2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 2:80

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی، ان سے پوچھو کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا ؟ (نہیں) بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں

علماء یہود میں دو باتیں زیادہ مشہور تھیں ایک تو یہ کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس کی ہے۔ اگر ہم کو عذاب ہوا بھی تو ہزار ایک دن کا ہوگا۔ اور آٹھویں دن ہم سب جنت میں چلے جائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر سات دن سے بڑھ کر ہم کو عذاب ہوا تو چالیس دن سے بڑھ کر کسی طرح نہ ہوگا۔ کیوں کہ یہ وہ مدت ہے جس میں ہماری بڑوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔ کم شہرت کی تیسری یہ بات بھی یہود کی زبان پر تھی کہ دوزخ کے منہ کی چوڑائی چالیس برس کے راستہ کی ہے۔ زیادہ عذاب ہم کو ہوا تو اسی مدت تک ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا کہ تم ان یہود کے جھوٹے علماء سے دریافت کرو کہ ان کے پاس ان جھوٹی باتوں کی کیا سند ہے اور سند نہ بتلائیں گے تو اللہ کے دین میں ایسی جھوٹی باتیں بنانے کا وبال ایک دن ان پر آنے والا ہے۔
Ayahs 2:81–82

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

ہاں جو برے کام کرے اور اسکے گناہ (ہر طرف سے) اس کو گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے

(81 ۔ 82): حضرت عبد اللہ بن عباس نے ان آیتوں میں گناہ کے معنی شرک کے لئے ہیں 1۔ اور آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ جو شخص یہود کی طرح کے شرک اور کفر اور گناہوں میں ہمیشہ مبتلا رہ کر بغیر توبہ کے مرجائے گا۔ تو وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ یہ تفسیر بہت سی صحیح حدیثوں کے موافق ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ جو مومن گنہگار بغیر توبہ کے مرجائے گا وہ اخیر کو جنت میں جائے گا۔ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا 2۔
Ayah 2:83

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہنا تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے

یہ تو اوپر گذر چکا ہے کہ بنی اسرائیل کے سر پر پہاڑ کھڑا کر کے ان سے تورات کے مسئلوں پر عمل کرنے کا عہد لیا گیا ہے۔ یہود کے قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں تورات کے آٹھ مسئلے ذکر کر کے فرمایا ہے کہ باوجود ایسے سخت عہد کے سوا چند آدمیوں کے تم سب ان مسئلوں پر عمل نہیں کرتے اور اپنے عہد سے پھرگئے ہو۔ اور پھر آگے جاکر فرمایا کہ جو کوئی ایسے کام کرے اس کی یہی سزا ہے کہ دنیا میں وہ طرح طرح سے رسوا ہوگا اور عقبیٰ میں سخت عذاب بھگتے گا۔ مسئلوں میں پہلا مسئلہ توحید کا ہے کہ اللہ کو وحدہ لا شریک لہ جاننا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرتا یہ حکم اللہ تعالیٰ نے ہر ایک رسول کی امت کو دیا ہے۔ چناچہ سورة نحل میں فرمایا ہے { ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبد وا اللہ واجتنبوا الطاغوت } ص 16: 26) جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کی تمام امتوں میں جو رسول اللہ تعالیٰ نے بھیجے ہیں ان کی امتوں کو یہی بات سمجھانے کو بھیجے ہیں کہ اللہ ہی کی خالص عبادت کریں اور شرک سے دور رہیں۔ سوا اللہ تعالیٰ کے جس چیز کی پوجا کی جاوے اس کو عربی میں میں طاغورت کہتے ہیں۔ صحیحین میں حضرت معاذ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا حق اس کے بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے اس حق کے ادا ہونے کے بعد بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنے ایسے بندوں کو دوزخ کے عذاب سے بچائے 1 شرک ایک تو ظاہری کہ آدمی سوا اللہ کے کسی چیز کی پوجا کرے۔ دوسرا چھپا ہوا چھوٹا شرک ریا کاری ہے کہ لوگوں کے دکھاوے کے لئے آدمی اللہ کی عبادت کرے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کا حق پیدا کرنے کے لئے انسان کو دونوں طرح کے شرک سے بچنا چاہیے۔ مسندامام احمد میں محمود بن لبید کی صحیح سند سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو اپنی امت کے چھوٹے شرک کا بڑا خوف ہے۔ صحابہ نے پوچھا چھوٹا شرک کیا ہے۔ آپ نے فرمایا ریا کاری 2۔ یہود میں سے جب تورات ضائع ہوگئی تو حضرت جبرئیل نے حضرت عزیر کو تورات یاد کرا دی اور حضرت عزیر نے بنی اسرائیل کو اپنی رو سے ساری تورات لکھوا دی اس پر یہود حضرت عزیر کو اللہ کا بیٹا کہنے لگے اور ایسے بڑے توحید کے عہد پر قائم نہیں رہے جس کا مفصل ذکر سورة توبہ میں آئے گا۔ اسی طرح اور مسئلوں کا عمل انہوں نے چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ انسان کو پیدا کیا اور ماں باپ کے سبب سے ہر ایک انسان پرورش پاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کا حق کا ذکر کیا ہے۔ مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے ماں باپ کو یا فقط ماں یا فقط باپ کو ان کے بڑھاپے کی حالت میں زندہ پایا اور پھر بھی ان کی خدمت کے اجر میں اس شخص نے جنت حاصل نہ کی تو ایسا شخص بڑا بد نصیب ہے 3 لوگوں سے نیک بات کہنے میں وعظ و نصیحت بھی داخل ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص ہاتھ یا زبان سے خلاف شرع بات کو منع نہ کرسکے تو ضعیف درجہ ایمان کا یہ ہے کہ دل سے اس خلاف شرع بات کو برا جانے 4۔ اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں سے نیک بات کہنے میں وعظ نصیحت کا خیال رکھنا ایمان کی نشانی ہے۔
Ayahs 2:84–85

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت و خون نہ کرنا اور اپنے کو ان کے وطن سے نہ نکالنا تو تم نے اقرار کرلیا اور تم (اس بات کے) گواہ ہو

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کردیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کر کے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلا دے کر انکو چھڑا بھی لیتے ہو حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتاب (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں ان کو سزا اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دئیے جائیں ؟ اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان سے غافل نہیں

(84 ۔ 85): مدینہ میں اوس و خزرج دو بڑے قبیلے رہتے تھے۔ اسلام سے پہلے ان دونوں قبیلوں میں سخت عداوت تھی اور مدینہ کے اطراف میں یہود کے تین قبیلے بنی قنیقاع بنی نضیر اور بنی قریظہ رہتے تھے۔ بنی قنیقاع اور بنی نضیر کی عرب کے خزرج قبیلہ سے دوستی تھی اور بنی قریظہ کی اوس قبیلہ سے۔ جب یہ دونوں قبیلے عرب کے آپس میں لڑتے تو یہود بھی اپنے اپنے دوست قبیلہ کے ساتھ ہو کر لڑتے اور ایک طرف کے یہودیوں کے ہاتھ سے دوسری طرف کے یہودی مارے جاتے اور اگر ایک طرف کے یہود دوسری طرف گرفتار ہوجاتے تو تورات کے حکم کے موافق چھوڑوائی کی رقم دے کر اپنے قیدیوں کو ضرور یہود چھڑا لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہود کو قائل کیا کہ تورات میں جس طرح ایک یہودی کا دوسری یہود قیدی کی چھڑوائی دے کر چھوڑانے کا حکم ہے اسی طرح یہودیوں کی آپس کی لڑائی آپس کی جلاوطنی حرام ہے۔ پھر تورات کی بعض آیتوں پر اپنی مرضی کے موافق عمل کرنا اور بعض آیتوں پر عمل نہ کرنا یہ کونسی دینداری ہے۔ پھر فرمایا جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کی رسوائی عقبیٰ کا عذاب تمہاری سزا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قرار پا چکی ہے دنیا کی رسوائی تو ہوچکی بنی قریظہ قتل ہوئے بنی نضیر بنی قینقاع جلا وطن کئے گئے۔ عقبیٰ کا عذاب باقی ہے جس کا ذکر آگے کی آیت میں ہے۔
Ayah 2:86

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو (اور طرح کی) مدد ملے گی

اس آیت میں یہود اپنے اعمال کے سبب سے جس ٹوٹے میں پڑگئے اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے اپنی عاقبت ہاتھ سے دور کردینا حاصل کی جو چند روز ہے۔ لیکن اس بد اعمالی کے سبب سے عقبیٰ میں ان لوگوں پر ایسا عذاب ہوگا جس کی سختی میں کبھی کچھ کمی نہ ہو۔ اور وہاں ان کا کوئی مددگار بھی پیدا نہ ہوگا۔ صحیحین میں نعمان بن بشیر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سب دوزخیوں سے کم عذاب جس شخص پر ہوگا اس کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گے جس سے اس کا بھیجا کھول جائے گا 1۔ پھر جن لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کو سخت عذاب ہوگا اور ان کے عذاب میں کبھی کبھی کچھ تحفیف نہ ہوگی۔ ان کا کیا حال ہوگا۔ خدا اپنے عذاب کی بلا سے سب کو محفوظ رکھے اور ایسے اعمال کی توفیق دے جس سے اس کے عذاب سے محفوظ رہنے کا حق ہم کو حاصل ہو۔
Ayah 2:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی، تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا تو تم سرکش ہوجاتے رہے اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے ما بین ایک ہزار نوسو پچیس برس کے زمانہ میں کتاب تو وہی تورات ہی رہی مگر حضرت زکریا ( علیہ السلام) یونس یحییٰ ‘ داؤد ‘ سلیمان (علیہ السلام) اور نبی اللہ تعالیٰ نے تورات کے احکام قائم رکھنے کے لئے متواتر بھیجے۔ اور ان انبیاء نے جب کبھی بنی اسرائیل کو تورات کے احکام کی پابندی پر زیادہ مجبور کیا اور برخلاف کتاب الٰہی کے جو باتیں یہود نے رائج کر رکھی تھیں ان سے ان کو روکا تو انہوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کر کے بعضوں کو ان میں سے شہید کیا اور بعضوں کے ساتھ سخت مخالفت سے پیش آئے۔ روح القدس کی تفسیر میں صحیح قول یہ ہے کہ روح القدس سے مراد یہاں حضرت جبرئیل ہیں 1 کہ وہ ہر وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تھے اور سورة آل عمران میں آئے گا کہ حضرت عیسیٰ نے تورات کے کچھ احکام مثلاً چربی اور اونٹ کے گوشت کے حرام ہونے کو اللہ کے حکم سے منسوخ بھی کیا۔ یہود کا تو یہ عقیدہ تھا کہ تورات کے احکام قیامت تک کبھی منسوخ نہیں ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ کے جدید معجزات سے اور تورات کے بعض احکام کی منسوخی سے انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سخت مخالفت شروع کی یہاں تک کہ آخر ان کے شہید کرنے پر مستعد ہوئے جس کا تفصیلی قصہ سورة النساء میں آئے گا۔
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارے دل پردے میں ہیں (نہیں) بلکہ خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں

سورة حم السجدہ میں یہود کے اس قول کی طرح اہل مکہ کا قول اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے { وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْ اَکِنَّۃٍ مِمَّا تَدْعُوْنَنَا اِلَیْہِ وَ ِفْی آذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْ بَیْنِنَا وَبَیْنِکَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عَامِلُوْنَ } ( 41: 5) جس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد تم اپنے دین پر رہو ہم اپنے دین پر رہیں گے کیونکہ غیر دین کی بات نہ ہمارے دل سمجھ سکتے ہی نہ ہمارے کان سن سکتے ہیں۔ نہ ہم میں اور غیر دین میں جو پردہ حائل ہے وہ اٹھ سکتا ہے۔ حاصل مطلب ان دونوں قولوں کا یہ ہے کہ غیر دین کی بات ہم پر کسی طرح اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے قول کا تو یہ جواب دیا کہ یہ لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں۔ اس سبب سے ایسی باتیں کرتے ہیں۔ اور یہاں یہود کے اس قول کا جو جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ اہل کتاب اور عقبیٰ کے قائل ہو کر جو منکرین حشر کی سی باتیں کرتے ہیں تو ان پر خدا کی لعنت اور پھٹکار کا اثر یہ ہے کہ اہل مکہ کی تو ایک جماعت راہ راست پر آگئی ہے اور ان میں سے ابھی تھوڑے سے لوگ راہ راست پر آئے ہیں۔
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب خدا کے ہاں سے انکے پاس کتاب آئی جو ان کی آسمانی کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہوگئے پس کافروں پر خدا کی لعنت

آنحضرت ﷺ کے اوصاف تورات میں دیکھ کر یہود لوگ اللہ تعالیٰ سے نبی آخر الزمان کے جلد پیدا ہونے کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اور جن مشرکوں سے ان کی مخالفت تھی ان سے یہ کہا بھی کرتے تھے کہ بہت جلد نبی آخر الزمان کا زمانہ آنے والا ہے اس وقت ہم ان نبی کے ساتھ ہو کر تم سے دل کھول کر لڑیں گے اور تم کو خوب قتل کریں گے۔ اور آگے آئے گا کہ یہ لوگ نبی آخر الزمان کے اوصاف ان کی کتاب تورات میں صاف صاف تفصیل سے موجود تھے۔ لیکن جب آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے اور مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے اور ان یہود نے قرآن کی آیتیں سنیں جن میں تورات کی تصدیق بھی موجود تھی۔ تو فقط اس حسد سے کہ یہ نبی ہم میں سے کیوں نہیں پیدا ہوئے جان بوجھ کر آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص جان بوجھ کر حق بات کا منکر ہو اس پر خدا کی لعنت اور پھٹکار ہے۔ ابن ماجہ وغیرہ میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص دین کی کوئی بات جان بوجھ کر چھپائے گا تو قیامت کے دن ان کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا وہ بہت بری ہے یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہوگئے اور کافروں کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

اللہ تعالیٰ غصہ پر غصہ اس لئے ہوا کہ ایک تو ان یہود لوگوں نے اللہ کی کتاب تورات کی آیتوں کو بدل ڈالا دوسری انجیل کے کتاب الٰہی اور حضرت عیسیٰ السلام کے نبی ہونے کا انکار کیا۔ تیسرے نبی آخر الزمان کو نبی برحق اور قرآن کو کتاب الٰہی جان کر محض اس حسد سے ان کے منکر ہوئے کہ ہماری قوم میں مدت سے نبوت چلی آتی تھی غیر قوم بنی اسماعیل میں یہ نبوت کیوں گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان باتوں سے انہوں نے اور کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ خود آپ ہی ذلت کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔ ذلت کا عذاب اس لئے فرمایا کہ یہود نے اس تکبر نخوت اور خود پسندی کے سبب سے نبی آخر الزمان کی نبوت کا انکار کیا کہ وہ نخوت کی راہ سے اپنے آپ کو اپنی قوم کو بنی اسماعیل سے عالی درجہ سمجھتے تھے۔ ان کے اس تکبر نے اجازت نہیں دی کہ وہ غیر قوم کے نبی کے فرمانبرداری کریں اور یہ بات علم الٰہی میں قرار پا چکی ہے کہ قیامت کے دن ہر صاحب نخوت آدمی کو عذاب ہوگا جس میں اس کی ذلت ہو۔ چناچہ مسند امام احمد نسائی اور ترمذی میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن کے متکبر لوگ چیونٹیوں کے جسم کے برابر آدمی کی صورت میں اٹھیں گے۔ اور تمام مخلوقات کے روندنے میں آئیں گے 1 تاکہ سب مخلوقات میں ان کی ذلت ہو۔
Ayahs 2:91–93

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے اس کو مانو تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہوچکی ہے ہم تو اسی کو مانتے ہیں (یعنی) یہ اس کے سوا اور (کتاب) کو نہیں مانتے حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے اس کی بھی تصدیق کرتی ہے (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحب ایمان ہوتے تو خدا کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے تو تم ان کے ( کوہ طور پر جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے اسکو زور سے پکڑو اور (جو تمہیں حکم ہوتا ہے اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں اور انکے کفر کے سبب بچھڑا گویا ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ﷺ ! ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے

(91 ۔ 93) ۔ اس آیت میں یہود نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہمارا ایمان حضرت موسیٰ اور تورات پر ایسا مضبوط ہے کہ غیر دین کے انکار پر ہم مجبور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس دعوے کو کئی طرح جھٹلایا۔ ایک تو یہ کہ جب قرآن میں تورات کی تصدیق موجود ہے تو جس کا ایمان تورات پر مضبوط ہوگا وہ قرآن کا منکر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قرآن کا انکار اس صورت میں تورات کے سچے ہونے کا گویا انکار ہے۔ دوسرے یہ کہ جس کا ایمان تورات پر مضبوط تھا اس نے ان انبیاء کو کیوں شہید کیا جو تورات کے احکام کی مضبوطی کے لئے آئے تھے۔ تیسرے یہ کہ جس کا ایمان موسیٰ (علیہ السلام) پر مضبوط تھا تو اس نے بچھڑے کی پوجا کیوں کی۔ کیا موسیٰ نے ان کو اس پوجا کے لئے کہا تھا۔ چوتھے یہ کہ جس وقت پہاڑ سر پر لایا جا کر تورات کے موافق عمل کرنے کا عہد لیا گیا تھا اس وقت تمہارے بڑوں نے چپکے سے { وَعَصَیْنَا } کہا تھا پھر تمہارا ایمان تورات پر کیونکہ مضبوط ہوسکتا ہے۔ حاصل یہ کہ تم کو تو تورات پر مضبوط ایمان کا لانا کیا نصیب ہوگا تمہارے بڑے بھی اس سے محروم تھے۔ پھر فرمایا کہ اگر تم لوگ اپنے دعویٰ کے موافق ایمان دار ہو اور تمہارا ایمان تم کو یہی سکھاتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو تو تمہارے ایمان کی تعلیم نہایت نالائق تعلمی ہے بلکہ ایمان داری کیا یہ تو عین بےایمانی ہے۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہدایت کے بعد گمراہ وہی قوم ہوتی ہے جو دین میں زبر دستی کے جھگڑوں میں پڑجائے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 1۔ زبر دستی کے جھگڑے اسی طرح کے ہوتے ہیں جس طرح حق بات کے معلوم ہوجانے کے بعد یہ لوگ زبر دستی کے روز کے جھگڑے حق بات کے ٹالنے کی غرض سے نکالتے ہیں۔ امت محمدیہ کے علماء کو اس طرح کے جھگڑوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
Ayahs 2:94–96

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اور لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے لئے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لئے مخصوص ہے اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

لیکن ان اعمال کی وجہ سے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں یہ کبھی اس کی آرزو نہیں کریں گے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی کے کہیں حریص دیکھو گے یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے ؟ کہ کاش وہ ہزار برس جیتا رہے مگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان کو دیکھ رہا ہے

(94 ۔ 95) ۔ اس سورت میں آگے آئے گا کہ یہود کہتے تھے { لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًا } اور سورة مائدہ میں آئے گا کہ تورات کی آیت بدل ڈالا تھا اور کہتے تھے { نَحْنُ اَبْنَا ئَ اللّٰہُ وَاَحِبَّاؤُہٗ } ان کے ان قولوں کا مطلب یہ تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے پیارے ہیں سوا ہمارے اور کوئی جنت میں ہرگز نہیں جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق آنحضرت ﷺ یہود سے موت کی بد دعا کا مباہلہ کرنے کو تیار ہوئے۔ لیکن یہود تو اپنے دل میں سمجھتے تھے کہ مباہلہ کریں گے تو اپنے جھوٹ کے سبب سے غارت ہوجائیں گے۔ مباہلہ کی صورت یہ ہے کہ جب دو فریق میں زبانی بحث سے کوئی بات طے نہ ہو تو ہر ایک فریق جھوٹے فریق پر بد دعا کرتا ہے۔ سورة آل عمران میں مباہلہ کی آیت آئے گی جو نجران کے نصاریٰ سے آنحضرت ﷺ نے مباہلہ کرنا چاہا تھا لیکن وہ نصرانی لوگ مباہلہ پر راضی نہیں ہوئے جس طرح اس آیت میں یہود لوگ جھوٹے فریق کی موت کی بددعا پر راضی نہیں ہوئے مباہلہ کو تمنا کے لفظ سے اس آیت میں اس لئے ذکر فرمایا ہے کہ ہر فریق جھوٹے فریق کی ہلاکت کی تمنا کرتا ہے۔ مشرکین سے مراد اس آیت میں پارسی لوگ ہیں کہ ان کی قوم میں ہزار برس کے جینے کی دعا کا رواج ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ اپنی بد اعمالی کے سبب سے موت کے مباہلہ پر تو ہرگز راضی نہ ہوں گے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے عیش کا مدار دنیا کی زندگی پر ہے لیکن شیطان کی طرح اگر ہزارہا برس بھی یہ لوگ جی گئے تو ایک دن آ مریں گے اور عذاب عقبیٰ میں گرفتار ہوں گے۔ اور عذاب عقبیٰ کے جو کام یہ لوگ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں۔
Ayahs 2:97–98

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو شخص جبرئیل کا دشمن ہو (اس کو غصے میں مرجانا چاہئے) اس نے تو (یہ کتاب) خدا کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو شخص خدا کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرئیل کا اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کا خدا دشمن ہے

(97 ۔ 98): جب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کے چند احکام کے منسوخ ہونے کی وحی حضرت جبرئیل لائے اور ہر وقت مدد کے طور پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رہنے لگے اس وقت سے یہود لوگ حضرت جبرئیل کو اپنا دشمن جانتے تھے اب آنحضرت ﷺ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائے تو یہود نے چند باتیں آپ سے پوچھیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ پر وحی کون سا فرشتہ لاتا ہے اس کا جواب آپ نے دیا کہ جس طرح اور انبیاء پر حضرت جبرئیل وحی لاتے رہے اسی طرح مجھ پر بھی وہی وحی لاتے ہیں۔ یہ سن کر یہود نے کہا کہ حضرت جبرئیل کو ہم لوگ پہلے سے اپنا دشمن جانتے ہیں۔ اس لئے ہم اسلام قبول نہیں کرسکتے۔ اگر اور کوئی فرشتہ آپ کا رفیق ہوتا تو ہم آپ پر ایمان لاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جبرئیل کا وحی لانا اللہ کے حکم سے ہے کہ وہ ملائکہ میں اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر بھی جو کوئی اللہ کے فرشتوں اور رسولوں کو دشمن ہوگا اللہ اس کا دشمن ہوگا۔
Ayahs 2:99–103

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بد کردار ہیں

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

ان لوگوں نے جب جب (خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اسکو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بےایمان ہیں

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس خدا کی طرف سے پیغمبر (آخرالزمان ﷺ آئے اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی تصدیق بھی کرتے ہیں تو جن لوگوں کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا گویا وہ جانتے ہی نہیں

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے، اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہ) آزمائش ہیں تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے ایسا (جادو) سیکھتے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیج ڈالا وہ بری تھی، کاش وہ (اس بات کو) جانتے

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا اے کاش وہ اس سے واقف ہوتے

(99 ۔ 103) ۔ بعض یہود نے آنحضرت ﷺ سے یہ کہا تھا کہ حضرت موسیٰ کے عصا اور ید بیضا کی طرح آپ کو کوئی صریح اور صاف معجزہ نہیں ملا۔ پھر ہم آپ کو کیونکر اللہ کا رسول جان لیویں۔ اسی گفتگو میں بعض یہود نے یہ بھی کہا تھا کہ تورات میں ایسا کوئی عہد نہیں ہے جس سے ہم لوگوں پر نبی آخر الزمان کی مدد لازم ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور یہود کی پہلی بات کا جواب تو یہ دیا کہ ان لوگوں کی وہ باتیں جو سوا ان کے علماء کے دوسرے کسی کو معلوم نہیں جب کہ نبی آخر الزمان پر قرآن کے ذریعہ سے روزانہ نازل ہوتی ہیں اور نبی آخر الزمان باوجود امی ہونے کے ان باتوں کی ایسی صحیح اطلاع ان لوگوں کو دیتے ہیں جن کو یہ لوگ اپنی کتاب آسمانی کے مطابق پاتے ہیں تو پھر نبی آخر الزمان کے نبی اور قرآن کے کتاب آسمانی ہونے کے لئے ان لوگوں کو اور کیا معجزہ درکا ہے۔ اور دوسری بات کا جواب یہ دیا کہ نبی آخر الزمان کی فرماں برداری اور مدد کے عہد کو یہ لوگ خوب جانتے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کی عادت ہے کہ اپنے عہد پر یہ لوگ قائم نہیں رہتے۔ یہ اس لئے فرمایا کہ عہد تورات میں موجود ہے جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت { اَلَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجَیْلَ } ( 7 : 157) میں ہے پھر فرمایا کہ ان کی بد عہدی کا سبب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی کتاب تورات کو تور بالکل ایسا چھوڑ دیا ہے کہ اس سے جان بوجھ کر انجان بن گئے ہیں۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں جن وانس کے میل جول سے جادو کی جو دہت لگ گئی تھی اسی کو انہوں نے اپنا دین سمجھ رکھا ہے۔ اور جادو کے رواج کو یہ لوگ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف جو منسوب کرتے ہیں یہ بات ان لوگوں کی بالکل غلط ہے۔ یہ جادو تو شیاطین اور ہاروت ماروت کے سبب سے پھیلا ہے ہاروت ماروت کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ بنی آدم کے طرح طرح کے گناہ دیکھ کر ملائکہ نے خدا تعالیٰ کے روبرو بنی آدم پر کچھ طعن کی تھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر بنی آدم کی سی خواہشیں نفسانی تم میں ہوتیں تو تمہارا بھی گناہوں سے بچنا دشوار تھا۔ ملائکہ نے جواب دیا کہ ہم تو یا اللہ تیری نافرمانی ایسی کبھی نہ کریں گے جیسی نافرمانی بنی آدم کرتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ملائکہ میں سے بڑے عابد دو فرشتے جن کا نام ہاروت ماروت تھا چھانٹے اور انسان کی سب خواہشیں ان میں پیدا کر کے کوفہ کی سر زمین پر جو جگہ بابل ہے وہاں ان کو بھیجا اور وہاں وہ ایک عورت زہر نام پارسن کی الفت میں مبتلا ہو کر اس کے کہنے سے شراب پی گئے۔ اور شراب کے نشہ میں زنا کے علاوہ شرک اور قتل نفس کا گناہ بھی ان سے سرزد ہوا۔ اور ان گناہوں کی سزا میں قیامت تک اس پر طرح طرح کا عذاب ہوتا رہے گا۔ یہی دونوں فرشتے لوگوں میں پابندی شریعت کے جانچے کو پہلے جادو کے سیکھنے سے منع کرتے ہیں۔ پھر جب کوئی شخص زیادہ اصرار کرتا ہے تو اس کو جادو سکھاتے ہیں۔ ہاروت ماروت کے اس قصہ کے صحیح ہونے کا اکثر علمائے مفسرین نے انکار کیا ہے۔ لیکن حافظ ابن حجر نے اس قصہ کی روایتیں ایک رسالہ میں جمع کی ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس قصہ کی روایت درجہ صحت تک پہنچتی ہے۔ اور اس قصہ کی حاصل ہے 1۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ یہ قصہ حضرت ادریس ( علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوا ہے اور اسی زمانہ میں ایک عورت زہرہ ایسی خوبصورت تھی جیسے تاروں میں زہر تارہ خوبصورت ہے۔ فرقہ معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ سرے سے دنیا میں جادو کا وجود ہی نہیں ہے۔ لیکن قرآن شریف میں چند جگہ جو جادو کا ذکر ہے وہ اور صحیحین میں حضرت عائشہ کی وہ حدیث جس میں لبیدبن عاصم کا آنحضرت ﷺ پر جادو کرنے کا قصہ ہے 2۔ اہل سنت کے مذہب کی تائید کے لئے کافی ہے۔ رہا جادو کا سیکھنا اس میں امام ابوحنیفہ ومالک و احمد کا یہ مذہب ہے کہ جادو کا سیکھنا کفر اور سیکھنے کے بعد جو شخص جادو کا ایک دفعہ بھی عمل کرے اس کی سزا قتل ہے۔ امام شافعی علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کے عمل سے نہیں بلکہ عادت کے طور پر چند دفعہ جادو کا عمل کرنے سے ایسا شخص واجب القتل ٹھہرتا ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جادو کا سیکھنا کبیرہ گناہ ہے 3۔ اور ترمذی کی جندب کی روایت میں آپ نے جادو گر کی حد قتل قرار دی ہے 4۔ ان حدیثوں میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے علماء نے کہا ہے کہ اگر بغیر دخل تقدیر الٰہی کے کوئی شخص جادو میں مستقل تاثیر کا اعتقاد رکھے تو کفر ہے ورنہ کبیرہ گناہ ہے۔ امام رازی نے معجزہ اور جادو کا فرق پہچاننے کی غرض سے جادو کے سیکھنے کو واجب لکھا ہے اور علماء نے اس پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو صحابہ ضرور جادو سیکھتے 5۔ آیۃ الکرسی قل اعوذ برب الفلق اور قل عوذ برب الناس میں رد سحر کا ایک خاص اثر اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے
Ayahs 2:104–105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے اہل ایمان (گفتگو کے وقت پیغمبر خدا ﷺ سے) راعنا نہ کہا کرو اُنْظُرْنا کہا کرو اور خوب سن رکھو اور کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (و برکت) نازل ہو اور خدا تو جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کیساتھ خاص کرلیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

(104 ۔ 105):۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان لوگوں کو راعنا کے لفظ کے کہنے سے منع کیا کیونکہ ظاہری معنی تو اس لفظ کے یہ ہیں کہ اے نبی اللہ کے ہماری طرف بھی متوجہ ہو جس وقت صحابہ آنحضرت ﷺ سے دوبارہ کوئی بات پوچھنی چاہتے تھے۔ اس وقت آپ کی توجہ اپنی طرف مصروف کرنے کے لیے یہ لفظ کہا کرتے تھے لیکن یہود نے اس لفظ کو جب مسلمانوں سے سنا تو خود بھی آنحضرت ﷺ سے بات چیت کرتے وقت اس لفظ کو کہنا شروع کردیا مگر یہ لوگ زبان کے دانتوں میں دبا کر عداوت کے سبب سے اس طرح اس لفظ کو بولتے تھے جس کے معنی نبی کی شان کے مخالف تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آئندہ اس لفظ کے بولنے سے روک دیا اور فرمایا کہ یہود لوگ اپنے کفر کے سبب سے ایسی باتیں کرتے ہیں جن کے سبب سے ایک دن سخت عذاب میں پکڑے جائیں گے اور اللہ نے جب تک چاہا نبوت کو بنی اسرائیل میں رکھا اور اب وہ نبوت بنی اسماعیل میں آگئی۔ ان کی اس پر عداوت کا کچھ حق نہیں ہے یہ تو اللہ کی نعمت ہے وہ جس کو چاہے دے دے۔
Ayahs 2:106–107

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

ہم جس آیت کو منسوخ کردیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں

(106 ۔ 107) ۔ یہود کا یہ اعتقاد تھا کہ تورات کے احکام قیامت تک کبھی منسوخ نہیں ہوں گے۔ اسی اعتقاد کی وجہ سے انہوں نے انجیل کا کتاب الٰہی ہونا تسلیم نہیں کیا کیونکہ اس سے ان کو تورات کے بعض احکام کا منسوخ ہوجانا تسلیم کرنا پڑتا تھا اب جبکہ قرآن شریف کی بعض آیتیں بعض آیتوں سے منسوخ ہوئیں تو یہود لوگ مسلمانوں سے طرح طرح کی حجتیں اس بارے میں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کلام الٰہی کبھی منسوخ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہے سوکرے۔ اپنے بندوں کے حالات کی مصلحت سے جو احکام اس کو مناسب معلوم ہوئے اس نے سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک وہ احکام نازل فرمائے اور پھر مصلحت وقت کے موافق ان احکام میں ترمیم کر کے تورات نازل فرمائی۔ اگر یہود کا یہ اعتقاد صحیح ہوتا کہ کلام الٰہی کبھی منسوخ نہیں ہوتا تو پچھلی شریعتوں کے احکام منسوخ ہو کر تورات کیوں کر نازل ہوتی۔ غرض یہود کا یہ اعتقاد ان کا گھڑا ہوا ایک اعتقاد ہے کسی حکم الٰہی کے موافق نہیں ہے اسی غلط اعتقاد نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ان بدنصیبوں کو انجیل پر عمل نہیں کرنے دیا اور یہی غلط اعتقاد قرآن پر عمل کرنے سے ان کو روک رہا ہے یہ کام بندوں کا نہیں ہے کہ اللہ کی ہر وقت کی مصلحت میں دخل دیویں کیونکہ بندوں کو ہر وقت کی مصلحت کا علم نہیں ہے۔ پھر نامعلوم بات میں کوئی کیا دخل دے سکتا اور اگر دخل دیا بھی تو وہ صحیح کیسے ہوسکتا ہے۔ بلکہ بےجا دخل کا یہ نتیجہ ہوتا ہے جو ان لوگوں کا ہوا کہ دو شریعتوں سے منکر ہوگئے اور طرح طرح کے عذاب میں اس انکار کے سبب سے پھنس گئے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوئی تبدیل امر دینی میں ہوجاوے تو اس کو ناسخ و منسوخ کہتے ہیں جو پہلے کا حکم دوسری جدید حکم سے بدل جاوے ان میں پہلے حکم کو منسوخ اور جدید دوسرے حکم کو ناسخ کہا جانا ہے مثلاً { اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہِ } منسوخ ہے اور { لَا یُکَلِفُّ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا } اس کا ناسخ ہے۔ اب منسوخ آیتوں میں بعض آیتیں تو ایسی ہیں کہ جن کا حکم منسوخ ہوگیا ہے اور قرآن شریف میں ان کی تلاوت باقی ہے جیسے { وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہِ } اور بعض آیتیں ایسی ہیں جن کی تلاوت باقی نہیں ہے مگر حکم باقی ہے جیسے { اذازنی الشیخ والشیخۃ فارجموھما } ناسخ و منسوخ کی یہ سب قسمیں اور ان کی مثالیں اصول تفسیر اور اصول فقہ کی کتابوں میں بالتفصیل ہیں اور بھولی ہوئی آیتیں وہی ہیں جن کی تلاوت کا حکم کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم لوگ سورة براءۃ کی برابر کی ایک سورت قرآن شریف کی سورتوں میں پڑھا کرتے تھے مگر وہ اب یاد نہیں رہی 1۔ ناسخ آیت کبھی تو محنت و مشقت کے کم ہوجانے میں منسوخ آیت سے بہتر ہوتی ہے۔ جیسے تہجد کی نماز فرض ہونے کی منسوخی اور کبھی ثواب کے بڑھ جانے میں بہتر ہوتی ہے جیسے عاشورے کے دن کے روزے کے بدلے میں رمضان کے روزے۔ اور کبھی ناسخ و منسوخ دونوں برابر کے درجہ میں ہوتے ہیں جیسے بیت المقدس کی جانب کا قبلہ منسوخ ہو کر کعبہ کی جانب قبلہ قرار پانا کہ ثواب اور مشقت میں دونوں برابر ہیں۔ اکثر علماء کا یہ مذہب ہے کہ صحیح حدیث سے قرآن شریف کی آیت منسوخ ہوسکتی ہے۔ تفصیل اس مسئلہ کی اصول فقہ کی کتابوں میں ہے۔ اگرچہ بعض علماء نے منسوخ آیتوں کی تعداد بیس 20 بتلائی ہے۔ لیکن شاہ ولی اللہ (رح) نے الفوز الکبیر میں بڑی بحث کے بعد صرف پانچ آیتیں منسوخ قرار دی ہیں جن کی تفصیل احسن الفوائد کے مقدمہ میں اور اس تفسیر کے مقدمہ میں بتلا دی گئی ہے۔
Ayah 2:108

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے ؟ اور جس شخص نے ایمان (چھوڑ کر اس) کے بدلے کفر لیا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا

یہود کے بہکانے سے بعض مسلمان آنحضرت ﷺ سے غیر ضروری باتیں پوچھتے تھے اور قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ میں جو کوئی پوچھتا تھا اس کا جواب قرآن شریف کی کسی آیت کے ذریعہ سے ضرور نازل ہوتا تھا اور غیر ضروری سوال کی صورت میں کوئی سخت حکم اگر ایسانازل ہوجاتا جس کی تعمیل میں کوئی دشوار پیش آتی یا کوئی حلال چیز مسلمانوں پر حرام ہوجاتی تو بڑی خرابی کی بات تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کثرت سے سوال سے روکا اور فرمایا کہ کیا تمہارا ارادہ یہ ہے کہ تم بھی بنی اسرائیل کی طرح اللہ کے رسول ﷺ سے ہر گھڑی غیر ضروری باتیں پوچھتے کی عادت ڈال لو۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کی ہر گھڑی کی پوچھ گچھ سے ان پر بعض احکام ایسے نازل ہوگئے کہ ان کی تعیمل میں پھر انہوں نے تسامل کیا جس کے سبب سے وہ گمراہی میں پڑگئے۔ صحیحین میں مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے غیر ضرور سوال سے منع کیا اور فرمایا کہ پچھلی امتوں کے لوگ کثرت سوال سے طرح طرح کی ہلاکت میں پڑگئے 1۔
Ayahs 2:109–110

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنادیں حالانکہ ان پر حق ظاہر ہوچکا ہے تو تم معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ خدا اپنا دوسرا حکم بھیجے بیشک خدا ہر بات پر قادر ہے

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور جو بھلائی اپنے لئے آگے بھیج رکھو گے اس کو خدا کے ہاں پالو گے کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

(109 ۔ 110) ۔ باوجود امی ہونے کے آنحضرت ﷺ یہود کو ایسی باتوں کی خبر دیتے ہیں جو ان کی وفات کے بالکل موافق ہوتی تھیں اور دنیا کے لالچ سے اگرچہ انہوں نے تورات کی ان آیتوں کو بدل ڈالا تھا جن میں نبی آخر الزمان کے اوصاف کا ذکر تھا لیکن اپنے دل میں میں وہ آنحضرت ﷺ کے نبی آخر الزمان ہونے قائل تھے۔ فقط اس حسد سے کہ نبی آخر الزمان ان کی قوم بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے۔ جہاں تک ان کا بس چلتا تھا مسلمانوں کو ان کے دین سے بچنے میں کمی نہ کرتے تھے۔ اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرما کر یہ فرمایا ہے کہ یہود کی ہر طرح کی عداوت کی باتوں پر اس وقت تک صبر اور درگذر کرو جب تک اللہ کا کوئی حکم اخیر نازل ہو اور ہر حال میں نماز زکوٰۃ اس طرح کے نیک کاموں میں لگے رہو کہ اللہ اپنے بندوں کے عملوں کو دیکھتا ہے اور ایک دن سب عملوں کی سزا جزا وہ دے گا۔ یہود کے حق میں حسب وعدہ اللہ کا حکم اخیر اپنے وقت مقررہ پر نازل ہوا جس سے مدینہ کے گردونواح کے سب یہود برباد ہوگئے کیونکہ کچھ قتل کر دئیے گئے اور کچھ مدینہ کے نواح میں سے نکال دئیے گئے۔ در گذر کی سب آیتیں ایک وقت معین تک عمل کرنے کی غرض سے نازل ہوئی تھیں۔ اس لئے صحیح مذہب یہی ہے کہ جہاد کے حکم سے کوئی درگذر کا حکم منسوخ نہیں ہے۔
Ayahs 2:111–112

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور (یہودی و عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا، یہ ان لوگوں کے خیالات باطل ہیں (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

(111 ۔ 112) ۔ باوجود طرح طرح کی نافرمانیوں میں گرفتار ہونے کے اہل کتاب کا یہ دعویٰ تھا کہ اپنے آپ کو جنتی اور سب کو دوزخی کہتے تھے۔ اور یہی دعویٰ نصرانیوں کا اپنی قوم کے حق میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے غلط دعوے کو بےسند قرار دے کر فرمایا کہ جنت میں جانے اور حشر کے دغدغہ سے بےخوف رہنے کے قابل وہی شخص ہے جس کا عمل حکم الٰہی کے موافق اور خالص لوجہ اللہ ہوگا جس کے عمل میں یہ دو شرطیں نہیں وہ جنت میں کیا جاسکتا ہے۔ جنت خدا کی ہے کسی کی میراث نہیں کہ بغیر مرضی خدا کے زبر دستی جنت میں گھس جاوے۔
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی راستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی راستے پر نہیں حالانکہ وہ کتاب (الٰہی) پڑھتے ہیں اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا

نجران ایک جگہ ہے وہاں کے کچھ نصار یٰآنحضرت ﷺ کے پاس تھے ان کے آنے کی خبر سن کر یہود کے کچھ عالم لوگ اس مجلس میں آئے اور دونوں فریق میں کچھ جھگڑا ہو کر ایک نے دوسرے کے دین کو بےبنیاد بتایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ اہل کتاب ہیں اور ایک فریق کی کتاب میں دوسرے فریق کے دین کی تصدیق موجود ہے پھر بھی عرب کے امی لوگوں کی سی باتیں یہ لوگ اس لئے کرتے ہیں کہ شیطان کے بہکانے سے حق بات کے نہ ماننے میں ان سب کے دل ایک سے ہوگئے ہیں۔ پھر فرمایا کہ حق ناحق کے فیصلہ کے لئے قیامت کا دن مقرر ہے اس دن ان سب کا فیصلہ ہوجائے گا۔
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو ؟ ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے

ہجرت کے بعد 6 ھ ؁ میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ذی قعدہ میں عمرہ کے قصہ سے مکہ کا ارادہ کیا اور مشرکین مکہ نے آپ کو مکہ کے اندر نہ جانے دیا بلکہ راستہ میں ایک مقام جس کا نام حدیبیہ ہے وہاں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی جماعت کو روک دیا جس کا قصہ سورت انا فتحنا میں آئے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ اسی قصہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور مسجد الحرام میں ذکر الٰہی سے حج والوں یا عمرہ والوں کو روکنا بھی مسجدوں کو اوجاڑنا ہے کیونکہ مسجدوں کی آبادی یہی ذکر الٰہی ہے سورة توبہ میں آئے گا۔ { اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ َوَاَقامَ الصَّلٰوۃَ } (91/9) الخ جس کا حاصل یہ ہے کہ مسجدیں ان ہی لوگوں سے آباد ہیں جو مسجدوں میں نماز پڑہتے ہیں۔ جس سے یہ معلوم ہوا کہ جو لوگ مسجدوں میں کسی کو ذکر الٰہی سے روکتے ہیں وہ گویا مسجدوں کے اجاڑنے کے درپے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ بعض مفسروں نے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اہل مکہ نے قصہ حدیبیہ کے وقت مسجد الحرام کے اجاڑنے کا کوئی کام نہیں کیا فقط آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کو مکہ کے اندر جانے سے روکا تھا سورة توبہ کی اس آیت کے مطلب سے ان مفسروں کا یہ اعتراض صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ اور ترجمہ کے اس جملہ کا کہ ایسوں کو نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کی مسجدوں میں قدم رکھ سکیں مگر ڈرتے ہوئے یہ مطلب ہے کہ اب تو ان مشرکین مکہ نے رسول اور ان کے ساتھ والوں کو عمرہ سے روکا ہے قریب وہ وقت آتا ہے۔ کہ یہ مشرک لوگ مسجد الحرام میں ڈرتے ہوئے گھسا کریں گے۔ اللہ سچا ہے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تھوڑ دنوں کے بعد مکہ فتح ہوگیا اور مسجد الحرام میں جانے اور طواف کرنے سے مشرک لوگ روک دئیے گئے۔ اور صلح والے مشرکوں میں سے کوئی شخص فتح مکہ کے بعد اگر مسجد الحرام میں جاتا بھی تھا تو اس کو یہ خوف لگا رہتا تھا کہ کسی سبب سے اس کو مسلمانوں کے ہاتھ سے کوئی ضرر نہ پہنچ جاوے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہ بشارت تھی جس کا ظہور فتح مکہ کے وقت ہوا اس سے بھی حضرت عبد اللہ بن عباس کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کی شان میں ہے۔ دنیا کی ذلت تو فتح مکہ کے وقت ان مشرکوں نے دیکھ لی کہ جن بتوں کو یہ لوگ خدا کا شریک گنتے تھے وہ توڑے جاکر مسلمانوں کے پیروں میں روندے گئے عقبیٰ کا عذاب جو مشرکوں پر ہوگا وہ بھی قیامت کے دن سب کی آنکھوں سے سامنے آجائے گا۔
Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے تو جدھر تم رخ کرو ادھر خدا کی ذات ہے بیشک خدا صاحب وسعت اور باخبر ہے

ہجرت کے بعد جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی جاتی تھی آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو مکہ کی طرف منہ کر کے نماز نہ پڑھنے کا کسی قدر رنج رہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مسلمانوں کی تسلی کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا کہ اللہ کے حکم سے جدھر نماز پڑھی جاوے ثواب میں سب برابر ہے۔ بیت المقدس ہوا تو کیا مکہ ہوا تو کیا۔ کعبہ کو قبلہ ٹھہرانے کا وقت جو علمی الٰہی میں مقرر تھا۔ جب وہ آگیا تو کعبہ کو قبلہ ٹھہرانے کا حکم جو نازل ہوا۔ وہ آگے آئے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے یوں بھی روایت ہے کہ جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم آیا۔ اور ادھر منہ کر کے آنحضرت ﷺ نے نماز پڑہنی شروع کی تو بیت المقدس کی طرف کا قبلہ قائم نہ رکھنے پر یہود طرح طرح کا اعتراض کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرق اور مغرب سارے جہاں کا مالک ہے اس کے حکم سے جدھر نماز پڑھی جاوے وہ قبول کرے گا۔ اور اجر دیوے گا۔ مسلم ترمذی وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفل نماز سفر میں سواری پر آدمی پڑھے تو یہ آیت اس باب میں نازل ہوئی کہ اس طرح کی نفلی نماز سواری کے جانور جدھر منہ ادھر ہوسکتی ہے 1 احسن الفوائد کے مقدمہ اور اسی تفسیر کے مقدمہ میں یہ امر بیان کردیا گیا ہے کہ کبھی چند سبب جمع ہو کر ان سب کے حکم کے طور پر ایک آیت نازل ہوتی ہے اور ایسی آیتوں کی شان نزول میں سلف کی چند روایتیں ہوتی ہیں۔ کسی روایت میں ایک سبب نزول کا ہوتا ہے اور کسی میں دوسرا۔ یہ آیت بھی اس قسم کی ہے۔
Ayahs 2:116–117

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے (نہیں) وہ پاک ہے بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرمانبردار ہیں

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

(116 ۔ 117) ۔ یہود حضرت عزیر کو نصاری حضرت عیسیٰ کا بیٹا اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سب کو جھٹلایا۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باپ اور اولاد میں کچھ مناسبت ضرور ہے۔ اللہ کی ذات پاک تو نرالی ہے۔ زمین آسمان عزیر۔ مسیح۔ ملائکہ سب کچھ اس کا پیدا کیا ہوا عالم ہے۔ خالق اور مخلوق میں کیا مناسب ہے جو مخلوقات میں سے کسی کو اس ذات پاک کی بی بی اور کسی کی اولاد قرار دیا جاوے اس طرح کی بات کا منہ سے نکالنا اس طرح کا ایک بہتان ہے جس سے آسمان پھٹ کر گرے تو گر سکتا ہے پہاڑ جگہ سے ہل جاویں تو ہل سکتے ہیں۔ صحیحین اور صحیح بخاری وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان نے مجھ کو جھٹلایا اور مجھ کو گالیاں دیں جھٹلایا تو یوں کہ میں نے اپنے کلام میں اس کو ایک دفعہ مار کر پھر جلانے کی خبر دیتا ہوں اور وہ اس بات بات کو جھٹلاتا ہے اور گالیاں یہ دیں کہ وہ مجھ کو صاحب اولاد قرار دیتا ہے۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بڑا برد بار ہے لوگ اس کو بیٹا بیٹی ٹھہراتے ہیں اور وہ ان کو رزق اور تندرستی دیتا ہے 1۔
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا ؟ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی انہیں کی سی باتیں کیا کرتے تھے ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں جو لوگ صاحب یقین ہیں ان کے (سمجھانے کے) لیے ہم نے نشانیاں بیان کردیں ہیں

قتاوہ کے قول کے موافق یہ آیت مشرکین مکہ کی شان میں ہے اور آیت { وَقَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَائَ نَا لَوْ لاَ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰئِکَۃِاَوْ نَرٰی رَبَّنَا } (25۔ 21) سے اس قول کی تائید بھی ہوتی ہے کیوون کہ اس مکی سورت سورة فرقان کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین مکہ کو حشر کا اقرار امید نہیں ہے یہ کہتے ہیں کہ اے محمد تمہاری نبوت کی تصدیق کوئی فرشتہ یا خود خدا ہمارے پاس آ کر کیوں نہ کہہ دیتے۔ اس صورت میں ان سے اگلوں سے مراد اہل کتاب ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ مشرکین عرب اور اہل کتاب ان سب کا بہکانے والال ابلیس علیہ اللعنہ ہے جو ایک سی باتیں ان کے دلوں میں ڈالتا ہے اس لئے یہ سب ایک سی باتیں کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان کی یہ باتیں محض جہل اور عناد کے سبب سے ہیں ورنہ تصدیق رسول میں صاحب یقین کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں نشانیاں تو کافی بیان کردی ہیں۔ مثلاً قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کی یہ نشانی ان سب کے لئے کیا کم ہے کہ قریش باوجود تقاضے کے ایسا کلام بنانے سے عاجز ہیں۔ اور اہل کتاب جن کتابوں کو کتاب الٰہی جانتے ہیں ان کی پوری تصدیق قرآن میں موجود ہے۔ اور ان نشانیوں سے قرآن جب کلام الٰہی ہے تو جس اللہ کے رسول پر یہ قرآن کی طرف سے نازل ہوتا ہے اس کے رسول برحق ہونے میں کوئی صاحب عقل شک و شبہ نہیں کرسکتا۔
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی

آنحضرت ﷺ کو کبھی کبھی اس بات کا رنج ہوتا تھا کہ باوجود کم فہمایش اور کافی دلیلوں کے اہل عرب اور اہل کتاب میں کے بہکے ہوئے لوگ راہ راست پر کیوں نہیں آتے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا یہ رنج رفع کرنے کو یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ باوجود فہمائش کے جو لوگ راہ راست پر نہیں آتے ان کے باب میں قیامت کے دن تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ راہ راست پر کیوں نہیں آئے۔ راہ راست پر لانا خدا کا کام ہے تمہارا کام صرف اتنا ہی ہے کہ راہ راست والوں کو نجات اخروی کی خوش خبری کی اور گمراہی کو خرابی عقبیٰ کی آیتیں سنانے کی کوشش کرتے رہو۔ اسکے بعد علم الٰہی میں جن لوگوں کا راہ راست پر نہ آنا اور ان سے دوزخ بھر جانا قرار پا چکا ہے وہ تو آخر ہو کر رہے گا۔