1. Surah Al-Faatiha

الفاتحةThe Opening · 7 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 1:1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ Open ayah 1:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم احسن التفاسیر منزل اول بعد حمدو صلوۃ کے شائقین تلاوت قرآن کو معلوم ہو کہ معتبر تفسیروں کی روایتوں کے موافق اکثر علماء کے نزدیک قرآن شریف کی قرات سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کا پڑھنا سنت ہے جس کے معنی شیطان مردود کی ہر طرح کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آنے کی التجا کے ہیں۔ اس بات پر تو سب علماء کا اتفاق ہے کہ سورة نمل کی آیتوں میں حضرت سلیمان کے قصہ میں جو بسم اللہ الرحمن الرحیم ایک آیت ہے یا نہیں اس میں سلف کا اختلاف ہے اور حدیثیں دونوں جانب ہیں مگر نماز میں تکبیر اور سورة فاتحہ کے مابین پکار کر بسم اللہ نہ پڑھنے کی حدیثیں زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہیں۔ رہی سوا سورة فاتحہ کے اور سورتوں کی بحث اس کے باب میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ابو داؤد میں بسند صحیح جو روایت ہے اس کا حاصل اسی قدر ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے وقت ایک سورة کا ختم اور دوسری سورة کا شروع معلوم ہوجانے کی غرض سے بسم اللہ نازل ہوا کرتی تھی۔ سورة فاتحہ کے مکی یا مدنی ہونے میں سلف کا اختلاف ہے لیکن صحیح قول یہی ہے کہ یہ سورة مکی ہے۔ اس سورة سے قرآن شریف کی کتابت شروع ہوتی ہے اور عربی میں افتتاح کے معنی شروع کے ہیں۔ اس لئے اس سورت کو فاتحہ کہتے ہیں۔ اس سورت کے نام اور بھی حدیث میں آگے ہیں مگر یہ نام زیادہ مشہور ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے مصحف میں فاتحہ قل اعوذ رب الفلق اور قل اعوذ برب الناس یہ تین سورتیں نہیں ہیں کیونکہ وہ ان کو قرآن شریف کی سورتوں میں شمار نہیں کرتے۔ مگر اور سب صحابہ اس کے مخالف ہیں۔ صحیح مسلم اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دن حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ یکایک انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا اور یہ کہا کہ آج آسمان کا وہ ایک درواہ کھلا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا۔ اتنے میں ایک فرشتہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کو سورة فاتحہ اور آمن الرسول سے سورة کے آخر تک ان آیتوں کے نازل ہونے کی خوشخبری سنانے آیا ہوں کہ یہ آیتیں لانے والے ایسے دو نور ہیں کہ آپ سے پہلے کسی نبی پر نازل نہیں ہوئے اس سورة کے اور بھی بہت سے فضائل حدیث شریف میں آئے ہیں۔
Ayahs 1:2–7

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 1:2 in the Quran reader

سب طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 1:3 in the Quran reader

بڑا مہربان نہایت رحم والا

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 1:4 in the Quran reader

انصاف کے دن کا حاکم

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ Open ayah 1:5 in the Quran reader

اے پروردگار ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 1:6 in the Quran reader

ہم کو سیدھے راستے چلا

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ Open ayah 1:7 in the Quran reader

ان لوگوں کے راستے جن پر تو اپنا فضل و کرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا، اور نہ گمراہوں کے

(1 ۔ 7) ۔ الحمد للہ حمد کے معنی زبان سے تعریف کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ نازل فرما کر اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اس طرح کیا کریں رب العالمین رب اللہ کے ناموں میں سے ایک ہے جس کے معنی مربی کے ہیں یہ لفظ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی مخلوق کی شان میں بغیر نسبت واضافت کے نہیں استعمال کیا جاسکتا۔ یا مخلوق کی شان میں اضافت کے ساتھ استعمال ہوسکتا ہے۔ مثلاً رب الدار کہہ سکتے ہیں جس کے معنی گھر کے مالک کے ہوں گے العالمین عالم کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب مخلوقات کو عالم کہتے ہیں۔ آسمان و زمین کی آبادی جنگل و دریا میں اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی مخلوقات ہے جن سب کا مربی اور معبود اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لئے لفظ عالم کو جو خود جمع ہے پھر جمع کر کے فرمایا الرحمن الرحیم صاحب رحمت کے معنوں میں یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے نام ہیں { مَا لِکِ یَوْمِ الدِّیْنَ } کسی چیز کا مالک وہ کہلاتا ہے جس کو اس چیز میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار ہو۔ قیامت کے دن ہر طرح کی جزا و سزا کا اختیار خاص اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ اس واسطے اپنے آپ کو اس دن کا مالک فرمایا ایاک نعبد شروع سورة سے یہاں تک حمد و ثنا کا ذکر تھا اور حمد و ثنا ممدوح کی غائبانہ حالت میں اعلیٰ درجہ کی حمد و ثنا کہلاتی ہے۔ اس لئے یہاں تک غائب کے صیغے تھے۔ اس آیت سے دعا کی حالت شروع ہوئی اور دعا میں حاضری مناسب ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے طرز کلام کو بدل دیا { اِیَّاکَ نَعْبُدُ } کے معنے اس طرز کلام کے موافق یہ ہوئے کہ یا اللہ سوا تیری ذات کے اور کسی کی عبادت ہم نہیں کرتے کیونکہ تو نے ہی ہم کو پیدا کیا اور تیری ہی ہدایت سے ہم کو عبادت کی توفیق ہوئی { وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ } اور یا اللہ ہماری قابل قبول عبادت میں شیطان کا وسوسہ اور خواہش نفسانی ہر طرح سے ہارج ہے۔ اس لئے ہم تیری ذات پاک سے قابل قبول عبادت کے ادا ہونے کی مدد چاہتے ہیں۔ کیونکہ جس عبادت میں وسوسہ شیطانی کا دخل ہوگا اس میں نمائش اور ریا کاری کا اور جس عبادت میں خواہش نفسانی ہوگی اس میں بدعت کا اندیشہ ہے اور عبادت کا یہ اندیشہ اور نقصان بغیر تیری مدد کے رفع نہیں ہوسکتا اھدنا الصراط المستقیم مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے بسند معتبر روایت ہے جس میں خود صاحب وحی ﷺ نے لفظ صراط مستقیم کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ صراط مستقیم سے مراد اسلام ہے۔ 1 اس لئے اب کسی دوسری تفسیر کی ضرورت نہیں۔ اس تفسیر کی بنا پر آخر سورة تک کی دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ جس طرح تو نے اپنے فضل سے ہم کو اسلام کے راستہ پر لگایا ہے اسی طرح تا قیامت ہم کو اسی راستہ پر قائم اور ثابت قدم رکھ کیونکہ یہ راستہ انبیاء اور ایسے کامل دینداروں کا ہے جن پر تو نے اپنی طرح طرح کی دین اور دنیا کی نعمتیں ختم کی ہیں اور پچھلی امتوں کے جو لوگ راہ راست سے بہک گئے ہیں اور ان کی اسی گمراہی کے سبب سے تو ان سے ناراض اور ان پر تیرہ غصہ ہے ان کی چال اور روش سے ہم کو بچا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ { اَلَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ } حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی امت میں کے وہ لوگ ہیں جو اپنے دین پر قائم رہے۔ مسلم وغیرہ کی صحیح حدیثوں کے موافق سورة فاتحہ کے ختم کے بعد آمین کہنا سنت ہے امام مالک شافعی اور احمد کے نزدیک سورة فاتحہ کا پڑھنا نماز کا ایک رکن ہے۔ بغیر اس کے ان کے نزدیک نماز نہیں ہوتی۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کے مخالف ہیں۔ دلیلیں جانبین کے مذہب کی فقہ کی کتابوں میں ہیں۔ اس سورت کی اول کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی تعریف اور آخر کی آیتوں میں بندوں کی طرف سے بار گاہ الٰہی میں دعا ہے اسی واسطے حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھ میں اور میری بندوں اس سورت کی نصفا نصفی کی تقسیم ہے یہ حدیث قدسی صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہے