Ayahs 2:120–121(120 ۔ 121) ۔ اہل کتاب ملنے جلنے کے وقت کبھی کبھی مسلمانوں سے ایسی باتیں ظاہر کرتے تھے جن سے توقع ہوتی تھی کہ شاید وہ راہ راست پر آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے دل کا حال اپنے رسول کو جتلایا کہ وہ لوگ اپنے ہی دین کو راہ راست سمجھتے ہیں۔ اس لئے جب تک انسان ان جیسا نہ ہوجاوے وہ لوگ ہرگز رضا مند نہیں ہوسکتے اس واسطے ان لوگوں کی ظاہری باتیں دل سے نہیں ہیں محض اوپری ہیں اور یہ تو معلوم ہے کہ ان لوگوں نے اپنے دین کے اکثر احکام کو بدل ڈالا ہے اور کچھ احکام ان کے دین کے منسوخ ہوگئے ہیں۔ اس بات کے معلوم ہوجانے کے بعد بھی ان جیسا جو کوئی ہوجائے گا اس سے اللہ تعالیٰ مواخذہ کرے گا۔ اور اللہ کے مواخذہ سے اس کو کوئی نہ بچا سکے گھا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر امت کے لوگوں کو یہ بات سنائی ہے۔ آخر آیت میں جو اہل کتاب راہ راست پر آگئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا کہ وہ کتاب الٰہی کو اس طرح پڑہتے ہیں جو پڑھنے کا حق ہے۔ مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اس کی آیتوں میں کچھ ردوبدل نہیں کرتے بلکہ اس کے احکام کے پورے پابند ہیں۔ پھر فرمایا جو لوگ اس ڈھنگ پر نہیں وہ ٹوٹے میں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ چند روزہ دنیا کے لئے انہوں نے اپنی عقبیٰ برباد کی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ٹوٹا ہوگا۔
Ayahs 2:122–123(122 ۔ 123) ۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے یہود ان نعمتوں کو بھول گئے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بڑوں پر کی تھیں جن کے سبب سے وہ نبی زادے اور بادشاہ زادے کہلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ ان کو ہوشیار کرنے کے لئے پہلے یا بنی اسرائیل کے لفظ سے ان کو مخاطب کیا ہے اور پھر اپنی نعمتوں کو یاد دلایا ہے تاکہ وہ سمجھ جائیں کہ جو اللہ نعمتوں کے دینے پر قادر ہے وہ ایک دم میں اپنی نعمتیں چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ محمد رسول ﷺ ایک تو اللہ کے رسول ہیں جس بات کو ان کے دل خوب ہی جانتے ہیں کیونکہ اس پر ان کی کتاب پوری گواہی دیتی ہے۔ دوسرے وہ ان کے چچا زاد بھائی بھی ہیں۔ اتنی مدت اولاد اسحاق میں نبوت رہی اب اگر بنی اسماعیل میں ایک نبی ہوئے تو اس پر ان کو اس قدر حسد کیوں ہے جس کے سبب سے اللہ کی نافرمانی اور اس سے اپنی بربادی کے یہ لوگ دن بدن درپے ہوتے جاتے ہیں۔ باوجود اللہ کی اس قدر فہمایش کے یہود نے اللہ تعالیٰ کی نصیحت کو نہ مانا۔
Ayah 2:124مشرکین مکہ اہل کتاب سب کا سلسلہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ سب مانتے تھے لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر ان میں سے کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حال اور ملت ابراہیمی کا حال بیان فرمایا کہ یہ سب لوگ قاتل ہوں۔ بنی اسرائیل کو یہ دعویٰ تھا کہ ہم اولاد ابراہیم میں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کیا تھا کہ نبوت ان کے ہی گھر میں رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ وعدہ الٰہی کے موافق نبوت تو اب بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے گھرانہ میں ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق و اسماعیل اپنے دونوں بیٹوں کے حق میں نبوت کی دعا کی تھی وہ قبول ہوئی اور ایک مدت تک اولاد اسحاق میں اس دعا کے اثر سے نبوت رہی۔ اب بنی اسماعیل میں آئی۔ یہ کیا بےانصافی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کی اولادہمیشہ کے لئے اس دعا کے اثر سے محروم رہے۔ اس طرح کی بےانصاف سے تو استحقاق نبوت ہو تو بھی زائل ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) سے جو وعدہ کیا ہے خود اس میں یہ موجود ہے کہ اولاد ابراہیمی میں بےانصافیوں کو اللہ کا عہد نبوت نہیں پہنچ سکتا۔ مشرکین مکہ کو یہ دعویٰ تھا کہ ہم اولاد ابراہیم (علیہ السلام) ہونے کے علاوہ اس گھر کے خدمت گار ہیں جو ہمارے دادا ابراہیم (علیہ السلام) کا بنایا ہوا ہے اور ملت ابراہیمی اس طریقہ کا نام ہے جس پر ہم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا { وَعَہِدْنَا اِلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمَٰعِیْلَ اَنْ طَہِّرَ ابَیْتَیْ } جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنے گھر کو ہر طرح کی نجاست سے پاک و صاف رکھنے کا عہد ابراہیم و اسماعیل دونوں سے لیا تھا اور اس خاندان میں { وَلَا تَمُوْتَنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ } کی وصیت بھی اس عہد کے موافق چلی آتی تھی۔ تم نے اللہ کے گھر میں بت پرستی کے شرک کی نجاست پھیلا رکھی تھی۔ جن دادا کے یہ لوگ اپنے آپ کو پوتے کہتے ہیں ان دادا کا حال کیا ان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے تو نمرود کے بتوں کو توڑا اور اپنے آپ کو اس پر آگ میں ڈالے جانے کا مستحق ٹھہرایا۔ دادا وہ بتوں کے دشمن پوتے وہ بتوں کے غلام خانہ زاد۔ غرض عہد ابراہیمی وصیت ابراہیمی طریقہ ابراہیم سب کو بالائے طاق رکھ کر تم کو اولاد ابراہیم ہونے کا کیا فخر ہے پوتا وہ ہے جو دادا کے طریقہ پر ہو نہ وہ جو دادا کے طریقہ کو مٹا دے { وَاِذَا ابْتَلٰی اِبْرَاہِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمَاتٍ } میں کلمات سے مراد امامت نبوت اور ملت ابراہیمی کے وہ سب احکام ہیں جو دس صحیفوں کے ذریعہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل ہوئے تھے۔
مثابہ للناس کے معنی لوگوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ امن سے مراد بےکھٹکے رہنا لوٹ کھسوٹ دشمن کی چڑھائی کسی بات کا کچھ اندیشہ نہیں۔ بعض علماء نے اس آیت سے یہ مطلب نکالا ہے کہ اگر کوئی مجرم حرم میں امن کے ارادہ سے جا بیٹھے تو اس پر حد قائم نہیں ہوسکتی لیکن صحیح قول یہ ہے کہ اس کو کھانے پینے سے یہاں تک تنگ کیا جاوے کہ وہ حرم سے باہر آجاوے پھر اس پر حد شرعی قائم کی جاوے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی حرم کی یہ عظمت تھی کہ وہاں کوئی کسی کو نہیں ستاتا تھا صحیحین وغیرہ میں جو صحیح حدیثیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں اور بھی امن کی باتیں ہیں وہاں حرم کی حد میں شکار حرام ہے۔ وہاں کی گری پڑی چیزیں وہی شخص اٹھا سکتا ہے جو اس کو مالک تک پہنچاوے وہاں کی گھاس تک نہیں کاٹی جاتی۔ فتح مکہ کے وقت خاص طور پر آنحضرت ﷺ کو وہاں کچھ تھوڑی دیر کے لئے لڑائی اور قتل کی اجازت خدا تعالیٰ سے مل گئی تھی۔ پھر قیامت تک وہی بات قائم ہوگئی 1 مکہ کی یہ عظمت دنیا کے پیدا ہونے کے وقت سے ہے۔ مگر ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ عظمت لوگوں کے دوبارہ جتلائی ہے۔ ہجرت کے بعد یہی عظمت آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے مابین جتنی زمین ہے اس کی فرمائی ہے 1۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جو باتیں حد حرم کے اندر جائز نہیں ہیں وہ مدینہ منورہ کی اس قدر زمین پر بھی ناجائز ہیں۔ رہی یہ بات کہ ان دونوں متبرک مقاموں میں مکہ افضل ہے یا مدینہ۔ جمہور کے نزدیک مکہ افضل ہے لیکن امام مالک کا اس میں اختلاف ہے مگر بات یہی ہے کہ مکہ اللہ کا گھر ہے اور مدینہ اللہ کے رسول ﷺ کا۔ مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی ہے۔ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر کے عہد میں یہ پتھرکعبہ کی ایک دیوار میں لگا ہوا تھا حضرت عمر نے اس کو وہاں سے نکال کر اس جگہ رکھ دیا جہاں اب وہ موجود ہے۔ حج کے وقت طواف سے فارغ ہونے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو نفل کا پڑھنا سنت ہے۔ بخاری اور مسلم کی روایتوں میں ان نفلوں کا ذکر ہے 2۔ حضرت عمر کی رائے کے موافق جو آیات قرآن نازل ہوئی ہیں ان میں یہ آیت بھی داخل ہے کیونکہ حضرت عمر نے مقام ابراہیم کو مصلیٰ ٹھہرانے کا ذکر آنحضرت ﷺ سے کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بخاری اور مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں یہ شان نزول بیان کی گئی ہے۔ 3
Ayahs 2:125–128(125 ۔ 128) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ کے گھر کو پاک رکھنے سے یہ مراد ہے کہ شرک کی باتوں بت پرستی وغیرہ سے اس کو پاک رکھا جاوے 1۔ سورة حج کی آیت { وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِ بْرَاہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتَ اَنْ لاَّ تُشْرِکَ نِیْ شَیْئًا } ( 26۔ 22) سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی اس تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کیوں کہ معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ بنانے کے لئے وہ خالی جگہ اس ہدایت سے بتائی گئی تھی کہ وہ اس گھر کو ایسی خالص توحید کی نیت سے بناویں کہ یہ گھر بت پرستی سے پاک رہے اور جب خالی جگہ پر کعبہ بن گیا اور آیندہ نسل ابراہیمی سے بستی بڑھ کر وہاں ایک شہر آباد ہونے کی امید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہوگئی تو اس ہدایت الٰہی کے موافق وہ دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کی جس کا ذکر سورة ابراہیم میں ان لفظوں سے ہے { وَاِذْ قَالَ اِبْرَاہِیْمَ رَبِ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیْ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَ صْنَامَ رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِنَ النَّاسِ } (14۔ 35) مطلب اس دعا کا یہ ہے کہ یا اللہ اس جگہ کو امن کی جگہ بنا دے اور مجھ کو اور میری اولاد کو بت پرستی کی بلا سے بچا جو بلا اس جگہ کے گردونواح میں کثرت سے پھیل رہی ہے جس نے بہتوں کو گمراہ کردیا ہے۔ اس تفسیر میں یہ بات بیان کی جا چکی ہے کہ قرآن شریف میں پچھلے قصے محض قصہ کے طور پر نہیں ذکر کئے جاتے بلکہ ان کے ذکر سے زمانہ نزول قرآن کا کوئی مطلب تاریخی دلیل سے ثابت کیا جاتا ہے چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ ذکر مشرکین مکہ کی اس تنبیہ کے لئے ہے کہ اگرچہ بنائے کعبہ کے وقت سے ہی مکہ میں شرک نہ پھیلنے کا اہتمام تھا مگر اغوائے شیطانی سے وہاں بت پرستی پھیل گئی اور اس شرک کے دفع کرنے کے ارادے سے اللہ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو پیدا کیا ہے اور خواہ نرمی سے ہو یا سختی سے اللہ کا یہ ارادہ وقت مقررہ پر ضرور پورا ہوگا اور دعائے ابراہیمی کا اثر مکہ میں جس طرح پہلے تھا وہی قائم ہوجائے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ آخر کو مکہ کیا کل جزیرہ عرب سے بت پرستی ایسی گئی کہ جس کے آنے کا خوف اب قیامت تک جاتا رہا۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت جابر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا شیطان جزیرہ عرب کی بت پرستی سے تو اب مایوس ہوگیا ہاں جزیرہ عرب میں اس کا اسی قدر کام باقی رہ گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑائے گا۔ 2۔ قسطلانی میں ہے کہ کعبہ دس دفعہ بنایا گیا ہے پہلے دفعہ فرشتوں نے بنایا پھر حضرت آدم نے پھر شیث نے پھر حضرت ابرہیم (علیہ السلام) نے پھر قوم عمالقہ کے لوگوں نے پھر قوم جرہم کے ایک شخص نے جس کا نام حارث بن مضاض تھا پھر قصی نے جو پانچویں پیڑی میں آنحضرت ﷺ کا دادا تھا پھر قریش نے پھر ابن زبیر نے پھر حجاج نے یہی عمارت اخیر تک رہے گی 3۔ صحیحین وغیرہ میں روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد جب حج عمرہ موقوف ہوجائے گا تو ایک سوکھی سوکھی پنڈلیوں والا حبشی اس کو ڈھائے گا 4۔ نبوت کی دعا میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو منع کیا تھا کہ ظالم ناانصاف اولاد کے لئے نبوت کی دعا نہ مانگی جائے۔ اسی خیال سے یہاں کشایش رزق کی دعا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فقط ایمان دار اولاد کے لئے کشائش رزق کی دعا کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں کشائش رزق دنیوی میں اس قید کے لگانے کی ضرورت نہیں۔ اس دعا کے مستحق رسول محمد ﷺ ہیں اور امت مسلمہ آپ کی امت اور حکمت آپ کی سنت مسند امام احمد وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ انبیاء کے گروہ میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ کا ذکر اپنی دعا میں کیا ہے پھر اور نبیوں نے آپ کے پیدا ہونے اور نبی آخر الزمان ہونے کی خبر دی ہے 1۔
Ayah 2:129حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا یہ خاتمہ ہے جو انہوں نے اپنی اس اولاد اور اولاد الاولاد کے لئے کی تھی جو مکہ میں سکونت کرنے والی تھی۔ ابو العالیہ قتادہ وغیرہ سلف نے کہا ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اہل حرم میں سے ایک رسول کے پیدا ہونے کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری دعا تو قبول ہوگئی لیکن اس دعا کے اثر کا ظہور آخری زمانہ میں ہوگا۔ اور سلف کے اس قول کی تائید عرباض بن ساریہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو امام احمد بن ماجر اور بیہقی نے سند معتبر سے روایت کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت آدم کے پیدا ہونے سے پہلے اگرچہ میرا نام لوح محفوظ میں خاتم النبیین لکھا ہوا تھا لیکن انبیاء کے گروہ میں میرے نام کی شہرت پانے کی ابتداء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہے 2۔ مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ نوشتہ لوح محفوظ کے موافق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء کے جواب میں پہلے پہل اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کی بشارت حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) (علیہ السلام) کو دی اور پھر تورات اور انجیل کے نازل ہونے کے بعد یہ بشارت انبیائے بنی اسرائیل میں متواتر ہوگئی آیت میں کتاب کے معنی قرآن ہیں اور حکمۃ کے معنی سنت رسول کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا یہ ہے کہ وہ رسول ایسا ہو کہ کتاب و حکمت لوگوں کو سکھاوے اور یہ ظاہر بات ہے کہ رسول ﷺ نے قرآن و سنت یہی دو چیزیں صحابہ کو سکھائی ہیں۔
Ayahs 2:130–132(130 ۔ 132) ۔ سورة نحل میں آئے گا { وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ } جس کا مطلب یہ ہے کہ ملت ابراہیمی میں پوری توحید تھی اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اہل مکہ کا حال یہود و نصاریٰ کا سا ہرگز نہیں تھا کیوں کہ اہل مکہ تو صریح صریح بت پرست ہیں اور اہل کتاب نے بھی طرح طرح کی شرک اور بدعت کی باتیں نکال رکھی ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) تو ابتدائے عمر سے شرک سے بیزار رہے اس شرک کی بیزاری کے سبب سے انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو چھوڑ دیا اور صاف کہہ دیا { اِنِّیْ بَرِیٌ مِمَّا تُشْرِکُوْنَ } (6۔ 78) جس کا پورا قصہ سورة انعام میں آئے گا۔ غرض شرک میں مبتلا ہو کر جو یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پیرو بتلاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ یہ لوگ ملت ابراہیمی پر تو کسی طرح نہیں ہوسکتے بلکہ یہ لوگ تو ملت ابراہیمی کے مخالف اور اس سے پھرے ہوئے ہیں اور جس ملت کو یہ لوگ قابل پیروی جانتے ہیں اور پھر اعمال ایسے کرتے ہیں جو اس کے بالکل مخالف ہیں تو یہ ان کی کم عقل یاور بےوقوفی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے دین دنیا میں عالی مرتبہ ہونے کا اور ان کی فرماں برداری کا اور انہوں نے اپنی اولاد کو توحید پر مرتے دم تک قائم کہنے کی جو وصیت کی تھی اس کا ذکر فرمایا تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی فرماں براداری اور وصیت کے مخالف ہیں۔
Ayahs 2:133–134(133 ۔ 134) ۔ اوپر کی آیت میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی وصیت کا ذکر ہے تھا اور اس آیت میں حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے آخری وقت پر اپنی اولاد سے توحید پر رہنے کا اقرار جو بطور وصیت کے لیا تھا اور اس اقرار میں حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے چچا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اسی توحید پر قائم رہنے کا ذکر ہے جس سے اولاد یعقوب ( علیہ السلام) اور اولاد اسماعیل ( علیہ السلام) دونوں کو ذکر کرنا مقصود ہے کہ ان دونوں میں سے ایک بھی اپنے بڑوں پر نہیں ہے اور جب یہ لوگ اپنے بڑوں کے طریقہ پر نہ ہوں قیامت کے دن بڑوں کے نیک عمل ان کے کام نہیں آسکتے اس دن تو ہر ایک کو اپنے اپنے عمل کے جدا جدا جواب دہی کرنی پڑے گی۔ چناچہ معاذ بن جبل سے ترمذی وغیرہ میں معتر سند سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر ایک شخص کو قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے رو برو ضرور کھڑا رہنا پڑے گا ایک تو یہ کہ نیک عمل دنیا میں کیا کیا دوسرے یہ کہ عمر کن کن کاموں میں صرف کی۔ تیسرے جوانی میں کیا کیا۔ چوتھے روپیہ پیسہ کس کس طریقہ سے کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا 1۔ یہود نے ایک دن آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے ہم کو یہودیت پر قائم رہنے کی وصیت کی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور آیت کے مضمون سے اہل مکہ اہل کتاب دونوں کو قائل کیا عرب میں چچا کو باپ کہنے کا دستور ہے۔ اس لئے حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی اولاد نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اپنا باپ کہا۔
Ayah 2:135یہود اپنے دین کو راہ راست بتلا کر آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہمارے دین کو اختیار کرلو کہ دنیا میں نجات کا طریقہ ہے تو یہ ہی ہے اسی طرح نصاریٰ بھی کہتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا ان کو جواب دیا جاوے کہ ہم تو ملت ابراہیمی کے پیرو ہیں جس میں کسی طرح کے شرک کا لگاؤ نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ تم دونوں فرقوں نے اپنے دین کو بگاڑ کر شر کی دین کر رکھا ہے اس لئے تمہارا دین ابراہیمی ملت نہیں ہے ملت ابراہیمی توحنیفی ہے جس کے معنی شرک کو چھوڑ کر توحید اور خالص اطاعت الٰہی کی طرف رجوع کرنے کے ہیں۔ بت پرستی سے بیزار ہو کر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے وطن کو باپ کو قوم کو سب کچھ چھوڑا اور { اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ حَنِیِْفًا وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ } ( 6۔ 79) کہہ کر توحید اور خالص اطاعت الٰہی کو اختیار کیا اس لئے حضرت ابراہیم کو حنیف اور ملت ابراہیمی کو ملت حنیفی کہتے ہیں۔ پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اور خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ ہیں شریعت اعتقادی میں سب انبیاء ایک ہیں شریعت اعتقادی کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک لہ جاننا اور اس کی ذات صفات اور عبادت میں کسی کو اس اعتقاد کے موافق شریک نہ کرنا۔ ہاں ہر امت کے حال کے موافق شریعت عملی جس کے معنی طریقہ عبادت کے ہیں وہ ہر نبی کا جدا ہے۔ سورة الشوریٰ میں اس شریعت اعتقادی اور شریعت عملی کا ذکر آئے گا۔ بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم سب انبیاء علاقی بھائی ہیں 1۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب انبیاء کے صول توحیدی ایک ہیں شریعت تفصیلی میں البتہ مختلف ہیں جس سے حلال و حرام وغیرہ امور تفصیلی ہر وقت کی مصلحت سے بدلتے رہتے ہیں۔ اصول توحیدی کبھی نہیں بدلے گے اصول توحیدی وہی شریعت اعتقادی ہے جس کا ذکر اوپر گذرا۔ اور سورة شوریٰ ۔ حم۔ عسق۔ میں تفصیل سے آئے گا۔
Ayah 2:136یہودونصاریٰ کے دین میں ایک یہ بھی عیب تھا اور اب بھی موجود ہے کہ وہ سب انبیاء کو نہیں مانتے یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اور نبی آخر الزمان کے منکر ہیں نصاریٰ نبی آخر الزمان کے منکر ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو فرمایا کہ تم پر جو قرآن اترا ہے اس پر ایمان لا کر عمل بھی اس کے موافق کرو اور اعتقاد میں سب انبیاء کو حق جانو یہود اور نصاریٰ کی طرح بعض انبیاء کو ماننا اور بعض کو نہ ماننا کسی طرح ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ توحید ہر نبی کے دین میں ہے اس سبب سے ایک نبی کے انکار سے بھی توحید کا انکار لازم آجاتا ہے جو عین کفر کا عقید ہے جس طرح بنی اسماعیل میں قبائل ہیں اسی طرح بنی اسرائیل میں اسباط ہیں سوائے حضرت نوح، ہود ‘ صالح ‘ شعیب ‘ لوط ‘ ابراہیم ‘ اسحاق ‘ یعقوب ‘ اسماعیل اور محمد ﷺ کے اور سب صاحب شریعت نبی اسباط بنی اسرائیل میں سے ہوئے ہیں۔
Ayahs 2:137–138(137 ۔ 38) ۔ اوپر ملت ابراہیمی کا ذکر فرما کر اس آیت میں مسلمانوں کو یہ فہمایش ہے کہ اگر تمہاری طرح اہل کتاب بھی راہ راست پر آ کر سب کتب آسمانی اور انبیاء پر ایمان لاویں اور ملت ابراہیمی کے پورے پابند ہوجاویں تو جان لینا کہ انہوں نے ہدایت الٰہی کا راستہ پالیا اور اگر ایسا نہ ہو تو ان کی ہٹ دھرمی ہے اور اس ہٹ دھرمی کے سبب سے وہ تم سے مخالفت کریں تو کچھ خوف نہ کرو تمہاری مدد کے لئے اللہ کا فی ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان اہل کتاب میں کچھ تو قتل کئے گئے اور کچھ جلا وطن ہوئے اور بعضوں کو جزیہ دینا پڑا۔ نافع کہتے ہیں میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ شہادت کے وقت حضرت عثمان کا خون اسی آیت { فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللّٰہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم } پر گرا تھا 1۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رنگ سے مراد اس آیت میں اللہ کا دین ہے 2۔ اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ نصاری نے اگرچہ یہ طریقہ نکالا ہے کہ وہ جس کو عیسائی کہتے ہیں تو زرد رنگ میں اس کو نہلاتے ہیں لیکن اے مسلمانو ! تم کو اللہ کی توحید کا رنگ ہاتھ سے نہ دینا چاہیے کہ یہ اللہ کا رنگ ہے اور اللہ سے بہتر کسی رنگ کا نہیں ہے اور اہل کتاب سے کہہ دو کہ ہم تو ملت ابراہیمی کے موافق خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اس لئے ہم کو اسی رنگ کافی ہے۔
Ayahs 2:139–141(139 ۔ 141) ۔ اہل کتاب کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ہے جو انہوں نے کہی تھی۔ کہ { کُوْنُوْا ھُوْدًا اَّوْ نَصَرٰی } مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم تم سب ایک خدا کے بندے اور فرمانبردار ہیں پھر تم جو اپنے آپ کو صاحب ہدایت اور راودوں کو گمراہ سمجھتے ہو اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے رہی ہماری دلیل وہ خود تمہاری کتابیں ہیں جن میں یہ موجود ہے کہ نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے اور نبی ہوجانے کے بعد اور کوئی دین قائم نہیں رہ سکتا اگرچہ تم نے اپنی کتابوں کی وہ آیتیں بدل ڈالی ہیں لیکن تمہارے علماء کے عبد اللہ بن سلام وغیرہ جو سلام لے آئے ہیں وہ تم کو ہر روقت قائل کرتے ہیں اس پر بھی تم کو کچھ حجت ہے۔ تو ہمارا کیا ہمارے آئے گا اور تمہارا تمہارے آگے مگر اتنی بات ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی خالص عبادت کرتے ہیں اور تم شرک کرتے ہو اور تم یہ جو کہتے ہو کہ ابراہیم اسمٰعیل، اسحق، و یعقوب تمہارے دین پر تھے یہ بالکل خدا تعالیٰ کے نزدیک غلط ہے۔ جس کی تفصیل اوپر گذر چکی کہ یہ لوگ ملت ابراہیمی پر تھے اور خود تمہاری کتابوں میں بھی اس بات کی گواہی موجود ہے کہ یہ لوگ ملت ابراہیمی پر تھے اب تم جان بوجھ کر خدا تعالیٰ کے دین کی اس گواہی کو چھپاتے ہو تو یہ تمہاری بڑی بےانصافی ہے۔ ہاں اب یہ تو بتاؤ کہ تم اہل کتاب ہو کر جس بات کی خبر خود خدا تعالیٰ نے دے دی اس کو جو جھٹلاتے ہے تو کیا تمہارا علم کچھ خدا سے بھی بڑھا ہوا ہے پھر یہ فرمایا کہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں اس کی اللہ تعالیٰ کو سب خبر ی ہے وہ اس سے غافل نہیں ہے ایک دن اس کا مؤاخذہ ہونے والا ہے اور پھ دوبارہ اس بات کو یاد دلایا جو اوپر کی آیتوں میں فرمائی تھی کہ قیامت کے دن ہر ایک کے اعمال اس کے ساتھ ہوں گے پچھلے لوگوں کے اعمال کے گھڑی گھڑی کے حوالہ سے ان کو کیا فائد ہے ہے اور پھر وہ حوالہ بھی غلط جو اور وبال کا سبب ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی صحیح مسلم کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی جو کوئی نبی آخر الزمان کے زمانہ میں ہوگا اور نبی آخر الزمان پر ایمان نہ لائے گا اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے 1۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی آخر الزمان کے نبی ہوجانے کے بعد اہل کتاب کو سوائے پیروی شریعت محمدی کے اور کچھ چارہ نہیں ہے اس حدیث کی تائید سورة آل عمران کی آیت { وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَفِی الْاٰخِرَۃِمِنَ الْخَاسِرِیْنَ } سے ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مصلحت الٰہی کے موافق دین اسلام کے مقابلہ میں اور کوئی دین اس آخر زمانہ میں قابل قبول الٰہی نہیں ہے سب کو یہی دین اب اختیار کرنا چاہیے جو کوئی اس کے خلاف کرے گا وہ عقبیٰ میں نقصان اٹھائے گا۔ کیوں کہ عقبیٰ میں وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو مرضی الٰہی کے موافق کام کرے حاکم کے خلاف مرضی اور خلاف قانون کوئی کام کرنا اسی کا نام جرم ہے۔
Ayahs 2:142–143(142 ۔ 143) ۔ صحیح بخاری میں براء بن عازب سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سولہ سترہ مہینے تک اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیت المقدس کو قبلہ ٹھہرا کر نماز پڑھی۔ لیکن آپ کو اس بات کی بڑی خوشی تھی کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم جلدی سے ہوجاوے کیونکہ آپ ملت ابراہیمی پر تھے اس لئے اس ملت کے قبلہ کی آپ کو آرزو تھی۔ اور اس سولہ سترہ مہینے میں دس مہینے کے قریب مدینہ منورہ کے قیام کے ہیں۔ باقی مکہ کے کیونکہ قریش کے طر طرح کے جھگڑوں کے سبب سے آپ کے قیام مکہ ہی کے زمانہ میں آپ کو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہوگیا تھا۔ اب حکم تبدیل قبلہ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اور فرمایا کہ تبدیل قبلہ کے بعد مخالف لوگ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے لیکن ان کی باتوں کا کچھ خیال نہیں کرنا چاہیے۔ مشرق مغرب سب جہتیں اللہ کی ہیں جس امت کا جدھر وہ چاہے قبلہ ٹھہرا سکتا ہے۔ پھر فرمایا جس طرح وسط زمین کعبہ کو اللہ تعالیٰ نے امت محمد ﷺ یہ کا قبلہ ٹھہرایا ہے اسی طرح اس امت کو اس نے سب امتوں میں معتدل ٹھہرایا ہے۔ تاکہ یہ امت سب انبیاء کے ساتھ ایک اعتدال کا درجہ رکھے اور قیامت کے دن اور انبیاء کی تائید میں ان کی امتوں کے مقابلہ میں شہادت ادا کرے۔ مسند امام احمد بخاری ترمذی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ سوا محمد ﷺ کے اور نبیوں کی امتیں اپنے نبیوں کو قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے رو برو جھٹلائیں گی۔ اور یہ کہیں گے کہ ہم جو کسی نبی نے خدا کا حکم نہیں پہنچایا ورنہ ہم ضرور اس کے موافق چلتے، انبیاء کہیں گے کہ یا اللہ ہم نے ان کو تیرا حکم پہنچا دیا۔ لیکن انہوں نے اس کو نہیں مانا اب یہ جھوٹ بولتے اگرچہ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ اس سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے۔ لیکن ان منکروں کو قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے فرمائے گا کہ تم اپنے بیان کی تائید میں کوئی شہادت پیش کرسکتے ہو وہ امت محمد ﷺ یہ کو اپنا گواہ قراردیں گے۔ وہ پہلی امتیں کہیں گی یا اللہ یہ لوگ تو تم سے بہت پیچھے دنیا میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کو ہمارے حال کی کیا خبر ہے۔ امت محمد ﷺ یہ کے لوگ کہیں گے کہ یا اللہ تو نے ہماری نبی آخر الزمان پر جو قرآن اتارا تھا اس میں پہلے نبیوں کا اور پہلی امتوں کا سب ذکر ہے اس واسطے ہم تیرے کلام کی اور تیرے رسولوں کے سچے ہونے کی گواہی دیتے ہیں پھر آنحضرت ﷺ اپنی امت کی بیان کی تصدیق فرمائیں گے 1۔ اور اس طرح کی شہادت پر یہ معاملہ تصفیہ پائے گا۔ اس معاملہ اور اس شہادت کا ذکر اس آیت میں ہے پھر فرمایا کہ اس تبدیل قبلہ میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ اس سے جو لوگ اطاعت رسول میں آپ کے اور ثابت قدم ہیں ان کا اور جو لوگ کچے ہیں ان کا حال کھل جائے گا کیونکہ ثابت قدم لوگوں کو تو ہر طرح فرماں برداری حکم الٰہی اور اطاعت رسول سے کام رہتا ہے۔ کسی حکم الٰہی کا ردو بدل اگر خدا کی طرف سے ہو تو ان کا یقین اللہ کے رسول کے سچے ہونے کا اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ایک نور ہدایت جو دے رکھا ہے اس سے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جو شخص اپنی طرف سے کوئی بات کہتا ہے تو اس کو اکثر اپنی بات کی پچ ہوتی ہے یہ بلا شک اللہ کے رسول ہیں بیچ میں کچھ داخل نہیں دیتے۔ اللہ کا جیسا حکم آتا ہے وہ ہم کو سنا دیتے ہیں۔ ہاں جو لوگ کچے ہیں ان کو ایسے موقع پر طرح طرح کے شک و شب ہے پیدا ہوجاتے ہیں۔ سلف نے اپنی تفسیروں میں لکھا ہے کہ کچھ لوگ اس تبدیل قبلہ کے حکم سے شک و شبہہ میں پڑ کر صاف مرتد ہوگئے۔ ترمذی وغیرہ میں صحیح روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف قبلہ بدل جانے سے پہلے جن چند صحابہ کا انتقال ہوگیا تھا ان کی نماز کے قبول ہونے اور افضل ہونے نہ ہونے کا ذکر صحابہ میں اکثر ہوا کرتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے { وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ } آیت کا ٹکڑا نازل فرمایا 2۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے کعبہ کے قبلہ قرار پانے سے پہلے بیت المقدس کی طرف اللہ کے حکم سے نماز پڑھی ہے۔ ان کی نماز کا اجر ملے گا۔ علماء نے لکھا ہے کہ یہود کے قبلہ کا ذکر تورات اور نصاریٰ کے قبلہ کا ذکر انجیل میں نہیں ہے بلکہ دونوں گروہ کا قبلہ ان کے علماء کا ٹھہرایا ہوا ہے۔ امت محمد ﷺ یہ کو ایک فخریہ بھی ہے کہ ان کا قبلہ خود خدا کا ٹھہرا یا ہوا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کی ابتدا سے قیامت تک جو کچھ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق ہونے والا تھا اس کو دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ 3۔ اس لئے اس آیت میں یہ جو فرمایا { اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ } اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق مطیع اور مرتد کا ظہور دنیا میں ہوجاوے۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے علم ازلی میں تو سب کچھ ازل سے ٹھہرا ہوا ہے اور دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے وہ سب کچھ لکھا بھی جا چکا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سزا جزا کا مدار ہر چیز کے دینوی ظہور پر رکھا ہے اپنے علم غیب پر نہیں رکھا آیات قرآنی میں جہاں کہیں علم الٰہی کا ذکر ایسے موقع پر آوے گا جیسا کہ اس آیت میں ہے تو اس کے یہی معنی ہوں گے جو یہاں بیان کئے گئے ہیں۔
Ayah 2:144شطر کے معنی جہت کے ہیں حضرت عبد اللہ بن عباس سے اس تفسیر میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے خاص کعبہ مسجد الحرام ہے اور جہت حرم سب روائے زمین کے رہنے والوں کا قبلہ ہے۔ 1۔ امام ابوحنیفہ (رح) امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) کا مذہب اسی حدیث کے موافق ہے۔ بیہقی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس کی سند کو ضعیف بتلایا ہے۔ لیکن یہ حدیث کئی سندوں سے روایت کی گئی جیسے ایک سند کو دوسری سند سے قوت ہوجاتی ہے۔ اس لئے تین اماموں نے اپنے مذہب کا مدار اس حدیث پر رکھا ہے۔ صحیح بخاری صحیح مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حالت سفر میں نفل نماز سواری پر جدہر سواری کا منہ ہو ادھر ہوجاتی ہے۔ 2۔ اسی طرح فرض نماز حالت خوف میں اور حالت سفر میں قبلہ کے مشتبہ ہوجانے کی صورت میں بغیر جہت کعبہ کے ہوجاتی ہے پھر فرمایا کہ ان اہل کتاب کو یہ تبدیل قبلہ کا مسئلہ تو اچھی طح معلوم ہے کیونکہ صفات نبی آخر الزمان کی آیتوں میں یہ مسئلہ ان کی کتابوں میں موجود ہے۔ لیکن فقط اس حسد سے کہ نبی آخر الزمان ان کی قوم بنی اسرائیل میں سے کیوں نہیں ہوئے۔ انہوں نے ان آیتوں کی جو بدل ڈالا ہے اس کو اور ان کے اس طرح کے اور سب کاموں کو اللہ خوب جانتا ہے۔ وقت مقررہ کی دیر ہے اس کے آتے ہی ان کی پوری خبر لی جائے گی۔
Ayah 2:145جو شخص حقیقت میں حق پسند ہوتا ہے مگر کبھی کسی حق بات کے سمجھنے میں اس کو کوئی شبہ پڑجاتا ہے۔ تو جب اس کا وہ شبہ رفع ہوجاتا ہے تو پھر وہ شخص فوراً راہ راست پر آجاتا ہے۔ لیکن جب کوئی شخص ضد یا حسد سے حق بات کے سمجھنے کا سرے سے قصد ہی نہیں کرتا تو اس کا راہ راست پر آنا مشکل ہے۔ اہل کتاب کا کفر کسی شک و شبہ کے سبب سے نہیں تھا بلکہ وہ جس طرح غیر کی اولاد میں سے اپنی اولاد کو پہچان سکتے تھے۔ اسی طرح ان اوصاف سے جو ان کی کتابوں میں تھے نبی آخر الزمان کو پہچانتے تھے۔ لیکن انہوں نے اس حد سے سے کہ نبی آخر الزمان ان کی قوم میں کیوں نہیں پیدا ہوئے اللہ کی کتاب کی آیتوں کو بدل ڈالا اور اسی ضد و حسد سے وہ باوجودنبی کے معجزات کے دیکھنے کے راہ راست پر نہیں آتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسکین کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا کہ ان لوگوں کا کفر عنادی ہے ان کو سینکڑوں معجزے بھی دکھائے جائیں تو کچھ فائدہ نہیں کیونکہ جب تک یہ لوگ اپنے عناد کو نہ چھوڑیں گے وہ عناد کبھی ان کو نہ چھوڑے گا کہ یہ حق بات کو سمجھیں اور راہ راست پر آجائیں اور کعبہ کو قبلہ تسلیم کریں پھر فرمایا کہ تمہار قبلہ خدا کی طرف سے ٹھہر چکا ہے اس واسطے تم بھی مثل سابق کے اب بیت المقدس کو قبلہ نہیں بنا سکتے پھر آنحضرت ﷺ کو مخاطب ٹھہر اکر امت کے لوگوں کو بطور تنبیہ کے یہ سنایا کہ اللہ کی طرف سے ایک حکم آجانے کے بعد اب اگر کوئی مسلمان شخص اہل کتاب کے بہکانے میں آجائے تو وہ بڑا ناانصاف ہے اگرچہ اس تنبیہ کا تعلق عام مسلمانوں سے ہے۔ لیکن تبدیل قبلہ کے حکم سے چند مسلمان بہک کر مرتد ہوگئے ان سے اس تنبیہ کا تعلق زیادہ ہے۔
Ayahs 2:146–147(146 ۔ 147) ۔ پہلی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی علامتیں بہت صراحت سے تھیں اس لئے اہل کتاب ان علامتوں سے آپ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے تھے لیکن نبی آخر الزمان کے بنی اسرائیل میں پیدا نہ ہونے سے ان لوگوں کو حضرت سے ایک دشمنی سی ہوگئی تھی جس کے سبب سے ان لوگوں نے وہ علامتیں بدل ڈالی تھیں اور آپ کی نبوت کے انکار کرنے پر کمر باندھ لی تھی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر فرمایا کہ اگرچہ اصل کتابیں تو ان لوگوں نے بدل ڈالی ہیں۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جتلا دیا ہے تو کسی مسلمان کو اس میں کچھ شک و شبہ نہیں کرنا چاہیے کہ نبی آخر الزمان کی پوری علامتیں اہل کتاب کی کتابوں میں موجود ہیں مستدرک حاکم ‘ صحیح ابن حبان ‘ مسند ابی یعلے ابن ماجہ میں صحیح روایتیں ہیں جن حاصل یہ ہے جو شخص دین کی کوئی بات جان بوجھ کر چھپائے گا اور اس کے نفع سے لوگوں کو محروم رکھے گا قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی 1
Ayah 2:148قبلہ کی تبدیلی کے بعد اہل کتاب اور اہل مکہ طرح طرح کی باتیں بناتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ہر ایک امت کا ایک قبلہ ہے جس کی طرف وہ لوگ منہ کرتے ہیں۔ یہود کا قبلہ مثلاً بیت المقدس ہے نصاریٰ کا مشرق اور مسلمانوں کا قبلہ جب تک حکم تھا بیت المقدس رہا اب ان کا قبلہ۔ کعبہ قرار پایا ہے قبلہ کا مسئلہ اس قدر بڑھانا اور اس میں ہر وقت بحث کرنا کچھ فائدہ کی بات نہیں ہے۔ دین کی بڑی بڑی باتیں مثلاً اہل مکہ کا شرک
کو چھوڑ کر اسلام لانا اہل کتاب اپنی کتابوں پر پورا عمل کر کے نبی آخر الزمان پر ایمان لانا ان باتوں میں سبقت کرنی چاہیے کہ یہ باتیں نجات عقبیٰ کا موجب اور اصل دین ہیں۔ اصل دین سے بیخبر رہ کر قبلہ کے مسئلہ کی طرح طرح چھوٹی چھوٹی باتوں میں بحث اور ان کی پابندی سے عقیدہ شرکیہ کی یا انکار کتاب الٰہی کی کیا اصلاح ہوسکتی ہے۔ سورة فرقان میں فرمایا { وَقَدِ مُنَا اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاہُ ھَبَائً مَنْشُوْرًا } ( 25: 23) جس کا حاصل یہ ہے کہ بغیر اصلاح عقیدہ کے مشرکین مکہ یا اہل کتاب چھوٹے چھوٹے سے کچھ نیک عمل کریں گے تو ان کا کچھ اجر نہ پاویں گے بلکہ ان کے وہ نیک عمل قیامت کے دن اس طرح اڑ جائیں گے جس طرح تیز ہوا میں غبار اڑ جاتا ہے۔ صحیحین کی حضرت معاذ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اور اللہ کے اس حق کے ادا ہوجانے کے بعد بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہوگا کہ وہ ان کو دوزخ کے عذاب سے بچائے 1۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر اصلاح کے عقیدہ شرکیہ کے بندہ اپنا کوئی حق اللہ کی بارگاہ سے نہیں پاسکتا۔ اسی واسطے آخر آیت میں فرمایا کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ ہر طرح کے عقیدہ اور عمل والوں کو سب کو ایک دن جہاں وہ ہوں وہاں سے اکٹھا کرے تاکہ ہر ایک گروہ کے عقیدے اور عمل کا نتیجہ اس کے سامنے آجاوے۔ حضرت معاذ کی دوسری روایت معتبر سند سے مستدرک حاکم میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کا دین خالص اور عقیدہ اچھا ہے اس کو نیک عمل تھوڑا سا بھی کافی ہے 2۔ مطلب یہ ہے کہ توحید کے ساتھ تھوڑا عمل بھی بہت کام دے گا۔ ورنہ بہت سے اعمال بھی ہوا میں اڑ جائیں گے۔ حاصل یہ کہ اس دن کے پیش آنے سے پہلے جس طرح حکم دیا گیا ہے دین کی اصولی اعتقادی باتوں میں ہر ایک گروہ کو سبقت کرنی چاہیے۔ کیونکہ بغیر اس سبقت کے چھوٹی باتوں کا اجر ان دن ہوا میں اڑ جائے گا یہ اعتقادی باتیں وہ ہیں جن کا ذکر آیت { لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُوْا وُجُوْھَکُمْ } میں آئے گا۔
Ayahs 2:149–150(149 ۔ 150) ۔ قرآن شریف میں یہ پہلا حکم ناسخ ہے جس سے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم منسوخ ہوا ہے۔ یہ اوپر گذر چکا ہے کہ یہود میں جہاں اور غلط باتیں رواج پکڑ گئی تھیں ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ احکام الٰہی میں سے کوئی حکم کبھی منسوخ نہیں ہوتا اپنے اس غلط اعتقاد کی وجہ سے تبدیل قبلہ کے باب میں وہ لوگ طرح طرح سے مسلمانوں کو بہکاتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے نازل فرمانے میں یہ اہتمام فرمایا کہ تمہید کے طور پر پہلے آیت { سَیَقُوْلُ السُّفَہَآ ئُ } نازل فرما کر مسلمانوں کو ہوشیار کردیا اور اب حکم تبدیل قبلہ کو بھی تاکید کے طور پر وہ دفعہ فرمایا تورات میں جہاں نبی آخر الزمان کی اور علامتوں اور نشانیوں کا ذکر تھا وہاں ایک علامت تبدیل قبلہ کی بھی تھی اس واسطے فرمایا کہ تبدیل قبلہ کے بعد ناانصافی سے اہل کتاب کو باتیں بنانے کے سوا تورات کے حوالہ سے کچھ بحث کرنے کا موقع باقی نہیں رہا پھر فرمایا اگر ان میں سے کوئی شخص کچھ غلط حجت کرے بھی تو اس کا کچھ خوف نہیں کرنا چاہیے بلکہ خوف تو ہر مسلمان کو اس بات کا چاہیے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی مخالفت نہ ہوجاوے۔ کہ اس کا عذاب بھگتنا پڑے حالانکہ اس کا عذاب انسان کی برداشت سے باہر اور بہت سخت ہے ترمذی وغیرہ کی روایت سے حضرت ابوذر کی حدیث مشہور ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ عذاب الٰہی کا جو حال مجھ کو معلوم ہے اگر وہ حال تم لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو تمہاری ہنسی بالکل کم ہوجائے اور تم اپنے گھروں اور اہل و عیال کو چھوڑ کر جنگل کو نکل جاؤ۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے 1۔ جو لائق عمل ہے اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کو بہ نسبت اور کسی کی مخالفت کے خوف کے اللہ کے حکم کی مخالفت سے اس کے عذاب کا بڑا خوف کرنا چاہیے۔ نعمت الٰہی کے پورا کرنے کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح سے تم لوگ ملت ابراہیمی کی نعمت پر تھے جو شرک سے بالکل پاک و صاف ہے اسی طرح قبلہ ابراہیمی کا حکم نازل ہوجانے سے وہ نعمت اب پوری ہوگئی۔
Ayahs 2:151–152(151 ۔ 152) ۔ یہ آیت پہلی آیت کے متعلق ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کی نعمت تم کو عطا کی اسی طرح اس کی یہ بھی نعمت ہے کہ وہ ملت تمہاری بنی اسماعیل میں کی نبی کی معرفت تم کو عطا ہوئی تاکہ غیر قوم کی اطاعت کا جھکاؤ باقی نہ رہے۔
قرآن شریف میں جہاں کتاب و حکمت کے دو لفظ ایک جگہ آئے ہیں ان کی تفسیر سلف نے قرآن۔ اور حدیث سے کی ہے اور اس تفسیر کی تائید اور مقدام بن معدیکرب کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو مسند امام احمد اور ابو داؤد ابن ماجہ میں معتبر سند سے آئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو قرآن اور قرآن کے ساتھ ہی قرآن کی مانند حدیث اللہ کی طرف سے دی گئی ہے 1۔ معنی اس حدیث کے علماء نے یہ بیان کئے ہیں کہ فقظ قرآن کے سیکھ لینے سے مسلمان آدمی کو دین کی طرف سے بےپرواہی نہیں ہوسکتی۔ جب تک اللہ کی رسول کی حدیث کو آدمدی نہ سیکھے کیونکہ نماز، روزہ، حج زکوۃ ارکان دین کے اکثر مسئلے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر ذکر فرما کر ان کا تفصیلی بیان اپنے رسول کے سپرد کیا چناچہ سورة نحل میں فرمایا { وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ } (16: 44) مطلب آیت کا یہ ہے کہ قرآن کی جو آیتیں ایسی ہوں کہ ان میں تفصیل کی ضرورت ہو تو تم اے نبی اللہ کے ان آیتوں کی تفصیل قول سے فعل سے اچھی طرح امت کے لوگوں کو سمجھا دیا جو سلسلہ بہ سلسلہ آج تک چلا آتا ہے اور اسی کو قرآن کی تفسیر کہتے ہیں تفسیر قولی کی مثال مثلاً جب سورة الانعام کی یہ آیت { اَلَّذِیْنَ اَمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ } (6۔ 82) نازل ہوئی تو آپ نے فرما دیا کہ ظلم سے مراد اس آیت میں شرک ہے 2۔ بخاری مسلم ترمذی وغیرہ میں اس تفسیر کی روایتیں ہیں تفسیر فعلی کی مثال مثلاً ایک شخص نے اوقات نماز کا ذکر جو قرآن شریف میں ہے اس کی تفسیر آنحضرت ﷺ سے پو چھی آپ نے اس سائل کو زبانی کچھ جواب نہ دیا بلکہ اس کو دو روز تک اپنے ساتھ نماز میں شریک رکھ کر پہلے دن پنج گانہ نماز اول وقت پڑھی اور دوسرے دن آخری وقت پر اور پھر اس سائل کو سمجھا دیا کہ نماز کا وقت دونوں دن کے وقتوں کے مابین ہے یہ روایت صحیح مسلم وغیرہ میں ہے 1۔ یہ جو فرمایا کہ تم یاد رکھو مجھ کو میں یاد رکھوں تم کو اس کی تفسیر اس حدیث قدسی میں آئی ہے جس کو بخاری وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے جس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندہ کے ساتھ ہوں اگر وہ مجھ کو اپنے دل میں یاد کرے گا تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کروں گا اور اگر وہ مجھ کو انسانوں کی مجلس میں یاد کرے گا تو میں اس کو ملائکہ کی مجلس میں یاد کروں گا جو انسانوں کی مجلس سے بہتر ہے اور جس قدر وہ مجھ سے قریب ہوگا میں اس سے زیادہ قریب ہوں گا اور وہ میری راہ میں پاؤں چل کر آوے گا تو میں اس کی مدد کے لئے دوڑ کر آنے کو تیار ہوں 2 جو نعمت خدا دے اس کو خدا کی مرضی کے موافق کام میں لانا اس نعمت کا شکر ہے اور خلاف مرضی کفران نعمت۔
Ayahs 2:153–154(153 ۔ 154) ۔ صحیح مسلم میں صہیب رومی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان آدمی کو ہر طرح بھلائی پہنچ سکتی ہے اگر وہ نعمت کے وقت شکر اور مصیبت کے وقت صبر کرے 3۔ پہلی آیت میں شکر نعمت کا ارشاد تھا اور اس آیت میں وصیبت کے وقت صبر کا ارشاد ہے اس لئے کہ انسان کی دو ہی حالتیں ہیں یا وہ صاحب نعمت ہوگا یا صاحب مصیبت ان دونوں حالتوں کے باہمی تعلق کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے صبر کا ذکر شکر نعمت کے بعد فرمایا تاکہ یہ آیت پہلی آیت کا ایک جز قرار پا کر شکر اور صبر کا حکم ایک جگہ ہوجاوے۔ مسند امام احمد (رح) ابو داؤد وغیرہ میں جو معتبر سند سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کو کوئی رنج و غم کا موقع پیش آتا تھا تو آپ اس رنج و غم کو ٹالنے کے لئے نماز پڑھنے میں مصروف ہوجاتے تھے 4۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح صبر کرنے سے مصیبت ہلکی ہوجاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نماز میں ایک اثر مصیبت کے ہلکا کردینے کا رکھا ہے اور اسی مناسبت کے سبب سے اپنے کلام پاک میں نماز کو صبر کے ساتھ ذکر فرمایا ہے مصیبت کے وقت صبر کرنے کی فضیلت میں اور صبر کے اجر میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ مصیبت کے وقت صبر کے علاوہ مامور شرعی کے ادا کرنے اور ممنوع شرعی سے بچنے میں بھی خواہش انسانی کو روکنا اور صبر کرنا پڑتا ہے اس لئے صبر ہر عبادت کا گویا ایک جز ہے۔ جہاد میں طرح طرح کی تکلیفات پر آخری درجہ جان دینے کی تکلیف پر صبر درکار ہوتا ہے شہید لوگ اس صبر کے متحمل ہوئے اور خدا کی راہ میں اپنی جان دی اسی تعلق اور مناسبت کے لحاظ سے صبر کی آیت میں شہیدوں کا ذکر فرمایا تاکہ اور لوگ بھی اس قدر صبر کا تحمل اختیار کریں کہ خدا کی راہ میں درجہ شہادت کا حاصل کر کے شہیدوں کے مرتبہ کو پونچیں صحیح بخاری مسلم ترمذی وغیرہ میں حضرت انس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد کوئی جنت کی نعمتوں کو چھوڑ کر جنت سے نکلنا اور پھر دنیا میں آنا پسند نہ کرے گا۔ مگر شہیدلوگوں کی یہ تمنا ہوگی کہ اگر وہ دس دفعہ دنیا میں آ کر خدا کی راہ میں شہید ہوں تو بھی ان کی آرزو پوری نہ ہوگی 1۔ شہادت کے سبب سے بڑے بڑے درجہ با رگاہ الٰہی سے جو شہیدوں کو ملیں گے ان کے بڑھانے کی حرص میں شہیدوں کو دوبارہ دنیا میں آنے اور پھر شہید ہونے کی تمنا ہوگی صحیح مسلم ترمذی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اب قیامت سے پہلے ہر ایک شہید کی روح ایک خوبصورت سبز جانور کے پوٹے میں ہے وہ سبز جانور جنت میں سارا دن جہاں چاہتے ہیں طرح طرح کے جنت کے میوے کھاتے پھرتے ہیں اور شام کو عرش کے نیچے ایک قسم کی قندیلیں لٹک رہی ہیں ان میں بسیرا لیتے ہیں 2۔ چودہ صحابہ بدر کی لڑائی میں جو شہید ہوگئے تھے موافق لوگ اس کا افسوس کرتے تھے اور مخالف لوگ کہتے تھے کہ ان مرنے والوں نے مفت اپنی جانیں کھوئیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ مرنا تو ایک نہ ایک دن سب کو ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان کا دینا ہمیشہ کی زندگی کا حاصل کرنا ہے۔ چناچہ شہداء عند اللہ اب بھی زندہ ہیں اچھی غذا پاتے ہیں۔ لیکن تم لوگوں کو ان کی زندگی کا حال معلوم نہیں کیونکہ وہ تم سے جداہو گئے ہیں اور علاوہ حال کے زندگی کے جنت میں بھی پھر اپنے اصلی جسم سے داخل ہو کر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔