2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ اور اپنے لیے (نیک عمل) آگے بھیجو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے رو برو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر ﷺ ایمان والوں کو بشارت سنادو

صحیحین میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہود لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ پیٹھ کے پیچھے سے جو کوئی شخص اپنی عورت سے صحبت کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوگا۔ 2۔ بلکہ سوائے کروٹ کے بل کے اور کسی پہلو سے کسی طرح یہود لوگ مباشرت کو جائز نہیں قرار دیتے تھے اس کا چرچا صحابہ میں ہوا اس پر اللہ تعلیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ عورت کی مثال بمنزلہ زمین کے ہے اور نطفہ کے مثال بمنزلہ بیج کے اور اولاد کی مثال بمنزلہ پیداوار کے اس لئے جس طرح کا شتکار کو اپنی زمین میں ہر طرح بیج ڈالنے کا اختیار ہے۔ اسی طرح تم کو بھی ہر پہلو سے اپنی عورتوں سے مباشرت جائز ہے کھیتی کی مثال کے ساتھ مباشرت کی اجازت جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جن علماء نے اس آیت سے عورت سے اغلم کے ائز ہونے کا مطلب نکالا ہے وہ منشائے آیت اور مرضی الٰہی کے مخالف ہے خود صاحب شریعت ﷺ نے متعدد حدیثیں اس مطلب کی حرمت اور سخت سخت وعید میں ارشاد فرمائی ہیں ترمذی اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی عورت سے اغلام کرے گا اس کی طرف نظر رحمت سے اللہ تعالیٰ نظر نہ فرمائے گا 3۔ مسند احمد بن حنبل میں حزیمہ بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اغلام سے سخت ممانعت کی ہے 4۔ اور زیادہ تر یہ اغلام کے جائز ہونے کا مطلب اس آیت سے نکالنا حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ پر رحمت کرے انہوں نے اس مسئلہ میں لوگوں کو وہم میں ڈال دیا ہے اکثر روایت اس مسئلہ کی نافع کے واسطے لوگ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ تک پہنچاتے تھے ایک دن خود حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے بیٹے ابو نضر سالم بن عبد اللہ ؓ نے نافع سے پوچھا کہ اکثر لوگ تمہارا نام لیتے ہیں کہ تم اپنے آقا اور میرے باپ عبد اللہ ؓ سے اغلام کے جائز ہونے کی روایت کیا کرتے ہو نافع نے جواب دیا کہ جو لوگ میری طرف اس روایت کو منسوب کرتے ہیں وہ میرے اوپر بہتان کرتے ہیں اصل بات تو اتنی ہے کہ ایک روز حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ قرآن شریف پڑہتے تھے اور میں ان کی خدمت میں حاضر تھا اس آیت کی تلاوت کو پہنچے تو مجھ سے فرمایا کہ نافع اس آیت کی شان نزول معلوم ہے میں نے عرض کیا کہ نہیں فرمایا کہ یہود لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سوائے کروٹ کے بل کے اور کسی پہلو سے مباشرت جائز نہیں ہے اور یہود کے پڑوس کے سبب سے ہجرت سے پہلے انصار میں بھی یہی رسم پھیل گئی تھی۔ جب مہاجر لوگ مدینہ میں آئے اور انصار کی بعض عورتوں سے مہاجرین کے نکاح ہوئے تو مہاجرین نے قریش کی عادت کے موافق کبھی کروٹ سے کبھی پیچھے غرض ہر طرح مباشرت کی عادت اختیار کی انصار کی عورتوں نے اس کا چرچہ کیا اور رفتہ رفتہ آنحضرت ﷺ تک یہ ذکر یہ آیا اور اس پر یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی یہ روایت نسائی میں ابو نضر سالم بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے 1۔ اور اس روایت کو محدثین نے صحیح کہا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ متعدد طریقوں سے بواسطہ نافع پر وروہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے یہ روایت جو حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ تک پہنچتی تھی اس کی تکذیب خود ان نافع نے ہی کردی۔ اسی طرح امام مالک (رح) کی طرف جو قول منسوب کیا جاتا ہے اس کی صحت کے بھی اکثر محدثین منکر ہیں 2۔ اس آیت میں یہ جو ارشاد ہے کہ ” آگے بھیجو واسطے جانوں اپنی کے “ اس کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی اس حدیث میں ہے جس کو امام بخاری نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے یوں روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس وقت کوئی شخص اپنی بی بی سے مباشرت کا قصد کرے تو بسم اللہ کر کے یہ دعا پڑھے جس دعا کا حاصل یہ ہے یا اللہ ہم کو شیطان سے بچا اور کوئی اولاد ہمارے نصیب میں تو نے لکھی ہے تو اس سے شیطان کو دور رکھ آپ نے فرمایا جو کوئی اس دعا کو پڑھے گا شیطان اس کی اولاد کو کبھی ضرر نہ پہنچائے گا۔ 3۔ اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی وصیت اور ہدایت فرما کر پھر متقی مومنوں کو اپنی ملاقات کی بشارت جو دی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک آمنا سامنا تو اللہ تعالیٰ کا اور عالم خلائق کا قیامت کے نہ ہوگا اس میں تو مسلمان منافق کافر سب شریک ہیں اور ایک دیدار اللہ تعالیٰ کا۔ اگرچہ خاص مسلمانوں کو جنت میں داخل ہونے کے بعد ہوگا۔ لیکن وہ عالم برزخ اور حشر اور حساب و کتاب ودخول جنت کے بعد ہے۔ ہاں محض ایمان وتقویٰ کے سبب سے روح کے جسم سے علیحدہ ہوتی ہے۔ خاص مسلمانوں کو فوری طور پر ایک ملاقات جو اللہ تعالیٰ کی نصیب ہوگی وہ سب ملاقاتوں سے پہلے اور جلد ہونے کے سبب سے زیادہ بشارت کے قابل ہے اس ملاقات کی کیفیت ابو داؤد ابن ماجہ مسند امام احمد بن حنبل اور صحیح ابن حبان میں جو بالتفصیل مذکور ہے خلاصہ اس کا یہ ہے کہ متقی مسلمان شخص کا جب قبض روح کا وقت آتا ہے تو چند فرشتے جنت کی خوشبو کا بسا ہوا ایک ریشمی کپڑا آسمان سے لا کر جتنی دور تک آدمی کی نگاہ کام دے سکتی ہے اس قدر فاصلہ سے بیٹھے رہتے ہیں اور حضرت عزرائیل اس شخص قریب المرگ کے سر ہلانے آن کر نہایت سہولت سے قبض روح فرماتے ہیں۔ اور فورًا وہ فرشتے جو دور بیٹھے تھے اٹھ کر پاس آ کر حضرت عزرائیل سے وہ روح لے کر اس خوشبو دار کپڑے میں رکھ کر آسمان پر لے جاتے ہیں اور ہر آسمان کے فرشتے اپنی حد تک اس روح کو پہنچاتے جاتے ہیں۔ اور جس طرح دنیا میں بڑی عزت سے اس شخص کا نام لیا جاتا تھا اس طرح اس کا نام لے کر آپس میں ذکر کرتے ہیں کہ یہ فلاں شخص کا بیٹا ہے اس روح سے اور اور مسلمانوں کی ارواحوں سے آسمانوں پر ملاقات بھی ہوتی ہے وہ ارواحیں اس روح سے دنیا کے کچھ حالات بھی پوچھتے ہیں اور پھر آپس میں کہتے ہیں چلو ابھی اس کو جانے دو ابھی تو اس کو دنیا کا غم و الم کا صدقہ باقی غرض رفتہ رفتہ اسی طرح روح کو اللہ تعالیٰ کی پیش گاہ میں وہ فرشتے لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس بندہ کی روح کو علیین کی روحوں میں لکھ دو ۔ اور بالفعل منکر نکیر کے جواب کے لئے وہ روح پھر مردہ کے جسم میں پھیر دی جاتی ہے۔ منافق اور کافر کی روح اس طرح آسمان پر جاتی ہے اس کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے ہیں۔ بلکہ اس کے زمین پر پھینکنے کا حکم ہوجاتا ہے کہ سجین میں اس روح کو لکھ لو یہ حدیث صحیح ہے۔ چناچہ منذری نے اس حدیث کے صحیح ہونے کی تصدیق کی ہے 1۔ علیین ساتویں آسمان پر وہ مقام ہے جہاں مسلمانوں کے نامہ اعمال ہیں۔ سجین ساتویں زمین کے نیچے وہ مقام ہے جہاں کافر اور منافقوں کے نامہ اعمال ہیں۔
Ayahs 2:224–225

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور خدا (کے نام) کو اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اور پرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا اور خدا بخشنے والا بردبار ہے

(224 ۔ 225) ۔ علمائے مفسرین نے اس آیت کی شان نزول دو بتائے ہیں ایک تو یہ کہ عبد اللہ بن رواحہ ؓ صحابی اور ان کے داماد بشر بن نعمان ؓ میں کچھ تکرار ہوگئی تھی اس پر عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے قسم کھالی تھی کہ وہ اپنے داماد سے بات چیت نہ کریں گے اور نہ اس کی صورت دیکھیں گے اور نہ اس کے کسی نیک و بد میں شریک ہوں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ دوسری یہ کہ لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر جو بہتان باندھا تھا اس بہتان میں مسطح ایک صحابیہ بھی عبد اللہ بن ابی منافق کے صلاح کار تھے ان مسطح کے باپ مسطح کی چھوٹی عمر میں مرگئے تھے اور مسطح کی ماں اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ میں قرابت تھی اس وجہ سے چھوٹی عمر سے مسطح کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پالا تھا۔ اب جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سنا کہ عبد اللہ بن ابی نے جو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی نسبت بہتان اٹھایا ہے اس میں یہ مسطح بھی شریک ہے تو غصہ میں آکر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مسطح کا جو کچھ مقرر کر رکھا تھا وہ موقوف کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی عبداللہ بن ابی منافق نے جو بہتان عائشہ صدیقہ ؓ پر باندھا تھا اس کی پوری تفصیل تو سورة نور میں آئے گی۔ لیکن خلاصہ اس قصہ کا یہ ہے کہ 6 ؁ ہجری میں جب آنحضرت ﷺ بنی مصطلق کی لڑائی سے فارغ ہو کر مدینہ تشریف لا رہے تھے تو راستہ میں پچھلے راستے سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ حاجت کو جنگل میں تشریف لے گئیں ابھی یہ واپس نہیں آئی تھیں کہ اتنے میں قافلہ کے کوچ کا وقت آگیا اور قافلہ والوں نے اس خالی کجا کو جس میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سوار ہوا کرتی تھیں یہ خیال کر کے کہ حضرت عائشہ ؓ اس میں ہیں وہ کجا وہ اونٹ پر لاد دیا اور قافلہ چل نکلا وہاں جنگل میں حضرت عائشہ ؓ کے گلے کا ہار گرگیا تھا اس کے ڈہونڈنے میں ان کو ذرا دیر ہوگئی جب ہار کو ڈھونڈھ کر یہ وہاں تشریف لائیں جہاں قافلہ اترا تھا تو قافلہ روانہ ہو کر بہت دور نکل چکا تھا آخر یہ پریشان ہو کر جنگل میں لیٹ گئیں اور ان کی آنکھ لگ گئی اتنے میں صبح ہوگئی صبح ان کے کان میں انا للہ کے پڑھنے کی آواز آئی۔ آنکھ کھول کر دیکھا تو صفوان بن معطل ؓ صحابی ہیں ان کو دیکھ کر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اپنا منہ ڈھانک لیا یہ صفوان قافلہ کے پیچھے رہ گئے تھے جب یہ اس مقام پر پہنچے جہاں قافلہ اترا ہوا تھا تو انہوں نے تن تنہا ایک شخص کو سوتے ہوئے دیکھا پردہ کی آیت کے نازل ہونے سے پہلے صفوان نے حضرت عائشہ ؓ کو دیکھا تھا اس لئے ان کو پہچان لیا۔ اور سمجھ گئے کہ قافلہ سے بچھڑ کر یہ یہاں رہ گئیں ہیں ان کے جاگ اٹھنے کی غرض سے صفوان ؓ نے انا للہ پڑھی تھی جب یہ جاگ اٹھیں تو صفوان نے اپنا اونٹ بٹھایا اور حضرت عائشہ ؓ اس پر سوار ہوئیں اور صفوان اونٹ کے ساتھ ہوئے اور قافلہ کے پیچھے یہ دونوں بھی مدنیہ میں داخل ہوگئے اس پر عبد اللہ بن ابی اور چند لوگوں نے مل کر ان دونوں پر بد فعلی کا بہتان اٹھایا جس کی برأت اللہ تعالیٰ نے سورة نور میں نازل فرمائی ہے۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ کسی کام سے رکنے کے لئے اللہ کی قسم کھا کر ما بعد میں اگر آدمی دیکھے کہ قسم پر قائم نہ رہنے کی صورت میں دینی یا دنیوی کوئی زیادہ فائدہ کی بات ہے تو ایسی حالت میں ضرور اس فائدہ کی بات کو کرلینا چاہیے اور قسم کا کفارہ دے دینا چاہیے قسم کے کفارہ کا ذکر آگے سورة مائدہ میں آئے گا۔ کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلا دینا ہے یا کپڑا بنا دینا یا ایک بردہ آزاد کرنا یا تیس روزے رکھنا صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میری ہر ایک قسم ایسی ہے کہ قسم کھانے کے بعد کوئی چیز اور میں اس چیز سے بہتر دیکھ پاؤں جس چیز پر میں نے قسم کھائی تو فورًا میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں اور اس بہتر کام کو ضرور کرلوں 1 سو اس حدیث کے اور بھی صحیح حدیثیں اس باب میں وارد ہوئی ہیں ابو داؤد کی صحیح روایتوں میں یہ بھی ہے کہ قطع رحم۔ یا اور کسی گناہ کے کام کرنے پر اگر آدمی قسم کھا بیٹھے تو اس کے طرح کے کام کو چھوڑ دینا ہے قسم کا کفارہ ہے جدا کفارہ کی ضرورت نہیں ہے۔ 2۔ تکیہ کلام کے طور پر جو آدمی کے منہ سے واللہ باللہ نکل جاتا ہے یا ایک بات کو ایک طرح گمان کر کے آدمی قسم کھا لیوے اور حقیقت میں وہ بات اس طرح سے نہ ہو وہ قسم میں داخل نہیں نہ اس کا کفارہ ہے نہ اس پر کچھ مواخذہ ہے اسی کو یمین لغو کہتے ہیں اور اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ یمین لغو پر کچھ مواخذہ نہیں ہے اور نہ وہ قسم ہے مواخذہ کے قابل وہی قسم ہے جو دل کے قصد سے ہو یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ قسم یا اللہ کے نام کی ہوتی ہے۔ جیسے اللہ کی قسم یا اللہ کی صفات کی ہوتی ہیں مثلاً جیسے اللہ کی جاہ و جلال کی قسم سوا اللہ کی ذات اور صفات کے اور چیزوں کی قسم کھانا جیسے لوگوں میں رواج ہے کہ فلاں کے سر کی قسم یا فلاں کی جان کی قسم یہ بالکل منع ہے۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سب ساتھ تھے حضرت عمر ؓ نے کسی بات پر اپنے باپ کی قسم کھائی آنحضرت ﷺ نے فورًا ان کو روکا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس سے منع کیا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی چیز کی قسم کھاؤ اس لئے جو کوئی قسم کھائے تو اللہ کی کھائے نہیں تو چپکا رہے 1۔ قسم کھانے کی آدمی کی دو حالتیں ہیں یا آئندہ کی کسی بات پر قسم ہوتی ہے کہ آئندہ اتنی مدت کے بعدایسا ہوگا۔ یا کسی گذری ہوئی بات پر قسم ہوتی ہے کسی آدمی کو گذشتہ بات معلوم ہو اور پھر وہ لالچ یا رعایت کے سبب سے جان بوجھ کر اصلی حالت کو چھپا کر قسم کھا جائے تو یہ کبیرہ گناہ ہے اور اسی کو یمین غموس یعنی گناہ میں ڈوبی ہوئی قسم کہتے ہیں۔
Ayahs 2:226–227

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھا لیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہئے اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے

(226 ۔ 227) ۔ اسلام سے پہلے عرب میں یہ دستور تھا کہ جو شخص اپنی بی بی سے کسی بات پر خفا ہوجاتا تھا تو کوئی برس دو برس کے لیے اور کوئی ہمیشہ کے لئے اس عورت کے پاس آنے کی اس سے بات چیت کرنے کی قسم کھالیا کرتا تھا مطلب اس سے عورتوں کو ستانا اور ان کو تنگ کرنا ہوتا تھا کہ عورت دوسرے سے نکاح بھی نہ کرسکے اور یہاں بھی خاوند کی صحبت کو ترستی رہے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے بعد اس طریقہ کو بند فرمانے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اب چار مہینہ کی مدت سے بڑھ کر یہ قسم جس کو ایلاء کہتے ہیں جائز نہیں ہے۔ اگر کسی نے زیادہ مدت کی قسم کھائی بھی تو قاضی چار مہینے کے بعد یا ملاپ کرا دے گا یا طلاق دلا دے گا۔ 2۔ اب رہا علماء کا یہ اختلاف کہ چار مہینے گذرنے کے ساتھ ہی بغیر خاوند کے طلاق دینے کے خود بخود اس عورت کو کسی قسم کی طلاق پڑجاتی ہے یا نہیں۔ اس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے اگر کوئی شخص چار مہینے کی مدت سے کم کی قسم کھائے تو وہ قسم اپنی مدت مقرر پر ہوجائے گی۔ جس طرح آنحضرت ایک دفعہ ایک مہینے کے لئے ازواج مطہرات کے پاس آنے کی قسم کھائی تھی جس کی روایت حضرت انس ؓ سے بخاری 3۔ میں اور مسلم میں جابر 4 سے ہے۔
Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے تئیں روکے رہیں اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کو جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں اور عورتوں کو حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر البتہ مردوں کو عورتوں پر فضلیت ہے اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے

ابو داؤد میں اور تفسیر ابن کثیر ابی حاتم میں اسماء بنت یزید سکن ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک اس کے خاوند نے اس کو طلاق دی اس وقت تک طلاق شدہ عورت کیلئے عدت کی مدت مقرر نہ تھی۔ خاص اس کی طلاق کے وقت یہ آیت نازل ہوئی ہے 1۔ اور اس آیت میں فقط ان عورتوں کی عدت کا ذکر ہے جن سے نکاح کے بعد مباشرت ہوئی ہو اور جن کی عمر ایسی چھوٹی نہ ہو کہ حیض نہ آتا ہو اور نہ ایسی بڑی عمر ہو کہ حیض بند ہوگیا ہو اور نہ حاملہ ہو اس لئے کہ بلا مباشرت کے عورت اور چھوٹی عمر والی اور بڑی عمر والی اور حاملہ ان سب کی عدت کا حکم علیحدہ علیحدہ آگے آئے گا قرء کے معنی طہر اور حیض دونوں کے ہیں اسی واسطے علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ آیت میں کون سے معنی مراد ہیں جنہوں نے طہر کے معنی لئے ہیں وہ بھی چند وجوہات پیش کرتے ہیں اور جنہوں نے حیض کے معنی لئے ہیں وہ بھی چند وجوہات پیش کرتے ہیں۔ جن کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے مگر جن علماء نے حیض کے معنی آیت میں لئے ہیں ان کی بڑی وجہ ابوداؤد، اور نسائی کی وہ حدیث ہے جو فاطمہ بنت ابی جیش ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے اس حدیث میں حیض کے معنی میں قرء کا لفظ استعمال فرمایا ہے 2 اس سند میں منذر بن مغیرہ راوی مجہول ہے ہاں ابن حبان نے اس کو ثقہ لوگوں میں رکھا ہے۔ 3۔
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق (صرف) دو بار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا اور جو لوگ خدا کی حدو سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے

ترمذی اور مستدرک حاکم میں حضرت عائشہ ؓ سے اور نسائی اور تفسیر ابن جریر و ابن ابی حاتم و عبد بن حمید و ابن مردویہ میں اور صحابہ سے روایت ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے طلاق کی کوئی حد اور گنتی نہیں تھی جس قدر طلاقیں مرد اپنی عورت کو دے عدت کی مدت کے اندر پھر رجوع کرسکتا تھا بلکہ لوگوں نے عورتوں کی ایذا دہی کی ایک یہ عادت پکڑا رکھی تھی کہ بےگنتی طلاق دیتے تھے اور عدت کے اندر پھر رجوع کرلیتے تھے اس طریقہ کے بند کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 4۔ جس سے اب یہ حکم شرعی ٹھہر گیا کہ تین 5 طلاق کے بعد کوئی حق رجوع کرنے کا مرد کو باقی نہیں رہا۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 1۔ اس آیت میں دو حکم ہیں شروع آیت میں تو بغیر مرضی عورت کے مرد کو اس مال کے کھانے اور تصرف میں لانے کی ممانعت ہے جو مال مہر کے طور یا اور عطیہ کے طور پر ایک دفعہ مرد عورت کو دے چکا ہے اور عورت اس مال کی مالک بن چکی ہے اور آخرت آیت میں عورت کے خلع کا حکم ہے۔ ان دو حکموں کی ایک ہی جگہ ایک آیت میں ہونے کے سبب سے حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں اس آیت کے دو شان نزول لکھے ہیں چناچہ ابو داؤد میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے پہلے حکم کو بطور شان نزول کے بیان کر کے دوسری روایت میں حضرت عائشہ ؓ سے دوسرے شان نزول میں حنہ 3۔ بنت سہل زوجہ ثابت بن قیس ؓ کے خلع کو ذکر کیا ہے 4۔ اسی طرح تفسیر ابن جریر میں بھی دونوں شان نزول کو ذکر کیا ہے۔ میاں اور بی بی میں نا موافقت ہو کر کچھ مال عورت خاوند کو لے کر مفارقت کرلے تو اس کو خلع کہتے ہیں بکر بن عبد اللہ تابعی سے تفسیر ابن جریر میں اس خلع کی آیت کا سورة نساء کی آیت { واتیتم احد اھن قنطارا فلا تا خذ و منہ شیئا } (4۔ 20) سے منسوخ ہونے کی جو روایت ہے اس کو اکبر علماء نے ایک قول ضعیف ٹھہرایا ہے کس واسطے کہ اول تو بغیر ثبوت نقلی کے محض اجتہاد و رائے سے کسی آیت کو منسوخ نہیں کہہ سکتے ان دونوں آیتوں میں باہم کچھ مخالفت نہیں ہے سورة بقر کی اس آیت میں (رح) خلع کا حکم یہ ہے کہ عورت کی طرف سے ناموافقت کی ابتداء ہو اور مرد کی مرضی عورت کو چھوڑنے کی نہ ہو اور عورت اپنی خوشی سے مرد کی مفارقت حاصل کرنے کے لئے کچھ مال کا لالچ دے کر تو مرد کو یہ مال لینا جائز ہے اور سورة نساء کی آیت کا حکم یہ ہے کہ مرد کی طرف سے ناموافقت پیدا ہو کر مرد ایک عورت کو طلاق دینا اور دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے اور جس عورت کو طلاق دینا چاہتا ہے اس کو مجبور کرلے کہ مہر میں سے وہ عورت اس مرد کو کچھ دے کر جائے تو نکاح اور مہر کے وقت عہد و پیمان جو عورت کی طرف سے ٹھہرا تھا یہ مجبوری اس کے صریح مخالف ہے یہ مطالبہ مرد کو ناجائز ہے۔
Ayah 2:230

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی ہاں اگر دوسرا شوہر بھی طلاق دے دے اور عورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں

تفسیر ابراہیم بن المنذر میں ابو بسطام مقاتل بن حیان سے روایت ہے کہ رفاعہ بن وہب ؓ ایک نے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اپنی بی بی عائشہ ؓ بنت عبد الرحمن بن عتیک ؓ کو تین دفعہ طلاق دے دی اور اس نے عبد الرحمن بن زبیر ؓ سے دوسرا نکاح کرلیا ایک روز اس عورت عائشہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے آکر عرض کیا کہ عبد الرحمن ؓ نے مجھ کو بغیر مباشرت کے طلاق دے دی ہے۔ کیا اب میں رفاعہ سے پھر نکاح کرسکتی ہوں آپ نے فرمایا کہ جب تک عبد الرحمن ؓ تجھ سے مباشرت نہ کر لیوے رفاعہ کے پاس تو نہیں جاسکتی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور یہ اصل حدیث بغیر ذکر شان نزول آیت کے صحاح کی سب کتابوں میں ہے صرف ابوداؤد میں رفاعہ ؓ کا نام نہیں ہے غرض یہ حدیث حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے صحیح ہے اور یہی حدیث آیت کی تفسیر ہے اور اس شان نزول کی پوری موید ہے جس کو ابن منذر نے روایت کیا ہے خاص حلالہ کی نیت سے جو کوئی نکاح کر ایسے آدمی پر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی صحیح حدیث میں آپ نے لعنت فرمائی ہے 1۔ اس لئے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ تین طلاق کے بعد اگر وہ عورت دوسرا نکاح کرے اور اس دوسرے خاوند کی نیت محض حلالہ کی نہ ہو اور فقط خلوت نہیں بلکہ مباشرت بھی یہ دوسرا خاوند کرچکے اور اتفاق سے یہ دوسرا خاوند بھی طلاق دے دیوے تو اس حالت میں پہلا خاوند اپنے گذر اوقات حسن اسلوبی سے خیال کرے تو اس عورت سے پھر نکاح کرسکتا ہے۔ حسن مباشرت کی تاکید کے لئے پہلے شوہر کے حق میں ان یقما حدود اللہ اس لئے فرمایا کہ پہلے ایک دفعہ میاں بی بی میں جھگڑا ہو کر طلاق ہوچکی ہے اب ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

اس آیت میں بھی دو حکم ہیں ایک تو یہ کہ دو طلاقوں کے بعد عدت کے اندر جو کوئی طلاق سے رجوع کر کے اس عورت کو اپنے پاس پھر رکھنا چاہیے تو حسن معاشرت سے اس کو رکھے تا پھر ناموافقت اور طلاق کی نوبت نہ پہونچے دوسرے یہ کہ عدت نزدیک پہونچنے کے وقت خاص عورت کے ستانے کی غرض سے طلاق نہ دے جس طرح عدت کی مدت بڑھانے کے لئے مثلاً ثابت بن یسار ؓ اور لوگوں نے گھڑی گھڑی طلاق دینا اور عدت کے اندررجوع کرنا شروع کیا تھا جن کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں روکا ہے۔ ان دو حکموں کے سبب سے ان دونوں شان نزول کو ابوجعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔ تفسیر ابن منذر میں عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ لوگ طلاق و عتاق کا پہلے اقرار کر کے پھر کہہ دیتے تھے کہ ہم نے تو ہنسی سے کہا تھا 1 اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلادیا کہ اللہ تعالیٰ کی تم پر یہ نعمت ہے کہ رسول وقت تم میں موجود ہیں طرح طرح کے احکام اترتے ہیں اگر تم ان احکام کو جو آیات الٰہی میں ہیں ٹھٹھا ٹھہراؤ گے تو یہ یاد رکھو کہ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے یا تو وہ اپنے علم کے سبب سے یہاں دنیا میں تمہارے عتاب کا ایسا کوئی حکم نازل فرمائے گا کہ اس ہنسی کے بدلے تم کو بہت شرمندگی اٹھانی پڑے گی یا عاقبت میں اس ہنسی کا مواخذہ ہوجائے گا۔ ابو داؤد ابن ماجہ مستدرک حاکم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نکاح، طلاق اور طلاق رجعی سے عدت میں رجوع کرنا ان تین چیزوں میں ہنسی کا کچھ دخل نہیں ہیں۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کیا ہے 2۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو، اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

بخاری ‘ داؤد ‘ ابن ماجہ اور ترمذی میں معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بہن کا ایک شخص سے نکاح کردیا کچھ دنوں تو وہ میاں بی بی اچھی طرح سے ساتھ رہے پھر وہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے میری بہن کو طلاق دے دی اور عدت کے اندر اس نے رجوع بھی نہیں کیا جب عدت گذرچ کی تو کئی اور جگہ سے بھی اس کے نکاح کا پیام آیا اور اس میرے بہنوئی نے بھی پھر پیام نکاح کا بھیجا میں نے اس اپنے بہنوئی کو برا بھلا کہا اور یہ قسم کھالی کہ اب میں دوبارہ اس سے اپنی بہن کا نکاح ہرگز نہیں کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ بعض مفسروں نے یہ جو کہا ہے کہ جابر بن عبد اللہ انصاری ؓ کے چچا کی بیٹی بہن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ہے شاید ان کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملہ پر بھی اس آیت کا مضمون صادق آتا ہے ورنہ پہلے شان نزول کی روایت بہت صحیح ہے ترمذی نے اس حدیث کی صحت کی ہے۔ آیت میں عورت کے رشتہ داروں کو اس بات سے روکا گیا ہے کہ طلاق کی عدت گذر جانے کے بعد وہ عورت کو پہلے خاوند سے نکاح کرنے سے منع کرتے تھے اس سے معلوم ہوا کہ عورت اپنا نکاح خود نہیں کرسکتی جو عورت اپنا نکاح کر لیوے اس کو آپ نے بدکار فرمایا ہے اس باب میں چند روایتیں ہیں جس کے سبب سے ایک روایت سے دوسری کو تقویت ہوجاتی ہے 1۔
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

ذکر نکاح و طلاق کے بعد اللہ تعالیٰ نے بچے کے دودھ پلانے کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ کبھی عورت مطلقہ بائنہ اس حالت میں ہوجاتی ہے کہ اس کی گود میں دودھ پیتا بچہ بھی ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں فرمایا کہ وہ عورت مطلقہ بچہ کو دو برس تک دودھ پلائے اور بچے کا باپ موافق اپنی حیثیت اور مقدار کے بچہ کی ماں مطلقہ کو روٹی کپڑا دے اور اگر اس مدت میں بچے کے باپ کا انتقال ہوجاوے تو بچے کے وارث دودھ پلانے والی ماں کو روٹی کپڑے کی دودھ پلانے کی مدت تک ذمہ دار رہیں گے پھر یہ فرمایا آپس کی طلاق کی رنجش کے سبب سے نہ ماں دودھ کی عدت کے اندر بچہ کو زبردستی باپ پر ڈال کر چلی جائے نہ باپ زبر دستی دودھ کی مدت کے اندر بچہ کو ماں سے چھین لینے کا قصد کرے ہاں ماں باپ پر دونوں کے مشورہ سے دو برس کے اندر اگر بچہ کے دودھ چھوڑانے کی صلاح ٹھہر جاتے ہیں تو اس صورت میں دودھ چھوٹ جانے کے بعد دو برس کے اندر بھی بچہ ماں سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ماں باپ دونوں کی صلاح سے کسی اناکا دودھ بچہ کو پلایا جائے تو جائز ہے مگر جتنے دن ماں نے دودھ پلایا ہے اس کا حق پورا اس کودے دیا جائے آخر کو فرمایا اللہ سے ڈرو اور اللہ کے حکموں کی پوری تعمیل کرو کیوں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے اور ایک دن اس کے موافق جزا وسزا دینے والا ہے۔ دودھ پلانے کے مسئلہ کی زیادہ تفصیل آیت وامہاتکم التی ارضعنکم (4۔ 23) کی تفسیر آئے گی۔ دو برس کے بعد دودھ پلانے کا کوئی حکم باقی نہیں رہتا۔ چناچہ ترمذی میں حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دودھ کی مدت کے بعد دودھ پلانے سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 1۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں اور جب (یہ) عدت پوری کر چکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور خدا تمہارے سارے کاموں سے واقف ہے

نکاح طلاق اور دودھ پلانے کے مسئلوں کے پھر شوہر کی وفات اور اس کی عدت کا ذکر ہے کہ جس عورت کا شوہر مرجاوے اس کی عدت چار مہینے دس دن کی ہے صحیحین وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ کسی ایمان دار عورت کو جائز نہیں کہ سوائے اپنے شوہر کے کسی رشتہ دار کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ہاں شوہر کی وفات پر عورت کو چار مہینے دس دن کا سوگ کرنا چاہیے 4۔ سوگ یہ ہے کہ عدت کے دنوں عورت اچھے کپڑے زیور نہ پہنے خوشبو کی چیز کا استعمال نہ کرے غرض سب بناؤ سنگار عدت کے دنوں میں چھوڑ دیوے یہ عدت اس صورت میں ہے جبکہ شوہر کی وفات کے بعد عورت حاملہ نہ ہو ورنہ حاملہ عورت کی عدت کا حکم سورة طلاق کی آیت واولت الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن (65۔ 5) میں آئے گا اس کی عدت بچہ کا پیدا ہوجانا ہے۔ خواہ چار مہینے دس رات کے اندر ہو یا اس سے بھی زیادہ عرصہ میں ہو حضرت عبد اللہ بن عباس (رح) کہتے ہیں کہ حاملہ عورت اگر بچہ کے پیدا ہوجانے سے چار مہینے دس رات کے اندر فارغ ہوجائے تو اس کو چار مہینے دس رات کی عدت پوری کرنی چاہیے اور اگر بچہ سے اس مدت کے بعد فارغ ہو تو بچہ کے پیدا ہونے تک اس کی عدت 3 ہوگئی سبیعہ اسلمیہ کے قصہ کی حدیث جو صحیحین وغیرہ میں ہے وہ اس قول کے مخالف ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فتویٰ دیا ہے کہ شوہر کی وفات کے بعد خواہ کسی قدر مدت میں بچہ پیدا ہوجائے حاملہ عورت کی وہی مدت عدت کی ہے 4۔ ابن عبد البر نے جو روایت نقل کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے اپنے اس قول سے رجوع اختیار کیا ہے۔ عبد اللہ بن عباس ؓ کے معتبر اصحابہ نے سبیعہ کی حدیث کے موافق جو فتوے دیے ہیں ان سے ابن عبد البر (رح) کی روایت کی پوری تائید ہوتی ہے 1۔ صحیحین وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حمل رہنے کی تاریخ سے چار مہینے میں بچہ پیٹ میں پھرنے لگتا ہے 2۔ اور حمل کا حال بخوبی معلوم ہوجاتا ہے اس واسطے اختیاط کے طور پر دس روز اور بڑھا کر چار مہینے دس رات کی عدت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شوہر کی وفات کی قرار دی ہے تاکہ حمل کا حال بخوبی معلوم ہوجائے۔ اس آیت سے برس دن کی عدت کی آیت جو آگے آتی ہے وہ منسوخ ہے جس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیت تلاوت میں مقدم اور نزول میں اس آیت سے موخر ہے یہ دس دن اس لئے بڑھائے گئے ہیں کہ کوئی مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے کوئی تیس کا اس عدت کے بعد عورت بناؤ سنگار کرلے یا دوسرا نکاح کرے تو اس کی اجازت اللہ کی طرف سے اس آیت میں ہے۔
Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تم پر کچھ گناہ نہیں، خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے (مگر ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول وقرار نہ کرنا اور جب تک عدت پوری نہ ہو لے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے

جب تک عورت سوائے طلاق رجعی کے اور کسی طرح کی طلاق یا خاوند کی وفات کی عدت میں ہو تو جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص اس مدت کے اندر خفیہ طور پر اس عورت سی نکاح کرے یا صاف لفظوں میں نکاح کا پیغام دیوے ہاں اشارہ کنایہ کے طور پر کچھ کہہ دیوے تو مضائقہ نہیں ہے مثلاً یوں کہہ دیوے کہ کوئی نیک عورت مل جائے تو میرا بھی ارادہ نکاح کرنے کا ہے ہاں مطلقہ رجعیہ کی عدت میں یہ اشارہ کنایہ کی بات غیر مرد کو جائز نہیں ہے اگر عدت کے اندر کسی نے نکاح کرلیا تو دونوں میں تفریق کرا دی جائے اور اگر نکاح کے بعد مباشرت بھی ہوگئی ہے تو حضرت عمر ؓ سے ایک روایت ہے کہ وہ عورت اس مرد پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنے اس قول سے رجوع کیا ہے 3۔ خلوت میں اختلاف ہے کہ وہ قائم مقام مباشرت کے ہے یا نہیں۔
Ayahs 2:236–237

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگ دسست اپنی حیثیت کے مطابق، نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہی اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

(236 ۔ 237) ۔ نکاح ہو کر مباشرت کی نوبت نہ پرے اور طلاق دے دی جائے تو بموجب اس آیت کے یہ طلاق جائز ہے۔ اور اس طلاق کی صورت میں نکاح کے وقت مہر نہ قرار پایا ہو تو اپنے مقدور کے موافق کچھ دے کر عورت کو خوش کردینا چاہیے جو بہر حال کپڑوں کے ایک جوڑے سے کم نہ ہو اور زیادہ کی کوئی حد نہیں اور اگر مہر قرار پایا ہو تو نصف مہر دینا چاہیے یہ اور بات ہے کہ عورت اپنا حق چھوڑ دے۔ یا مرد حسن سلوک کے طور پر پورا مہر دے دے۔ صحیح قول آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ الذی بیدہ عقدۃ النکاح سے مراد شوہر ہے کہ وہی مختار نکاح کے قائم رکھنے اور نہ رکھنے کا ہے یہی قول بہت صحابہ اور تابعین کا ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب بھی یہی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ الذی بیدہ عقدۃ النکاح سے مراد عورت کا متولی ہے دلیل ہر ایک قول کی بڑی تفسیروں میں ہے 1۔
Ayah 2:238

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو

مسند اماما احمد بن حنبل ابو داؤد، بیہقی، تاریخ بخاری اور تفسیر ابن جریر میں حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر کو پڑھا کرتے تھے اس وقت بعض لوگ تو قیلولہ میں رہ جاتے تھے اور بعض کاموں میں لگے رہتے تھے غرض دھوپ کے سبب سے تھوڑے سے آدمی نماز میں آتے تھے اس لئے کبھی ایک صف آپ کے پیچھے مقتدیوں کی ہوتی تھی انتہا درجہ کبھی دو صفیں ہوتی تھیں اس لئے نمازوں کے بر وقت ادا ہونے کی تاکید میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ نماز کا وقت پر پڑھنا سب عملوں سے بہتر ہے 1۔ اس حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر ہے بیج والی نماز میں اگرچہ پہلے صحابہ کا اختلاف تھا کہ وہ کونسی نماز ہے مگر خندق کی لڑائی میں جب آپ کی عصر کی نماز فوت ہوگئی اور آپ نے اس صراحت کے ساتھ کافروں کو بد دعا دی کہ خدا ان کے گھروں اور قبرون میں انگارے بھردے کہ انہوں نے ہماری بیچ کی نماز رکوا دی۔ یہ حدیث چند طریقوں سے بخاری 2 مسلم وغیرہ میں ہے غرض اس صراحت کے بعد صحابہ بالاتفاق عصر کی نماز کو صلوۃ الوسطیٰ جاننے لگے چناچہ حضرت علی ؓ سے بعض لوگوں نے پوچھا کہ حضرت صلوۃ الوسطیٰ کونسی نماز ہے تو آپ نے فرمایا جس طرح اب تم لوگ اختلاف میں پڑے ہو ہم بھی اسی طرح اختلاف میں تھے۔ لیکن جب سے خندق والے دن آنحضرت ﷺ نے صراحت فرما دی ہم میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہا۔ یہ قول حضرت علی کا زیادات مسند امام احمد میں اور اور کتابوں 3 میں چند طریقوں سے روایت کیا گیا ہے۔ زید بن ارقم ؓ سے صحاح ستہ میں روایت ہے کہ نماز میں لوگ باتیں کیا کرتے تھے اس کے موقوف کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 4۔ بعض علماء مفسرین کو اس شان نزول میں بڑا تردد پڑگیا ہے وجہ تردد کی یہ ہے کہ صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی یہ حدیث ہے کہ اکثر آنحضرت ﷺ مکہ میں نماز پڑھا کرتے تھے اور میں آپ سے سلام علیک کیا کرتا تھا۔ لیکن جب میں حبشہ سے واپس آیا اور آپ سے سلام علیک کیا تو آپ نے جواب نہیں دیا۔ اور نماز کے بعد فرمایا کہ نماز میں جب آدمی مشغول ہو تو بات نہیں کی جاسکتی 5 وہ حدیث سے تین برس پہلے مکہ میں حبشہ سے واپس آکر آنحضرت ﷺ سے ملے تھے اور زید بن ارقم ؓ کی حدیث یہ چاہتی ہے کہ مدینہ منورہ میں نماز میں کلام حرام ہوا ہے کیونکہ یہ آیت بالاتفاق مدنی ہے اور زید بن ارقم ؓ خود مدنی ہیں۔ اگرچہ ابن حبان نے کئی جواب اس تردد کے دئیے ہیں مگر وہ ضعف سے خالی نہیں ہیں صحیح جواب وہی ہے جو خطابی نے دیا ہے کہ عبد اللہ بن مسعود ؓ ایک دفعہ حبشہ سے آن کر پھر حبشہ کے چلے گئے تھے پھر بدر کی لڑائی کے وقت مدینہ میں واپس آئے اور متفق علیہ حدیث میں ان کی اسی واپسی کا ذکر ہے۔ اس وقت یہ آیت مدینہ میں نازل ہوچکی تھی اس لئے عبد اللہ بن مسعود ؓ اور زید بن ارقم ؓ کی روایت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ قنوت کے کئی معنی ہیں مگر اس آیت میں اس کے معنی چپکے رہنے کے ہیں۔
Ayah 2:239

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (و اطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھا دیا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو

اوپر کی آیت میں محافظت نماز کا ذکر جو آیا اس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ دشمن کے خوف اور مقابلے کے وقت بھی شاید یہی محافظت اوقات اور ارکان کی نماز میں قائم رہے گی اس خیال کے رفع کرنے کے لئے آخر آیت میں یہ صلوۃ الخوف کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اس صلوٰۃ الخوف کا ذکر تفصیل سے سورة نساء میں آئے گا۔ یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ صلوٰۃ الخوف کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ ہے کہ نماز میں قصر کی صورت میں مقتدیوں کے دو حصے ہوجائیں ایک حصہ تو دشمن کے مقابلہ میں کھڑا رہے اور دوسرا حصہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑ ہے۔ پھر امام اتنی دیر چپکا کھڑا رہے جتنی دیر میں یہ لوگ اپنی باقی کی ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے مقابلہ میں جاکر مستعد ہوجاویں۔ اب وہ دوسراحصہ مقتدیوں کا آن کر ایک رکعت امام کے ساتھ اور ایک علیحدہ پڑھ کر اپنی نماز پوری کرلے یہ صورت اس وقت کی ہے کہ ابھی دشمن سے ہتھیار نہیں چلاصرف آمنے سامنے دونوں فوجیں پڑی ہیں دوسری صورت یہ ہے کہ سوار پیدل جس طرح ہو سکے قبلہ کی طرف منہ رہے یا نہ رہے اشاروں سے نماز ادا کرلی جائے یہ لڑائی چھڑ جانے کے بعد کی صورت ہے اور اس صورت کا یہاں ذکر ہے۔
Ayahs 2:240–242

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور خدا زبردست حکمت والا ہے

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان نفقہ دینا چاہئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

240 ۔ 242) ۔ ابتداء اسلام میں بیوہ عورت کے لئے یہ بس دن کی عدت کا حکم تھا چارہ مہینے دس دن کی عدت کے حکم کی آیت سے جو پیچھے گذر چکی اب یہ برس دن کی عدت کا حکم منسوخ ہے اور حقا علی المتقین اس آیت سے متعلق ہے چس میں نکاح کے بعدبغیر مباشرت کے ایسی عورت کو طلاق دینے کا ذکر تھا جن کا مہر نہ ٹھہرا ہو اس آیت میں حقاعلی المحسنین کا لفظ جب نازل ہوا تو بعض لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اگر ہم کو ایسی عورتوں پر احسان کرنا ہوگا تو ہم کچھ دیویں گے نہیں تو اس پر یہ ٹکڑا آیت کا نازل فرما کر فرمایا کہ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کو ایسی عورتوں کو ضرور کچھ دینا چاہیے۔
Ayahs 2:243–245

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ پھر ان کو زندہ بھی کردیا کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور (مسلمانو ! ) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) سنتا (اور سب کچھ) جانتا ہے

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے میں اس کو کئی حصے زیادہ دے گا ؟ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

(243 ۔ 244) ۔ جہاد کے حکم کے نازل ہونے کے بعد جان کے خوف سے کچھ لوگ جہاد میں جانے سے پہلوتہی کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر جہاد کی تاکید فرمائی اور اس تاکید سے پہلے ایک قصہ فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں کے ایک بستی کے آٹھ ہزار کے قریب آدمی وبا سے ڈر کر اپنی بستی چھوڑ بھاگے اور بستی کو چھوڑ کر جہاں گئے تھے وہاں اللہ کے حکم سے ایک دم میں سب مرگئے اور پھر ایک نبی کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر زندہ کیا 1۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ موت جب آنے والی ہوتی ہے تو وہ ہر حال میں آتی ہے موت سے ڈر کر بستی کا چھوڑنا جس طرح اس قصہ کے لوگوں کے کچھ کام نہیں آیا۔ اسی طرح موت کا وقت جب آجائے گا۔ تو جہاد کی پہلوتہی اس کو روک نہیں سکتی اس لئے اس وقت موت سے ڈرنا اور جہاد سے پہلو ہی کرنا بےفائدہ ہے۔ 245۔ معتبر سند سے صحیح ابن حبان اور تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب سورة بقر کی وہ آیت اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے خیرات کے ایک دانہ کی سات بالیں اور ہر بال میں سو دانہ کی پیدائش کی مثال فرمائی ہے تو آنحضرت ﷺ نے اللہ سے دعا مانگی کہ یا اللہ میری امت کے اجر اور ثواب کی تعداد میں کچھ اور زیادتی فرما 2۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جہاد میں صرف کرنے کے لئے جو کوئی اللہ کو قرض دے گا اللہ تعالیٰ اس کے اجر میں بیشمار افزائش کرے گا پھر فرمایا کہ ہر طرح کے اجر کی کمی بیشی اللہ کے اختیار میں ہے اور ایک دن اس اجر کا ظہور ہوگا کیونکہ تم سب کو ایک اللہ کے سامنے جانا ہے مفسرین نے کہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ہم ایک ایک کے بہت بہت سے دوگنے کر دیویں گے تو ظاہر ہے کہ جس چیز کو اللہ بہت فرما دے اس کے لئے لاکھوں کی گنتی بھی تھوڑی ہے۔
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں ؟ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھرگئے اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کے بعد جب تک بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور تورات کے موافق عمل پر مستعد اور قائم رہے اس وقت تک جس دشمن سے ان کا مقابلہ ہوا ہمیشہ ان کو فتح ہوتی رہی پھر جب بنی اسرائیل میں طرح طرح کی نافرمانیاں پھیل گئیں تو فتح یابی اوراقبال مندی ان میں بالکل باقی نہیں رہی۔ وہ قوم عمالقہ جس کو مغلوب کر کے انہوں نے ملک شام میں اپنا عمل دخل کیا تھا اس ملک میں کے اکثر شہر قوم عمالقہ میں کے بادشاہ جالوت نے ان سے چھین لئے وہ فتح مندی کا صندوق جس کا نام تابوت سکینہ تھا ان کے قبضہ سے نکل کر دشمن کے ہاتھ گیا سبط لادی جس میں انبیاء پیدا ہوتے تھے اس میں سوائے ایک حاملہ عورت کے اور کوئی باقی نہیں رہا۔ جب بڑی آرزو اور تمنا کے بعد حضرت شمویل پیدا ہو کر نبوت کو پہونچ گئے تو بنی اسرائیل نے دشمن سے لڑنے اور لڑائی کے انتظام کے لئے ان میں ایک شخص کو بادشاہ بنا دینے کی خواہش ظاہر کی بنی اسرائیل کے بد دین ہوجانے کے سبب سے حضرت شمویل کو بنی اسرائیل کے قول و فعل کا اعتبار نہ تھا اس واسطے حضرت شمویل نے بنی اسرائیل کی خواہش کا یہ جواب دیا کہ اگر تمہاری خواہش کے موافق اللہ تعالیٰ نے تم میں کوئی بادشاہ قائم کردیا اور تم نے بدعہدی کر کے اللہ کے دین کی حمایت میں دشمن سے جہاد نہ کیا تو پھر کیا ہوگا بنی اسرائیل نے اس کے جواب میں کہا کہ ہم کیوں کر بد عہدی کرسکتے ہیں جبکہ دشمن کے ہاتھ سے ہم پر یہ آفت آچکی ہے کہ ہمارے اکثر شہر چھین گئے اہل و عیال کے دشمن کی قید میں چلے جانے سے ہم اپنے اہل و عیال سے جدا ہوگئے اب آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ان میں بادشاہ بھی قائم ہوا اور اس بادشاہ کے ساتھ ان کو دشمن سے لڑنے کا حکم بھی ہوا تو ایک نہر کے پانی پینے کی آزمائش میں ہزارہا آدمیوں نے ان میں سے بد عہدی کی اور طالوت بادشاہ کی اطاعت چھوڑ دی اور صاف کہنے لگے کہ ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے لڑنے کی بالکل تاب و طاقت نہیں غرض ایک بڑے لشکر میں سے فقط تین سو تیرہ آدمی اپنے عہد پر قائم رہے۔ باقی سب نے بد عہدی کی پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ایسے گنہگاروں کا حال خوب معلوم ہے ایک دن یہ اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہے بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں پیغمبر نے کہا کہ خدا نے اس کو تم پر (فضیلت دی ہے اور بادشاہی کیلیے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے

بنی اسرائیل کی بادشاہی سبط یہود میں چلی آتی تھی طالوت اس خاندان میں کا نہیں تھا ایک فوجی سبط بن یامین کا تھا اور کچھ مال دار بھی نہ تھا اس لئے جب حضرت شمویل نے بادشاہی کے لئے طالوت کا نام لیا تو بنی اسرائیل نے اس پر اعتراض کیا اور اپنے آپ کو ہر ایک خاندان کے لوگوں نے بادشاہی کا مستحق بتلایا کس لئے کہ طالوت بن یامین کے خاندان میں سے تھا یہ اور یہ خاندان بنی اسرائیل کے سب خاندانوں میں گھٹیا کہلاتا تھا۔ حضرت شمویل نے ان کے اعتراض کا جواب دیا کہ بادشاہی کے لئے طالوت کا انتخاب میں نے اپنی طرف سے نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ انتخاب ہوا ہے اس لئے کہ طالوت بہ نسبت تم لوگوں کے عقل اور قدو قامت میں بڑھ کر ہے نبی نے یہ اس سبب سے کہا کہ فوجی آدمی ہونے کے باعث سے طالوت جنگ آزمودہ تھا جس سے لڑائی کے انتظام کی عقل و تدبیر اس کی بڑھی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے قدو قامت کا ایک پیمانہ اپنے نبی کو بتلایا تھا جو طالوت کے قد کی برابر نکلاآخر کو اللہ کے نبی نے قطع حجت کے لئے یہ بھی فرمایا دیا کہ بادشاہی اللہ کے ملک کی ایک حکومت اللہ کی طرف سے ہے وہ جس کو چاہے دیوے۔ اس میں بحث کی گنجائش نہیں ہے۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

بنی اسرائیل میں ایک صندوق موروثی طور پر آتا تھا جس میں حضرت موسیٰ اور ہارون کے وقت کی چیزیں تبرک کی تھیں لڑائی کے وقت اس صندوق کو سب لشکر کے آگے لے چلنے سے تمام لشکر میں ایک طرح کی دل جمعی اور اس دل جمعی کے سبب سے ایک ہمت اور جرأت پیدا ہوجاتی تھی جس سے لشکری لوگ دل کھول کر دشمن سے لڑتے تھے اور فتح یاب ہوتے تھے اسی واسطے اس صندوق کا نام تابوت سکینہ رکھ گیا تھا تھا سکینہ کے معنی دل جمعی اور اطمینان کے ہیں بنی اسرائیل کے اعمال کی شامت سے تابوت سکینہ ان کے قبضہ سے نکل کر دشمن کے قبضہ میں چلا گیا تھا حضرت شمویل نے بنی اسرائیل کو یہ جو سمجھا یا تھا کہ طالوت کی بادشاہت خدا کی طرف سے ہے اس کی علامت انہوں نے یہ بتلا یا کہ تابوت سکینہ بغیر لڑائی کے خود بخود طالوت کے پاس آجائے گا۔ اگر تم اللہ پر پورا ایمان رکھتے ہو تو تابوت کے آجانے کے بعد تم کو پورا یقین آجائے گا کہ طالوت کی بادشہت خدا کی طرف سے ہے۔ تابوت سکینہ کے طالوت کے پاس آجانے کا قصہ جو مفسرین نے لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قوم عمالقہ کی جس بستی میں تابوت سکینہ رکھا ہوا تھا اس بستی میں سخت وبا پھیل گئی جس سے بستی کے لوگ گھبرا گئے اس بستی میں بنی اسرائیل کی ایک لڑکی قید تھی اس نے بستی کے لوگوں سے کہا کہ جب تک یہ صندوق اس بستی میں رہے گا وبا ہرگز جانے والی نہیں ہے ان لوگوں نے ایک گاڑی پر اس صندوق کو لاد کر اس گاڑی کو بستی کے باہر کردیا اللہ کے حکم سے فرشتوں نے اس گاڑی کو ہانک کر طالوت کے گھر کے سامنے لا کھڑا کردیا۔ صحیح مسلم میں براء بن عازب ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے سورة کہف پڑھی اس کی آواز سے ایک بادل نے اس کو ڈھانک لیا جس سے اس شخص کا ایک گھوڑا جو وہاں بندھا ہوا تھا وہ ڈر گیا جب اس شخص نے اس قصہ کا ذکر آنحضرت ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا وہ سکینہ ہے 1۔ اس حدیث سے فقط یہ معلوم ہوا کہ جس چیز کا نام آنحضرت ﷺ نے سکینہ فرمایا وہ ایک بادل تھا اب اس حدیث کے ساتھ وہ حدیثیں ملائی جائیں جن میں یہ کر ہے کہ ذکر الٰہی کی مجلس میں فرشتے آتے ہیں اور مجلس کو ڈھانک لیتے ہیں 2۔ تو حاصل یہ ہوتا ہے کہ اس بادل میں فرشتے تھے جن کو دیکھ کر وہ گھوڑا ڈر گیا کیونکہ خالی بادل سے گھوڑ کے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور ان فرشتوں کو ہی آپ نے سکینہ فرمایا ہے۔ اسی طرح تابوت کے تبرکات کے ساتھ جو فرشتے ہوا کرتے تھے ان کو سکینہ کہا گیا ہے انہی فرشتوں کی برکت سے لشکر میں ایک دلی اطمینان پھیل جاتا تھا سو اس تفسیر کے سکینہ کی تفسیر میں اوراقوال اہل کتاب کی روایات سے لئے گئے ہیں جو اعتبار کے قابل نہیں ہیں۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائیگا کہ) وہ میرا نہیں اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائیگا) میرا ہے ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلّو بھر پانی لے لے (تو خیر جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے

جب تابوت سکینہ طالوت کے پاس آگیا تو بنی اسرائیل کو طالوت کی بادشاہت کا پورا یقین ہوگیا کہ اس کی بادشاہت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ سب نے اس کی اطاعت اور فرماں برداری قبول کرلی اور تابوت سکینہ کے واپس آجانے کے سبب سے یہ بھی ان سب کو یقین ہوگیا کہ اب تابوت کی برکت سے ضرور ہم کو دشمن پر فتح ہوگی اس واسطے جس وقت طالوت نے لڑائی پر جانے کا قصد کیا تو اسی ہزار آدمی کے قریب کا لشکر اس کے ساتھ ہوا ایک منزل میں پانی نہ ملا گرمی کا موسم تھا پانی کے نہ ملنے سے لشکر میں بڑی پریشانی پھیل گئی دوسری منزل میں ایک نہر ملی اور نہر کے اس پار دشمن کی فوج مقابلہ کو تیار تھی طالوت نے یہ سمجھ کر کہ ایک دن کی پیاس کے بعد اگر یہ لوگ خوب پیٹ بھر کر پانی پی جائیں گے تو بالکل کاہل ہوجائیں گے لشکر میں یہ حکم دے دیا کہ یہ نہر کیا ہے گویا اللہ کی طرف سے تمہارے حق میں ایک آزمائش ہے اس واسطے لشکر میں کا جو شخص پیٹ بھر کر پانی پئے وہ میرے ساتھ نہر کے اس پار نہ چلے۔ کیونکہ وہ لڑنے کے کام کا نہیں ہے۔ ہاں جو شخص چلو دو چلو پانی سے اپنی پیاس بجھا لیوے وہ میرے کام کا ہے ایسا شخص میرے ساتھ چلے پیاس کی شدت میں طالوت کے اس حکم کی تعمیل لوگوں پر ایسی شاق گزری کہ اتنے بڑے لشکر میں صرف تین سو تیرہ آدمیوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور باقی کے لوگوں نے خوب پیٹ بھر کر پانی پیا اور پست ہمت ہو کر نہر کے اس پار رہ گئے۔ جو لوگ نہر کے اس پار گئے تھے انہوں نے اپنی فوج کو قلیل اور دشمن کی فوج کو کثیر دیکھ کر جب یہ بات کہی کہ میں تو اتنے بڑے لشکرکے مقابلہ کی طاقت نظر نہیں آتی تو طالوت اور لشکر کے ایمان دار عالم لوگوں نے سب کی ہمت بندہانے کو کہا کہ خبردار استقامت سے کام لو کہ اللہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہے اور اس کی مدد سے اکثر ایسا ہوا ہے کو تھوڑی سی جماعت نے بڑے بڑے لشکروں پر فتح پائی ہے۔
Ayahs 2:250–252

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل میں آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر کفار پر فتح یاب کر)

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا اور خدا نے ان کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے نہ ہٹاتا رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمد ﷺ تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

(250 ۔ 252) ۔ جب جالوت کے ایک بہت بڑے لشکر سے طالوت اور اصحاب طالوت کا مقابلہ ہوا اس وقت طالوت کے لشکر کے ایمان دار لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ صبر اور استقامت کی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور دشمن کے لشکر پر ان کو فتح دی اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور پھر حضرت شمویل کے انتقال کے بعد نبوت اور طالوت کے انتقال کے بعد بادشاہت سب کچھ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا۔ اس کے بعد آیت میں ایک عادت الٰہی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض سرکشوں کی سرکشی اپنے بعض بندوں کے ذریعہ سے ہمیشہ اسی طرح رفع کرتارہتا ہے جس طرح جالوت کی سرکشی جو بڑا جابر مشہور تھا طالوت کے ذریعہ سے رفع کی گئی۔ اور آخر کو پورے قصے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی تسلی فرمائی کہ بغیر اہل کتاب کی مدد کے تم جو ان کے انبیاء اور ان کی کتابوں کے صحیح قصے بیان کرتے ہو یہ بات تمہارے نبی صاحب وحی ہونے کی پوری دلیل ہے جس کو اہل کتاب بھی اپنے دل میں خوب سمجھتے ہیں اور ظاہر میں جو وہ لوگ تمہاری نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ یہ محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔