3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 3:38–41

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار ! مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بیشک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض (یعنی عیسیٰ ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھے والے اور (خدا کے پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا نے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا کہ میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے خدا نے فرمایا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

(زکریا نے) کہا اے پروردگار کہ (میرے لئے) کوئی نشانی مقرر فرما (خدا نے) فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کرسکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح وشام اس تسبیح کرنا

(38 ۔ 41) ۔ حضرت زکریا کے قصہ کی پوری تفصیل سورة مریم میں آئے گی۔ مگر اس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت زکریا نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود بانجھ ہونے کے حضرت مریم کی ماں کو صاحب اولاد کیا اور حضرت مریم کو خلاف عادت بےفصل کا میوہ عنایت فرمایا تو مجھ کو بڑھاپے میں اور میری بیوی کو بانچھ پن میں اگر وہ صاحب قدرت اولاد عطاء فرمائے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں اسی خیال سے وہیں حضرت مریم کے عبادت خانہ میں انہوں نے اولاد کی دعا کی اور وہ دعا قبول ہوئی اور ان کی بی بی کے حاملہ ہونے کی نشانی یہ قرار پائی کہ باوجود تندرست ہونے کے تین راتوں سوائے تسبیح اور تہلیل کے اور کچھ بات کسی سے نہ کرسکیں سید کے معنی رسد اور ذریہ کے معنی نسل حصور وہ جو باوجود قدرت کے عورت کی صحبت سے باز رہے مصدقات بکلمۃ من اللہ کے یہ معنی ہیں کہ حضرت یحییٰ حضرت عیسیٰ کے نبی ہونے کی صداقت ادا کریں گے۔ سب سے پہلے حضرت عیسیٰ پر حضرت یحییٰ ایمان لائے ہیں۔ حضرت یحییٰ کا نام پچھلی کتابوں میں یوحنا تھا اوپر گذر چکا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمۃ من اللہ اس لئے کہتے ہیں وہ بغیر باپ کے اللہ کے حکم کلمہ کن سے پیدا ہوئے ہیں۔ سورج ڈھلنے سے غروب تک کے وقت کو عشاء اور طلوح صبح سے چاشت تک کے وقت کو ابکار کہتے ہیں۔
Ayahs 3:42–44

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا کہ مریم خدا نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور پاک بنایا ہے اور جہان کی عورتوں میں منتخب کیا ہے

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

مریم اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ یہ باتیں اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کا متکفل کون بنے تو تم ان کے پاس نہیں تھے اور نہ اس وقت ہی انکے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑے رہے تھے

(42 ۔ 44) ۔ صحیح حدیثوں سے قرعہ کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے 1۔ بنی اسرائیل میں قرعہ ڈالنے کا طریقہ یہ تھا کہ کسی کام میں جب یہ بحث آن پڑتی کہ اس کام کو کون کرے تو وہ لوگ نہر اردن پر جاکر تورات کے لکھنے کے اپنے اپنے قلم بہتے پانی میں ڈالتے تھے۔ جس کا قلم بہاؤ کو چھوڑ کر الٹا بہے یا بہنے سے رک کر ٹھہر جائے تو وہی شخص اس کام کو کرتا تھا جب حضرت مریم کی ماں اپنی نذر کے موافق حضرت مریم کو بیت المقدس میں لائیں اور بیت المقدس کے مجاوروں سے اپنا خواب بیان کیا تو سب چاہنے لگے کہ مریم کو ہم پالیں آخر رواج کے موافق قرعہ پر فیصلہ قرار پایا اور حضرت زکریا کا قلم پانی کے بہاؤ کو چھوڑ کر الٹا بہا۔ اس لئے حضرت مریم کے پالنے کے وہی حق دار ٹھہرے حضرت مریم کو یہ خوش خبری جو دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ” پسند “ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے خدا تعالیٰ نے یہ مرتبہ کسی عورت کو نہیں دیا اور اپنے زمانہ کی عورتوں میں وہ سب سے بلند مرتبہ کی تھیں ان کی ستھرائی کا یہ مطلب ہے کہ ان کو اور عورتوں کی طرح ہمیشہ کے حیض کی عادت نہیں تھی۔ حضرت عیسیٰ کے حمل سے پہلے صرف دو دفعہ ان کو عمر بھر میں حیض آیا تھا۔ عبادت کا حکم سن کر حضرت مریم اس قدر عبادت کیا کرتی تھیں کہ ان کے پاؤں سوج جاتے تھے قنوت کے معنی یہاں خالص دل سے عبادت کرنے کے ہیں اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی وحی آسمان بھی اس طرح ثابت فرمائی ہے کہ یہ قصہ اور اس طرح کے اور قصے دنیا میں سوا اہل کتاب کے کسی دوسرے کو معلوم نہیں پھر اے نبی اللہ کے بغیر مدد اہل کتاب کے تم جو قصے ان کو سناتے ہو تو ان کے دل جانتے ہیں کہ یہ قصے تم کو آسمانی وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوا کہ تم بلا شک اللہ کے وہ نبی خاتم النبیین ہو جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے اور یہ فقط عناد سے تم کو اور اللہ تعالیٰ کے کلام کو نہیں مانتے۔
Ayahs 3:45–47

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ بن مریم ہوگا (اور جو) دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ ہاں کیونکر ہوگا کہ انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں ؟ فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

(45 ۔ 47) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا پورا قصہ تو سورة مریم میں آئے گا۔ مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حمل سے پہلے حضرت مریم کو جو دو حیض آئے تھے ان میں سے آخری حیض سے فارغ ہو کر جب وہ سب سے الگ نہانے کو گئیں اور پردہ کر کے نہانے لگیں تو ایک خوبصورت مرد کی شکل میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ان کو نظر آئے۔ حضرت مریم نے ان کو دیکھ کر یہ کہا کہ اے شخص اگر تو پرہیزگار آدمی ہے تو میں تیرے بد ارادہ سے اللہ کی پناہ میں آنا چاہتی ہوں۔ حضرت جبرئیل نے جواب دیا کہ مریم میں تو تیرے رب کی طرف سے تجھ کو ایک بڑی شان کے لڑکے کے پیدا ہونے کی خوش خبری دینے آیا ہوں۔ حضرت مریم نے اس بات کو سن کر بڑے تعجب سے کہا کہ میرے یہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا۔ مجھ کو تو کسی مرد نے ہاتھ نہیں لگایا حضرت جبرئیل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یوں ہی ہے کہ بغیر باپ کے ایک لڑکا تمہارے ہاں پیدا ہو کر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی دنیا میں لوگوں کو نظر آئے یہ کہہ کر حضرت جبرئیل نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح حضرت مریم کے جسم میں پھونک دی اور حضرت مریم کو حمل رہ گیا اور وقت مقررہ پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور اس طرح بغیر باپ کے بچہ پیدا ہوجانے پر لوگوں نے حضرت مریم سے طرح طرح کی قیل و قال شروع کی تو انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اس قیل وقال کے جواب کا اشارہ کیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے خلاف عادت لوگوں سے کہا کہ تم کیا قیل و قال کرتے ہو۔ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بچہ پنے میں لوگوں سے باتیں کیں۔ دنیا میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وجاہت یہ تھی کہ وہ نبی ہو کر آئے۔ آخرت میں ان کی وجاہت یہ ہوگی کہ وہ گنہگار لوگوں کی شفاعت کریں گے۔ مسیح وہ جس کے ہاتھ لگانے سے بیمار اچھے ہوں یا جن کا کہیں وطن نہ ہو ہمیشہ سیاحی میں رہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں یہ دونوں باتیں تھیں دجال کو بھی مسیح اس لئے کہتے ہیں کہ سوائے مکہ اور مدینہ اور بیت المقدس کے وہ سب جگہ پھرے گا بعض مفسروں نے یہاں دو لطیفے نقل کئے ہیں۔ ایک حضرت مریم کے متعلق ہے اور دوسرا حضرت عیسیٰ کے متعلق۔ حضرت مریم کے متعلق لطیفہ یہ ہے کہ ایک عیسائی شخص نے ایک مسلمان شخص سے یہ کہا کہ تم کو کچھ خبر ہے کہ لوگوں نے تمہارے کی بی بی کی نسبت کیا الزام لگایا تھا۔ مسلمان نے جواب دیا کہ ایک پیغمبر کی ماں پر بھی یہ الزام لگا جا چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت مریم جھوٹے الزام سے بری ہیں اسی طرح حضرت عائشہ ؓ حضرت عیسیٰ کے متعلق لطیفہ یہ ہے کہ ایک عیسائی شخص نے ایک مسلمان سے کہا کہ آیت قرآنی و کلمۃ القاھا الی مریم وروح منہ (4۔ 171) سے یہ پایا جاتا ہے کہ عیسیٰ اللہ تعالیٰ کے جز ہیں مسلمان نے جواب دیا کہ آیت ما فی السموات وما فی الارض جمیعا منہ (45۔ 13) سے کیا پایا جاتا ہے وہ عیسائی شخص یہ بات سن کر لاجواب ہوگیا۔ انجیل میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام یسوع ہے۔
Ayahs 3:48–51

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور وہ انہیں لکھا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور (عیسی) بنی اسرائیل کی طرف سے پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) میں تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے سامنے مٹی کی مورت بہ شکل پرندہ بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہوجاتا ہے اور اندھے اور ابرص کو تندرست کردیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردے میں جان دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو سب تم کو بتادیتا ہوں اگر تم صاحب ایمان ہو تو ان باتوں میں تمہارے لئے (قدرت) خدا کی نشانی ہے

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں اور (میں) اس لئے بھی (آیا ہوں کہ) بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لئے حلال کردوں اور میں تو تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لی کر آیا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھارستہ ہے

(48 ۔ 51) ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس زمانہ کے موافق معجزہ دیا ہے چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں جادو کا بڑا زور تھا اس لئے ان کو ایسا معجزہ دیا کہ جس سے سب جادوگر بےبس ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طبیبوں کا بڑا زور تھا اس واسطے ان کو ویسا ہی معجزہ دیا کہ مردہ کو اٹھانا تو درکنار مادرزاداندھے اور بدن پر کے سفید داغ والے کو بھی کوئی طبیب اچھا نہیں کرسکتا اور نہ کوئی طبیب یہ بتلا سکتا ہے کہ بیمار نے کل کیا کھایا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ سب کچھ کرتے تھے جس سے سب طبیب حیران تھے۔ اسی طرح نبی آخر الزمان کے زمانہ میں عربی زبان کی فصاحت و بلاغت بڑا زور تھا اللہ تعالیٰ نے ان پر ان فصیح وبلیغ لفظوں میں قرآن اتارا کہ کسی سے ایک آیت بھی ویسی نہ بن سکی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بڑے خوشنویس تھے اور تورات اور انجیل ان کو زبانی یاد تھی حکمۃ سے مراد تہذیب اخلاق ہے۔ بعض چیزیں جو یہود پر ان کی شرارت کے سبب سے حرام تھیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر ان چیزوں کو اللہ کے حکم سے حلال کردیا جس سے بہ نسبت شریعت موسوی کے شریعت عیسوی بہت آسان ہوگئی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فقط چمگادڑ لوگوں کی فرمائش سے بنائی تھی۔ جہاں تک لوگوں کی نگاہ کام دیتی تھی وہاں تک وہ اڑتی تھی۔ پھر مر گرپڑتی تھی۔ تاکہ اللہ کے کام اور بندے کے کام میں فرق پیدا ہوجاوے اس آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کو بتلایا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی عبادت میں شریک ٹھہراتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔
Ayahs 3:52–54

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے نافرمانی (اور نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرفدار اور میرے مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار آپکے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہوچکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسی کو بچانے کے لئے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے

52 ۔ 54) ۔۔ اگرچہ یہود کو تورات کے پڑھنے سے یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب نبی ہوں گے تو تورات کے بعض مسئلے خدا کے حکم سے منسوخ ہوں گے۔ لیکن جب وہ وقت آیا تو محض عناد سے یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن ہوگئے اور اس وقت کے بادشاہ سے مل کر حضرت عیسیٰ کے قتل پر آمادہ ہوگئے یہاں تک کہ موقع پا کر ان کو ایک مکان میں گھیر لیا۔ اسی وقت خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں میں سے یا یہود میں کے ایک آدمی میں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا حضرت عیسیٰ کی شکل پیدا کردی اور یہود نے اسی شخص مشابہ عیسیٰ کو عیسیٰ سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا 1۔ غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفوں کے مکرو فریب کو ایک حکمت اور تدبیر سے جو نیست و نابود کیا ہے۔ اس کو مقابلہ کلام کے طور پر مکر اللہ فرمایا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بارہ شخص جو ایمان لائے ان کو حواری کہتے ہیں حواری کے معنی مددگار کے ہیں چناچہ صحیحین وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر ایک نبی کا ایک حواری یعنی سچا مددگار ہوتا ہے۔ میرے حواری زبیر ہیں 2۔ فاکتبنا مع الشاھدین کے یہ معنی ہیں کہ یاللہ ہم کو ان لوگوں میں لکھ لے جنہوں نے تیرے رسول عیسیٰ (علیہ السلام) کے سچے ہونے کی گواہی دی ہے۔ اس میں امت محمدیہ بھی داخل ہے۔
Ayahs 3:55–58

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

اس وقت خدا نے فرمایا کی عیسیٰ میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھالوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کردونگا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (و غالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم میں اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردونگا

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

یعنی جو کافر ہوئے ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں سخت عذاب دونگا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا پورا پورا صلہ دیگا اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

(اے محمد) یہ ہم تم کو (خدا کی) آیتیں اور حکمت بھری نصیحتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں

(55 ۔ 58) ۔ مفسرین میں اختلاف ہے کہ مراد فی متوفیک ورافعک الی سے کیا ہے۔ لیکن ابوہریرہ ؓ کی متفق علیہ حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پھر دنیا میں آئیں گے 3۔ اور اس باب میں اور بہت سی حدیثیں ہیں اسی طرح ابو داود اور حاکم کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنیا میں دوبارہ آنے کے بعد پھر ان کی وفات ہوگی اور اس وقت کے مسلمان ان کی جنازہ کی نماز پڑھیں گے 4۔ اور آیت اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمتکم ثم یحییکم (30۔ 40) سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کی موت دنیا میں ایک ہی دفعہ اللہ تعالیٰ نے قرار دی ہے۔ اسی سبب سے آیت وھو الذی یتوفاکم باللیل کے قرینہ سے انی متوفیک کے معنی جن مفسروں نے یہ لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھایا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حالت نیند کی سی تھی انہی مفسروں کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے جو وعدہ فرمایا ہے کہ تمہارے تابع قیامت تک یہود پر غالب رہیں گے۔ اس کا ظہور اب موجود ہے کہ ہر شہر میں یہود بالکل بلا حکومت اور عیسائی یا مسلمانوں کے زیر حکومت ہیں 1۔ آیت میں قیامت کے دن جس اختلاف کے فیصلہ کا ذکر ہے اس میں وہ بھی داخل ہے جو قسطنطین بادشاہ نے اصلی عیسائی دین میں طرح طرح کا اختلاف ڈالا ہے آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی نبوت کی تصدیق اسی طرح کی ہے جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا۔
Ayahs 3:59–63

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (پہلے) مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ (انسان) ہوجاؤ تو وہ (انسان) ہوگئے

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

(یہ بات) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق سو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم کو حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چلی ہے تو ان سے کہنا کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاؤیں تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاؤ اور ہم خود بھی آئیں اور تم خود بھی آؤ پھر دونوں فریق (خدا سے) دعا والتجا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

یہ تمام بیانات صحیح ہیں اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک خدا غالب اور صاحب حکمت ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے

(59 ۔ 63) ۔ بیہقی نے دلائل النبوہ میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں اور ابن سعد نے طبقات میں اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نجران کے نصاریٰ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان کو اسلام لانے کا پیغام تھا وہاں سے کچھ نصاریٰ کے سرغنہ اور پادری لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس بحث کو آئے آنحضرت ﷺ نے ان سے اسلام لانے کو کہا انہوں نے جواب دیا کہ ہم تم سے پہلے ہی اسلام لا چکے ہیں آپ نے فرمایا تم حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہو اور سور کا گوشت کھاتے ہو اور حضرت عیسیٰ اور مریم کی تصویروں اور صلیب کی پوجا کرتے ہو یہ باتیں تمہارے دین میں کب جائز ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ اگر خدا کے بیٹے نہیں تو بتاؤ دنیا میں ان کا باپ کون ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرما دیا کہ جس طرح بےماں باپ کے حضرت آدم اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے اس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ بعد اس فہمایش کے بھی یہ نصاریٰ نہ مانے تو جھوٹے گروہ پر بد دعا کرنے کا جو طریقہ ہے دونوں فریق مسلمان و نصاریٰ جنگل میں جا کر اس کو جاری کریں جھوٹا گروہ خود وبال میں پھنس جائے گا یہ حکم سن کر نصاریٰ نے آنحضرت سے کہا کہ کل ہم آپس میں صلاح کرکے بد دعا کرنے کے طریقہ پر عمل کریں گے پھر آپس میں صلاح کی اور دوسرے روز آنحضرت ﷺ حضرت علی ؓ اور حسنین ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کو ساتھ لے کر جنگل میں جا کر جھوٹے گروہ پر بد دعا کرنے کو تیار ہوگئے اور حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ اور دونوں صاحبزادوں سے یہ کہہ دیا کہ جب میں دعا کروں تو تم سب آمین کہنا ان نصاریٰ میں ایک شخص شرجیل پادری تھا اس نے نصاریٰ سے کہا کہ یہ تم کو معلوم ہے کہ نبی کی بددعا کے بعد ہم سب ہلاک ہوجائیں گے اس واسطے میرے رائے یہ ہے کہ بد دعا باہمی کو موقوف کردیا جائے۔ چناچہ پھر رجب کے مہینہ میں اور صفر کے مہینے میں کچھ مال داخل کرنے پر ان لوگوں سے آنحضرت ﷺ نے صلح کرلی اس صلح کے مال کو سالانہ ان نصاریٰ سے ٹھہرایا گیا تھا۔ بعض مفسرین نے جزیہ کہا ہے اور بعض مفسرین نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ معاملہ فتح مکہ سے پہلے 9 ؁ ہجری کا ہے اور جزیہ کی آیت جو سورة توبہ میں ہے فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی ہے پھر آخر یہ بات قرار پائی ہے کہ یہ مال جزیہ کا نہیں تھا بلکہ بطور صلح کے تھا مسند امام احمد بن حنبل ‘ بخاری ‘ ترمذی ‘ اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابو جہل نے ایک دفعہ ہجرت سے پہلے یہ جو کہا تھا کہ آنحضرت ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھوں گا تو ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر ان کو کچل ڈالوں گا۔ اگر وہ اپنا ارادہ پورا کرنے کو آنحضرت ﷺ کی نماز پڑھنے کے وقت مسجد حرام کی طرف آتا بھی تو فورا آسمان سے فرشتے آکر سب کے سامنے اس کو ہلاک کر ڈالتے۔ اسی طرح یہود کو جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر اپنے اس قول میں تم سچے ہو کہ مرنے کے بعد چند روز کے سوا تم کو دوزخ کی آگ نہیں جلائے گی تو مرنے سے کیوں ڈرتے ہو مرنے کی خواہش کرو اس پر یہود اگر آج اپنے آپ کو سچا جان کر موت کی خواہش کریں تو ابھی سب مرجائیں اور آج ہی ان کے ہمیشہ رہنے کے دوزخ کے ٹھکانے ان کو دکھا دیے جائیں۔ اور نجران کے نصاریٰ آنحضرت ﷺ سے بد دعا کا مقابلہ کرتے تو ایک بھی ان میں کا جیتا نہ رہتا۔
Ayah 3:64

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی ہے) اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھیں اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرمانبردار ہیں

یہ آیت انہی نجرانی لوگوں کے مباحثہ کے وقت نازل ہوئی ہے اور اس کے حکم میں سب اہل کتاب شریک ہیں سیدھی بات کی تفسیر وہی ہے جو خود آیت میں ہے کہ ہم تم سب مل کر سوا اللہ کے کسی کی عبادت نہ کریں کیوں کہ یہ ایسی سیدھی بات ہے کہ اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سارے انبیاء اس پر قائم رہے ہیں اس شریعت اعتقاد میں کبھی ایسا اختلاف نہیں پڑا جیسا تم لوگوں نے اہل کتاب ہو کر ڈال رکھا ہے پھر آخر کو فرمادیا کہ بات تو یہ سیدھی ہے اگر اہل کتاب ہو کر یہ لوگ اس کو نہ مانیں تو ان سے کہہ دیا جائے کہ تم ہمارے گواہ رہو کہ ہم تو حکم الٰہی کے تابع ہیں حاصل مطلب یہ ٹھہرا کہ اہل کتاب ہو کر تم لوگوں نے جو باتیں تراش رکھی ہیں وہ نوح (علیہ السلام) کی شریعت سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت تک کبھی نہیں تھیں اس لئے تم لوگ حکم الٰہی کے ہرگز تابع نہیں بلکہ نبی آخر الزمان ﷺ جس مسئلہ توحید کی تم لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں وہی مسئلہ سب شریعتوں میں ہے اور جو اس پر عمل کرے وہی حکم الٰہی کا تابع ہے۔
Ayahs 3:65–68

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہوچکے ہیں) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرمانبردار تھے اور مشرکوں میں نہ تھے

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ پیغمبر آخرالزمان اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور خدا مومنوں کا کارساز ہے

(65 ۔ 68) ۔ بیہقی نے دلائل النبوہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک دن آنحضرت کے رو برو علماء یہود اور نجران کے پادریوں کا بڑا جھگڑا ہوا یہود کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم یہودی تھے کہ نہیں نصرانی تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرما دیا کہ تورات اور انجیل جن دونوں کتابوں سے یہود اور نصاریٰ کا دین دنیا میں چلا ہے وہ تو حضرت ابراہیم کے بعد اتر ہے ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) میں ہزار برس کے قریب کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) میں تین ہزار برس کے قریب کا پھر حضرت ابراہیم یہودی یا نصرانی کیوں کر ہوسکتے ہیں رہی یہ بات کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں اب کون سے دین سے مناسبت ہے، خلافت علم الٰہی انجانی بات میں یہ لوگ جو بحث کر رہے ہیں یہ اللہ کو ہرگز پسند نہیں اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو بات آدمی کو معلوم نہ ہو اس میں نفسانیت سے ہرگز بحث نہ کر رہے ہیں اس شان نزول کی روایت چند طریقوں سے ہے جس کے سبب سے ایک سند سے دوسرے کو قوت ہے۔
Ayahs 3:69–71

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

(اے اہل اسلام) بعضے اہل کتاب اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو گمراہ کردیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو ؟ اور تم (تورات) کو مانتے تو ہو

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو ؟ اور تم جانتے بھی ہو

(69 ۔ 71) ۔۔ چند یہود نے معاذ بن جبل ؓ اور حذیفہ بن الیمان ؓ وغیرہ کو یہ رغبت دلائی کہ وہ دین محمدی کو چھوڑ کر یہودی ہوجائیں اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمان اپنے دین پر خدا کی طرف سے پکے ہیں ان کو تو کسی کے بہکانے سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا۔ مگر بہکانے کا اثر بہکانے والوں کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا جس سے وہ غافل ہیں۔
Ayah 3:72

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور اہل کتاب ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جو (کتاب) مومنوں پر نازل ہوئی ہے اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آیا کرو اور اس کے آخر میں انکار کردیا کرو تاکہ وہ (اسلام سے) برگشتہ ہوجائیں

جب دن بدن دین محمدی میں لوگ بڑھنے لگے تو یہود کو یہ امر شاق گذرا اس لئے عداوت سے خیبر کے بارہ 12 شخص یہود نے یہ صلاح کی کہ تازم دم نئے مسلمانوں کو دھوکے میں ڈالنے کے لئے ایک دن صبح کو فریب کے طور پر مسلمان ہوگئے۔ اور صبح کی نماز بھی مسلمانوں کے ساتھ پڑہی اور تیسرے پہر کو یہ مرتد ہوگئے تاکہ نئے مسلمان اپنے دل میں خیال کریں کہ اس دین محمدی میں کچھ نقصان ضرور ہوتا تھا جو اہل کتاب لوگ اس دین میں داخل ہوے پھر منحرف ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان یہود کا ادنیٰ فریب ظاہر کرنے اور نئے مسلمانوں کا وسوسہ دور کرنے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرمادیا کہ ایسے فریبیوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے اور نبوت اللہ کا ایک فضل ہے وہ اپنے اس فضل کو جب تک جس خاندان میں چاہیے رکھے ان لوگوں کا یہ عہد کہ نبوت بنی اسماعیل میں کیوں ہوئی۔ ان ہی کے نقصان کا موجب ہے۔
Ayahs 3:73–74

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے حضور قائل معقول کرسکیں گے یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص کرلیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

(73 ۔ 74) ۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ اس آیت کے دو ٹکڑے ہیں پہلا ٹکڑا علماء یہود کا ہے کہ وہ اپنے قوم کے ان پڑھ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ دیکھو اپنے دین والے کے سوا کسی کی بات کو ہرگز نہ ماننا۔ دوسرا ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کے جواب میں اتارا ہے کہ ان سے اے نبی اللہ کے تم کہہ دو کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے 2۔ ایسی باتوں سے وہ اللہ کی ہدایت کو ہرگز روک نہیں سکتے چناچہ وہی ہوا کہ اللہ کی ہدایت دن بدن پھیل کر اسلام بڑھتا گیا اور یہود حسد اور عداوت میں خوار اور ذلیل ہوتے گئے چند انہوں نے آنحضرت ﷺ کے اوصاف کو تورات میں مذکور تھے چھپایا ان پڑھ یہود کو غیر دین کی بات ماننے سے سے روکا مگر اللہ سے کون مقابلہ کرسکتا ہے آخر ہوا وہی جو اللہ کو منظور تھا۔
Ayahs 3:75–76

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فورا) واپس دیدے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا کو محض جھوٹ بولتے ہیں اور اسی بات کو جانتے بھی ہیں

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(76 ۔ 76) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس فرقہ کا ذکر فرمایا تھا۔ جس میں سر تا پاؤں برائی ہی برائی تھی۔ بھلائی کچھ بھی نہ تھی اور حقیقت میں بعض ان میں سوا اس برے فرقے کے بھلے بھی تھے اس لئے یہ آیت نازل فرما کر بروں کے ساتھ اچھوں کا ذکر بھی فرمادیا تاکہ مسلمانوں میں اچھوں کی عزت بڑھے اور برے بھی ان اچھوں کی عادت سیکھیں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن سلام ؓ جو پہلے یہودی تھے اور پھر مسلمان ہوگئے ان کے پاس کسی نے کئی سو تو لے سونا امانت رکھوا دیا اور انہوں نے وقت پر ادا کردیا۔ اور ایک یہودی اور تھا کہ ایک شخص کی ایک اشرفی امانت لے کر مکر گیا 1۔ صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ امانت میں خیانت کرنا جھوٹ بولنا وعدہ خلافی کرنا لڑائی کے وقت کے گالیاں بکنا یہ منافقوں کی علامتیں ہیں 2۔ یہود کے برے فرقے نے جہاں اور غلط باتیں تورات میں اپنی طرف سے بڑھا دی تھیں وہاں ایک بات یہ بھی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ عرب کے لوگ بت پرست اور بد دین ہیں ان کا مال ہر طرح ہضم کرلینا تورات میں روا لکھا ہے اس لئے ان کے مال کے ہضم کرنے پر ہم کو کوئی مواخذہ کا راستہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ بات بھی اس آیت میں جھٹلا دی اور فرما دیا کہ جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ باندہتے ہیں تورات میں ہرگز کہیں یہ بات نہیں ہے پرایا مال ہضم کرنے پر ضرور مواخذہ ہے ہاں اگر وہ جس طرح ان سے اور اللہ سے تورات میں معاہدہ ہے اس کے موافق اسلام لے آئیں گے تو اسلام پچھلی برائیاں مٹا ڈالتا ہے اس سبب سے ان سے یہ برائی مٹا کر ان کو متقی بنا دے گا۔ اللہ متقیوں کو دوست رکھتا ہے۔
Ayah 3:77

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

صحیحین اور صحاح کی کتابوں میں میں روایت ہے کہ اشعث بن قیس ؓ صحابی اور ایک یہودی میں کچھ زمین کا قضیہ تھا اس کی فریاد آنحضرت ﷺ کے پاس لائی گئی آپ نے پوچھا اس دعوے کے ثبوت کے گواہ ہیں۔ اشعث بن قیس ؓ نے کہا نہیں۔ گواہ تو نہیں ہیں۔ آپ نے یہودی سے کہا کہ تو اپنے دعوے پر قسم کھا۔ اشعث بن قیس ؓ نے کہا کہ حضرت یہ یہودی فور ً ا جھوٹی قسم کھا کر میری زمین دبا لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 اور فرما دیا دنیا کی تھوڑی سی طمع کے لئے جو کوئی جھوٹی قسم کھائے گا۔ وہ عقبیٰ میں جنت کی بڑی بڑی نعمتوں سے محروم رہے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا اس پر ایسا غصہ اور غضب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے اس کی طرف نہ دیکھے گا۔ اور نہ اس سے بات کرے گا اور نہ اس کے کسی گناہ سے در گذر فرمائے گا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ٹخنے سے نیچے پائجامہ رکھنے والا جھوٹی قسم کھانے والا صدقہ دے کر احسان جتانے والا ان تین شخصوں پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا ایسا غصہ ہوگا کہ ان سے اللہ تعالیٰ تعالیٰ نہ بات کرے گا نہ ان کے گناہوں سے در گذر کرے گا۔ سو اس شان نزول کے جو متفق علیہ 1 حدیث میں ہے۔ اور شان نزول اس آیت کی حدیث اور معتبر شان نزول وہی ہے جو متفق علیہ حدیث کی رو سے بیان کی گئی ہے۔