Ayah 2:195بخاری نے حضرت حذیفہ ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بتائی ہے اس کی صراحت حضرت ابوایوب انصاری ؓ کی حدیث میں ہے جس کو ابوداؤد، ترمذی، حاکم، نسائی اور ابن حبان وغیرہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے شرط شیخین پر اس کو صحیح کہا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم انصار لوگ چند لڑائیاں آنحضرت ﷺ کی ہمراہی میں لڑ چکے تو ایک دن ہم چند انصاروں نے خفیہ طور پر آپس میں مشورہ کیا کہ اب تو آنحضرت ﷺ کے ساتھ اہل اسلام بہت ہیں اگر ہم چند لڑائیوں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہ جائیں تو اس میں ایسا ہوگا کہ مدتوں گھر سے باہر رہنے میں اخراجات جو پڑے ہیں اس کی تلافی ہوجائے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا کہ اس طرح کے اخراجات سے ہاتھ کو روکنا موجب ہلاکت ہے۔ 1۔ ایسی ہلاکت میں اپنے آپ کو مت ڈالو۔ اور آئندہ نیک کام میں لگے رہو۔ اس طرح کے برے وسوسوں سے بچو صحابہ کے زمانہ میں یہ ایک بات رائج تھی کہ ایک خاص معاملہ میں ایک آیت نازل ہو کر پھر دوسرا کوئی معاملہ ایسا ہو کہ جس پر اس آیت کا مطلب صادق آتا ہو تو اس دوسرے معاملہ کو بھی آیت کی شان نزول قرار دیتے تھے چناچہ یہ آیت بھی اسی قسم کی ہے اصل شان نزول تو وہی ہے جو حضرت حذیفہ ؓ اور حضرت ابو ایوب ؓ سے بیان ہوچکی اب نعمان بن بشیر ؓ سے طبرانی کی روایت میں یا اور بعض صحابہ سے تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں شان نزول اس آیت میں یہ امر جو بیان ہوا ہے کہ انصار لوگ صدقہ دیا کرتے تھے ایک سال قحط پڑا تو وہ قحط سے ڈر کر صدقہ سے ہاتھ کو روکنے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یا ایسا شخص جو گناہ کر کے توبہ سے مایوس ہو کر بیٹھ رہے اس کے حق میں یہ آیت اتری ہے یا ایسے مجاہدین جو بلا خرچ جہاد کو چلے جائیں اور وہاں تکلیف اٹھائیں 2 ان کے حق میں یہ آیت اتری ہے مطلب اس سے یہی ہے کہ ان معاملات پر بھی اس آیت کا مضمون صادق آتا ہے۔
Ayah 2:196اس آیت سے حج کا ذکر شروع ہوا حج اسلام کا ایک بڑا رکن ہے حج کی فضیلت میں اور اس وعید کی تاکید میں کہ جس کسی کو قدرت ہو اور وقت پر حج کو نہ جاوے بہت سی حدیثیں وار ہوئی ہیں اور سورة آل عمران میں یہ آیت { وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حَجَّ الْبَیْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا } سے حج فرض ہوا ہے اور اس آیت میں تاکید ہے کہ حج اور عمرہ کو پورے ارکان کے ساتھ ادا کیا جائے ارکان جو پانچ ہیں احرام عرفات میں جا کر ٹھہرنے کے سوا اور بھی باقی کے چار رکن ہیں سیوطی نے لباب النقول فی اسبابالنزول 1 میں تفسیر ابن ابی حاتم کے حوالہ سے یہ جو کہا ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ سے عمرہ کا سوال کرنے آیا تھا۔ اس کے جواب میں یہ آیت اتری ہے یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ صحیحین میں جو عمرہ کی بات سوال کرنے والے شخص کی حدیث ہے اس میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہے 2۔ علماء مفسرین کا اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ حج کب اور کونسے سال فرض ہوا ہے بعض کہتے ہیں کہ ہجرت سے پہلے حج فرض ہوا ہے۔ مگر یہ قول بالکل شاذ ہے اور بعض ہجرت کے پانچوں اور بعض دسویں سال فرضیت حج کے قائل ہیں۔ مگر جمہور مفسرین کا یہ قول ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال حج فرض ہوا ہے۔ اور اسی سال آپ زیارت مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے سفر کرکے حدیبیہ تک تشریف لے گئے اور وہاں مشرکین مکہ نے آپ کو روکا اور صلح حدیبیہ ہوئی اور یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ جو شخص احرام کے بعد روک دیا جائے اور اس سال حج نہ کرسکتے تو مقدور کے موافق قربانی کرے اعلیٰ درجہ قربانی کا اونٹ ہے اور اوسط درجہ گائے اور ادنیٰ درجہ بکری۔ قربانی کرنے والے کا جو مقدور ہو وہی وہ کرلے اگرچہ بعض مفسرین کا یہ قول ہے کہ روکنا دشمن کا ہی اس آیت میں مراد ہے مگر صحیح حدیثوں میں یہ صراحت آچکی ہے کہ بیماری بھی آیت کے حکم میں داخل ہے۔ چناچہ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ زبیر ؓ بن عبد المطلب کی بیٹی ضباعہ ؓ کے پاس تشریف لائے ضباعہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ حضرت میرا ارادہ حج کا ہے لیکن مجھ کو ٍبیماری کا دورہ ہوا کرتا ہے آپ نے فرمایا کہ تم اس شرط سے حج کا سفر کرو کہ جہاں بیماری کا دورہ ہوگا وہیں رک جاؤں گی۔ 1۔ حج اور عمرہ کے ادا کرنے کی تین شکلیں ہیں ایک تو حج کے مہینوں میں حج کا احرام باندھ کر حج کر لیوے اور عمرہ حج کے بعد کرے یا حج سے پہلے سوا حج کے مہینوں کے اور دنوں میں عمرہ کر لیوے حج کے مہینے یہ ہیں۔ شوال۔ ذیقعدہ۔ دس راتیں ذوالحجۃ کی دسویں تاریخ ذو الحجہ کی صبح صادق کے شروع ہوتے ہی حج کا موسم پھر باقی نہیں رہتا۔ اس شکل کو افراد کہتے ہیں اور دوسری شکل یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرے۔ اور پھر احرام کھول ڈالے اور عین حج کے وقت پھر حج کا احرام باندھے اس کو ” تمتع “ کہتے ہیں اور اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اس طرح کا شخص ایک جانور کی قربانی کرے یا دس روزے رکھے اور یہ بھی ذکر ہے کہ مسافروں کی راحت کے لئے یہ تمتع جائز ہے اہل مکہ کو یہ تمتع جائز نہیں ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ حج اور عمرہ کا ملا کر احرام حج کے مہینوں میں باندھا جائے اس کو ” قِران “ کہتے ہیں سر میں جوئیں پڑجائیں یا اور کوئی دماغی مرض آیا ہو جس سے سر کے بال منڈانے ضرور ہوں تو بال احرام کی حالت میں منڈانے کا حکم بھی اس آیت میں ہے جو حکم حدیبیہ کے سفر کے وقت عب بن عجرہ ؓ صحابی کے جوئیں پڑجانے کے وقت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے جمہور کے مذہب کے موافق اگرچہ 6 ہجری میں حج فرض ہوا ہے۔ لیکن آپ نے فتح مکہ سے پہلے تو اس کراہت کی وجہ سے کہ مکہ اور صفا مروہ میں بت دھرے ہوئے تھے حج نہیں کیا۔ 8 ہجری میں فتح مکہ ہوجانے سے بت تو ٹوٹ پھوٹ گئے۔ مگر مشرک لوگ جاہلیت کی رسم کے موافق برہنہ ہو کر طواف کیا کرتے تھے اس لئے 9 ہجری میں حضرت ابوبکر ؓ اور علی ؓ کو آپ نے موسم حج کے وقت مکہ روانہ فرما کر لوگوں کو اعلان کردیا کہ 10 ہجری سے کوئی مشرک یا کوئی برہنہ شخص طواف کرنے نہ پائے گا۔ اور اسی میں آپ نے حج کیا جس کو حجۃ الوداع کہتے ہیں۔
Ayah 2:197جس طرح نماز اور روزہ کا وقت مقرر ہے اسی طرح حج کے مہینے بھی مقرر ہیں اکثر اور تابعین اور ائمہ ثلاثہ کا مذہب یہ ہے کہ حج کے مہینے شروع شوال سے ذوالحجہ کی دسویں کی صبح صادق تک ہیں یہاں تک کہ مقام عرفات میں داخل ہونے سے پہلے اگر کسی کو صبح صادق ہوجائے گی تو اس کا اس سال کا حج فوت ہوجائے گا۔ مگر امام مالک (رح) سے ایک روایت ہے کہ آخر ذوالحجہ تک حج کے مہینوں کی مدت ہے۔ مگر اس سے ان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ذوالحجہ کی دسویں کے بعد بھی حج ہوسکتا ہے بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ ناجائز ہے اور اس ناجائز ہونے کی مدت آخر ذوالحجہ تک ہے اور آنحضرت ﷺ کے چار عمرے جو ذیقعدہ میں ہوئے ہیں ان کو وہ مخصوصات نبی قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح صحیح ابن حزیمہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں سنت یہی ہے کہ حج کا احرام بغیر حج کے مہینوں کے جائز نہیں ہے۔ 1۔ اور یہ ایک اصول حدیث کی مسلم بات ہے کہ صحابی جس روایت کو طریقہ مسنونہ بیان کریں وہ روایت مرفوع حدیث کا حکم رکھتی ہے۔ لیکن بعض علماء نے برس روز تک احرام حج کو جائز رکھا ہے مگر بالاتفاق اولیٰ سب کے نزدیک یہی ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں میں ہی ہونا چاہیے۔ احرام باندہنے کے بعد مباشرت اور خلاف شریعت باتوں سے بموب حکم اس آیت کے جو شخص بچے گا اسی کا حج مقبول ہونے کا ذکر حدیث شریف میں آیا ہے 2۔ کچھ لوگ بغیر خرچ کے حج کو چلے جاتے تھے اور پھر لوگوں سے سوال کر کے ان کو تنگ کرتے تھے۔ ان کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ آئندہ ایسا کرنے سے پرہیز کرو و اور اللہ سے ڈرو “ اے عقل مندو فرمایا ” اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ سے ڈرنا عقل مندوں کا کام ہے جو خدا سے نڈر ہو کر کچھ کام کرتے ہیں ان کی عقل میں فتور ہے۔ احرام یہ ہے کہ حج یا عمرہ کے شروع کرنے کی نیت کرے اور زبان سے لَبَیْکَ کہے احرام کے بعد مباشرت ‘ سر کا ڈھانکنا، خوشبو کا ملنا، ناخن کتروانا، شکار کھیلنا، آپس کا لڑائی جھگڑا، بال منڈانے یا کترانے، مرد کو سلا ہوا کپڑا پہننا، عورت کو منہ پر کپڑا ڈالنا یہ سب باتیں منع ہیں۔
Ayahs 2:198–202(198 ۔ 202) ۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے موسم حج میں مکہ کے پاس تین بازار لگا کرتے تھے ان میں طرح طرح کی خریدو فروخت ہوتی تھی۔ اور سال بھر کی گذران اکثر لوگوں کی اس خریدو فروخت میں نکل آتی تھی اسلام کے بعد لوگوں کو تردو ہوا کہ اس تجارت کی وجہ سے ہمارے حج میں کچھ فتور نہ پڑتا ہو بلکہ اس طرح تجارت پیشہ اور اجرت پیشہ لوگوں کو دوسرے لوگ یہ کہ اٹھتے تھے کہ تم حاجی نہیں ہو بلکہ تجارت کی غرض سے مکہ آئے ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس تردد کو رفع کردیا 1۔ اس شان نزول پر اکثر صحابہ کا عمل ہے۔ چناچہ ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں روایت کی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ حضرت ہم لوگ مکہ تک اپنے اونٹ کرایہ کر کے بھیجتے ہیں اور اس ذیل میں ہم حج بھی کرلیا کرتے ہیں لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ تمہارا حج نہیں ہوتا۔ آپ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں میری روبرو ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ہو کر اس طرح کا ذکر کیا تھا اسی وقت یہ آیت اتری اور آپ نے اس قسم کی تجارت و اجرت پیشہ لوگوں کو خاص طورو پر بلا کر اس آیت کا حکم سنادیا اور فرمادیا کہ تم لوگ بلا شک حاجی ہو 2۔ یہ حدیث مسند امام احمد بن حنبل (رح) میں بھی ہے اور اس کے طریقے کئی ہیں جس سے حدیث کو صحیح کہا جاسکتا ہے اور صحیح بخاری کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے اس کی پوری تائید بھی ہوتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ احرام کے پہلے اور احرام کے بعد کسی حال میں لوگوں کو تجارت یا اجرت سے منع نہیں کیا کرتے تھے یہ جو فرمایا پھر طواف کو چلو جہاں سب لوگ چلیں۔ تفسیر اس کی یہ ہے کہ مکہ سے رات بسنے کے راستہ پر عرفان ایک جگہ ہے۔ نویں ذی الحجہ کے زوال کے بعد سے دسویں ذی الحجہ کی صبح سے پہلے وہاں جا کر ٹھہرنا حج کا ایک بڑار کن ہے۔ یہاں تک کہ حجۃ الوداع کے وقت جب آپ نے لوگوں کو مسائل بتائے تو تین تین دفعہ آپ نے فرمایا کہ بڑی چیز حج میں عرفات کا ٹھہرنا ہے قریش لوگ اسلام سے پہلے عرفات تک نہیں جاتے تھے کہ عرفات حرم کی حد سے باہر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ جہاں سے سب لوگ طواف کو چلتے ہیں تم بھی وہیں سے چلا کرو کہ حج میں عرفات کا جانا ضرور ہے یہ اس لئے فرمایا کہ باقی کے ارکان حج اور عمرہ میں مشترک ہیں۔ صرف یہ ایک رکن خاص امخاص حج میں ہی ہے عمرہ میں نہیں ہے جب یہی فوت ہوجائے گا تو خواہ مخوہ حج کا عمرہ رہ جائے گا۔ حاکم کی مستدرک میں مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے وقت عرفات میں آنحضرت ﷺ نے خطبہ پڑھا اور اسی خطبہ میں فرمایا کہ مشرکین عرفات سے غروب آفتاب کے پہلے اور مزدلفہ سے سورج نکلنے کے بعد واپس ہوا کرتے تھے اب طریقہ اسلامیہ یہ ہے کہ عرفات سے ہم غروب کے بعد اور مزدلفہ سے طلوع سے پہلے منیٰ کو واپس چلے جئایں گے حاکم نے اس حدیث کو صحیح شرط شیخین پر کہا ہے 1۔ قریش لوگ اسلام سے پہلے حج سے فارغ ہونے کے بعد اپنی باپ دادا کی مدح میں قصائد پڑھا کرتے تھے اسلام میں اللہ تعالیٰ کو اس طریقہ کا بدلنا منظور نظر ہوا۔ اس لئے اس آیت میں اس طریقہ کو بدل کر حکم فرمادیا کہ حج سے فرا غت کے بعد اس مدحیہ قصائد کے پڑھنے کا طریقہ موقوف کر کے اللہ کا ذکر کیا جائے اور اللہ سے ایسی دعا مانگنی چاہیے جس میں دین دنیا کی بھلائی ہو فقط دنیا کی بہودی پر گرویدہ نہیں ہونا چاہیے کہ فقط دنیا کی بہبودی کی گرویدگی آدمی کو آخرت سے محروم کردیتی ہے۔
Ayah 2:203حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ گنے ہوئے دن چار دن ہیں عید الضحٰی کا ایک روز اور تین روز اس کے بعد کے اور ایک جماعت صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے صحیح مسلم و مسند امام احمد وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرما کر یہ فرمایا ہے کہ یہ دن کھانے پینے اور اللہ کی یاد کرنے کے ہیں 2۔ موسم حج میں لوگ حشر کی طرح جمع ہوتے ہیں۔ اس لئے حج کے ذکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حشر کے دن کے جمع ہونے کو یاد دلایا اور ان دنوں میں اللہ کا ذکر کرنے سے مراد تکبیرات ہیں جو ان دنوں میں فرض نماز کے بعد کہی جاتی ہیں اور وہ تکبیرات بھی ہیں جو حاجی لوگ شیطانوں کے کنکریاں مارنے کے وقت ان دنوں میں کہتے ہیں اور اسلام سے پہلے بعض لوگ تو مقام منیٰ سے گیارہویں ذی الحجہ کو چلے آتے تھے اور بعض بارہویں کو اور جلدی کرنے والے دیر کرنے والوں پر اعتراض کرتے تھے اور وہ ان پر اللہ تعالیٰ نے رفع ہرج کے لئے دونوں حالتوں کو جائز فرمادیا۔
Ayahs 2:204–206(204 ۔ 206) ۔ بعض مفسروں نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص اخنس بن شریق منافق کی شان میں یہ آیت اتری ہے وہ آنحضرت ﷺ کے پاس جب آتا تھا تو اسلام کی تائید میں بڑی میٹھی باتیں کرتا تھا اور جب آپ کے پاس سے جاتا تھا تو اسلام کی بد خواہی کی باتیں کرتا تھا اور طرح طرح کے جھگڑے اور فساد کھڑے کرتا تھا اور بعضوں نے کہا کہ واقعہ رجیع کی خبر جب مدینہ میں پہونچی تو بعض منافقوں نے ظاہر میں تو مسلمانوں کی ہمدردی کے کلمات ان شہداء کی شان میں منہ سے نکالے۔ لیکن باطن میں ان شہداء اور مسلمانوں کی ہجر اور مذمت ان کو مقصود تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کی مذمت اور شہداء رجیع کے مدح میں یہ آیت نازل فرمائی واقعہ رجیع کی پوری تفصیل تو بخاری میں حاصل اس واقعہ کا اسی قدر ہے کہ جنگ احد کے بعد دس صحابہ کرام کو آنحضرت ﷺ نے جاسوسی کے طور پر قریش کی خبر لانے کے لئے روانہ فرمایا تھا اور عاصم بن ثابت صحابی کو باقی کے نو شخصوں پر سردار قرار دیا تھا۔ دن بھر یہ لوگ پہاڑوں میں چھپے رہتے تھے اور رات کو راستہ چلتے تھے مذیل قبیلہ کے دیہات میں سے ایک گاؤں رجیع ہے وہاں کے پہاڑوں میں ایک روز انہوں نے مقام کیا اور رات کو راستہ چلتے چلتے مدینہ منورہ کی سر زمین کے چھوارے جو ان کے پاس بطور زاد راہ کے تھے وہ چھوارے انہوں نے کھا کر گٹھلیاں جنگل میں پھینک دیں ایک عورت اس جنگل میں نظر آتی تھیں بنی لحیان نے یہ سن کر خیال کیا کہ مدینہ کے کچھ لوگ ضرور مخالفانہ اس سر زمین پر آئے ہوں گے اس خیال سے بنی لحیان میں سے سو آدمی کے قریب ہتھیار باندھ کر مدینہ کے لوگوں کو تلاش میں نکلے اور رجیع مقام کے پاس طرفین کا مقابلہ ہوا پہلے بنی لحیان کے لوگوں نے ان دس شخصوں سے یہ کہا تھا کہ اگر تم ہتھیار ڈال کر ہماری امان میں آجاؤ تو ہم تمہاری جان بخشی کردیتے ہیں مگر صحابہ کرام کی ہمت ایسی پست ہمتی کی باتوں کو کب گوارا کرتی تھی۔ حضرت عاصم بن ثابت ؓ نے صاف فرما دیا کہ ہم کو مشرکوں کی امان ہرگز منظور نہیں آخر لڑائی شروع ہوئی اور عاصم بن ثابت اور چھ شخصوں کے علاو یہ سات صحابی تو شہید ہوئے اور تین شخصوں کو مشرکوں نے قید کرلیا عاصم بن ثابت ؓ نے جنگ بدر میں مشرکوں کے بڑے نامی سرداروں کو قتل کیا تھا اس جلن سے مشرکوں نے چاہا تھا کہ حضرت عاصم ؓ کی لاش بہم پہنچا کر کچھ بےادبی کریں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیاں لاش کے گرد گرد بھیج دیں ان مکھیوں نے لاش کی حفاظت کی اور مشرکین لاش تک نہ پہنچ سکے گرفتار شدہ تین شخصوں کو بھی مکہ میں لے جا کر آخر کو مشرکوں نے شہید کر ڈالا۔ جس میں ایک خبیب ؓ بھی تھے جن کے شہید ہونے کا بڑا درد ناک واقعہ بخاری اور شرح بخاری میں بالتفصیل مذکور ہے۔ 1۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آیت ان دونوں سببوں میں سے خواہ کسی سبب سے یا دونوں سببوں کے مل کر ایک سبب ہوجانے سے نازل ہوئی۔ لیکن آیت کا مضمون عام منافقوں کی شان میں ہے 2۔ اور آیت کے معنی میں مسلمانوں کو منافقوں کی عادتوں سے پرہیز کرنے اور شہدا رجیع جیسی ہمت اختیار کرنے ہدایت ہے۔
Ayah 2:207ابو یحییٰ صہیب ؓ ایک صحابی تھے آنحضرت کی ہجرت فرمانے کے بعد انہوں نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا اور مکہ سے باہر نکل مشرکوں نے خبر پاکر ان کے روکنے کا قصد کیا اور راستے میں آکر ان کو روکا انہوں نے روکنے والوں کو مخاطب ٹھہرا کر کہا تمہیں معلوم ہے کہ مکہ کے لوگوں میں میں نامی تیر انداز ہوں میں تمہارے قابو کا نہیں ہوں بہتر ہے کہ تم میرا پیچھا نہ کرو اور جو کچھ میرا مال ہے وہ میں نے تم کو دیا۔ جاؤ وہ مال لے لو مشرکین مال لے کر مکہ کو چلے آئے اور حضرت عمر ؓ اور چند صحابہ نے اس آیت کو یاد کر کے سرحد مدینہ پر ہی حضرت صہیب ؓ کو جا ملے اور ان سے کہا وہ خوب نفع کی تجارت کی انہوں نے کہا اللہ تمہیں دین دنیا کا نفع دے بتاؤ تو سہی کیا بات ہے مجھ کو کون سے تجارت میں نفع ہوا جب حضرت عمر ؓ اور اور اصحاب نے ان کو اس آیت کے نازل ہونے کا حال تفصیل وار بتایا بعض مفسرین کا قول ہے کہ شہداء رجیع بلکہ عام مجاہدین کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
Ayahs 2:208–209(208 ۔ 209) ۔ بعض اہل کتاب جو اسلا لے آئے تھے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے ایک دن عرض کیا کہ اگر آپ اجازت دے دیں تو ہمارا جی چاہتا ہے کہ جس طرح ہفتہ کے دن کی تعظیم ہم لوگ یہود ہو کر ادا کیا کرتے تھے ایک رات ہم پھر وہ رسم ادا کرلیں اور رات تورات کی چند آیتوں کے موافق عمل کرنے کا ہمارے دین میں حکم تھا وہ بھی بجا لائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ناسخ حکم کے معلوم ہوجانے کے بعد منسوخ حکم پر عمل کرنے کا خیال دل میں لانا شیطان کی پیروی ہے اللہ کے حکم کی پیروی نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ سِلْمُ کے معنی اس آیت میں اسلام کے ہیں۔
Ayah 2:210اس قسم کی آیات اور احادیث میں دو مذہب ہیں ایک مذہب تو زمانہ سلف کے متقدمین کا ہے کہ اس طرح کی آیا اور احادیث میں وہ کسی طرح کی تاویل نہیں کرتے بلکہ ان کو ظاہر معنوں میں چھوڑ کر ان کی تلاوت کرتے ہیں۔ اور ان کی پوری کیفیت اور حالت کو اللہ کے علم پر سونپ دیتے ہیں اور ایک مذہب متاخرین کا ہے جن میں اکثر متاخرین کے فرقہ کے لوگ ہیں اب جن علماء مفسرین نے اپنی تفسیروں کا مدار سلف کے مذہب پر رکھا ہے انہوں نے اس قسم کی آیات کے تحت میں اس مضمون کی حدیثیں بھی نقل کیں ہیں اور بلا کیفیت کے ظاہر معنی پر آیت کو زیادہ واضح کردیا ہے۔ 1۔
Ayah 2:211اوپر یہ تو گذر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش اور نبوت سے پہلے یہود لوگ آپ کو اچھی طرح آپ کے اوصاف سے جانتے تھے اور لڑائیوں میں آپ کے نام سے فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے اب جب آپ کے تشریف لانے کے بعد وہ آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب ٹھہرا کر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ آپ قائل کرنے کے طور پر ان سے ذرا پوچھئے تو سہی کہ سلف سے لے کر اللہ تعالیٰ نے ان کو کیا کچھ اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلائیں جن میں کی ہر ایک نشانی خود ایک نعمت ہے یا کسی بڑی نعت کا سبب ہے مثلاً من وسلویٰ کا آسمان سے اترنا نشان قدرت الٰہی بھی ہے ور خود نعمت بھی ہے اور ہلاکت فرعون ایسی نشانی ہے جو ان کو نعمت اور بادشاہت ملنے کا سبب ہے اور ان نعمتوں کا پوچھنا ان سے اس غرض سے ہے کہ ان کی پچھلی نعمتوں کے یاد کرنے سے بھی ان کو یہ بھی یاد آجائے کہ نبی آخرالزمان پیدا ہونا بھی ایک ایسی نعمت ہے جس کی پہلے ان کو خود آرزو تھی اور اس نعمت کے طفیل سے اپنے دشمنوں پر فتح کی دعائیں مانگتے تھے اگر اس یاد دہی کا بھی ان پر کچھ اثر نہ ہوگا۔ اور اللہ کی اس نعمت کی قدر نہ کریں گے تو یہ یاد رکھیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔
Ayah 2:212حضرت بلال ؓ اور عمار بن یاسر ؓ اور اس طرح کے غریب صحابہ پر کفار ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ یہی کنگال لوگ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں جن کے بھروسہ پر وہ بڑے بڑے شہر فتح کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور کافروں کو تنبیہ فرما دی کہ تمہارا سارا دارومدار دنیا کی چند روزہ خوش حال پر ہے اور آخرت کے تم منکر ہو لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہے وہ جن کو چاہتا ہے دنیا کی چند روزہ خوش حالی دے دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے دنیا میں تو اس کو تنگ حال رکھتا ہے مگر عقبیٰ میں اس نے اپنی تنگ حال متقی بندوں کے لئے بڑے بڑے عالی درجہ کے عیش رکھتے ہیں۔ اس لئے اب تو تمہیں ان غریب مسلمانوں کا حال دیکھ کر ہنسی آتی ہے۔ جس وقت وہ آخرت جس کے تم منکر ہو بالکل آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور وہ عالی درجے جو اللہ تعالیٰ بےحساب بخشش کرنے والے نے ان غریب مسلمانوں کے لئے عقبیٰ میں رکھے ہیں ان کو تم دیکھو گے اور اپنے آپ کو ساتویں زمین کے نیچے دوزخ میں پڑے ہوئے پاؤ گے تو اس وقت تمہیں اس ہنسی کی قدر کھل جائے گی۔
Ayah 2:213حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حضرت نوح ( علیہ السلام) کے مابین کے زمانے تک دس قرن گذرے ہیں ان دس قرنوں میں سب لوگ موحد تھے بت پرستی سر زمین پر کہیں نہیں تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) سے پہلے اس قوم کے چند نیک آدمی مرگئے جو لوگ ان وفات یافتہ لوگوں کے معتقد تھے ان کو ان نیک لوگوں کی وفات کا ان کی صورتیں آنکھوں کے سامنے اٹھ جانے کا بڑا صدمہ ہوا شیطان نے موقع پاکر ان لوگوں کے جی میں یہ وسوسہ ڈالا کہ اگر ان مرے ہوئے بزرگ لوگوں کی صورت کے موافق پیتل اور تانبے کی صورتیں بنا کر جہاں عبادت خانوں میں وہ نیک لوگ بیٹھا کرتے تھے وہاں مورتیں رکھ لی جائیں اور ان مورتوں کے وہی نام رکھے جائیں جو ان اصل نیک شخصوں کے تھے تو تم لوگوں کا جی بھی عبادت میں ویسا ہی لگے گا جس طرح ان نیک لوگوں کی زندگی میں لگتا تھا اور ان کی صورتیں آنکھوں کے سامنے رہنے سے ان کی وفات کا غم بھی کچھ بھولا رہے گا ان لوگوں نے اس وسوسہ کے موافق وہ مورتیں بنائیں اور رفتہ رفتہ آخر کو ان مورتوں کی پوجا ہونے لگی جو پوجا آج تک بت پرست لوگوں میں قائم ہے۔ اور اس خرابی کی اصلاح کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت ﷺ تک کے انبیاء آئے ہیں اور جس قدر اللہ تعالیٰ کو منظور تھا اس قدر بت پرستی دنیا سے اٹھ بھی گئی۔ مثلاً ایک زمانہ تھا کہ مکہ جو خود اللہ تعالیٰ کا گھر کہلاتا ہے وہاں تین سو سے زیادہ بت رکھے ہوئے تھے اور بت پر ستتوں کے زور کے سبب سے ہر مسلمان کو مکہ سے ہجرت فرض تھی۔ اب اللہ تعالیٰ نے وہ زائل کردیا کہ اور شہروں سے ہجرت کر کے مکہ کو جانا موجب اجر ہے اور مکہ تو کیا جزیرہ عرب میں بھی بت پرستی کا نام نہیں رہا۔ اس آیت میں اتنی بات مخذوف ہے کہ جب سے لوگوں نے توحید چھوڑ کر بت پرستی اور آپس کا اختلاف شروع کیا اس وقت سے اللہ تعالیٰ نے صاحب شریعت انبیاء کو بھیجنا شروع کیا چناچہ سورة یونس کی آیت { وما کان الناس الا امۃ واحدۃ فاختلفوا } (10: 19) میں اللہ تعالیٰ نے اس محذوف کو ظاہر فرمایا ہے اس لئے حاکم نے اپنی مستدرک میں اسی مضمون کی حدیث کی روایت کی ہے اور اس کو صحیح کہا ہے 1۔ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کی قرأت بھی یہ ہے 2۔ کان الناس امۃ واحدۃ فاختلفوا فبعث اللہ النبییین الایۃ کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں جن میں تین سو تیرہ رسول ہیں۔ پانچ رسول حضرت نوح ( علیہ السلام) ، ابراہیم ( علیہ السلام) ، موسیٰ ، عیسیٰ ( علیہ السلام) ، محمد رسول اللہ ﷺ اولوا العزم کہلاتے ہیں 4۔ اور صحائف کو ملا کر ایک سو چار کتابیں آسمان سے اتری ہیں۔
Ayah 2:214علماء مفسرین نے کہا ہے کہ جن احزاب کے دنوں میں جس کو جنگ خندق بھی کہتے ہیں۔ تین دن کے فاقوں کی تکلیف مہینہ بھر تک دشمنوں کی محاصرہ کی تکلیف سخت جاڑہ اور مہاوٹ کے موسم میں مہینہ بھر تک جنگل میں بلا سایہ پڑے رہنے کی تکلیف اس قسم کی تکلیفات سے جب مسلمان بہت ہراساں ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ تم پر انوکھی یہ مصیبتیں نہیں آئی ہیں بلکہ تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ بھی اس قسم کی مصیبتیں جھیل چکے ہیں اور جنت کا عیش اٹھانے کے لئے کچھ مصیبت کا جھیلنا ضرور ہے تاکہ مصیبت کے بعد نعمت کی قدر ہو خندق کی لڑائی اس لڑائی کو اس لئے کہتے ہیں کہ لشکر اسلام کے گردا گرد اس لڑائی میں خندق کھودی گئی تھی اور جنگ احزاب اس لئے کہتے ہیں کہ چند گروہ مشرکوں کے چڑھ کر مدینہ میں اس لڑائی میں آئے تھے اس لڑائی کے قصے کا حاصل یہ ہے کہ بنی نضیر یہود کا ایک قبیلہ تھا جن کو آنحضرت ﷺ نے بوجہ ان کی عہد شکنی کے جلا وطن کردیا تھا جس جلا وطنی کا ذکر سورة حشر میں آئے گا۔ اس قبیلہ کے لوگوں نے قریش اور مختلف قبائل سے اپنی عاجزی ظاہر کر کے مدد اور مدینے کی چڑہائی کی خواہش کی اور ان سب قبائل نے بنی نضیر کی خواہش کو مان لیا اور 5 ہجری میں سب قبائل نے جمع ہو کر دس ہزار آدمیوں کی بھیڑ سے مدینہ پر چڑھائی کی۔ مسلمان چھ سات سو کے قریب تھے۔ آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کے آنے کی خبر سن کر مدینہ منورہ کے باہر پڑاؤ کیا۔ اور حضرت سلمان فارسی کے مشورہ اس پڑاؤ کے گرد خندق کھو دی۔ دس دس گز زمین لشکر اسلام کے ہر شخص کے حصے میں آپ نے بانٹ دی تھی۔ ہر شخص اس کو کھودتا تھا۔ اس خندق کے کھونے میں آنحضرت ﷺ سے دو معجزے بھی ظاہر ہوئے۔ ایک تو یہ کہ صحابہ کے خندق کھودنے میں ایک جگہ ایسی سخت زمین نکل آئی کہ پھاؤڑا وہاں بالکل کام نہیں دیتا تھا۔ ان صحابہ نے آ کر یہ ماجرا آپ کے روبرو بیان کیا آپ نے وہاں جا کر پھاؤڑا خود لیا اور پہلے حملے میں تیسرا حصہ اس کھنگر کا کاٹ ڈالا۔ اس کھنگر کے کٹتے وقت اس کے نیچے سے ایک جھلک دھوپ جیسی نکلی اس وقت آپ نے تکبیر زور سے کہی صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر آپ نے فرمایا اللہ اکبر شام کے ملک کے مکانات مجھ کو یہاں سے نظر آرہے ہیں اور اس ملک کی کنجیاں مجھ کو دے دی گئیں ہیں۔ دوسری دفعہ اسی طرح آپ نے کھنگر کا ٹکڑا پھاؤڑا سے توڑا اور ملک فارس کا اور تیسری دفعہ ملک یمن کا ذکر کیا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ حضرت جابر ؓ کو دریافت سے معلوم ہوا کہ آپ کو تین روز کا فاقہ ہے اس حال کی تاب نہ لا کر حضرت جابر ؓ اپنے گھر گئے اور ایک بکری جو ان کے گھر میں تھی اس کو ذبح کیا اور تھوڑے سے جو تھے ان کا آٹا بھی اپنی بیوی کو پیسنے کو کہا اور خود پھر لشکر میں گئے اور خفیہ طور پر آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا کہ حضرت کچھ کھانا میں نے تیار کرایا ہے آپ نے یہ سن کر آٹھ سو کے قریب لشکر کے سب آدمیوں کو اذن عام حضرت جابر کے گھر پر کھانا کھانے کا دے دیا اور حضرت جابر ؓ سے فرمایا کہ جاؤ آٹا ویسا ہی گوندھا ہوا اور ہندیہ گوشت کی چولہ پر میرے وہاں آنے تک رہنے دینا۔ میں آتا ہوں۔ اس کے بعد حضرت جابر کہتے ہیں کہ آپ سب صحابہ ؓ کرام کو لائے اور سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور روٹی سالن بھر بچ رہا۔ 1۔
Ayah 2:215ابن جریر 1۔ نے اپنی تفسیر میں ابن جریج سے روایت کی ہے کہ بعض صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے نفل صدقہ کے خرچ کا محل اور موقع دریافت کیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس صورت میں جب کہ نزول اس آیت کا خود نفلی صدقہ کے حکم میں ہے تو زکوٰۃ کی آیت سے اس آیت کو منسوخ ٹھہرانے کی ضرورت نہیں زکوٰۃ کا حکم اور زکوٰۃ کے خرچ کا محل موقع جدا ہے اور اس آیت میں نفلی صدقہ کا حکم اور اس کے خرچ کے محل کا موقع بیان ہوا ہے جو زکوٰۃ سے بالکل جدا ہے خرچ کے محل و موقعوں میں سے ایک موقع جہاد کا بھی ہے کس لئے کہ جہاد میں ہتھیار سواری وغیرہ ضروریات کے لئے خرچ درکار ہوتا ہے اس لئے اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا بھی ذکر فرمادیا۔ ہے جمہور علماء کے نزدیک جہاد فرض کفایہ ہے۔
Ayah 2:216جہاد کے حکم کی تعمیل میں جا نے جانے کے خوف کو زخمی ہوجانے کے اندیشہ کو گھر اہل و عیال چھوٹنے کی تکلیف کو خیال کر کے بعض لوگ جہاد کے حکم کی تعمیل سے گھبراتے تھے ایسی لوگوں کی ہمت بڑھانے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ تم لوگوں کو علم غیب نہیں ہے اس لئے دنیا کی اکثر چیزوں کی ظاہری حالت دیکھ کر تم ان کو اچھا نہیں جانتے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ان کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ جہاد بھی اسی طرح کی چیز ہے کہ اس کا انجام اچھا ہے۔ چناچہ جہاد کے حکم کی تعمیل میں مسلمانوں کو یا درجہ شہادت عقبیٰ میں ملا دیا دنیا میں بادشاہت ہاتھ آئی۔
Ayahs 2:217–218(217 ۔ 218) ۔ اس آیت کی شان نزول قصہ طلب ہے اس قصہ کا یہ ہے کہ جنگ بدر سے دو مہینے پہلے آنحضرت کو معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ کے کچھ لوگ کسی قدر کھانے پینے کا سامان بطن نخلہ کے راستہ سے مکہ کو لا رہے ہیں۔ بطن نخلہ طائف اور مکہ کے بیچ میں ایک مقام ہے آپ نے یہ خبر سن کر حضرت عبد اللہ بن حجش ؓ صحابی کو اور جو آپ کے چچا زاد بھائی ہیں ایک خط دے کر چند صحابہ کے ہمراہ روانہ کیا اور کچھ یہ نہیں فرمایا کہ ان کو اور ان کے ساتھیوں کو کہاں اور کس ضرورت سے بھیجا جاتا ہے۔ بلکہ عبد اللہ بن حجش ؓ سے یہ فرما دیا کہ بسم اللہ کر کے مدینہ سے سفر کرو دو منزلیں جب تک طے نہ ہوں اس وقت تک یہ خط جو تم کو دیا گیا اس کو ہرگز کھول کر نہ دیکھنا دو روز کے بعد اس خط کو کھول کر پڑھنا اور جو کچھ اس میں لکھا ہو اس کے موافق عمل کرنا اور اپنے ساتھ کے لوگوں کو بھی یہ خط سنا دینا۔ مگر ان میں سے کسی کو اس خط کی تعمیل پر مجبور مت کرنا دو روز کے بعد عبد اللہ بن حجش ؓ نے جب وہ خط کھول کر پڑھا تو اس میں بسم اللہ کے بعد یہ لکھا تھا کہ عبد اللہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بطن نخلہ پر پہنچ کر قریش کے مقابلہ کا انتظار کریں اللہ چاہے تو اس قافلہ میں سے کچھ مال ہاتھ لگے گا اس خط کو پڑھ کر عبد اللہ بن حجش ؓ نے ساتھیوں سے اس خط کا مضمون بیان کیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اس خط کے موافق میں تم میں سے کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ خواہ مخواہ تم بھی بطن نخلہ تک چلو۔ لیکن میں ضرور وہاں جاؤں گا۔ تم میں سے جس کا جی چاہے مدینہ کو واپس چلے جاؤ۔ عبد اللہ بن حجش ؓ کے سب ساتھیوں نے مدینے کی واپسی سے انکار کیا اور بطن نخلہ عبداللہ ؓ کے ساتھ جانے پر مستعد ہوگئے مگر جس روز عبد اللہ ؓ بطن نخلہ میں داخل ہوتے ان کے ساتھیوں میں سے دو شخص ایک سعد بن ابی وقاص ؓ اور دوسرے عتبہ بن غزوان ؓ عبد اللہ ؓ کے ساتھ بطن نخلہ اس سبب سے نہ پہنچ سکے کو ان دونوں صاحبوں کے اونٹ جنگل میں کہیں جاتے رہے تھے یہ دونوں صحابی اپنے اونٹوں کی تلاش میں عبد اللہ ؓ سے چھوٹ گئے عبد اللہ ؓ کے بطن نخلہ پہونچنے کے بعد قریش کا قافلہ بارا وہ مکہ کے بطن نخلہ پر آیا اور مسلمانوں نے اس قافلہ پر جس کے ساتھ چار آدمی تھے حملہ کیا اور مشرکین میں ایک شخص عمر و بن حضرمی مارا گیا۔ اور ایک فرار ہوگیا اور دو شخص گرفتار ہوگئے۔ عبد اللہ ؓ ان دونوں قیدیوں اور مال کے اونٹوں کو لے کر مدینہ آئے مگر جس رات عبد اللہ ؓ نے قافلہ پر دھاوا کیا اسی رات رجب کا چاند ہوگیا تھا۔ اس لئے مشرکین مکہ نے بڑا غل مچایا کہ محمد ﷺ نے حرمت والے مہینے میں لڑائی اور لٹو جائز کرلی اور مسلمانوں کو خدشہ پیدا ہوا کہ باوجود اتنے سفر اور اتنی محنت کی لڑائی کے رجب میں آن پڑنے سے واللہ اعلم 1۔ خدا کے نزدیک اس لڑائی کا کچھ اجر ملے گا یا نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کے پہلے ٹکڑے میں تو مشرکین کا یہ جواب دیا ہے کہ تم خود حرمت والے مہینے میں کیا کیا بدذاتیاں کرچکے ہو ذرا یاد تو کرو پھر بھلا تمہار حال کیا منہ ہے کہ تم مسلمانوں کو حرمت رجب توڑنے کا طعنہ دیتے ہو اور دوسرے ٹکڑے میں مسلمانوں کو یہ تسکین دی ہے کہ جب تم نے جمادی الثانی کا مہینہ خیال کر کے رجب میں بھول سے بامید اجر جہاد کیا ہے تو تم کو اپنے بھول کی معافی اور اپنے جہاد کی توقع اللہ سے ضرور رکھنی چاہیے اس آیت کے نزول تک آنحضرت نے بھی قیدیوں کو لشکر اسلام کے حوالہ میں لینے اور مال غنیمت کی تقسیم میں تامل فرمایا تھا آیت کے اترنے کے بعد مال تو آپ نے تقسیم کردیا اور دونوں قیدیوں کو فدیہ دے کر چھوڑنے کی خواہش مشرکین نے پیش کی پہلے تو آپ نے فرمایا کہ سعد ؓ اور عتبہ ؓ دو آدمی صحیح وسالم جب آجائیں گے اس وقت ہم تمہارے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑیں گے اور اگر ہم نے سنا کہ تم نے موقع پا کر ہمارے دونوں آدمیوں کو شہید کر ڈالا تو ہم تمہارے ان دونوں قیدیوں کو مار ڈالیں گے۔ لیکن بعد میں جب سعد بن ابی وقاص ؓ اور عتبہ بن غزوان ؓ اپنے اونٹوں کو لے کر مدینہ میں داخل ہوگئے تو دونوں قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا 2۔ رجب ‘ ذیقعدہ ‘ ذی الحجہ، محرم ان مہینوں میں دفع شر کے طور پر لڑنا جائز ہے خود لڑائی کی ابتد اپنی طرف سے جائز نہیں ہے بعض مفسروں کا یہ قول ہے کہ ان چار مہینہ کی لڑائی پہلے منع تھی پھر آیت قاتلوا المشرکین کافۃ اور اس قسم کی اور آیتوں سے یہ ممانعت منسوخ ہوگئے۔ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ عالم حکم سے فاذا انسلخ الاشھرا الحرام خاص حکم منسوخ نہیں ہوسکتا۔ چناچہ زیادہ تفصیل اس کی سورة توبہ میں آئے گی۔
Ayahs 2:219–220(219 ۔ 220) ۔ اس آیت میں تین سوال ہیں جو لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کا جواب ایک ہی جگہ اس آیت میں نازل فرمایا ہے پہلا سوال شراب کے متعلق تھا اور شراب کی چار حالتیں زمانہ اسلام میں رہی ہیں پہلی حالت تو یہ ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں تھے اور اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے مدینہ میں تشریف رکھتے تھے تو شراب حلال تھی چناچہ سورة نحل میں جہاں دودھ اور شہد کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بطور اپنی نعمتوں کی یاد دہی کے فرمایا ہے وہاں شراب کا بھی ذکر فرمایا ہے اس لئے جنگ احد میں چند صحابہ ایسے شہید ہوئے جو شراب کے نشہ میں مخمور تھے جن کا ذکر سورة مائدہ میں آئے گا۔ اور جس زمانہ میں شراب حلال تھی تو شراب پی کر حالت نشہ میں اکثر لوگوں میں جھگڑے اور فساد رہتے تھے یہاں تک کہ کبھی کبھی نوبت مار پیٹ کی بھی آجاتی تھی اس حالت کو دیکھ کر حضرت عمر ؓ اور معاذ بن جبل ؓ اور چند انصار نے آنحضرت کے پاس آکر عرض کیا کہ حضرت شراب اور جوئے کی بات کوئی خاص فتویٰ درکار ہے ان دونوں چیزوں کے جاری رہنا ہے میں سوا نقصان ہوش و حواس اور نقصان مال کے کوئی فائدہ متصور نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ شراب اور جوے فائدہ تھوڑا ہے اور خرابیاں بہت ہیں علماء مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت گویا شراب کے حرام ہونے کی تمہید ہے اس حکم پر بعض لوگوں نے تو شراب چھوڑ دی اور بعض پیتے رہے یہ گویا شراب کی دوسری حالت ہے اس دوسری حالت میں یہ ہوا کہ بعض صحابہ نے نشہ کی حالت میں قرآن شریف نماز میں غلط پڑھ دیا جس پر سورة نساء کی وہ آیت نازل ہوئی جس کا حاصل یہ ہے کہ اپنے منہ کی کہی ہوئی بات کے سمجھنے کی ہوش و حواس جب تک نہ ہوں تو نماز کا قصد کوئی شخص نہ کرے یہ شراب کی تیسری حالت ہے اس کا ذکر تفصیل سے سورة نساء میں آئے گا اس آیت کے نزول کے بعد نماز کے اوقات ٹال کر لوگ شراب پیا کرتے تھے ایک روز عتبان بن مالک ؓ کے گھر ولیمہ کی دعوت تھی وہاں دعوت میں لوگوں نے خوب شراب پی اور ایک انصاری نے شراب کے نشہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا سرپھوڑ ڈالا حضرت عمر ؓ نے پھر اللہ سے دعا مانگی کہ یا اللہ شراب کی بابت کوئی صاف حکم نازل فرما اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة مائدہ کی آیت شراب اور جوئے کی حرمت میں نازل فرمائی 1۔ اور مشرکین اپنی عبادت کے لئے بتوں کی بھینٹ میں جو جانور ذبح کیا کرتے تھے اس آیت میں ان جانوروں کے گوشت اور شراب کو ایک ساتھ ذکر فرما کر آئندہ کے لئے شراب کو قطعی حرام فرما دیا اور یہ شراب کی چوتھی حالت ہے جس کی پوری تفصیل سورة مائدہ میں آئے گی۔ دوسرا سوال یہ کہ آدمی کی ذات اور اہل و عیال کے خرچ سے جو بچے اس کو آدمی نفلی صدقہ میں خرچ کرسکتا ہے چناچہ صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو فتویٰ دیا کہ تیرے پاس جو کچھ ہو پہلے اپنی ذاتی ضرورت میں اس کو خرچ کر اور جب اس سے بچے تو اپنے اہل و عیال میں خرچ کر اور جب اس سے بچے تو نفلی صدقہ دے 2۔ تیسرے سوال کی صراحت یہ ہے کہ جب سورة نساء میں یتیموں کے مال کی نسبت یہ سخت حکم اترا کہ جو لوگ یتیموں کا مال زبردستی اور بےجا طور پر کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں انگارے بھر رہے ہیں۔ تو اس پر جن لوگوں کی پرورش میں کچھ یتیم تھے ان لوگوں نے ڈر کر یتیموں کا مال کھانا بھی اپنے کھانے سے جدا کردیا اور آنحضرت سے یتیموں کی بابت مسئلہ پوچھا کہ ہم کس طرح کا برتاؤ یتیموں کے ساتھ آخر کھانے پینے میں رکھیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرما دیا کہ یہ لوگ چاہے اپنا اور یتیموں کا کھانا ملا کر ایک جا پکائیں چاہیے اصل حکم اتنا ہی ہے کہ نیت خیر رکھیں اور یتیموں کا مال بےجا صرف نہ کریں۔
Ayah 2:221فتح مکہ سے پہلے آنحضرت ﷺ نے ایک صحابی کو چن لیا جن کی کنیت اب مرتد ؓ ہے مکہ کو اس غرض سے بھیجا تھا کہ مکہ میں جو لوگ مسلمان ہیں ان کو مخفی طور پر مدینہ میں لے آئیں جب ابو مرتد ؓ مکہ کو پہنچے تو ایک عورت مشرکہ نے جس کا نام عناق تھا ابو مرتد ؓ سے نکاح کی خواہش کی ابو مرتد ؓ نے کہا کہ میں آنحضرت ﷺ سے پوچھ لوں تو پھر اس کا جواب دوں گا جب ابو مرتد ؓ مدینہ میں واپس آئے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے عناق کی خواہش کا ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ مسلمان مرد کو مشرک عورت سے اس وقت تک نکاح نہیں کرنا چاہیے جب تک وہ عورت مسلمان نہ ہوجائے اور مشرک عورت سے مراد اس آیت میں بت پرست یا آتش پرست عورتیں ہیں اہل کتاب عورتیں نہیں ہیں اس لئے کہ اہل کتاب عورتوں سے مسلمان مرد کو نکاح کرنا جائز ہے چناچہ اس کا ذکر سورة مائدہ میں آئے گا۔ حضرت عمر ؓ کی یہ حکایت جو مشہور ہے کہ آپ کو جب خبر ہوتی تھی کہ کسی مسلمان مرد اہل کتاب عورت سے شادی کرلی ہے تو فورًا ان دونوں میں تفریق کر اد یتے تھے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت عمر ؓ اہل کتاب عورتوں کا نکاح حرام جانتے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کو یہ خیال تھ کہ اہل کتاب عورتوں کے نکاح کے مسلمانوں میں زیادہ رواج پا جانے سے مسلمان عورت سے کسی مسلمان کا نکاح پسند نہیں فرماتے تھے چناچہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں شقیق ابن سلمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ صحابی نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کرلیا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے ان سے ناراضی ظاہر کی اور اس عورت کے چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ حضرت حذیفہ ؓ نے حضرت عمر ؓ سے پوچھا کہ کیا آپ اہل کتاب عورتوں سے نکاح حرام جانتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا نہیں حرام تو نہیں جانتا مگر یہ خیال گذرتا ہے کہ رفتہ رفتہ کہیں مسلمان عورتوں کی ناقدری نہ ہوجائے 1۔ اور بعض مفسروں نے حضرت عمر ؓ کے اس عمل در آمد کی تائید میں یہ جو کہا ہے کہ سورة مائدہ کی آیت اس آیت سے منسوخ ہے یہ قول ضعیف ہے کیونکہ سورة بقرہ پہلے نازل ہوئی اور سورة مائدہ بعد۔ عبد اللہ بن ررواحہ ؓ ایک صحابی تھے ان کے گھر میں ایک حبشی لونڈی تھی ایک روز انہوں نے غصہ میں اس لونڈی کے ایک طمانچہ مار دیا پھر آنحضرت ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا آپ نے فرمایا وہ لونڈی کیسی ہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ نے جواب دیا کلمہ پڑھتی ہے نماز روزہ سے بھی واقف ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو وہ مسلمان ہے عبد اللہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے قسم کھا کر وعدہ کیا کہ میں اس لونڈی کو آزاد کرتا ہوں اور اس سے نکاح بھی کرلوں گا۔ چناچہ پھر انہوں نے اپنے وعدے کے موافق اس سے نکاح بھی کرلیا عبد اللہ ؓ کے چند دوستوں نے ان کو اولادہنا اور ایک مشرک آزاد عورت کا حوالہ دے کر کہا کہ لونڈی کی بہ نسبت تو وہ اچھی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا یہ دوسرا ٹکڑا نازل فرمایا کہ مسلمان لونڈی آزاد سے بہتر ہے۔ 2۔
Ayah 2:222مسلم 3۔ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ یہود میں یہ دستور تھا کہ جب عورت کی حیض کی حالت ہوتی تو اس کے ساتھ کھنا پینا ایک گھر میں رہنا سب کچھ چھوڑ دیتے صحابہ نے یہود کا یہ حال دیکھ کر آنحضرت ﷺ سے اس باب میں مسئلہ پوچھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ سوائے صحبت کے اور سب طرح کا اختلاط حائضہ عورت سے جائز ہے چناچہ حضرت عائشہ ؓ سے کسی نے مسئلہ پوچھا کہ حائضہ عورت سے کہاں تک اختلاط جائز ہے آپ نے فرمایا کہ سوائے مباشرت کے اور سب کچھ جائز ہے 4۔ ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنی عورت سے حیض کی حالت میں صحبت کی یا اغلام کیا یا نجومی سے کوئی غیب کی بات پوچھی تو اس نے قرآن کو جھٹلایا 5۔ بعض علماء کا یہ بھی مذہب ہے کہ جو شخص حیض کی حالت میں اپنی عورت کے پاس جائے تو ابتداء حیض کے دنوں جب تک خون کی رنگت رہتی ہے اس وقت تک ایک اشرفی اور آخری ایام حیض میں آدھی اشرفی وہ شخص صدقہ دیوے اور اکثر علماء کا مذہب یہ ہے کہ ایسے شخص کو توبہ کافی ہے۔ حیض کے زمانہ میں نماز روزہ قرأت قرآن اور قرآن کے ہاتھ لگانے سے عورت کو باز رہنا چاہیے۔ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں حائضہ عورتوں کو قضا کے روزوں کا حکم دیا جاتا تھا۔ نماز کی قضا کا نہیں 1۔