3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 3:118–120

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

مومنو ! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازدار نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی (اور فتنہ انگیزی کرنے میں) کسی طرح کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہو ہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنادی ہیں

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو ! ) غصے میں مرجاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کئے ہوئے ہے

(118 ۔ 120) ۔ ابن جریر اور ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جس طرح اسلام سے پہلے یہود اور اہل عرب میں دوستی تھی اور آپس میں کچھ کفر اور اسلام کا فرق نہ تھا اسلام کے بعد بھی اکثر مسلمان یہود اور منافقوں سے وہی قدیمی اتحاد برتتے تھے اور یہود اور مناقفوں کا یہ حال تھا کہ دوستی کے پردہ میں یہ کیا کہ اوس اور خزرج مسلمانوں کے دو قبیلوں میں لڑائی کا سامان کردیا۔ جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرچکا اور عبد اللہ بن ابی منافق نے یہ کیا کہ عین میدان جنگ میں سے احد کی لڑائی کے وقت لشکر اسلام میں سے تین سو آدمیوں کو بہکا کر مدینہ لے آیا۔ جس کا ذکر آئندہ کی آیتوں میں آئے گا۔ اور زیادہ تر یہود اور منافقوں کا فریب اسی سبب سے کارگر ہوجاتا تھا کہ یہود اور منافق پہلے دوست بن کر مسلمانوں کے ہر طرح کے بھید پر واقف کاری حاصل کرلیتے تھے اور پھر فریب دے بیٹھتے تھے۔ اس واسطے اللہ نے اس سبب کو منقطع کرنے کی غرض سے یہ آیتیں آخر رکوع تک نازل فرمائیں 1۔ جن کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانوں تمہارے ساتھ منافقوں کا تو یہ حال ہے کہ منہ پر کچھ اور پیٹھ پیچھے کچھ کہتے ہیں اور یہود کا یہ حال ہے کہ تم ان کی کتاب ان کے دین کو جانتے ہو اور وہ تم سے جل جل کر اپنی بوٹیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ اگرچہ یہ دونوں فرقے جل کر مر بھی جائیں تو آخر ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہے کہ اسلام بڑھے گا اور یہ دنیا میں خوار ہوں گے۔ لیکن جب یہ دونوں فرقے تم سے دلی بعض رکھتے ہیں۔ جس بغض کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے تو آئندہ تم بھی ان سے دوستی بالکل ترک کر دو ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی غیر اسلام والے شخص کا اس طرح کا دوست بنانا جس سے وہ صلاح کار۔ اور مشیر بن سکے۔ مسلمانوں کو منع ہے حدیث شریف میں بطانہ کے معنی مشیر اور صلاح کے کے ہیں۔ چناچہ صحیح بخاری اور کتب صحاح میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ ہر نبی اور حاکم کے دو بطانے ہیں۔ ایک نیک صلاح دینے والا اور دوسرا بری صلاح سے بچانا اور نیک صلاح پر چلانا اللہ کے ہاتھ ہے 1
Ayah 3:121

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر سے روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

جمہور مفسرین کے نزدیک یہ لڑائی احد کی ہے جس کا آیت میں ذکر ہے اور پانچ رکوع تک اللہ نے اس لڑائی کے طرح طرح کے حالتوں کے بیان میں آیتیں نازل فرمائی ہیں اور اس لڑائی میں لشکر اسلام میں سات سو آدمی ہونے کے باوجود بعض مسلمانوں کی بےاحتیاطی سے مسلمانوں کو شکست ہوگئی تھی اور بدر کی لڑائی میں کچھ اوپر میں سو آدمی تھے اور فتح ہوئی تھی۔ غزوہ بدر اور احد کا مختصر بیان اس لئے مثال کے طور پر اللہ نے اس احد کی لڑائی کے ذکر میں بدر کی لڑائی کا بھی حوالہ دیا ہے یہاں شروع میں بدر اور احد دونوں لڑائیوں کے قصہ کا حاصل بیان کردیا جاتا ہے تاکہ آئندہ کی آیتوں کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجائے بدر کی لڑائی کے قصہ کا حاصل اسی قدر ہے کہ 2 ھ؁ میں مشرکین مکہ کا ایک قافلہ شام کے ملک سے مکہ کو جارہا تھا اس قافلہ میں تجارت کا بہت سا سامان تھا۔ آنحضرت نے اس قافلہ کی خبر پا کر اس کا مال چھین لینے کا ارادہ کیا اور کچھ اگلے تین سو صحابہ کے ساتھ مدینہ سے نکلے ادھر مشرکین مکہ اپنے قافلہ کے لوٹے جانے کی خبر سن کر مکہ سے چلے اور بدر کے مقام پر جو مدینہ کسے چند میل کے فاصلہ پر ہے لڑائی ہو کر مسلمانوں کی فتح ہوی مشرکین کے بڑے بڑے سردار ابو جہل وغیرہ ستر آدمی مارے گئے اور ستر آدمی قید ہوگئے جن کو پھر آنحضرت ﷺ ؓ نے فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اور تفصیل اس قصہ کی سورة انفال میں آئے گی غرض مشرکین کو اپنی اس شکست کا بڑا قلق تھا اس لئے تیرہ مہینے کے بعد پھر آئے پہلے آنحضرت کی یہ صلاح ہوئی کہ مدینہ کے باہر نہ جانا چاہیے۔ بلکہ جب مشرکین چڑھ کر آئیں تو گھروں کے کوٹھوں پر سے اور بلند مقاموں پر سے ان کو پتھروں اور تیروں سے مارنا چاہیے عبد اللہ بن ابی منافق بھی اس صلاح میں ہم صلاح آنحضرت کا تھا۔ لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت جب آنحضرت مدینہ سے نکلے تو شروع میں لڑائی کا ارادہ نہ تھا۔ اس سبب سے صحابہ اس لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے انہوں میدان کی لڑائی کی آرزو ظاہر کر کے اس صلاح کے مان لینے سے انکار کیا۔ آخر ہزار آدمی کی جمعیت سے ابتداء میں آپ مدینہ سے نکلے اور احد کے پاس مناسب اور اچھے مقامات مسلمانوں کے لئے لڑائی کے وقت کھڑے رہنے کی تجویز کئے اسی حالت میں اس آیت کا ذکر ہے اس کے بعد عبد اللہ بن ابی نے لوگوں کو بہکایا کہ جب ہماری صلاح کو بعض مسلمانوں لوگوں نے نہیں مانا تو ہم کو ان کے ساتھ نہیں لڑنا چاہیے اور تین سو آدمیوں کو ابھار کر لشکر اسلام میں سے مدینہ کو واپس لے آیا۔ اب لشکر اسلام میں ساتو سو آدمی رہ گئے اور مقابلہ شروع ہوا یہ لڑائی ایسے ڈھنگ سے تھی کہ احد پہاڑ مسلمانوں کی پشت پر تھا اور لڑائی سے پہلے پچاس تیر انداز آدمیوں کو آپ نے پہاڑ پر تعینات کردیا اور عبد اللہ بن جبیر ؓ کو ان تیر اندازوں پر افسر کر کے نہایت تاکید فرمائی تھی کہ خواہ مسلمانوں کی فتح ہو یا شکست یہ لوگ اپنے مقام کو ہرگز ہرگز نہ چھوڑیں اور مشرک لوگ دھوکا دے کر اگر مسلمانوں کی پشت پر سے لڑائی کے وقت حملہ کرنا چاہیں تو ان کو روکیں سبب اس کا یہ تھا کہ ابو سفیان اور سو 100 سوار احد پہاڑ کی ایک جانب اسی ارادہ سے کھڑے تھے کہ جب پیدلوں کی لڑائی شروع ہوجائے تو مسلمانوں کی پشت پر سے یہ سوار حملہ کریں آنحضرت نے ابو سفیان کے اس ارادہ کو روکنے کی غرض سے ان تیر اندازوں کو تعینات کیا تھا اول اول تو تین دفعہ ابو سفیان نے حملہ کیا۔ مگر ان تیر اندازوں نے بڑی جرأت سے روکا۔ مگر اتنے میں ان تیر اندازوں نے دیکھا کہ مسلمان غلبہ کر کے مشرکوں کو دباتے اور پیچھے ہٹاتے جاتے ہیں اور مشرکوں کے پیر اکھڑے جاتے ہیں ایک دفعہ ہی یہ سب مسلمان تیر انداز لوٹ لوٹ کہتے ہوئے اپنی تعیناتی کی جگہ چھوڑ کر پیدل لشکر کی طرف چلے ہرچند عبد اللہ بن جبیر ؓ نے روکا۔ اور کہا کہ دیکھو آنحضرت ﷺ کے حکم کی نافرمانی نہ کرو مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور اپنی جگہ کو خالی چھوڑ دیا۔ موقع کا خالی ہونا تھا کہ ابو سفیان نے سو 100 سواروں کے ساتھ پشت پر سے مسلمانوں پر حملہ کیا اور مسلمانوں کے پیر اکھاڑ دئیے۔ آخر ستر آدمی مسلمانوں کے شہید ہوئے۔ حضرت امیر حمزہ ؓ اور نامی نامی صحابہ بھی انہی ستر میں شہید ہوئے۔ آنحضرت ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوا۔ آپ کے خسارے اور ناک میں بھی زخم آئے۔ گھٹنا مبارک بھی چھل گیا۔ شیطان نے غل مچا دیا کہ رسول وقت شہید ہوگئے چناچہ ہر ایک آیت کے نیچے باقی قصہ کا ذکر آئے گا۔
Ayah 3:122

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے

صحیحین میں حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ خزرج قبیلہ کی ایک شاخ بنی سلمہ اور اوس قبیلہ کی شاخ کی شاخ بنی حارثہ کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی ہے 1۔ جس وقت عبد اللہ بن ابی منافق نے لوگوں کو بہکا کر میدان جنگ سے مدینہ کی واپسی کی صلاح دی تو بنی سلمہ اور بنی حارثہ نے بھی مدینہ کی واپسی کا دل میں خیال کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ مقلب القلوب نے فورا ان کے دلوں کو پھیر دیا اور وہ عبد اللہ بن ابی کے ساتھ مدینہ کو واپس نہیں گئے اسی واسطے فرمایا کہ اللہ ان کا دستدار تھا کہ ان کو اتنے بڑے گناہ سے بچا لیا ورنہ ان کے دل میں اس گناہ کا خیال جم چکا تھا ان دونوں قبیلوں کے لوگ کہا کرتے تھے کہ آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے سات اپنی ہی دوست داری کا ذکر فرما دیا ہے۔ اس لئے اگرچہ اس آیت میں ہماری نامردی کا ذکر ہے۔ مگر یہ آیت ہم کو بڑی عزت کا باعث ہے ابن جریر اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں اسماء بنت یزید بن سکن ؓ سے روایت کی ہے کہ اسماء نے آنحضرت ﷺ کو یا مقلب القلوب کہتے ہوئے سن کر آپ سے پوچھا کہ حضرت کا دل بھی پھرجاتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں ہر آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں میں ہے چاہے اسے قائم رکھے یا جس طرف چاہے موڑ دے 1۔ اسی طرح کی روایت مسلم 2 اور ترمذی 3 میں بھی عبد اللہ بن بن عمروبن عاص ؓ سے ہے۔ اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی برے کام کا دل میں وسوسہ آ کر پھر دل اسی برے کام سے پھرجائے تو اس کی مدد غیبی سمجھ کر آدمی کو اللہ کا شکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہر نعمت شکر سے بڑھا کرتی ہے۔ اگر آدمی اس نعمت پر شکر کرے گا تو دن بدن اللہ تعالیٰ اس کو برے کاموں سے زیادہ بچائے گا اور رفتہ رفتہ یہ شخص بڑا نیک ہوجائے گا۔
Ayahs 3:123–127

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور خدا نے جنگ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بےسروسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعۃً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے (ذریعہ) بشارت بنایا یعنی اس لئے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل و مغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

(123 ۔ 127) ۔ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو شکست ہو کر ایک بڑی پریشانی مسلمانوں میں پھیل گئی تھی۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے احد کی لڑائی کے ذکر میں دو جگہ بدر کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک اس آیت میں اور دوسرے آئندہ کی آیت میں اس طرح کہ اگر اس احد کی لڑائی میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو تم بھی تو بدر کی لڑائی میں کافروں کے ستر آدمی مارچکے ہو۔ اور ستر کو قید کرچکے ہو یہ ایک لڑائی کے ذکر میں دوسری لڑائی کا ذکر اسی واسطے فرما دیا ہے کہ اس فتح کی لڑائی کو یاد کر کے اس شکست کی لڑائی کا زیادہ افسوس مسلمانوں کو نہ رہے یہ فرشتوں کی مدد کا ذکر جو اس آیت میں ہے اس میں مفسروں کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ بدر اور احد دونوں لڑائیوں میں فرشتے مدد کو آئے تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ فقط بدر کی لڑائی میں فرشتے مدد کو آئے تھے۔ اس اختلاف کا فیصلہ وہی ایک صحیح فیصلہ ہے 1۔ جو فخر المتاخرین ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی رفاقت خاص کے لئے احد کی لڑائی میں صرف حضرت جبرئیل و میکائیل آئے تھے۔ جس کا ذکر صحیحین میں ہے 2 بدر کی لڑائی کی طرح عام ملائکہ احد کی لڑائی میں آتے تو مسلمانوں کو شکست نہ ہوتی
Ayahs 3:128–129

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا ان کے حال پر مہربانی کر کے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(128 ۔ 129) ۔ اس آیت کے شان نزول علماء نے کئی طرح بیان کی ہے چناچہ صحیح بخاری اور احمدبن حنبل کی مسند میں حضرت ابن عمر ؓ سے اور صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ چند روز تک صبح کی نماز کی دوسری رکعت کے قومہ میں آنحضرت ﷺ نے صفوان بن امیہ اور حارث بن ہشام اور سہیل بن عمر اور قریش کے نام لے کر بدعا کرنی شروع کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی 3۔ اور مسلم اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ احد کی لڑائی کے بعد عتبہ بن ابی وقاص اور ابن قیمہ وغیرہ پر جنہوں نے آنحضرت کو زخمی کیا تھا آپ نے بد دعا کی اس پر یہ آیت اتری 4 اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رعل اور ذکوان اور عصیتہ ان تینوں قبیلے کے لوگوں پر آپ نے بددعا کی تھی 5 جب ان لوگوں نے ستر صحابہ کو شہید کر ڈالا تھا۔ جس کو بیر معوذ کا واقعہ کہتے ہیں۔ لیکن فیصلہ صحیح اس اختلاف کا وہی ہے جو علامہ ابن حجر نے فتح الباری میں کیا ہے احد کی لڑائی اور بیر معوذکا واقعہ یہ دونوں واقعے ایک ہی سال کے اندر کے ہیں ان دونوں واقعوں کے بعد ان دونوں واقعوں کے سرکش لوگوں کے حق میں آپ نے بددعا کی تھی اس پر یہ آیت اتری ہے۔ نظام شرعی اور نظام تکوینی کے احکام اللہ تعالیٰ کے دنیا میں انتظام ہیں ایک شرعی انتظام ہے جس کا تعلق انبیاء سے ہے اور جس کے قیام کے لئے اللہ نے ہر وقت کی حالت کے موافق آسمانی کتابیں نازل فرمائیں دوسرا انتظام تکوینی ہے بعض قضا و قدر کے حکم کے موافق تمام عالم کے موجودات کا انتظام جس انتظام کی رو سے اللہ نے سوا حضرت موسیٰ کی ماں کے اور دائیوں کے دودھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر حرام کر کے وَحَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمِرا ضِعَ (28۔ 12) فرما دیا یہ حرمت شرعی نہیں بلکہ تکوینی تھی یا جس طرح الہام کے ذریعہ سے کشتی کے توڑنے یا دیوار کے سیدھا کرنے اور لڑکے کے مار ڈالنے کے اسباب تکوینی حضرت خضر کو اللہ تعالیٰ نے بتلا دئیے اور حضرت موسیٰ کو ان اسباب سے بیخبر رکھا۔ اسی طرح شرعی اسباب کی بنا پر لوگوں کو آنحضرت نے قابل بد دعا خیال فرمایا تھا۔ اور اسباب تکوینی اس بددعا کے مخالف تھے یعنی علم ازلی الٰہی میں فتح مکہ پر صفوان بن امیہ وغیرہ کا اسلام لانا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو بددعا کرنے سے منع فرمایا۔ اور فرما دیا کہ ان لوگوں کا حال اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ جو ظالم ان میں سے حالت کفر میں مرے گا اس کو اللہ تعالیٰ عذاب کرے گا اور جو اسلام لائے گا اس کی توبہ قبول ہوگی۔ چناچہ ویسا ہی ہوا ابن قیمہ اور عتبہ بن ابی وقاص سعد بن ابی وقاص کا بھائی حالت کفر میں مرے اور اکثر لوگ ان میں کے ایمان لائے۔ صَدَقَ اللّٰہُ الْعَلی العَظِیْمُ ۔
Ayahs 3:130–134

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو ! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور (دوزخ) کی آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کئی گئی ہے

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

(130 ۔ 134) ۔ احد کی لڑائی کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ سود کا ذکر اس لئے فرمایا کہ اسی لڑائی میں ایک بڑا موقع لین دین کا پیش آیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ احد کی لڑائی کے بعد مکہ کو واپس جاتے جاتے اپنے ساتھ کے مشرکین سے ابو سفیان نے کہا کہ مسلمانوں کی جوان جوان عورتیں لونڈیاں بنا کر نہ لایا اور ان کے سرگروہ رسول وقت کو اور بقیہ مسلمانوں کو ناحق زندہ چھوڑ آیا۔ اس کا مجھ کو بڑا افسوس ہے۔ یہ خبر آنحضرت کو پہنچی۔ آپ نے حکم دیا کہ کل کے روز لڑائی میں جو لوگ گئے وہی لوگ آج پھر مشرکین کے تعاقب میں چلیں۔ اگرچہ لوگ زخمی تھکے ہوئے تھے۔ لیکن انہوں فورًا اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم کی تعمیل کی جس تعمیل کی تعریف اللہ تعالیٰ نے آئندہ کی آیتوں میں فرمائی ہے۔ غرض ادھر تو آنحضرت نے یہ قصد کیا کہ مشرکین پر رعب ڈالنے کی نیت سے ان کا تعاقب کیا اور ادھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دلوں میں ضعف اور رعب ڈال یا۔ انہوں نے مقابلہ سے انکار کیا۔ اور آئندہ سال کے مقابلہ کا وعدہ کیا واپسی کے وقت مسلمانوں نے ان تاجروں سے جو ان دنوں میں ہمیشہ مکہ کو تجارت کے لئے جایا کرتے تھے بہت سا تجارت کا سامان خریدا اور اللہ تعالیٰ نے اس تجارت میں بہت نفع مسلمانوں کو دیا۔ لیکن اسلام میں اس طرح کی تجارتوں میں خریدوفروخت اس طرح اکثر قبیلوں میں ہوا کرتی تھی کہ خریدوفروخت قرض کے طور پر ہوتی اور پہلی مدت پر روپیہ ادا نہ ہو تو دوسری مدت کی بابت کچھ روپیہ اور بڑھا دیا جاتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس تجارت والی لڑائی کے ذکر میں اس سود کی صورت کی ممانعت کے حکم کو ذکر فرمایا۔ تاکہ آئندہ کی آیت میں اس تجارت اور اس تجارت کے نفع کا ذکر جو ہے اس نفع حلال کا ذکر اس نفع حرام کی صراحت سے خالی نہ رہے اس سود کی بیع کی صراحت میں مجاہد سے روایت ہے کہ ایک بیع اہل عرب میں اس طرح کی تھی کہ پہلی ایک مدت میں کچھ اور دن بڑھا دیا کرتا تھا۔ اور خریدار قیمت میں کچھ دام اور بڑھا دیا کرتا تھا۔ یہ صورت سود کی تھی اسی کی مخالفت میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے 1۔ اس آیت میں یہ جو ذکر آیا ہے کہ ” جنت کا عرض آسمانوں اور زمینوں کی چوڑائی کے برابر ہے اس کی صراحت اس قدر کافی ہے کہ صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر عرض معلے کے نیچے ہے اور عرش معلیٰ کرسی سے بہت بڑا ہے۔ اور کرسی زمین اور آسمان سے بہت بڑی ہے۔ چناچہ تفسیر ابوبکر بن مردویہ میں حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ کرسی کے مقابلہ میں ساتوں آسمان اور ساتوں زمین ایسے ہیں جس طرح بہت بڑے میدان میں ایک انگلی کا چھلا گرا پڑا ہو۔ اور عرش معلے کرسی سے اتنا ہی بڑا ہے جیسا چھلے سے وہ میدان خیال کیا جاسکتا ہے 2۔ اس حالت میں جنت کا زمین و آسمانوں کی لمبائی کے برابر ہونا یہ شبہ نہیں پیدا کرسکتا کہ پھر وہ جنت زمین آسمان میں کیونکر سمائے گی اور جنت کے ملنے کی کوشش کے ذکر میں اہل جنت کے چند اوصاف بھی اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائے ہیں اور ان میں غصہ کے وقت تحمل کرنے اور غصہ ٹل جانے کا جو ذکر ہے اس کی نسبت مسند امام احمد بن حنبل اور ترمذی اور ابو داؤد اور ابن ماجہ میں مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو غصہ آئے اور باوجود طاقت بد لا لینے کے وہ اپنے غصہ کو پی جائے اور جس شخص پر اس غصہ کھولنے والے کو غصہ آیا ہے اس سے بدلا نہ لیوے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اختیار دے گا کہ جنت کی جس حور کو وہ چاہے پسند کرلے 3۔ اسی طرح صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی آدمی کو کشتی میں پچھاڑ دے بلکہ اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت تحمل کر کے اپنے غصہ پر غالب اور اپنے نفس پر قادر ہے 1
Ayahs 3:135–136

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے رہو اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون کرسکتا ہے ؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور اچھے کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے

(135 ۔ 136) ۔ جس طرح اوپر کی آیت کو لڑائی سے ایک طرح کا تعلق تھا جس کی تفصیل اوپر بیان ہوچکی ہے اسی طرح اس آیت کو بھی لڑائی سے ایک تعلق ہے۔ چناچہ ابی صالح نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک صحابی انصاری اور دوسرے ثقفی میں دینی بھائی چارہ کرا دیا تھا۔ اتفاق سے ثقفی تو آنحضرت ﷺ کے ساتھ لڑائی پر گیا اور انصاری مدینہ میں رہا اور اس ثقفی نے لڑائی پر جاتے وقت اپنی بی بی کی خبر گیری انصاری کو سونپی یہ انصاری اپنے دینی بھائی کی بی بی کو سواد سلف بازار سے لادیا کرتا تھا۔ ایک دن انصاری نے بازار سے گوشت لاکر کواڑ کی جہری میں سے دیا۔ اور اس عورت نے کواڑ کی دراز میں سے ہاتھ نکال کر گوشت لے لیا۔ اس عورت کا ہاتھ دیکھ کر انصاری کی نیت بگڑ گئی۔ اور گوشت لے کر جب وہ عورت مڑی تو یہ انصاری بھی اس کے پیچھے گھر کے اندر گھس گیا اور عورت کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔ اتنے میں خدا نے ہدایت کی فورًا عورت کا ہاتھ چھوڑ کر گھر کے باہر چلا آیا۔ اور بہت نادم ہوا اور اپنے سر پر خاک ڈالی اور جنگل اور پہاڑوں میں ندامت زدہ پھر تارہا۔ ثقفی نے لڑائی سے واپس آ کر اپنے دینی بھائی کا حال اپنی بی بی سے پوچھا۔ عورت نے کہا خدا اس طرح کے دینی بھائی مسلمانوں میں نہ پڑھاوے یہ کہہ کر سارا قصہ اپنے خاوند سے بیان کیا۔ ثقفی انصاری کی تلاش میں نکلا۔ اور اس کو جنگل میں ڈھونڈھ کر پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس لایا اور ساراقصہ نقل کیا۔ انصاری نے بھی اپنے قصور کا اقرار کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے انصاری سے فرمایا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کو لڑائی پہ جانے والے لوگوں کی اہل و عیال کی کیا کچھ عزت و حرمت مدنظر ہے پھر ثقفی اور انصاری حضرت عمر ؓ کے پاس آئے اور حضرت عمر ؓ نے بھی وہی فرمایا جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا تھا۔ پھر یہ دونوں آنحضرت کے پاس آئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو لوگ کبیرہ یا صغیرہ گناہ کر کے اللہ کو یاد کرتے ہیں کہ ایک دن اللہ کو منہ دکھانا ہے اور اس ڈر سے فورًا توبہ استغفار کرتے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ بعد خالص توبہ کے اللہ غفور رحیم بخشنے والا ہے اس کے سوا گناہوں کا بخشنے والا کوئی نہیں۔ تو ایسے لوگوں کی اللہ عقبیٰ میں مغفرت فرما کر ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسا غفور رحیم ہے اور اس کو بخشش کی صف ایسی پیاری ہے کہ کسی طرح کا گناہ کر کے آدمی توبہ کرے تو وہ فورًا معاف کردیتا ہے بخشش کی صفت اللہ کو یہاں تک پیاری ہے کہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے قسم کھا کر فرمایا کہ اگر تم لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ تم کو زمین پر سے اٹھا کر بجائے تمہارے اور گنہگار مخلوق پیدا کرتا تاکہ اس کی مغفرت کرے اور اپنی پیاری صفت غفور رحیمی کا کام میں لائے 1۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو شیطان توبہ کرنے والے مسلمانوں کو اپنے ساتھ دوزخ میں لے جانے سے مایوس ہو کر بہت رویا۔ گناہ پر ہٹ کرنے اور اڑنے کے یہ معنی ہیں کہ آدمی گناہ کر کے توبہ نہ کرے۔ چناچہ ابو داؤد میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ جو شخص دن بھر میں ستر دفعہ بھی گناہ کر کے توبہ کرے۔ وہ شخص گناہوں پر ہٹ کرنے والا نہیں اس حدیث کی سند میں اگرچہ ترمذی نے کلام کیا ہے۔ مگر اور علماء نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 2 توبہ کے لئے دو رکعت نفل کا پڑھنا اور پھر توبہ کرنا یہ بھی حدیث 3 میں آیا ہے۔ گناہ خواہ صغیرہ ہو یا کبیرہ توبہ فورا بلا خیر ضرور ہے صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے قسم کھا کر فرمایا کہ میں دن بھر میں ستر دفعہ سے زیادہ توبہ کرتا ہوں 4۔ اور مسلم میں اغربن یسار ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا اے لوگوں اللہ سے توبہ کرو میں تو دن بھر میں سو دفعہ تو بہ کرتا ہوں 5۔ گناہوں کی قسمیں اور توبہ کے شروط گناہ کی دو قسمیں ہیں ایک فقط اللہ کا گناہ ہے مثلا نماز کا نہ پڑھنا روزہ نہ رکھنا۔ دوسرا وہ گناہ ہے جس میں بندوں کا حق بھی شریک ہے۔ جس طرح کا مال چرانا۔ یا کسی کی غیبت کرنا۔ اول قسم کے گناہوں کی توبہ صحیح ہونے کی یہ تین شرطیں ہیں۔ ایک تو بہ کے وقت گناہ سے بےزار ہونا دوسرے گناہ پر نادم ہونا۔ تیسرے اس وقت دل میں یہ ٹھان لینا کہ پھر ایسا کام نہ کروں اور دوسرے قسم کے گناہوں کی توبہ میں سوا ان تین شرطوں کے صاحب حق کا راضی کردینا بھی شرط ہے چناچہ اوپر اس باب میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے۔ اور یہ بھی ابھی اوپر بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ غفور رحیمی کی صفت بہت پیاری ہے اسی واسطے جب کوئی شخص اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بہت خوشی ہوتی ہے چناچہ صحیحین میں حضرت ابن بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ ایک مسافر آدمی کا جنگل میں وہ اونٹ جس پر اس کا کھانا پینا لدا ہوا تھا کھو جائے اور پھر مل جائے تو جس قدر خوشی اس مسافر کو اپنے اونٹ کے مل جانے کی ہوتی ہے اس سے بہت بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو خوشی ہوتی ہے۔ جبکہ گنہگار آدمی توبہ کرتا ہے اگرچہ اس آیت کی شان نزول اور طرح بھی مفسرین نے بیان کی ہے۔ لیکن یہ شان نزول جو بیان کی گئی ہے جید طریقہ سے تھی اس لئے اسی کو اختیار کیا گیا۔
Ayahs 3:137–142

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین میں سیر کر کے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہو

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہل تقوی کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور (دیکھو) بےدل نہ ہونا اور نہ کسی طرح غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور یہ بھی مقصود تھا خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے اور کافروں کو نابود کر دے

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

(137 ۔ 142) ۔ احد کی لڑائی میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مسلمانوں کو یہ خیال گذرا کہ ہم اسلام کی تائید میں لڑتے ہیں اور حق پر ہیں اور ہمارے دشمن اور مخالف لوگ ناحق پر ہیں اور دین الٰہی کو مٹانا چاہتے ہیں پھر ہماری شکست اور ان کی فتح کیوں اور کس مصلحت الٰہی سے ہوئی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تسلی اور کافروں کی تنبیہ میں یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ کی درگاہ میں ہر وقت کام کا وقت مقرر ہے ابھی ان دین الٰہی کے دشمنوں کی تباہی کا وقت نہیں آیا ہے جب وقت مقرر آجائے تو کچھ ان میں سے اپنے حال کی اصلاح کر کے مسلمان ہوجائیں گے اور جو اپنے کفر پر اڑے رہیں گے فورا جس طرح اگلے لوگ رسولوں کی مخالفت کے سبب سے ہلاک ہوچکے ہیں یہ بھی ہلاک ہوجائیں گے۔ اور تم مسلمان لوگ ہی آخر کو غالب رہو گے۔ چناچہ اس آیت کے نزول کی تاریخ سے دس 10 برس کے اندر فتح مکہ ہو کر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا ویسا ہی ہوگیا۔ اور مسلمانوں کی یہ تھی تسکین فرما دی۔ کہ اگر تمہارے کچھ لوگ اس لڑائی میں زخمی ہوگئے ہیں تو اس سے پہلے کی لڑائی میں ان کے لوگ بھی زخمی ہوچکے ہیں کچھ گھبرانے کی بات نہیں ہے اگر ہمیشہ تمہاری فتح ہوتی تو نہ تمہاری ثابت قدمی کمزوری کے وقت کی جانچی جاسکتی اور نہ اس ثابت قدمی کا اجر تم پاسکتے اور نہ شہادت کا درجہ مل سکتا۔
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا

تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جو صحابہ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے وہ آرزو کیا کرتے تھے کہ خدا پھر کوئی ویسا دن دکھائے اللہ تعالیٰ نے احد کا دن دکھایا اور تیر اندازوں کے گھاٹی چھوڑ دینے کے سبب سے جس کا ذکر اوپر گذرا مسلمانوں کی شکست ہوگئی تو اکثر وہ آرزو کرنے والے لوگ ثابت قدم نہ رہے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تنبیہ میں یہ آیت نازل فرمائی 1۔ تاکہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے جان بازی کا عہد کیا اور وقت پر اپنے عہد کو پور انہ کیا ان کی آنکھیں ذرا نیچے ہوں اور آئندہ پھر کبھی ایسا نہ کریں بلکہ اپنے عہد کے موافق جس طرح کی جان بازی انس ابن نضر ؓ حضرت انس ؓ کے چچا نے کی ہے آئندہ موقع پڑے تو یہ لوگ بھی ویسی ہی جان بازی کریں چناچہ صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ان کے چچا انس بن نضر ؓ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ تو ان کو بڑا افسوس ہوا کہ اسلام کی پہلی لڑائی میں وہ شریک نہ ہوئے اور انہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اب کے اللہ تعالیٰ نے کسی لڑائی میں شریک ہونا نصیب کیا تو وہ بڑی جان بازی کریں گے احد کی لڑائی میں وہ بھی شریک تھے۔ جب مسلمانوں کی شکست ہونا نصیب کیا تو مدینہ کو واپس چلے گئے اور کچھ پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور آنحضرت کے ساتھ گیارہ بارہ آدمی رہ گئے تو انس بن نضر ؓ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ جو کچھ مسلمانوں نے کیا ہے اس سے درگذر فرما اور تلوار لے کر آگے بڑھے راستہ میں ان کو سعد بن معاذ ؓ ملے تو انہوں نے کہا کہ اے سعد ؓ تم کہاں پھر رہے ہو مجھ کو تو احد کے اردگرد جنت کی خوشبو آرہی ہے یہ کہہ کر مشرکوں کی طرف چلے گئے۔ پھر ان کا پتہ نہ لگا۔ آخر جب ان کی لاش ملی تو اس پر کچھ اوپر اسی 80 زخم تھے 2۔
Ayahs 3:144–148

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ (یعنی مرتد ہوجاؤ گے) اور جو الٹے پاؤں پھرجائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکے گا اور خدا ‌شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا۔

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے (اس نے موت) کا وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال) کا بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دیں گے اور جو آخرت میں طالب ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب بہت (اچھا) صلہ دیں گے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل اللہ (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصیبتیں ان پر راہ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

تو خدا نے انکو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ دے گا اور خدا نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے

(144 ۔ 148) ۔ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اور ابن نذر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر اور اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں جو کچھ اس آیت کے شان نزول بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب احد کی لڑائی میں شیطان نے یہ افواہ اڑا دی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہوگئے تو مسلمانوں میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں کچھ لوگ تو یہ کہتے تھے کہہ اگر آپ نبی ہوتے تو زندہ رہتے۔ اور کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ دین تو اللہ کا ہے اگر آپ شہید بھی ہوگئے تو جس دین کے واسطے آپ لڑتے تھے ہم کو بھی ضرور لڑنا چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اس شان نزول کی روایت کے چند طریقے ہیں اس لئے ایک کو دوسرے سے قوت ہوجاتی ہے۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ پہلے زمانہ میں انبیاء اور انکے ساتھ کے لوگ لڑے اور امت کے لوگوں کے سامنے بعض نبی شہید بھی ہوگئے۔ لیکن وہ لوگ اسی طرح ثابت قدم رہے جس طرح اپنے نبی کے روبرو تھے اسی طرح تم کو بھی چاہیے۔
Ayahs 3:149–153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر (کر مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑجاؤ گے

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

(یہ تمہارے مددگار نہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور سب سے بہتر مددگار ہے

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی ان کا ٹھکانہ ددزخ ہے وہ ظالموں کا بہت برا ٹھکانہ ہے

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کردیا (یعنی) اس وقت جب کہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور خدا مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول اللہ تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصبیت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

(149 ۔ 153) ۔ جب شیطان نے یہ خبر اڑا دی کہ حضور شہید ہوگئے تو بعض کچے مسلمان یہ کہنے لگے کہ اب ہم اپنے باپ دادا کے دین پر قائم ہوجائیں تو اچھا ہے ان لوگوں کی صلاح نہ ماننے کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا کہ ایسے لوگوں کا کہناماننے میں دین کا خسارہ ہے دنیا کا تو یہ کہ اللہ مسلمانوں کا حامی اور مددگار ہے۔ اس لئے آخر ان کو غلبہ ہوگا۔ اور جس طرح اب تم کو جان و مال کا خوف کافروں سے ہے۔ اگر تم کافروں میں شریک ہوگئے۔ تو وہی خوف تم کو مسلمانوں سے کرنا پڑے گا اور دین کا یہ نقصان کہ عقبیٰ میں اللہ کے عذاب میں پکڑے جاؤ گے اور جن کافروں کا تم کو خوف ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں یہ سبب ان کے جھوٹے دین پر ہونے کے مسلمانوں کے رعب ڈال دیا ہے۔ اس لئے ان سے ڈرنا بےفائدہ ہے۔ صحیحین میں حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایک مہینے کے راستہ پر سے میرا رعب دشمنوں پر پڑتا ہے 1۔ یہ بھی ہدایت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اس رعب کے سب سے باوجود اس کے کہ مسلمان سات سو تھے اور ان کے دشمن تین ہزار تھے۔ اول اول شرع لڑائی میں اللہ کے حکم سے مسلمانوں کی فتح ہوئی تھی۔ لیکن تیراندازوں نے لوٹ کے لالچ سے اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی کی اس سے یہ شکست خود تمہارے ہاتھوں سے ہوئی۔ اور مال غنیمت ہاتھ نہ لگنے کا غم رسول وقت کے شہید ہونے کی خبر سننے کا غم بھائی بندوں کے شہید ہونے کا غم شکست کھانے کا غم یہ غم پر غم سب تم کو سہنے پڑے۔ خیر اللہ نے اپنے فضل سے اب تو تمہارا قصور معاف کیا۔ مگر آئندہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
Ayahs 3:154–155

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہوگئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے ؟ تم کہہ دو کہ بیشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے (احد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کردیا بیشک خدا بخشنے والا (اور) بردبار ہے

(154 ۔ 155) ۔ جب مسلمان ان طرح طرح کے غموں میں مبتلا ہوئے جن کا ذکر اوپر گذرا تو اللہ تعالیٰ نے عین لڑائی کے وقت ان پر تھوڑی دیر کے لئے ایک طرح کی غنودگی اتاری جس سے ان کی تھکان ذرا رفع ہوگئی۔ مگر اس غنودگی میں یہ حکمت الٰہی تھی کہ جو پکے مسلمان تھے ان کو تو غنودگی ہوگی اور جو کچے تھے وہ اسی طرح پریشانی کے عالم میں رہے اور گھبرا کر یہ کہتے تھے کہ ہمارا کچھ اختیار ہوتا اور مدینہ کے اندر سے لڑائی لڑنے کی صلاح مان لی جاتی تو ہم یہاں جنگل میں کیوں ہلاکت میں پڑتے یہ مقولہ دبی زبان سے اس طرح چپکے چپکے کہتے تھے کہ آنحضرت کو معلوم نہ ہو۔ مگر اس مقولہ کے کہنے والے کے پہلو میں جو شخص تھے انہوں نے اس مقولہ کو سنا ابھی آنحضرت تک یہ چرچا نہیں پہنچا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کچے مسلمانوں کا کچا پن ظاہر ہوجانے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی۔ چناچہ اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں حضرت زبیر ؓ سے روایت کی ہے حضرت زبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک غنودگی کی حالت میں تھا جس طرح خواب میں کوئی شخص کوئی آواز سنتا ہے۔ اسی طرح میں نے معتب بن قنبیر 1 کی زبان سے یہی مقولہ سنا اور غنودگی میں اس کو میں نے یاد بھی کرلیا۔ اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی 2۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ ان لوگوں کی خام خیالی ہے کہ ان کا اختیار ہوتا تو جو کچھ اللہ کے اختیار اور قدرت سے ہوا ہے یہ لوگ اس کو روک لیتے۔ بلکہ یہ لوگ اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جو کچھ ہونے والا تھا وہ ہوتا کہ پکے مسلمانوں اور منافقوں کی جانچ ہوجاتی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ تدبیر سے تقدیر نہیں ٹلتی۔ خواہ آدمی گھر میں ہو یا جنگل میں۔