ان کے ساتھ کوئی برائی کا ارادہ نہیں کرسکتا ، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے۔ ” واللہ یعصمک من الناس “۔
Ayah 15:11تفسیر 11۔” وما یاتیھم من رسول اللہ الا کانوا بہ یستھزون “ اس آیت میں نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی کا بیان ہے، جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ۔
Ayah 15:1212۔” کذک نسلکۃ “ جس طرح گزشتہ کافر امتوں کے دلوں میں ہم نے تکذیب اور استہزاء کو داخل کردیا تھا اسی طرح مکہ کے ان مشرکوں کے دلوں میں بھی ہم کفر اور استہزاء کو داخل کرتے ہیں ۔ ” فی قلوب المجرمین “ اس سے مشرکین مکہ مراد ہیں ۔ اس آیت میں فرقہ قدریہ کی تردید ہے کیونکہ ان کے نزدیک بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے۔
Ayah 15:1313۔” لا یومنون بہ “ یہ ایمان نہیں لائیں گے محمد ﷺ پر اور نہ ہی قرآن پر ۔ ” وقد خلت “ اس سے ما قبل گزر چکی ہیں ۔ ” سنۃ الاولین “ اللہ تعالیٰ نے ما قبل امتوں کو انبیاء کے جھٹلانے کے بسبب ہلاک کیا ۔ اس کے ذریعے اہل مکہ کو ڈرانا مقصود ہے ( کہ اگر تم نے بھی اپنے نبی کو جھٹلایا تو تمہیں بھی ما قبل امتوں کی طرح ہلاک کر دیاجائے گا)
Ayah 15:1414۔” ولو فتحنا علیھم “ یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں ہوتے۔” بابا من السماء فظلوا فیہ یعرجون “ ان کافروں کو اپنی آنکھوں سے فرشتے چڑھتے دکھائی دیں۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ ” یعرجون “ اور ” ظلوا “ کی ضمیریں کافروں کی طرف لوٹ رہی ہیں ۔ مطلب یہ ہوگا کہ کافر خود آسمان کی طرف چڑھنے لگیں ( اور دن کی روشنی میں عجائب آسمانی دیکھتے رہیں)
Ayah 15:1515۔” لقالوا انما سکرت “ اس کا معنی ہے روک دینا ۔ ” ابصارنا “
سکرت ابصارنا کی تفاسیر
ابن عباس ؓ اور حسن (رح) کا قول ہے کہ ہماری آنکھوں کو جادوزدہ کردیا گیا ۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ ہماری آنکھوں کو اچک لیا گیا ۔ کلبی (رح) کا قول ہے کہ نابینا کردیا گیا ۔ ابن کثیر کے نزدیک ( سکرت) کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی اس کا یہ ہے کہ اس کو روک دیا گیا ہے جیسے نہر کو روک دیا جاتا ہے پانی کے سامنے بند باندھنے کے ساتھ۔ ” بل نحن قوم مسحورون “ ہم سحر زدہ لوگ ہیں ہم پر ” نعوذ باللہ “ محمد ﷺ نے جادو کردیا۔
Ayah 15:1616۔” ولقد جعلنا فی السماء بروجا ً “ بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں ۔ یہ ظہور سے مآخوذ ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے ” تبرجت المراء “ عورت نمودار ہوگی ۔ بروج سے منازل ہیں جہاں پر سورج چاند ستارے گردش کرتے ہیں ۔ یہ بارہ برج ہیں۔ حمل ، ثور ، جوزا ، سرطان ، اسد ، سنبلہ ، میزان ، عقرب ، قوس ، جدی ، دلو ، حوت ۔ ابن عطیہ کا قول ہے کہ بروج آسمان کے اندر بڑے بڑے محلات ہیں ۔ ” وزیناھا “ آسمان کو سورج ، چاند ، ستاروں کے ساتھ مزین کیا ۔ ” للناظرین “۔
Ayah 15:1717۔” وحفظنا ھا من کل شیطان رجیم “ مرجوم کے معنی میں ہے۔ بعض نے کہا کہ ملعون کے معنی میں ہے۔
شیطان کو آسمانوں میں جانے سے کب بندش کردی گئی
ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ پہلے آسمانوں تک پہنچنے سے شیطانوں کی روک ٹوک نہ تھی وہ جا کر آسمانوں کی خبریں لاتے اور کاہنوں کے دلوں میں القاء کرتے تھے ۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو تین بالائی آسمانوں پر جانے سے شیطانوں کو روک دیا گیا لیکن رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی تو باقی چار آسمانوں تک جانے کی بھی ممانعت کردی گئی ۔ اب کوئی شیطان چوری چھپے کوئی بات سن پاتا ہے فوراً اس پر انگارہ مارا جاتا تھا ان شیطانوں کی جب کامل بندش ہوگئی تو انہوں نے اس کی شکایت ابلیس سے کی ۔ ابلیس نے کہا زمین میں یقینا کوئی حادثہ ہوا ہے اسے جا کر دیکھو ، شیطان زمین پر آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قرآن کی تلاوت کرتے پایا ، کہنے لگے واللہ یہی نئی بات پیدا ہوئی ہے۔
Ayah 15:18تفسیر 18۔” الا من استرق السمع “ لیکن جو چوری سے سن لیتا ہے ” فاتبعہ شھاب مبین “ شہاب آتشیں شعلہ جو ستارے سے نکلتا ہے۔
شیطان پر شہاب ثاقب مارے جانے کے متعلق احادیث
اس کی تفصیل یہ ہے کہ شیطان نیچے سے آسمان دنیا تک ایک کے اوپر دوسرا سوار ہوتا ہے اور آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے اور چوری سے وہ فرشتوں کی بات سن لیتے ہیں ۔ فرشتے ان پر شہاب ثاقب مارتے ہیں تو ان کا یہ انگارہ ضائع نہیں جاتا ۔ انگارہ پڑنے سے کوئی مرجاتا ہے ، کسی کا چہرہ یا پہلو یا ہاتھ یا کوئی اور حصہ حسب مشیت الٰہی جل جاتا ہے ۔ کوئی بد حواس پاگل ہوجاتا ہے اور بھوت بن جاتا ہے جو زمین پر آ کر جنگلوں میں مسافروں کو سیدھے راستے سے بھٹکاتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب آسمان میں اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اطاعت میں فرشتے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں اور ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جیسے پتھر کی چٹا ن پر کسی زنجیر کے لگنے سے ہوتی ہے۔ جب دلوں سے خوف دور ہوجاتا ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں ، تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے فرشتے جواب دیتے ہیں جو کچھ فرمایا ب لا شبہ حق ہے وہی بزرگ وبالا ہے چوری سے ، سننے والے ایک کے اوپر دوسرے لگے ہوتے ہیں۔ سفیان نے ہاتھ سے نشان بنا کر بتایا کہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر ۔ چناچہ چوری سے سننے والا کوئی بات سن پاتا ہے اور اپنے نیچے والے کو بتادیتا ہے اور نیچے والا اپنے سے نیچے کو بتادیتا ہے۔ اسی طرح سب سے نیچے والا جادوگر کاہن کی زبان پر وہ بات لے آتا ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نیچے والے تک پہنچانے سے پہلے اوپر والے پر شعلہ آتشیں آپڑتا ہے اور کبھی آتشیں شعلہ پہنچنے سے پہلے وہ نیچے والے کو بتا چکتا ہے۔ ساحر یا کاہن اس کو سو جھوٹ ملا کر بتلاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کاہن نے ہم سے ایسی ایسی بات پہلے ہی نہ کہہ دی تھیں ، چناچہ ایک آسمانی بات کی وجہ سے کاہن کی تصدیق کی جاتی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ فرشتے بادل میں اترتے ہیں اور وہاں اس بات کا تذکرہ ہوتا ہے جس کا فیصلہ آسمان پر ہوچکا ہوتا ہے کوئی شیطان اس کو چوری سے سن پاتا ہے اور جا کر کاہن کے دل میں ڈال دیتا ہے، کاہن اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا کر بیان کردیتے ہیں ۔
جان لو کہ اس کا ظہور آپ ﷺ سے پہلے نہیں ہوا اور نہ آپ ﷺ کی ولادت سے پہلے کسی نے اس کو بیان کیا ۔ اس کا ظہور اس امر کے بعد ہوا یہ نبوت کی علامت قرار دی گئی ۔ یعقوب بن عتبہ بن مغیرہ بن اخنس بن شریق ؓ نے کہا کہ اس ستارے کے شعلہ سے سب سے پہلے ڈرنے والا ثقیف قبیلہ تھا۔ قبیلہ ثقیف کے کچھ لوگ ایک آدمی کے پاس آئے جس کا نام عمرو بن امیہ قبیلہ بنی علاج کا تھا اور عرب لوگ اس کے پاس تحفے تحائف بھیجے تھے۔ ان لوگوں نے اس سے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ آسمان میں کون سا نیا کام سر انجام پایا جس کی وجہ سے آسمان سے ستارہ پھینکا گیا ۔ وہ کہنے لگا کیوں نہیں ، دیکھو اگر تم ستاروں کے علم کو جانتے ہو جن کے ذریعے ہم خشکی اور سمندر میں ہدایت پاتے ہیں اور ان کے ذریعے گرمیوں اور سردیوں میں موسموں کو پہچانتے ہیں جس موسم میں لوگوں کی معیشت وابستہ ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ اس زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اس میں تما مخلوق کو ہلاک کر دے گا ۔ معمر نے زہری کے حوالے سے لکھا کہ کیا زمانہ جاہلیت میں بھی شہاب ثاقب پھینکا جاتا تھا، فرمایا جی ہاں ، میں نے کہا کہ کیا تم نہیں دیکھتے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ” وانا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع “ اس نے فرمایا کہ محمد ﷺ کو مبعوث فرمانے یک بعد اپنے امور میں سختی اور شدت بڑھ گئی۔
ابن قتیبہ کا قول ہے کہ آپ ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے شہاب ثاقب پھینکے جاتے تھے لیکن اس میں پہروں کی شدت نہیں تھی ۔ آپ ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد چوکیداری اور رجم میں خوب اہتمام ہونے لگا ، بعض نے کہا کہ شیطان کو شہاب الثاقب مار کر واپس اپنی جگہ آجاتے ہیں ۔
Ayah 15:1919۔” والارض مددنا ھا “ پانی پر ہم نے اس کو بچھادیا ۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی اس طرح پانچ سو سال اس کے مثل چلتا رہے تو اتنی مقدار کعبہ کے نیچے ہم نے زمین کو پھیلایا ” والقینا فیھا رواسی “ بڑے بڑے پہاڑ اس میں گاڑھ دیئے ، زمین پہاڑوں کے بغیر لرز رہی تھی تو اس میں پہاڑ بطور میخوں کے گاڑھ دیئے۔” وانبتنا فیھا “ اس زمین میں ” من کل شی موزون “ معلوم مقدار میں ۔ بعض نے کہا کہ موزون سے مراد پہاڑوں میں معدنیات ہیں جیسے سونا ، چاندی ، لوہا ، تانبا ، ہڑتال ، سرمہ وغیرہ ۔ ان تمام اشیاء کا وزن کیا جائے گا ۔ ابن زید کا قول ہے یہ وہ چیزیں ہیں جن کا وزن کیا جائیگا ۔
Ayah 15:2020۔” وجعلنا لکم فیھا معایش “ یہ جمع ہے معیشہ کی ۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد کھانے پینے اور پہننے کی اشیاء ہیں ۔ بعض نے کہا کہ اس سے وہ اشیاء مراد ہیں جن سے آدمی کی زندگانی وابستہ ہوتی ہے۔” ومن لستم لہ برازقین “ ہم نے تمہارے لیے اسی میں روزگانی پیدا کردی ہے خواہ وہ چوپایوں کے متعلق ہو یا جانوروں کے متعلق ۔ یعنی ہم نے تمہارے لیے اس میں رزق بنایا جو تمہارے لیے کافی ہو ۔ اس آیت میں ( من) ما کے معنی میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔” فمنھم من یمشی علی بطنہ “ ان دونوں مقامات میں ما کے معنی میں ہے۔” ممالیک “ سے مراداب ( جانور) ہیں اور بعض نے کہا کہ نصب میں واقع ہے۔ اس صورت میں اس کا عطف ” لکم ‘ ‘ پر ہوگا۔
Ayah 15:2121۔” وان من شیء “ یہاں ما کے معنی میں ہے۔” الا عندنا خزائنہ “ ان خزانوں کی چابیاں بعض نے کہا کہ اس سے مراد بارش ہے۔” وما ننزلہ لہ الا بقدرمعلوم “ ہر زمین پر ایک مقدار معلوم ہے۔ بعض نے کہا کہ آسمان سے کوئی قطرہ بارش کا نہیں اترتا کہ اس کے ساتھ فرشتہ بھی نازل ہوتا ہے جو اس کو جہاں سے چاہے کھینچ کے لاتا ہے اور فرشتہ اس بوند کو اسی جگہ تک ضرور پہنچاتا ہے جہاں پہنچانے کا حکم ہوتا ہے۔
جعفر بن محمد اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ فرمایا کہ عرش میں جو کچھ ہے اس کی مثال تمام مخلوق کی ہے جو خشکی اور تری میں پیدا کی ہے اس کی تاویل اس آیت سے ثابت ہوتی ہے۔
Ayah 15:2222۔” وارسلنا الریاح لواقع “ اس سے مراد حاملہ ہیں کیونکہ ہوائیں بادلوں میں پانی کو بھر دیتی ہیں ۔ یہ ” لا قحۃ “ کی جمع ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ” ناقۃ لاقحۃ “ اس اونٹنی کے لیے بولا جاتا ہے جو حاملہ ہو۔ ابن مسعود ؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوائوں کو بھیجتا ہے ہوا پانی کو اٹھا کر لاتی ہے بادل پانی کو لے کر ہوا کی وجہ سے چلتا ہے، پھر وہ بارش برساتا ہے۔ ابو عبیدہ کا قول ہے لواقح کا معنی ہے ملا قح اور اس کا مفرد ” ملقحۃ “ آتا ہے ۔ بمعنی حاملہ کرنے والی ہوائیں یعنی وہ ہوائیں جو پھلوں کے تخم درختوں میں ڈالتی ہیں اور ان کو حاملہ کرتی ہیں۔
ہوائیں بھی اپنا اپنا کام سر انجام دیتی ہیں
عبید بن عمیر کا قول ہے کہ پہلے اللہ خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے جو زمین کو صاف کردیتا ہے ، پھر بادلوں کو اٹھا کر لانے والی ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں ۔ پھر منتشر بادلوں کو یکجا کرنے والی ہوائیں بھیجتا ہے جو ابر کے مختلف ٹکڑوں کو یکجا کر کے تہ بہ تہ کردیتی ہیں ۔ پھر حاملہ کرنے والی ہوائیں بھیجتا ہے جو درختوں میں پھل پیدا کردیتی ہیں ۔ ابوبکر بن عیاش نے کہا جب تک چاروں ہوائیں اپنا اپنا عمل پورا نہیں کرتیں کوئی قطرہ نہیں اترتا ، سامنے والی ہوائیں بادل کو اٹھا کر لاتی ہے ، شمالی ہوا بادل کو جمع کرتی ہے، جنوبی ہوا بادل کو برساتی ہے اور پچھلی ہوا بادلوں کو منتشر کردیتی ہے اور بعض روایات میں آتا ہے کہ جب جنوبی ہوا چلتی ہے انگور کے خوشے اٹھا کر لاتی ہے اور ریح عقیم عذاب کو لاتی ہے پھل پیدا نہیں کرتی۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب کوئی تیز ہوا چلتی تھی رسول اللہ ﷺ فوراً دوزانو بیٹھ کر دعا کرتے تھے ، اے اللہ ! اس کو رحمت بنا دے ، عذاب نہ بنا ، اے اللہ ! اس کو رحمت کی ہوائیں کر دے ، عذاب کی آندھی نہ کردینا ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل کی کتاب میں ارشاد ہے ” فارسلنا علیھم ریحا ً صرصراً “ اور ” اذ ارسلنا علیھم الریح العقیم “ اور ” ارسلنا الریاح لواقع “ ان آیات میں ریح سے مراد وہی ریاح ہیں جو ان میں مذکور ہیں اور فرمایا کہ خوش خبری دینے والی ہوائیں ۔ حمزہ نے اس کو مفرد پڑھا ہے۔” وارسلنا الریح لواقع “ ریح سے مراد جنس اور کثرت مراد ہے۔ اسی وجہ سے اس کو جمع بھی ذکر کرتے ہیں ، اور دوسرے قراء نے اس کو (ریاح) جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ لواقح جمع ذکر کی ہے جو موصوف ہے اور صفت بھی جمع ہوگی نہ کہ مفرد تا کہ موصوف صفت میں مطابقت ہوجائے۔” فانزلنا من السماء ماء فاسقینا کموہ “ اس بادل کو تمہارے لیے پینے کا پانی بنایا ۔ جیسا کہ عربی محاورے میں بولا جاتا ہے۔” سقیت الرجل ماء اولبان ، اسقی فلانا ً و فلانا ً “ جب اس کو پینے کے لیے پانی دیا جائے اور ” اسقیت الرجل “ اس وقت بولا جاتا ہے معنی ہوگا کہ میں نے اس کو پانی دے دیا تا کہ وہ اپنی زمین یا جانور کو سیراب کر دے۔” وما انتم لہ بخازنین “ یعنی بارش کا خزانہ ہمارے پاس ہے تمہارے پاس نہیں۔
Ayah 15:23تفسیر 23۔” وانا لنحن نحی و نمیت و نحن الوارثون “ تمام مخلوقات کو ہم موت دیں گے اللہ کے سوا کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا ۔ وارث سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں ۔ بعض نے کہا کہ مخلوقات کے فنا کے بعد باقی رہنے والی ذاتی اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تمام مخلوقات کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Ayah 15:24مستقد مین اور مستاخرین کی مختلف تفاسیر
24۔” ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ مستقدمین سے مراد مردے اور مستاخرین سے مراد زندے ہیں۔
شعبی (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد اولین و آخرین ہیں ۔ عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ مستقدمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیدا ہوچکے ہیں اور اپنے آباء کی پشت سے برآمد ہوگئے اور مستاخرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے اور نہ اپنے باپوں کی پشت سے باہر آئے۔
مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ” مستقدمین “ سے مراد گزشتہ اقوام کے لوگ ہیں اور مستاخرین سے مراد امت محمدیہ ہیں ۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ مستقدمین سے مراد اطلاعات میں آگے بڑھنے والے اور مستاخرین سے مراد طاعت و خیر میں سستی کرنے والے۔
بعض نے کہا کہ ” مستقدمین “ سے مراد نماز میں صف اول میں سبقت کرنے والے اور مستاخرین سے مراد پیچھے صفوں میں رہ جانے والے ۔ یہ اس واقعہ سے کہ عورتوں کی صفیں مردوں کی صفوں کے پیچھے ہوتی ہیں اور ان کو یہی حکم ہے کہ وہ مردوں کی صفوں کے پیچھے کھڑی ہوں ۔ بسا اوقات کچھ مردوں کے دلوں میں شیطانی خیال ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ پیچھے رہ جاتا ہے تا کہ عورتوں کی صفوں کے قریب ہوجائے اور بسا اوقات کسی عورت میں شیطانی وسوسہ آجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اگلی صفوں میں آنا چاہتی ہیں تا کہ مردوں کی صفوں کے قیرب آجائے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد فرماتے ہیں کہ بہترین صفوں میں سے مردوں کی پہلی صفیں ہیں اور بری صفتیں آخری ہیں اور عورتوں کے لیے بہترین صفیں آخری ہیں اور پہلی صفیں ان کے لیے شر ہیں ۔ اوزاعی کے نزدیک اول وقت اور آخر وقت میں نماز پڑھنے والے مراد ہیں۔ مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ جہاد میں آگے پیچھے رہنے والے مراد ہیں ۔ ابن عینیہ کا قول ہے کہ اس سے مراد جو لوگ مسلمان ہوچکے اور جو لوگ ابھی مسلمان نہیں ہوئے۔
Ayah 15:2525۔” وان ربک ھو یحشرھم انہ حکیم علیم “ ان سب کو جمع کر دے گا جو اس کے علم میں ہیں ۔ بعض نے کہا کہ تمام اشیاء کا مالک ہے۔ و ہ اولین و آخرین سب کو جمع کر دے گا ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جس چیز پر مرے گا اللہ اسی چیز پر اس کو اٹھائے گا ۔
Ayah 15:2626۔” ولقد خلقنا الانسان “ اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ۔ یہاں انسان سے اس لیے تعبیر کیا اس کا معنی ہے ظہور اور انسان ظاہر ہے ، آنکھ سے دکھائی دیتا ہے اور بعض نے کہا کہ انسان نسیان سے مشتق ہے کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو ایک حکم دیا گیا تھا مگر وہ اس کو بھول گئے۔ ” من صلصال “ وہ خشک مٹی جو آگ میں نہ پکائی گئی ہو اور کھن کھن بولتی ہو۔
صلصال کی تشریح
ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ عمدہ پاکیزہ کیچڑ ہے جس میں پانی سوکھ جانے کی وجہ سے شگاپیدا ہوجاتے ہیں اور جب اس کو ہلایا جاتا ہے تو کھڑکھڑ کی آواز دیتی ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ بدبو دار کیچڑ کو ” صلصال “ کہتے ہیں ۔ کسائی نے اسی کو اختیار کیا ہے، بعض نے کہا کہ ” صلصال “ کہتے ہیں ” صل اللحم “ گوشت بدبودار ہوگیا۔ ” من حما “ وہ کیچڑ جو پانی کے قریب ہونے کی وجہ سے کالی پڑجائے۔ ’ ’ مسنون “ متغیر کردینے کو کہتے ہیں۔
مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے اس سے خراب ، بدبو دار ہے ۔ ابو عبیدہ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے بہانا ۔ جیسا کہ عرب کا قول ہے ” سننت المائ “ پانی بہایا ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے وہ بدبو دار کیچڑ ہے جو خشک ہونے کے بعد کھن کھن کرنے لگے اور بعض احادیث میں آیا ہے کہ اللہ رب العزت نے سب سے پہلے مٹی کا گارا تیار کروایا اور اس کو چھوڑے رکھا۔ یہاں تک کہ وہ بدل کر کالا ہوگیا ، پھر اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بنایا۔
Ayah 15:27الجان خلقناہ کی تفسیر
27۔” والجان خلقناہ من قبل “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ” الجان “ سے مراد ہے تمام جنات کا باب ، جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) تمام انسانوں کے باپ ہیں اور قتادہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد ابلیس ہے جس کو آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا کیا اور کہا گیا کہ الجان جنات کا باپ ہے اور ابلیس شیطان کا باپ ہے جنات میں کچھ مسلمان ہیں اور کچھ کافر ، زندہ بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں اور شیطانوں میں کوئی بھی مسلمان نہیں ، نہ کسی کو موت آتی ہے ، جب ابلیس مرے گا تو اس کے ساتھ سب مریں گے۔
وہب کا قول ہے کہ کچھ جنات تو آدمیوں کی طرح ہیں ان کے بچے پیدا ہوتے ہیں ، کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور کچھ جنات ہوا کی طرح ہیں ان میں توالدتناسل نہیں ہوتا نہ وہ کھاتے پیتے ہیں۔
من نار سموم کی تشریح
” من نار السموم “ سموم وہ گرم ہوا جو مسامات کے اندر گھس جائے اور اس کو ہلاک کردے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ سموم دن کی اور حروررات کی گرم لو۔
کلبی نے ابو صالح کا قول نقل کیا ہے وہ آگ جس میں دھواں نہیں ہے اور صواعق بھی انہی میں سے ہے ، وہ آگ جو آسمان اور حجاب کے درمیان سے نکلتی ہے۔ جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو صاعقہ زیر حجاب کو پھاڑ کر حسب مشیت الٰہی کہیں گرجاتی ہے حجاب کو پھاڑنے والی آواز ہی کڑک کہلاتی ہے اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے آگ کے شعلے اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے آتش جہنم ۔ ضحاک نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابلیس بھی ملائکہ کی ایک خاص شاخ میں سے ہے اس شاخ کو جن کہا جاتا ہے اس صنف کی تخلیق نارسموم سے ہوتی ہے۔ دوسری آیت میں ان جنات کی تخلیق آگ سے بنائی گئی ہے۔ باقی ملائکہ کی تخلیق نور سے کی گئی ہے۔
Ayah 15:2828۔” واذ قال ربک للملائکۃ انی خالق بشرا “ کہ میں عنقریب ایک بشرکو پیدا کرنے والا ہوں ۔ ” من صلصال من حما مسنون “۔
Ayah 15:2929۔” فاذا سویتہ “ جب میں اس کو پورا بنا لوں اور جان ڈال لوں ۔ ” فنفخت فیہ من روحی “ تو وہ زندہ انسان بن جائے ، روح وہ جسم لطیف ہے جس سے انسان زندہ ہوتا ہے ، روح کی اضافت اپنی تشریف کے لیے کی ۔ ” فقعوالہ سجدین “ اس سے مراد تحیہ والا سجدہ مراد ہے، عبادت والا سجدہ مراد نہیں۔
Ayah 15:3030۔” فسجد الملائکۃ “ جنہوں نے سجدہ کا حکم دیا۔ ” کلھم اجمعون “
سوال : ” کلھم اجمعون “ کیوں کہا حالانکہ اس کا مقصود ” فسجد الملائکۃ “ سے پورا ہوجاتا ہے ؟
جواب : خلیل اور سیبویہ کے نزدیک اس کو تاکیدا ً ذکر کیا ہے اور مبرد کا قول ہے کہ ” فسجد الملائکۃ “ میں یہ احتمال تھا کہ بعض فرشتوں نے سجدہ کیا ۔ ” لہٰذا ” کلھم “ ذکر کے اس احتمال کو دور کردیا ۔ پھر بھی احتمال تھا کہ کیا سب نے ایک وقت میں سجدہ کیا یا مختلف اوقات میں سجدہ کیا اس احتمال کو ” اجمعون “ نے دور کردیا ۔
عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اللہ عزوجل نے فرشتوں کی ایک جماعت سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو، انہوں نے سجدہ نہیں کیا ، اللہ نے ان پر آگ بھیجی کہ وہ سب جل کر راکھ ہوگئے ، پھر دوسری جماعت کو کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو، پھر انہوں نے سجدہ کیا۔
Ayah 15:31تفسیر 31۔” الا ابلیس ابی ان یکون مع السجدین “۔
Ayah 15:3232۔” قال یا ابلیس مالک الا تکون مع الساجدین “
Ayah 15:3333۔” قال الم اکن لا سجد لبشر خلقتہ من صلصال من حما ً مسنون “ شیطان نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں کیونکہ یہ گارے سے پیدا کیا گیا ہے اور میں آگ سے اور آگ مٹی کو کھا جاتی ہے۔
Ayah 15:3434۔” قال فاخرج منھا “ اس جنت سے نکل جا ” فانک رجیم “ کیونکہ تو دھتکارا ہوا ہے۔
Ayah 15:3535۔” وان علیک اللعنۃ الی یوم الدین “ کہ آسمان والے ابلیس پر لعنت بھیجتے ہیں جیسے اہل زمین والے اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ گویا یہ زمین و آسمان دونوں جگہ ملعون ہے۔
Ayah 15:3636۔” قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون “ اس سے مراد خبیث شیطان مردود ہے جس نے اللہ سے اپنی موت کی مہلت مانگی کہ مجھے کبھی موت نہیں آئے گی قیامت تک۔
Ayah 15:3737۔” قال فانک من المنظرین “
Ayah 15:3838۔” الی یوم الوقت المعلوم “ اس سے مراد جب تمام مخلوق مرجائے گی اور وہ نفخہ اولیٰ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ابلیس کی موت کا وقت چالیس سال ہے جو دونوں نفخوں کے درمیان میں ہوگی اور بعض نے کہا کہ ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے موت سے بالکل محفوظ رہنے کی دعا کی اور اغواء کرنے کی بھی دعا کی ۔ اللہ نے اغواء کرنے کی دعا قبول کرلی لیکن موت سے محفوظ رہنے کی دعا قبول نہیں کی ۔ اس کی ایک دعا کی قبولیت اس کی عزت افزائی کے لیے نہیں بلکہ بدبختی اور مصیبت میں اضافہ کرنے کیلئے فرمائی۔
Ayah 15:3939۔ ’ ’ قال رب بما اغویتنی “ مجھے گمراہ کر ہی دیا ۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی رحمت سے دور کر ہی دیا ۔ ” لا زینین لھم فی الارض “ دنیا کی محبت کو اور گناہوں کو خوب مزین کر کے پیش کر دے گا ۔ ” ولا غوینھم “ ان کو گمراہ کر دے گا ۔” اجمعین “۔
Ayah 15:4040۔” الا عبادک منھم المخلصین “ مومنین کی وہ جماعت جو تیری خالص پیروی اطاعت کریں گے۔ لام کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو شخص توحید کے خالص طور پر اپنائے گا ، اللہ اس کو ہدایت سے سرفرازکرے گا اور اپنے مقرب بندوں میں اس کو شمار کرے گا ۔