2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 2:155–157

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنادو

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے اور یہی سیدھے راستے پر ہیں

(155 ۔ 157) ۔ اوپر کی آیت میں مصیبت کے وقت صبر اور نماز سے مدد لینے کا ذکر فرما کر اسی کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں جو اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جو شخص مصیبت کے وقت صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق اس کو پورا جر دے گا سورة الزمر میں آئے گا۔{ اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِحِسَابٍ } (39: 10) جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر نیکی کا اجر دس درجہ سے لے کر سات سو تک ہے۔ مگر صبر جیسی مشکل چیز ہے اسی طرح اس کا ثواب بھی اندازہ سے باہر ہے صحیح ابن حبان وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ سے بسند معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو عقبیٰ میں بڑادرجہ دینا چاہتا ہے۔ لیکن ان بندوں کے اعمال اس درجہ کے قابل نہیں ہوتے اس لئے ان کو بعض مصیبتوں سے آزماتا ہے اور جب وہ بندے ان مصیبتوں کے وقت صابر رہتے ہیں تو ان کے صبر کے اجر میں اللہ تعالیٰ ان اپنے بندوں کو عقبیٰ کے اس بڑے درجہ کے قابل کردیتا ہے 1۔ اسی طرح مصیبت کے وقت صبر کرنے سے گناہوں کے معاف ہونے کی حدیثیں بہت سی ہیں 2۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا اکثر اچھے لوگ مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تاکہ مصیبت کے وقت صبر کرنے سے ان کا درجہ بڑھے ان کے گناہ معاف ہوں۔ اس لئے مسلمان آدمی کو مصیبت سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ ایسے وقت پر صبر اور نماز سے مدد لینی چاہیے۔ مال کا نقصان یہ ہے کہ مثلاً کسی تجارت میں گھاٹا آجاوے یا کوئی چوری ہوجاوے جان کا نقصان رشتہ داروں یا دوستوں کا مر جاناخوف سے مراد دشمنوں کا خوف ہے بھوک سے مراد محتاجی و قحط میوہ کا نقصان باغ کے پیڑوں میں پھل کا نہ آنا یا کم آنا یا اولاد کی موت کیونکہ اولاد کو بھی پھل کہتے ہیں۔ چناچہ ترمذی وغیرہ میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کسی مسلمان شخص کی اولاد کا انتقال ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے کہ جس وقت تو نے میرے بندے کے دل کے پھل کو اس سے چھین لیا تو اس میرے بندے نے کیا کہا فرشتہ جواب دیتا ہے یا اللہ اس وقت تیرے بندے نے { اِنَّا لِلّٰہِ } پڑھی اور تیری تعریف کی نہ کچھ بےصبر کی نہ کوئی ناجائز کلمہ منہ سے نکالا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرماتا ہے اچھا ایسے بندہ کے لئے جنت میں ایک گھر تیار کرو اور اس کا نام اللہ کی تعریف کا گھر رکھو ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے 3۔ جو قابل ِاعتبار ہے اور مسند امام احمد کی روایت سے ترمذی کی روایت کو ایک طرح کی تقویت بھی حاصل ہوگی ہے۔ غرض صابروں کو بڑا اجر ملنے والا ہے۔ اسی واسطے آخر آیت میں فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ کی رحمت ہے اور انہیں لوگوں نے عقبیٰ کی نجات کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے

158: اساف و نائلہ دو شخص تھے انہوں نے کعبہ کے اندر زنا کیا اللہ تعالیٰ ن ان کو پتھر کا کردیا اس وقت کے لوگوں نے ان دونوں پتھروں کو کعبہ کے باہر رکھ دیا تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھ کر عبرت پکڑیں پھر رفتہ رفتہ وہ صفا ومروہ پر اس طرح رکھ دئیے گئے کہ صفا پر اساف کو رکھ دیا اور مروہ پر نائلہ کو اور مثل اور بتوں کے ان کی بھی پوجا ہونے لگی اسلام کے بعد لوگوں کو اس سے صفا مروہ کے ما بین دورڑنے میں تامل ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو عبادات حج جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائے گئے ہیں۔ صفا مروہ کا دوڑنا بھی انہیں میں سے ہے کیونکہ ہاجرہ (علیہ السلام) پانی کی تلاش میں ان پہاڑوں کے مابین زمزم کا چشمہ نکلنے سے پہلے دوڑی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل کو حج کی عبادت میں داخل کردیا ہے۔ بیچ کے دنوں میں جو وہاں بت رکھئے گئے تھے تو اس سے اصل عبادت کی ادائے میں ان بتوں کے اٹھ جانے کے بعد کوئی حرج واقع نہیں ہوسکتا۔ صفا مروہ کے دوڑنے کو بعض علماء نے حج کارکن قرار دیا ہے۔ اور بعضوں نے اس کو مستحب کہا ہے جحۃ الوداع میں آں حضرت ﷺ صفا و مرہ کے ما بین دوڑے اور عبادات حج کو ادا کرتے وقت آپ نے صحابہ سے یہ فرمایا تھا۔ خذوا عنی مناسککم 1۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عبادت حج کو تفصیل وار تمہارے سامنے میں نے اس لئے ادا گیا ہے کہ تم لوگ بھی ان کو مجھ سے سیکھ لو اس صورت میں صفا و مرہ کے ما بین دوڑنے کی سنت فعلی ہونے میں تو کسی طرح شک و شبہ باقی نہیں رہ سکتا لیکن بعض روایتوں میں یوں آیا ہے۔ ان اللہ کتب علیکم السعی 2۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ذمہ رائے صفا و مرہ دوڑنے کی لکھ دی ہے ان روایتوں سے ان علماء سلف کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے جو صفا ومروہ کے ما بین دوڑنے کو حج کا ایک رکن کہتے ہیں ومن تطوع خیر فان اللہ شاکر علیم کے یہ معنی ہیں کہ صفا ومروہ کے مابین دوڑنے پر کچھ منحصر نہیں ہے حکم شرع کے موافق جو نیک کام جس نیک نیت سے کیا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے اور ایک دن بارگاہ الٰہی سے اس کا اجر تم کو ملنے والا ہے۔
Ayahs 2:159–162

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لیے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الٰہی کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی لعنت

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے، ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی

(159 ۔ 162) ۔ یہ آیت ان اہل کتاب کی شان میں ہے جنہوں نے تورات و انجیل کی آیتیں چھپائی اور نبی آخر الزمان کی نشانیوں اور صفتوں کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا اب ان میں سے جو لوگ اس حال پر بغیر توبہ کے مرگئے فرمایا وہ تو ملعون ہیں ہاں جنہوں نے توبہ کرلی ان کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول کرلی حدیث میں آیا ہے کہ عالم کے حق میں زمین و آسمان اور ملائکہ مغفرت کی دعا کرتے ہیں 1۔ یہ اس لئے ہے کہ عالم علم پڑھ کر خود بھی راستہ پر آئے گا۔ اور لوگوں کو بھی نیک راہ سکھائے گا۔ جس عالم نے علم پڑھ کر پھر جاہلوں کے سے کام کئے اور اسی حال میں بغیر توبہ کے مرگیا تو یہی مخلوق اللہ کی اس پر لعنت کرے گی کیوں کہ ایسے عالم نے ان کی دعا مغفرت بالکل رائیگاں کردی اور جن مغفرت کے کاموں کی اس عالم سے توقع تھی مرتے دم تک اس نے وہ کام نہیں کئے۔ لیکن آیت میں علماء اہل کتاب کا ذکر ہے جن میں سوائے بد عملی کے کفر بھی تھا۔ مسلمان گناہ گار پر بالخصوص معین طرح سے تو لعنت جائز نہیں ہے ہاں عام طور پر جیسے حدیث میں چوری کرنے، سود کھانے والے پر لعنت آئی وہ عام لعنت جائز ہے یہ تو دنیا کی لعنت ہوی یہ بھی آیا ہے کہ دوزخ میں جانے سے پہلے اللہ تعالیٰ اور ملائکہ اور مخلوق الٰہی سب کافر پر لعنت کریں گے۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور (لوگو ! ) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی صفت پوچھی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور حدیث میں آیا ہے کہ اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے { وَاِلٰھُکُمْ اِلہٰ ٌوَاحِدٌ لاَ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ُ ھَو الْحَیُّ الْقُیُوْم } یہ حدیث ابو داؤد ترمذی و مسند امام احمد وابن ماجہ میں ہے اور ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ لیکن اس کی سند میں ایک راوی شہربن حوشب ہے جس کو اکثر علماء نے ضعیف بتایا ہے مگر امام احمد اور یحییٰ بن معین نے اس کو ثقہ کہا ہے 2۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ وحدہ لا شرک ہے اس کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں ہے۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں (اور جہازوں) میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لیکر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

تفسیر ابن کثیر حاتم وغیرہ معتبر سند سے ان آیتوں کی شان نزول جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے لکھی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ کی دعا سے اگر یہ مکہ کا صفا پہاڑ سونے کا ہوجاوے تو ہم لوگ آپ پر ایمان لے آئیں اور اس سونے سے ہتھیار اور گھوڑے خرید کر آپ کے ساتھ جہاد کریں گے اس پر آپ نے قریش سے مضبوط وعدہ ایمان کا لیا اور اللہ تعالیٰ سے صفا پہاڑ کے سونے کے ہوجانے کی دعا کی حضرت جبرئیل آں حضرت ﷺ کے پاس آئے اور اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچایا کہ صفا پہاڑ کے سونے کے ہوجانے کے بعد اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے تو ان پر بہت سخت عذاب نازل کیا جائے گا اگر یہ شرط ان کو منظور ہے تو صفا پہاڑی کو بھی سونے کا کردیا جائے گا اس پر آں حضرت ﷺ نے دعا کی کہ یا اللہ ان لوگوں کو اور مجھ کو اسی حال پر چھوڑ دیاجائے۔ رفتہ رفتہ میں ان کو دعوت اسلام پہنچاتا رہوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں 1۔ مضمون آیت میں جو تنبیہ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ صفا پہاڑ کا سونے کا ہوجانا دور ازعقل خیال کر کے ان لوگوں نے اپنے ایمان لانے کو جو اس پر منحصر رکھا ہے عقل مند کے لئے اس سے بڑھ کر دور از عقل نشانیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دنیا میں موجود ہیں۔ مثلاً آسمان کا بلا ستون قائم ہونا اور تاروں کا اس خوبی کے ساتھ اس میں معلق ہونا ہوا کا بادلوں کو اکٹھا کرنا اور موسم پر ہر سال ضرورت کے موافق مینہ کا برسنا اور اس سے طرح طرح کی پیداوار کا زمین سے حاصل ہونا زمین کی خاصیت تو یہ ہے کہ اس میں جو چیز دبائی جاوے وہ خاک ہوجاتی ہے یہاں تک کہ لوہا جیسی سخت چیز کا بھی زمین میں وہی حال ہے۔ لیکن بحکم خدا جب بیج اس میں دبایا جائے تو بجائے خاک ہوجانے کے وہ اگتا ہے پھلتا ہے پھولتا ہے کیا یہ بات زمین کی خاصیت میں اللہ تعالیٰ نے نہیں رکھی ہے کہ اس خاصیت کے سبب سے زمین کے اندر ہی اندر مٹی اور پتھر سونا ہوجاتے ہیں۔ اور جگہ جگہ زمین میں سونے کی کان نکلتی ہیں جو سونا دنیا بھر میں برتا جاتا ہے اس خاصیت سے ایک صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے تو کیا اچنبے کی بات ہے اور اس پر ایمان کا لانا کیا منحصر ہوسکتا ہے بلکہ وہ تو اتنی بات ہے کہ جس طرح اور سونے کی کانیں زمین میں ہیں اسی طرح یہ بھی ایک کان گنی جائے گی اگر یہ لوگ اللہ کی قدرت کے نمونے دیکھ کر اس کو پہچاننا اور اس پر ایمان لانا چاہتے ہیں تو ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں نمونے اللہ کی قدرت کے عقل مند کے لئے ایسے دنیا میں موجود ہیں جس طرح کی چند باتیں اس آیت میں ذکر کی گئیں ہیں۔
Ayahs 2:165–167

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوست دار ہیں اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرؤوں سے بیزاری کریں گے اور (دونوں عذاب الٰہی) دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہوتا کہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں اس طرح خدا ان کے اعمال حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے

(165 ۔ 167) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو اپنی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں بنائیں ان نشانیوں کو دیکھ کر قریش ایمان نہ لائے اور اپنے شرک پر اڑے رہے تو ان کے شرک کا دنیا اور آخرت میں انجام ہے اس کی حالت فرمانے کی غرض سے یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ دنیا میں ان کے شرک کے سبب سے بدر کی لڑائی میں وہ رسوائی ان کی ہوئی جس کی تفصیل جنگ بدر کے قصہ میں آئے گی کہ بڑے لوگ ان میں کے کچھ قتل ہوگئے اور کچھ قید سب عزت خاک میں مل گئی اور آخرت میں اس شرک کی بدولت ان کے لئے وہ عذاب مہیا ہو رہا ہے کہ اگر وہ عذاب دنیا میں نظر آجاوے تو سب شرک و کفر بھول جائیں اور اللہ ہی کو معبود حقیقی جاننے لگیں دنیا میں مجبوری کا ایمان اللہ کو پسند نہیں ہے۔ اس لئے وہ عذاب اللہ نے آخرت پر منحصر رکھا ہے اور دنیا میں اس عذاب کی یاد دہی ان کو کردی ہے تاکہ اس عذاب کے حال سے وہ بیخبر اور غافل نہ رہیں آخرت میں سوا اس عذاب کے یہ اور شرمندگی ہے کہ اللہ کے سوا جن کو انہوں نے معبود ٹھہرایا تھا۔ وہ ان سے بیزاری ظاہر کریں گے اور اس بیزار سے ان کا دل یہاں تک جلے گا کہ ان کہ یہ کہنا پڑے گا کہ کاش ایک دفعہ دنیا میں ہم پھرجاتے اور ہم بھی اپنے جھوٹے معبودوں سے بیزراری ظاہر کر کے ان کو ذلیل اور رسوا کرتے جس طرح انہوں نے ہم کو ذلیل اور رسوا کیا ہے آخرت میں ان مشرکوں کے جھوٹے معبود اور سب جھوٹے معبودوں کا سر گروہ شیطان جس طرح اپنے ہوا خواہوں سے بیزاری ظاہر کریں گے اس کو اللہ تعالیٰ نے سورة سبا اور سورة ابراہیم میں تفصیل سے ذکر کیا ہے دونوں سورتوں میں یہ ذکر آئے گا۔
Ayahs 2:168–169

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

لوگو ! جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تم کو برائی اور بےحیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں

(168 ۔ 169) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود حقیقی اور خالق مخلوقات ہونے کا ذکر فرما کر اس آیت میں اپنے رازق مطلق ہونے کا ذکر فرمایا ہے مشرکین مکہ نے اپنے رسم و رواج کے طور پر بعض جانوروں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا مثلاً وہ جانورو جن کو وہ سانڈ کے طور پر یا اس کے کان چیر کر چھوڑ دیتے تھے یا وہ اونٹ کے نطفہ سے دس جھول بچوں کے پیدا ہوچکے ہوں یا اونٹنی کے پیٹ میں بعض بچوں کو مردوں کے لئے مخصوص ٹھہراتے تھے عورتوں کو وہ گوشت نہیں کھانے دیتے تھے سورة مائدہ اور انعام میں اس کا ذکر تفصیل سے آئے گا۔ اصل تو ان کی تنبیہہ میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ لیکن اب بھی جو شخص جان دار یا غیر جان دار حلال چیز کو قسم یا نذر مان کر اپنے اوپر حرام ٹھہرائے یا حرام چیز کی طرح کام میں لائے تو وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے چناچہ ایک شخص نے مسروق تابعی کے زمانہ میں اپنے لڑکے کی قربانی کرنے کی ندر مانی تو انہوں نے بجائے اس لڑکے کے ایک بکری ذبح کرنے کا فتویٰ دیا اور کہا کہ شیطان کی پیروی جس کا ذکر اس آیت میں ہے ایسی ہی نذر ہے۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ایک روز پیوسی کا جما ہوا دودھ نمک سے کھا رہے تھے ایک شخص اور آگیا انہوں نے اس کو بھی دعوت دی اس نے انکار کیا۔ آپ نے پوچھا کیا تیرا روزہ ہے اس نے کہا نہیں میں نے اپنے جی سے عہد کرلیا ہے کہ میں پیوسی نہ کھاؤں گا آپ نے فرمایا جس شیطان کی پیروی کا آیت میں ذکر ہے وہ اسی طرح کی پیروی ہے صحیح مسلم میں عیاض بن حمار ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو چیزیں میں نے اپنے بندوں پر حلال کی تھیں۔ شیطان کے بہکانے سے وہ انہوں نے اپنے اوپر حرام کرلیں ہیں 1۔
Ayahs 2:170–171

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے ؟

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ نہیں سکتے

(170 ۔ 171) ۔ یہود اور مشرکین سے جب اسلام لانے اور قرآن شریف کے موافق چلنے کو کہا جاتا تھا تو وہ یہ جواب دیتے تھے کہ ہم تو اپنے بڑوں کے قدم بقدم چلیں گے ان کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کی مثال جانوروں کی سی ہے جس طرح ان کا چرواہا ان کو آواز دیتا ہے تو وہ اس آواز کے مطلب کو تو کچھ سمجھتے نہیں صرف آواز ہی آواز سن لیتے ہیں اسی طرح ان لوگوں کے کانوں میں یہ آواز ہی بسی ہوئی ہے کہ جس طریقہ پر یہ لوگ ہیں وہ ان کے باپ داداکا طریقہ ہے نیک و بد اور حق ناحق کے امتیاز سے انہوں نے جانوروں کی طرح اپنی زبان آنکھ کان کو بیکار کر رکھا ہے یہاں سے یہ معلوم ہوا کہ دین کی کوئی حق بات معلوم ہوجانے کے بعد کوئی شخص تو رسم و رواج پر اڑا رہے گا تو وہ شیوہ انسانیت سے باہر ہے انسان کا کام ہمیشہ حق بات کا دریافت کرنا اور اس دریافت میں اپنے حواس صرف کرنا ہے نہ کہ حیوانوں کی طرح ناحق بات پر بلا دریافت اڑے رہنا۔
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو

اکل حلال دنیا میں ہر مسلمان کے لئے بڑی چیز ہے کوئی عبادت اور کوئی دعا بغیر غذائے حلال کے قبول نہیں ہوتی مسند امام احمد بن جنبل اور مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے بدوں پاک چیز کے اور کوئی چیز اللہ کی بار گاہ میں قبول نہیں ہوتی 1۔ بعض لوگ رات دن یا اللہ یا اللہ کہہ کر گڑگڑا کر طرح طرح کی دعائیں اللہ کی جناب میں کرتے ہیں اور طرح طرح کی حاجتوں کا روا ہونا اس کی بارگاہ سے چاہتے ہیں اور جب ان کی حاجت روا نہیں ہوتی تو مایوس ہو کر دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول کیوں نہیں ہوتی حالانکہ ان کی قوت بسری رزق حلال سے جب تک نہ ہو ان کی دعا کیا عبادت بھی اللہ کی بارگاہ میں ہرگز قبول نہ ہوگی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے رسولوں کو { قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ } کی آیت یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات (23: 51) میں غذائے حلال کی تاکید اور حکم فرمایا ہے اسی طرح اس آیت میں عام مسلمان لوگوں کو اس کی تاکید اور اس کا حکم فرمایا ہے۔ تاکہ غذائے حلال سے رسولوں کے کلام میں تو یہ اثر پیدا ہو کہ امت کو جو کچھ وہ نصیحت کریں وہ باتاثیر ہو اور مسلمان لوگوں کے کلام میں غذائے حلال سے یہ اثر بطور دعا یا بطور عبادت کے جو بات ان کے منہ سے نکلے وہ مقبول اور رائیگاں نہ جائے۔
Ayahs 2:173–176

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے، ہاں جو ناچار ہوئے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

جو لوگ (خدا کی) کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن کلام نہ کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا اور ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا، یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے ولے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آ کر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں

اس سے اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ فرمایا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے وہ کھاؤ اور شکر کرو اس آیت میں اس دی ہوئی چیز میں سے جو کچھ دنیا دار الامتحان میں امتحان کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام کیا ہے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اس آیت میں فقط مردار کا لفظ فرمایا ہے اور سورة مائدہ میں مردار کی تفصیل فرمائی ہے کہ مردار خواہ اپنی موت سے ہو یا گلا گھونٹنے سے یا لاٹھی وغیرہ کے مارنے سے یا اوپر سے گر پڑنے سے ایک ایک جانور کے دوسرے جانور کے سینگ مارنے یا کسی درندہ جانور کے کھا جانے سے ورئہ مائدہ میں اس کی تفصیل زیادہ آئے گی۔ اور قرآن شریف میں تو مردار اور خون کو مطلق طور پر حرام فرمایا ہے۔ مگر حدیث شریف میں اس کی صراحت ہے کہ مردار میں سے دو مردار۔ مچلی اور ٹڈی۔ اور خون میں سے دو خون کلیجی اور تلی حلال ہیں مسند امام احمد بن حنبل اور ابن ماجہ اور مستدرک اور مسند امام شافعی اور دار قطنی میں بسند معتبر حضرت عبد اللہ بن عمر سے یہ روایت آئی ہے 1۔ اور لہو کو یہاں اس آیت میں تو مطلق فرمایا ہے۔ مگر سورة الانعام میں اس کی یہ صراحت فرما دی ہے کہ وہ لہو حرام ہے جو ذبح کے وقت رگوں میں سے نکل کر بہتا ہے 2۔ اور صحیح حدیثوں میں صاف آچکا ہے کہ گوشت میں مخلوط خون حلال ہے اور یہ جو فرمایا ” جو کچھ پکارا جائے اوپر اس کے سوا خدا کے “ اس سے یہ مراد یہ ہے کہ کسی جانور کے ذبح سے پہلے سوا اللہ کے اور کسی کا نام لے کر اس کو ذبح کیا جائے جس طرح مشرکین مکہ بتوں کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے یا ذبح سے پہلے سوا اللہ کے کسی اور شخص کی تعظیم کی غرض سے کسی جانور کو اس شخص کے نام کا ٹھہرا کر ذبح کیا جائے اور ذبح کے وقت بطور عادت اور رسم کے اللہ کا نام لیا جائے یہ سب حرام ہے 3۔ صحابہ اور تابعین نے اس آیت کی تفسیر اس طرح سمجھی ہے جس طرح کا مطلب اوپر بیان ہوا ہے اور اسی طرح صحابہ نے فتوے دیئے ہیں چناچہ حضرت عائشہ ؓ سے کسی شخص نے مسئلہ پوچھا کہ عجمی لوگ اپنی عید میں جو جانور ذبح کرتے ہیں اور ان جانوروں کا گوشت مسلمانوں کو تحفہ کے طور پر بھیجتے ہیں وہ گوشت کھانا چاہیے یا نہیں آپ نے فرمایا کہ ہاں 4۔ اہل کتاب کے ذبیحہ کا ذکر اور اس میں علماء کا جو کچھ اختلاف ہے اس کا ذکر تفصیل سے سورتہ مائدہ میں آئے گا۔ لیکن حاصل کلام اس بارے میں حضرت علی ؓ کا یہ فتویٰ ہے کہ اگر معلوم ہوجائے کہ کسی اہل کتاب ن یالہ کے نام کے سوا جانور کو مثلاً مسیح کے نام پر ذبح کیا ہے تو وہ گوشت مسلمان کو بموجب آیت و طعام الذین اوتو الکتاب حل لکم (5: 5) کے جائز ہے یہ ذکر اس وقت کے اہل کتاب کے ذبیحہ کا تھا جب کہ معلوم ہوگیا ہے کہ اب گلا گھونٹ کر بھی اہل کتاب لوگ جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں تو منخنقہ کی صاف حرمت سورة مائدہ میں مذکور ہونے سے وہ گوشت قطعی حرام ہے یہ جو فرمایا کہ جو کوئی بےبس ہو اس سے مراد یہ ہے کہ اس بےبسی کی حالت میں جب بےبسی سے جان کا خوف ہو حرام چیزوں کی حرمت بقدر جان بچانے کے ختم ہوجاتی ہے اسی واسطے علماء نے کہا ہے کہ اس طرح کا بےبس آدمی مردار چیز کو بھون کر یا پکا کر نہ کھائے تاکہ غَیْرٍ بٍاغٍ وَّلَا عَادٍ سے حد سے زیادہ مردار کا کھانا جو منع ہے بھنے ہوئے یا پکے ہوئے گوشت کو مزہ دار ہونے کی وجہ سے آدمی زیادہ نہ کھاجائے۔ اور اس منع کی وعید میں داخل نہ ہوجائے۔ علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ ایسی حالت میں جان بچانے کے لئے تین لقموں کی حد ہے اس حد سے نہیں بڑھنا چاہیے مسروق بن اجدع ہمدانی کونی طبقہ تابعین کے ایک بڑے عالم ہیں انہوں نے فتویٰ دیا ہے کہ بےبسی کی حالت میں جو کو حرام چیز نہ کھائے گا اور اس نے کھانے کے سبب سے اپنی جان کو ضائع کرے گا تو وہ شخص دوزخی ہے یہ جو فرمایا نہ بےحکمی کرنا نہ زیادتی تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے حلال چیز کے ملتے ہوئے جو حرام چیز کی طرف مطلب اس سے یہ ہے کہ اس قسم کی کوئی بات اللہ تعالیٰ ان گنہگاروں سے نہ کرے جس سے ان کی نجات ہو ورنہ گنہگاروں سے اللہ کا جھڑک کر بولناتو قرآن اور حدیث میں اکثر جگہ آیا ہے یہ آیت اور اس قسم کی اور آیتیں علمائے یہود کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ مگر اب بھی اس امت میں سے کوئی مفتی لالچ یا رعایت کے سبب سے خلافت شریعت فتو ٰی دے گا یا کوئی حاکم ایسا فیصلہ کرے تو وہ اس حکم میں داخل ہے۔
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب (کو قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائیں اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں

جب قبلہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف بدلا تو کچھ مسلمان اس بدل مسدل قبلہ سے متردد ہو کر آپس میں قبلہ کی بابت چرچے کرتے تھے کہ دونوں قبلوں میں کونسا قبلہ بہتر تھا۔ اور یہود اور نصاریٰ بھی اپنے اپنے قبلہ کے اچھے ہونے کی بحثیں کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قبلہ تو فقط سجدہ کرنے کا ایک واسطہ ہے یہ واسطہ جس زمانہ میں جو کچھ اللہ کی طرف سے ٹھہرا دیا گیا وہی کافی ہے اس واسطے پر بھلائی ٹھہر منحصر نہیں ہے۔ اصل بھلائی کی باتیں یہ ہیں کہ اللہ پر اور پیغمبروں پر اور اللہ کے فرشتوں پر اور کتابوں پر پورا ایمان ہو نہ یہ کہ جیسے یہود نصاریٰ ہیں کہ ایک تورات کو نہیں مانتے اور دوسرے انجیل کو۔ اور قرآن اور نبی آخر الزمان کے دونوں منکر ہیں اور ملائکہ پر ایمان کا یہ حال ہے کہ یہود لوگ جبرئیل کو انپا دشمن بتلاتے ہیں اور مسلمانوں کو عہد کا ذکر فرما کر گویا یہ ہدایت کی کہ تم اللہ پر ایمان لا کر اس کے حکم کی اطاعت کرنے کا جب عہد کرچکے تو جس قبلہ کی طرف منہ کرنے کا اس کا حکم ہو اس کی بلا تو دو اطاعت کرو اور پھر تکمیل ایمان کی اور باتوں کی ہدایت فرمائی جیسے نماز۔ زکوٰۃ۔ نفلی صدقہ ایفائے عہد۔ علی حبہ میں دو مطلب نکلتے ہیں یا تو یہ خالص اللہ کی محبت میں مال خرج کیا جائے ریا کا اس میں کچھ دخل نہ ہو۔ اس صورت میں حبہ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ٹھہرے گا یا یہ کہ صدقہ میں ایسی چیز دی جائے جس چیز کی محبت صدقہ دینے والے کے دل میں ہو پڑی گری دل سے اتر ہوئی چیز نہ دی جائے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کچھ محتاج نہیں ہے دنبا میں سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے وہ تو فقط دل کے خلوص کو آزماتا ہے اور دل کا خلوص اللہ کے ساتھ جب ہی ہوگا اللہ کی راہ میں اچھی سے اچھی چیز کو آدمی عزیز نہ جانے یہاں تک کہ جان کو بھی اللہ کی راہ میں فدا کرنے میں دریغ نہ کرے مال تو کیا چیز ہے یہ خلوص قلب کا درجہ آدمی کو پو را ایمان حاصل ہونے کے بعد عطا ہوتا ہے۔ چناچہ ابی ذر ؓ نے ایک روز آنحضرت سے پوچھا کہ حضرت ایمان کیا چیز ہے آپ نے اوپر کی آیت پڑھ دی پھر ایک روز انہوں نے حضرت سے یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایمان یہ چیز ہے کہ جب آدمی ایمان دار کوئی نیک کام کرے تو اس نیک کام کے ادا ہوجانے پر اندر سے اس کا دل شاد ہوجائے اور برے کام پر دل اندر سے ناراض ہو وے 1۔ اگرچہ ابوذر ؓ کی اس حدیث کی سند میں کلام ہے مگر ابو امامہ ؓ کی روایت مسند امام احمد وغیرہ میں اس کے قریب قریب ہے دونوں روایتیں مل کر ایک قوی روایت بن جاتی ہے اب آپ کے ان دونوں ارشادوں سے یہ مطلب نکلا کہ اس آیت میں جو باتیں مذکور ہیں وہ تکمیل ایمان کی باتیں ہیں اور خلوص ایمان کی یہ نشانی ہے کہ دین کا کام ادا تو ہاتھ پیر سے ہو مگر اثر اس کا دل پر پیدا ہونے لگے ہر ایک آدمی کا دل اس کے پہلو میں ہے مخبر صادق نے خلوص ایمان کی یہ ایسی اچھی نشانی بتائی ہے کہ ہر ایک آدمی جب چاہے اپنے دل کا حال غور کر کے اپنے ایمان کے کامل اور ناکامل ہونے کا اندازہ کرسکتا ہے عہد کو پورا کرنا جس طرح متقی کی علامت اس آیت میں ہے اسی طرح صحیح حدیثوں میں منافق کی علامت عہد شکنی ہے 2۔
Ayahs 2:178–179

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

مومنو ! تم کو مقتولوں کے بارے میں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ اور اگر قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تو (وارث مقتول کو) پسندیدہ طریق سے (قرارداد کی) پیروی (یعنی مطالبہ خون بہا کرنا) اور (قاتل کو) خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے یہ پروردگار کی طرف سے (تمہارے لئے) آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے۔

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور اے اہل عقل ! (حکم) قصاص میں (تمہاری) زندگانی ہے کہ تم (قتل و خونریزی سے) بچو۔

(178 ۔ 179) ۔ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے طرح طرح کی بےعنوانیاں قصاص اور خون بہا میں رائج تھیں۔ چناچہ مدینہ منورہ کے گرد نواح میں دو قبیلے بنی قریظہ اور بنی نضیر تھے ان دونوں میں لڑائی ہوئی بنی نضیر اس لڑائی میں غالب آئے انہوں نے اس دن سے یہ قرار داد قبیلہ مغلوب سے ٹھہرائی تھی کہ اگرچہ قبیلہ غالب کا کوئی شخص فرقہ مغلوب کے لوگوں کے ہاتھ سے مارا جائے تو اس کا خون بہا قبیلہ مغلوب کو دوگنا دینا پڑے گا۔ اور فرقہ غالب کے لوگوں کے ہاتھ سے فرقہ مغلوب کا کوئی مارا جاوے تو خود اکہرا خون بہا فرقہ مغلوب کو دیں گے۔ اور اپنے قبیلہ کے مقتول کا قصاص بھی جائز رکھا تھا اور قبیلہ مغلوب میں فقط خون بہا جائز رکھا تھا اور بعض قبیلوں میں یہ عہد تھا کہ اپنے غلام کے قصاص میں آزاد شخص کو قتل کرتے تھے اور عورت کے قصاص میں مرد کو قتل کرتے تھے اور مقابل کے قبیلہ کو ان حقوق سے محروم رکھتے تھے ان بےعنوانیوں کو روکنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور سورة مائدہ میں النفس بالنفس کی آیت سے اس آیت کا حکم منسوخ ہے اس آیت کے حکم سے عورت کے معاوضہ میں مرد قاتل کا اور غلام کے معاوضہ میں آزاد شخص قاتل کا قصاص کیا جاسکتا ہے صرف اس قدر مسئلہ اجماعی ہے کہ خود آقا کو اس کے غلام کے معاوضہ میں قصاص نہیں کیا جاسکتا اس اجماعی کی دلیلیں قاضی شوکانی نے نیل الاوطار میں بالتفصیل بیان کی ہیں 1۔ اور کافر شخص مقتول کے معاوضہ میں مسلمانوں کا قصاص یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ بخاری میں حضرت علی ؓ کی جو یہ روایت ہے کہ مسلمان کو کافر شخص کے معاوضہ میں نہ قتل کیا جاوے 2۔ اس کی بنا پر جمہور کا مذہب اس حدیث کے موافق ہے۔ مگر امام ابوحنیفہ (رح) اس کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں کہ سورة مائدہ کی آیت میں النفس بالنفس عام ہے اس واسطے مسلمان کو کافر کے معاوضہ میں قتل کیا جاسکتا ہے اور علماء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ آیت مجمل ہے اور حدیث لا یقتل مسلم بکافر میں جس کا بخاری وغیرہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے اس مجمل کی صراحت ہوئی ہے اس لئے اس صراحت کا ماننا ضرور ہے 3۔ اسی طرح ایک شخص کو کئی شخص مل کر مار ڈالیں تو ایک شخص کے معاوضہ میں کئی شخصوں کو قتل کرنا یہ مسئلہ بھی صحابہ کا اختلافی ہے جس کی تفصیل حدیث کی شرح کی کتابوں میں ہے۔ اس آیت میں یہ جو ارشاد ہے کہ حکم قصاص باعث زندگی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قصاص کا حکم لوگوں کو قتل سے روکے گا اور اپنی جان کے خوف سے کسی کو کوئی بےجا قتل نہ کرے گا اور اس آیت میں تحفیف کا حکم یہ ہے کہ اور امتوں میں دیت کا حکم قتل عہد میں نہیں تھا اب دیت لینے کے بعد جو شخص قاتل کو قتل کرے تو فرمایا کہ اس کو عذاب ہوگا باساء کے معنی محتاجگی کے ہیں ضراء کے معنی بیماری کے اور حین الباس کے معنی جہاد کے۔
Ayahs 2:180–182

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کر جائے (خدا سے) ڈرنے والوں پر یہ ایک حق ہے

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں (اور) بیشک خدا سنتا جانتا ہے۔

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے

(180 ۔ 182) ۔ اسلام سے پہلے عرب میں دستور تھا کہ اہل قرابت کو چھوڑ کر اپنے نام نمود کے لئے مرتے وقت وصیت کر جاتے تھے کہ ان کا مال غیروں کو ملے ابتدائے اسلام میں اللہ تعالیٰ نے اس طریقہ کو روکنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی جس سے ماں باپ اور قرابت داروں کے لئے وصیت فرض تھی پھر سورة نساء میں میراث کا حکم نازل ہو کر وصیت کے فرض ہونے کا حکم اب منسوخ ہے مستحب کے طور پر جو شخص چاہے اپنے مال کے تیسرے حصہ تک وصیت کرسکتا ہے تیسرے حصہ سے زیادہ مال کی وصیت منع ہے تاکہ وارثوں کے حصے جو اللہ تعالیٰ نے سورة نساء میں ٹھہرا دیے ہیں ان میں وصیت کے سبب سے کمی نہ پڑجائے۔ صحیحین میں سعد بن ابی وقاص ؓ کا قصہ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ان کو مال کے تیسرے حصہ سے زیادہ مال کی وصیت سے روکا ہے۔ 1۔ اسی طرح مسند امام احمد نسائی ابوداؤد میں معتبر سند سے ابو زید انصاری کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنے سب مال کی وصیت کی تھی آنحضرت ﷺ نے جب یہ حال سنا تو فرمایا کہ اگر اس شخص کے دفن سے پہلے مجھ کو خبر ہوتی تو میں اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیتا 2۔ اس واسطے اکثر علماء دین کا یہ قول ہے کہ جس شخص کا کوئی وارث موجود ہو اس کو ثلت مال سے زیادہ مال کی وصیت کسی طرح جائز نہیں ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وصیت کرنے والے شخص اور اوپر والوں کو ہدایت کردی ہے وصیت کرنے والے کو یہ کہ وصیت اچھی طرح کرے کسی کو کم کسی کو زیادہ مال نہ وصیت کر جائے اوپر والوں کو یہ کہ اگر وصیت کرنے والا چوک جائے یا جان بوجھ کر حق تلفی کرے تو اوپر والے اس کی اصلاح کردیں۔ وصیت میں حق تلفی کرنا بڑا گناہ ہے ابو داؤد اور ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بعض مسلمان مرد اور عورتیں عمر بھی نیک کام کرتے ہیں اور مرتے وقت وصیت میں حق تلفی کر کے اپنی عاقبت خراب کرلیتے ہیں ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے 3۔ شاید غریب اس لئے کہا ہے کہ اس کی سند میں شہر بن حوشب ضعیف ہے لیکن اوپر گذر چکا ہے کہ امام احمد اور یحییٰ بن معین نے اس کو ثقہ کہا ہے 4۔ غرض غیروں کے نام وصیت کرنے کا جو رواج اور دستور اہل عرب میں تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت سے توڑ کر اہل قرابت کا حق رفتہ رفتہ جمایا پہلے اہل قرابت کے نام وصیت کرنے کا حکم دیا پھر اس کو منسوخ فرما کر اہل قرابت کے حصے سورة نساء میں ٹھہرا دئیے تاکہ قدیم دستور کو ایک دفعہ ہی چھوڑنا لوگوں کو شاق نہ گذرے اسی طرح پہلے حکم کی منسوخی میں خواہ وہ ایک آیت کی دوسری آیت سے منسوخی ہو یا ایک شریعت کی دوسری شریعت سے بہت بڑی حکمت اور وقتی مصلحت ہوتی ہے جو غور کرنے سے کھلتی ہے۔
Ayahs 2:183–185

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

مومنو ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں۔ تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار کرلے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں۔ (یہ آیت اگلی آیت سے ملصوق ہے) اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جو (حق وباطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔ اور (یہ آسانی کا حکم) اس لیے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کرو اور اس کا شکر کرو

(183 ۔ 185) ۔ ارکان دین میں سے روزہ دوسرا رکن ہے دوسرا رکن اس سبب سے اس کو کہتے تھے کہ جب آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے اور آپ کو معراج ہوئی تھی جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں آئے گا تو نماز اسی رات فرض ہوچکی تھی جس کی تفصیل صحیحین کی حدیث میں ہے کہ پچاس نماز فرض ہوئیں اور حضرت موسیٰ کی صلاح سے آنحضرت نے اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی خواہش کی اور آخر کو رات دن میں یہ پانچ وقت کی نمازیں باقی رہیں 1۔ اب روزہ اس آیت سے ہجرت کے دوسرے سال فرض ہوا ابتدائے اسلام میں اختیار دیا گیا تھا کہ جو چاہے روزہ رکھے۔ اور جو چاہے ہر روزہ کے عوض میں دونوں وقت ایک مسکین کو کھانا کھلادے۔ پھر اس حکم سے کہ پھر جو پائے تم میں یہ مہینہ تو روزہ رکھے فدیہ کا حکم منسوخ ہوگیا مریض اور مسافر کا ذکر اس آیت میں دو دفعہ اس واسطے ہوا ہے کہ پہلی دفعہ فدیہ کے حکم کے ساتھ مریض اور مسافر کا ذکر ہو کر جب وہ فدیہ کا حکم منسوخ ہوگیا تو یہ شبہ پڑتا تھا کہ شاید فدیہ کے حکم کی منسوخی کے ساتھ مریض اور مسافر کا ذکر ہو کر جب وہ فدیہ کا بھی منسوخ ہوگیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے دوسری دفعہ مریض اور مسافر کا ذکر فرما کر صراحت فرا دی کہ مریض اور مسافر کی قضا کا حکم منسوخ نہیں ہوا بلکہ باقی ہے۔ روزہ کی فضیلت میں بہت حدیثیں آئی ہیں مسند امام احمد بن حنبل صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اور نیکیوں کا ثواب دس درجہ سے سات سو تک لکھنے کا فرشتوں کو حکم ہے مگر روزہ کے ثواب کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہہ دیا ہے کہ تم کوئی درجہ ثواب کا روزہ کے اجر میں نہ قائم کرنا روزہ کا ثواب میں خود اپنی ذات سے قیامت کے دن دوں گا 1۔ اور رمضان کے مہینے کی بزرگی میں بہت حدیثیں وارد ہیں یہاں تک کہ ساری آسمانی کتابیں اللہ تعالیٰ نے بوجہ بزرگی اس مہینے میں نازل فرمائیں ہیں۔ 2۔ مسند امام احمد بن حنبل اور طبرانی اور بیہقی میں معتبر سند سے یہ روایت رمضان کی فضیلت میں آئی اس لئے آدمی کو چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے رمضان کے روزے اسی مہینے میں رکھے ورنہ قضا کی صورت میں خود مہینہ رمضان کی جو فضیلت ہے وہ ہاتھ سے جاتی رہے گی۔ بہت عمر رسیدہ آدمی جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو ہر روزہ کے عوض میں کسی محتاج کو کھانا کھلا دے اور روزہ نہ رکھے تو جائز ہے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کا بھی یہی حکم بعض علماء کے نزدیک ہے اور بعض کہتے ہیں کہ ان کے ذمہ قضا ہی ہے۔ اللہ کی برائی کرنے کے یہ معنی ہیں کہ عبادت سے فارغ ہونے کے بعد اللہ کا ذکر کرے جیسے بعد ختم رمضان کے عید کے دن تکبیر کا حکم حدیث میں آیا ہے۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں

بعض لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ اللہ تعالیٰ پاس ہے یا دورا گر وہ پاس ہو تو ہم چپکے چپکے اس سے دعا مانگا کریں اور اگر دور ہو تو چلا کر دعا مانگا کریں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ہدایت فرما دی کہ جو کوئی اللہ کی اطاعت پوری کرے گا اور اللہ کے حکم کو مانے گا اللہ اس سے قریب ہے اور اس کی ہر خواہش کا جواب دینے اور اس کی دعا قبول کرنے کو موجود ہے اوپر سے یہ آیت روزہ کے ذکر میں تھی ابھی روزہ کا ذکر پورا نہیں ہوا تھا کہ بیچ میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا کو ذکر فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعا کو روزہ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔ جس کی وجہ سے روزہ دار کی دعا بہ نسبت بےروزہ دار کے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ ترمذی ابن ماجہ نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تین شخص حاکم عادل اور روزہ دار اور مظلوم کی دعا رائیگاں نہیں جاتی بلکہ ان کے دعا کے لئے فوراً آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی عزت اور جلال کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ میں تمہاری ضرور مدد کروں گا فقط وقت مقررہ کے آنے کی دیر ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 3۔ اور چس طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قبولیت دعا کے لئے شرط ٹھہرائی ہے کہ دعا کرنے والا اللہ کا مطیع اور احکام الٰہی کا پابند ہو اسی طرح حدیث میں تفصیل سے مقبولیت دعا کے شرائط وارد ہوئے ہیں مثلاً اکل حلال قبولیت میں دیر ہونے سے مایوس نہ ہونا کیوں کہ تقدیر الٰہی میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اور دعا کے پہلے اللہ کی حمد اور آنحضرت ﷺ پر درود کا ہونا حضور قلب سے دعا کا مانگنا ممنوعات شرعیہ کی دعا نہ مانگنا شرائط کے ساتھ جو دعا ہو اس کی نسبت سند معتبر سے جو مسند امام احمد مستدرک حاکم مسند ابی یعلیٰ وغیرہ میں روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایسی دعا یا تو فورًا قبول ہوجاتی ہے اور اگر مصلحت الٰہی میں وہ دعا اس شخص کے لئے فائدہ مند نہیں ہے تو کوئی برائی اس شخص سے ٹل جاتی ہے اور آخرت میں اس شخص کے لئے ایک اجر اس دعا کا مقرر ہوجاتا ہے 1۔ انسان اپنے نیک و بد کے انجام کے جاننے سے ایسا بیخبر اور غافل ہے کہ بہت سی چیزیں یہ اپنے حق میں بہتر جان کر ان کے ظہور کی آرزو کرتا ہے۔ مگر علم الٰہی میں ان چیزوں کا ظہور اس شخص کے لئے مضر ہوتا ہے۔ اس لئے مصلحت الٰہی میں اس کی آرزو پوری کرنے کے قابل نہیں ہوتی مثلاً ایک شخص کی دوسرے شخص سے دشمنی ہوتی ہے اس دشمنی کی وجہ سے یہ شخص اپنے دشمن کی ہلاکت کی دعا مانگتا ہے اور علم الٰہی میں یہ بات قرار پائی ہوتی ہے کہ یہی دشمن دوست ہوجائے گا اور اس بددعا کرنے والے شخص کو بہت بڑا نفع پہونچائے گا۔ اس واسطے مصلحت الٰہی میں اس شخص کی دعا قبول کرنے کے قابل نہیں قرار پاتی دعا کی فضیلت میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں بعض صحیح روایتوں میں یہ بھی ہے کہ آدمی کی تقدیر میں جو برائی لکھی ہے وہ دعا کے اثر میں ٹل سکتی ہے۔ 2۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

روزوں کی راتوں میں تمہارے لیے اپنی عورتوں کے پاس جانا جائز کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سے درگزر فرمائی اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو اور جو چیز خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو خدا سے طلب کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا اسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں

جب رمضان شریف کے روزے فرض ہوئے تو ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ عشاء کی نماز سے پہلے جس کسی کو جو کچھ کھانا پینا ہوتا تھا وہ کھا پی لیتا تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد پھر کھانا پینا مباشرت سب کچھ حرام ہوجاتا تھا۔ اسی طرح عشاء کی نماز سے پہلے اگر کسی کی آنکھ لگ جاتی تو عشاء کی نماز سے پہلے ہی یہ سب چیزیں حرام ہوجاتی تھیں۔ یہ حکم صحابہ کرام پر بہت شاق ہوا اور اس حکم کی پابندی میں رخنہ پڑنے لگا۔ قیس بن حرمہ ؓ ایک صحابی تھے وہ روزہ کھول کر بغیر کھانا کھانے ایک دفعہ سو گئے اور دوسرے دن روزہ پر روزہ رکھنے کے سبب سے دوپہر کے وقت ان کو غش آگیا۔ آنحضرت ﷺ اور سب صحابہ نے ان کے حال پر بڑا تاسف کیا اور بعض صحابہ سو جانے کے بعد پھر رات کو اٹھ کر مباشرت کی جرأـت کر بیٹھے اس رخنہ کے رفع کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صبح صادق کے شروع تک یہ چیزیں حلال فرما دیں۔ جس میں سحری کا کھانا بھی داخل ہے حدیث شریف میں سحری کے کھانے کی بہت فضیلت آئی ہے کہ سحری کے کھانے والوں کے لئے فرشتے رحمت کی دعا مانگتے ہیں۔ 1۔ اور صحیح مسلم کی عمرو بن عاص ؓ کی روایت میں یہ بھی آپ نے فرمایا ہے کہ اہل کتاب کے روزوں میں اور ہمارے روزوں میں اتنا ہی فرق ہے کہ ان کے روزوں میں سحری نہ تھی۔ 2۔ اور اس کھانے کا نام آپ نے غذائے مبارک رکھا تھا۔ 3۔ اور فرماتے تھے کہ جو کوئی سحری کو کھانا نہ کھائے تو فقط پانی ہی پی لیا کرے تاکہ سحری کی برکت سے محروم نہ رہے۔ 4۔ افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں دیر کرنا یہ بھی سنت ہے۔ 5۔ صحابہ کا مقولہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں سحری کرنے کے بعد پچاس آیتیں قرآن شریف کی پڑھنے میں صبح کی نماز کا وقت ہوجاتا تھا۔ 6۔ ایک اجالا آسمان پر صبح کاذب کا بہت رات سے ہوجاتا ہے اس پر سحری کا کھانا بند نہیں ہوتا یہ اجالا آسمان کے طول میں ایک لمبے ستون کی طرح پیدا ہوتی ہے۔ پھیلتی جاتی ہے۔ اور اونچی جگہ پر اس کی روشنی کا عکس پڑتا ہے اور اس میں کسی قدر سرخی بھی ہوتی ہے اور صبح صادق تک اللہ تعالیٰ نے مباشرت کی جو اجازت دی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مباشرت کے بعد فورًا صبح صادق ہوجائے اور حالت ناپاکی میں روزہ کی نیت کر کے کوئی شخص روزہ رکھے اور پھر صبح کو نہائے تو اس کے روزہ میں کوئی فتور نہیں پڑتا۔ چناچہ حضرت عائشہ ؓ اور ام سلمہ ؓ سے صحیحین میں روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کو مباشرت کی وجہ سے نہانے کی حاجت ہوتی تھی اور صبح کو آپ نہا کر روزہ رکھا کرتے تھے۔ 7۔ اور مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھجا کہ مجھ کو ناپاکی حالت میں صبح ہوجاتی ہے۔ اور پھر میں روزہ رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا میں بھی تو ایسا کیا کرتا ہوں اس شخص نے کہا کہ آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ اللہ معاف کرچکا ہے آپ کو ہم لوگوں سے کیا نسبت ہے آپ نے جواب دیا کہ میں بہ نسبت تمہارے خدا سے زیادہ ڈرتا ہوں اور اس حدیث کے مخالف حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک یہ حدیث کہ جب صبح کی اذان ہوجائے اور کوئی شخص ناپاکی کی حالت میں ہو تو وہ شخص اس دن روزہ نہ رکھے اس فتوے سے آخرت کو حضرت ابوہریرہ ؓ نے رجوع کیا ہے اور پہلے حدیث کے موافق اجماع منعقد ہوچکا ہے۔ 1۔ اعتکاف کی حالت میں مباشرت منع ہے اعتکاف میں بعض کے نزدیک روزہ شرط ہے اور سنت یہ ہے کہ رمضان کے اخیر عشرہ میں اعتکاف ہو۔ 2۔ روزوں کے آخر پر اللہ تعالیٰ نے اعتکاف کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے کسی خاص جگہ میں بیٹھے کو شرع میں اعتکاف کہتے ہیں۔ جامع مسجد میں اعتکاف اولیٰ ہے۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اس کو (رشوتاً ) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر نہ کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

اوپر کی آیت میں کھانے پینے کا ذکر آیا تھا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قید لگا دی کہ اسی مال کے کھانے پینے کی اجازت تم کو دی گئی ہے جو حق طور پر ہو اور شریعت نے اس کا کھانا پینا اور برتنا تمہارے لئے جائز رکھا ہو اور آپس میں ایک شخص دوسرے کا مال آپس کی خیانت یا حاکموں سے خلاف واقع کرا کے ہرگز نہ کھائے آپس کی خیانت کی صورتیں یہ ہیں کہ مثلاً کسی کی امانت لے کر مکر جائے یا جوئے میں کسی کا مال جیت لیوے یا حاکم ہو کر کسی محکوم سے رشوت لے لیوے اور حاکموں سے خلاف واقع فیصلہ کرانے کی صورتیں یہ ہیں کہ جھوٹی قسم یا جھوٹی گواہی دے کر یا دلا کر یا چرب زبان ی سے ناحق بات کو حق جتلا کر فیصلہ کرایا جائے۔ صحیحین میں حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی بشر ہوں بشریت کے سبب سے کسی شخص کی چرب زبانی پر اس شخص کو کچھ مال یا کوئی چیز دلانے کا فیصلہ اگر میں کرو وں گا تو یہ زیادہ ہے کہ وہ مال اور وہ چیز آخرت میں اس شخص کے لئے آگ کا ٹکڑا ہے۔ 3۔ اس حدیث اور اس آیت کے مطلب سے معلوم ہوا کہ حاکم کا ظاہر کا فیصلہ باطن کے ناحق کو حق نہیں کرتا۔
Ayahs 2:189–190

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ بلکہ نیکو کار وہ ہے جو پرہیزگار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

بعض صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ حضرت چاند کا یہ کیا حال کہ شروع مہینے میں بالکل پتلا ہوتا ہے اور پھر بڑھتا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا ہے پھر آخر مہینہ میں کبھی ایک رات کبھی دو راتیں بالکل نکلنا ہی نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ چاند کی اس حالت میں بڑی حکمت ہے اٹھائیس منزلیں اور بارہ 12 برج جن کے علیحدہ نام چاند کے لئے مقرر کئے گئے ہیں جن کی تفصیل سورة یونس اور یسین میں آئے گی۔ ان میں سے چاند ایک منزل جب طے کرتا ہے تو ایک رات ہوتی ہے اور دو منزلیں ایک ایک منزل کا تیسرا حصہ جب طے کرتا ہے تو ایک شبانہ روز ہوتا ہے۔ اور پوری منزلیں اور برج طے کرتا ہے تو ایک مہینہ ہوتا ہے اور سب برجوں کے باراں پھرے جب کرتا ہے تو ایک سال ہوتا ہے۔ اس مہینہ اور سال پر لوگوں کے ہزارہا دین دنیا کے کام مثلاً لین دین۔ تجارت کے وعدے۔ عمر۔ حیض وعدت کا حساب۔ موسم حج منحصر ہیں۔ حج کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے دو وجہ بیان فرمائی ایک تو یہ کہ اہل مکہ نے چاند کا یہ حساب چھوڑ کر حج کے لئے ایک اپنا فرضی حساب نکال رکھا تھا۔ اس حساب سے کبھی سوائے ذوالجحہ کے اور مہینے میں حج کا موسم ٹھہرا لیتے تھے جس کا ذکر سورة توبہ میں آئے گا۔ چاند کا حساب بتلا کر اللہ تعالیٰٓ نے اس فرضی حساب کو باطل کردیا۔ دوسرے اہل مدینہ میں یہ دستور تھا کہ احرام باندہنے کے بعد حالت احرام میں گھر کے دروازہ سے گھر میں نہیں آتے تھے۔ بلکہ یا دیوار پر سے سیڑھی لگا کر یا گھر کی پچھلی دیوار میں نقب لگا کر آیا کرتے تھے اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیا کہ یہ کوئی شرعی بات اور نیک بات نہیں اس سے معلوم ہوا کہ دین میں جب تک کوئی بات کسی دلیل شرعی سے نہ ثابت ہو وہ نیک بات نہیں قرار پا سکتی اور اللہ اس کو پسند نہیں فرماتا۔ بلکہ وہ بدعت ہے۔ اور ہر مسلمان پر اس کا چھوڑ دینا لازم ہے۔
Ayahs 2:191–193

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکہ سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل و خونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کر ڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیے)

(191 ۔ 193) ۔ ہجرت سے پہلے جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو بہت اسلام نہ ہونے سے اور مسلمانوں کی جماعت تھوڑی ہونے سے جہاد کا حکم نہ تھا۔ ہجرت کے بعد جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے اور انصار لوگوں کے سبب سے مسلمانوں کی جماعت کو غلبہ ہوگیا تو اس آیت میں جہاد کا حکم اترا۔ اور مکہ میں درگذر کرنے کی جتنی آیتیں تھیں وہ سب اس حکم سے منسوخ ہوگئیں۔ اس آیت میں یہ جو ارشاد فرمایا کہ ” جو تم سے لڑیں ان سے لڑو۔ “ علماء مفسرین کے نزدیک اس کے دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ عورتیں بچے بوڑھے جو تم سے لڑنے کے قابل نہیں ان سے مت لڑوں اور ان کو مت مارو۔ اس صورت میں یہ آیت کسی دوسری آیت سے منسوخ نہیں ہے۔ دوسرے معنی یہ کہ عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں کے سوا بھی جو جوان مرد تم سے لڑیں اور مقابلہ کریں ان سے ہی لڑو۔ بلا مقابلہ کرنے والے سے مت لڑو اس صورت میں یہ آیت آگے کی اس آیت سے کہ ” لڑو ان سے یہاں تک کہ نہ رہے کفر “ منسوخ ہے اور مسجد حرام کے نزدیک لڑائی کرنے میں بھی بعض علماء مفسرین نے اس شرط کو کہ فقط مقابلہ کرنے والے سے ہی حرم کی حد میں رفع شر کی غرض سے لڑو، منسوخ کہا ہے اور ان کے نزدیک حرم کی حد میں بھی مشرکین سے محض ان کے شرک کی وجہ سے لڑائی جائز ہے خواہ مشرک لوگ مقابلہ کریں یا نہ کریں۔ لیکن صحیحین کی اس حدیث کی بنا پر جس میں آپ نے فرمادیا ہے کہ حرم شریف کی حد کے اندر قیامت تک لڑائی حرام ہے۔ فتح مکہ کے دن فقط اپنے رسول کو اللہ تعالیٰ نے ایک گھڑی بھر کے واسطے حرم کی حد میں لڑائی جائز فرمائی تھی 1۔ یہ مذہب قابل تردد ہے۔
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں، پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے

ہجرت کے چھٹے سال ذیقعدہ کے مہینے میں آنحضرت ﷺ نے مدینہ سے زیارت مکہ کا قصد کیا تھا۔ اور جب مکہ کے قریب ایک جگہ حدیبیہ ہے وہاں آپ کا مقام ہوا تو مشرکین مکہ نے وہاں آکر آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا۔ آخر صلح اس بات پر ہوئی کہ اس سال تو آپ مدینہ کو واپس اور آئندہ سال پھر آئیں۔ اور مکہ کی زیارت کریں۔ اس صلح کا نام صلح حدیبیہ ہے اور اس کا ذکر تفصیل سے سورة انا فتحنا میں آئے گا یہ ذکر اس وقت کا ہے کہ جب تک مکہ کی فتح نہیں ہوئی تھی۔ اور مشرکین مکہ کا زور باقی تھا اب اس صلح کے موافق ہجرت کے ساتوں جب آپ نے ذیقعدہ کے مہینے میں زیارت مکہ کا قصد کیا تو صحابہ کرام کے دل میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر اب کے بھی مشرکین مکہ نے صلح کو قائم نہ رکھا اور ہمیں داخل ہونے سے روکا۔ اور اس پر باہم لڑائی کا موقع پیش آگیا تو ذیقعدہ کے مہینے میں لڑنا پڑے گا۔ حالانکہ رجب، ذیقعدہ، ذوالحجہ، محرم، یہ چاروں مہینے حرمت والے کہلاتے ہیں اور ان چاروں مہینوں میں لڑائی منع ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو جتلا دیا کہ اللہ کے عدل اور انصاف میں حرمتوں کا بدلہ ہے جب صلح حدیبیہ کے وقت اسی ذیقعدہ حرمت والے مہینے میں اس مشرکوں نے اس مہینے کی حرمت کو اور حرم کی حد کی حرمت کو قائم نہ رکھا تو اگر لڑائی کا موقع پیش آجائے تو کچھ خدشہ کی بات نہیں ہے اللہ کی طرف سے بدلے کے طور پر تم کو لڑنے کی اجازت ہے۔ مگر اتنا کرنا کہ جس قدر تم پر کسی کی طرف سے زیادتی ہو اتنا ہی اس سے بدلہ لینا حد سے بڑھ کر زیادتی سے پرہیز کرنا اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔