3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 3:1–4

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، زندہ ہمیشہ رہنے ولا

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے (اے محمد ﷺ ! ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لئے (تورات اور انجیل اتاری) اور پھر (قرآن جو حق اور باطل کو (الگ الگ کردینے والا (ہے) نازل کیا، جو لوگ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا، اور خدا زبردست (اور بدلہ) لینے والا ہے

(1 ۔ 4) سورة آل عمران کی فضیلت میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں یہ سورت مدنی ہے اس سورت کی دو سو آیتیں ہیں اس تفسیر کے مقدمہ میں اس کا ذکر ہے کہ تفسیر ابن ابی حاتم بڑی صحیح تفسیر ہے اس میں اور صحیح تفسیروں میں جو روایتیں ہیں 1 ان کا حاصل یہ ہے کہ 9؁ ہجری میں کچھ عیسائی لوگ شام اور یمن کے ما بین میں ایک بخران بستی ہے وہاں سے اپنی قوم کی طرف سے ایلچی بن کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے اور ان عیسائی لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کا بیٹا ہونے میں آنحضرت ﷺ سے بڑا مباحثہ کیا اس پر اس سورة کی اکثر آیتیں نازل ہوئیں جن میں مباہلہ کی آیت بھی ہے۔ مباہلہ کی پوری تفصیل تو اسی آیت کی تفسیر میں آئے گی لیکن اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب دو فریق میں کسی دینی امر کا جھگڑا ہو اور وہ جھگڑا زبانی مباحثہ سے طے نہ ہو تو دونوں فریق و مع قریب کے رشتہ داروں کے جنگل میں جانے اور فریق ہٹ دہرم پر عذاب الٰہی نازل ہونے کی بد دعا کرنے کا حکم ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جب وہ عیسائی لوگ مباہلہ کی آیت سے پہلے کی آیتوں میں طرح طرح کی جو نصیحتیں تھیں ان کو خیال میں نہ لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہنے کی ہٹ دہرمی پر اڑے رہے تو آخر مباہلہ کی یہ آیت اتری اور اس آیت کے اترتے ہی آنحضرت ﷺ حضرت علی ؓ و فاطمہ ؓ و حسن ؓ و حسین ؓ کو ساتھ لے کر جنگل میں تشریف لے گئے اور ان عیسائی لوگوں کو آدمی بھیج کر بلایا مگر ان عیسائیوں میں کئی شخص بڑے پادری تھے انہوں نے مباہلہ منظور نہیں کیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ نبی سے مباہلہ کرنا بڑی خرابی کی بات ہے غرض ان لوگوں نے مباہلہ قبول نہیں کیا اور سالانہ خراج دینا قبول کرلیا اس پر آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر یہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے تو ضرور آسمان سے آگ برستی 1۔ اور یہ لوگ وہیں جنگل میں جل کر بھسم ہوجاتے۔ الم ان حروف مقطعات کی بحث سورة بقر میں گذرچ کی ہے اور یہ حدیث بھی گذرچ کی ہے کہ اسم اعظم ان دونوں میں آیتوں ہے اللہ لا اللہ الا ھو الحی القیوم و الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم 2۔ صحیح حدیثوں میں ہے کہ اسم اعظم کے پڑھنے کے بعد آدمی جو دعا مانگے وہ ضرور قبول ہوتی ہے 2۔ حیی ٌ کے معنی ہمیشہ باقی رہنے والا قیوم کے معنی اپنی ذات سے قائم رہ کر تمام مخلوقات کا ہر طرح کا بندوبست کرنے والا ان دونوں لفظوں کے ذکر فرمانے میں یہ نصیحت ہے کہ جب ان عیسائی لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ یہودیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) میں کوئی صفت ان دونوں صفتوں میں کی نہ پائی گئی کیونکہ جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہو اس کو سولی پر چڑھانا اور جس کے ہاتھ میں تمام عالم کا انتظام ہو یہودیوں کا اس کے انتظام سے باہر ہو کر اتنی بڑی بےانتظامی کا پھیلانا کس طرح ہوسکتا ہے پھر باپ بیٹے میں مناسبت کیونکر ہوئی اور ان لوگوں کے اعتقاد کے موافق عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کس مناسبت سے کہا جاسکتا ہے۔ اب آگے یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح موسیٰ پر تورات اور عیسیٰ پر انجیل نازل فرمائی اسی طرح نبی آخر الزمان پر قرآن نازل فرمایا جس طرح قرآن میں ان کتابوں کی صداقت موجو ہے اسی طرح ان کتابوں میں قرآن کی صداقت موجود ہے۔ ایک کو بھی ان میں سے جھٹلایا جائے تو دوسرے کی صداقت کو بٹا لگتا ہے۔ پھر یہ لوگ قرآن کے کیوں منکر ہیں جس سے سخت عذاب ان کو بھگتنا پڑے گا۔ پھر یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ ایسا زبر دست ہے کہ وقت مقرر پر کتاب آسمانی کے منکروں سے جب وہ بدلہ لینا چاہے گا تو اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اللہ سچا ہے۔ اللہ کا کلام ہے۔ دنیا میں تو ان لوگوں سے اللہ تعالیٰ نے یہ بدلہ لیا کہ ان آیتوں کے نزول سے پانچ برس کے بعد ان لوگوں کی بستی پر اہل اسلام کا قبضہ کرا دیا۔ اور عقبیٰ کا بلا عقبیٰ کے ساتھ ہے۔
Ayahs 3:5–6

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

(5 ۔ 6) حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ایسا وسیع ہے کہ اس کو زمین و آسمان کی سب غیب کی باتیں معلوم ہیں کوئی اس کے علم سے باہر نہیں ہے اس لئے ماں کے پیٹ میں گورا ‘ کالا ‘ لڑکا ‘’ لڑکی ‘ نیک و بد سب کچھ اس کے علم کے موافق ہوتا ہے اسی کو تقدیر کہتے ہیں اب اس میں ان عیسائی لوگوں کو یہ دھمکی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہہ کر خدا کی توحید میں جو یہ لوگ خلل ڈالتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں ذرا ذرا یہ سب باتیں اللہ کو معلوم ہیں اور ان لوگوں کے اعمال نامہ میں یہ سب باتیں لکھی جاتی ہیں وقت مقرر آنے کی دیر ہے پھر یہ لوگ دیکھ لیں گے کہ کیا ہوتا ہے اور اس دھمکی کے ساتھ ہی یہ فہمایش بھی ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) اور مخلوق کی طرح حضرت مریم (علیہ السلام) کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور ماں کے پیٹ میں نطفہ کی حالت سے لے کر پیدائش کی حالت تک بچہ پر جو کچھ تغیرات گذرتے ہیں وہ ان کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں تو پھر باوجود اس کے عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ لوگ خدا کا بیٹا کس مشابہت سے کہتے ہیں۔ رہا عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے حضرت مریم کے پیٹ سے پیدا ہونا یہ اللہ کی اس قدرت سے کچھ بعید نہیں جس قدرت سے اس نے آدم ( علیہ السلام) اور حوا کو بغیر ماں اور باپ کے پیدا کردیا۔ کیونکہ وہ بڑا زبر دست حکمت والا ہے۔ کوئی مشکل کام اس کی حکمت کے آگے مشکل اور کوئی بڑا کام اس کی قدرت کے آگے بڑا نہیں۔ اگرچہ یہ آیتیں ان بخرانی عیسائیوں کی شان میں اتری ہیں۔ لیکن قرآن کی نصیحتیں عام ہیں اب کسی قوم کے کسی شخص میں کسی نصیحت کے قابل کوئی ویسی بات پائی جائے گی تو قرآن کی نصیحت گویا اسی کی شان میں ہوگی۔
Ayahs 3:7–9

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں، تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ علم میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے پروردگا کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقلمند ہی قبول کرتے ہیں

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے پروردگار ! جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کردیجیو اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما۔ تو تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے پروردگار تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا۔ بیشک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا

(7 ۔ 9) سب سے پہلے یہ ایک بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف میں محکم اور متشابہ کو دو معنے میں اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے ایک استعمال کی رو سے تو سارے قرآن کو ایک جگہ محکم فرمایا ہے اور دوسری جگہ متشابہ جس استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا قرآن محکم بھی ہے اور متشابہ بھی ہے چناچہ فرمایا ہے کہ کتاب احکمت ایاتہ (11۔ 1) پھر دوسری جگہ فرمایا کتابا متشابہا (39۔ 23) اس محکم کے یہ معنی ہیں کہ سارا قرآن فصاحت و بلاغت اور اخبار غیب میں محکم ہے کسی جگہ قرآن شریف کے ان اوصاف میں خلل واقع نہیں ہوا ہے چناچہ اسی وجہ سے عرب کے فصیح وبلیغ مشرک لوگ باوجود سخت مخالف ہونے کے قرآن شریف کی کسی ایک آیت کی مانند بھی ایک آیت بنا کر نہ لاسکے اور اس متشابہ کے یہ معنی ہیں کہ سچے ہونے میں اور کلام الٰہی ہونے میں اور معجزہ ہونے میں جیسے ایک آیت ہے ہو بہو ویسی دوسری ہے ایک دوسری سے ایسی مشابہ ہے کہ گویا ایک ہی ہے۔ دوسرا استعمال محکم اور متشابہ کا یہ ہے کہ بعض آیتوں کو اللہ تعالیٰ نے محکم فرمایا ہے اور بعض کو متشابہ اور متشابہ کے معنی میں غور کرنے سے منع فرمایا ہے جس طرح کہ اس آیت میں ہے اور اس محکم اور متشابہ میں ہی علماء کی بحث ہے اور اس بحث کا طے کردینا بقدر ضرورت یہ ہے کہ معتبر مفسرین اور علماء اور ائمہ مذہب نے بالا تفاق اس بات کو مان لیا ہے کہ تفسیر کی بابت جس مسئلہ میں اختلاف ہو تو وہاں عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول سب سے بڑھ کر ہے کیونکہ صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ آنحضرت نے خاص طور پر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے لئے دعا کی ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو قرآن شریف کا مطلب سکھائے 1۔ اور ان سے اس علم تفسیر کو دنیا میں پھیلائے اب حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تفسیر کی باتوں کو بہت سے طریقوں سے روایت کیا جاتا ہے مگر ان سب طریقوں میں اعلیٰ درجہ کا طریقہ علی ابی طلحہ ہاشمی کا ہے جس کو امام بخاری (رح) نے اپنی کتاب التفسیر میں اپنا معتمد علیہ قرار دیا ہے اور امام احمد بن حنبل (رح) نے اس طریقہ کی نسبت یہ فرمایا ہے کہ مدینہ سے مصر تک اس طریقہ کی ایک روایت کے لئے کوئی شخص سفر کرے تو گویا اس نے اس روایت کو مفت پایا۔ اب تفسیر ابن ابی حاتم میں علی بن ابی طلحہ کے طریقہ سے محکم اور متشابہ کے معنوں کی بابت جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے وہ نقل کی جاتی ہے تاکہ اجماع مفسرین کے موافق اور کسی صحابی تابعی کا قول یا دوسرے ادنیٰ طریقہ کا خود عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول جو اس روایت کے مخالف ہو وہ حجت قائم کرنے کے قابل نہ رہے اور یہ عدت دراز کی مفسروں کی بحث طے ہوجائے وہ روایت یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں جو آیتیں عمل کے لئے نازل ہوئی ہیں وہ محکم ہیں۔ اور جن سے عمل متعلق نہیں فقط ان پر بندوں کا ایمان لانا اللہ کا مقصود ہے جیسے صفات الٰہی کی آیات یا قیامت یا دجال کے حال کی آیات یا حروف مقطعات یہ سب متشابہ ہیں 2 اب رہی یہ بات کہ ان متشابہ آیات کا حکم کیا ہے آیا اللہ تعالیٰ کے ان کے معنی ان کی تاویل کو کوئی جانتا ہے یا نہیں اس کا حال یہ ہے کہ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ متشابہ پیتوں کے تاویل کے درپے ہوں ان کو اللہ کا خوف دلاؤ1۔ اور انہی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی مرفوع روایت تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ متشابہ آیتوں کا مطلب سو اللہ کے کسی کو معلوم نہیں جو کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ اس کو متشابہ آیات کا مطلب یا تاویل معلوم ہے۔ تو وہ جھوٹا ہے 2 اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ محکم آیتوں پر عمل کرو اور متشابہ فقط ایمان لاؤ3۔ اس روایت مستدرک سے عبد اللہ بن عباس ؓ کی اس روایت کی پوری تائید ہوتی ہے جو تفسیر ابن ابی حاتم کے حوالہ سے اوپر محکم اور متشابہ کے معنوں کی صراحت میں بیان کی گئی ہے کیوں کہ جو اس روایت کا مطلب ہے کہ محکم وہ آیت ہے جس سے عمل متعلق ہو اور متشابہ وہ آیت ہے جس سے محض ایمان متعلق ہو وہی اس روایت مرفوع کا حاصل ہے۔ صحابہ میں اگرچہ دس صحابی خلفائے اربعہ ‘ عبد اللہ بن عباس ؓ ، عبد اللہ بن مسعود ؓ ، ابی بن کعب ؓ ، زید بن ثابت، ؓ ابو موسیٰ اشعری ؓ ، اور عبد اللہ بن زبیر ؓ ، مفسرین مشہور ہیں۔ لیکن عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ یہ دونوں زیادہ مشہور ہیں اور بہ نسبت دوسروں کے تفسیر میں ان دونوں کی روایت زیادہ معتبر ہیں۔ اس لئے ان دونوں کی روایت سے محکم اور متشابہ کے معنی بیان کر دئیے گئے اور طبرانی میں ابی مالک اشعری سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اپنی امت سے یہ خوف ہے کہ صحابہ اور تابعین کا زمانہ اس طریقہ پر گذرا ہے کہ متشابہ آیتوں کی تاویل کے وہ لوگ درپے نہ ہوتے تھے بلکہ اس کو برا جانتے تھے چناچہ دارمی، وغیرہ میں ایک شخص صبیغ کا قصہ ہے کہ وہ مدینہ میں لوگوں سے متشابہ آیتوں کے معنی پوچھا کرتا تھا حضرت عمر ؓ نے اس کو اتنا پٹوایا کہ اس کا سر لہو لہان ہوگیا اور وہ جب چلانے لگا کہ جو بات میرے دماغ میں بسی ہوئے تھی وہ نکل گئی تو حضرت عمر ؓ نے اس کو چھوڑا 5۔ اب آخر سب دین ہم لوگوں تک صحابہ اور تابعین سے ہی آیا ہے اس لئے اس باب میں بھی انہیں کی پیروی کرنی چاہیے سوا اس کے تفسیر ابن جریر کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی یہ قرأت موجود ہے کہ ان تاویلہ الا عند اللہ جس کا مطلب یہ ہے کہ آیا متشابہات کے صحیح معنی سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں 6 اور مفسرین کے نزدیک صحیح قرأت کا حکم بمنزلہ آیت کے حکم کے ہوتا ہے تو اب اس باب میں دوسرے معنی کی کیا گنجایش باقی رہی سورة النساء میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں یہ لفظ آئے ہیں { اِنَّمَا الْمَسِیْحُ ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَکَلِمَتِہِ اَلْقَاہَا اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحُ مِنْہُ } (4۔ 71) جس کا مطلب صحیح یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا کوئی باپ نہیں اس لئے ماں کی طرف ان کی نسبت کرکے ان کو عیسیٰ ابن مریم کہا جاتا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کی پیدائش اللہ کے حکم کلمہ کن سے اور اس روح سے ہے جس کو اللہ کے فرشتے جبرئیل نے اللہ کے حکم سے مریم کے جسم میں پھونک دیا اب وہی نجرانی عیسائی لوگ اہل اسلام کو شک میں ڈالنے کے لئے اس کے معنی یہ بتلاتے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں اور اسی طرح بعض یہودی لوگ حروف مقطعات کے کچھ غلط معنی بتلاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے فاما الذین فی قلوبہم زیغ سے آخر رکوع تک جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل حق بات کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں وہ اپنا غلط مطلب ثابت کرنے اور دوسروں کو شک میں ڈالنے کے لئے ایسی باتیں کرتے ہیں جو لوگ اپنے علم دین میں مضبوط ہیں ان کا یہ کام نہیں ہے بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ محکم اور متشابہ آیتیں سب اللہ کا کلام ہے جن متشابہ آیتوں کا مطلب اللہ تعالیٰ نے کسی دوسری آیت سے ہم کو سمجھا دیاوہ ہم کو معلوم ہے باقی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے مثلا آیت ان عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم (3۔ 59) اور آیت ان ھو الا عبد النعمنا علیہ ( 43۔ 59) سے آیت انما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ و کلمتہ القاہا الی مریم وروح منہ (4۔ 171) کا جو مطلب ہم کو معلوم ہے اس کو ہم جانتے ہیں حروف مقطعات کا مطلب کسی دوسری محکم آیت سے ہم کو معلوم نہیں ہوا اس لئے ان کا مطلب ہم نہیں جانتے پھر یہ فرمایا کہ یہ علم دین میں مضبوط رہنے والے لوگ اللہ سے یہ دعا بھی مانگتے ہیں کہ حق بات سے پھرے ہوئے دل والے لوگوں کی حالت سے یا اللہ تو ہم کو بچا اور جس طرح تو نے حق بات کی ہم کو ہدایت دی ہے اسی ہدایت پر قائم رہنے کی توفیق دے کہ تو ہی اپنے بندوں کو ہر طرح کے نیک کام کی توفیق کا دینے والا ہے اور قیامت کے دن نیک و بد سب کو جمع کرنے اور ہر ایک کو جزا و سزا کا تیرا جو سچاوعدہ ہے اس کے موافق اس ہر طرح کے نیک کام کی جزا ہم کو عنایت فرما اسی دعا کی رغبت دلانے کے لئے آنحضرت ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے { اَللّٰہُمَّ مُصَرِّفُ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلٰی طَاعَتِکَ } چناچہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی روایت سے یہ حدیث صحیح مسلم میں آئی ہے 1۔ اور صحابہ کرام کے زمانہ کے بڑے حصہ تک اس دعا کا اثر بھی رہا پھر حضرت علی ؓ کے زمانہ میں فرقہ خارجیہ اور خدا جانے کون کون پیدا ہوں گے اب جس طرح محکم اور متشابہ کے معنی کے جاننے اور نہ جاننے میں علماء کا اختلاف ہے اسی طرح آیت وما یعلم تاویلہ الا اللہ والراسخون فی العلم کی قرأت میں بھی یہ اختلاف ہے کہ الا اللہ پر وقف کرنا اور ٹھہرا چاہیے یا نہیں اس میں امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول یہی ہے کہ الا اللہ پر وقف کرنا اور ٹھہرنا چاہیے اور اس سے کو حرج دینی بھی لازم نہیں آتا کیونکہ ضرورت دینی کی جس قدر باتیں تھیں وہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر المعنی آیتوں میں بتلا دی ہیں اور پھر ان آیتوں میں کوئی آیت بہم تھی تو اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے اس کو کھول دیا ہے مثلاً یوم یاتی بعض آیات ربک لا ینفع نفسا ایمانہا (6۔ 158) میں یہ امر بہم تھا کہ وہ کونسی نشانی ہے جس کے ظاہر ہوجانے کے بعد ایمان لانے والے شخص کا ایمان اور توبہ کرنے والے شخص کی توبہ قبول نہ ہوگی اللہ کے رسول ﷺ نے بتلادیا کہ وہ نشانی سورج کا مغرب کی طرف سے نکلنا ہے 4۔ مگر یہ نہیں بتلایا کہ مغرب کی طرف سے سورج کب نکلے گا اس لئے اس سے کوئی دینی بات متعلق نہ تھی جس طرح مثلاً حروف مقطعات کے معنوں سے کوئی دینی غرض متعلق نہیں ایسی ہی باتوں کا علم اللہ تعالیٰ کو سونپنا اور اس کے جاننے میں عقل کو نہ دوڑانا اسی کا نام دین کی مضبوطی ہے اور یہی طریقہ صحابہ اور تابعین کا تھا اور اسی طریقہ کے چھوڑ دینے سے بہت سے فرقے گمراہ ہوگئے اور اس گمراہی سے بچنے کی وہ دعاء ہے جس کا ذکر آیت اور حدیث میں ہے۔
Ayahs 3:10–11

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے (اس دن) نہ تو ان کا مال ہی خدا (کے عذاب) سے ان کو بچاسکے گا اور ان کی اولاد ہی (کچھ کام آئے گی) اور یہ لوگ آتش (جہنم) کا ایندھن ہوں گے

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا، جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب عذاب میں پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

(10 ۔ 11) اوپر کی آیتوں میں یہ ذکر تھا کہ پچھلی کتابوں میں قرآن کی اور قرآن میں پچھلی کتابوں کی صداقت موجود ہے اس پر بھی جو لوگ کلام الہٰی کی آیتوں کو جھٹلائیں گے ان کو سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اگر ان لوگوں کو یہ خیال ہو کہ جس طرح دنیا کی بعض آفتوں سے یہ لوگ اپنے مال اور اولاد کے سبب سے بچ جاتے ہیں اسی طرح عقبیٰ میں بھی ان کا مال ان کی اولاد ان کے کچھ کام آجائیں گے تو ان لوگوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے عقبیٰ میں تو انہی لوگوں کا صدقہ خیرات کا مال اور ان ہی کی نیک اولاد کام آئیں گے جن کے دل میں نور ایمان کی کچھ چمک ہے اور جو لوگ اللہ کے کلام اللہ کے رسول کے جھٹلانے کے درپے ہیں ان کے مال و اولاد کا حال تو عذاب الٰہی مسلط ہوجانے کے بعد عقبیٰ میں وہی ہوگا جو دنیا میں انہوں نے فرعون کا حال سنا کہ عذاب الٰہی کے نازل ہوجانے کے بعد ایک دم میں مع اپنے لشکر کے غرق ہوگیا اتنی بڑا مال دار اور اتنا بڑا لشکر کوئی چیز بھی اس کے کام نہ آئی مسند امام احمد اور صحیحین میں انس ؓ بن مالک سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس قسم کے منکر لوگوں کو جب دوزخ میں ڈالا جائے گا تو ان سے پوچھا جائے گا کہ بھلا اگر ساری دنیا کی زمین بھر کے سونا تم لوگوں کے پاس اس وقت ہو تو تم اس کو دے کر عذاب سے بچنے کا ارادہ رکھتے ہو وہ لوگ کہیں گے ہاں۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ایک آسمان بات شرک سے باز رہنے کی تم لوگوں سے چاہی گئی تھی وہ تم سے نہ ہوسکی تو اب کیا ہوسکتا ہے 1۔ اس سے معلوم ہوا کہ معمولی مال تو درکنار بغیر ایمان کے زمین بھر سونا بھی وہاں عذاب الٰہی سے کسی منکر کو نہیں بچا سکتا۔
Ayahs 3:12–13

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! ) کافروں سے کہہ دو کہ تم (دنیا میں بھی) عنقریب مغلوب ہوجاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بری جگہ ہے

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

تمہارے لیے دو گروہوں میں (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑگئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی، ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑرہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے، جو اہل بصارت ہیں ان کے لئے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے

(12 ۔ 13) ۔ ابو داؤد اور بیہقی اور تفسیر ابن منذر بن بسند میں معتبر عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش کو مسلمانوں کے ہاتھ سے جنگ بدر میں صدمہ پہنچا جس کا قصہ سورة انفال میں آئے گا تو اس پر یہود نے آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا کہ قریش اناڑی اور لڑائی سے ناواقف تھے جس دن آپ سے اور ہم لوگوں سے لڑائی ہوگی اس دن قدر کھل جائے گی کہ لڑائی ایسی ہوتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے۔ آخر کو وہ یہ ہوا جو اس آیت میں تھا کہ ان یہودیوں میں سے بنی قریظہ قتل ہوئے اور بنی نضیر نکالے گئے باقی یہود پر وہ سالانہ خراج قائم ہوگیا جس کو جزیہ کہتے ہیں اور پھر یہ تو ان لوگوں کی دنیا کی آفتیں ہوئیں اور وہ عذاب آخرت کا جس کا ذکر آیت میں ہے اس کی سختی کا تو کچھ ٹھکانا نہیں بدر کی لڑائی کے بعد جو یہود نے عرب کی ناواقفی فن جنگ پر اپنی نخوت ظاہر کی تھی اور اپنی واقف کاری فن جنگ کا دعویٰ کیا تھا آیت کے آخر پر اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اسلام اللہ کے نزدیک ایک دین حق ہے اور اللہ ہمیشہ سے حق کا مددگار ہے اس لئے اللہ کی مدد سے اہل اسلام کو باوجود قلت لشکر اور قلت سامان جنگ کے جو فتح حاصل ہوئی ہے وہ کچھ اسی بدر کی لڑائی پر منحصر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اس دین حق کی ہمیشہ ایسی مدد کرے گا اس لڑائی میں مسلمانوں کے تین سو تیرہ آدمی تھے اور دوگھوڑے اور چھ زرعیں اور آٹھ تلواریں تھیں اور مشرکین مکہ ہزار کے قریب تھے اور لڑائی کا سامان بھی ان کے ساتھ بہت کچھ تھا اس صورت میں دشمنوں کی فوج اگرچہ مسلمانوں کے تین گنی تعداد سے بھی زیادہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ ایک حکمت تھی کہ دشمن کی فوج عین لڑائی کے وقت مسلمانوں کو اپنی فوج سے دو چند نظر آئے اور ان کی ہمت لڑنے کے لئے بندھی رہی اور لڑائی سے پہلے ہر ایک لشکر کے آدمی دوسرے لشکر کے آنکھوں میں بالکل تھوڑے سے جچے جس کے سبب سے ہر ایک گروہ لڑنے پر آمادہ ہوگیا اور لڑائی شروع ہوگئی اور سورة انفال کی آیت { وَاِذْ یُرِیْکُمُوْھُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلاً وَّ یُقَلِلُکُمْ فِیْ اَعْیُتِہِمْ } (8۔ 44) کو ملا کر پر ہنے سے یہ مطلب خوب سمجھ میں آتا ہے فتح غیر متوقہ کے اور اسی حکمت کے جتلانے کے لئے آخر کو فرمایا ہے کہ اس بدر کی لڑائی سے سمجھ دار لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہیے۔
Ayahs 3:14–15

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں، اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانہ ہے

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ان سے کہو) کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو ؟ (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لئے خدا کے ہاں باغاتِ (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے

(14 ۔ 15) ۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ مال اور اولاد کے سبب سے آدمی خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکتا اس ذکر کے بعد جہاد کا ذکر تھا کہ عذاب الٰہی سے بچنے کے لئے آدمی نیک عمل کرے اب مال اور اولاد کا ذکر پورا کرنے کے لئے دنیا میں جن چیزوں پر لوگوں کے دل زیادہ گرویدہ اور راغب ہیں پہلے آیت میں ان چیزوں کا ذکر فرما کر دوسری آیٍت میں ان چیزوں سے لوگوں کو اس طرح بےرغبت کیا ہے کہ خود دنیا کو دنیا کی ہر ایک چیز کو زوال لگا ہوا ہے اس لئے قابل رغبت جنت کی نعمتیں ہیں جن کو کبھی زوال نہیں قطع نظر زوال نہ ہونے کے زبان یا قلم میں یہ طاقت کہاں ہے کہ جنت کی چیزوں کی خوبیاں بالتفصیل بیان کرسکے اس واسطے خود اللہ کے رسول ﷺ نے جنت کی چیزوں کے اوصاف جس مختصر مطلب خیز لفظوں میں بیان فرمائے ہیں ان کا مطلب بیان کیا جاتا ہے کہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت میں وہ نعمتیں ہیں جن کا حال نہ دنیا میں کسی نے آنکھ سے دیکھا نہ کان سے سنا نہ کسی کے دل میں ان کا خیال و تصور گذر سکتا ہے 1۔ دنیا میں آدمی دنیا کی نعمتوں کی کبھی نا شکری کرتا ہے جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ کی ناخوشنودی ہو کر دنیا کی نعمتوں میں کمی ہوجاتی ہے جنت میں شرع کی تکلیف کے نہ ہونے اللہ تعالیٰ کی نا خوشنودی کا کھٹکا جنتیوں کو نہیں اس لئے جنت کی نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہمیشہ کی رضا مندی کا ذکر آیت میں فرمایا ہے اور یہ سب سے بڑھ کر ایک نعمت ہے چناچہ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا میری ہمیشہ کی رضا مندی تمہارے لئے سب سے بڑھ کر ایک نعمت ہے 1۔ حاصل یہ ہے کہ انسان کو دنیا کی نعمتوں پر اس قدر گرویدہ نہیں ہونا چاہیے کہ جس سے دین کے کاموں میں فتور پڑ کر جنت کی نعمتوں سے محروم رہ جائے چناچہ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آیت کو واللہ بصیر بالعباد پر ختم کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جنت کی نعمتیں ہر شخص کو اس کے عمل کے موافق ملیں گی۔ علماء کا اختلاف ہے کہ قنطار کس قدر مال کو کہتے ہیں مستدرک حاکم میں حضرت انس ؓ سے بسند صحیح روایت ہے کہ قنطار دو ہزار اوقیہ کا ہوتا ہے 2۔ اور ہر اوقیہ میں چالیس درہم ہوتے ہیں مُسَوَّمَۃ چرائی کے عمدہ گھوڑے کو کہتے ہیں۔
Ayahs 3:16–17

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں

(16 ۔ 17) ۔ اوپر کی آیت کو اللہ تعالیٰ نے واللہ بصیر بالعباد پر ختم فرما کر اس آیت میں اپنے بندوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے اعمال نیک اور وہ اپنے اعمال کے سبب سے جنت کی نعمتوں کے پورے مستحق ہیں اور ان کی نشانیاں یہ فرمائیں کہ احکام شرع کے پابند اور اعمال شرع کی تکلیفات پر صابر صادق الاقوال جو کہیں سو کریں۔ نیک کاموں میں اپنا مال خرچ کرنے کو تا دیر عذاب الٰہی سے بچنے کی دعا اور گناہوں کی مغفرت کی دعا میں ہر وقت خصوصاً پچھلی رات کو قریب صبح لگے رہتے ہیں اس وقت کا اس لئے ذکر فرمایا کہ بڑی قبولیت کا وقت ہے۔ چناچہ صحیحین وغیرہ میں صحابہ کی ایک جماعت 3 سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ تہائی رات باقی رہے ہر رات کو اللہ تعالیٰ اول آسمان پر نزول فرما کر یہ فرماتا ہے کہ کوئی دعا یا استغفار کرنے والا ہو تو اس کی دعا اور توبہ قبول کرنے کو اور کوئی کچھ حاجت رکھتا ہوں تو اس کی حاجت روائی کو میں موجود ہوں 4۔
Ayahs 3:18–20

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم حاصل ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا۔ اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے تو خدا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہوچکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے اور) اسلام لاتے ہو ؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مان لیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچادینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے

(18 ۔ 20) جن نجرانی عیسائی لوگوں کا اوپر ذکر تھا یہ آیتیں بھی انہی کے ذکر میں ہیں۔ لیکن توحید پر تو آخر یہود عیسائی مشرکین مکہ سب کو لانا اللہ کو منظور ہے۔ اس لئے توحید کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں اس کا ذکر تصدیق کے طور پر کیا ہے کہ اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب او لوالعزم انبیاء اور ان کے ساتھی اسی توحید کے دین پر تھے کبھی کوئی شر کی دین اللہ کو پسند نہیں ہوا اسی طرح اللہ کے فرشتے آسمان پر ہمیشہ سے اس توحید کا دم بھرتے ہیں اور اب یہی توحید نبی آخر الزمان کے دین میں ہے جس پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ پر اس توحید دین کے قائم کرنے کے لئے بھیجا اس پیغمبر وقت کی اطاعت کا نام اسلام ہے اس آخر زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ان سب پچھلی شریعتوں کو اس آخری شریعت پر ختم کیا ہے اس لئے اب کوئی نجات کا رستہ سوائے اس شریعت کے پابندی کے باقی نہیں رہا چناچہ فرمایا کہ { وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ } (3۔ 85) جس کا مطلب یہ ہے کہ اس آخر زمانہ میں سوائے اس آخر شریعت کے اور کوئی شریعت اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے اسی واسطے ان آیتوں میں فرمایا کہ اہل کتاب مشرکین مکہ سب سے کہہ دیا جائے کہ اس آخر شریعت کو جس میں سب پچھلی شریعتوں کی صداقت اور سب پچھلی شریعتوں میں اس کی صداقت موجود ہے تم سب مل کر مانتے ہو یا نہیں۔ اگر انہوں نے اس آخری شریعت کو اے نبی اللہ کے تمہارے کہنے سے مان لیا تو اپنا بھلا کیا نہیں تو تم نے اپنا کام پورا کردیا۔ پھر ان سب کے اعمال اللہ کی نظر میں ہیں ہر ایک جزا سزا وقت مقررہ پر اس کے سامنے آجائے گی۔ اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو اللہ کے پیغمبر ﷺ نے اچھی طرح پورا کردیا زبان سے خط و کتاب سے سب طرح آخری دم تک لوگوں کو سمجھا یا حدیث کی کتابوں میں صدہا روایتیں اس باب میں موجود ہیں قائما بالقسط کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین آسمان اور زمین میں بےگنتی چیزیں اس طرح کے منصفانہ اور حکیمانہ ڈہنگ سے پیدا کی ہیں کہ ان میں کی ہر ایک چیز اس کی وحدانیت کی پوری گواہی ہے۔
Ayahs 3:21–22

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنادو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہیں اور ان کو کوئی مددگار نہیں (ہوگا)

(21 ۔ 22) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آخری شریعت کی پابندی کی تاکید کا حکم فرمایا تھا کہ اہل کتاب مشرکین مکہ سب کو یہ حکم پہنچا دو اس حکم کی تعمیل میں مدینہ منورہ کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے وہ اکثر حجتیں کیا کرتے تھے رجم کی آیت کے منکر ہوگئے۔ اسی طرح اور طرح طرح کے فساد کرتے تھے جن سے اللہ کے رسول ﷺ کو رنج ہوا کرتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی تسکین فرمائی کہ یہ لوگ جو کچھ برتاؤ اے اللہ کے رسول تمہارے ساتھ کر رہے ہیں ان کی یہ عادت نئی نہیں ہے ان کے بڑے تورات اور انجیل کے احکام پہنچانے والے انبیاء اور ان کے نائب علماء کے ساتھ بڑی بڑی بد سلوکیاں کے ساتھ پیش آچکے ہیں ابن جریر میں ابو عبیدہ بن الجراح ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک زمانہ میں بنی اسرائیل نے تینتالیس انبیاء صاحب تورات کو صبح سے سہ پہر تک قتل کیا اور پھر سہ پہر کو ایک سو بارہ 112 علماء کو قتل کیا 1۔ پھر آخر پر ان یہود کو اللہ تعالیٰ نے یہ نتبیہ فرمائی کہ یہ لوگ کلام الٰہی کے انکار کے اگر اسی طرح درپے رہے تو ان کو سخت عذاب میں مبتلا ہونا پڑے گا جس سے ان کو کوئی بچا نہ سکے گا۔ اور دنیا میں کوئی نیک عمل ان سے بن آئے گا تو وہ آخری شریعت کے انکار کے وبال سے قبول نہ ہوگا۔ کیونکہ اس آخری زمانہ میں سوائے اس آخری شریعت کی پابندی کے کسی کا کوئی نیک عمل اللہ کی درگاہ میں قابل قبول نہیں۔
Ayahs 3:23–25

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (خدا یعنی تورات) سے بہرہ دیا گیا اور وہ اس کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (ان کے تنازعات کا) ان میں فیصلہ کردے تو ایک فریق ان میں سے کج ادائی کے ساتھ منہ پھیر لیتا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ یہ اس بات کے قائل ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی اور جو کچھ یہ دین کے بارے میں بہتان باندھتے رہے ہیں اس نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے (یعنی) اس روز جس کے آنے میں کچھ شک نہیں اور ہر نفس اپنے اعمال کا پور اپور بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائیگا

(23 ۔ 25) ۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ اور چند یہود کا ایک مدرسہ میں آمنا سامنا ہوا آپ نے ان سے اسلام لانے کو کہا ان میں دو شخص یہودی نعیم بن عمر و اور حارث بن زید نے آپ سے سوچھا کہ آخر آپ کس دین پر ہیں آپ نے فرمایا میں دین اور ملت ابراہیمی پر ہوں انہوں نے جواب دیا کہ حضرت ابراہیم تو خود دین یہود پر تھے پھر آپ ہم سے اور کونسا دین اختیار کراتے ہیں آپ نے فرمایا اگر حضرت ابراہیم دین یہود پر تھے تو تورات میں ضرور اس کا ذکر ہوگا۔ اگر تم سچے ہو تو لاؤ تورات میں کہاں یہ بات لکھی ہے دکھاؤ۔ ان دونوں شخصوں نے تورات کے لانے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہود کے قائل کرنے کو آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرمایا کہ یہ لوگ تورات کے بھی پابند نہیں ہیں۔ کیونکہ جس حق بات کا فیصلہ تورات پر قرار دیا جاتا ہے اس سے بھی یہ لوگ پھرجاتے ہیں اور اس سے آگے کی آیت میں اور طرح یہود کا جھوٹ ثابت کیا کہ یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ چند روز کے سوا دوزخ میں ان کہ رہنا نہیں ہے یہ بات بھی تورات کے خلاف ہے اور اسی جھوٹے عقیدہ نے دوزخ سے ان کو بےخوف کردیا ہے اور اس بےخوفی کے سبب سے ایسی جرأت کرتے ہیں مگر آخرت میں ان کو سب حال کھل جائے گا۔ بعض تفسیروں میں اس آیت کے شان نزول سوال اس کے اور اور جو بیان کئے ہیں اس سے اس شان نزول کی سند قوی ہے۔
Ayahs 3:26–27

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

اور کہیے کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخش دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے (اور) بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور تو ہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو ہی بےجان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بےجان پیدا کرتا ہے اور تو ہی جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق بخشتا ہے

(26 ۔ 27) ۔ قتادہ سے ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے ملک روم وفارس اپنی امت کے قبضہ میں آجانے کی ایک روز دعا کی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ اور اپنے نبی کی تسکین فرمائی کہ ملک روم وفارس کیا چیز ہے اس پاک ذات کے دست قدرت میں بڑے بڑے تصرفات ہیں کبھی راتیں بڑی ہیں کبھی کے دن کبھی نبوت بنی اسرائیل میں تھی آج بنی اسماعیل میں ہے وہ صاحب تصرف جو چاہے کرسکتا ہے۔ چناچہ پھر ایسا ہی ہوا کہ بڑے بڑے ملک آپ کے اور آپ کی امت کے قبضہ میں آگئے طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسم اعظم اسی آیت میں 1۔ طبرانی میں حضرت انس ؓ سے بسند صحیح روایت ہے کہ جو کوئی شخص اس آیت کو پڑھے گا، اس پر اگر احد پہاڑ کے برابر بھی قرضہ ہو تو اللہ تعالیٰ وہ ادا کرادے گا 2۔
Ayah 3:28

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

مومنوں کو چاہئے کہ مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو تو مضائقہ نہیں اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے

تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انصار میں بعض لوگوں کی کعب سے دوستی تھی اس نے انصار سے کہا کہ وہ اپنے دوست مسلمانوں کو دھوکا دیں ان مسلمان انصار کے چند دوستوں نے یہود کے اس ارادہ کا تذکرہ ان انصار مسلمانوں سے کیا اور یہود کے دوستی چھوڑنے کی نصیحت کی۔ مگر ان مسلمان انصار نے ان یہود کی دوستی چھوڑنے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ اور فرما دیا کہ مسلمانوں کو کافروں سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔ کیوں کہ اللہ کی محبت اور کافروں کی محبت ایک جگہ ایک دل میں نہیں جمع ہوسکتی ہاں اگر ایسا ہی کہیں جان کا خوف ہو تو ظاہر میں ان سے دفع ضرر کے لئے میٹھی بات کرلی جائے مگر دلی دوستی ان سے نہ رکھی جائے باوجود اس فہمایش کے جو کوئی باز نہ آئے گھا اللہ اس سے بیزا رہے اور اس طرح کا شخص قیامت کے دن اللہ سے معاملہ پڑنے کے وقت اپنے کئے پر پچھتائے گا۔ اسی واسطے ابھی سے اللہ اس دن کا اپنا معاملہ پڑنے سے اے مسلمانوں تم کو ڈرائے دیتا ہے تاکہ اس وقت تم کو پچھتاوا نہ ہو اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے اس لئے ان کو یہ فہمایش کر کے قیامت کے دن کا اپنا معاملہ پڑنے سے پہلے توبہ کرنے کا موقع ان کو دیتا ہے۔ ورنہ وہ چاہتا تو اپنے خلاف مرضی کاموں کو مواخذہ بلاتوبہ کے موقع دینے کے فورا بھی کرلیتا بخاری (رح) نے ابو درداء سے روایت کی ہے کہ بہت سے مخالف ملت لوگوں سے ہم ظاہر خندہ پیشانی سے ملتے تھے اور ویسے ہم ان پر لعنت کرتے تھے 4۔ اور اہل کتاب سے دوستی رکھنے کی جو ممانعت ہے اس کا سبب آیت { وَدَّکَثِیْرْ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ } (2۔ 109) میں گذر چکا ہے۔ اس آیت سے لوگوں نے تقیہ نکالا ہے۔ مگر تقیہ کے یہ معنی ہیں کہ جب آدمی کو جان کا خوف ہو تو صرف زبان سے کوئی بات ایسی کہہ دینی جائز ہے جس سے جان بچ جائے خلاف شریعت کسی عمل میں تقیہ جائز نہیں ہے۔ چناچہ سفیان ثوری نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تقیہ صرف زبان سے ہے عمل میں نہیں ہے 1۔ بعض صحابہ کا یہ مذہب ہے کہ صرف لڑائی کے وقت تقیہ جائز ہے اور کسی وقت کا نہیں 2۔
Ayahs 3:29–30

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ کوئی بات تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو خدا اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو سب کی خبر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہوجاتی، اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے

(29 ۔ 30) ۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ خواہ تم کفار کی دوستی کو دل میں پوشیدہ رکھو خواہ قول و فعل سے اس کا اظہار کرو جب اس سے آسمان و زمین کی چیزیں پوشیدہ نہیں ہیں تو تمہارا حال پوشیدہ رہ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا برے کاموں کے انجام سے بندہ کو ڈرا دینا بڑی شفقت ہے تاکہ وہ توبہ کرے۔
Ayah 3:31

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میر پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیگا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

تفسیر ابن منذر میں حسن بصری سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مختلف قوموں نے اللہ کی محبت کا دعویٰ کیا مثلًا قریش نے ایک دن اپنے بتوں کو خوب آراستہ کیا آنحضرت ﷺ نے قریش سے جب کہا کہ ملت ابراہیم کے مخالف تم یہ بت پرستی کیوں کرتے ہو تو انہوں نے جواب کہا ہم تو ان کو درگاہ الٰہی کا مقرب جان کر اللہ کی محبت کی وجہ سے ان کو پوجتے ہیں اسی طرح نجران کے نصاریٰ نے کہا کہ ہم تو اللہ کی محبت کے سبب سے حضرت عیسیٰ کی اتنی قدر و منزلت کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے ایسے دعو وں پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ اور فرما دیا کہ اللہ کی محبت کا دنیا میں ایک یہ ہی طریقہ ہے کہ رسول وقت کی پوری تابعداری کی جائے کیونکہ ہر حاکم کی محبت کا طریقہ یہی ہے کہ اس کے احکام کو مانا جائے۔ اگر کوئی شخص ایک حاکم وقت کے احکام کی تعمیل میں سرتابی کرے اور منہ سے کہے کہ میرے جی میں اس حاکم کی محبت ہے تو ضرور ایسا شخص حاکم کا دوست اور مطیع نہیں بلکہ باغی کہلائے گا۔ اسی طرح اللہ کی محبت اس کے احکام کے ماننے سے ظاہر ہوگی اور اللہ کے احکام بغیر وسیلہ رسول وقت کے معلوم نہیں ہوسکتے۔ اس واسطے اللہ کی محبت کا دعویٰ بلا اطاعت رسول وقت کے بالکل ایک غلط دعویٰ ہے۔ چناچہ اسی واسطے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے اس میں صاف آنحضرت ﷺ نے فرما دیا ہے کہ میری اطاعت عین اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور میری نافرمانی عین اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے 1۔ اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوگیا کہ کوئی طریقہ جس میں اطاعت رسول کی نہ پائی جائے خواہ کسی قدر محبت الٰہی کے جوش کے دعویٰ کا ہرگز اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں ہے۔
Ayah 3:32

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اگر نہ مانیں تو خدا بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا

اوپر کی آیت جب نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے اس کا حکم لوگوں کو سنا دیا کہ اللہ کی محبت بدوں فرماں برداری رسول کے حاصل نہیں ہوسکتی تو عبد اللہ بن ابی منافق نے لوگوں کو بہکانا شروع کیا کہ جس طرح نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مانتے ہیں اسی طرح محمد ﷺ بھی تم لوگوں سے اپنے آپ کو منوانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ان سے وہ محبت کریں جو نصاریٰ حضرت عیسیٰ سے کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ ٹکڑا آیت کا نازل فرمایا 2۔ اور فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو دنیا میں اسی واسطے بھیجا ہے کہ وہ تم کو اللہ کی مرضی اور نامرضی کی باتیں بتلائیں اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم تم پر جو ْآتے ہیں وہ تم کو سنا دیں پھر بغیر فرماں برداری رسول کے اللہ کی مرضی کے حکم تم کو کیوں کر معلوم ہوسکتے ہیں۔ اور جب ضد سے تم نے اللہ کی مرضی کے حکموں کو ہی نہ جانا اور ان حکموں کے منکر رہے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کا تمہارا دعویٰ غلط ہے کیونکہ ایسے منکروں کو اللہ تعالیٰ ہرگز اپنا دوست نہیں ٹھہراتا اور نصاریٰ نے جس طرح کی محبت حضرت عیسیٰ کی اپنے دل سے تراشی ہے نہ وہ رسول وقت نے تم سے چاہی ہے اور نہ وہ اللہ کی مرضی ہے اور نہ انہوں نے حضرت عیسیٰ سے سیکھی ہے پھر یہ مغالطہ تم کہاں سے پیدا کرتے ہو کہ محمد ﷺ لوگوں سے وہ اپنی محبت چاہتے ہیں جو نصاریٰ حضرت عیسیٰ سے رکھتے ہیں۔
Ayahs 3:33–34

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

ان میں سے بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

(33 ۔ 34) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ کے رسول کی اطاعت کا ذکر تھا اس کے پورا کرنے کے لئے اس آیت میں رسولوں کے انتخاب کا سلسلہ بیان فرمایا پہلے نبی آدم (علیہ السلام) تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا۔ اور جن سے سب انبیاء اور امتوں کا سلسلہ چلا۔ لیکن آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے تک کوئی حرام حلال کی شریعت نہیں تھی۔ چناچہ شفاعت کی صحیح حدیث میں حضرت محمد ﷺ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اول صاحب شریعت نبی فرمایا ہے 1۔ اس لئے سلسلہ انبیاء کے دوسرے اور صاحب شریعت انبیا کے اول منتخب نبی حضرت نوح (علیہ السلام) اور تیسرے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جن کی وہ شاخیں ایک شاخ حضرت اسحاق کی جس میں بنی اسرائیل ہیں ان میں نبوت آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک رہی دوسری شاخ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جس میں محمد رسول اللہ خاتم الانبیاء ﷺ ہیں۔ یہ اوپر گذر چکا ہے کہ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب ہے۔ اس لئے بنی اسرائیل اولاد یعقوب میں پہلے نبی حضرت یوسف ہیں اور آخری نبی حضرت عیسیٰ ۔ عمران سے یہاں عمران بن ماثان حضرت مریم کے باپ مراد ہیں اور اسی سلسلہ میں بنی اسرائیل کے اکثر رئیس اور علماء ہوئے ہیں ایک عمران بن یصہر حضرت موسیٰ اور ہارون کے والد بھی ہیں۔ لیکن آیت میں عمران کے ذکر کے بعد حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کا ذکر ہے۔ اس لئے آیت میں حضرت مریم کے والد ثانی کا ذکر معلوم ہوتا ہے ان دونوں عمرانوں کا اٹھارہ سو برس کے قریب کا فاصلہ ہے۔ اس آیت میں اہل کتاب اور مشرکین عرب دونوں کو تنبیہ ہے کہ حضرت ابراہیم کی شاخوں میں اگرچہ یہ دونوں ہیں مگر ان کے طریقہ پر دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔
Ayahs 3:35–36

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھونگی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما تو تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لئے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اسکی اولاد شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

(35 ۔ 36) ۔ حضرت مریم کی ماں کا نام حنہ تھا یہ بانجھ تھیں ایک روز انہوں نے ایک پرند جانور کو دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو دانہ بھرا رہا ہے یہ دیکھ کر ان کو اپنے ہاں بھی بچہ پیدا ہونے کی حرص ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سے بچہ ہونے کی دعا کی اور نذر مانی کہ بنی اسرائیل کے رواج کے موافق جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کو دنیا کے کاموں سے باز رکھ کر بیت المقدس کا خادم بنایا جائے گا۔ اتفاق سے لڑکی پیدا ہوئی۔ اور لڑکی کو بیت المقدس کی خادمہ بنانے کا دستور نہ تھا۔ اس پر انہوں نے افسوس سے وہ باتیں منہ سے نکالیں جن کا ذکر آیت میں ہے مگر انہوں نے خواب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے بجائے لڑکے کے اس لڑکی کو نذر میں قبول کرلیا۔ پھر یہ حضرت مریم کو بیت المقدس کے خادموں کے پاس لے گئیں اور ان سے اپنا خواب بیان کیا۔ اس پر ان خادموں نے حضرت مریم کو بیت المقدس کی خادمہ بنانا منظور کرلیا۔ حضرت مریم کے باپ عمران حضرت مریم کے پیدائش سے پہلے مرگئے تھے اس لئے ان یتیمہ کی پرورش کی فکر ہوئی۔ قرعہ اندازی کے بعد ان کی پرورش ان کے خالو حضرت زکریا کے ذمہ ٹھہری۔ بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت زکریا حضرت مریم کے بڑے بہنوئی تھے اس صورت میں بعض راویوں نے خالہ کو مشابہ بہن کہا ہے کیونکہ حضرت مریم کی ماں حضرت مریم کی پیدائش سے پہلے بانجھ تھیں پھر حضرت مریم کی بڑی بہن کا ہونا کیونکر ہوسکتا ہے۔ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بچہ کی پیدائش کے وقت شیطان بچہ کے پہلو میں ایک انگلی چھبوتا ہے جس سے بچہ روتا ہے۔ مگر حضرت مریم کی ماں کی دعا کے سبب سے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس سے محفوظ رہے 1۔ مریم کے معنی عبادت گذار کے ہیں۔
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) سے پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں کہ خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

حضرت مریم کی پرورش حضرت زکریا کے سپرد تھی اس کا حال اوپر گذر چکا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ حضرت مریم ایک دن میں اتنا بڑھتی تھیں جتنا اور کوئی بچہ ایک برس میں بڑھتا ہے جب حضرت مریم سیانی ہوگئیں تو حضرت زکریا نے حضرت مریم کے لئے ایک عبادت خانہ بنوایا اس عبادت خانہ میں حضرت زکریا حضرت مریم سے ملنے آیا کرتے تو حضرت مریم کے پاس ان کو بےفصل کا میوہ رکھا ہوا نظر آتا۔ حضرت زکریا پوچھتے۔ مریم یہ میوہ کہاں سے آیا تو حضرت مریم جواب دیا کرتیں۔ میوہ اللہ نے دیا ہے۔ اس آیت میں اولیاء کی کرامت کا ثبوت ہے اور اکثر احادیث سے بھی اس کا ثبوت پایا جاتا ہے۔ 2۔ محراب عبادت خانہ کو کہتے ہیں۔