2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 2:1–2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلام خدا ہے، خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے

(1 ۔ 2) ۔ 1۔ 2۔ ق ن ص الم طس حم یہ سب حروف مقطعات کہلاتے ہیں ان کی تفسیروں میں خلفاء اربعہ اور سلف کا یہی قول ہے کہ مثل آیات متشابہات کے ہیں جن کا ذکر آگے آوے گا ان حروف مقطعات کے معنی اور نازل فرمانے کا مطلب خدا ہی کو خوب معلوم ہے نماز روزہ۔ حج زکوٰۃ اور احکام کی آیتوں معنی صاف ہیں۔ لیکن یہ متشابہات آیتیں احکام کی آیتوں کے علاوہ ہیں مشرکین مکہ ان متشابہات آیتوں کے معنی بتانے سے بھی باوجود اہل زبان ہونے کے عاجز آگئے۔ اس لئے یہ بھی قرآن شریف کا ایک معجزہ ہے۔ ان آیتوں کا ذکر سورة آل عمران میں تفصیل سے آوے گا۔ غرض حروف مقطعات آیات متشابہات عبادات حج میں شیطانوں کو کنکریاں مارنا وغیرہ دین میں اطاعت الٰہی آزمانے کی باتیں ہیں مسلمان آدمی کو ان میں سوائے اطاعت الٰہی بجا لانے کے زیادہ بحث کی کیا ضرورت ہے۔ ہجرت سے پہلے قرآن شریف کا جو حصہ مکہ میں نازل ہوا اس کی فصاحت و بلا غت نے اہل مکہ کو قائل کردیا۔ دس برس تک ایک چھوٹی سی سورت بھی قرآن کے مقابلہ میں بنا کر وہ پیش نہ کرسکے اور تورات و انجیل کے تو اکثر مضمون قرآن شریف میں موجود ہیں۔ اور قرآن شریف کے اکثر مضمون ان کتابوں میں جس کا مطلب یہ ہوا کہ کتاب لٰہی ہونے میں ایک دوسرے کا گواہ ہے اسی واسطے اہل مکہ اور اہل کتاب سب کو مخاطب کر کے خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ان دونوں گروہ میں سے کسی شخص کو اس بات میں شک و شبہ کرنے کا کوئی موقع باقی نہیں ہے۔ کہ یہ قرآن شریف کتاب الٰہی ہے اور محمد ﷺ نبی آخر الزماں ہیں کیونکہ نبی امی پر یہ قرآن نازل ہوا ہے اور باتیں اس قرآن میں وہ ہیں کہ امی شخص تو درکنار اہل کتاب بھی بغیر وحی آسمانی کی مدد کے ہرگز وہ باتیں نہیں کہہ سکتے۔ تو اب اس میں کیا شک باقی رہا کہ قرآن شریف معجزہ نبوی ہے۔ اور محمد ﷺ نبی ہیں۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر ایک نبی کی امت کے ایمان لانے کے موافق ہر نبی کو معجزہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے اور مجھ کو قرآن شریف کا ایک معجزہ ایسا دیا گیا ہے کہ جس سے مجھے کو امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے سب سے زیادہ ہوں گے۔ الغرض انسان تو انسان جنات کا اس قرآن کو سن کر { اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا یَھْدِیْ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ } (72: 2) ہم نے سنا ہے کہ ایک قرآن عجب سمجھتا ہے نیک راہ ہم اس پر یقین لائے، کہنا اور حکم جہاد کے نازل ہونے سے پہلے ایک جماعت عظیم کا مسلمان ہوجانا حال کے ضعف اسلام کے زمانہ میں غیر قوم کے لوگوں کا مسلمان ہونا واقعی یہ قرآن کا معجزہ ہے اور یہی صاحب معجزہ کے نبی برحق ہونے کی پوری دلیل ہے ھدی للمتقین۔ متقی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی ہر طرح کی نافرمانی سے بچتے ہیں۔ اور اس کی ہر طرح کی اطاعت بجا لاتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے ایک دن پوچھا کہ تقویٰ کے کیا معنی ہیں انہوں نے جواب دیا کہ کبھی تمہارا گذر ایسے راستہ سے ہوا ہے جس میں ہر طرف کثرت سے خاردار درخت ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا ہاں ابی بن کعب ؓ نے کہا پھر تم نے وہاں کیا کیا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا ہر طرف سے اپنے دامن سمیٹ کر اپنے کپڑوں کا کانٹوں سے بچایا۔ ابی بن کعب ؓ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے اسی طرح بچنے کو تقویٰ کہتے ہیں۔ ترمذی ابن ماجہ میں عطیہ سعدی سے روایت ہے جس کا اصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص متقیوں کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ جب بےڈر چیز کو ڈر کی چیز دہشت سے نہ چھوڑ دیوے ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
Ayahs 2:3–5

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے، اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

(3 ۔ 5): ایمان کا لفظ قرآن شریف میں جہاں اعمال کے لفظ کے ساتھ آیا ہے وہاں اسکے معنی دلی یقین کے ہیں اور جہاں بغیر لفظ اعمال کے آیا ہے وہاں اکثر سلف کے نزدیک اس سے اعتقاد قلبی اور قول زبانی اور عمل مراد ہے۔ عذاب قبر۔ حشر۔ پل صراط۔ جنت و دوزخ یہ سب غیب کے معنوں میں ہیں نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ نماز کے ارکان رکوع سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جاوے { وَمِمَّا رَزَقْنَہُمْ یَنْفِقُوْنَ } سے فرض زکوٰۃ نفلی اور خیرات دونوں مراد ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ صلو کما رایتمونی اصل یعنی تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح سے تم نے مجھ کو نماز پڑہتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہتے کہ آنحضرت ﷺ کے نماز پڑھنے کی تفصیل حدیث کی کتابوں کے اردو ترجمہ سے یاد کر لیوے اور اس کے موافق نماز پڑھا کرے۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص قرآن شریف کا کتاب الٰہی ہونے کا دل سے یقین جان کر اس کے حکموں کی پابندی کرے یہ قرآن شریف اس کا ہر طرح سے راہبر ہوگا اور اس کو نیک راہ پر لگا وے گا یہاں تک کہ ایسا شخص جنت میں راحت و آرام سے رہے گھا جس سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی فلاح اور کامیابی نہیں۔ آخرت سے مراد روز آخرت یعنی عقبی پر ایمان لانے اور یقین کرنے کا ذکر قرآن شریف میں جگہ جگہ اس لئے ہے کہ جب تک عقبی کا پورا یقین نہ ہو عقبیٰ کے اجر اور ثواب کے اعتقاد سے نیک عمل کوئی نہیں کرسکتا۔ اور بغیر اس کے دکھاوے اور ریاکاری سے کچھ کیا بھی تو وہ خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول اور قابل اجر نہیں ہوسکتا۔

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

(3 ۔ 5): ایمان کا لفظ قرآن شریف میں جہاں اعمال کے لفظ کے ساتھ آیا ہے وہاں اسکے معنی دلی یقین کے ہیں اور جہاں بغیر لفظ اعمال کے آیا ہے وہاں اکثر سلف کے نزدیک اس سے اعتقاد قلبی اور قول زبانی اور عمل مراد ہے۔ عذاب قبر۔ حشر۔ پل صراط۔ جنت و دوزخ یہ سب غیب کے معنوں میں ہیں نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ نماز کے ارکان رکوع سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جاوے { وَمِمَّا رَزَقْنَہُمْ یَنْفِقُوْنَ } سے فرض زکوٰۃ نفلی اور خیرات دونوں مراد ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ صلو کما رایتمونی اصل یعنی تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح سے تم نے مجھ کو نماز پڑہتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہتے کہ آنحضرت ﷺ کے نماز پڑھنے کی تفصیل حدیث کی کتابوں کے اردو ترجمہ سے یاد کر لیوے اور اس کے موافق نماز پڑھا کرے۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص قرآن شریف کا کتاب الٰہی ہونے کا دل سے یقین جان کر اس کے حکموں کی پابندی کرے یہ قرآن شریف اس کا ہر طرح سے راہبر ہوگا اور اس کو نیک راہ پر لگا وے گا یہاں تک کہ ایسا شخص جنت میں راحت و آرام سے رہے گھا جس سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی فلاح اور کامیابی نہیں۔ آخرت سے مراد روز آخرت یعنی عقبی پر ایمان لانے اور یقین کرنے کا ذکر قرآن شریف میں جگہ جگہ اس لئے ہے کہ جب تک عقبی کا پورا یقین نہ ہو عقبیٰ کے اجر اور ثواب کے اعتقاد سے نیک عمل کوئی نہیں کرسکتا۔ اور بغیر اس کے دکھاوے اور ریاکاری سے کچھ کیا بھی تو وہ خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول اور قابل اجر نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 2:6–7

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے، وہ ایمان نہیں لانے کے

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے، اور انکے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

(6 ۔ 7): ایمان کا لفظ قرآن شریف میں جہاں اعمال کے لفظ کے ساتھ آیا ہے وہاں اسکے معنی دلی یقین کے ہیں اور جہاں بغیر لفظ اعمال کے آیا ہے وہاں اکثر سلف کے نزدیک اس سے اعتقاد قلبی اور قول زبانی اور عمل مراد ہے۔ عذاب قبر۔ حشر۔ پل صراط۔ جنت و دوزخ یہ سب غیب کے معنوں میں ہیں نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ نماز کے ارکان رکوع سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جاوے { وَمِمَّا رَزَقْنَہُمْ یَنْفِقُوْنَ } سے فرض زکوٰۃ نفلی اور خیرات دونوں مراد ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ صلو کما رایتمونی اصل یعنی تم اس طرح نماز پڑھا جس طرح سے تم نے مجھ کو نماز پڑہتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہتے کہ آنحضرت ﷺ کے نماز پڑھنے کی تفصیل حدیث کی کتابوں کے اردو ترجمہ سے یاد کر لیوے اور اس کے موافق نماز پڑھا کرے۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص قرآن شریف کا کتاب الٰہی ہونے کا دل سے یقین جان کر اس کے حکموں کی پابندی کرے یہ قرآن شریف اس کا ہر طرح سے راہبر ہوگا اور اس کو نیک راہ پر لگا وے گا یہاں تک کہ ایسا شخص جنت میں راحت و آرام سے رہے گا جس سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی فلاح اور کامیابی نہیں۔ آخرت سے مراد روز آخرت یعنی عقبی پر ایمان لانے اور یقین کرنے کا ذکر قرآن شریف میں جگہ جگہ اس لئے ہے کہ جب تک عقبی کا پورا یقین نہ ہو عقبیٰ کے اجر اور ثواب کے اعتقاد سے نیک عمل کوئی نہیں کرسکتا۔ اور بغیر اس کے دکھاوے اور ریاکاری سے کچھ کیا بھی تھا وہ خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول اور قابل اجر نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 2:8–20

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

یہ خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کا چکما نہیں دیتے اور اس سے بیخبر ہیں

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا خدا نے انکا مرض اور زیادہ کردیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

دیکھو ! یہ بلاشبہ مفسد ہیں لیکن خبر نہیں رکھتے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں کہ بھلا جس طرح بیوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں ؟ سن لو کہ یہی بیوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم (پیروان محمد سے) تو ہنسی کیا کرتے ہیں

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیے جاتا ہے کہ شرارت و سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے (شب تاریک میں) آگ جلائی، جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان لوگوں کی روشنی زائل کردی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

(یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے راستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا ہو) اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور خدا کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے، جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہوجاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر خدا چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کردیتا، بلاشبہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کر کے آئے اور اہل اسلام کی جماعت اور قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان ان یہود سے میل جول رکھتی تھی جو مدینہ کے گرد نواح میں رہتے تھے ان یہود کے بہکانے سے یہ اہل مدینہ میں کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لئے مسلمانوں کے رو برو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو دل لگی کے طور پر اپنے اوپر اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ انہیں لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ یہ لوگ دغاباز ہیں اور ان کی دغا بازی انہیں کی عقبیٰ خراب کرے گی اور مسلمانوں کو یہ کیا کم عقل بتاتے ہیں انہیں کی عقلوں میں فتور ہے کہ اپنی عقبیٰ خراب کر رہے اور مسلمانوں کی شوکت کی ترقی روز بروز دیکھ کر ان کے دلوں میں دورنگی اور نفاق کا مرض جو روزبروز بڑھتا جاتا ہے اور انہیں کا آخر کار دوزخ دکھاوے گا۔ اور کسی کو اس سے کچھ نہیں بگڑ سکتا۔ اور یہ لوگ یہ جو کہتے ہیں کہ ہم تو یہود سے اس غرض سے ملتے ہیں کہ آپس میں ایک طرح کا میل ملاپ رہے۔ کسی فساد کی نیت سے ہم یہ کام نہیں کرتے۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ دین کے مخالف لوگوں سے میل جول رکھنا ہی ایسی بات ہے کہ اس سے ایک نہ ایک دن ضرور کوئی فساد کھڑا ہوجاوے گا غرض یہ لوگ خرابی عقبیٰ کا جو سودا کر رہے ہیں اس تجارت میں ان کو سراپا نقصان ہے نفع کچھ نہیں۔ پھر ان لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں بیان فرمائیں۔ صحابہ کی ایک جماعت نے فرمایا کہ پہلی مثال منافقوں کے حال سے اس طرح مطابق ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ آنے کے وقت پہلے پہل ان لوگوں نے کچھ نور ایمانی کما لیا تھا پھر نفاق کے سبب سے اسی کفر کی تاریکی میں یہ لوگ پھنس گئے۔ دوسری مثال کی مطابقت صحابہ نے منافقوں کے حال سے اس طرح بیان کی ہے کہ بجلی کی آناً فاناً چمک کی طرح مسلمانوں کے دباؤ سے کبھی ان لوگوں میں ایمان کی عارضی جھلک آجاتی ہے اور جس طرح کڑک کی آواز کے ڈر سے کوئی شخص کانوں میں انگلیاں دے کر اپنا ڈر رفع کرلیتا ہے اسی طرح اس عارضی ایمانی جھلک سے مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کی جان ومال کی خیر ہوجاتی ہے لیکن اس عارضی ایمانی سے کیا ہوتا ہے۔ اس کے دلوں پر تو وہی کفر و نفاق کی گھٹا چھائی ہوئی ہے جس کے سبب سے ان کا انجام برا اور عاقبت برباد ہے۔ نفاق دو طرح کا ہے ایک تو اعتقادی جیسے اسلام کے زور کے وقت ان لوگوں میں تھا۔ دوسرا عملی۔ صحیح حدیثوں میں اس کی نشانیاں جھوٹ بولنا۔ خیانت وعدہ خلافی گالیاں بکنا۔ عہد شکنی آئی ہیں 1۔ اخیر کو اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کو یہ بھی جتلا دیا کہ اپنے جن اعضا کے بھروسہ پر یہ منافق چلاکیاں اور دغا بازیاں کرتے ہیں اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ چاہے تو ان کے اعضا کو بالکل بیکار کر دیوے۔ پھر یہ اپنے گھروں میں بالکل اپاہج بن کر بیٹھ جاویں۔ اور ان کی چالاکیاں اور دغا بازیاں ان کے آگے آجاویں۔ ترمذی میں عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا رعد ایک فرشتہ ہے جو بادلوں کو ہانکتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے۔ بادلوں کے ہانکنے میں اس کوڑے کا کوئی تس جو جھڑ جاتا ہے وہ بجلی ہے اور کڑک اس فرشتے کی آواز ہے جو بادلوں کو ہانکنے کے وقت اس کے منہ سے نکلتی ہے۔ 2 اس حدیث کی سندیں اگرچہ کچھ کلام ہے لیکن اکثر علماء مفسرین نے رعد و کڑک و بجلی کی تفسیر اسی حدیث کے موافق کی ہے۔
Ayahs 2:21–22

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کیلئے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ اور تم جانتے تو ہو

(21 ۔ 22): حاصل یہ ہے کہ جب خالق رازق وہی ایک ذات وحدہٗ لا شریک ہے تو اس کو چھوڑ کر دوسرے کو پوجنا اس کی تعظیم اور عبادت میں دوسرے کو شریک کرنا بڑی نادانی اور ناشکرگذاری ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی نافرمانی اور گناہ دنیا میں نہیں ہے صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے اس کی تعظیم اور عبادت میں کسی کو شریک کرنا اس سے بڑھ کر کوئی گناہ دنیا میں نہیں ہے 1۔ اسی واسطے اللہ چاہے تو اور گناہوں کو بغیر توبہ کے معاف کر دیوے لیکن شرک بغیر خالص توبہ اور بغیر خالص عبادت الٰہی کے ہرگز نہیں معاف ہوسکتا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود اور سلف نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مکہ کے بت پرستوں منافقوں اور اہل کتاب سب کو ملا کر خالص عبادت الٰہی کی اور جس خالص توحید الٰہی کی ترغیب نبی آخر الزماں دلاتے تھے اس کے اتباع کی تاکید ان سب کو فرمائی ہے { وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ } سے یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ ذرا غور کریں تو ان کو خود معلوم ہوجاوے گا کہ انسان اور اس کی راحت کا سامان سب کچھ جب خدا تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے تو خالص اس کی بندگی کو لازم ہے۔
Ayahs 2:23–24

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمد عربی ﷺ پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اس طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

لیکن اگر (ایسا) نہ کرسکو اور ہرگز نہیں کرسکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہونگے، (اور جو) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے

(23 ۔ 24): اسلام کے بڑے دو ہی جز ہیں۔ ایک توحید دوسرے تسلیم رسالت اول آیت میں توحید الٰہی کا ذکر تھا اس آیت میں اللہ کے رسول کی رسالت کی تسلیم کا حکم ہے اور رسول کے بچے ہونے کی دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ قرآن قریش کی زبان میں اترا ہے اور مکہ میں دس برس تک برابر قرآن اترتا رہا۔ اور قریش کو اپنی فضاحت و بلاغت کا بھی بڑا دعویٰ تھا اور ان کو ایک سورة قرآن کی مانند بنا کر لانے کو کہا بھی گیا مگر سوا عاجز ہوجانے کے اور کچھ ان سے نہ ہوسکا۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ نبی برحق ہیں۔ اور جو کلام ان پر اترتا ہے وہ بیشک کلام الٰہی ہے کیوں کہ انسان اور جنات سب مل کر اس جیسا کلام بنانے سے عاجز ہیں۔ اس پر بھی ان نبی کے برحق ہونے اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے سے جو شخص شخص و شبہ میں رہے گا وہ اپنے آپ کو دوزخ سے بچانے کی فکر کرلے آوے۔ مسند اور امام احمد صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ دوزخ کی آگ کی حرارت دنیا کی آگ سے انہتر 69 حصہ بڑھ کر ہے کسی جیتے آدمی کو دنیا میں آگ میں ڈال دیا جائے تو ایک دم بھی بھی اس کی برداشت نہ ہوگی۔ جو لوگ توحید الٰہی اور تسلیم رسالت میں کوتاہی کرتے ہیں معلوم نہیں پورے ستر حصے حرارت والی آگ برداشت کروڑوں برس ان سے کیوں کر ہوگی۔ نعوذ باللہ منہا یہ جو فرمایا کہ { اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ } یعنی آگ منکروں کے لئے تیار کی جا چکی ہے اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ اس وقت تیار موجود ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دوزخ کو خاص قیامت کے دن پیدا کیا جاوے گا وہ غلطی پر ہیں۔ سوا اس آیت کے ان کی غلطی اور آیتوں اور حدیثوں سے بھی نکلتی ہے۔
Ayah 2:25

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خوشخبری سنادو کہ ان کے لئے (نعمت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائیگا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا اور ان کو ایک دوسرے کے ہمشکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے

قرآن شریف میں جہاں کافروں کا ذکر آتا ہے اس سے پہلے یا اس کے بعد مومنوں کا ذکر ضرور آتا ہے تاکہ عقبیٰ کی راحت و تکلیف کا حال ساتھ کے ساتھ معلوم ہوجاوے۔ ایک حال کے مقابلہ کی آیتیں دوسری جگہ ڈھونڈنی نہ پڑیں۔ قرآن شریف کے بیان کی اور خوبیوں میں سے یہ بھی ایک بیان مطلب کی خوبی ہے۔ اسی طرز بیان کے موافق اوپر کافروں کے انجام کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں مومنوں کا ذکر فرمایا ہے جنت کی راحتوں اور دوزخ کے عذابوں کے بیان میں اس قدر کثرت سے صحیح حدیثیں ہیں کہ ان کو بیان کرنا مشکل ہے۔ اسی واسطے صحیح حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جنت کی نعمتیں نہ کبھی آنکھ نے دیکھیں نہ کان نہ سنیں۔ نہ کسی کے دل پر ان کا تصور گذر سکتا ہے 3 یہ حدیث صحیحین وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آئی ہے۔ بھلا جو نعمتیں دیکھنے سننے اور وہم و گمان سے باہر ہوں کسی زبان یا قلم کی کیا طاقت کہ ان کو تفصیل وار بیان کرسکے۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو جنت نصیب کرے اس وقت ان راحتوں اور نعمتوں کی تفصیل معلوم ہوگی۔ ایمان کے ساتھ نیک کاموں کے ذکر سے معلوم ہوا کہ جنت جب ملے گی کہ ایمان اور نیک عمل دونوں ہوں۔ جنت کی نہروں کے کنارے نہیں ہیں۔ برابر زمین پر جاری ہیں۔ ان میں سے پانی اور شہد شراب جنتی لوگ بلا وقت لے سکیں گے۔ جنت کی بیبیاں حیض اور نفاس سے پاک ہوں گی اس لئے ان کو ستھری فرمایا جنت کے میوے دنیا کے میووں سے مزہ میں بالکل الگ ہوں گے فقط ان کے نام دنیا کے میووں جیسے ہوں گے۔ اس لئے جنتی لوگ ان کو پہلے پہل دنیا کے میووں کے مشابہ سمجھیں گے۔ صحیحین وغیرہ میں حضرت ابن عمر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں جا چکیں گے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ آواز دیوے گا کہ اب موت نہیں جو شخص جس حال میں ہے ہمیشہ اسی حال میں رہے گا 1 دنیا کی ہر نعمت کو ہر دم زوال لگا ہوا ہے۔ جنت کی نعمتوں میں یہ کتنی بڑی خوبی ہے کہ ان کو زوال نہیں۔
Ayahs 2:26–27

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے جو مومن ہیں وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے، اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

(26 ۔ 27) اس مدنی سورت میں منافقین اور ان کے ساتھ یہود کے ذکر کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں فرمائیں تھیں۔ ایک جنگل اور اندہیرے میں آگ سلگانے کی دوسری کڑک اور بجلی کی۔ اور اس سورت سے پہلے مکہ میں جو قرآن کا حصہ نازل ہوا تھا اس میں مکھی اور مکڑی اور لکڑی کے گھر کی مثالیں تھیں۔ قرآن شریف کے منکر لوگ اس پر یہ طعن کرتے تھے کہ جس کلام میں ایسی حقیر چیزوں کا ذکر ہو وہ کلام الٰہی کیونکر کر ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کا جواب دیا ہے کہ مخلوق ہونے میں حقیر اور صاحب شان چیزیں سب برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے جس چیز کی چاہے مثال بیان کرے اس پر طعن نافہمی ہے۔ ترمذی میں مہل بن سعد سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ساری دنیا کی قدر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی کا دنیا میں نہ ملتا۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہا ہے۔ 2 ترمذی کے اس قول کا یہ مطلب ہے کہ یہ حدیث کئی طریق سے آئی ہے جس میں ایک طریق غریب ہے مگر حسن اور صحیح طریق سے اس غریب طرشیق کو بھی قوت ہوجاتی ہے۔ محدثین کے نزدیک غریب حدیث وہ ہے جس کو کسی ثقہ سے ایک منفرد شخص روایت کرے۔ الغرض اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کی مخلوقات مچھر کے پر سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ اہل دنیا کے نزدیک کوئی چیز دنیا کی صاحب شان ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کیا حقیقت ہے۔ حاصل یہ ہے کہ قرآن کے کلام الٰہی نہ ہونے کا شبہ جو ان قرآن کے منکر لوگوں کو تھا اس کو تو اللہ تعالیٰ نے یوں رفع فرما دیا کہ تم سب لوگ اگر اس قرآن کو انسان کا کلام جانتے ہو تو تم بھی ایسا کچھ بنا کرلے آؤ اس میں تو یہ لوگ بالکل عاجز اور لا جواب ہوگئے۔ اب جو نافہمی کے سبب سے ان لوگوں کی یہ باتیں تھیں ان کا جواب بھی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دے دیا۔ اور فرمادیا کہ جو لوگ راستہ پر آگئے ہیں اور قرآن کو وحی آسمانی اور جن پر یہ وحی اتری ہے ان کو اللہ کا سچا رسول جانتے ہیں ان کو تو اللہ تعالیٰ کی ہر ایک مثال سے ایک ہدایت ہوتی ہے۔ مثلاً اندھیرے میں آگ سلگائے اور اس کے پھر بجھ جانے کی مثال سے یہ کہ خانہ کعبہ بلکہ جزیرہ عرب بت پرستی سے جلد پاک وصاف ہوجائے گا۔ اور اخیر کو ایسا ہی ہوا۔ جو لوگ اغوائے شیطانی سے کجی پر ہیں ان کی کجی اور گمراہی اس طرح کی مثالوں سے اور بڑھتی ہے۔ مثلاً یہی ان کی گمراہی ہے کہ کہتے ہیں کہ اس طرح کی مثالیں کلام الٰہی نہیں ہو سکیں اور یہ نہیں بتلاتے کہ کیوں نہیں ہوسکتیں۔ غرض ان لوگو کی کج روی اور گمراہی قرآن شریف کی مثالوں کے باب میں محض سرکشی اور نافرمانی کے سبب سے تھی۔ اس لئے ان لوگوں کو بےحکم فرمایا۔ کیوں کہ قرآن کو کلام الٰہی جاننے میں تو ان کو ایک سیدھی بات اللہ تعالیٰ نے بتلا دی تھی کہ تم لوگ اگر اس کو کلام انسانی جانتے ہو تو تم بھی ایسا کچھ بنا لاؤ۔ جب اس میں یہ سب عاجز رہے تو قرآن شریف کو کلام الٰہی جاننے اور اس کی مثالوں سے عبرت پکڑنے میں کسی کو کوئی عذر کا موقع باقی نہیں رہا تھا۔ بدعہد لوگوں سے مراد یہود لوگ ہیں کہ تورات میں ان سے نبی آخر الزمان کی اطاعت کا عہد لیا گیا تھا انہوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا۔ اور منافقوں کو بھی بہکا کر اپنے ساتھ کرلیا کہ مسلمانوں کی مجلس میں وہ مسلمان ہونے کا عہد کرتے ہیں اور مسلمانوں کی مجلس سے الگ ہوتے ہی وہ عہد توڑ ڈالتے ہیں صلہ رحمی سے مراد قرابت داری کا سلوک ہے۔ لیکن اس میں سے اہل مکہ کی ایک طرح کی مذمت نکلتی ہے کہ باوجود قرابت داری کے انہوں نے وہ قطع رحمی کی کہ اللہ کے نبی اور ان کے ساتھیوں کو مکہ چھوڑا پڑا۔ ان لوگوں کی یہی باتیں تھیں جس سے اللہ کی زمین میں طرح طرح کے فساد برپا ہوئے اور ان فسادات کے رفع کرنے کی غرض سے آخر جہاد کا حکم نازل ہوا۔ اخیر کو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ ان باتوں سے اور کسی کا کچھ نہییں بگڑتا۔ ان کی ان باتوں سے انہیں کو نقصان پہنچے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان باتوں سے یہ لوگ دین و دنیا کے نقصان میں پڑگئے۔ ان کا دنیا کا نقصان تو اس زمانہ کے مسلمانوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اکثر کج روی والے لوگ قتل ہوگئے ان کے جو روا بچے لونڈی غلام بن گئے۔ ان کے مال غارت ہوگئے۔ اور جلاوطن ہوگئے اسی طرح ان کا عاقبت کا نقصان بھی قیامت میں سب کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا۔
Ayahs 2:28–29

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

(کافرو ! ) تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لئے پیدا کیں پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنادیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے،

(28 ۔ 29): اوپر یہود اور منافقوں کی بد عہدی کا ذکر تھا کہ کفر عنادی کے سبب سے یہود نے تورات کے عہد کو پورا نہیں کیا بلکہ نبی آخر الزمان کے اوصاف کو چھپا کر منافقوں کو طرح طرح سے بہکایا اور ان کو بھی یہ عہدی سکھائی کہ مسلمانوں کے رو و برو وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور اپنی خاص مجلسوں میں اس زبانی عہد سے بھی پھرجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں سے دل لگی کرتے تھے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں فرقوں کو جتلایا کہ پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ مٹی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ان کی راحت کی چیزیں جو کچھ دنیا میں ہیں ان سب کو پیدا کیا سب چیز کا ذرا ذرا حال اس کو معلوم ہے۔ اپنے علم میں جس قدر عمر ان لوگوں کی اس نے لکھی ہے اس کے ختم ہوجانے کے بعدان کو مارے گا اور پھر حشر کے دن ان کو زندہ کر کے ذرہ ذرہ کا ان سخت حساب لیوے گا۔ غرض لوگوں سے اپنے دل کی کفرونفاق کی باتیں چھپا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے صحیح بخاری میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی شخص نے راس المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس سے پوچھا کہ بعض آیتوں میں آسمان کے پیدا کرنے کا ذکر زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور بعض آیتوں میں زمین کے پیدا کرنے کے بعد اس کا کیا سبب ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ زمین ایک تو وہ کے طور پر آسمان سے پہلے پیدا ہوئی ہے اور اس کا پھیلانا آسمان کے پیدا کرنے کے بعد ہوا ہے 1۔ سوائے حضرت عبد اللہ بن عباس کے اور سلف نے بھی یہی فرمایا ہے اور اسی قول سے مختلف آیات قرآنی میں مطابقت پیدا ہوتی ہے۔ سورة حم السجدہ اور سورة والنازعات میں اس کی تفصیل اور زیادہ آوے گی۔
Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے، اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

حضرت عبد اللہ بن مسعود اور سلف سے اس قصہ کی روایات جو آئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے دو ہزار برس پہلے زمین پر جنات رہتے تھے انہوں نے زمین پر طرح طرح کے فساد کئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ایک گروہ کو جنات کی تنبیہ اور سرکوبی کے لیے بھیجا۔ ان فرشتوں نے جنات کو مار کر دریا کے ٹائپوں اور جزیروں میں نکال دیا 3 اب بنی آدم کی پیدائش کا حال سن کر فرشتوں نے اسی قیاس پر یہ بات کہی تھی کہ جنات کی طرح بنی آدم بھی زمین میں فساد پھیلادیں گے لیکن فرشتوں کی یہ بات کچھ اعتراض کے طور پر نہیں تھی کیونکہ خلافت مرضی اللہ تعالیٰ کے وہ کوئی بات منہ سے نکالنے میں معصوم ہیں صرف پیدائش بنی آدم کی حکمت دریافت کرنے کو انہوں نے یہ بات کہی تھی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں کوئی خفگی ظاہر نہیں فرمائی بلکہ اتنا ہی فرمایا کہ بنی آدم کی پیدائش کی حکمت جو مجھ کو معلوم ہے اس کو تم نہیں جانتے جس کا مطلب یہ تھا کہ بنی آدم کی پیدائش سے زمین میں فقط فساد ہی نہیں پھیلے گا بلکہ ان میں انبیاء صدیق شہیدا صلحاء بھی ہوں گے جن سے زمین میں اللہ کا دین پھیلے گا اور پھر اخیر کو اللہ کی جنت آباد ہوگی۔
Ayahs 2:31–33

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور اس نے آدم کو (سب چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا اگر سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا تو پاک ہے جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں، بیشک تو دانا (اور) حکمت والا ہے

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم ! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں ! میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے ؟

(31 ۔ 33): آیت { فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفْخُت فِیْہِ مِنْ رُّوْحِی فَقَعُوْالہ سَاجِدِیْنَ } (15۔ 29) سے اور شفاعت کی انس بن مالک کی بخاری و مسلم وغیرہ کی اس حدیث سے جس میں یہ ذکر ہے کہ میدان محشر میں لوگ حضرت آدم کے پاس سب انبیاء سے پہلے جا کر یہ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ عزت دی ہے کہ فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا ہے اور آسمان و زمین کی سب چیزوں کے نام آپ کو سکھائے ہیں اس عزت کے سبب سے اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت منظور فرما وے گا 1۔ اور اسی طرح کی آیات و احادیث کے سبب سے اس پر تو سب مفسرین سلف کا اتفاق ہے کہ حضرت آدم کے اصل قصہ میں ملائکہ کے سجدہ کے بعد حضرت آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے گئے ہیں مگر تلاوت قرآن میں یہ دونوں آیتیں آگے پیچھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں کہ انی اعلم ما لا تعلمون اور وعلم ادم الاسماء کلہا یہ دونوں آیتیں مل کر علم الٰہی کی آیتیں ایک سلسلہ میں ہوجاویں اسی شفاعت کی حدیث میں ہے وعلمک اسمآء وکل شیء جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوقات کے نام سکھائے تھے۔ صحابہ ؓ کی ایک جماعت نے کہا کہ ما تبدون سے مراد فرشتوں کا وہی قول ہے کو بنی آدم کے پیدا کرنے سے خون ریزی ہوگی اور طرح طرح کا فساد زمین میں پھیلے گا اور تکتمون سے ابلیس کا وہ تکبر مقصود ہے جو اس نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا۔
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سب سجدے میں گرپڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آ کر کافر بن گیا

صحیح مسلم میں حضرت عائشہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں اور ابلیس آگ سے پیدا کیا گیا ہے 2۔ اور انسان کی پیدائش تو تم لوگوں کو خود معلوم ہے یعنی مٹی اور پھر منی سے ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے یہ روایت ہے کہ تم لوگ الٹے ہاتھ سے مت کھایا کرو اور پانی بھی الٹے ہاتھ سے نہ پیا کرو کہ الٹے سے کھانے پینے کی عادت شیطان کی ہے 3 سو ان حدیثوں کے اور بھی صحیح حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس کی پیدائش فرشتوں کی پیدائش سے بالکل الگ ہے۔ کھانا پینا مباشرت ان باتوں سے فرشتے پاک ہیں۔ اور شیطان میں یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں۔ اس لئے سلف میں سے یہ جس جماعت نے کہا کہ ابلیس ملائکہ کی طرح نوری جسم کا نہیں بلکہ جنات کی طرح ناری جسم کا ہے 1 یہی قول صحیح ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول { کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَق عَنْ اَمْرٍ رَبِہٖ } (18: 50) کے اور صحیح حدیثوں کے موافق ہے۔ اس قول کے سوا جو کچھ اقوال ہیں وہ بنی اسرائیل سے لئے گئے ہیں جن کا کچھ اعتبار نہیں کیونکہ وہ ملعون خود خدا تعالیٰ کے روبرو کہہ چکا ہے { خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَارٍ وَّ خَلَقْتَہ مِنْ طِیْنٍ } (17: 12) جس طرح کا سجدہ ملائکہ نے اللہ کے حکم سے حضرت آدم کو کیا اسی طرح سلام کی طرح کا سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اگلی شریعتوں میں جائز تھا جیسا کہ سورة یوسف میں حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے بھائیوں کا حضرت یوسف کو سجدہ کرنے کا ذکر ہے۔ مگر اب شریعت محمدی میں سوا اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے { وَکَانَ مِنْ الْکَافِرِیْنَ } کا مطلب یہ ہے کہ علم الٰہی میں یہ امر پہلے ہی قرار پا چکا تھا کہ اگرچہ اپنی عبادت کے سبب سے ابلیس گروہ جنات میں سے نکل کر وہ ملائکہ میں چندے داخل ہوجاوے گا لیکن انجام اس کا نافرمانی کے سبب سے کفر پر ہوگا۔
Ayahs 2:35–36

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہوجاؤ گے

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش و نشاط) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں) سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کردیا گیا) ہے

(35 ۔ 36): ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے جنت میں جانے سے پہلے حوا پیدا ہوئی ہیں اور پھر دونوں کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا ہے لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس عبد اللہ بن مسعود اور صحابہ کی ایک جماعت کا قول ہے کہ پہلے تن تنہا حضرت آدم کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا تھا۔ حضرت آدم جنت میں رہتے تھے مگر تنہائی کے سبب سے اکثر گھبرایا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت آدم سو رہے تھے تو ان کی نیند کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا کو حضرت آدم کی بائیں پسلی سے پیدا کردیا 2۔ اور ان دونوں کو جنت میں رہنے کا حکم دیا۔ بخاری مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پسلی کی ہڈی سے پیدا ہونے کے سبب سے پسلی کی ہڈی کی طرح ہر عورت کے مزاج میں ایک کجی ہے جو کوئی اس کجی کو جھیل کر عورت کو نرمی سے رکھے گا اس کی تو گذر ہوجاوے گی ورنہ گذر مشکل ہوگی 3 مفسروں نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ جس جنت میں حضرت آدم و حوا کو رہنے کا حکم ہوا تھا وہ وہی آسمان پر کی جنت ہے جس میں نیک لوگ قیامت کے دن جاویں گے۔ یا زمین پر کوئی اور باغ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تھا۔ سلف کی بڑی جماعت کا یہی قول ہے کہ وہی آسمان پر کی جنت تھی جس درخت کے پھل کے کھانے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا کو منع کیا تھا اس میں بھی بڑا اختلاف ہے کہ وہ کونسا درخت تھا لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس سے ایک روایت ہے کہ گیہوں کا درخت تھا 1۔ شیطان نے حضرت آدم و حوا کو کیونکر بہکایا اس کی کیفیت اور سانپ کا ذکر یہ سب تفصیل سورة اعراف میں آوے گی۔ حاکم کی روایت میں جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ حضرت آدم جنت میں عصر سے مغرب تک رہے 2۔ مگر ہزار برس کے دن کے حساب سے یہ دنیا کے ایک سو تیس دن ہوئے۔ بعض لوگوں نے یہ شبہ کیا ہے کہ اللہ کی خفگی کے بعد شیطان کو آسمان پر جنت میں جانا منع تھا پھر وہاں تک حضرت آدم کو بہکانے کیوں کر گیا اس کا جواب سلف نے یہ دیا ہے کہ جس طرح خفگی سے پہلے شیطان آسمان پر عزت حرمت سے رہتا تھا اس طرح خفگی کے بعد وہاں جانا منع ہے جب تک انسان کے دم میں دم ہے بہکانے کے لئے شیطان کو وہاں جانے کی ممانعت نہ تھی۔
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کردیا بیشک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحب رحم ہے

اکثر سلف کے نزدیک وہ کلمات یہ تھے { رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ } 3 توبہ کا وقت زیست کی نا امیدی سے پہلے ہے۔ توبہ میں تین باتیں ضروری ہیں۔ ایک تو جو گناہ ہوگیا ہے اس پر سچے دل سے نادم اور پشیمان ہونا۔ دوسرے توبہ کے وقت دل میں خوب یہ ٹھان لینا کہ آئندہ گناہ سے باز رہوں گا۔ تیسرے توبہ کے بعد دل میں گناہ سے ایک نفرت کا پیدا ہوجانا۔
Ayahs 2:38–39

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ، جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخ میں جانے والے ہیں، اور ہمیشہ اس میں رہیں گے

(38 ۔ 39): جو علماء حضرت آدم کے قصہ میں سانپ کی شراکت کو صحیح کہتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ جو فرشتے جنت کے دروازے پر تعینات ہیں وہ شیطان کو جنت میں نہیں جانے دیتے تھے۔ اس لئے شیطان سانپ کے منہ میں بیٹھ کر جنت میں گیا اور حضرت آدم و حوا کو بہکایا۔ ان کا یہ قول ہے کہ حضرت آدم ‘ حوا ‘ ابلیس ‘ سانپ ان چاروں کو { اِھْبِطُوْا مِنْہَا } فرمایا ہے اور جو علماء سانپ کی شراکت نہیں دیتے وہ آیت میں سانپ کے ذکر کو شامل نہیں رکھتے۔ اس باب کی روایات کا پورا ذکر سورة اعراف میں ہو وے گا کیوں کہ وہاں شیطان کا پورا قصہ ہے۔ اخیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جو قیامت تک پیدا ہوگی یہ جتلا دیا کہ ان کو نیک راستہ پر لگانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکام لے کر اللہ کے رسول آویں گے۔ جس کسی نے اللہ کے رسول کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے موافق عمل کیا اگرچہ قیامت کے دن میدان محشر کی گرمی۔ پیاس حساب۔ پل صراط پر گذرنا۔ نامہ اعمال کا تولا جانا یہ بڑے بڑے پورا قصہ ہے۔ اخیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جو قیامت تک پیدا ہوگی یہ جتلا دیا کہ ان کو نیک راستہ پر لگانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکام لے کر اللہ کے رسول آویں گے۔ جس کسی نے اللہ کے رسول کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے موافق عمل کیا اگرچہ قیامت کے دن میدان محشر کی گرمی۔ پیاس حساب۔ پل صراط پر گذرنا۔ نامہ اعمال کا تولا جانا یہ بڑے بڑے خوف ناک مقام ہیں مگر دل سے رسول کی اطاعت کرنے والے لوگوں کو یہ سب مقام اللہ تعالیٰ آسان کر دیوے گا۔ اور آخرت میں ان کو کچھ خوف و غم نہ ہوگا۔ بلکہ جنت میں وہ اپنی عقبیٰ کے زندگی بڑے عیش سے بسر کریں گے۔ ہاں جو لوگ دنیا میں اللہ کے رسول کی اطاعت سے منحرف اور اللہ کے احکام کے منکر رہویں گے عقبیٰ میں ہمیشہ کے لئے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا حالت مختصر طور پر ذکر فرمایا ہے۔ بخاری و مسلم کی متفق علیہ اور منفرد اور حدیث کی کتابوں کی صحیح روایتوں میں آنحضرت ﷺ نے اس بات میں جو فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ پل صراط پر سے گذر کر قیامت کے دن لوگ جنت میں جاویں گے اور اپنے اپنے عمل کے موافق کچھ لوگ پلک جھپکانے میں اور کچھ بجلی کی طرح اور کچھ لوگ ہوا اور پرند جانوروں یا تیز گھوڑوں کی طرح پل صراط پر سے گذرجاویں گے 1۔ اس آیت میں اس قسم کے اہل جنت کا ذکر ہے۔ لیکن ان حدیثوں کے موافق اس دن بعض گناہ گار اہل کلمہ ایسے بھی ہوں گے جو اپنے گناہوں کی شامت سے پل صراط سے دوزخ میں جا پڑیں گے اور جو لوگ شرک کی حالت میں نہیں مرے وہ شفاعت کے سبب سے آخر کو دوزخ سے نکل کر جنت میں جا ویں گے۔ پل صراط کی آیتوں میں پل صراط کا اور شفاعت کی آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ آئے گا۔