2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر پر ہو اور (دستاویز لکھنے والا مل نہ سکے) تو (کوئی چیز) رہن باقبضہ رکھ کر) قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کرے اور خدا سے جو اس کو پروردگار ہے ڈرے اور دیکھنا شہادت کو مت چھپانا جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

جب آدمی سفر میں ہوتا ہے تو بالکل اجنبی ہوتا ہے کسی سے جان پہچان کم ہوتی ہے اس سفر کی حالت میں اگر کچھ قرض لینے کی ضرورت ہو تو بغیر کسی چیز کے گروی رکھنے کے نہ کوئی اعتبار کرتا ہے نہ کچھ قرض مل سکتا ہے اس واسطے سفر کا ذکر خاص طور پر فرما کر اللہ تعالیٰ نے گروی کو اس آیت میں جائز فرمادیا۔ اگرچہ بعض علماء کا مذہب یہ ہے کہ اس آیت میں جب سفر کا ذکر ہے تو حالت سفر میں ہی گروی جائز ہے۔ حالت مقام میں گروی رکھوا کر حدیث فعلی سے اس آیت کی تفسیر فرما دی ہے کہ گروی حالت سفر میں اور حالت مقام دونوں حالتوں میں جائز ہے یہ آپ کی ذرع یہودی کے پاس گروی ہونے کی حدیث صحیحین میں ہے جس کی روایت حضرت انس ؓ سے ہے 2۔
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

دل کا وسوسہ آدمی کے قابو کی بات نہیں ہے بعض وقت سینکڑوں و سوسات دل میں گذرتے ہیں۔ اور آدمی اپنے آپ کو روک کر ایک کام بھی ان وسوسوں کے موافق نہیں کرتا۔ اس واسطے اس آیت میں دل کے وسوسہ پر حساب اور عذاب کا حکم آنے سے صحابہ کرام کو بڑا رنج ہوا پھر آنحضرت نے ان کو سمجھایا اور کہا کہ یہود اور نصاریٰ کی طرح اللہ کے حکم سے انحراف نہ کرو اور اللہ کا حکم مان لینا تو اس سے آگے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی تعریف کی اور دل کے وسوسہ پر جو عذاب کا حکم تھا اس کو منسوخ فرما دیا چناچہ اسی منسوخی کے باب میں صحاح ستہ کی کتابوں میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دل کے وسوسہ کو معاف کردیا ہے 1۔ اور صحیح حدیثوں میں بھی ہے کہ جب ظاہر عملوں میں کوئی شخص شیطان کے قابو کا نہیں ہوتا اور شیطان آدمی کے فعلوں میں بہکانے کا موقع نہیں پاتا تو آدمی کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے اس لئے دل میں وسوسوں کا آنا عین ایمان کی نشانی ہے 2۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ دل کے وسوسوں پر اللہ تعالیٰ کا مقصد عذاب کرنے کا سرے سے آیت میں تھا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد تو یہ تھا کہ قیامت کے دن تک کے سارے دل کے وسوسات کا حساب و کتاب رکھاجائے گا۔ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے وہ وسوسات یاد دلا کر معاف فرمائے گا تاکہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عنایت کی زیادہ قدر ہو ان معنوں کے سبب سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔
Ayahs 2:285–286

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم اس پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے نقصان پہنچے گا اسے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مواخذہ نہ کیجیو اے پروردگا ہم ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

(285 ۔ 286) ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث مسلم اور نسائی کے حوالہ سے اوپر گذر چکی ہے کہ سورة فاتحہ اور سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں ایسے دو نور ہیں کہ حضرت محمد ﷺ سے پہلے یہ نور کسی نبی پر نازل نہیں ہوئے 3۔ مسند امام احمد اور صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص رات کو سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں امن الرسول سے سورت کے ختم تک پڑھ لے گا اس کی تمام رات کی عبادت اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائے گی 1۔ مسند امام احمد وغیرہ میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عرش معلے کے نیچے اللہ تعالیٰ کا ایک خزانہ ہے اس میں سے سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہیں 2۔ شداد بن اوس ؓ سے طبرانی نے یہ روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں سورة بقرو کی یہ آیتیں پڑھی جائیں اس گھر پر شیطان کا اثر باقی نہیں رہتاطبرانی کی سند اس روایت کی معتبر اور جید ہے 3۔ حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ جتنے ایمان دار لوگ ہیں ان کو اس بات کا پورا یقین ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اس کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں اللہ کے سب رسول اور سب آسمانی کتابیں برحق ہیں اللہ کے حکم سے اگرچہ بعض شریعتیں بعض شریعتوں سے منسوخ ہو کر پھر پچھلی سب شریعتیں شریعت محمدی سے منسوخ ہوئی ہیں۔ اور اب قیامت تک یہی شریعت محمدی قائم رہے گی۔ لیکن اپنے اپنے وقت پر وہ سب نبی اللہ کے نبی اور سب کتابیں اللہ کی ہیں کسی رسول اور کتاب کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا یہ حکم الٰہی کے بالکل مخالف ہے اللہ کے فرشتے اللہ کی مخلوق ہیں اور جس کام پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مامور کردیا ہے وہ اس کے بجا لانے میں اللہ کے پورے فرماں بردار ہیں لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا سے اوپر کی آیت وہ منسوخ ہوئی ہے جس میں دل کے وسوسہ پر محاسبہ کا حکم تھا لہا ما کسبت و علیہا ما اکتسبت کی تفسیر حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیثوں میں جن کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے یہ ہے کہ انسان نیک کام کا محض قصد بھی دل میں کرے تو اس قصد کے اجر میں ایک نیکی کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے اور گر اپنے اس قصد کے موافق وہ نیک کام کرے تو دس سے لے کر سات سو نیکیوں تک کا ثواب لکھا جاتا ہے اور برے کام کے محض ارادہ اور قصد پر کوئی بدی نہیں لکھی جاتی جب تک آدمی اس برے کام کو کر نہ لیوے 4۔ اور برے کام کا ارادہ کر کے اگر آدمی اس کام کے کرنے سے باز رہے تو اس باز رہنے کے اجر میں بھی ایک نیکی کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔ باقی لفظ ان دونوں آیتوں میں دعا کے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سکھائے ہیں کہ وہ اس معبود سے اس طرح دعا کیا کریں۔ اس سورت میں نماز روزہ حج نکاح طلاق ایلا رضاعت بہت سے احکام ہیں اس لئے یہ سورت قرآن شریف کی گویا کتاب الاحکام ہے اس کے معنی سخت تکلیف کے ہیں یہود پر سخت احکام جو نازل ہوئے تھے مثلاً توبہ کی جگہ قتل پچاس نمازیں ‘ چوتھائی مال کی زکوٰۃ نزول قرآن کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی ہے تاکہ قرآن شریف میں نرم احکام نازل ہوں اور اگر کوئی سخت حکم نازل بھی ہو تو وہ اس دعا کی برکت سے اسی طرح منسوخ ہوجائے جس طرح دل کے وسوسہ کی آیت منسوخ ہوئی یہ محض اللہ کا فضل ہے جو اس نے اس دعا کے سکھانے سے اپنے بندوں پر کیا ہے یہ وقت تو ایسا ہے کہ نرم احکام کی تعمیل بھی ہم لوگوں سے نہیں ہوسکتی اس وقت اگر کچھ سخت احکام باقی رہ جاتے تو ہم لوگوں کے لئے بڑی دشواری تھی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس دشواری کو آسان کردیا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے فضل سے دین دنیا کی سب دشواریاں آسان کر دے۔ آمین یا ارحم الراحمین۔