Ayah 2:163توحید الٰہی
تشریح : توحید کی وضاحت جس قدر بہترین اور موثر انداز میں اس چھوٹی سی آیت میں کی گئی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے یوں تو توحید کے بارے میں قرآن پاک میں کئی دفعہ مختلف انداز میں وضاحت آچکی ہے مثلاً ۔
1 ۔ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ (اللہ کے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں ہے) قرآن پاک میں یہ 12 مرتبہ آیا ہے۔
2 ۔ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَ (اس اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں) یہ قرآن پاک میں 30 دفعہ آیا ہے۔
3 ۔ خود اللہ نے اپنے لئے فرمایا : لَااِلٰہَ اِلَّااَنَا (میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے) ۔ یہ قرآن پاک میں تین جگہ آیا ہے۔
4 ۔ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ (تم سب کا معبود ایک ہی ہے) یہ قرآن میں چھ دفعہ آیا ہے۔
-5 اسی طرح اِنَّمَااللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ (بات صرف یہ ہے کہ اللہ ہی اکیلا معبود ہے) متعدد بار آیا ہے۔ اسی طرح اللہ اسم جلالت شمار ہوتا ہے، یہ 2696 دفعہ آیا ہے اور لفظ اِلٰہٌ 125 اور لفظ اِلٰہٌ کی جمع اٰلِھَۃٌ 361 بار آیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید پر کس قدر تفصیل اور زور سے بات کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام کا سب سے پہلا اور بنیادی اصول توحید ہی ہے۔ اسلام کا پورا نظام، توحید کے گرد گھومتا ہے۔ اسلامی زندگی شروع سے آخر تک توحید سے ہی وابستہ ہے۔
توحید کیا ہے ؟ قرآن پاک میں توحید کا لفظ استعمال تو نہیں ہوا۔ لیکن واحد اور احد سے توحید کی اصطلاح اختیار کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید یعنی وحدانیت مختلف حیثیتوں سے ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً وہ ایک ہے۔ پوری کائنات میں اس کے برابر کا کوئی بھی نہیں ہوسکتا، کیونکہ جب ہم اپنے آپ پر نظر ڈالتے ہیں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کوئی نہ کوئی پوشیدہ بہت بڑی طاقت موجود ہے جس کو ہم آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے مگر اس کی کاریگری، اس کے انتظام اور اس کی خلقت سے اس کو پہچان سکتے ہیں۔ جوں جوں سائنس ترقی کر رہی ہے اس کا وجود اور اس کی وحدانیت زیادہ عیاں ہوتی چلی جارہی ہے اور پھر اللہ کا وجود اس کی بڑائی ہر قوم، مذہب اور فرقہ کے انسان کی فطرت میں قدرت کی طرف سے ڈال دی گئی ہے۔ کسی بھی عقیدہ والے شخص سے آپ پوچھیں ” تمہیں کس نے پیدا کیا ہے “ ؟ وہ بےاختیار بولے گا ” اللہ نے “ کوئی اللہ کو کسی بھی نام سے پکارے، دیوتا کہے، ایشوریا God کہے مطلب اس کا یہی ہوگا ” وہی چھپی ہوئی طاقتور ہستی ہے “ جس کو مسلمان الٰہ، اللہ کہہ کر (پکارتے ہیں) اللہ کے صفاتی نام تقریباً 99 ہیں اور ان کو اسماء حسنیٰ کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ” اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں تم اسے ان ناموں سے پکارا کرو “ قرآن مجید میں دعاؤں میں اللہ پاک کو ان ناموں سے پکارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (الاعرف 180-)
توحید کا جس قدر ثواب اور اہمیت ہے شرک کا اسی قدر زیادہ عذاب اور ظلم ہے۔ اللہ رب العزت توحید پر ہمیشہ قائم رکھے اور شرک سے محفوظ رکھے آمین عقیدہ توحید کی برکات مندرجہ ذیل ہیں۔
1 آدمی توحید پر یقین کرنے سے بےخوف اور نڈر ہوجاتا ہے، کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
2 آدمی ایک اللہ کے سامنے جھکنے سے جگہ جگہ منت سماجت کرنے سے بچ جاتا ہے، اس میں خود اعتمادی اور انسانیت کی بلند ترین صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔
3 عقیدہ توحید سے انسان میں بنی نوع انسان کی وحدت و مساوات کا تصور پیدا ہوجاتا ہے۔
4 ایک اللہ کے بندے ہونے سے طبقاتی، علاقائی اور نسلی امتیازات ختم ہوجاتے ہیں شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
اگلی آیت توحید کی وضاحت کا جیتا جاگتا مضمون ہے۔ ملاحظہ ہو۔
Ayah 2:164اللہ کی نشانیاں
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور طاقت کی بیشمار نشانیاں بتائی ہیں۔ اگر انسان ان پر غور وفکر کرے تو ضرور وہ اللہ کی وحدانیت کا قائل ہوجائے۔ غور کیجئے زمین و آسمان کی پیدائش، دن رات کا چکر، دریا اور سمندروں میں کشتیوں اور جہازوں کا چلنا، آسمان سے بارش کا اترنا، مردہ زمین میں جان پڑجانا، زمین میں طرح طرح کے جانوروں کی موجودگی، ہواؤں اور بادلوں کا زمین آسمان کے درمیان چلنا کیا یہ سب کچھ اللہ کے سوا اور کوئی کرسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ پوری کائنات کا وجود اور اس میں موجود ہر چیز اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ہمارا خالق ومالک ہمیں ایک نظام کے تحت چلانے والا صرف اور صرف ” اللہ “ ہے جو اپنی صفات و برکات اور قوت و تدبر میں لاثانی ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، جبکہ کائنات کی ہر چیز فانی ہے۔ یعنی پیدائش کے بعد ختم ہونے والی ہے بس اللہ وحدہ لاشریک ہمیشہ قائم رہے گا اور اس کو کبھی زوال نہیں۔ اس کی قدرت اور حکمت کی ایک چھوٹی سی مثال بیان کرتی ہوں اللہ ارشاد فرماتا ہے :
” یعنی ہم نے ہی پانی کو زمین کے اندر ٹھہرا دیا ہے اگرچہ ہم میں اس کی بھی قدرت تھی کہ بارش کا پانی برسنے کے بعد بہہ کر ختم ہوجاتا ہے “۔ (سورۃ المومنون 18)
قدرت نے انسان و جانور کے لئے پانی کو کہیں تو تالابوں اور حوضوں میں جمع کردیا اور کہیں پہاڑوں کے اندر پھیلی ہوئی خفیہ رگوں کے ذریعہ زمین کے اندر اتار دیا اور یوں وہ پانی زمین میں پھیل کر محفوظ ہوجاتا ہے اور جو چاہتا ہے زمین کو کھود کر پانی نکال لیتا ہے اسی طرح پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ منجمد کرکے پہاڑوں پر لاد دیا برف کی صورت میں کہ نہ وہ خراب ہو اور نہ ضائع ہو، بلکہ آہستہ آہستہ پگھل کر پورے عالم میں بغیر کسی پائپ لائن کے پھیلتا رہے۔ اسی طرح سمندر کا پانی کس خوبی اور سائنسی طریقہ سے صاف ستھرا ہو کر بادلوں اور ہواؤں کے ذریعہ بغیر کسی خرچہ کے دور دراز علاقوں میں پہنچا دیا جاتا ہے، بارش ہوتی ہے یا برف پڑتی ہے تو کیسے انداز سے آہستہ آہستہ کہ کسی نقصان کے بغیر پانی اور برف پہنچا دی جائے۔ سبحان اللہ یہ سب کچھ کیا کوئی انسان، سائنس دان یا بڑے سے بڑا عقل مند کرسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں یہ تو صرف وحدہ لاشریک لہ رب العزت ہی کا کمال ہے۔ طاقت ہے قدرت اور اختیار ہے اس سب کے باوجود اس ترقی یافتہ دنیا میں ابھی ایسے بیوقوف لوگ موجود ہیں جو غیر اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ اگلی آیت میں انہی لوگوں کا ذکر ہے۔
Ayah 2:165غیر اللہ سے محبت کا انجام
تشریح : اس آیت میں ان مشرکین کا ذکر کیا گیا ہے جو عقل رکھتے ہوئے اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی اللہ کے سوا کی عبادت کرتے ہیں۔ مثلاً یہودی، عیسائی، بدھ، ہندو، سکھ وغیرہ یہ سب کہتے ہیں ہمیں اللہ نے پیدا کیا مگر عبادت کرنے میں کسی کو خدا کا بیٹا بناتے ہیں۔ کہیں تین خدا بنائے ہوئے ہیں، کہیں بتوں سے محبت کرکے ان کے آگے سر جھکایا جاتا ہے، کہیں آگ کو، کہیں گائے کو اور کہیں سورج کو پوجا جاتا ہے اور تو اور کئی کمزور عقیدہ کے مسلمان بھی پیری فقیری کے چکر میں توحید کو بھول جاتے ہیں۔ بجائے اللہ وحدہ سے مرادیں مانگنے کے پیروں کے قدموں میں گر کر مرادیں مانگتے ہیں۔ رب العزت نے فرمایا کہ محبت صرف اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہئے ایک مومن کامل صرف وہی کہلوانے کا حق رکھتا ہے جو اللہ کی محبت سے سرشار ہو۔ کسی سے بھی اگر محبت کرے تو فقط اللہ کی خوشنودی کے لئے کرے۔ ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ افضل ترین عمل یہ ہے کہ اللہ کے لئے ہی دوستی رکھی جائے اور اللہ ہی کے لئے دشمنی رکھی جائے “۔ (ابوداؤد)
اللہ کے سوا کسی سے سوال کرنا، کسی کے سامنے جھکنا، کسی کو اپنا حاجت روا سمجھنا یہ سب کفر و شرک کے ہی زمرہ میں آتا ہے اور یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” یقینا شرک بہت بڑا ظلم ہے “ (سورۃ لقمان 3 )
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کاش یہ اس عذاب کا اندازہ کرسکیں کہ جو شرک و کفر کی وجہ سے ان کو آخرت میں ملنے والا ہے تو یہ لوگ اس عذاب شدید کو دیکھ کر فوراً کہہ اٹھیں گے کہ واقعی اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی قادر مطلق ہے اور کوئی طاقت ان کو اس عذاب سے بچا نہ سکے گی تب وہ اپنے جھوٹے معبودوں کو بھلا دیں گے اور معافی کے لئے پکاریں گے مگر وہ بالکل بےبس ہونگے ان کی بےبسی کا ذکر اگلی آیت میں کیا گیا ہے۔
Ayahs 2:166–167شرک کا برا انجام
تشریح : ان آیات میں قیامت کے دن کا بڑا ہولناک منظر بیان کیا گیا ہے۔ کاش انسان جو بھٹک چکا ہے ان آیات سے سبق سیکھ سکے اور راہ راست اختیار کرلے، کیونکہ اس دن ان کے جھوٹے معبود ان سے دور ہوچکے ہونگے اور لاعلمی کا اظہار کریں گے تب وہ لوگ حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم دوبارہ دنیا میں جاسکیں تو پھر ہم بھی اپنے مرشدوں سے لاتعلقی کا اظہار کرکے اس عذاب سے بچ سکیں، لیکن اس وقت افسوس و ندامت کچھ بھی کام نہ آئے گی اور وہ آگ کے عذاب سے کسی صورت بھی نجات نہ پا سکیں گے۔ اس لئے ہر وقت خیال کرو کہ جہاں بھی کوئی نیک راستہ یا نیکی کا عمل کرنے کو مل جائے اس کی طرف لپکو کیونکہ یہی دنیا عمل کا گھر ہے۔ معافی مانگنی ہے تو زندگی میں مانگ لو۔ موت کے وقت اور موت کے بعد معافی کا دروازہ اور عمل کا دفتر بند ہوجاتا ہے، مسلمان کو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کے ذریعے زندگی کے ہر نیک عمل کا طریقہ سکھاتا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں حلال اور پاکیزہ غذاء کا ذکر وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 2:168–169کسب حلال اور شیطان کی سعی
تشریح : ان آیات میں حلال و پاکیزہ چیزوں کو کھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر وہ چیزیں جن سے کراہت آئے یا جسم کے لئے نقصان دہ ہوں یا ناجائز طریقہ سے حاصل کی گئی ہوں ان کے کھانے کی ممانعت کی گئی ہے مگر بغیر وجہ کے حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لوگ حلال اور پاکیزہ کو اپنے اوپر حرام نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو لوگ حلال اور پاکیزہ کی پرواہ کئے بغیر کھاتے پیتے ہیں وہ شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور شیطان انسانوں کا کھلا دشمن ہے، وہ کبھی بھی انسان کی خیر خواہی نہیں کرتا اس آیت میں شیطان کی دو خصلتیں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ برائی اور بےحیائی سکھاتا ہے امن وامان کو خراب کرنا، باہمی محبت اتحاد اور خلوص کو تباہ کرنا اور فساد پھیلانا اس کا من پسند کام ہے اور شیطان کا دوسرا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو ہر وقت اس بات پر اکساتا ہے کہ وہ اپنی طرف سے بنائی ہوئی باتیں یہ کہہ کر لوگوں کو بتائے کہ یہ تو اللہ کا حکم ہے، حالانکہ اللہ کبھی بھی کسی غلط کام کا حکم نہیں دیتا، لیکن شیطان کی پیروی کرنے والے لوگ دنیاوی فائدہ کے لئے لالچ اور حرص کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں ایسے ہی لوگوں کو تنبیہہ کی گئی ہے کہ یہ بہت نقصان کا کام ہے۔ اس کی مثال یہودی علماء کی دی جاسکتی ہے جنہوں نے اپنے مطلب کی باتیں اللہ کی طرف منسوب کرکے لوگوں کو بتائیں اور کتاب اللہ کو تبدیل ہی کردیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ہمیشہ کے لئے ناکام اور ذلیل ہو کر رہ گئے اس آیت کے ذریعہ مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ نہ تو بدی اور بےحیائی میں حصہ لیں اور نہ ہی دنیاوی فائدہ کے لئے اللہ کے احکام غلط بیان کریں، کیونکہ یہ دونوں کام قوموں کی تباہی کا باعث ہیں اور مکمل طور پر شیطانی کام ہیں۔ لہٰذا ان سے خود بھی بچنا چاہئے اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
Ayah 2:170اندھی تقلید
تشریح : اس آیت میں کفار و مشرکین کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو نافرمانی اور سیدھی راہ سے دور رہنے کے لئے یہی بہانہ ملتا ہے کہ بھئی ہم کچھ نہیں جانتے بس ہم تو وہی کام کریں گے وہی طریقے اختیار کریں گے جو ہمارے باپ دادا نے اختیار کر رکھے تھے۔ حالانکہ ان کے آباؤاجداد کے پاس نہ ہدایت تھی اور نہ عقل و شعور۔ ہدایت سے مراد وہ احکامات ہیں جو زندگی گزارنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاف طور پر نازل کئے گئے اور عقل سے مراد وہ فہم و فراست ہے جو کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ مثلاً : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جن کا باپ بت تراش تھا اور تمام کنبہ قبیلہ بت پرست تھا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عقل نے ان کی نہ تو تقلید پسند کی اور نہ ہی ان خداؤں کو مانا جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھائیں ( سورة انعام آیت 76)
بلکہ ان کی عقل نے ان کو راستہ دکھایا اور انہوں نے جستجو کی اور اللہ کو معبود حق کی صورت میں ڈھونڈ لیا۔ حالانکہ ہدایت یعنی احکامات ان کے پاس بعد میں آئے۔ مگر یہ لوگ خوش قسمت ہیں کہ ان کو نیکی، راستی اور زندگی کے تمام اصول، اچھائی اور برائی کا فرق کھول کر بتایا جارہا ہے لیکن یہ خود ایمان لانا پسند نہیں کرتے اس لیے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کفر و شرک کی راہیں اپنائے ہوئے تھے اس لئے ہم ان راہوں کو چھوڑ نہیں سکتے۔
یاد رکھیں ! انسان کی ترقی اور کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ اندھی تقلید اور پرانی غلط رسم و رواج ہی بنتی ہیں اس لیے ہر انسان کو اپنی عقل سے کام لے کر اپنی راہیں سنوارنی چاہئیں۔ علامہ اقبال نے ان لوگوں کی حالت زارکو یوں بیان کیا :
آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
اگلی آیت میں انہی کفار کی بےجا تقلید کو اللہ تعالیٰ مثال دے کر واضح کر رہا ہے۔
Ayah 2:171اندھی تقلید کی مثال
تشریح : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ کفار و مشرکین بالکل جانوروں کے اس ریوڑ کی طرح ہیں جن کو چرواہا ہانک لگاتا ہے اور جانور آواز سنتے ہیں مگر آواز کا ادراک نہیں رکھتے اس لئے آواز کی اہمیت وہ نہیں سمجھتے کہ کہنے والا دراصل ان کو کیا سمجھا رہا ہے، اس طرح مشرک نہ ہدایت کی بات سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں اور نہ ہی ہدایت کی راہ دیکھتے ہیں اس لئے وہ انسان نہیں بلکہ جانوروں کی طرح زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” کہ جس شخص نے اپنی قوم کی ناحق پر مدد کی اس کی مثال ایسے ہے جیسے اونٹ کنوئیں میں گر جائے تو اسے اس کی دم پکڑ کر کھینچا جائے “۔
(اسوہ حسنہ جلد سوم صفحہ 284 بحوالہ ابوداؤد)
Ayahs 2:172–173حرام غذائیں اور مجبوری کی صورتیں
تشریح : اس آیت میں اللہ جل شانہ بڑے ہی واضح انداز میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہیں کہ جو کچھ تمہیں نعمتیں دی گئی ہیں ان میں سے ہر پاکیزہ چیز کھاؤ پیؤ اور ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہو، تاکہ تم میں غرور پیدا نہ ہوجائے اور اس لیے بھی کہ اللہ شکر گزار لوگوں کی نعمتوں میں اضافہ کرتا ہے اور ان سے راضی ہوتا ہے، کیونکہ شکر گزاری انسان اور اللہ کے درمیان رابطے کو مضبوط کرتی ہے اسی مہربانی اور شفقت کی بناء پر اللہ ان کو حرام قرار دیتے ہیں جو دنیا میں موجود ہیں مگر انسانی صحت کے لئے مضر ہیں تو ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اور آج کی سائنس نے تسلیم کیا ہے کہ واقعی یہ حرام شدہ چیزیں بڑی خوفناک حد تک انسان کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی اپنی کتاب ” قرآنی آیات اور سائنسی حقائق “ صفحہ 292 پر رقم طراز ہیں۔ ” اس آیت کے ذریعہ ایک اور اہم سبق یہ ملتا ہے کہ سور کے گوشت کو خون اور مردار گوشت کے ساتھ ہی حرام قرار دیا گیا ہے کہ ان دونوں میں جراثیم سے آلودہ گندگی پائی جاتی ہے اور خون سے اس لئے ملایا گیا ہے کہ دونوں کے البومن میں نقصان دہ رطوبت پائی جاتی ہے جو کہ انسانی نشوونما اور صحت کے لئے زہر ثابت ہوچکی ہے۔
سور کے گوشت میں بہت زیادہ چربی ہوتی ہے جو کہ انسان میں چربی اور کو لیسٹرول (Cholesterol) کی مقدار خطرناک حد تک بڑھا دیتی ہے اور دل کی شریانیں تنگ ہوجاتی ہیں۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ انسانی جسم میں وٹا من ای اے کی کمی ہوجاتی ہے جو کہ جلدی امراض اور آنکھوں کی بیماریوں میں اضافہ کرتی ہے، کیونکہ خنزیر مسلسل گندگی کھانے کی وجہ سے خود بہت سی بیماریوں کا شکار رہتا ہے اس لئے یہ ناممکن ہے کہ اس کے گوشت کو کھانے اور ہضم کے ذریعے سے نقصان دہ سفید چربی والی البومنز جنہیں انٹی بوڈی (Anti Body) کہتے ہیں وہ بھی انسانی جسم کے اندر داخل نہ ہوجائے۔ چناچہ آیت کریمہ میں سور کے گوشت کو مردار کے گوشت سے اس لئے ملا دیا گیا ہے کہ ان دونوں میں جراثیم سے آلودہ گندگی پائی جاتی ہے اور خون سے اس لئے ملایا گیا ہے کہ دونوں کے المبومن میں نقصان دہ رطوبت پائی جاتی ہے۔ یہی تمام وجوہات ہیں کہ قرآن پاک میں چار مختلف جگہوں پر سور کے گوشت، خون اور مردار کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ سورة البقرہ کی آیت :173 سورة المائدہ آیت :3 سورة الانعام آیت : 145 اور سورة النحل آیت :115 اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اس مسئلہ پر پوری توجہ کرے۔ قرآن مجید نے حکم دیا ہے اور سائنسی تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ یہ خوراک انسان کے لئے بےحد خطرناک ہے۔ “
اندازہ کیجئے کہ اللہ جل شانہ کس قدر مہربان اور خیرخواہ ہے اسی آیت کے آخر میں فرمایا کہ اگر انسان کو بےحد مجبوری میں یہ حرام چیزیں کھانی پڑجائیں تو اجازت ہے صرف اس صورت میں کہ کھانے کی وجہ صرف مجبوری ہو نہ لیکن قانون شکنی اور حد سے بڑھنے کی نیت نہ ہو۔ کیونکہ یہ نافرمانی میں شمار ہوتا ہے اور مجبوری میں اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
اسلام کے ہر قانون اور اصول سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دین فطرت ہے انسان کی بھلائی اور ترقی فلاح و بہبود کا دین ہے۔ اس میں پوری طرح داخل ہوجانا اور اس کے حکموں کو مان لینا کوئی مشکل نہیں۔ بلکہ دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے اور انہی اعتقادات کی وجہ سے یہ بھی فرمایا گیا کہ جو جانور غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے وہ بھی مسلمان کے لئے حرام ہے۔ کیونکہ اس سے ایمان میں فرق آتا ہے چناچہ ثابت ہوگیا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کے حرام ہونے کا ذکر کیا ہے۔ مردار، خون، سور اور وہ جانور جس پر ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام نہ لیا جائے، بلکہ کسی اور کا نام لے کر ذبح کیا جائے یہ کیوں حرام کئے گئے ہیں اس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔
Ayah 2:174علم کو چھپانے کی سزا
تشریح : معارف القرآن میں بڑی مختصر اور جامع تفسیر بیان کی گئی ہے۔ لکھتے ہیں ” اس سے پہلی آیات میں ان حرام چیزوں کا ذکر تھا جو محسوسات میں سے ہیں، اگلی آیات میں ایسے حرام کاموں کا ذکر ہے جو محسوس نہیں بلکہ وہ باطنی و ظاہری اعمال شر ہیں مثلاً علمائے یہود میں یہ مرض تھا کہ عوام سے رشوت لے کر ان کے مطلب کے مطابق غلط فتوے دے دیتے تھے اور تورات کی آیات میں تحریف کرکے ان کے مطلب کے موافق بناتے تھے۔ اس میں امت محمدیہ کے علماء کو بھی تنبیہہ ہے کہ وہ ایسے افعال سے اجتناب کرلیں کسی نفسانی غرض سے احکام حق کے اظہار میں کوتاہی نہ کریں “۔
کیونکہ یہ بہت ہی بڑا گناہ ہے اور جو معاوضہ وہ غلط بیان کا لیتے ہیں وہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور ان کے لئے صرف یہی ایک سزا نہیں بلکہ اس آیت میں ان سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے جو غلط بیانی یا غلط مسائل بتانے والے علماء کو قیامت کے دن ملیں گی۔ ان میں سب سے پہلی سزا تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے علماء سے غصے کا اظہار کریں گے اور ان کو رحمت الٰہی سے محروم کردیا جائے گا۔
دوسری سزا یہ دی جائے گی کہ ان کو دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اس طرح کہ ہمیشہ وہیں سڑتے جلتے رہیں گے، کبھی بھی معاف کرکے جنت میں نہ بھیجے جائیں گے۔ تیسری سزا یہ ہوگی کہ ان کی سزا جسمانی، روحانی اور ذہنی بھی ہوگی جس سے وہ ہرگز چھٹکارا نہ پا سکیں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک اچھے عالم کا درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند ترین ہے تو برے اور جھوٹے عالم کا درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین ہے اور ایسے عالم کو بدترین عذاب میں ڈالا جائے گا جو نہ ختم ہوگا نہ کم ہوگا۔
محترم قارئین یہ بات سمجھنی بڑی آسان ہے۔ زندگی کا اگر کوئی مسئلہ سمجھ نہ آئے تو ضروری سمجھا جاتا ہے کہ کسی عالم سے پوچھ لیا جائے تو اگر عالم ٹھیک حل بتائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے معاشرے کو ایک بہت بڑے بگاڑ سے بچا لیا لیکن اگر عالم کسی کے دباؤ میں آکر یا کسی سے رقم وصول کرکے یا شیطان کی خوشنودی کے لئے مسئلہ کا حل اپنے پاس سے غلط بتا دیتا ہے تو عالم کی کہی ہوئی بات سے جس قدر بگاڑ، خرابی یا بےسکونی پوری قوم، معاشرے یا لوگوں میں پھیلے گی اس کا ذمہ دار یقیناً عالم ہی ہوگا جس نے غلط بات کی اور اس طرح تمام خرابی، بےسکونی اور بےحیائی کا عذاب صرف لوگوں پر ہی نہیں، بلکہ عالم پر سب سے زیادہ ہوگا اور جب تک برائی باقی رہے گی، پھیلے گی اس عالم کا عذاب بڑھتا چلا جائے گا، لوگ اس پر عمل کرنے کے لئے یوں مجبور ہونگے کہ بات ایک صاحب علم نے کہی ہے غلط نہیں ہوسکتی تو سوچیں ایسے عالم کا عذاب کیونکر کم یا ختم ہوسکتا ہے جو لوگوں کو دنیاوی منفعت کی وجہ سے گمراہی کا راستہ دکھائے۔ اگلی آیت میں ایسے لوگوں کے بارے میں ذرا اور بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 2:175–176گھاٹے کا سودا
تشریح : ان آیات میں غلط کار علماء کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور بھی وضاحت سے فرماتا ہے کہ غلط بیانی کرنے والے اور تھوڑی سی دنیاوی اجرت کے بدلہ میں گمراہی پھیلانے والے کس قدر بیوقوف اور نقصان دہ تجارت کرنے والے ہیں۔ ان لوگوں کو یہ خیال ذرہ برابر بھی نہیں آتا کہ اس طرح یہ لوگ ہدایت کے بدلے گمراہی خرید رہے ہیں، روشنی کی بجائے تاریکی میں جارہے ہیں، آخرت کی بجائے دنیا کو پسند کر رہے ہیں اور یوں یہ لوگ عارضی فائدوں کی بجائے ہمیشہ کے آرام کو چھوڑ رہے ہیں ان کو یہ خیال بھی نہیں آرہا ہے کہ یہ اتنے بڑے جرم کی سزا میں پھنس رہے ہیں کہ جو سزا مرنے کے بعد ہمیشہ ان کو ملتی رہے گی یہ سب اس لئے ہے کہ حق تعالیٰ نے تو بہترین حق پر مبنی اور سچائی کے راستے دکھانے والی کتاب نازل کی تھی مگر ان جھوٹے اور بیوقوف علماء نے آپس کے اختلافات اور جھگڑوں میں پڑ کر حق سے دور کی راہیں اختیار کرلیں اور لوگوں کو بھی بھٹکا دیا تو ظاہر ہے اس اتنے بڑے جرم کی سزا بھی تو اتنی ہی بڑی، سخت اور ہمیشہ رہنے والی ہوگی اس لئے اس جرم سے بچنے کے لئے خدا کی پناہ مانگنی چاہئے اور بےحد احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ مسلمان علماء کو یہودی علماء سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ ویسے تو زندگی کے ہر شعبہ میں اچھے برے انسان ضرور ہوتے ہیں مگر علماء و مشائخ کا گمراہ ہوجانا، سب سے زیادہ نقصان دہ اور تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ جیسا کہ منظور الحق ڈار صاحب اپنی تصنیف ” ہمارا سنگین ترین مسئلہ “ کے صفحہ نمبر 82 میں لکھتے ہیں۔ ” ایک طرف ہم میں جو تھوڑا بہت اسلام پایا جاتا ہے اس میں محترم علماء ربانی اور حق پرست مشائخ کی کوششوں کا بھی حصہ ہے اور دوسری طرف جو برائیاں پائی جاتی ہیں ان میں علمائے سوء (برے) اور غلط قسم کے پیروں، سجادہ نشینوں کی پھیلائی ہوئی ضلالت و گمراہی کا خاصا عمل دخل ہے “ ان کو سخت ترین عذاب دیا جائے گا اسی طرح ہادی برحق ﷺ کا ارشاد ہے کہ :
میں اپنی امت کے متعلق گمراہ آئمہ سے شدید ترین خطرہ محسوس کرتا ہوں “۔ (ابوداؤد)
شیطان نے روز اول اللہ تعالیٰ سے کہا تھا۔ ” میں تیرے بندوں کو ضرور بہکاؤں گا “۔ ( سورة نساء 119) ” اسی طرح انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں اور جنات میں بھی “ ( سورة انعام 112) اس لئے علماء بھی شیطان کا شکار ہوسکتے ہیں اس لئے ہر انسان کو چاہئے کہ آنکھیں بند کرکے بھٹکے ہوئے پیروں اور غلط قسم کے رہنماؤں اور لیڈوں کی باتوں میں آکر اپنی عاقبت ہرگز خراب نہ کریں۔ رہے دنیا پرست علماء سوء تو ان سے اللہ تعالیٰ خوب اچھی طرح حساب لے لیں گے۔
شروع سورت سے آیت 176 کے آخر تک سورة البقرہ کا تقریباً نصف حصہ ہوجاتا ہے۔ یہاں تک اکثر منکرین و مشرکین اور قرآن پاک کا ذکر ہے پھر توحید و رسالت پھر اولاد ابراہیم (علیہ السلام) پر انعامات پھر قبلہ کا تذکرہ اور اس کے بعد صفا ومروہ کا بیان پھر توحید و شرک کی وضاحت پر ختم ہوجاتا ہے۔ گزشتہ حصے میں زیادہ تر خطاب مشرکین کو کیا گیا ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی خطاب کیا گیا۔ اب بقیہ سورة البقرہ میں زیادہ تر مسلمانوں کو ہی خطاب کیا گیا ہے۔
Ayah 2:177اصل نیکی، اچھے عقائد، معاملات، نماز، زکو ٰۃ اور عہد
تشریح : سب سے پہلے تو مشرکین و مسلمانوں کو مخاطب کرکے رب العزت فرماتا ہے کہ نیکی یہ نہیں کہ مشرق کی طرف منہ کرلینا یا مغرب کی طرف۔ اس بات پر تفصیلی بحث گزشتہ اسباق میں ہوچکی ہے۔ اب یہاں ” بِرٌّ“ یعنی نیکی کو واضح کیا جارہا ہے۔
تمام ظاہری اور باطنی بھلائیاں اس ایک لفظ ” بِرٌّ“ میں جمع ہوگئی ہیں اس کی تفصیل یہ ہے شریعت کے کل احکامات تین چیزوں پر مشتمل ہیں۔
1 عقائد۔ 2 : اعمال۔ 3: اخلاق۔
اس کے بعد سورة البقرہ کے اختتام تک تمام احکام شرعیہ کا ذکر آگیا ہے جو آئندہ بیان کئے جائیں گے۔
سب سے پہلے اعتقادات کا ذکر ہے جس میں توحید الٰہی، آخری بنی اکرم ﷺ ، قرآن مجید، یوم آخرت، فرشتے اور تمام وہ کتابیں جو قرآن پاک سے پہلے نازل ہو چکیں اور تمام رسول جو بھیجے جا چکے ان سب پر ایمان رکھنا ضروری ہے یہ نیکی ہے اور تکمیل ایمان ہے، نیکی کا دوسرا جزء مالی قربانی ہے۔ یعنی اپنے مال کو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بندوں پر خرچ کرنا جن میں قرابت دار، یتیم، مسکین، مسافر، فقیر، مجبور اور محکوم انسان شامل ہیں۔ مالی قربانی کے بعد بدنی عبادت یعنی نماز کا ذکر کیا گیا ہے۔ نماز اور زکوٰۃ کا ذکر قرآن پاک میں ساتھ ساتھ بہت زیادہ دفعہ آیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیک اور اچھے مسلمان کے لئے نماز بھی بےحد ضروری عبادت ہے، نماز بدی اور بےحیائی سے روکتی ہے، انسان کو روحانی، اخلاقی اور سماجی لحاظ سے مضبوط بناتی ہے۔ آئندہ اس پر تفصیل سے بحث ہوگی ( انشاء اللہ ) ۔ عقائد، معاملات اور عبادات کے بعد اب نمبر آتا ہے اخلاقیات کا اس میں سب سے پہلے عہد کی پابندی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ سے کیا گیا عہد پورا کرنا، حقوق اللہ اور حقوق العباد پورا کرنا، مالی، جسمانی اور ہر قسم کی پریشانی ہر قسم کی مشکل میں صبر و سکون سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست کرنا۔ یہ سب کچھ نیکی کے دائرے میں آتا ہے جو بھی ان سب پر خلوص سے عمل کرے گا وہی پکا مسلمان کہلائے گا اور وہ متقی اور پرہیزگار انسان کہلائے گا معاشرتی قوانین کا پاس کرنا بھی اعلیٰ اخلاق کی علامت ہے تو ان آیات میں قانونی مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا ہے اور اگلی آیت میں قصاص کا ذکر تفصیل سے آرہا ہے۔
Ayahs 2:178–179قانون قصاص
تشریح : اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں قتل و غارت گری عروج پر تھی پھر یہ بھی کہ اگر کسی حسب ونسب والے خاندان کا غلام قتل ہوجاتا تو اس کے بدلہ میں آزاد کو قتل کرتے اور کئی دفعہ تو ایسے بھی ہوتا کہ ایک کے بدلے کئی آدمی قتل کردیئے جاتے اسلام نے اس بےانصافی اور فرق و امتیاز کو بالکل ختم کرنے کا حکم دیا اور اصول بنا دیا کہ جو شخص جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے اس کو بدلہ میں قتل کردیا جائے جیسے۔ آزاد کے بدلہ میں آزاد، کیونکہ جانیں سب برابر ہیں ان میں اونچ، نیچ، امیر، غریب، شریف، بدمعاش، عالم، جاہل، عورت، مرد، آزاد، غلام، جوان، بوڑھے اور بیمارو تندرست کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا اگر کوئی عورت مرد کو قتل کر دے تو اس قتل کرنے والی عورت کو ہی قتل کیا جائے گا اسی طرح سب کے لئے حکم ہے جو قتل کرے اس کو بدلہ میں قتل کیا جائی لیکن اگر مقتول کے وارث خون بہا کی رقم یعنی قاتل کو قتل معاف کرکے اس کو رقم ادا کرنے کے لئے کہیں یا اس میں بھی کچھ معاف کردیں تو یہ اپنے بھائی کے حق میں مہربانی ہوگی اور خون بہا لینے میں اور ادا کرنے میں دونوں فریقوں کو شرافت اور انصاف سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ امن و سکون میں خلل واقع نہ ہو اور خوش اسلوبی سے معاملہ طے پا جائے لیکن اس معاملہ کو طے کرنے میں اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کرے گا تو یقیناً درد ناک عذاب کا حق دار ہوگا۔ آخر میں اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ قصاص میں زندگی ہے یہ اس طرح کہ جب کوئی قتل کرنے کا ارادہ کرے گا تو اس کو معلوم ہوگا کہ قتل کرنے پر وہ خود بھی قتل کیا جائے گا، کیونکہ قصاص کا قانون موجود ہے۔ لہٰذا وہ اپنی جان کی فکر یا ڈر سے قتل کرنے سے رک جائے گا تو اس طرح قصاص میں زندگی دکھائی دیتی ہے۔ جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ کوئی بات نہیں، پیسہ دے کر یا اپنی عزت و وقار کے زور پر چھوٹ جاؤں گا تو پھر دوبارہ قتل کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔ ثابت ہوگیا کہ قصاص کا قانون عدل و انصاف، نظم و ضبط، راستی اور اعتدال کا بہترین ذریعہ ہے۔ مخالفین اسلام شور مچاتے ہیں کہ اسلام نے سزائیں بہت سخت رکھی ہیں، حالانکہ سخت جرائم سے روکنے کے لئے سزا بھی سخت ہی ہونی چاہئے تاکہ جرائم کی روک تھام ہو سکے ورنہ تو مجرم بےخوف و خطر زیادہ سے زیادہ بدامنی پھیلانے کا ارادہ کرسکتے ہیں۔ سزا ایسی ہونی چاہئے کہ جو خود مجرم کے لئے سخت ترین اور دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بنے بس یہی حکمت ہے ” قصاص میں زندگی ہے۔ “
اسلام پر اعتراض کرنے والے غیر مسلم کبھی اپنے گریبان میں منہ ڈال کر بھی دیکھیں کہ معمولی شکوک و شبہات پر ایسی سزاؤں سے دوچار کرتے ہیں کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی سزائیں وحشی جانور کو بھی نہیں دی جاسکتیں جو انسان کے ساتھ روا رکھی جاتی ہیں اور اگر اسلام نے اصلاح معاشرہ کیلئے مناسب سزاؤں کا قانون دیا تو بڑی انسانی ہمدردی کے لیے ہی دیا ہے تاکہ انسان اس معاشرے میں امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکے اور قتل و غارت نہ ہو۔
Ayah 2:180وصیت
تشریح : یہ حکم اس زمانے میں دیا گیا تھا، جبکہ وراثت کیلئے ابھی کوئی قانون مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ اس وقت ہر شخص پر لازم کیا گیا کہ وہ اپنے چھوڑے ہوئے مال کو بذریعہ وصیت اپنے وارثوں میں تقسیم کر جائے، تاکہ اسکے بعد خاندان میں جھگڑا نہ ہو۔ بعد میں تقسیم وراثت کا قانون خود اللہ تعالیٰ نے بیان کردیا جو سورة نساء میں آئے گا۔ فی الحال مذکورہ آیت کے مطابق تین اصول وضع کئے گئے ہیں۔
1 ۔ ایسے رشتہ دار جن کے حصے کتاب و سنت میں مذکور نہیں ان کے لیے وصیت کرسکتا ہے۔
2 ۔ رشتہ داروں کے لیے وصیت کرنا جائز ہے فرض نہیں ہے۔
3 ۔ ایسی وصیت جو کتاب وسنت کے خلاف نہ ہو کرسکتا ہے۔
جس شخص کے ذمہ لوگوں کے حقوق واجب ہوں یا اس کے پاس کسی کی امانت رکھی ہو۔ اس پر ان تمام چیزوں کی ادائیگی کے لئے وصیت واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
” جس شخص کے ذمہ لوگوں کے کچھ حقوق ہوں اس پر تین راتیں ایسی نہ گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی اس کے پاس موجود نہ ہو “
آدمی کو اپنی زندگی میں وصیت بدلنے کا یا بالکل ختم کرنے کا حق حاصل ہے اور تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہیں کرسکتا۔ مزید وضاحت اگلی آیات میں بیان کی گئی ہے۔
Ayahs 2:181–182وصیت میں تبدیلی
تشریح : اس آیت میں ان لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے جو مرنے والے کے پاس موجود ہوں اور اپنے کسی فائدہ یا ناجائز غرض کے لئے مرنے والے کی وصیت کو بدل ڈالیں یہ سوچ کر کہ کون جاننے والا ہے۔ مرنے والا تو مرگیا تو ایسے لوگوں کو خیال رکھنا چاہئے کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اس سے تو کوئی بھی بات چھپی ہوئی نہیں وہ اصل وصیت کو بھی جانتا ہے اور بدلنے والوں کو ان کی نیتوں کو بھی بڑی اچھی طرح جانتا ہے۔ مگر ایک صورت وصیت بدلنے والوں کے لئے جائز بتائی گئی ہے وہ یہ کہ اگر کوئی شخص یہ دیکھے کہ وصیت میں کسی کی حق تلفی اور ترکہ کی ناجائز تقسیم کی گئی ہے یا وصیت گناہ اور ناانصافی پر مبنی ہے تو ایسی صورت میں وارثوں سے مشورہ کرنے کے بعد وصیت تبدیل کی جاسکتی ہے اس پر کوئی گناہ نہیں، نیک نیتی اور اخلاص کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور وہ بڑا ہی بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ حدیث ہے۔ ” عمل کی بہتری سچی نیت میں ہے “۔ (حکیم ترمذی)
Ayahs 2:183–184روزے کی فرضیت اور مسائل
تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ بندوں کو مخاطب کرتا ہے کہ تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں، ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن رمضان کا روزہ ہے اس کا حکم 2 ہجری جنگ بدر سے پہلے نازل ہوا۔ تفصیل والی آیات ایک سال بعد نازل ہوئیں مگر انہیں ان کے ساتھ ہی جمع کردیا گیا ہے۔ روزے کا مطلب ہے کہ نیت کے ساتھ ساتھ سحری سے لیکر سورج غروب ہونے تک کھانے پینے، بیوی کے ساتھ ہم بستری اور اخلاقی برائی (غیبت، فحش کلامی، بدکلامی، لڑائی جھگڑا) سے اپنے آپ کو (اللہ کی رضا کیلئے) بچائے رکھنا۔
یہ عبادت خالصتاً اللہ اور بندے کے درمیان ہوتی ہے اور رمضان کا مہینہ اس پاکیزہ عبادت کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیا ہے تاکہ اس سے مسلمانوں کی یکجہتی اور اتحاد کا اظہار ہو۔ یہ عبادت پہلی قوموں پر بھی فرض کی گئی تھی۔ مثلاً
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) ۔……
روزوں کا فائدہ بیان کرتے ہوئے رب العزت فرماتا ہے کہ یہ ایک ماہ کی ریاضت تمہیں جسمانی اور روحانی دونوں طرح سے مضبوط کرتی ہے۔ نفس اور جسم کی تمام خرابیاں اور غلاظتیں بالکل دھل جاتی ہیں اور ایک متقی کے ساتھ ساتھ صحت مند انسان بن جاتا ہے۔ واقعی روزہ روحانی اور طبی معجزہ ہے۔ روحانی اس طرح کہعبادت، خشوع و خضوع اور اللہ کے سامنے جھک جانے سے ہماری روح پاکی محسوس کرتی ہے جس کی وجہ سے تمام کدورتیں ختم ہوجاتی ہیں پریشانیاں مٹ جاتی ہیں اور گناہ جھڑ جاتے ہیں اور واقعی ہم اپنے آپ کو ایک نور کے ہالے میں ہلکا پھلکا اڑتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔
اور طبی اس طرح کہ روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے دوران خون کا دماغ پر زبردست اثر پڑتا ہے اور یوں اعصابی تناؤ اور بےکار الجھنوں سے مکمل طور پر نجات مل جاتی ہے اسی طرح بیشمار فوائد ہیں جو آئندہ بیان کئے جائیں گے یہاں پر ہم کچھ روزوں کے مسائل کی وضاحت کرتے ہیں۔
انسان کی سہولت اور آسانی کے لئے اللہ جل شانہ نے کچھ رعایت انسان کو دے رکھی ہے وہ یہ کہ اگر کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو روزہ قضاء کرسکتا ہے۔ یعنی پورے سال میں کسی بھی وقت چھوڑے ہوئے روزے رکھ سکتا ہے اور اگر کوئی اس قدر بیماریا لاغر ہو کہ شفا یابی کی امید نہیں رکھتا یا بہت بوڑھا ہو تو ایسے لوگوں کے لئے یہ رعایت دی گئی ہے کہ وہ ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلائیں اگر اس سے زیادہ دے سکیں تو اور بھی اچھا ہے، کیونکہ صدقہ و خیرات، حسن سلوک اور نیک برتاؤ تو ویسے ہی مسلمان کی نشانی ہے۔ رمضان میں تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ویسے بھی روزہ رکھنے سے اپنی خوشحالی کے لئے شکر اور غریب کی بدحالی کے لئے فکر کے جذبات پوری طرح ابھر آتے ہیں اور یوں انسان انسانیت کے قریب ہوجاتا ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمام رعایتیں ایک طرف اور روزے کی فضیلتیں ایک طرف اس لئے رمضان کے روزے اپنے اندر رحمتیں، برکتیں، فضیلتیں اور فائدے اس قدر زیادہ رکھتے ہیں کہ اگر تم جان جاؤ تو کبھی روزے قضاء نہ کرو۔ اس عبادت کو صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جانا چاہئے یہ تو ایک پنتھ دو کاج والی بات ہے کہ خود انسانی صحت کے لئے بھی ایسے ہی ہے جیسے کسی برتن کو خالی کرکے خوب اچھی طرح رگڑ کر صاف کردیا جائے۔ روزے مستقل رکھنے سے انسانی جسم کا ہر عضو اسی طرح صاف ستھرا اور مضبوط ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے کچھ یوں بیان کیا ہے جس کو میں اختصار سے لکھونگی۔ لکھتے ہیں۔ ” مہربان قاری ! آیئے اب دوبارہ آیت (184) کے آخری حصہ کو یاد کریں اور قرآن پاک کے معجزے کی مسرت سے لطف اندوز ہوں۔ ” اگر تم سمجھو “ یعنی اگر تم جسم کے حیاتیاتی علم کو سمجھو تو تمہارے حق میں یہ اچھا ہے کہ تم روزہ رکھو۔ “ (چاہے اس میں تمہیں مشکلات بھی نظر آئیں)
جسم کے حیاتیاتی علم کو انہوں نے کچھ یوں بیان کیا ہے۔ نظام ہضم بڑے اہم اعضاء پر مشتمل ہے۔ مثلاً منہ، جبڑے، لعابی غدود، زبان، گلا، مقوی نالی، معدہ، جگر، لبلبہ اور آنتوں کے مختلف حصے یہ سب اس نظام کا اہم حصہ ہیں۔ سب کو روزے کی وجہ سے آرام اور سکون مل جاتا ہے۔ جگر کو کھانا سٹور کرنے کے عمل میں سے رہائی مل جاتی ہے معدے کے پٹھے آرام کرتے ہیں، تزابیت میں رکاوٹ آجاتی ہے انتڑیوں کو آرام ملتا ہے۔
دوسرا فائدہ کہ : دوران خون پر اثرات روزے سے خون میں کمی آجاتی ہے۔ لہٰذا دل کو فائدہ مند آرام ملتا ہے، روزے ڈائسٹالک پریشر کو کم کرتے ہیں، خون کی شریانیں بالکل صاف ستھری ہوجاتی ہیں ان کا تنگ ہونا اور سکڑنا بند ہوجاتا ہے۔ ذرات اور چربی سب روزے کی وجہ سے دھل کر صاف ہوجاتے ہیں، گردوں کو بھی آرام اور صفائی کا موقعہ مل جاتا ہے۔
تیسرا خلیہ سیل : خلیوں کے عمل میں بڑی حد تک سکون پیدا ہوجاتا ہے، لعاب بنانے والے غدود، گردن کے غدود اور لبلبہ کے غدود سب کو آرام مل جاتا ہے۔
چوتھا اعصابی نظام پر اثر کہ : انسانی تحت الشعور جو رمضان میں عبادات کی مہربانیوں کی بدولت صاف شفاف اور تسکین پذیر ہوجاتا ہے اعصابی نظام سے ہر قسم کا تناؤ اور الجھن کو دور کرنے میں مد ددیتا ہے۔
پانچواں خون کی تشکیل اور روزے کی لطافتیں کہ : خون ہڈیوں کے گودے سے بنتا ہے جب روزے سے خون میں کمی آتی ہے تو گودے کی سست روی تیزی میں بدل جاتی ہے اور یوں ایک لاغر اور کمزور انسان اپنے اندر زیادہ خون پیدا کرسکتا ہے ظاہر ہے اس طرح روزے کی برکات سے ایک دبلا پتلا انسان موٹا ہوسکتا ہے جبکہ ایک موٹا انسان مناسب جسم والا بن سکتا ہے۔
یہ سب کچھ بتانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا دین اسلام ایک فطری دین ہے جس کے اعتقادات، اصول، قوانین اور ارکان بڑے آسان، فائدہ مند اور روح و جسم کو مضبوط بنانے والے ہیں۔ مگر عبادات کو صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی اور دین کی پابندی کے لئے ہی کیا جانا چاہئے۔ اگر ذرا سا بھی اس نکتہ سے ہٹ گئے تو وہ عبادت نہ رہے گی اور یوں عبادت کی تمام فضیلتوں، برکتوں، رحمتوں اور فضل و کرم سے محروم ہوجائیں گے۔ خلوص نیت اور اللہ کی طرف یکسوئی ہی ہمارے لیے سکون، ثواب، نجات، اور صحت و تندرستی کا باعث ہے۔
Ayah 2:185رمضان کی فضیلت، روزے کے مقاصد
تشریح : اس آیت میں سب سے پہلے رمضان کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور پچھلی آیت کا بیان بھی ہے۔ رمضان کی فضیلت یہ ہے کہ اللہ نے اس مہینہ کو آسمانی کتابوں کے نزول کے لئے منتخب کر رکھا ہے۔ قرآن بھی اسی ماہ میں نازل ہوا، مسند احمد میں حضرت واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے رمضان کی پہلی تاریخ میں نازل ہوئے تورات چھ رمضان میں انجیل تیرا رمضان میں اور قرآن پاک چوبیس رمضان میں نازل ہوا۔ قرآن مجید رمضان کی پہلی رات میں پورا لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کردیا گیا تھا مگر نبی کریم ﷺ پر اس کا نزول 23 سال میں رفتہ رفتہ ہوا، پورا قرآن لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر لیلۃ القدر کی رات میں اترا تھا اسی فضیلت کی یادگار قائم رکھنے کے لئے اس ماہ مبارک میں روزے فرض کئے گئے۔
رمضان اسلامی سال کے نویں مہینے کا نام ہے۔ اسلامی سال، شمسی نظام کی بجائے قمری نظام سے چلتا ہے اسی لئے رمضان بھی مختلف موسموں میں آتا ہے۔ قرآن پاک ہدایت نامہ ہے، جبکہ روزے زندگی کو پاکیزہ بنانے کا ذریعہ ہیں۔
قرآن مجید کی خصوصیات پہلے بھی بیان ہوچکی ہیں۔ کچھ وضاحت دوبارہ ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کی تین واضح خصوصیات بیان کی ہیں۔
ھُدًی لِّلنَّاسِ : لوگوں کے لئے ہدایت ہے کہ کیونکہ ٹھیک منزل کی راہنمائی قرآن پاک میں ہی موجود ہے۔
بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی : یعنی ہدایت کی روشن دلیلیں، قرآن پاک کے اصول اس قدر آسان، سادہ اور قابل عمل ہیں کہ کوئی بھی بات انسان کی فطرت کے خلاف نہیں ہے۔
اَلْفُرْقَانِ : یعنی حق کو باطل سے جدا کرنے والا۔ بڑے آسان طریقہ سے سچائی کو جھوٹ سے علیحدہ کردیا گیا ہے۔
آگے چل کر روزے کی فرضیت کا ذکر دوبارہ کیا گیا ہے۔ اس ذکر کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان پچھلی آیات میں کیا جا چکا ہے۔ مزید یہ ہے کہ جو بھی رمضان کے مہینہ کو پائے اسے چاہیئے روزے رکھے اور اپنی اخلاقی، جسمانی اور روحانی قوتوں سے رمضان و قرآن کی خوبیوں اور برکتوں کو اجاگر کرے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے لئے ہر طرح سے آسانیاں ہی آسانیاں چاہتا ہے اسی لئے رب العزت نے مریض اور مسافر کے لئے یہ سہولت دی ہے کہ وہ اگر رمضان میں مجبوری سے روزے نہ رکھ سکے تو مجبوری ختم ہونے پر سال میں کسی بھی وقت روزے رکھ کر تعداد پوری کرلے اور پھر ہدایت کی گئی کہ اللہ جل شانہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں برکتوں اور فضل و کرم اور ہدایتوں کا شکر ادا کرو جو کہ قرآن کی صورت میں تمہیں دی گئیں ہیں۔ تمام ہدایات پر عمل کرو دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرو اور ہر صورت رب العزت کا شکر ادا کرو۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
اللہ پسند کرتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے پر دیکھے۔ (ترمذی)
شکر ادا کرنے سے ایک تو نعمت میں اضافہ ہوتا ہے دوسرے انسان کو سکون اور خوشی ملتی ہے۔
سورة نحل کی آیت نمبر 53 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے “۔
روزے کی بیشمار فضیلتوں کے علاوہ صبر، شکر اور ہدایت بھی بہت بڑی نعمتیں ہیں جو انسانی زندگی کو چار چاند لگاتی ہیں۔
اگلی آیت میں دعا کا طریقہ دعا کی برکت اور فائدے بتائے گئے ہیں۔
Ayah 2:186دعا اور اس کی قبولیت کی شرائط
تشریح : پچھلی تین آیتوں میں روزہ کے بارے میں بتایا گیا ہے اور اس آیت میں دعا کی فضیلت کا بیان ہے۔ کچھ دعا کی قبولیت کے بھی اوقات ہیں جن میں افطار کا وقت بھی شامل ہے اور اس آیت کا شان نزول امام ابن کثیر (رح) نے یوں بیان کیا ہے کہ کسی گاؤں والوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ” ہمارا رب اگر ہم سے قریب ہے تو ہم دعا آہستہ آواز سے مانگا کریں اور دور ہو تو بلند آواز سے پکارا کریں “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اللہ جل شانہ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے بندوں کو بتا دو کہ میں زمان و مکان میں اپنی قدرت کاملہ کے ساتھ موجود ہوتا ہوں، کوئی دل میں بھی مجھے پکارے تو میں اس کو بھی سن لیتا ہوں۔ اور اللہ تو بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوتا ہے۔ البتہ دعا مانگنے کا طریقہ آنا چاہئے اور اس کی دو شرطیں ہیں۔ پہلی یہ کہ مانگنے والا میرا حکم ماننے والا ہو۔ دوسری یہ کہ وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا ہو۔ ویسے دعا مانگنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خلوص نیت، خشوع و خضوع اور پورے یقین و توجہ سے دعا مانگی جائے۔ ظاہر ہے کہ جب ہم کسی سے سوال کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر اس کی بڑائی، طاقت اور قدرت ضرور ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ سے دعا مانگتے ہوئے اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعا کو سن رہا ہے اور وہ اس کو قبول بھی ضرور کرے گا۔ ایک حدیث میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس درجہ باحیا اور کریم ہے کہ وہ کسی دعا کرنے والے کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرنا چاہتا۔ اس لئے یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ اگر دعا فوراً قبول نہیں ہوئی تو یقیناً اس میں انسان کی بہتری ہی ہوگی، کیونکہ انسان خود اپنی بھلائی کو جانچ نہیں سکتا اور دوسری بات یہ ہے کہ وہی دعا کسی اور شکل میں عطا ضرور ہوجاتی ہے۔ کیونکہ دعا کی قبولیت کی مختلف صورتیں ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔
1 طلب یا دعا کی گئی چیز کا فوراً مل جانا۔
2 طلب کی ہوئی چیز کچھ عرصہ بعد مل جانا۔
3 اس کے عوض کوئی اور چیز دے دینا۔
4 آنے والی مصیبت کو ٹال دینا۔
5 اس کی گئی دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ کردینا۔
اس لئے اللہ رب العزت سے ہر وقت مانگتے رہنا چاہیئے اور دعا نہ مانگنے والے سے رب ناراض ہوتا ہے اس کو پورے یقین اور ایمان کے ساتھ ہر وقت بلاتے رہنا چاہیئے یعنی اس کا ذکر اور دعا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اسی میں نجات ہے اور یہی سیدھی راہ ہے اور پھر جب انسان اپنی تمام مشکلات اور پریشانیوں کو اللہ کے سامنے بیان کرکے اس کا حل اس کے حوالے کردیتا ہے تو ذہنی طور پر بالکل آسودہ اور مطمئن ہوجاتا ہے اور یوں دو فائدے حاصل کرتا ہے ایک اللہ کی خوشنودی اور دوسرا اطمینان قلب اور حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
دعا عبادت کا مغز (روح) ہے “ ( ترمذی )
ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی شے دعا سے زیادہ بزرگی والی نہیں ہے “۔ (ترمذی)
اس لئے ذکرو شکر اور دعا سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔ اگلی آیت میں مزید روزے کے احکام وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں۔