3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 3:156–158

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

مومنو ! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی (جب) خدا کی راہ میں سفر کریں (اور مرجائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کے راستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکٹھے کیے جاؤ گے

(156 ۔ 158) ۔ اوپرذکر تھا کہ احد کی شکست کے وقت کچے مسلمان طرح طرح کی پریشانی اور ہراسگی کی باتیں کرتے تھے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پکے مسلمانوں بندوں کو ان کچے مسلمانوں کی باتوں اور ان کا سا اعتقاد رکھنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے جب موت کا وقت آجاتا ہے تو آدمی خواہ گھر میں ہو یا جنگل میں وہ وقت کہیں نہیں ٹلتا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ خدا کی راہ میں جان کا دینا دنیا کے رہنے اور مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے جس کی بہتری تم کو حشر کے دن معلوم ہوجائے گی اور فرمایا کہ یہ حسرت اور افسوس کے کلمات ان منافقوں کی زبان سے اللہ تعالیٰ اس لئے نکلواتا ہے کہ صادق اور منافق اچھی طرح لوگوں کو معلوم ہوجائیں اور اس طرح کے کلمات سے منافقوں کا رنج اور افسوس و غم اور بڑھے غرض آیت میں کفار سے مراد وہ منافق ہیں جنہوں نے پریشانی کی باتیں منہ سے نکال کر اپنے ساتھ کے مسلمانوں کو بھی پریشانی میں ڈالنا چاہا تھا۔ اور گھڑی گھڑی یہ کہتے تھے کہ اگر وہ گھر سے باہر نہ نکلتے تو اس آفت میں نہ پھنستے۔
Ayahs 3:159–160

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے ہیں تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو اور اپنے کاموں میں ان سے مشاورت لیا کرو اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسہ رکھو بیشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے ؟ اور مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

(159 ۔ 160) ۔ یہ اوپر گذر چکا ہے کہ احد کی تیاری کے وقت پہلے آنحضرت ﷺ کی یہ صلاح تھی کہ اس لڑائی کے لئے مدینہ کے باہر جانا چاہیے پھر بعض صحابہ کے صلاح و مشورہ کے سبب سے آپ باہر نکلے اور لڑائی شروع شروع میں تو اچھی رہی اور پھر آخر کو اس میں کچھ لغزش آئی اب ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اے نبی اللہ کے باوجود اس کے کہ لڑائی میں ایک طرح کی لغزش مسلمانوں سے ہوئی اس پر بھی تم مسلمانوں سے نرمی سے پیش آئے اور کسی پر کچھ خفگی ظاہر نہیں کی کہ یہ اللہ کی ایک رحمت تھی ورنہ ایسی حالت میں سختی سے پیش آتے تو لوگ اور بےدل ہوجاتے اور لڑائی کی تیاری کے وقت صلاح و مشورہ میں جو اختلاف پڑا اس کا بھی دل میں کچھ خیال نہ لانا چاہیے۔ آئندہ حسب عادت، صحابہ ؓ سے مشورہ طلب امور میں مشورہ لیا کرو تاکہ ان کا جی خوش ہو اور امت کے لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ مشورہ لینامشروع ہے ہاں بعد مشورہ کے ہر طرح کا بھروسہ اللہ پر رکھنا چاہیے کہ بغیر مدد اللہ کے کسی کام میں آدمی کو سر سبزی نہیں ہوسکتی۔ شعب الایمان بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو مشورہ لینے کی ترغیب دی ہے۔ سیوطی نے اس حدیث کی سند کو معتبر بتلایا ہے 1 فیما رحمتہ لفظ ما تاکید کے لئے بڑھایا گیا ہے اصل برحمۃ من اللہ ہے۔
Ayahs 3:161–164

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لا حاضر کرنی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے ؟ جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے

(161 ۔ 164) ۔ ابو داؤد اور ترمذی و طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے 2 اس کا حاصل یہ ہے کہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان بےعنوانیوں کا ذکر فرمایا ہے جو جنگ بدر میں ہوگئی تھیں ایک بےعنوانی تو یہ تھی کہ جنگ بدر کے لوٹ کے مال میں کچھ چیز گم ہوگئی تھی اس پر بعض مسلمانوں نے یہ بد گمانی کی کہ شاید آنحضرت کے کام میں وہ چیز آگئی ہوگی۔ دوسرے بےعنوانی یہ کہ ستر قیدی دشمنوں کے جو جنگ بدر میں پکڑے گئے تھے ان کو بغیر مرضی اللہ کے فدیہ لے کر چھوڑ دیا تھا اور جنگ کی بےعنوانیوں کو اس لڑائی کے ذکر میں تذکرہ فرمانے سے یہ مراد ہے کہ اس لڑائی میں تیر اندازوں نے جو بےعنوانی کی یہ اور پہلی بےعنوانیاں ان سب بےعنوانیوں کی سزا میں یہ تمہاری شکست ہو کر ستر آدمی شہید ہوئے ہیں۔ چناچہ ترمذی اور نسائی میں حضرت علی ؓ سے جو روایت ہے جس حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں جب ستر قیدیوں کو فدیہ پر چھوڑنے کی صلاح مسلمانوں کو جم گئی تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے آئے اور آنحضرت ﷺ سے کہا کہ فدیہ پر ستر قیدی اس شرط سے چھوٹ سکتے ہیں کہ آئندہ کسی لڑائی میں اسی قدر آدمی مسلمانوں میں کے شہید ہوگئے۔ مسلمانوں نے اس شرط الٰہی کو قبول کیا۔ اور قیدیوں کو فدیہ پر چھوڑ دیا 1۔
Ayahs 3:165–168

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (احد کے دن کفار کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے تو تم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) خدا ہر چیز پر قادر ہے

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے واقع ہوئی اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم کرلے

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور جب ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے راستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا اس سے خوب واقف ہے

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا

(165 ۔ 168) ۔ احد کی لڑائی میں جو مسلمانوں کو شکست ہوئی اس کی تسلی میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ اس لڑائی میں تمہارے ستر آدمی جو شہید ہوئے تو ان کا زیادہ رنج کیا تم بھی تو بدر میں لڑائی میں مخالفوں کو اس سے دو چند صدمہ پہنچا چکے ہو کہ ستر آدمی ان کے مارے اور ستر کو پکڑ لائے اور یہ جو تم کہتے کہ اتنی بڑی مصیبت ہم لوگوں پر کیوں آئی تو یہ مصیبت تم میں ہی کے بعض لوگوں کے سبب سے آئی کہ برخلاف مرضی اللہ تعالیٰ کے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا۔ اور برخلاف حکم اللہ تعالیٰ کے رسول کے تیر اندازوں نے گھاٹی چھوڑ دی۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شکست میں مصلحت تھی کہ کامل ایمان دار اور منافقوں کی اچھی طرح سے پردہ کھلے جائے وہی ہوا کہ ایمان دار ثابت قدم رہے اور منافق کچھ تو اپنے اپنے گھروں میں آن بیٹھے۔ اور کچھ طر طرح کی باتیں بنانے لگے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ایسی باتوں سے موت کو ہرگز نہیں ٹال سکتے۔
Ayahs 3:169–171

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں اور جو لوگ ان سے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہو کر) ان میں شامل نہیں ہو سکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہو رہے ہیں اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

(169 ۔ 171) ۔ ابو داؤد اور مسند امام احمد بن حنبل اور مستدرک حاکم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور ترمذی میں حضرت جابر ؓ سے روایات ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہم لوگوں سے فرمایا کہ تمہارے ساتھ کے لوگ جو شہید ہوئے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے کو یہ درجہ دیا کہ ان کی جانوں کو ایک طرح کے سبز جانوروں کے پوٹوں میں رکھا۔ اور وہ جانور جنت کے میوے کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں میں پانی پیتے ہیں اور سونے کی قندیلیں جو عرش معلیٰ کے نیچے لٹکتی ہیں ان میں رہتے ہیں تو ان شہیدوں کی روحوں نے یہ تمنا کی کہ ان کے اس عیش اور راحت کی خبر کسی طرح ان کے ساتھ کے زندہ مسلمانوں کو پہنچ جائے تاکہ وہ زندہ مسلمان بھی شہادت کا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اللہ تعالیٰ نے ان شہیدوں کی روحوں سے فرمایا کہ میں تمہاری خبر تمہارے مسلمان بھائیوں کو پہنچا دیتا ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاکم نے اس شان نزول کو بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے 1۔ اور مسلم میں یہ روایت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے ہے اس میں اس قدر اور زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان شہدا کی روحوں سے پوچھتا ہے کہ اب تمہیں کیا تمنا باقی ہے وہ روحیں کہتی ہیں کہ ہم نے سب کچھ پایا اگر ہے تو تمنا یہی ہے کہ ایک دفعہ ہم دنیا میں جائیں اور پھر تیرے نام پر شہید ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ نہیں ہوسکتا 2۔ اور مسند امام احمد بن حنبل میں جو صحیح روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوا شہیدوں کے اور مسلمانوں کی روحیں بھی جنت میں جانوروں کے بھیس میں میوے کھاتی ہیں 1۔ فرق اسی قدر ہے کہ شہیدوں کی روحیں قندیلوں میں عرش کے نیچے لٹکتی ہیں اور عام مسلمانوں کی روحیں یوں ہی جنت کے جانوروں کے بھیس میں رہتی ہیں۔ شہیدوں کی زندگی اور رزق کا ذکر آیت کی تفسیر کے طور پر جو ان حدیثوں میں آیا ہے۔ اکثر سلف نے اس کے معنی ظاہری زندگی اور رزق کے لئے ہیں بعض مفسروں نے اگرچہ ان معنی میں کچھ کچھ تاویلیں کی ہیں۔ لیکن آیت اور حدیثوں کے لفظوں سے ان تاویلوں کو کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی۔ ان صحیح حدیثوں سے جبکہ یہ معلوم ہوگیا کہ مرنے کے بعد پھر کسی طرح انسان دنیا میں نہیں آسکتا تو اس سے اہل تناسخ کا یہ مذہب غلط قرار پاتا ہے کہ نیک روح اچھی صورت کے بھیس اور بد روح بری صورت کے بھیس میں ثواب اور عذاب کے طور پر دوبارہ پھر دنیا میں آتی ہے اسی طرح صحیح حدیثوں سے جب کہ یہ معلوم ہوگیا کہ حشر کے دن ہر روح کا تعلق جسم سے ہوجائے گا۔ اور پھر جنت اور دوزخ میں ہمیشہ وہی تعلق رہے گا تو اسے سے فلسفی لوگوں کا یہ مذہب بےاصل ٹھہرتا ہے کہ ” مرنے کے بعد جسم تو ہمیشہ کے لئے خاک ہوجائے گا فقط روح اس طرح باقی رہے گی کہ نیک روح نیکی کی تصور سے خوش اور بدروح بدی کی تصوری سے غمزدہ رہے گی اس کا نام ثواب و عذاب ہے “ احد کے چند شہداء ایسے ہیں جن کا قصہ قابل ذکر ہے ان میں ایک تو سید الشہداء امیر حمزہ ؓ ہیں۔ حضرت امیرحمزہ ؓ نے بدر کی لڑائی میں ایک شخص کافر طعمہ بن عدی کو قتل کر ڈالا تھا۔ اس عداوت سے اس طعمہ کے بھتیجے جبیر بن مطعم نے اپنے غلام وحشی سے یہ کہہ رکھا تھا کہ کسی لڑائی میں موقع پاکر اگر امیر حمزہ ؓ کو شہید کر ڈالے تو میں تجھ کو آزاد کر دوں گا اس وحشی نے جنگ احد میں ایک پتھر کی آڑ میں سے حضرت امیر حمزہ ؓ کے بر چھامار دیا۔ جس سے وہ شہید ہوگئے۔ شہید ہوجانے کے بعد ہندو ابوسفیان کی بی بی یزید کی دادی نے حضرت امیر حمزہ ؓ کا کلیجہ نکال کر چبا ڈالا۔ اور جب اس کو نگل نہ سکی تو تھوک دیا احد کے ستر شہیدوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے امیر حمزہ ؓ کی ستر 70 مرتبہ جنازہ کی نماز پڑھی اور سید الشہداء کا خطاب دیا۔ فتح مکہ کے بعد یہ وحشی مسلمان ہوا اور مسیلمہ کذاب کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت میں اسی وحشی نے قتل کیا دوسرے شہید احد کے حنظلہ بن عامر ؓ ہیں جن کو ملائکہ نے غسل دیا ہے۔ تیسرے عبد اللہ بن عمر ؓ و جابر ؓ کے باپ ہیں جن کی لاش پر فرشتوں نے اپنے پروں کا سایہ کیا تھا۔ غازیوں میں حضرت طلحہ ؓ نے ایک ہاتھ سے لڑائی کی اور دوسرے ہاتھ میں ڈھال لے کر آخر لڑائی تک آنحضرت کی مخالفت کرتے رہے اور بڑی بڑی جرأت کی۔ چناچہ جب احد کی لڑائی کا ذکر آیا تھا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرمایا کرتے تھے کہ احد کی ساری لڑائی طلحہ ؓ پر ختم ہے۔ دوسرے نامی غازی حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ ہیں جن پر آنحضرت نے اس لڑائی میں اپنے ماں باپ کو فدا کیا ہے۔
Ayahs 3:172–175

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا و رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

(جب) ان سے لوگوں نے آ کر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے (لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا

(172 ۔ 175) ۔ آیت یا ایھا الذین امنوا لا تاکلو الربوا (13/3) کی تفسیر میں گذر چکا ہے کہ احد کی لڑائی کے بعد مکہ کو واپس جاتے وقت اپنے ساتھ مشرکین سے ابو سفیان نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے سرگروہ (محمد ﷺ کا کام تمام نہ کیا اور مسلمانوں کی جوان جوان عورتیں لونڈیاں بنا کر نہ لائے اس کا بڑا افسوس ہے۔ یہ خبر آنحضرت ﷺ کو پہنچی آپ نے حکم دیا کہ کل کے روز احد کی لڑائی میں جو لوگ گئے تھے وہی لوگ آج پھر مشرکین کا پیچھا کریں اگرچہ احد کی لڑائی والے زخمی اور تھکے ہوئے تھے لیکن انہوں نے فورً اللہ کے رسول کے حکم کی تعمیل کی۔ اور مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد ایک مقام ہے وہاں تک آنحضرت ﷺ ستر صحابہ کو ساتھ لے کر ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کی تلاش میں تشریف لے گئے۔ لیکن حکمت الٰہی یوں مقتضی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دل میں رعب ڈال دیا۔ جس سے پلٹ کر لڑائی کے لئے انہی سے کچے ہوگئے ابو سفیان نے جب یہ حال دیکھا کہ لوگوں کی ہمت لڑائی پر جانے کی نہیں ہے تو اپنے لشکر کی ہوا باندھنے کی نیت سے ادھر کے آنے والے کچھ تاجر لوگوں کی زبانی یہ خبر اڑا دی کہ ابو سفیان بہت بڑا لشکر جمع کر رہا ہے۔ لشکر کے جمع ہوتے ہی وہ لڑائی کے ارادہ سے آنے والا ہے اس خبر کو سن کر آنحضرت ﷺ اور صحابہ نے یہ لفظ کہے حسبنا اللہ و نعم الوکیل غرض جن ستر 70 صحابہ نے باوجود زخمی اور تھکے ہوئے ہونے کے حمرا الاسد تک آنحضرت ﷺ کے ساتھ جانے کی ہمت کی اور ابو سفیان نے جو خبر اڑا دی تھی اس سے ان کے دل پر کچھ خوف نہیں ہوا ان ہی کی تعریف میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اس شان نزول کو طبرانی نے معتبر سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے حوالہ سے روایت کیا ہے اور حافظ ابن کثیر (رح) نے اسی شان نزول کو صحیح قرار دیا ہے 1۔ ابو سفیان نے احد کی لڑائی سے واپس ہوتے وقت آنحضرت ﷺ سے یہ بھی کہا تھا کہ بدر کے مقام پر ہمارے بڑے بڑے سرداروں کو مسلمانوں نے قتل کیا ہے۔ جس کا ہم لوگوں کے دل پر بڑا داغ ہے اب تو نہیں پر آئندہ سال ہم بدر صغریٰ پر آئیں گے۔ یہ بنی کنانہ کے ایک چشمہ کا نام ہے آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ انشاء اللہ ہم بھی آئندہ سال اس مقام پر آئیں گے۔ آنحضرت ﷺ وعدہ کے موافق وقت مقرر پر ووہاں مع صحابہ کے تشریف لے گئے۔ مگر مشرکین نہیں آئے حمراء الاسد کے سفر اور بدر صغریٰ کے سفر ان دونوں سفروں میں مسلمانوں نے تجارت کا مال خریدا۔ اور اس تجارت میں ان کو بڑا نفع ہوا اس نفع کو ان آیتوں میں اللہ کی نعمت اور اللہ کا فضل فرمایا۔” نہ پہنچی ان کو برائی “ کا مطلب یہ ہے کہ اس موقع پر ان کو لڑنا نہیں پڑا بعض مفسروں نے اس بدر صغریٰ کے سفر اور قصے کو ان آیتوں کے نازل ہونے کا سبب قرار دیا ہے۔ مگر صحیح شان نزول ان آیتوں کا وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے تو اوپر گذرچکا ہے کہ احد کی لڑائی کے وقت ہزار آدمی کی جمعیت کے ساتھ آنحضرت ﷺ مدینہ سے نکلے تھے پھر عبد اللہ بن ابی کے بہکانے سے جب تین سو آدمی لڑائی سے پہلے مدینہ کو واپس چلے آئے اس کے بعد بھی سات سو آدمی لڑائی میں موجود تھے اور اب حمراء الاسد کے سفر کے وقت صرف ستر آدمی آپ کے ساتھ گئے ابو سفیان نے جو خبری اڑا دی تھی کہ اس کی دہشت سے کچھ لوگ نہیں گئے۔ اس لیے جو لوگ اس سفر میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے ان کی اور آئندہ مسلمانوں کی ہدایت کے لئے فرمایا کہ شیطان کا کام یہی ہے کہ وہ اپنے ہوا خواہوں کے ذریعہ سے مومنوں کو ڈراتا ہے ایسے موقع پر ایمان دار آدمی کو چاہیے کہ شیطان کے ہوا خواہوں کی جھوٹی دھمکیوں سے نہ ڈرے۔ کیونکہ ایسی جھوٹی دھمکیوں میں آن کر دین کے کسی کام سے باز رہنا اللہ کی نافرمانی کا موجب ہے۔ اور اللہ کی نافرمانی ایمان دار آدمی کے لئے بڑے خوف کی چیز ہے۔ الذین قال لہم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشو ھم کا مطلب یہ ہے کہ قبیلہ عبد القیس کے ان سو د اگر لوگوں نے جن کی معرفت ابوسفیان نے لشکر جمع کرنے کی خبر اڑائی تھی مسلمانوں سے ملنے کے وقت یہ کہا کہ ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں نے تمہارے مقابلہ کے لئے بڑا لشکر جمع کیا ہے۔ جس لشکر کا مقابلہ اندیشہ کے قابل ہے فزادھم ایمانا وقالوا حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا مطلب یہ ہے کہ جن مسلمانوں کا ایمان کامل تھا انہوں نے اس اندیشہ ناک خبر کو سن کر کچھ خوف نہیں کیا۔ بلکہ ایسے ایمان کے ڈگ جانے کے وقت میں اپنے ایمان کی مضبوطی دکھلائی اور یہ ہوا کہ وہ صحیح سالم اس سفر سے اپنے گھر کو آئے اور تجارت کے مال سے نفع کمایا۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آگ میں ڈالے جانے کے وقت یہی کہا تھا کہ حسبنا اللہ و نعم الوکیل 1۔ کسی بڑی مشکل کے وقت اس دعا کے پڑھنے کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں۔
Ayahs 3:176–180

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیے جاتے ہیں تو یہ انکے حق میں اچھا ہے (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں اور آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

(لوگو ! ) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا اور اللہ تم کو غیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گا البتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لیے برا ہے۔ وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو معلوم ہے۔

(176 ۔ 180) ۔ کافر اور منافق جب کوئی مخالف کی بات کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ کو اس کا بڑا رنج ہوا کرتا تھا اس لئے اس لڑائی کے موقع سے جب عبد اللہ بن ابی ایک تہائی لشکر لے کر مدینہ واپس چلا آیا تو آنحضرت ﷺ کو بڑا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور ان میں اپنے رسول کی یوں تسلی فرمائی۔ کہ یہ لوگ اس طرح کی مخالفت کے سبب سے اللہ کے دین کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ بلکہ اس مخالفت کے سبب سے ان ہی کو وقت مقرر پر وہ سخت عذاب بھگتنا پڑے گا جو اللہ کے ارادہ میں ان کے لئے قرار پا چکا ہے اور یہ منکر حکم الٰہی یہ نہ سمجھیں کہ اللہ نے ان کو جیتے جی کچھ مہلت جو دے رکھی ہے اس میں ان کے حق میں کچھ بہتری ہے۔ بلکہ اس طرح کی زیست سے ان کے گناہوں کا تو وہ اور بڑھتا جاتا ہے۔ عقبٰی میں اس کی سب کسر نکل جائے گی رہی لڑائیوں میں اس طرح کی شکست اس سے تو پردہ غیب میں جو بھلے برے ہیں ان کا حال اللہ کے رسول کے ذریعہ سے معلوم ہوجاتا ہے پھر جس طرح ان برے لوگوں کو اپنی جان پیاری پیاری ہے اسی طرح ان کو اپنا مال بھی پیارا ہے جس کے سبب سے حق مال ادا کرنے میں یہ لوگ پہلو تہی کرتے ہیں لیکن یہ مال قیامت کے دن ان کے حق میں بڑا وبال ہوجائے گا۔ صحیح بخاری صحیح ابن حبان وغیرہ میں ابو ہرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس طرح کے لوگوں کے مال کا ایک گنجا سانپ طوق کی طرح ان کے گلے میں لپٹیا جائے گا جو سانپ گھڑی گھڑی صاحب مال کو کاٹے گا اور یہ کہے گا اے شخص میں تیرا مال ہوں 1۔
Ayahs 3:181–182

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتشِ ) دوزخ کے مزے چکھتے رہو۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا۔

(181 ۔ 182) ۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے اپنی تفسیر میں متعدد معتبر طریقوں سے جو اس آیت کی شان نزول بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب آیت میں من الذی یقرض اللہ اتری تو یہود کہتے تھے کہ اللہ محتاج اور فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے ایک روز ابوبکر صدیق ؓ یہود کے مدرسہ میں گئے وہاں فخاص یہودیوں کا بڑا عالم اور بہت سے یہود جمع تھے فخاص نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے یہی بات کہی کہ اللہ فقیر ہے جو لوگوں سے قرض مانگتا ہے حضرت ابوبکر صدیق نے فخاص کے منہ پر ایک طمانچہ مارا فخاص نے آنحضرت ﷺ سے اس کی فریاد کی۔ آنحضرت نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے طمانچہ مارنے کا سبب پوچھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سارا قصہ بیان کیا۔ فخاص اس بات کے کہنے سے منکر ہوگیا۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ اور فرمایا کہ ان لوگوں کی سب گستاخیاں جو یہ لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ کر رہے ہیں اللہ کو وہ سب معلوم ہیں۔ وقت مقررہ آنے کی دیر ہے۔ پھر ان کو سب گستاخیوں کا بدلا مل جائے گا حَرِیْقٌ بھرکتی ہوئی آگ کو کہتے ہیں۔
Ayahs 3:183–184

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جو لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آ کر کھاجائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا ؟

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آ چکے ہیں اور لوگوں نے ان کو بھی سچا نہیں سمجھا۔

(183 ۔ 184) ۔ انبیاء بنی اسرائیل میں سے بعض نبیوں کا یہ معجزہ تھا کہ اللہ کی نیاز جس چیز پر کی جاتی تھی ان نبیوں کے معجزہ کے سبب سے آگ آسمانی اس نیاز کی چیز کو جلا دیتی تھی اور یہی نشانی تھی کہ وہ نیاز قبول ہوگئی۔ اب یہود نے نبی آخر الزمان پر جب ایمان لانے کو کہا جاتا تھا تو یہ بہانہ کرتے تھے کہ ہم کو تورات میں حکم ہے کہ جس نبی سے وہ آگ کا معجزہ ظاہر نہ ہو اس پر ہم ایمان نہ لائیں اگرچہ یہ بہانہ جھوٹا تھا تورات میں کہیں ایسا ذکر نہیں ہے کہ ہر نبی کے لئے وہ آگ کا معجزہ ضروری ہے لیکن یہود کو پورا قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ حد سے زیادہ زیادتی انہیں یاد دلائی جس کا اوپر کی آیت میں ذکر تھا۔ چناچہ فرمایا کہ اگر تم اپنے اس بہانے میں سچے ہو کہ ہر نبی کے لئے وہ آگ کا معجزہ ضرور ہے تو جن نبیوں کے پاس یہ معجزہ بھی تھا ان کے خون ناحق کے درپے تم کیوں ہوئے اور ان کو کیوں قتل کیا پھر آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یوں تسلی فرمائی کہ اس قائلی معقولی کے بعد بھی یہ لوگ اپنی ہٹ دہرمی سے باز نہ آئیں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان یہ ہٹ دہرمی کچھ نئی نہیں ہے۔ بلکہ ان کے بڑوں سے یہی ہوتی آئی ہے۔
Ayahs 3:185–186

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

(اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بہت بڑی ہمت کے کام ہیں۔

(185 ۔ 186) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ہٹ دہرمی پر صبر اور درگذر کی ہدایت فرمائی تھی اور یہ فرمایا تھا کہ ان کی ہٹ دہرمی کچھ نئی ہے۔ بلکہ ان کے بڑوں سے بھی ہوتی آئی ہے یہ آیتیں اس ہدایت کی تکمیل میں نازل فرما کر فرمایا کہ یہ تو آخر سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ دنیا میں اچھے اور بڑے کسی کو قیام نہیں موت سب کے پیچھے لگی ہوئی ہے اچھے برے جو مرگئے ان کو تو دنیا کی بھلائی برائی کا نتیجہ معلوم ہوگیا جو رہ گئے ہیں ان کو بھی یہی موقع پیش آنے والا ہے۔ فقط آنکھ بند ہونے کی دیر ہے اور آنکھ کا بند ہونا کچھ دور نہیں۔ کوئی اس میں آگے ہے کوئی پیچھے اور جب بھلائی برائی کا نتیجہ وقت مقرر پر سامنے آنے والا ہے تو بھلوں کو ہر طرح کی آزمائش کو موجب اجر جاننا اور اس پر صبر کرنا چاہیے کہ دنیا میں یہ بڑی ہمت اور عقبیٰ میں بڑے اجر کا کام ہے۔
Ayah 3:187

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور جب خدا نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار لیا کہ (اس میں جو کچھ لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا تو انہوں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں برا ہے۔

یہ وہی معاہدہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے ہزار ہا برس پہلے دنیا کے ہر ایک دورہ کی مصلحت کے موافق اپے علم ازلی میں ایک قانون قرار دیا ہے جس کو اس دورہ دنیوی کی شریعت کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے اور نبیوں نے اپنی اپنی امتوں سے یہ عہد لیا ہے کہ ہر زمانہ میں اس شریعت کے موافق عمل ہوگا جو شریعت اس زمانہ کے لئے ٹھہرائی گئی ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے اہل کتاب نے محض اس دشمنی سے کہ یہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں کیوں ہوئے ہیں بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے اس معاہدہ کی پابندی چھوڑ دی تھی۔ اور نبی آخر الزمان کے اوصاف کی آیتوں کو چھپا ڈالا تھا لوگوں کو اپنی طرف رجوع رکھنے اور اپنی ریاست اور فضیلت قائم رہنے کے لئے تورات کے مسئلے غلط بتاتے تھے۔ اسی معاہدہ کی یاد دہی کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیتیں قرآن شریف میں حسب موقع نازل فرمائی ہیں۔ چناچہ پچھلی آیتوں میں یہود کی ایک غلط بیانی کا ذکر تھا کہ ہر نبی کے لئے آگ کا معجزہ ضرور ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ان کی اس غلط بیان کا جواب دیا۔ اور ان آیتوں میں یہ تنبیہ فرمائی کہ دنیا کے تھوڑے سے لالچ کے لئے اتنے بڑے سخت اور قدیمی معاہدہ کی مخالفت جو ان لوگوں نے اختیار کی ہے اور پھر اس پر اس بات کی ان کو خوشی ہے کہ ان کی چوری کوئی پکڑا نہیں سکتا یہ ان کی تجارت ایک بڑے ٹوٹے کی تجارت ہے دنیا چند روز ہے اس میں پھر چل کر انہوں نے کچھ کھا کما لیا تو پھر عقبیٰ کے ابدا لآباد عذاب سے بچ کر کہاں جائیں گے وہ اللہ جس کی بادشاہت زمین و آسمان میں ہے کیا کوئی ہے ایسا جو ان کو اس کے عذاب سے چھوڑا سکے بعض روایتوں میں یہ جو ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ منافقوں کے حال پر بھی ان آیتوں کا مضمون صادق آتا ہے کہ وہ بھی یہود کی طرح کہتے ہیں کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ورنہ جو شان نزول ان آیتوں کی اوپر بیان کی گئی ہے۔ وہ صحیحین 1 وغیرہ میں امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ہے جو قابل ترجیح ہے اتنا ضرور ہے کہ اس روایت کے موافق اگرچہ یہ آیتیں اہل کتاب کی شان میں ہیں لیکن حکم ان کا عام ہے اس امت کا کوئی عالم بھی کسی حق بات کو جان بوجھ کر چھپائے گا تو قیامت کے دن اس سے ضرور مواخذہ ہوگا۔ چناچہ ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ صحیح ابن حبان وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو عالم جان کر کسی دین کی بات کو چھپائے گا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 2 اور حاکم نے اس کو بخاری مسلم کی شرط کے موافق صحیح بتلایا ہے 3۔
Ayahs 3:188–189

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

جو لوگ اپنے (ناپسند) کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور (پسندیدہ کام) جو کرتے نہیں ان کے لیے چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ان کی نسبت خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے رستگار ہوجائیں گے اور انہیں درد دینے والا عذاب ہوگا۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کو ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

(188 ۔ 189) ۔ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کسی لڑائی پر جاتے تو منافق لوگ جھوٹے عذر پیش کر کے مدینہ میں رہ جاتے اور اپنے اس حیلہ سازی پر بہت خوش ہوتے تھے۔ اور جب آنحضرت ﷺ اور صحابہ لڑائی پر سے واپس آتے تو اپنے ان عذروں کے سچے ہونے اور لڑائی سے رہ جانے کے افسوس پر قسمیں کھاتے تھے 4 غرض ان کی اس قسما قسمی سے یہ ہوتی تھی کہ باوجود لڑائی میں شریک نہ ہونے کے لوگ ان کی تعریف کریں اور کہیں کہ مجبوری سے وہ لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ ورنہ وہ شریک ہونے پر پورے آمادہ تھے اب حکم اس آیت کا عام ہے جو کوئی بغیر کسی نیک کام کرنے کے اس کام پر اپنی جھوٹی تعریف چاہے گا وہ اس حکم میں داخل ہو کر جس سخت عذاب کا اس آیت میں ذکرے اس عذاب میں مبتلا ہوگا اسی واسطے یہود لوگ جو تورات کے بعض مسئلے چھوڑ کر پھر اپنے آپ کو توریت کا پورا پابند جھوٹ موٹ بتلاتے تھے اور اس جھوٹی پابندی پر لوگوں سے اپنی مدح چاہتے تھے اس آیت کے حکم میں داخل ہونا خیال کر کے بعض صحابہ نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت یہود کی شان میں اتری ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ یہود پر بھی اس آیت کا مطلب صادق آتا ہے۔
Ayahs 3:190–194

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) اے پروردگار تو نے اس (مخلوق) کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا۔ تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی اپنے) پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر۔ اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا۔

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجیو۔ کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا۔

(190 ۔ 194) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے شان نزول اس آیت کی دہی بیان کی ہے جو اِنَّ فیِْ خلق السموا ات (2۔ 164) کے تحت میں اس سے پہلے سورة بقر میں بیان ہوچکی۔ لیکن حافظ ابن کثیر نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور سورة بقرہ بھی بلا خلاف مدنی ہے۔ اور قریش کا یہ سوال کہ صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے مکہ میں تھا۔ پھر یہ شان نزول کیونکر صحیح ہوسکتی ہے 1۔ جواب اس اعتراض کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری 2 میں دیا ہے کہ قریش کا وہ سوال اگرچہ مکہ میں تھا مگر اس زمانہ میں نہیں تھا۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں مقیم تھے بلکہ یہ سوال ہجرت کے بعد اس زمانہ کا ہے۔ جب قریش میں اور آنحضرت ﷺ میں صلح تھی۔
Ayah 3:195

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا۔ تم ایک دوسرے کی جنس ہو تو جو لوگ میرے لیے وطن چھوڑ گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور لڑے اور قتل کیے گئے میں ان کے گناہ دور کر دونگا اور ان کو بہشتوں میں داخل کرلوں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ (یہ) خدا کے ہاں سے بدلا ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے۔

ترمذی ‘ حاکم ‘ سعید بن منصور ‘ عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کی ہے وہ کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی ہجرت کے اجر کا ذکر قرآن شریف میں نہیں فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک کاموں کا بڑا قدردان ہے۔ نیک کام خواہ کوئی مرد کرے یا عورت اللہ تعالیٰ ضرور اس کا اجر دے گا۔ حاکم نے اس شان نزول کو بخاری کی شرح کے موافق بتایا ہے 1۔