Ayah 2:1الم یہ اور اس طرح کے متعدد حروف اکثر سورتوں کے شروع میں آئے ہیں۔ یہ اسرارِ الٰہی میں سے ہیں ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں ان کے بارے میں تفصیل میں جانے سے قباحتیں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے لہٰذا آنحضرت ﷺ کے فرمان کے مطابق صرف ان کو سمجھ لینا ہی کافی ہے کہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے اس کی تفصیل میں جانا بہتر نہیں۔
Ayah 2:2قرآن کی حیثیت
تشریح : قرآن مجید آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل کی جانے والی آخری کتاب ہے۔ یہ اتنی مکمل، واضح فصیح وبلیغ آسمانی کتاب ہے کہ اس کے بعد نہ تو کسی مزید شریعت کی ضرورت رہی، نہ نبی کی اور نہ ہی کسی دین کی۔ انسان کی راہبری کے لئے مختلف ادوار میں مختلف نبی آتے رہے ان کو آسمانی کتابیں اور صحیفے بھی دیئے گئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمات ماند پڑتی گئیں اور کتابوں میں ردو بدل ہوتا رہا مگر قرآن مجید کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں یہ تمام انسانوں اور جنات کے لئے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی اور یہ کتاب پرہیزگار لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ اگلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ پرہیزگار اور متقی انسان کی کیا تعریف ہے۔
Ayahs 2:3–5متقین کی صفات
تشریح : سب سے پہلے ایمان بالغیب کو سمجھنا ہوگا۔ ہم خدا کو دیکھ نہیں سکتے اس کو اس کی صفات اور کاریگری سے پہچانتے ہیں۔ جیسے ہمارے رسول ﷺ نے بتایا کہ اللہ ایک ہے، خالق ہے، رازق ہے، وحدہ لاشریک ہے۔ اس بات پر مکمل ایمان لے آنا، اللہ کو خود ہم اپنی ہستی سے جو کہ چلتی پھرتی مکمل فیکٹری ہے۔ انسان کی پیدائش، زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کو پہچاننے ماننے اور یقین کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہے ؟ کیوں نہیں یہ سب نظام سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔
متقی شخص کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ ایمان بالغیب کا حامل ہوتا ہے، ایک متقی یعنی پرہیزگار شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ پیکر انسانیت ہو۔ قرآن پر ایمان رکھتا ہو، غیب پر ایمان رکھتا ہو، نماز پڑھے، زکوٰۃ دے، محمد ﷺ کو آخری نبی ان پر نازل ہونے والی کتاب کو آخری کتاب ان سے پہلے آنے والے نبیوں پر اور تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھے۔
ہمارے دین کی بنیادی صورت نماز ہے۔ یہ جسم و روح کو طہارت چستی اور صحت دیتی ہے جبکہ روح اور دماغ کے لئے معجزانہ اثرات مرتب کرتی ہے۔ صلوٰۃ فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ اللہ کے حضور پیش ہو کر شکر گزاری اور دعا کی ایک صورت ہے۔ اللہ اور بندے کے درمیان صلوٰۃ کے ذریعے جو ربط پیدا ہوتا ہے تو اس ربط کے ذریعہ انسان چند ساعتوں کے لئے اپنے تمام تفکرات پریشانیاں بالکل بھول جاتا ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ صلوٰۃ سکون کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلان کرتا ہے کہ ان کو نجات مل گئی۔ یعنی صلوٰۃ گزار لوگوں کے لئے آزادی ہے تحفظ ہے، شفاء ہے خوشی اور سکون ہے۔ جس طرح ایک نمازی کے تمام جوڑ صحت مند ہوتے ہیں اسی طرح اس کو ذہنی اور روحانی صحت بھی مل جاتی ہے، جو لوگ نماز نہیں پڑھتے وہ بڑے خسارے میں ہیں۔ یہ واضح ہوگیا کہ ایک انسان کس طرح اخلاقی غلطیوں، برائیوں، بےسکونی اور بیماریوں سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔ وضو اور نماز کی اس قدر اچھائیاں اور فائدے ہیں کہ اس کے لئے لمبا وقت درکار ہے، صرف اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ نماز سے بہتر کوئی نسخہ نہیں جو ہماری روحانی اور جسمانی صحت کے لئے اللہ نے چودہ سو سال پہلے سے ہمیں بتا دیا ہے اگر اس تحفہ کی قدر ہم نہیں کریں گے تو ظاہر ہے دنیا و آخرت میں نقصان ہی نقصان ہوگا۔ آخرت کا نقصان ناقابل تلافی ہوگا۔ موجودہ دور کی مشینی زندگی کا نتیجہ ہے کہ مادہ پرستی کے نظریات نے انسانوں میں ناخوشی، رنجیدگی، بےسکونی اور بےیقینی کی کیفیات پیدا کردی ہیں۔ تفکرات سے معدے کا السر پیدا ہوتا ہے، دل کی شریانوں کے نظام کو نقصان پہنچتا ہے، نظام ہضم خراب ہوجاتا ہے، نفسیاتی دبائو اور ذہنی کرب سرطان کا موجب بنتا ہے۔ ان تمام بیماریوں کا علاج ان دو آیات کریمہ میں بتا دیا گیا ہے۔
جو کوئی بھی عبادت کرتا ہے وہ نجات کا مستحق ہوتا ہے۔ (القرآن)
ii جو کوئی بھی عبادت کرتا ہے اس کو تحفظ مل جاتا ہے اور اسے برائی، زیادتی اور فحاشی سے نجات مل جاتی ہے۔ (القرآن)
اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے اور خلوص، نیک نیتی اور سچائی کا پیکر بنائے۔ ( آمین ثم آمین)
Ayah 2:6کافر لوگ
تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ یہ قوم بڑی ھڈ حرام اور بگڑی ہوئی ہے اور منکر اللہ ہے ان کو ڈرانا، برائیوں سے منع کرنا، نصیحت کرنا کوئی افادیت نہیں رکھتا۔ ان کو نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے یہ ان کفار قریش کے لئے کہا گیا ہے جو کہ پکے کافر اور انتہائی بگڑے ہوئے لوگ تھے جو ہر وقت نبی کریم ﷺ کو تکلیف پہنچانے اور مذاق اڑانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان میں ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور دیگر سرداران قریش شامل تھے۔
Ayah 2:7کفر کا نتیجہ
تشریح : اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو محض ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے نیکی اختیار نہیں کرتے، اس طرح نیکی اور پاکیزگی کی وجہ سے جو وجدانی اور روحانی قوت انسان کے دل پر اثرانداز ہوتی ہے وہ اس سے محروم رہتے ہیں اور یوں اس خوبصورت اور کارآمد آلہ کو بےکار چھوڑنے سے اس پر زنگ چڑھ جاتا ہے، کیونکہ دل محض ایک گوشت کا لوتھڑا ہی نہیں، بلکہ بہت کار آمد اور ضروری تحفہ جسم کے لئے عطا کیا گیا ہے جو کہ حقیقت میں انسانی شعور اور ادراک کا مرکز ہے۔ انسان سچائی اور حقائق تک کبھی نہیں پہنچ سکتا اگر اللہ دل پر مہر لگا دے، دل کے ساتھ دو بنیادی اعضاء آنکھ اور کان کے تعلق کو زور دے کر بیان کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خود اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے تو ان کا کیا قصور اصل میں یہ تقدیر میں نہیں لکھا گیا بلکہ اللہ نے تو ہر شخص کو نیکی پر پیدا کیا ہے۔ یعنی نیک جذبات احساسات دے کر بھیجا ہے یہ تو اللہ نے اپنے علم کی وجہ سے کہا ہے کہ یہ ایسے پکے کافر لوگ ہیں سخت دل اور ضدی کہ یہ کبھی بھی ایمان لانے والے نہیں یہاں یہ بات آنحضرت ﷺ کی تسلی اور ہمت افزائی کے لئے بھی کہی گئی کہ آپ ﷺ ہرگز دلبرداشتہ نہ ہوں۔ یہ لوگ ہیں ہی شیطان فطرت، ان کے دل پتھر ہوچکے ہیں، چونکہ دل پتھر ہوچکے ہیں اس لیے نہ تو آنکھیں نیکی کو دیکھ سکتی ہیں نہ کان نیکی کا اثر قبول کرسکتے ہیں۔ انسان کو جو چیز انسان بناتی ہے وہ دل کا وجدان ہوتا ہے۔ دل ایک عام قسم کا پمپ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بہترین صناعی کا نمونہ ہے۔ دل کے ذریعہ ہم علم پیدا کرسکتے ہیں وجدان کا مشاہدہ کرسکتے ہیں، ہمارے رسول ﷺ کا امی ہونے کا راز بھی یہی ہے اس لئے کہ آپ ﷺ نے دنیوی احساس سے ماوراء عظیم سچائیوں کو اپنے پاک دل کے شعور کے ذریعہ ہی بیان کیا۔ سورة بقرہ میں ایمان کو ایمان بالغیب اس حقیقت کی بناء پر کہا گیا ہے کہ قرآن براہ راست دل کو مخاطب کرتا ہے اور دل ہی اس کو سمجھ سکتا ہے۔ پیشگی آگاہی یا الہام، دماغ کے کمپیوٹر پر ظاہر نہیں ہوتا بلکہ یہ سب کچھ یعنی الہام بےچینی یا مسرت کا احساس دل کو ہی ہوجاتا ہے۔ انسان کو ہر ایک پیغام دل کے ذریعہ ہی ملتا ہے اور وہ انسان جو دل کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا وہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے کچھ بھی دیکھا ہے۔ لہٰذا وہ شخص انتہائی خراب اور بےکار مصنوعی لالچ والی زندگی کو ہی دیکھ سکتا ہے۔ ایسا ہی دل مہر شدہ دل کہلاتا ہے، کیونکہ وہ دل نہ دل کی سچائی کو جانتا ہے نہ نیکی کو دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی نیک بات سن سکتا ہے اس کے بر خلاف جو شخص خدائی راز کا دل کی کھڑکی سے مشاہدہ کرتا ہے وہ اللہ کی کبریائی اس کی صناعی اور اس کی قدرت کا ملہ کو اپنے سامنے موجود پاتا ہے ایسے شخص کو دنیا کی ہر شے اللہ کی حمد وثناء کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے لیکن مہر شدہ دل، پردہ پڑی آنکھیں اور بہرے کان اس تمام خوبصورتی اور خدائی عظمت کو نہ محسوس کرسکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ اس پاکیزہ موسیقی کو سن سکتے ہیں جو قدرت کی ہر پیدا شدہ چیز اللہ کی بڑائی میں تسبیح کر رہی ہے۔ ایسے ہی بیوقوف انسانوں کے لئے بہت بڑے عذاب کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ موت کے بعد ملنے والا ہے۔
Ayah 2:8منافق کا دعویٰ ایمانی
تشریح : اسلام کے آنے کے بعد تین گروہ پیدا ہوگئے تھے۔ مومن، منافق اور کافر، مومن اور کافر کے بارے میں کافی بتایا جا چکا ہے۔ اب منافق کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔ ” منافق “ وہ لوگ ہیں جو بظاہر مسلمان کہلاتے، نماز پڑھتے، مگر دل سے ایمان نہ لاتے تھے، دل سے وہ مسلمانوں کے خلاف، کفار کے ساتھ ہوتے ہیں اور یہی نفاق کہلاتا ہے جو لوگ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کو دل سے مان لیتے ہیں وہ مسلمان کہلاتی ہیں اور جو دل سے نہیں مانتے وہ منافق کہلاتے ہیں۔
جب آنحضرت ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو قبیلہ خزرج کا عبداللہ بن ابی بن سلول نامی شخص جو کہ نہایت ہوشیار اور مکار تھا اس کی قبیلے کے سردار کی حیثیت سے ہونے والی تاج پوشی آنحضرت ﷺ کی ہجرت کی وجہ سے کھٹائی میں پڑگئی۔ لہٰذا اس نے مصلحت اس میں سمجھی کہ بظاہر مسلمان ہو کر اندر ہی اندر سے مسلمانوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں۔ لہٰذا ایک بڑی جماعت اس کے ساتھ منافقین کی بن گئی انہی منافقین کے لئے قرآن میں ہوشیار کیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں سے بچ کر رہیں، انہی لوگوں نے مسجد ضرار بھی تعمیر کی تھی، جس کا ذکر آئندہ صفحات میں کیا جائے گا۔ (ان شاء اللہ)
دل اور زبان کی منافقت سے اللہ محفوظ ومامون رکھے اور ہر مسلمان کو رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرنے کی توفیق دے کہ وہ ہر وقت اپنا محاسبہ کرے اور دنیا و آخرت میں سربلند ہو، منافق انسان آخرت میں اپنے نفاق کی وجہ سے شدید عذاب اٹھائے گا اور دنیا میں اس رسوائی سے نہیں بچ سکتا جو اس کا نفاق ظاہر ہونے پر اسکو اٹھانا پڑے گی۔ اللہ تمام مسلمانوں بلکہ نوع انسانی کو اس برائی سے بچائے رکھے آمین ثم آمین۔
Ayah 2:9منافقوں کا دھوکہ
تشریح : اس آیت مبارکہ میں منافقوں کی بےوقوفی کا ذکر کیا گیا ہے وہ بظاہر ایمان لے آتے ہیں جس میں ان کا مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ اس طرح ہم مسلمانوں کے درمیان رہ کر ان کے راز اور منصوبوں سے واقفیت حاصل کرسکتے ہیں اور وہ یہی کچھ کرتے تھے وہ تمام حالات سے کفار کو آگاہ کرتے رہتے اور کفار مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
ان کا دوسرا مقصد یہ بھی ہوتا تھا کہ اس طرح مسلمانوں کی گرفت سے بھی بچنے کی کوشش کریں اور اس طرح دہرا عذاب اکٹھا کرتے کیونکہ اس طرح وہ کفر کے علاوہ دھوکہ دیہی اور فریب کاری کے مرتکب بھی ہو رہے تھے اور خوش تھے کہ ہم اللہ اور مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ اللہ کو دھوکہ دینا کسی صورت میں ممکن ہی نہیں۔ رہے مسلمان تو ان کو دھوکہ کم دے رہے تھے اور خود دھوکہ زیادہ کھا رہے تھے اور اس چیز سے بیخبر تھے کہ ہم اپنی دنیا و آخرت اس جرم کی وجہ سے خراب کر رہے ہیں، کیونکہ ایمان زبانی نہیں بلکہ ایمان بالقلب نجات کا ذریعہ ہے جو کہ منافقت میں ممکن ہی نہیں دنیا پر تو جھوٹ ظاہر ہو کر رہتا ہے جب کسی شخص کی منافقت ظاہر ہوجائے تو اس کی تمام عزت و وقار خاک میں مل جاتی ہے ظاہر ہے اس سے بڑی نادانی اور کیا ہوسکتی ہے کہ نادانی کو دانائی اور بےوقوفی کو عقلمندی سمجھ کر خوش ہو رہے ہیں کہ سب کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں، حالانکہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ وہ خود دھوکہ میں پڑ کر اپنی دنیا و آخرت خراب کر رہے ہیں ہر ایک کو سمجھ لینا چاہیے کہ دھوکہ دینا بہت بڑی معاشرتی برائی ہے اور خود اپنے لئے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ہر حالت میں انسان کو اپنے آپ کو منافقت سے بچانا چاہئے۔
Ayah 2:10منافقوں کا روگ
تشریح : جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 7 میں دل کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے کہ انسان کی تمام کیفیات کا منبع دل ہی ہوتا ہے، منافقوں کے روگ کا ذکر یہاں روحانی بیماری کی صورت میں کیا گیا ہے۔ روحانی بیماری سے اخلاق بگڑ جاتے ہیں اور روح کو روگ لگ جاتا ہے اور یہ نفسیاتی روگ انسان کو جہالت، حسد، کینہ دنیا کی محبت اور جھوٹ جیسی برائیوں میں مبتلا کرکے اس کی دنیا و عاقبت کو تباہ کردیتا ہے، جب وہ مسلمانوں کی کامیابیوں کو دیکھتے ہیں تو وہ حسد کے روگ سے اور بھی زیادہ تکلیف اٹھاتے ہیں۔ اللہ ان کا روگ اس طرح بڑھا دیتا ہے کہ اللہ تو ہر انسان کے لئے انہیں راستوں کو کشادہ کرتا چلا جاتا ہے جو انسان کو پسند ہوں، جو نیک فطرت انسان ہوتا ہے اس کے لئے نیکی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں جو بدفطرت ہیں ان کے لئے برائی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں تو جو لوگ اپنی عقل کا ٹھیک استعمال کرتے ہیں وہ انہیں حالات سے ہدایت بھی پاسکتے ہیں لیکن کافر اور منافق لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹ اس خبر کو کہتے ہیں جو حقیقت کے خلاف اور لوگوں کے لئے ضرر رساں ہو۔ اسی جھوٹ کی وجہ سے ان کو آخرت میں درد ناک عذاب دیا جائے گا، ہر انسان کو ہر وقت اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ روحانی بیماریوں یعنی حسد، بغض، کینہ، نفرت اور جھوٹ سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے اور دنیا و آخرت میں کامیابیاں حاصل کرے۔ خالق کی خوشنودی اسی میں ہے اللہ اس خوشنودی کو حاصل کرنے کی توفیق عطا کرے اور درد ناک عذاب سے بچائے۔ آمین
Ayahs 2:11–12منافقوں کی مفسدانہ چالیں
تشریح : منافق لوگ جن کا تفصیلی ذکر ہوچکا ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ اپنی منافقت سے زمین میں فساد نہ پھیلائو بلکہ سیدھا راستہ اختیار کرکے اپنی اور لوگوں کی اصلاح کا سامان پیدا کرو تو وہ اپنی دانش اور مصلحت کے تحت یہی جواب دیتے ہیں کہ ہم اصلاح کر رہے ہیں، ان کا خیال تھا کہ دونوں فریقوں مسلمان اور کفار کو خوش رکھنا ہی عقلمندی ہے اور دونوں فریق انہیں اپنا دوست سمجھیں ان کے نزدیک یہی اصلاح کا راستہ تھا اور انہیں یہ خیال نہ رہا کہ اس طرح وہ اپنی دنیا و عاقبت خراب کر رہے ہیں سچائی، حسن سلوک اور اصلاح معاشرہ کا باعث بنتی ہے جبکہ منافقت سے تباہی اور بےسکونی پھیلتی ہے ان آیات میں منافقوں کی انہی مفسدانہ چالوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ اپنے فساد کو بھلائی سمجھتے ہیں انہی لوگوں کی بسیار خوری فضول خرچیوں اور بےاعتدالیوں کی وجہ سے کائنات کا نظام درہم برہم ہو رہا ہے۔ آسمان کی اوزون والی چھت پھٹنا شروع ہوگئی ہے کیونکہ زمین سے اٹھنے والی اضافی زہریلی گیسیں اور گردوغبار سے بھری ہوئی نامناسب نقصان دہ گیسیں اس اوزون کی تہہ کو پھاڑ رہی ہیں جو ہمیں نقصان دہ آسمانی آفات سے بچاتی ہے۔ اسی طرح لالچی اور حد سے بڑھنے والے سمندر کو بھی تباہ کررہے ہیں۔ قطبین کی برف پگھل رہی ہے اور سمندر کی سطح بلند ہورہی ہے۔ صنعتوں کے فضلات اور زہریلے پانی سے دریاؤں کا پانی زہر آلود ہو رہا ہے جو سمند میں جا کر سمندری حیات کو تباہ کر رہا ہے۔ یہی وہ فساد ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں اور پوری انسانیت کے لیے خطر ات کا موجب بن رہے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو انسانی نسل کی خدمت کر رہے ہیں۔
Ayah 2:13منافقوں کی بےعقلی
تشریح : اس آیت مبارکہ میں کفار کی ہٹ دھرمی اور ناعاقبت اندیشی کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اسلام قبول کرکے اپنے آپ کو تکلیفوں اور مشقتوں میں مبتلا کرنا سراسر بےوقوفی ہے، محض ایمان کی خاطر اتنی بڑی طاقت یعنی کفار کی دشمنی مول لینا عقلمندی نہیں ان کا خیال تھا کہ حق و باطل کے چکر میں پڑ کر اپنے ذاتی مفادات کو نقصان پہنچانا ہوش مندی نہیں، وہ جانتے تھے کہ مدینہ کے منافق طاقتور ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اجنبی اور غریب الوطن مسلمان زیادہ دیر ٹھہر نہ سکیں گے اور اسلام چند دنوں میں خود بخود ختم ہوجائے گا تو جو لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں وہ اپنے مفاد اور برے انجام سے بالکل بیخبر ہیں اس لئے وہ مسلمانوں کو بیوقوف خیال کرتے تھے آخرت کو ماننے سے اس دنیا کے عیش و عشرت کو کچھ کم کرنا پڑتا ہے۔ جس کے بدلہ میں آخرت کا ہمیشگی کا عیش و آرام مل جاتا ہے۔ منافق اسی ابدی نفع و نقصان سے غافل رہتے ہیں اس لئے مسلمان نہیں بلکہ منافق ہی اصل میں بیوقوف ہیں اور اسی فرق کا ان کو شعور نہیں۔ اس آیہ میں منافقوں کی بےعقلی اور ناعاقبت اندیشی کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 2:14–15منافقوں کا مذاق اڑانا
تشریح : اس آیت مبارکہ میں منافقین کی حماقتوں، بےوقوفیوں اور نااہلی کا ذکر تفصیلاً بیان کیا گیا ہے کہ جب وہ مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے بھائی دوست اور مسلمان ہیں اور جب کفار سے ملتے ہیں تو انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں، مسلمان چونکہ سیدھے سادے سے لوگ ہیں ہم ان کی سادگی کا فائدہ اٹھا کر ان سے راز معلوم کرلیتے ہیں۔ ان منافقوں کو اتنا نہیں معلوم کہ اللہ نے ان کی رسی دراز کر رکھی ہے اور ان کو اپنے گناہوں میں ڈھیل دے رہا ہے۔ اللہ تو خود ان سے مذاق کر رہا ہے اور ان منافقوں کو نہ سمجھ ہے نہ عقل اور نہ ہی اپنے برے انجام کا علم ہے یہ اس دنیاوی کا میابی اور خوشی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں۔
Ayah 2:16گمراہی و خسارہ
تشریح : اس آیت مبارکہ میں پھر منافقوں کی حماقت کا ذکر کیا گیا ہے یہ اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب اور کامیاب سمجھتے تھے اور اپنی عقل مندی پر بڑا گھمنڈ کرتے ہیں کہ ہم نے بڑا اچھا سودا کیا کہ منہ سے تو توحید کا کلمہ پڑھا اور دل میں کفر کی سیاہی رکھی اور یوں اپنی پوری عمر صرف کرکے دنیا کی عارضی خوشیاں، کامیابیاں اور آرام حاصل کرلیا، جبکہ یہ بڑے گھاٹے کا سودا انہوں نے کیا۔ فائدے کی تجارت تو یہ تھی کہ اپنا مال اور جان اللہ کی راہ میں خرچ کرتے اور آخرت کی ابدی آسائش حاصل کرتے۔ لیکن منافق لوگ ہدایت پانے والے نہ ہوئے اور اس طرح گمراہی اور خسارے کو کامیابی سمجھتے رہے۔
Ayahs 2:17–18منافقوں کی مثال اور ان کا انجام
تشریح : اس میں بھی منافقین کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں منافق دو قسم کے تھے ایک وہ جو دل سے اسلام کے پکے دشمن تھے مگر زبانی مسلمان تھے دوسرے وہ جو ارادہ کے کمزور تھے اور مکمل طور پر ایک راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ نہ کرسکتے تھے جس طرف ذاتی مفاد دیکھتے ادھر ہی جھک جاتے ان لوگوں کی مثال اللہ تعالیٰ نے یوں دی ہے کہ گویا ایک شخص آگ روشن کرتا ہے جب چاروں طرف روشنی پھیل جاتی ہے تو اچانک ان کی بصارت سلب کرلی جاتی ہے اور انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ منافق لوگوں کو چاروں طرف ایمان، اسلام اور سلامتی کی راہیں نظر آرہی ہیں وہ دیکھتے ہیں مگر کفر کا پردہ اچانک آنکھوں کی بینائی ختم کردیتا ہے اور وہ اپنی اغراض کی وجہ سے اسلام کی روشنی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے اللہ نے فرمایا ہے۔ ” یہ لوگ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں یہ نہیں لوٹیں گے “ وہ لوگ یعنی منافق دنیاوی فائدوں، ذاتی غرضوں اور نفسانی خواہشات کی پیروی میں اس قدرگم ہوگئے ہیں کہ ان کو حق کی سچائی، اسلام کی برکت اور محمد ﷺ کی نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا ان کے چاروں طرف اسلام کا نور پھیلا ہوا ہے مگر نہ ان کے پاس وہ آنکھیں ہیں کہ اس سچائی کو دیکھ سکیں نہ کان ہیں کہ حق کی بات کو سن سکیں اور نہ ہی ایسی زبان ہے کہ حق کی تصدیق کرسکیں یا حق کو پھیلا سکیں۔ علم حاصل کرنے کے تین ہی ذریعے ہیں۔ کان، زبان اور آنکھ، ان کی یہ تینوں قوتیں کفر کے اندھیروں نے سلب کردی ہیں۔ آیت میں آتا ہے کہ اللہ نے ان سے نور بصیرت چھین لی اور فرمایا کہ یہ لوگ کبھی ایمان کی طرف نہیں لوٹیں گے تو یہاں مسئلہ کھڑا ہوتا ہے کہ اس کا ذمہ اللہ پر ہے نہ کہ ان لوگوں پر ہے اس میں یہ مسئلہ تقدیر کا نہیں کہ اللہ نے ان کی تقدیر میں کفر و منافقت لکھ دی ہے۔ مسئلہ علم کا ہے اللہ کو معلوم ہے کہ یہ لوگ اس قدر ہٹ دھرم اور بیوقوف دنیا پرست انسان ہیں کہ یہ کبھی بھی ایمان کی طرف پلٹ نہیں سکتے۔
Ayahs 2:19–20منافق کی بےبسی اور تذبذب
تشریح جس طرح پچھلے اسباق میں منافقوں کے بارے میں بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے پھر مثال سے بھی سمجھایا گیا ہے تو اسی سلسلے میں دوسری قسم کے منافقین کی مثال اللہ تعالیٰ دیتا ہے یہ وہ منافقین ہیں جو دل سے مسلمان تو ہوجاتے ہیں لیکن صرف فائدہ دیکھنے کی حد تک جونہی قربانی اور آزمائش کا وقت آتا فوراً کفر کی طرف لوٹ جاتے، بارش کے فوائد سے تو لطف اندوز ہوتے ہیں مگر بادل کی کڑک اور چمک سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں گویا بجلی کے چمکنے کی طرح جب اسلام کی برکتیں رحمتیں اور روشنی ان پر واضح ہوتی ہے تو مسلمان ہوجاتے ہیں جونہی آزمائش پڑتی ہے تو فوراً کفر کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔
اس رکوع کی ابتداء سے منافقوں کا ذکر شروع ہوا تھا جو اب یہاں ختم ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو سننے دیکھنے کی قوتیں عطا کی ہیں مسلمان ان کو ٹھیک استعمال کرکے سربلندی اور نجات حاصل کرتا ہے جبکہ منافق ان قوتوں کو صرف دنیاوی فائدے جمع کرنے اور نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے میں خرچ کردیتا ہے، منافق اپنی تمام صلاحیتوں کو صحیح استعمال کرنے کی بجائے ہمیشہ غلط استعمال کرتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ ان تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو بیک وقت سلب کرسکتا ہے وہ قدرت کاملہ رکھتا ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا کیونکہ اس نے عالم کے انتظام کے لئے قاعدے، سبب اور وقت مقرر کر رکھے ہیں۔ چاہے تو وہ تمام ناپسندیدہ افراد کو نیست و نابود کر دے لیکن مقررہ قاعدوں کی وجہ سے کفار و منافقین کو ڈھیل مل جاتی ہے، تاکہ وہ غلط کاریوں سے باز آجائیں اس کے باوجود یہ لوگ اپنی غلط حرکات سے باز نہیں آتے تو پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چناچہ اکثر منافقوں کا حال ایسا ہی ہوا آخرت میں بھی وہ گھاٹے میں رہیں گے۔
منافقین کی حالت کو بجلی کی چمک کڑک سے مثال دی گئی ہے کہ بارش جو آسمان سے برستی ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن گرج چمک سے ڈرجاتے ہیں۔ یہاں پر میں بارش کے آسمان سے برسنے کے بارے میں کچھ سائنسی نکات بیان کرنا چاہوں گی۔ ہمارے خیال میں بادل سمندر سے بھاپ کی صورت میں آسمان پر اکٹھے ہوتے ہیں لیکن ان کے برسنے میں آسمان کا بہت بڑا حصہ ہے کیونکہ بھاپ کو بارش کی قطروں میں تبدیل کرنے کے لیے برقائی ذرات (Eharged particles) ضروری ہوتے ہیں۔ اور یہ (Eosmic Rays) سے نکلتی ہیں۔ اور یہ سورج سے اور دوسرے ستاروں سے نکل کر زمین کی طرف آتی ہیں۔ اور وہی ریز بھاپ یعنی بادلوں کے پانی کو قطروں میں تبدیل کرتی ہیں یوں ہواؤں کے چلنے اور بخارات کو قطروں میں تبدیل کرنے کا کام مکمل ہوتا ہے اور پھر آسمان سے قطروں کی شکل میں بارش ہوسکتی ہے۔
اس پورے رکوع میں منافقوں، ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کا مکمل بیان ہے۔ انسان خواہ کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتا ہو اس کو منافقت جیسی لعنت سے بچ کر رہنا چاہیے کیونکہ یہ معاشرے کے امن و سکون کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔
Ayah 2:21عبادت کا مطالعہ
تشریح : اس آیت مبارکہ میں پہلی دفعہ انسان کو مخاطب کرکے عبادت کے لئے کہا جارہا ہے۔ اس سورت کے شروع میں متقین کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اس کے بعد کفار کے بارے میں بتایا گیا اور پھر منافق کی توضیح کی گئی ہے۔ اب پوری نوع انسانی کو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ عبادت گزاری کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اپنے رب یعنی خالق ومالک کو اس کی صفات اور مصنوعات سے پہچانو، اس نے تمہیں پیدا کیا اور ان تمام لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اس میں دنیا کا فانی ہونا بھی بتایا گیا جب انسان خالق حقیقی کو پہچان لیتا ہے تو پھر وہ کامل عبد متقی کی راہ اختیار کرلیتا ہے جب نیکی کی راہ مل جاتی ہے تو پھر اللہ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا بہت آسان ہوجاتا ہے عبد کا مطلب ہے اللہ کے احکامات کو عاجزی اور ادب سے ماننے والا، یوں تقویٰ اختیار کرنے کی راہ کھل جاتی ہے اور جو راہ انسان اختیار کرتا ہے اللہ اس کو آسان اور واضح کرتا چلا جاتا ہے اس کی راہ پر چلنے کے لئے سب سے پہلے توحید، پھر نماز، پھر روزہ، پھر زکوٰۃ، پھر حج یہ عقائد و عبادات اور احکامات ہیں جن کو پورا کرنے سے انسان مرد کامل بن جاتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا کوئی ذاتی فائدہ ہرگز نہیں بلکہ خود انسان کے لئے تقویٰ ، روحانی ترقی، معرفت و سکون اور دنیا و آخرت کی سربلندیاں حاصل کرنے میں آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اگر ہر انسان متقی بن جائے تو معاشرہ تمام برائیوں سے بالکل پاک صاف ہوجائے اور دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن جائے۔
اسی طرح آیت 21 میں کڑک اور چمک کا ذکر کیا گیا جو کہ بہت بڑی قدرتی طاقتیں ہیں یہ زمین کو ذرخیزی میں بہت مدد دیتی ہیں۔ اسی طرح قرآن میں فضائی چھت سات حصوں پر مشتمل ہے جس کا ذکر اکثر جگہ پر کیا گیا ہے۔
سورة نباء میں واضح طور پر کہا گیا ہے۔﴿وَّبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا 12ۙ﴾ تمہارے اوپرسات مضبوط رکاوٹیں ہیں۔ اسی ضمن میں آیت نمبر 22 میں بھی پانی کے آسمان سے نازل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس حقیقت کو 1980 میں ناسا (NASA) نے ثابت کیا کہ آسمانوں کی طرف سے برفانی تودے زمین کی طرف گرتے رہتے ہیں جو کہ فضائی چھت کی رگڑ سے بخارات میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اور پھر قطروں کی صورت میں زمین پر گرتے رہتے ہیں اور انسان کے لیے انتہائی پاک صاف پانی کا بندوبست رب کریم کرتے رہتے ہیں۔
اب تک یہی معلوم ہوا کہ پورا قرآن پاک ایک مقصد سے دوسرے مقصد تک موتیوں کی طرح پرویا گیا ہے پہلے سورة فاتحہ اور پھر سورة بقرہ کی ابتداء ایک کے بعد دوسرا موضوع آتا جارہا ہے۔
Ayah 2:22شرک کی ممانعت
تشریح : بلاغت قرآنی کا ایک عام اسلوب یہ بھی ہے کہ جزئیات احکام بیان کرتے کرتے برسبیل تذکرہ کوئی عام فائدہ یا اصولی نکتہ بیان کردیا جاتا ہے جس کے اندر کوئی گہرا مقصد یا اصول ضرور پنہاں ہوتا ہے اس آیت میں انسانوں کو فراہم کردہ سہولیات پر غور کرکے اللہ کی شان کریمی پر دھیان دینے کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ تاہم ساتھ ہی ایسے بیانات بھی ہیں جو جدید سائنسی نقطہ نظر سے دلچسپ اور چونکا دینے والے ہیں ایک طرف تو اس آیت میں سیدھے سادے خیالات کا بیان ہے جو جزیرہ نما عرب کے بدو لوگوں کو بآسانی سمجھ میں آجائیں اور ساتھ ہی ساتھ ایسے رموز و نکات شامل ہیں کہ اگر مہذب اور ترقی یافتہ لوگ اس پر غور و فکر کریں تو بیشمار سبق آموز باتیں اور سائنسی نکات حاصل کرسکتے ہیں۔
آیت نمبر 22 میں پانی اور ہر قسم کی نباتات میں بہت گہرا رشتہ ہے خاص طور سے بارش کے پانی سے کیونکہ بارش کا پانی بادلوں اور فضا سے نائڑوجن، آکسیجن، نائٹرک آکسائڈ اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے جو نباتات کی نشو نما کے لیے بےحد اکثیر ہے۔ کس قدر مہربان، قادر اور بےمثال رب ہے۔ پھر بھی اگر انسان یہ نہ سمجھ سکے کہ اس کی زندگی کا مقصد کا کیا ہے ؟ تو پھر اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔ آیت 21 اور 22 کے علاوہ قرآن کریم میں بیشمار آیات ہیں جن میں یہ اعلان کی گیا ہے کہ ” اے گروہ انسان اللہ یعنی اپنے رب کی عبادت کرو اور یہی تو مقصد حیات ہے۔ عبادت کیا ہے اس کی وضاحت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں کی ہے۔ ” میری نماز، ذکر، میری قربانیاں، صدقات، حتیٰ کہ میرا جینا، میرا مرنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔
جیسا کہ مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت کے ساتھ ملاتے ہوئے انسان کو بتایا کہ میری عبادت کرو، کیونکہ تمہیں کوئی خالق ومالک ایسا نہیں ملے گا جیسا کہ میں نے پہلے تمہیں پیدا کیا اور پھر تمہاری آسانیوں اور پرورش کے لئے بیشمار ذرائع پیدا کردیئے۔ جیسا کہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں، اس کو فرش بنا دیا اور آسمان کو چھت بنا دیا پھر ہماری ضرورت کے لئے روشنی کا انتظام کردیا، آسمان سے پانی برسا دیا پھر زمین سے طرح طرح کے پھول پھل اور مختلف اجناس پیدا کردیں جن کو انسان کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے ان تمام باتوں کو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ انسان کے وجود میں آنے میں اور زندگی کو قائم رکھنے کے لئے انسان صرف اور صرف اس اللہ کا محتاج ہے جو وحدہ لاشریک ہے۔ اس آیت میں انسان کو پوری طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ میں ہی تمہارا رب ہوں اس لئے صرف میری عبادت کرو، کیونکہ مجھے لاشریک سمجھ کر یقین کے ساتھ اگر توحید پر قائم ہوجاؤ گے تو پھر تمہارے لئے تقویٰ اختیار کرنا بالکل آسان ہوجائے گا اور تقویٰ کیا ہے ؟ پچھلے مضامین میں تقویٰ پر مکمل بحث ہوچکی ہے۔ بلکہ سورة بقرہ کی ابتداء ہی اس موضوع سے ہوئی ہے۔
یہ تو ہوئیں عام باتیں اب خاص نکات اس میں جو بیان کئے گئے ہیں اور جو سائنس دانوں کی توجہ کا باعث بنے ہوئے ہیں وہ ہے زمین کی پیدائش، اس کی ساخت، اس کے اجزاء، بارش کا ہونا اور زمین سے اجناس کا پیدا ہونا اور پھر سب سے بڑا مسئلہ حل طلب خود انسان کی پیدائش، اس کی نشوونما اور اختتام۔ یہ نکات غور و فکر کرنے والوں کے لئے بیان کردیئے گئے ہیں جن پر بڑے سائنس دان دن رات سردھن رہے ہیں۔ یہ نکات پھر کبھی زیر بحث لائے جائیں گے۔ بہر حال ہر وقت اور ہر صورت شرک جیسے ظلم سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا چاہئے۔ بس اللہ ایک ہے وہی ہمارا خالق اور پالنے والا ہے اس کا کوئی شریک ہو ہی نہیں سکتا اور اکیلا ہے اور ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا قرآن میں شرک کی بڑی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ اللہ ہمیں ایمان کی مضبوطی عطا فرمائے۔ ( آمین )
Ayah 2:23کلام اللہ کا چیلنج
تشریح : اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کفار اور منافقین کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں قرآن کی سچائی پر کسی قسم کا شک ہے یعنی تم نہیں مانتے کہ یہ نبی کریم ﷺ پر اتاری گئی ہے تو تم اس کے مقابلے میں اس جیسی سورتبنا لاؤ۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ یہ انسانی کلام ہے، خدائی کلام نہیں یہ سب بیان کرنے کا مقصد محض یہ ہے کہ پچھلی آیات میں جو اللہ کی وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس طرح وہ اپنی صفات میں یکتا اور لاشریک ہے اسی طرح اس کی بھیجی ہوئی کتاب بھی لاجواب اور یکتا ہے۔
قرآن مجید علم و ادب کا خزینہ اور کائنات کی تمام دانائیوں کا منبع ہے محکم اور معقول ہے اس کا ایک ایک لفظ، ایک ایک آیت، انسانی ہدایت کے لئے بحر بیکراں ہے۔ سبحان اللہ ! اس کا نازل کرنے والا اور جس پر نازل کیا گیا بےمثال ہیں، کیا یہ ثبوت کافی نہیں ہے کہ ایک ایسی قوم جو انتہائی پستیوں میں پڑی ہوئی تھی اور دنیا کی دوسری قوموں سے ہر لحاظ سے پیچھے تھی۔ جو اخلاقی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی لحاظ سے بالکل کورے تھے۔ صرف یہی صفت ان میں تھی کہ وہ بہادر اور مہمان نواز تھے مگر جہالت اور تعصب نے ان سے تمام اخلاقی اقدار چھین لی تھیں۔ وہ جہالت اور خبیث رسوم و رواج میں جکڑے ہوئے تھے ایک ایسی قوم کو اللہ کی وحدانیت سے آگاہ کرنا اور پھر اس کو اقوام عالم کا پیشوا بنا دینا یہ اعجاز القرآن اور اعجاز رسول ﷺ نہیں تو اور کیا ہے ؟ آنحضرت ﷺ پڑھے لکھے نہ تھے اور نہ ہی ان کو دنیا کے حالات کی خبر تھی تو کیا یہ معجزہ اور قرآن کی صداقت اور اللہ کی حکمت کا ثبوت نہیں کہ انہوں نے اپنی قوم کو اخلاق، روحانیت، معاشرت، معیشت، سیاست، سائنس اور حکومت و مذہب میں دنیا کی تمام قوموں کا امام بنا دیا اس تمام کام میں آنحضرت ﷺ نے جو مصائب برداشت کئے وہ کسی عام آدمی کے بس میں نہیں ہوسکتے تھے۔ مزید دلیل کے لئے موریس بو کا یئے کی کتاب بائبل، قرآن اور سائنس “ سے اقتباس پیش خدمت ہے۔
” حضرت محمد ﷺ کے زمانہ کی معلومات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے یہ بات ناقابل تصور معلوم ہوتی ہے۔ کہ قرآن کے بہت سے وہ بیانات جو سائنس سے متعلق ہیں کسی بشر کا کام ہوسکتے ہیں لہٰذا یہ بات مکمل طور پر صحیح ہے کہ قرآن کو ہی وحئی آسمانی کا اظہار سمجھا جائے لیکن ساتھ ہی اس استناد کے سبب جو اس سے فراہم ہوتی ہے۔ نیز ان سائنسی بیانات کی وجہ سے جن کا آج بھی مطالعہ کرنا نبی نوع انسان کیلئے ایک چیلنج ہے۔ اس حقیقت کو ایک انتہائی خصوصی مقام حاصل ہے “۔
ثابت ہوگیا کہ قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی وضع کرسکتا ہے اور پھر اس کو اپنے پیارے رسول ﷺ کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچایا۔ یہ بےمثال ہے اور اس کی نظیر پیش کرنے سے تمام کائنات ہرگز ہرگز قاصر ہے۔ یہ کلام الٰہی آخری کتاب ہے آخری نبی محمد ﷺ پر نازل کی گئی حکمتوں کا خزینہ ہے اور بےمثال ہے اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اس کو سمجھیں اور اس پر عمل کرکے دارین میں سرخرو ہوجائیں۔ ( آمین)
Ayah 2:24مخالفین کی بےبسی
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیت میں کفار و منافین کو دعوت دی گئی ہے کہ اگر تم قرآن کی صداقت سے انکار کرتے ہو تو چلو تمام ملائیکہ جن وانس سب عالم و فاضل جمع ہوجاؤ اور صرف ایک آیت، قرآن مجید کی آیات کی طرح جامع و مکمل، فصاحت و بلاغت سے بھرپور مضمون کی حامل بنا کرلے آئو تو اس پر سب مخالفین لاچار ہوگئے تو اس بےبسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ ان کو متنبہ کرتا ہے کہ تمہاری اس بےبسی سے ظاہر ہوگیا کہ تم غلطی پر ہو اور اللہ قادر مطلق ہے اس نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر رشد و ہدایت سے بھرپور کتاب نازل کی ہے جو تمام سچائیوں، خوبیوں، فصاحت و بلاغت اور راہنمائیوں کا مجموعہ ہے یہ کتاب تمام نوع انسانی کے مسائل حل کرتی ہے نجات کا ذریعہ بتاتی ہے اور دنیا و آخرت میں کامیاب ہونے کے گر سکھاتی ہے اور آخر میں اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس سزا کا ذکر کرتا ہے جو جہنم کی صورت میں مشرکوں اور کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے جہنم کی آگ کا تذکرہ خاص طور سے کیا گیا ہے کہ اس کا ایندھن انسان اور پتھر ہونگے۔ جیسا کہ قرآن کا طریقہ ہے کہ چھوٹے جملے میں بہت بڑا راز بیان کردیتا ہے۔ ” انسان اور پتھر کا ایندھن “ اس میں انتہائی اہم سائنسی نکتہ بتایا گیا ہے یہ بات سائنسی تحقیق نے ثابت کی ہے کہ انسان اور پتھر کا ایندھن ممکن ہے انسان اور پتھر کیا ہیں ؟
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :” ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن پتھر اور انسان ہیں “ اس کی توضیح کردی گئی ہے ذرا اس وضاحت کو اور بھی آسان پیرائے میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔ اصل میں جلنے کا عمل کاربن اور آکسیجن کے ملنے سے ہوتا ہے۔ جلنے کا ایک عمل اور بھی ہے جو ایٹمی ذرات پر مبنی ہے اس عمل سے ایٹمی ری ایکٹرو، ایٹم بموں اور ہائیڈروجن بموں میں مادہ توانائی بن کر جلتا ہے اور نہایت تھوڑے مادے سے بہت زیادہ توانائی پیدا ہوتی ہے۔ کیمیائی عمل کے مقابلہ میں یہ دس لاکھ گنازیادہ تیز عمل ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوزخ میں توانائی کا عمل ایٹمی ہوگا۔ جس کی ایک جھلک ہمارا سورج ہے۔ یہاں فیوژن کے عمل سے مادہ توانائی میں بدلتا رہتا ہے۔ مختصر یہ کہ انسان اور پتھر سے جلائی گئی آگ نہ تو کم ہوگی اور نہ ہی ٹھنڈی ہوگی۔ استغفر اللہ
یہ حقیقت بھی عیاں ہوگئی کہ اگر اللہ غفور الرحیم ہے تو جبار وقہار بھی اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے قہر سے بچائے آمین ثم آمین ہمیشہ اپنے پاکباز بندوں میں شامل رکھے۔ آمین۔
ان کو مادہ یا میٹر کہتے ہیں ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ مادہ کا سب سے چھوٹا ذرہ ایٹم کہلاتا ہے سب انسان، پتھر، پہاڑ وغیرہ ایٹم سے بنے ہوئے ہیں۔ توانائی کیا ہے ؟ اسے عام الفاظ میں Energy کہتے ہیں توانائی نہ تو بنائی جاسکتی ہے اور نہ ہی تباہ کی جاسکتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے۔
Energy can never be created or destroyed= (Priniciple of conscruation of energy) it can only change into different forms. Potential energy, kinetic energy heat energy etc.
اگر ہم کسی چیز کی رفتار تیز کریں تو گویا ہم اس کو Energy دے رہے ہیں۔ مگر وہ توانائی اس کے Mass کیمیت (مادے کا سب سے چھوٹا ذرہ) میں شامل ہو رہی ہے۔ یہ بات آئن سٹائن کے مشہور فارمولے Emc2 سے ثابت ہوتی ہے۔
E=energy, m = mass, e = speed of light 300, 000, 000 m P s, E=mc2
Emc2 اس سے ثابت ہوتا ہے کہ توانائی اور م اس آپس میں بدل سکتے ہیں اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں ہر مادہ توانائی میں تبدیل ہوسکتا ہے اور چونکہ انسان اور پتھر بھی مادے سے بنے ہوئے ہیں تو یہ بھی توانائی دے سکتے ہیں نہ ختم ہونے والی توانائی اگر اسلامی سائنس دان البیرونی اور جابر جیسے لوگوں کو اس سنہری دور کو جاری رکھنے کا موقع مل جاتا تو ہم ایٹمی یا نیو کلیائی فژن کو اب سے پانچ صدیاں قبل ہی دریافت کرچکے ہوتے۔
آیئے اب ہم پھر تشریح کی طرف آتے ہیں۔ انسانوں اور پتھروں کا یک مشت اور وسیع پیمانے پر ایک عظیم توانائی اور مہیب مقدار کی تپش میں تبدیل ہوجانے کے عمل سے گزار کر ہی اللہ انسان کو اپنی قدرت کاملہ کے ذریعے نجات عطا کرے گا دوزخ ایک لیبارٹری کی طرح گمراہ اور گناہ گار لوگوں کو پاک صاف کر دے گی اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا پاک نظام ربوبیت انسان کو جو کائنات کا راہ گم کردہ بچہ ہے پاک اور صاف کردینے کے ساتھ ساتھ اس کو سزا بھی دیتا رہے گا۔ چناچہ یہی وہ معنی ہیں جو انسان کے ایندھن ہونے کے راز میں پنہاں ہیں “۔ یہ تمام تشریح ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے اخذ کی گئی ہے امید ہے ایک اچھے اور ایک بگڑے ہوئے دونوں طرح کے انسانوں کے لئے نصیحت اور فضیحت کی یہ آیت کہ ” ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہونگے “ اپنے محاسبہ اور راہوں کے تعین کے لئے بہت بڑی اطلاع ہے اور یہ اطلاع خدائے واحد کی طرف سے بذریعہ نبی کریم ﷺ قرآن کی صورت میں دی گئی ہے جو برحق محکم اور نہ ٹلنے والی ہے جو ہو کر رہے گی اللہ اس مہیب اور شدید آگ سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ حضرت ابوبکر کا قول ہے :
” گناہ کو نہ دیکھو کہ وہ کتنا چھوٹا ہے بلکہ اس اللہ کی بڑائی کو دیکھو جس کی نافرمانی کی جارہی ہے “۔
اس کی عطائوں پر الحمدللہ اور اپنی خطائوں پر استغفر اللہ کرتے ہی رہنا چاہئے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تمام کافر اور وہ پتھر کے بت جن کی وہ پرستش کرتے ہیں جہنم کا ایندھن ہونگے۔
Ayah 2:25مومنوں کو خوش خبری
تشریح : اس آیت میں جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے اور مومنین کے لیے خوش خبری ہے۔ گزشتہ آیات میں کفار مشرکین اور منافقین کا ذکر خوب وضاحت سے کردیا گیا ہے اور پھر ان کو عذاب جہنم سے بھی اچھی طرح آگاہ کردیا گیا ہے۔ اب اللہ جل شانہ اپنے ان بندوں کے لئے خوشخبری کی وعید دیتا ہے جو نیکوکار ہیں، متقی ہیں، صابر ہیں، شاکر ہیں، اللہ کی وحدانیت کو دل سے مانتے ہیں جن کے دل ہر وقت نیکی بھلائی ذکر اللہ اور شکر سے معمور رہتے ہیں جو اللہ کی وحدانیت اور عظمت کا اقرار بالقلب کرتے ہیں، گناہوں سے بچتے ہیں اور محمد ﷺ کو آخری بنی دل کی گہرائیوں اور پورے یقین سے مانتے ہیں اور اس قرآن کو حق سمجھتے ہیں جو علم و حکمت، علوم و فنون، اخلاقیات، سیاسیات، معاشرت، معیشت اور سائنس کے تمام شعبہ ہائے حکمت کا خزینہ ہے۔ ایسا قرآن جو اپنی جامعیت میں لاجواب مگر ایسا کارگر کہ عرب کے بدوئوں کے سخت قلوب کو موم کرنے والا اور پڑھے لکھے علماء، فضلاء، ڈاکٹر، سائنس دان ہیت دان اور مفکروں کے لئے ایسے علوم سے بھرپور خزانہ کہ ہر آیت اور ہر لفظ سے علم و حکمت کے چشمے ابلتے چلے جائیں۔ جتنی دفعہ پڑھیں نئے نئے نکات سامنے آتے چلے جائیں، سبحان اللہ کیا شان ہے قرآن نازل کرنے والے الہ العالمین کی اور کیا شان ہے قرآن حکیم کی اور کیا شان ہے رسول خدا ﷺ کی۔ جب انسان یہ سب کچھ جان جاتا ہے تو پھر وہ ان تمام احکامات پر دل و جان سے عمل بھی کرتا ہے اور فضل الٰہی بھی مانگتا ہے تو یہ عمل انسان کو دوزخ سے بچانے اور جنت میں پہنچانے کا سبب بن جائے گا۔
حضرت محمد ﷺ کو ” نذیر وبشیر “ اسی لئے کہا گیا ہے یعنی وہ ڈرانے والے بھی ہیں اور خوشخبری دینے والے بھی ہیں پچھلی آیت میں دوزخ کا بیان ڈرانے کے لئے کیا گیا اور اب اس آیت میں خوشخبری کا اہتمام کیا گیا ہے کہ ایمان والے جن کی تعریف اوپر کردی گئی ہے اور نیک عمل کرنے والوں کی تعریف یہی ہے کہ جو قرآن کے احکامات کو دل و جان سے صرف عزیز ہی نہ رکھیں، بلکہ ان پر پوری طرح عمل بھی کریں، حقوق العباد اور حقوق اللہ کا پورا پورا خیال رکھیں تو اسی سے گھر، ملک اور دنیا جنت بن جاتی ہے۔
آخر میں جنت کا نقشہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ وہاں انسان کو ہر وہ سہولت میسر ہوگی جس کو انسان حاصل کرکے شادماں ہوجاتا ہے۔ مثلاً اچھا رہن سہن، اچھا کھانا پینا اور اچھا ساتھی اس کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کی کہ جنتی لوگوں کو ہر قسم کا رزق اور پھل دیئے جائیں گے اور جب ان کو یہ پھل دیئے جائیں گے تو وہ برملا کہہ اٹھیں گے کہ یہ تو ہم نے پہلے بھی کھائے ہیں، صاف شفاف اور شیریں مشروبات کی فراوانی ایسے ہوگی کہ نہریں بہہ رہی ہونگی اور ساتھی ایسے عطاء ہونگے کہ انسان پرسکون شاداں و فرحان ہوجائے بیویاں ہونگی کہ روح و بدن کے لحاظ سے پاکیزہ اور خاوند ایسے ملیں گے کہ ہر ہر پہلو سے بہترین یہ سب کچھ انسان کو ویسے ہی نہیں مل جائے گا، بلکہ عبادت، ریاضت، خلوص، نیک نیتی اور ایمان کامل اس کی قیمت ہے اللہ پر ایمان اور مکمل بھروسہ انسان کو ویسے بہت ساری رنجشوں، قباحتوں، فکروں اور پریشانیوں سے نجات دلوا دیتا ہے اور پھر جب جنت کا تصور کرتے ہیں تو پھر اور بھی روحانی سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اس آیت مبارکہ میں ایک واضح اشارہ جو ہمیں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اس دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل کیا جائے گا۔ انسان کا خاتمہ جسمانی طور پر تو ہوجاتا ہے مگر روحانی طور پر انسان کا خاتمہ ہرگز نہیں ہوتا اس لئے اگر اللہ نے دولت دی ہے تو اسراف نہ کرو بلکہ طریقہ و سلیقہ سے استعمال کرو اور اللہ سے کبھی غافل نہ ہوجاؤ ہر دم اس کو یاد کرو، صحت دی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتے رہو اس کے عائد کردہ فرائض کو خوش اسلوبی سے ادا کرتے رہو، اللہ سے غافل نہ ہو۔ اگر اولاد اللہ نے دے رکھی ہے تو اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلائو اولاد میں گم ہو کر اللہ کو مت بھولو۔ کیونکہ یہ زندگی ہمارے لیئے سفر کا چھوٹا سا وقفہ ہے اور آخرت کمانے کا صرف یہی چھوٹا سا وقفہ ہے اس لئے ہر دم اس زندگی کا خیال رکھنا چاہیے جو ہمشہ کی زندگی ہوگی۔ قرآن میں کئی بار اس بات کا یقین دلایا گیا ہے کہ موت کے بعد کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہوگی اور جنت ہر قسم کی مادی اور روحانی خوشیوں کا گھر ہوگا۔ یہ وعدہ خدائے برتر و عظیم کا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں، اللہ ہم پر رحم کرے اور ہمیں ہماری اولاد ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کو جنت کا وارث بنائے آمین ہر دم یاد رکھنا چاہیے کہ نماز جنت کی کنجی ہے۔
Ayah 2:26ہدایت وگمراہی
تشریح :۔ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو چیلنج کیا تھا کہ اگر وہ قرآن کی صداقت کو نہیں مانتے تو چلو ایسی چیز، کوئی آیت یا کلام ہی پیش کردیں وہ ایسا نہ کرسکے اور نہ ہی ہرگز وہ ایسا کرسکیں گے تو اپنی خفت مٹانے کے لئے حیل و حجت سے کام لینے لگے اور فضول باتوں سے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنے لگے اور کہنے لگے کہ لو دیکھو ! اللہ کیسی باتیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ جواب میں لوگوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ مثال دینے کے لئے ضروری نہیں کہ بہت بڑی چیز کو ہی بطور مثال بیان کیا جائے مطلب تو مثال سے لوگوں کو سمجھانا ہوتا ہے اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لئے یہ کوئی شرمانے یا خفت میں پڑنے کی بات نہیں کہ وہ مثال دینے کیلئے مکھی، مچھر یا اس سے بھی کوئی حقیر یا چھوٹی چیز کی مثال دے۔ انسان کے سامنے مکھی معمولی چیز ہے لیکن اگر مکھی انسان کی کوئی چیز لے اڑے تو انسان اتنا بےبس ہے کہ وہ اس سے واپس لینے کی بھی قدرت نہیں رکھتا تو یہ مثال انسان کی بےبسی کے لئے اللہ نے دی تو اس مثال دینے کا مقصد انسانی بےبسی کو ظاہر کرنا ہے جو راہ ہدایت پانے والے ہیں وہ تو نفس مضمون کو سمجھ جاتے ہیں اور اس سے پوری طرح مستفید ہوتے ہیں لیکن جو گمراہ اور منکرین ہدایت ہیں وہ بجائے سبق حاصل کرنے کے اس دی ہوئی مثال پر اعتراض کرنا شروع کردیتے ہیں اور مثال دینے والے کو ہی کم فہم (نعوذباللہ) اور معمولی شخصیت کہنے لگتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے ثمثیلیں بجائے ہدایت کے گمراہی کا سبب بن جاتی ہیں اور وہ اپنے غلط خیالات اور گمراہی کے راستوں پر چلنے کے لئے اور بھی زیادہ مستعد ہوجاتے ہیں، جبکہ یہ تمثیلیں نیکوکار مخلص مومنین اور متقین کے لئے ان کے نیک اور سیدھے راستوں کو اور بھی واضح کردیتی ہیں ان کے ایمان کو مزید مضبوط کردیتی ہیں اور ان کے یقین کو اور بھی کامل بنا دیتی ہیں ایک ہی بات دو سننے والوں کے لئے مختلف اثر رکھتی ہیں ٹھیک ہے کہ برے کے لئے اس کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں اور نیک کے لئے اس کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں گمراہی کے راستے پر صرف وہی چلتے ہیں جو فاسق ہیں۔ فاسق کون ؟ نافرمان، بدکردار، بداخلاق اور اطاعت کی حد سے نکل جانے والا۔ اللہ کے کلام سے بصیرت رکھنے والوں کو بصیرت مل جاتی ہے جبکہ مفسد لوگوں کو فساد کے راستے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ برے لوگ اچھی بات میں بھی برائی نکالتے ہیں زندگی میں حکمت و دانائی اللہ سے مانگنی چاہیے وہ ضرور دیتا ہے۔
Ayah 2:27گمراہ کون ہوتے ہیں
تشریح : یہ آیت پچھلی آیات کے ساتھ منسلک ہے۔ اس میں مزید وضاحت در وضاحت کی گئی ہے کہ منافق، مشرک اور نافرمان کیسے لوگ ہوتے ہیں پہلی نشانی تو یہ ہے کہ انہوں نے جو وعدہ خدائے برتر وبالا سے کیا ہے وہ اس سے منکر ہوگئے ہیں وعدہ کونسا ہے جو خالق کائنات سے کیا گیا ؟ تو اس کے بارے میں اغلب خیال نہیں بلکہ بخاری شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمام روحوں کو پیدا کیا تو ان سے سوال کیا کہ ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں “ سب نے جواب دیا کیوں نہیں، اللہ نے فرمایا میں اس اقرار پر زمین و آسمان کو گواہ کرتا ہوں پھر اس عہد کی یاد دہانی کے لئے مختلف وقتوں میں رسول اور پیغمبر بھیجے گئے، تاکہ لوگ ہدایت کے راستہ سے بھٹک کر اپنے لئے، لوگوں کے لئے اور دنیا کے لئے مشکلات اور تباہی کا سبب نہ بنیں پھر ضمیر کا عنصر انسانی فطرت میں رکھ دیا کہ وہ ہر وقت انسان پر پہرہ دے اور ہر برائی پر ہوشیار خبردار کا نعرہ لگائے۔ مگر مفسد کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے وہ اللہ سے کئے ہوئے عہد کو توڑ کر ان تمام خوبیوں پابندیوں اور فرائض سے بالکل آزاد ہوجاتا ہے آپس کے رشتوں کو منافقت، حسدٗ بغض نفرت اور شرارت سے کاٹ دیتا ہے اور یوں گھر، قوم، ملک اور دنیا میں امن و سکون کو غارت کردیتا ہے۔ دوسروں کا حق مارنا، رشوت، سفارش اور دھوکہ دہی چوری، جھوٹ ڈاکہ زنی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کردیتا ہے۔ یوں ملک میں فساد پھیلاتا ہے اور اپنے لئے اخلاقی اور روحانی پستیوں کا بندوبست کرتا ہے اور پھر سمجھتا ہے کہ وہ کامیاب ہوگیا ہے، حالانکہ درحقیقت اس نے خود کو دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار کرلیا ہوتا ہے اور یہی دین و دنیا میں گھاٹا اٹھانے والی باتیں ہیں جو کہ مفسد اپنے لئے کماتا ہے۔ اللہ ان کو بھی ہدایت دے اور تمام مسلمانوں کو بھی ہر طرح سے اپنی حفظ وامان میں رکھے آمین حضرت فرید شکرگنج (رح) فرماتے ہیں :
” جو سچائی جھوٹ کے مشابہ ہو اسے اختیار مت کرو “۔
Ayah 2:28اللہ کا انکار کیسے
تشریح : بار بار اس بات کی تاکید کی جاتی ہے کہ کفر و بےیقینی سے باز آجاؤ اپنے خالق ومالک کو پہنچان لو۔ پچھلی آیت میں گمراہوں کی صفات بیان کرکے ان کے برے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی حیثیت اور مہربانی جو اس نے انسان کو زندگی عطا کرکے دی، یاد دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم لوگ اگر اس حقیقت پر غور کرو تو کبھی کفر نہ کرو۔ اللہ فرماتا ہے کہ تم بالکل بےجان تھے یہ عالم ارواح کی طرف اشارہ ہے ہم نے تمہیں مادی وجود دیکر دنیا میں بھیج دیا یہاں تم اپنے جسم کے ساتھ ایک زندگی گزار رہے ہو پھر تمہیں اس جسم سے جدا کردیا جائے گا اور تم عالم برزخ میں منتقل کردیئے جاؤ گے وہاں سے عالم حساب اور پھر ابدی زندگی جس طرح زندگی ایک تخلیقی امر ہے۔ موت بھی ویسے ہی ایک تخلیقی امر ہے۔ یہ بھی زندہ حقیقت ہے اور وہ بھی زندہ حقیقت ہے اس حقیقت کو سائنس نے بھی اپنے تجربات سے ثابت کردیا ہے اس کے لئے میں سلطان بشیر محمود کی کتاب ” قیامت اور حیات بعد الممات “ میں سے کچھ مواد پیش کرنا چاہوں گی۔ مصنف موصوف لکھتے ہیں۔
” نفس اور روح کے علاوہ بھی جسم جن عناصر سے تشکیل پاتا ہے۔ وہ بھی انمٹ ہیں، قدرت کا اصول ہے کہ عام حالات میں مادہ نہ تباہ کیا جاسکتا ہے نہ پیدا۔ البتہ اپنی ترتیب ہیئت میں تبدیل ہوتا رہتا ہے اور بکھر کر تحلیل ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کا ایک ایک ایٹم قیامت تک محفوظ ہے۔ بلکہ ان کو اپنے ساتھی ایٹموں کے ساتھ گزری ہوئی زندگی بھی یاد رہتی ہے اور اگر کبھی انہیں قریب آنے کا اتفاق ہو تو وہ ایک دوسرے کو پہچان بھی لیں گے اس لئے قبر مٹی کی ہو، پانی کی ہو، ہوا کی ہو، دریا ہو، عناصر کی حد تک جسم قائم رہتے ہیں۔ جیسے ہم اپنے بچھرے ہوئے دوستوں کو یاد رکھتے ہیں نفس بھی اپنے بکھرے ہوئے عناصر کو یاد رکھتا ہے اور جب حکم ہوگا وہ دوبارہ اکٹھے ہو کر محفوظ شدہ ڈیزائن کے مطابق زندگی کی محفل نشاط برپا کریں گے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے “۔
مذکورہ آیت مبارکہ صرف عرب کے بدوئوں کے لئے ہی مخصوص نہیں، بلکہ قرآن کا ہر لفظ تمام انسانی برادری کے لئے ہر زمانے اور ہر طبقہ کے لئے وعظ و نصیحت کا منبع ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ انسان غور کرے کہ اس کی زندگی اور تمام وسیلے اللہ ہی کے اختیار میں ہیں، وہی زندہ کرنے والا، وہی مارنے والا، اور پھر وہی دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔ آخر میں انسان پھر اسی کی طرف لوٹ کر جانے والا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ انسان اللہ کی وحدانیت اور اس کی فرما برداری سے انکار کرے۔ اللہ ہم سب کو اپنی عبودیت اور فرمابرداری کی توفیق عطا کرے آمین۔ حضرت علی کا فرمان ہے : ” ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں لہٰذا ان کو احسن اعمال سے پر کرو “۔