2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتا) بھیجتے رہے ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی اور اگر خدا چاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاش کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں اللہ تعالیٰ نے بادشاہت اور نبوت دونوں کو جمع کردیا۔ حالانکہ ہمیشہ سے بنی اسرائیل میں یہ طریقہ تھا کہ نبوت ایک خاندان میں تھی اور بادشاہت دوسرے خاندان میں جس کا ذکر اوپر آچکا ہے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت کے موافق گروہ انبیاء میں کسی کو کسی طرح کی فضیلت دی ہے اور کسی کو کسی طرح کی جن انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کی فضیلت دی ہے۔ صحیح ابن حبان کی حضرت ابوذر ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ خاتم الانبیاء یہ تین نبی ہیں 1۔ اور باقیوں میں بعض نبیوں کا درجہ کچھ اور بعض کا کچھ جو اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے اس کی تفصیل صحیحین وغیرہ کی معراج کی حدیث سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس رات مثلاً آدم (علیہ السلام) اول آسمان پر تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ساتویں آسمان پر غرض ان آیتوں اور حدیثوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت کے موافق گروہ انبیاء میں بعض نبیوں کو نبیوں پر فضیلت دی ہے اور اس فضیت کو بہم طور پر قرآن شریف میں ذکر فرمایا ہے اس لئے امت کے لوگوں کو نہیں پہونچتا ہے کہ قرآن شریف شریف کے اس ابہام کی تفصیل اپنی رائے سے کریں اور انبیاء کی فضیلت باہمی میں بحث و چرچا کر کے بعض انبیاء کی کسر شان کے درپے ہوں اسی واسطے صحیحین وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں آپ نے اس طرح کی بحث سے اپنی امت کو منع فرمایا ہے 2۔ لیکن صحیح مسلم کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس روایت سے جس میں آپ نے چھ باتوں کا ذکر فرما کر یہ فرمایا ہے کہ ان چھ باتوں کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو سبب انبیاء پر فضیلت دی ہے 3۔ اور حضرت اب سعید خدری ؓ کی اس روایت سے جس کو ترمذی نے معتبر سند سے روایت کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں کچھ فخر کے طور پر نہیں کہتا بلکہ بیان امر واقعی یہ ہے کہ میں سب اولاد آدم کا سردار ہوں 1۔ اور اسی قسم کی اور احادیث سے علماء سلف اور خلف کا اس بات پر متفق ہیں کہ نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ ﷺ افضل الانبیاء ہیں اور آیت لیظہرہ علی الدین کلہ (33/91۔ 9/61) سے اس اتفاق امت کی پوری تائید ہوی ہے آخر پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انبیاء اور ان کے معجزات اور آسمانی کتابوں کے آنے کے بعد اللہ چاہتا تو امتوں کا آپس کا اختلاف اٹھ جاتا اور سب راہ راست پر آجاتے لیکن دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے یہ جان لیا ہے کہ بعض لوگ باوجود انبیاء اور آسمانی کتابوں کے آنے اور معجزات کے دیکھنے کے راہ راست پر نہیں آئیں گے اور اسی اپنے علم کے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے جس کا نام تقدیر ہے دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کے علم کے موافق ہے صحیحین کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کی طبیعت میں دین حق کے قبول کرنے کی صلاحیت رکھ کر انسان کو پیدا کیا ہے۔ 2۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اپنی پیدائشی طبیعت کے مخالف جو کچھ کرتا ہے وہ اپنے فعل مختاری سے کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی مرضی انسان کے ایسے کام کرنے کی نہیں ہے ہاں اپنے فعل مختاری سے انسان آج جو کچھ کر رہا ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے پہلے ہی جان لیا ہے لیکن اس جان لینے سے انسان کی کوئی مجبوری لازم نہیں آتی رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ انسان کے فعل مختاری سے اس کو روکتا تو یہ بات بھی تو اللہ کی قدرت میں تھی اس کا جواب علماء نے یہ دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ صورت ایک مجبوری کی ہے اور مجبوری کا ایمان اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول نہیں ہے کیونکہ دنیا میں انسان کو امتحان کے طور پر پیدا کیا ہے چناچہ فرمایا { خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا } (27۔ 2) جب ایک شخص کو ایک کام پر مجبور کیا تو پھر اس کا امتحان کیا باقی رہا۔ مراد و بینات سے وہ قطعی دلیلیں ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھیں مثلاً مردوں کو زندہ کرنا وغیرہ مراد روح القدس سے حضرت جبرئیل ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہر وقت رہتے تھے۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہوسکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں

بعض مفسروں کا یہ قول ہے کہ یہ آیت زکوٰۃ اور نفلی صدقہ دونوں کے باب میں نازل ہوئی ہے آخر آیت میں آیت کے حکم کے موافق جو لگ مال نہ خرچ کریں ان کو کافر ظالم جو فرمایا ہے اس سے اس قول کی تائید بھی ہوتی ہے کیونکہ اس طرح کا سخت وعید زکوٰۃ کے منکر کے حق میں ہی صادق آسکتا ہے نفلی صدقہ سے ہاتھ کھینچنے والے شخص کے حق میں کافر و ظالم کا وعید نہیں صادق آسکتا۔ لیکن یہ تفسیر انہی مفسرین کے نزدیک صحیح ہوسکتی ہے جو رمضان کے روزہ کو رکن دوم اور زکوٰۃ کو رکن سوم کہتے ہیں اور رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد زکوٰۃ کی فرضیت کے قائل ہیں اور جو مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ زکوٰۃ تو مکہ میں فرض ہوئی ہے لیکن اس کے وصول کے لئے عاملوں کا تقرر اور اہتمام مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد ہوا ہے ان کے نزدیک اس مدنی آیت کا زکوٰۃ کے حکم میں نازل ہونا صحیح نہیں قراردیا جاسکتا۔ لیکن مسند امام احمد صحیح ابن حزیمہ نسائی ابن ماجہ مستدرک حاکم میں معتبر سند سے قیس بن سعد بن عبادہ ؓ کی جو روایت ہے اس سے زکوٰۃ کا مدینہ منورہ میں ہی فرض ہونا صحیح معلوم ہوتا ہے کیوں کہ اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ آں حضرت ﷺ کے فرمانے کے موافق صدقہ فطر زکوٰ ۃ پہلے فرض تھا 1۔ زکوٰۃ کی فرضیت کے بعد صدقہ فطر ایک اختیاری امر رہ گیا اب اس بات میں تو سب متفق ہیں کہ رمضان کے روزوں اور صدقہ فطر کی فرضیت ہجرت کے بعد ہے پھر ہجرت سے پہلے مکہ میں زکوٰۃ کیوں کر فرض ہوسکتی ہے جس کی فرضیت صحیح روایت کے موافق صدقہ فطر کے بعد ہے۔ اس آیت میں شفاعت کی اور آپس کی دوستی کی عام طور پر نفی فرمائی ہے لیکن اور آیتوں اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد گنہگار اہل کلمہ لوگ اللہ کے رسول اور عام مومنوں کی شفاعت کے سبب سے دوزخ سے نکل کر جنت میں جائیں گے اس لئے اس آیت کا حکم غیر اہل کلمہ کے ساتھ خاص ہے اور اسی طرح کے حکم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو پورے اہل کلمہ نہیں ہیں بلکہ ان کے عقیدہ میں قبر پرستی پیر پرستی کا شرک یا ان کے اعمال میں کسی طرح کی ریا کاری ہے۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں اور زمین میں سے سب اسی کا ہے کون ہے کہ اسکی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کرسکے، جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کرسکتے، ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اسکی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

جس طرح آیت { وَاِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَاحِدْ } اور توحید کی آیتیں مثلاً قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدْ وغیرہ توحید کے ثابت کرنے اور غیر اللہ کی پرستش کو باطل کرنے کے لئے نازل ہوئی ہیں اسی مطلب کے لئے یہ آیت بھی نازل ہوئی ہے اس آیت کی فضیلت میں بہت حدیثیں وارد ہوئی ہی ان میں سے ابو امامہ ؓ کی ایک وہ حدیث ہے جس کو نسائی اور طبرانی وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے گا اس کے جنت کے جانے میں فقط اتنی ہی دیر ہے اس کی آنکھ بند ہو اور وہ دنیا سے اٹھے 1۔ ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوع بتلایا ہے لیکن حافظ ابن حجر (رح) نے کہا ہے کہ یہ ابن جوزی کی غفلت ہے جو اس حدیث کو موضوع کہا ہے۔ طبرانی کی اس حدیث کی سند صحیح ہے 2 طبرانی کی بعض روایتوں میں آیت الکرسی کے ساتھ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدْ کا ملانا بھی آیا ہے 3 سند اس روایت کی بھی معتبر ہے۔ مسند امام احمد ترمذی وغیرہ میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے ناموں میں یَاحَیُّ یَا قَیُّوْم اسم اعظم ہے 4 ان ناموں کو پڑھ کر جو کوئی کچھ جائز و دعامانگے گا وہ ضرور قبول ہوگی۔ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ کا مطلب یہ ہے کہ سوائے اللہ کے کوئی عبادت کے قابل نہیں لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ کا مطلب یہ ہے کہ ستار پرستوں کے ستارے اور بت پرستوں کے بت اور سوا اللہ کے جس کی پرستش کی جائے یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں ان میں خالق بننے کی صلاحیت ہرگز نہیں ہے لَا تَأْخَذُہُ سِنَۃٌ وَّلاَ نَوْم کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کے دربار کی طرح اس کی بارگاہ میں کسی طرح کی غفلت اور بیخبر نہیں ہے مَنْ ذَالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدُہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ کا مطلب یہ ہے کہ شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ کی اجازت درکار ہے اور کسی مشرک کے خق میں اللہ تعالیٰ کسی کو شفاعت کی اجازت نہ دے گا کیونکہ اس نے فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اِنْ یُّشْرِکَ بِہٖ (4۔ 116/28) پھر یہ مشرک لوگ اپنے بتوں سے شفعاءنا عند اللہ کی توقع جو رکھتے ہیں یہ بالکل بےسود توقع ہے یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کا حال اور آئندہ کا ذرہ ذرہ سب حال معلوم ہے اس لئے وہی معبود ٹھہرانے کے قابل ہے جن معبودوں کو اپنے عابدین کے نیک و بد کا کچھ حال ہی معلوم نہیں وہ کیا معبود قرار پاسکتے ہیں اور ان کی عبادت سے کسی کو کیا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے وَلاَ یَحِیْطُوْن بِشَی ئٍ مِنْ عِلْمِہٖ اِلَّا بِمَا شَائَ کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا علم بالکل ناقص ہے جس سے تم اپنے نیک و بد کو ہرگز نہیں جان سکتے اس لئے اللہ تعالیٰ نے تمہارے حال اور آئندہ کی مصلحت کے لحاظ سے اپنے نبی کے ذریعہ سے جو کچھ راستہ نجات کا اپنے علم ازلی کے موافق تم کو بتایا ہے اس کے موافق کار بند ہوگئے تو نجات پاؤ گے اور اگر برخلاف علم الٰہی کے اپنی ناقص علم اور عقل سے کام لو گے تو برباد ہوجاؤ گے۔ وَسِعَ کُرْسِیُہُ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَلاَ یَؤُدُہُ حِفْظُہُمَا وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمَ ۔ مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی ایک روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کرسی اللہ تعالیٰ کے پاؤں رکھنے کی جگہ کا نام ہے 5 اور بعض روایتوں میں ہے کہ ساتویں آسمان اور ساتوں زمین کا عرض و طول کرسی کے مقابلہ میں ایسا ہے جس طرح ایک بڑے جنگل میں چھلہ ڈالا دیا جائے۔ اور عرش کی لمبائی اور چوڑائی سوا اللہ کے اور معلوم نہیں ہے 1۔ حاصل مطلب یہ ہے اتنی بڑی کرسی اور زمین اور آسمان کی نگہبانی جس کے ہاتھ میں ہے پرستش کے قابل وہی ہے ایسے بڑے بادشاہ کو چھوڑ کر دو سروں سے التجا کرنا سراپا نادانی ہے۔
Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف) طور پر ظاہر اور گمراہی سے الگ ہوچکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کچھ ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور جانتا ہے

ابو داؤد اور نسائی اور صحیح ابن حبان اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روات ہے کہ انصاری کی بعض عورتیں اولاد کی تمنا میں اسلام سے پہلے یہ نذر مان لیتی تھیں کہ ہمارے یہاں لڑکا پیدا ہوگا تو ہم اس کو یہودی کردیں گی۔ چناچہ اس طرح کے کئی لڑکے انصار میں یہود بن کر یہود کے قبیلہ بنی نضیر میں رہتے بھی تھے جب اس قبیلہ کو آنحضرت ﷺ نے نواح مدینہ سے جلا وطن کیا تو انہوں نے ان لڑکوں کو اپنے ساتھ لے جانا چاہا اور انصار نے ان لڑکوں کو جبر ًا روکنا چاہا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ اور انصار کو ان یہودی لڑکوں پر جبر کرنے سے روکا اس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب پر جبر نہیں جب کہ وہ جز یہ دیں اور مشرکین سے جہاد کرنے کی آیتوں کو اس آیت سے کچھ تعلق نہیں۔ بعضی تفسیروں میں سوا اس کے اس آیت کی شان نزول اور کچھ جو لکھی ہے اس کی بہ نسبت جو شان نزول اوپر بیان کی گئی ہے وہی قوی ہے اور عبد اللہ مسعود ؓ کے قول کے حوالہ سے بعض تفسیروں میں یہ جو لکھا ہے کہ ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ جب تک مکہ میں تھے اس وقت تک اس طرح در گذر کا حکم تھا جہاد کی آیت سے اب یہ آیت منسوخ ہے یہ قابل اعتراض ہے کیوں کہ ابو داؤد اور نسائی اور ابن حبان کی روایت متصل سے جب اس آیت کا نازل ہونا جلاوطنی بنی نضیر کے بعد ثابت ہے۔ اور کتب مغازی اور کتب شرح حدیث میں یہ صراحت موجود ہے کہ جلاوطنی بنی نضیر کی جنگ احد کے بعد ہے پھر خود یہ آیت آیت جہاد اور جنگ بدر اور احد کے بعد نازل ہوئی ہے آیت جہاد سے اس کو منسوخ کہنا کیونکر صحیح قرار پاسکتا ہے العروۃ الوثقی کی تفسیر مسلم وغیرہ کی اس روایت میں ہے جس میں عبد اللہ بن سلام ؓ کے خواب کا ذکر ہے وہ تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے لفظ اسلام سے فرمائی ہے 3۔ اس کے سوا کسی دوسری تفسیر کی ضرورت نہیں۔
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

ابن جریر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ بعض نصرانی پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے تھے۔ اور جب آنحضرت ﷺ کی نبوت مشہور ہوئی تو آنحضرت ﷺ پر بھی ایمان لائے ان کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے 1 معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو شخص اللہ کے حکم کے موافق رسول وقت کی اطاعت کرتا ہے اللہ اس کو سیدھا راستہ روز روشن کی طرح ہر وقت دکھلا دیتا ہے اور جو شخص شیطان کے بہکائے میں ہے وہ گمراہی کے اندھیرے میں پڑ کر فطرتی ایمان بھی کھو دیتا ہے۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجئے۔ یہ سن کر کافر حیران رہ گیا۔ اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

یہ بادشاہ جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے کے باب میں بحث کی اس کا نام نمرود بن کنعان تھا یہ بابل کا بادشاہ تھا اور چار سو برس کے قریب اس نے سلطنت کی ہے یہ ملعون خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اسی واسطے اس نے حضرت ابراہیم سے اس طرح کی بحث کی چار بادشاہ روئے زمین پر بہت بڑے ہوئے ہیں دو مسلمان حضرت سلیمان اور ذروالقرنین اور دو کافر نمرود اور بحث نصریہ مباحثہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کا اس وقت ہوا ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس آگ سے نجات دی ہے جو نمرود اور اس کی قوم نے بتوں کے توڑنے کی سزا کے طور پر جلائی تھی جس کا پورا قصہ سورة انبیاء میں آئے گا جب نمرود نے سنا کہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) اور لوگوں کی طرح نمرود کو خدا نہیں کہتے تو حضرت ابراہیم سے مباحثہ کیا اور سورج کو مغرب کی طرف سے نکالنے کی قدرت اپنے آپ میں نہ پاکر آخر کو قائل ہوگیا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ظالم لوگ اللہ کے حکم سے غالب ہونے کا راستہ نہیں پاسکتے قطع حجت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سورج کے مغرب سے نکالنے کی دلیل پیش کی ورنہ پہلی دلیل میں کسی مردہ کے جلنے کی حجت ابراہیم (علیہ السلام) پیش کرسکتے تھے اور اس حجت میں بھی وہ کافر عاجز ہوسکتا تھا بعض مفسروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود سے یہ کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے تو نمرود نے کہا کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے کوئی مردہ زندہ ہوا ہے اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت سورج کو مغرب سے نکالنے کی دلیل سے اس کافر کو قائل کردیا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ سے یہ التجا کی کہ یا اللہ تو مجھ کو کسی مردہ کو جلا کر دکھادے چناچہ اس کا قصہ آگے آتا ہے اس مباحثہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو حضرت لوط اور سارہ کو ساتھ لے کر ملک عراق سے شام کی طرف چلے گئے اور اللہ تعالیٰ نے حجت تمام کرنے کو ایک فرشتہ نمرود کی ہدایت کے لئے بھیجا اور باوجود ہدایت کے جب نمرود راہ راست پر نہ آیا تو مچھروں کا عذاب بھیج کر اس کو اور اس کے لشکر کو غارت کردیا اور لوگ تو مچھروں کے ناک میں گھس جانے اور دماغ میں کاٹنے سے فورا مرگئے۔ مگر خدا کی پھٹکار کے سبب سے نمرود اس حالت میں بھی مدت تک جیا اور جب مچھر اس کے دماغ میں کاٹتا تو اس کے سر پر طرح طرح کی مار پڑتی تھی خدا تعالیٰ کو یہ ذلت اس ملعون کو دینی تھی اس لئے اس بےحیا زیست سے اس کو ایک مدت زندہ رکھا اہل کتاب اور مشرکین عرب میں سے جو لوگ اس آیت کے نازل ہونے تک اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت سے باز نہیں آئے تھے ان کی تنبیہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے تاکہ یہ لوگ خوب اچھی طرح سمجھ لیویں کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت ایسی بری چیز ہے جس نے نمرود جیسے صاحب حشمت بادشاہ کو ایسی ذلت و خواری سے مع اس کے لشکر غارت کردیا ان لوگوں کی کیا اصل و بنیاد ہے جو انہوں نے رسول وقت کی مخالفت پر کمر باندھی ہے باوجود فہمایش کے اگر یہ لوگ اپنی عادت سے باز نہ آئے تو ان پر بھی نمرود جیسا کوئی وبال پڑنے والا ہے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس تنبیہ کا جو کچھ نتیجہ اہل کتاب و مشرکین مکہ دونوں کے حق میں ہوا اس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے کہ کچھ لوگ ان میں ذلت سے قتل اور قید ہوئے اور کچھ جلاوطن۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق سے گزر ہو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا تو خدا نے اسکی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا کہ تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہو ہو اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے کی) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

جب بنی اسرائیل نے بہت نافرمانی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے بخت نصر بابلی کو ان پر مسلط کیا جو چھ لاکھ کے قریب فوج ساتھ لے کر بابل سے ملک شام کو آیا اور ہزارہا آدمی بنی اسرائیل کے قتل کر ڈالنے اور ہزار ہا آدمیوں کو قید کر کے بابل لے گیا ان قیدیوں میں حضرت عزیر بھی تھے پھر جب نمرود کی طرح بخت نصر کی ناک میں بھی ایک مچھرگھس گیا جس سے وہ آخر کو ہلاک ہوگیا اور حضرت عزیر قید سے چھوٹ کر بابل سے ملک شام کو آئے اور بیت المقدس کو نہایت درجہ ویران دیکھ کر ان کے منہ سے بےساختہ یہ کلمہ گیا کہ دیکھئے اللہ تعالیٰ اس اجڑے دیار کو کب اور کیونکر آباد کرے گا اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت دکھانے کے لئے سو برت تک ان کو اور ان کی سواری کے گدھے کو مار ڈالا اور جب اس سو برس کے عرصہ میں وہ شہر پھر بس گیا تو ان اور ان کے سامنے ان کے گدھے کو زندہ کیا اور وہ بسا ہوا شہر ان کو دکھایا جس پر انہوں نے یہ کہا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے بخت نصر کی گرد میں توریت بھی ضائع ہوگئی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عزیر کو زندہ کیا تو تورات بھی ان کو یاد کرا دی بنی اسرائیل نے جو دیکھا کہ اتنی عمر کے بعد عزیز ابھی جوان ہیں اور تورات بھی ان کو یاد ہے تو بنی اسرائیل ان کو خدا کا بیٹاکہنے لگے۔ اس قصہ کے نازل فرمانے سے اہل کتاب کو تو یہ جتلایا گیا ہے کہ باوجود امی ہونے کے تورات کے قصے صحیح طور پر جو نبی آخر الزمان بیان کرتے ہیں تو ان کے نبی ہونے میں اور وحی کی مدد سے ان کے یہ قصے کتب آسمانی کے بیان کرنے میں کوئی شبہ اب باقی نہیں رہا اور اہل مکہ کو حشر کا جو انکار تھا اس انکار کو اسی طرح اس قصہ سے ضعیف کیا گیا ہے جس طرح مقتول شخص کے زندہ کرنے کے قصہ سے اور وبا سے ڈر کر جو لوگ بھاگے تھے ان کے قصہ سے اہل مکہ کے حشر کے انکار کو بےاصل ٹھہرایا گیا ہے۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن (میں دیکھنا) اس لیے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان حاصل کرلے خدا نے کہا کہ چار جانور پکڑو اور اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھو دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے

جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود سے یہ کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ شوق ہوا کہ حشر سے پہلے ہی خدا کی اس قدرت کا تماشا دیکھا جاوے۔ حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں کچھ شک نہیں تھا کہ ایک دن حشر ہونے والا ہے اور اس دن اللہ تعالیٰ سب اگلے پچھلے مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ حشر پر ایمان لانا سب انبیاء کا ایک اجماعی مسئلہ ہے اسی واسطے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم (علیہ السلام) سے پوچھا اَوَلَمْ تُؤْمِنْ تو انہوں نے لفظ بَلٰی سے جواب ادا کیا لیکن اللہ تعالیٰ سے یہ خواہش حضرت ابراہیم نے فقط اس لئے کی تھی کہ مرنے کے بعد متفرق اجزا مردہ کے کیوں کر جمع ہوتے ہیں اور پر یشان اجزا کے جمع ہونے اور ان سے جسم کے تیار ہوجانے کے بعد اس جسم سے روح کا تعلق کیونکر ہوتا ہے اس سب کیفیت کو آنکھوں سے دیکھ کر حشر سے پہلے ہی اس کیفیت پر اطمینان حاصل کر لیویں کیونکہ معتبر خبر کے ذریعہ سے ایک کیفیت کو سن کر اس کا یقین کرنا اور چیز ہے اور اس کیفیت کو آنکھ سے دیکھ لینا اور چیز ہے اس لئے معائنہ احوالہ محشر کے بعد لوگوں سے یہ ارشاد ہوگا { فَکَشَفْنْا عَنْکَ عِظَائَ کَ فَبَصُرکَ لَایَوْم حَدِیْد } (50۔ 22) جس کا مطلب یہ ہے کہ معائنہ احوال محشر کے بعد وہ احوال لوگوں کی نظروں میں جچ جائیں گے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی وہ حدیث جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بہ نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہم شک کے زیادہ مستحق ہیں۔ 1۔ اس کے معنی بھی معتبر علماء نے بیان کئے ہیں کہ اتباع ملت ابراہیمی کا ہم کو کم ہے اور ہم کو اس مسئلہ میں کچھ شک نہیں ہے جس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے جو خواہش کی تھی وہ علم الیقین سے عین القین کے درجہ تک ترقی حاصل کرنے کے لئے کی تھی کسی شک کے لئے وہ خواہش نہیں کی کیونکہ انبیاء کی شان اس شک سے بری ہے مجاہد اور عکرمہ کے قول کے موافق وہ چار جانور یہ تھے ایک مور دوسرا مرغ تیسرا کوا چوتھا کبوتر اللہ کے حکم کے موافق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان جانوروں کو ذبح کر کے ان کے پر ودں اور اعضاء کو ملا دیا اور چار پہاڑوں پر اس کی ایک ایک ڈھیری رکھ دی۔ پھر ان کے سر ہاتھ میں لے کر ایک ایک کو پکارا جس کو پکارا ہر ایک ڈھیری میں سے ایک کے پر اور اعضاء خود بخود چھنٹے۔ اور ان چھنٹے ہوئے پروں اور اعضاء سے اس جانور کا دھڑ تیار ہوا اور فورا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس دوڑ کر آگیا 2۔ حکم الٰہی کی یہ عظمت بھی غور کے قابل ہے کہ ایک جانور کا سر دوسرے جانور کے دھڑ پر لگانے کے لئے بطور امتحان کے جو حضرت ابراہیم علی السلام نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ تو وہ دھڑ پیچھے ہٹ گیا اور اصلی دھڑ پر اس سر لگانا چاہا تو وہ سر آگے آگیا۔ غرض اصلی دھڑوں پر وہ سر آخر کو لگ گئے اور خدا کے حکم سے ان میں جان پڑگئی اور جانور ذبح کرنے سے پہلے جیسے تھے ویسے ہی ہوگئے۔ جن کو دیکھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے اس قول کی پوری تصدیق ہوئی کہ ” اللہ زبر دست ہے حکمت والا ہے یہ قصہ جسمانی حشر کی شہادت ممکن ہونے کی پوری دلیل ہے اور اسی شہادت کے ظاہر کرنے کے لئے آیت نازل فرمائی ہے۔
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے، وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب اور اس خرچ کے اجر کے بڑھنے کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو مال خرچ کیا جائے بارہ گاہ الہی میں اس کی شرطیں ہیں بڑی شرط تو یہ ہے کہ جس مال میں اللہ کے نام پر کچھ خیرات کی جاوے وہ مال نیک کمائی کا ہو وے۔ چناچہ صحیح بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی ‘ نسائی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ذات ہے بغیر نیک کمائی ناجائز کمائی کے مال کی خیرات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہی ہوتی 1۔ اب نیک کمائی کے مال میں سے خیرات ہونے کی صورت میں یہ بھی ضروری ہے کہ خیرات کر کے کسی پر اس کا احسان نہ جتلانے اور دنیا کے دکھلاوے کا دخل خیرات میں ہرگز نہ آنے دے۔ کیونکہ اس طرح کی خیرات بھی اکارت جاتی ہے۔ چناچہ اس کا ذکر تفصیل سے آگے کی آیتوں میں آتا ہے ان شرطوں کے پورا ہوجانے کی صورت میں مثلاً ایک روپیہ خرچ کیا تو اس کا اجر ایک سے لے کر سات سو روپے تک خرچ کرنے کا ملے گا یہ اپنی اپنی نیت کا پھل ہے جس کی نیت بالکل خیر ہوگی وہ پورے سات سو کا اجر پائے ورنہ کچھ کمی ہوجائے گی۔ اس آیت میں تو عبادت مالی کا ذکر ہے۔ لیکن یہی حال عبادت بدنی کے اجر کا ہے چناچہ صحیح بخاری صحیح مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نیک عمل کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو تک ہے۔ لیکن روزوں کا اجر اس حساب سے باہر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا روزہ ایسی ایک بڑی بھاری عبادت کھانا پینا چھوڑنے کی انسان کے حق میں ہے جس کا اجر میں خود اپنی ذات سے مناسب طور پر دوں گا 2۔ معتبر سند سے ترمذی نسائی ‘ صحیح ابن حبان ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ غیر آدمی غریب کو جو کچھ دیا جائے تو اکہری خیرات ہے اور جو کچھ قرابت دار محتاج کو بطور خیرات کے دیا جائے وہ دوہری خیرات ہے 3۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر آدمی غریب کو دینے سے مثلاً جہاد ایک روپیہ کا سات سو کا اجر مل سکتا ہے اگر وہی ایک روپیہ قرابت دار غریب کو دیا گیا ہے تو بجائے سات سو کے چودہ سو کا اجر ملے گا { وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ} کا یہ مطلب ہے کہ اجر کے دینے میں اللہ تعالیٰ کے خزانہ میں بڑی گنجائش ہے مگر وہ ہر ایک کی نیت کا حال خوب جانتا ہے جیسی جس کی نیت ہوگی ویسا ہی اس کو اجر ملے گا۔
Ayahs 2:262–264

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال اللہ کے راستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس تیار ہے اور (قیامت کے روز) نہ انکو کچھ خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بےادبی ہے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپرواہ اور بردبار ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

مومنو ! اپنے صدقات (و خیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا جو لوگوں کو دکھاوے کیلیے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

(262 ۔ 264) ۔ غزوہ تبوک میں حضرت عثمان ؓ نے ایک ہزار اونٹ مع سامان اور عبد الرحمن بن عوف ؓ نے چار ہزار درہم بطور خیرات کے دیے تھے اس پر یہ آیت اتری 1۔ اور آیت کے اول حصہ میں لوگوں نے عام طور پر ان لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو خیرات کے بعد اپنے دیے کا کسی پر احسان نہیں رکھتے نہ اپنے دیے کو جتلا کر کسی کو شرمندگی اٹھانے کی ایذا و تکلیف دیتے ہیں بلکہ وہ جو کچھ عقبیٰ کے اجر کی نیت سے دیتے ہیں اس سے نہ کسی پر احسان جتانے کی ان کی نیت ہے نہ کسی کو شرمندہ کر کے ایذا دینے کی پھر آیت کے دوسرے حصہ میں ان لوگوں کو ہوشیار کیا ہے جن کی عادت اس کے برخلاف ہے اور فرمایا ہے کہ جو لوگ دنیا کے دکھاوے کو کچھ دیتے ہیں اور ان کا وہ دینا اکارت جاتا ہے اسی طرح ان کا دینا بھی اکارت ہے جو دیے کے بعد لوگوں پر احسان کا بوجھ رکھتے ہیں یا دیے کے بعد لوگوں کو یہاں تک جتلاتے ہیں کہ لینے والے کو شرمندگی اٹھانے کی ایذا پہنچتی ہے پھر فرمایا کہ یہ عادتیں تو ان لوگوں کی ہیں جن کو عقبٰی میں اجر کا یقین نہیں ہے۔ ایمان دار آدمی میں اس طرح کی عادت ہرگز نہیں ہونی چاہیے پھر ایک مثال بیان فرمائی کہ اس طرح کی عادت والوں کا دینا ایسا ہے جیسے کوئی ایک پتھر پر تھوڑی سی مٹی دیکھ کر کھیتی کرے اور زور کا مینہ برس جانے سے وہ مٹی مع کھیتی کے دھل دھلا کر صفا چٹ پتھر نکل آئے اور اس کھیتی کی پیداوار کھیتی کرنے والے کے ہاتھ کچھ بھی نہ لگے اسی طرح بظاہر دنیا میں تو یہ لوگ خیرات کرتے ہیں مگر عقبیٰ میں ان کو اس خیرات کا اجر کچھ نہیں ملنے والا بلکہ اس کھیتی والے کی طرح وہاں یہ لوگ بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ صحیح مسلم ‘ ترمذی نسائی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن بہت سے شہیدوں سے یہ کہا جائے گا کہ دنیا میں بہت مشہور ہونے کے لئے تم نے اپنی جان دی ہے اس لئے آج تم کو کچھ اجر شہادت کا نہیں مل سکتا اور پھر اسی طرح نیک عملوں کا بھی جواب ملے گا 1۔ اس سے معلوم ہوا کہ عبادت خواہ مالی ہو خواہ بدنی۔ جس عبادت میں آدمی کی عقبیٰ کے اجر کی نیت خالص نہ ہوگی وہ عبادت قیامت میں رائگاں جائے گی۔
Ayahs 2:265–266

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلیے اور خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کو باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہو بگولا چلے اور وہ جل (کر راکھ کا ڈھیر ہو) جائے ؟ اس طرح خدا تم سے اپنی آئتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو

(265 ۔ 266) ۔ دنیا کے ہر ایک باغ کے جس طرح دو موسم ہوتے ہیں ایک پھل کھانے کی نیت سے باغ میں ہر طرح کے پودے لگانے کا موسم اور پھر ان پودوں کے لگ جانے اور بڑھ جانے اور ان میں پھل آجانے پر ان کے پھل کھانے کا موسم اسی طرح انسان کے عملوں کے دو زمانہ ہیں ایک دنیا میں نیک عملوں کا اجر پانے کا جس کو باغ کے پھل کھانے کے موسم کے ساتھ پوری مشابہت ہے۔ ان ہی مشابتو وں کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں لوگوں کے نیک و بد عملوں کی مثال دو باغوں کا ذکر فرما کر لوگوں کو سمجھائی ہے ایک باغ تو وہ ہے جو اونچی جگہ پر ہر طرح کی پامالی سے بچا ہوا ہے۔ مینہ۔ اوس۔ سب کچھ اس کی ترقی کا سبب ہے۔ اس لئے امید سے زیادہ اس کے پیڑوں میں پھل آیا یہ ان لوگوں کے عمل کی مثال ہے جو خالص عقبیٰ کے اجر کے ارادہ سے عمل کرتے ہیں آخر مثال { وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرَ } کا یہ مطلب ہے کہ ہر ایک کے دلی ارادہ کا حال اللہ تعالیٰ ہی کو خوب معلوم ہے۔ دوسرا باغ بھی اچھا تھا۔ مگر عین بہار کے وقت اس باغ کے حق میں ایسی مخالفت ہواچلی کہ تمام باغ جل کر خاک سیاہ ہوگیا۔ اور ایسے وقت پر جلا کہ بڑھاپے کے سبب سے باغ والا اور چھوٹی عمر ہونے کے سبب سے اس کی اولاد دوسرا باغ لگانے سے سب عاجز ہیں یہ ان لوگوں کے علم کی مثال ہے کہ دیکھنے میں وہ روزہ نماز، خیر خیرات سب کچھ کرتے ہیں مگر یہ سب کچھ دنیا کی کسی غرض سے عقبیٰ کی نیت سے کچھ بھی نہیں اس لئے قیامت کے دن اس بڈھے باغ والے کی طرح ایسے لوگ اپنے عملوں کے اجر سے بالکل ہاتھ دھو بیٹھیں گے آخر مثال پر { کذلک یبین اللہ لکم الآیات لعلکم تتفکرون } کا یہ مطلب ہے کہ آیت کے نازل ہونے کے وقت تک جو لوگ دنیا میں زندہ وحیات ہیں ان کو اپنے عملوں کی اصطلاح میں غور و فکر کرنے کا موقع حاصل ہے یہ وقت ہاتھد سے نکل گیا تو عین وقت پر اس بڈھے باغ والے کی طرح پھر کچھ نہیں ہوسکنے کا صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دن صحابہ سے پوچھا کہ مفلس کو نسا آدمی کہلاتا ہے۔ صحابہ نے جواب دیا کہ حضرت مفلس وہی شخص ہے جسے پاس روپیہ پیسہ نہ ہو آپ نے فرمایا نہیں اصل مفلس وہ آدمی ہے جس کے نامہ اعمال میں نیک عمل جنت کے جانے کے قابل ہوں گے۔ لیکن ساتھ ہی اس کے اس نے لوگوں پر ظلم اس قدر کئے ہوں گے کہ ان ظلموں کے بدلے میں اس شخص کے سب نیک عمل مظلوں کو بٹ جائیں گے اور آخر رو وہ شخص دوزخ میں ڈال دیا جائے گا 1۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ ان کے علموں میں کچھ خرابی نہ ہوگی۔ مگر ظلم و زیادتی کے سبب سے ان لوگوں کے نیک عمل ان کے کچھ کام نہ آئیں گے اس لئے انسان کو لازم ہے کہ اپنے عملوں کی اصطلاح کے ساتھ ظلم و زیادتی سے بچنے کا بھی پورا خیال رکھے۔
Ayahs 2:267–271

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

مومنو ! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہو اور وہ چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سے نکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو اور جان رکھو کہ خدا بےپرواہ (اور) قابل ستائش ہے

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

(اور دیکھنا) شیطان (کا کہا نہ ماننا وہی) تمہیں تنگدستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے اور جس کو دانائی ملی بیشک اس کو بڑی نعمت ملی اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم (خدا کی راہ) میں جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اسکو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اسطرح) کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے

(267 ۔ 271) ۔ حاکم ‘ ترمذی ابن ماجہ ابو داؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور کچھ بیکار اور بری چیز صدقہ میں دیتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے 1۔ اس کو تمہارے صدقہ اور تمہاری خیرات کی کچھ پرواہ نہیں ہے صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہوا اس کی موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرمائے گا اس طرح کی دل سے اتری ہوئی چیزیں جن کو کوئی تمہیں دے تو تم خود لینا پسند نہ کرو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں ہرگز قبول ہونے والی نہیں صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان اپنے شیاطینوں کو بھیج کر لوگوں کو ہر طرح سے بہکاتا ہے 2۔ اسی کو اس آیت میں فرمایا کہ شیطان صدقہ خیرات کے وقت محتاج ہوجانے سے ڈرتا ہے اورو طرح طرح کی بری باتیں سکھاتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ ہے کہ صدقہ خیرات سبب مغفرت کا ہے پھر یہ بھی فرمایا کہ تم از خود نذر مان کر جو صدقہ خیرات کرو گے اللہ کو سب معلوم ہے وہ ایک دن تم کو اس کا بدلے دے گا نیت خیر ہو تو علانیہ اور چھپا کر دونوں طرح صدقہ جائز ہے مگر صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ کا چھپانہ کردینا افضل ہے 3۔
Ayahs 2:272–273

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے اور (مومنو ! ) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم تو جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لے کرو گے اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے) تو ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے

(272 ۔ 273) ۔ نسائی حاکم ابن ابی حاتم طبرانی اور بزاز نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اسلام سے پہلے اکثر صحابہ اور یہود میں قرابت تھی اور اس قرابت کی وجہ سے صحابہ ان سے طرح طرح کے سلوک کیا کرتے تھے اسلام کے بعد اس سلوک سے صحابہ کی اجازت آنحضرت سے چاہی آپ نے بھی اس خیال سے کہ شاید یہ طریقہ یہود کو کچھ راہ راست پر لاوے صحابہ کو اس کی اجازت دے دی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرما دیا کہ جس کسی کی ہدایت اللہ کو منظور ہوتی ہے وہ ہر طرح راہ راست پر آجاتا ہے۔ بدوں مرضی اللہ کے تمہاری ایسی باتوں سے کیا ہدایت ہوگی اور اللہ کو اس طرح کی مجبوری کا ایمان کب پسند ہے کہ کوئی کھانا بند کرنے سے ایمان لائے اور کوئی پانی اس لئے تم اپنے قرابت دروں سے جو کچھ سلوک کیا کرتے تھے وہ کئے جاؤ اور اللہ کی ہدایت کے منتظر رہو اس آیت کے بعد آپ نے صحابہ کو حکم دے دیا کہ بلا لحاظ دین کے جو کوئی جس سے کچھ سلوک کرتا تھا وہ کرے جائے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے جو روایت اس شان ِنزول کے ہم معنی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مسکین وہ نہیں جو گھر گھر مانگتا پھر تاے بلکہ اصل مسکین وہ ہے جو اتنا نہیں رکھتا کہ اس کے خرچ ضروری کے لئے کافی ہو 2۔ وہ حدیث اس شان نزول کی موید ہے مفسرین نے لکھا ہے فقراء سے مراد مہاجرین اہل صفہ ہیں باوجود تنگی کے کسی سے سوال نہیں کرتے تھے۔
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر راہ خدا میں خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کی دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم

طبرانی ابن ابی حاتم ‘ عبد الرزاق ‘ ابن جریر اور ابن المنذر نے روایت کی ہے کہ عقبیٰ کے اجر کے خیال سے جب صحابہ ؓ میں طرح طرح کی خیرات کا چرچہ ہوا مثلاً اکثر صحابہ نے جہاد کا سامان گھوڑے اور ہتھیار خریدنے اور مجاہدین کو طرح طرح کی مدد دی مثلاً حضرت علی کے پاس چار درہم تھے آپ نے ایک رات دن میں وہ سب خیرات کر دئیے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کو اللہ سے بڑے بڑے اجروں کی توقع رکھنی چاہیے حضرت علی ؓ کے چار درہم خیرات کرنے کے قصہ کی روایت میں اگرچہ ابن جریر وغیرہ کی سند ضعیف ہے مگر ابن مردویہ (رح) نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے طریق سے جو اس قصہ کو روایت کیا ہے 1۔ وہ سند قوی ہے اور اس قوی طریق کی مدد سے وہ ضعیف طریقہ بھی کچھ قوت پکڑ جاتا ہے۔ صحیحین میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو شخض عقبیٰ کے اجر کے خیال سے اپنی بی بی بچوں کو نان و نفقہ میں بھی کچھ خرچ کرے گا تو اس کو بھی قیامت کے دن اس خرچ کرنے کا اجر خدا کی درگاہ سے ضرور ملے گا 2۔
Ayahs 2:275–277

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنادیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سود بیچنا بھی (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام تو جس کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگے گا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں جلتے رہیں گے

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

(275 ۔ 277) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان نیک لوگوں کا ذکر فرمایا تھا جو بذریعہ صدقہ و خیرات کے اپنے مال سے دنیا میں خلق اللہ کو نفع پہنچاتے ہیں اور عقبیٰ میں اس خیرات کے اجر کی اللہ سے توقع رکھتے ہیں اس آیت میں ان لوگوں کے مقابل ان بد لوگوں سود خوروں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے اپنے مال کے طفیل میں اپنی دین دنیا کو خراب اور خوار کردیا۔ مسند امام احمد وغیرہ کی شب معراج کی حدیث میں آپ نے فرمایا ہے کہ دوزخ میں کچھ لوگ آپ نے دیکھے جن کے پیٹ بڑے بڑے گھر اور کوٹھوں کے برابر ہیں اور ہزارہا سانپ اور بچھو ان کے پیٹوں میں بھرے ہیں 3۔ دنیا میں ایک سانپ یا بچھو کسی کو کاٹتا ہے توہ وہ بادلوں کی طرح بھاگا بھاگا پھرتا ہے۔ حسب بیان مخبر صادق کے کے جس شخص پر اس قسم کا عذاب قبر ہو کہ ہزارہا سانپ بچھو اس کے پیٹ میں بھرے ہوں تو بادلوں کی طرح قبر سے اس کا اٹھنا ظاہر ہے اس حدیث کا پورا ذکر سورة بنی اسرائیل میں آئے گا۔ مشرکین عرب میں اکثر سود کے لین دین کا یہ طریقہ جاری تھا کہ ایک شخص دوسرے شخص کو کچھ روپیہ قرض دیتا تھا۔ اور اس قرص کی مدت پر اگر روپیہ ادا نہ ہوا تو مدت کچھ زیادہ کر کے قرضہ کی رقم کو بھی کچھ بڑھا دیا جاتا تھا۔ اور اپنی سمجھ کے موافق جو وہ لوگ اس طریقہ کو بیع کی ایک قسم خیال کرتے تھے اور ادائے قرضہ کی مدت جو بڑھاتے تھے اس کو خریدو فروخت کی ایک چیز اور اس مہلت کے معاوضہ میں جو رقم بڑھائی جاتی تھی اس کو اس مہلت کی قیمت انہوں نے قرار دے رکھا تھا لیکن وہ مدت کوئی مالیت کی چیز نہ تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس صورت کو بیع قرار دینا ان کا دیوانہ پن قرار دیا اور حشر میں بھی سزا ان کے لئے تجویز کی کہ وہ قبروں سے دیوانہ ہو کر اٹھیں گے ہاں جو لوگ سود کے حرام ہونے کی آیت کے بعد آئندہ سود لینے سے توبہ کرلیں گے ان کو آیت سے پہلے کا سود کا مواخذہ معاف ہے یہ تو سود خواروں کا عقبیٰ کا حال ہوا دنیا میں ان کے سودی مال کا وہی حال ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سود کے لالچ کے مارے وہ لوگوں کو روپیہ دیتے ہیں تھوڑے دنوں تو اپنا دل خوش کرلیتے ہیں کہ ایک ایک کے دو 2 دو 2 اور چار چار ہوگئے پھر تجربہ سے ہزاروں جگہ یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ آخر کو ان کا سود اصل سب کچھ اس طرح مٹ جاتا اور ڈوب جاتا ہے جس طرح خیرات کا مال دس سے سات سو تک بڑھتا ہے صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سود کے کھانے والے، کھلانے والے، سود کے لین دین کی تحریر لکھنے والے، گواہی دینے والے، سب پر لعنت فرمائی ہے 1۔ مراد مومنین سے اس آیت میں خاص کر وہ لوگ ہیں جو سود کو حرام جانتے ہیں اور سود کے معاملہ میں نہیں پڑتے سود خواروں کو ناشکرا اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسودگی کی نعمت جو دی تھی اس کی ناشکرگذاری انہوں نے اس مال کو نیک کاموں میں خرچ کر کے کچھ نہیں کی بلکہ سودخواری سے ناشکری اور گنہگار بن گئے مسند امام احمد ابن ماجہ مستدرک حاکم میں چند روز بڑہتی ہوئی دکھائی دیتی ہے لیکن انجام اس کا نقصان اور گھاٹا ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2۔ مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس بستی میں سود خواری بڑھ جائے گی وہاں اللہ کا عذاب ضرور آئے گا 3۔
Ayahs 2:278–280

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود کو چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کو نقصان اور نہ تمہارا نقصان

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر قرض لینے والا تنگدست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو ) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو تو تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو

(278 ۔ 280) ۔ مسند ابو یعلٰی موصلی، ابن مندہ، تفسیر ابن جریج، تفسیر مقاتل اور تفسیر سدی میں کلبی نے ابو صالح کی سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت بیان کی ہے اور مقتدمین مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سلسلہ روایت کا اچھا ہے قابل اعتراض نہیں ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ بنی عمرو بن عوف ایک قبیلہ تھا اسلام سے پہلے اس قبیلہ اور ایک دوسرے قبیلہ بنی مغیرہ میں سود کا لین دین تھا سود کے حرام ہوجانے کے بعد بنی عمروبن عوف نے اپنی باقی رقم سود کے تقاضا بنی مغیرہ سے کیا انہوں نے کہا اسلام کے بعد ہم سود کی رقم نہیں دیں گے یہ جھگڑا مکہ کے عامل عتاب بن اسید کے رو برو پیش ہوا انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس قصہ کی اطلاع لکھ کر بھیجی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرما دیا کہ جو لوگ مومن اور اللہ کے حکم کے فرماں بردار ہیں ان کو ہرگز روا نہیں ہے کہ حکم الٰہی سے سود کے حرام ہوجانے کے بعد پھر سود کی رقم کا مطالبہ کریں اور جس طرح یہ قرض دینے والے لوگ سود کی رقم کا مطالبہ نہ کریں اسی طرح قرض دار لوگ کو بھی یہ نہ چاہیے کہ وہ باوجود آسودہ حالی کے ان کی اصل رقم کے دینے میں دیر کریں۔ یا اصل رقم میں سے کچھ دبا رکھیں ہاں جو قرض دار تنگ دست ہوں ان کو اس قدر مہلت ضرور دی جائے کہ ان کا ہاتھ ذرا فراغت ہوجائے اور اگر قرض دینے والے شخص لوگ تنگ دست قرض دار کو قرضہ کی پور رقم یا اس کا کچھ حصہ معاف کر یدں تو ان کہ یہ جتلا یا جا چکا ہے کہ اس کے اجر میں دس سے لے کر سات سو تک خدا دے گا صحیح مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو قرض دینے والا شخص اپنے تنگ دست قرض دار کو اس کی فراغ دستی تک ادائے قرضہ کی مہلت دے گا تو للہ تعالیٰ حشر کے روز کے میدان کی گرمی میں ایسے شخص کو اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا اور اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حشر کے دن کی اور اس دن کی جزا سزا کی یاد دہی لوگوں کو اس لئے فرمائی ہے کہ عقبیٰ کمی جزا سزا ان کے دلوں پر جم جائے اور اس خیال سے نیک کاموں کی رغبت ان کے دلوں میں پیدا ہوجائے اور یہ بھی فرما دیا ہے کہ باوجود اس فہمایش اور نصیحت کے پھر بھی اگر کوئی شخص اللہ کے حکم کی مخالفت کرے گا تو اس کو چاہیے کہ اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑنے کو تیار ہوجائے غرض اس سے یہ ہے کہ اگر یہ لوگ مسلمان ہو کر مشرکوں کی طرح اللہ کے حکم کی مخالفت کریں گے تو مشرکوں کی طرح ان پر بھی اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو فوج کشی کرنے کا حکم دے گا۔
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جبکہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا

معتبر سند سے نسائی تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سب سے آخر قرآن شریف کی یہی آیت نازل ہوئی ہے 1۔ جس سے یہ اشارہ ہے کہ اس آیت کے بعد خوف آخرت ہے۔ ایک چیز ہے جو اللہ سے ڈرنے کا ذریعہ دنیا میں قیامت تک چھوڑا جاتا ہے رسول وقت کی صحبت قرآن شریف کا ہر نصیحت کے موقع پر نازل ہوتا آئندہ سے بند ہے چناچہ اس آیت کے نزول کے نو 9 راتوں کے بعد آنحضرت ﷺ نے وفات پائی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ جو آخری ذریعہ عقبیٰ کے پاک کرنے کا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے دنیا میں رکھا ہے وہی خوف عقبیٰ ہادی مطلق مسلمانوں کو ہدایت دے کہ کوئی مسلمان اس ذریعہ سے غافل نہ رہے آمین یا رب العالمین۔
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لیے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتاہو تو جو اس کو ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہو تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی اور جب گواہ (گواہی کے لئے) طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے لکھانے میں کاہلی نہ کرنا یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لیے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وشبہہ بھی نہیں پڑے گا ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور جب خریدوفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں) کسی طرح کا نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

سفیان ثوری (رح) نے بواسطہ مجاہد کے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ یہ آیت بیع سلم کے جائز ہونے کے حکم میں نازل ہوئی ہے 2۔ کسی چیز کی قیمت پیشگی دے کر وہ چیز کچھ مدت کے بعد لے جاوے تو اس کو بیع سلم کہتے ہیں اس کی شرائط اور ان شرائط میں علماء کا جو اختلاف ہے اس کی صراحت فقہ کی کتابوں میں ہے۔ صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آن حضرت ﷺ نے فرمایا کہ بیع سلم میں ماپ تول اور مدت بیع کا معلوم ہوجانا ضروری ہے 3۔۔ اس لئے علماء نے لکھا ہے کہ مہینوں کی مدت ہو تو اس کا صاف ذکر بیع سلم میں پجانا چاہیے مجہول مدت جیسے غلہ کا کٹنا یا کھلیانوں کا اٹھنا یا کسی قافلہ کا واپس آناایسی باتیں بیع سلم کی مدت مقرر کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں مدتی معاملہ کو لکھ لینے کا حکم اس لئے ہے کہ زبانی بات بہت دنوں تک یاد نہیں رہ سکتی یہی حال گواہی حال کا ہے کہ گواہی کے بعد معاملہ پکا ہوجاتا ہے۔ بھول چوک یا معاملہ کے انکار کی گنجائش پھر باقی نہیں رہتی کاتب اور گواہوں کو یہ تاکید فرمائی ہے کہ وہ لکھنے اور گواہی ادا کرنے میں کوتاہی نہ کریں کاتب سے جو بات کہی جائے وہ پوری لکھ دے گواہوں کو جتنی بات معلوم ہو وہ پوری گواہی اس کی ادا کر دیویں سچی گواہی کے ادا کرنے کے اجر اور چھوٹی گواہی کے وبال میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں گواہوں کے باب میں یہ فرمایا کہ جس شخص پر حق ہو اگر وہ کم عمر یا کم عقل ہو تو اس کا متولی ایمان داری سے پوری دست آویز لکھوا دے یہ بھی فرمایا کہ بڑے چھوٹے معاملہ کا خیال ان باتوں میں نہ کیا جائے ہر ایک معاملہ میں اس حکم کی تعمیل کی جائے۔ کیونکہ بھول بڑے چھوٹے معاملات میں یکساں ہیں۔ ہاں دست بدست کے معاملہ میں گواہی اکثر علماء کے نزدیک ضروری نہیں ہے اخیر پر فرمایا کہ جو شخص باوجود اللہ کی اس ہدایت کے اوپر عمل نہ کرے گا تو وہ گناہ کی بات ہے ایسی باتوں میں خدا سے ڈرنا چاہیے مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس وقت اقرار کو لکھ لینے کا حکم اس آیت میں اترا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جو اقرار کر کے اپنے اقرار کو بھول گئے وہ حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ نے ان کی سب اولاد کو جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا تو ان میں ایک صورت کو بڑا نورانی دیکھ کر حضرت آدم ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ یا اللہ یہ نورانی صورت کا کون شخص ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تمہارے بیٹے داؤد ( علیہ السلام) نبی ہیں حضرت آدم ( علیہ السلام) نے کہا یا اللہ داؤد ( علیہ السلام) کتنی عمر ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ساٹھ برس حضرت آدم ( علیہ السلام) نے عرض کیا ان کی عمر کچھ اور زیادہ ہوتی تو خوب تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اپنی ہزار برس کی عمر میں سے کچھ ان کو دے دو حضرت آدم ( علیہ السلام) نے چالیس برس اپنی عمر میں سے حضرت داؤد ( علیہ السلام) کو دینے کا اقرار کیا اور اپنی قبض روح کے وقت فرشتے سے کہا کہ ابھی میری عمر کے چالیس سال باقی ہیں اور فرشتہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کا قصہ یاد دلایا تو حضرت آدم (علیہ السلام) اس قصہ کو بالکل بھول گئے 1۔ اس آیت کے نزول کے وقت اس آیت میں جو اقرار کے لکھ لینے کا حکم تھا اس کی تفسیر میں جو آنحضرت ﷺ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اس سے خود معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے آیت کا یہ مطلب سمجھا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے اقرار کے بعد جو بھول ہوگئی تھی اس طرح کی بھول چوک روکنے کے لئے اقرار کے لکھ دلینے کا یہی حکم ارشاد یطور پر اس آیت میں ہے فرض کے طور پر نہیں ہے اور خودآنحضرت سے مرفوع طور پر یہ تفسیر آیت کی جب موجود ہے تو بعض علماء نے اس حکم کو فرض ٹھہرا کر آیت فان امن بعضکم بعضہا سے اس آیت کو جو منسوخ کیا ہے وہ ظاہر اً تفسیر مرفوع کے خلاف ہے۔