2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمفہوم القرآن

Ayah 2:60

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا پتھر پر اپنا عصا مارو، چناچہ اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر قبیلہ نے جان لیا کہ کونسی جگہ اس کے پانی لینے کی ہے۔ (اس وقت یہ ہدایت کردی گئی تھی کہ) اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ پیؤ اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔

بارہ چشموں کا معجزہ تشریح : جزیرہ نمائے سینا میں بسیار تلاش کے بعد بھی جب بنی اسرائیل کو پانی نہ ملا، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بگڑنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک فضل اور کیا وہ اس طرح کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ فلاں پتھر پر اپنا عصا مارو جب انہوں نے عصا مارا تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ اس لئے کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے مصلحت یہ تھی کہ اپنا اپنا چشمہ سنبھال لیں اور دنگا فساد نہ کریں۔ اللہ نے فرمایا کہ میرا دیا ہوا رزق کھاؤ اور پانی پیو، سکون سے رہو اور فتنہ و فساد نہ پھیلاؤ۔ سبق اس سے یہی ملتا ہے کہ جب کوئی سہارا نہ ملے تو اللہ کو سچے دل سے پکارو وہی مسبب الاسباب ہے۔ اس کی رحمت سے ناامید ہونا گناہ ہے مگر اس کی رحمتوں، برکتوں اور عنایتوں کا شکر ادا نہ کرنا بڑا گناہ اور عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے برابر ہے اللہ کا پوری انسانیت کو یہی حکم ہے کہ اللہ کے فضل سے پوری طرح لطف اندوزی کرو مگر صبر، سکون نیکی، راست بازی، اللہ کی فرمانبرداری اور شکر کے ساتھ۔ یہ نہیں کہ فخر و غرور سے اکڑتے ہوئے دنگا فساد مچاؤ اور عذاب الٰہی کو دعوت دو ۔ تفہیم القرآن میں ہے کہ ” مذکورہ چٹان اب تک جزیرہ نمائے سینا میں موجود ہے اور اس میں بارہ چشموں کے شگاف بھی پائے جاتے ہیں یہ سب کچھ انسان کی تربیت کے لئے بیان کیا جارہا ہے کہ سبق حاصل کریں۔ اگلی آیت میں بنی اسرائیل کی بےصبری اور ناشکری کا بیان درج ہے۔
Ayah 2:61

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور جب تم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا ! کہ ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے۔ اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے لئے زمین کی پیداوار ساگ، ترکاری، کھیرا، ککڑی، گیہوں، لہسن، پیاز دال وغیرہ پیدا کرے۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ! کیا ایک بہتر چیز کے بجائے ادنیٰ درجہ کی چیزیں لینا چاہتے ہو ؟ اچھا کسی شہری آبادی میں جارہو جو کچھ تم مانگتے ہو وہاں مل جائے گا ( آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ) ذلت و خواری پستی و بدحالی ان پر مسلط ہوگئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھر گئے یہ نتیجہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے یہ نتیجہ تھا ان کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ وہ حدود شرع سے نکل جاتے تھے

بنی اسرائیل کی بےصبری تشریح : یہ آیت بنی اسرائیل کے ان اعمال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جو کچھ انہوں نے جزیرہ نمائے سینا میں کیا۔ من وسلویٰ ایک طویل مدت تک وہ لوگ مزے سے بغیر کسی تکلیف کے کھاتے رہے۔ آخر ان کی شرارت، ناشکری اور فساد کی عادت نے پھر سر اٹھایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہمیں کہیں دوسری جگہ لے کر چلیں جہاں پر ہر قسم کے شہری و دیہاتی کھانے مثلاً سبزیاں، ترکاریاں وغیرہ موجود ہوں۔ ہم یہ آسمانی خوراک کھاتے کھاتے اکتا گئے ہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ چیزیں ان چیزوں سے کئی گنا بہتر ہیں ان کے حصول کیلئے تمہیں محنت کرنا پڑے گی جبکہ یہ مفت میں مل رہی ہیں جب بنی اسرائیل کسی صورت ماننے کو تیار نہ ہوئے تو پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اچھا جاؤ کسی بہتر شہر میں جا بسو وہاں تمہیں پسند کے کھانے مل جائیں گے اس ناشکری پر اللہ تعالیٰ بہت ناراض ہوئے اور ان پر ذلت چسپاں کردی گئی۔ چناچہ یہ قوم ہمیشہ مسلمانوں اور نصاریٰ کے ماتحت رہی۔ مئی 1949 ء میں اسرائیلی ریاست قائم ہوئی مگر وہ بھی مغربی حکومتوں کے سہارے اور ان کی بقاء بھی انہیں کی وجہ سے ہے۔ ذلت کے علاوہ غربت اور محتاجی ان پر ڈال دی گئی، چند لوگ امیر ہیں مفلس اکثریت میں ہیں۔ یہ لوگ دولت کی ہوس اور طمع میں زندگی گزار رہے ہیں یہ سب کچھ ان کے ساتھ محض نافرمانی، حیل و حجت اور ناشکری کی وجہ سے ہوا۔ انسان کو اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے ہمیشہ ذکر و شکر کے ساتھ پاکیزہ زندگی گزارنی چاہیے ورنہ نعمت بھی چھن جاتی ہے اور عذاب الٰہی سے دو چار بھی ہونا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : بنی اسرائیل دو جرموں کے عادی ہوچکے تھے، ایک یہ کہ وہ حکم خداوندی پر عمل نہ کرتے تھے ہر بات میں ایک نافرمان بگڑے ہوئے بچے کی طرح خواہ مخواہ کی حجتیں نکالتے اور ہر بات پر اعتراضات کرتے۔ دوسرا بہت بڑا اور سنگین جرم انہوں نے یہ کیا کہ جتنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھیجے گئے وہ کسی کو خاطر میں نہ لاتے بلکہ ان کے ساتھ کھلی دشمنی کرتے ان پر الٹے سیدھے بہتان باندھتے اور بعض کو تو انہوں نے قتل تک کروا دیا۔ اس آیت میں کھول کر بیان کردیا گیا ہے کہ وہ نبی کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے اصول بڑی ڈھٹائی سے توڑتے ان تمام حدود کو پار کرنے کی کوشش میں رہتے جو کتاب و شریعت نے ان پر عائد کر رکھی تھیں۔ ظاہر ہے ایک ایسی نافرمان منہ زور اور منکر قوم کا نتیجہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ ان پر عذاب الٰہی نازل ہو سو ان پر ذلت مسلط کردی گئی اور غربت ان کے نصیب میں لکھ دی گئی ہمیں تمام مسلمانوں کو سبق سیکھنا چاہیے اور رشد و ہدایت کو اختیار کرکے نجات دارین حاصل کرنی چاہیے یہ سب کچھ تمام قوموں پر بھی لاگو ہے۔ اور انفرادی حیثیت سے بھی ہر انسان پر بھی لاگو ہے عیش پسندی سے بچنا چاہیے کیونکہ اللہ کے پسندیدہ بندے عیش پسند نہیں ہوتے ناشکری اللہ کے غضب کو دعوت دیتی ہے۔
Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی جو بھی ایمان لایا اللہ پر اور روز قیامت پر اور نیک کام کئے تو ان کے لئے انکے رب کے پاس بدلہ ہے۔ اور ان پر کچھ خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہونگے

ایمان اور عمل صالح کا اجر تشریح : اس آیت ِ مبارکہ میں بنی اسرائیل کی اس غلط فہمی کو دور کردیا گیا ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کی مقبول ترین قوم ہیں۔ ہمارے سوا تمام لوگ جہنم میں جائیں گے اور ہم تو بخشے ہوئے ہیں ہم تو اللہ کے بڑے قریبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اعلان کیا ہے کہ اس کے نزدیک نام، خاندان، لقب، نسل اور کسی خاص قوم کو کوئی خاص امتیاز حاصل نہیں ہے۔ صرف ان لوگوں کی نجات ہوگی جن میں دو چیزیں موجود ہوں۔ اول یہ کہ وہ اللہ اور آخرت کو دل سے مانیں دوسرے یہ کہ نیک کام کریں ایسے لوگ چاہے یہودی ہوں نصاریٰ یعنی مسیح کی امت سے ہوں یا صابی ہوں۔ صابی ایک فرقہ تھا جو فرشتوں کی پرستش کرتے زبور پڑھتے اور عبادت میں کعبہ کی طرف منہ کرتے عرب انہیں صابی (بےدین) کہتے تھے تو اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو اللہ کو مانیں اس کے احکام کو مانیں رسول ﷺ کو مانیں، آخرت کو مانیں اور جزاء و سزا کو مانیں یہ سب ضروری ہے نہ کہ حسب نسب کی رعایت دی جائے گی صرف اور صرف ایمان بالیقین اور عمل صالح کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں ملے گا۔ سورة الضحیٰ میں آتا ہے : ” اور بیشک آخرت کی زندگی بہتر ہے آپ کے لئے دنیا کی پہلی زندگی سے۔ “ ( آیت 4)
Ayahs 2:63–64

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے اقرارلیا اور تم پر کوہ طور بلند کیا کہ ہم نے جو کتاب تمہیں دی ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور اس میں جو کچھ ہے اسے یاد رکھو تاکہ متقی بن جاؤ

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر تم اس کے بعد پھرگئے سو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم ضرور تباہ ہوجاتے

قانون فطرت سے منہ موڑنے کی سزا تشریح : اس آیت میں بھی بنی اسرائیل کی ڈھٹائی کا ذکر اس انداز میں کیا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بار بار اصرار کیا کہ ہمیں مستند کتاب لاکر دیجئے، جس میں زندگی گزارنے کے بہترین احکامات درج ہوں۔ اللہ نے ان کو تورات عطا کی، مگر اس پر انہوں نے یہ اعتراض لگا دیا کہ یہ تو بہت مشکل ہے اس پر عمل کرنا ہمارے بس میں نہیں۔ اللہ نے ان کو سیدھا رکھنے کے لئے کوہ طور کو اس انداز سے ان کے اوپر کردیا کہ وہ خوف زدہ ہوگئے اور ڈر کے مارے تورات کے تمام احکامات کو ماننے لگے اور فرمانبردار بن گئے۔ بنی اسرائیل سے وعدہ لیا گیا کہ وہ تورات کے احکامات کو زندگی بسر کرنے کا قانون بنائیں گے اور پوری طرح اس پر عمل کریں گے تاکہ ان میں عذاب الٰہی اور عذاب آخرت کا ڈر پیدا ہو اور وہ لوگ تقویٰ کی زندگی بسر کریں گے۔ لیکن یہ لوگ پھر کتاب الٰہی سے منکر ہوگئے۔ اللہ نے ان کو پھر اپنے فضل سے معاف کردیا۔ اللہ نے تو ہمیشہ ہی ان پر فضل و کرم کیا، فرعون کی غلامی سے نجات دلائی، پھر جزیرہ نمائے سینا میں ٹھکانہ دیا، آسمانی رزق نازل کیا، دھوپ سے بچایا، پانی عطا کیا، تو رات عطا کی مگر وہ قوم تو شروع سے ہی ناشکری اور نافرمان تھی ہر بار اپنا عہد توڑ دیا اور نافرمان ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو سخت سزا دے کر تباہ و برباد کردیتا مگر اس نے مزید ان پر اپنا فضل کیا اور ہدایت کے لئے حضرت سموئل (علیہ السلام) ، حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور کئی دوسرے انبیاء بھیجے مگر وہ تو اپنی تباہی کا سامان تیار کر ہی چکے تھے انہوں نے نیکی کا راستہ اختیار نہ کیا یہ صرف اللہ کا فضل اور مہربانی تھی جو ان کو مہلت ملتی چلی گئی ورنہ وہ تو اپنی بربادی کا سامان مکمل کرچکے تھے۔ حدیث میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب (لوح محفوظ) میں یہ لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آئے گی اور یہ کتاب عرش پر اللہ کے پاس موجود ہے۔ (صحیح مسلم)
Ayahs 2:65–66

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کو خوب جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن میں زیادتی کی تھی تو ہم نے ان سے کہا ذلیل بندر ہوجاؤ۔

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

پھر ہم نے اس واقعہ کو ان لوگوں کے لئے عبرت بنایا جو وہاں تھے اور جو پیچھے آنے والے تھے اور ڈرنے والوں کے لئے نصیحت بنایا

صورتیں مسخ ہونا تشریح : اس آیت میں ہفتہ کے دن کی حرمت اور حدود سے نکل جانے کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے آپ کا زمانہ مطابق 973 سے 1013 قبل مسیح تک رہا اور ساحل سمندر پر ایلہ مقام ہے اور موجودہ جغرافیہ میں اس کا نام خلیج عقبہ کی مشہور بندرگاہ عقبہ ہے۔ یہودیوں کی بہت بڑی تعداد ایلہ میں مقیم تھی۔ یہودیوں کے لئے ہفتہ کا دن مقدس قرار دیا گیا اور اس دن پابندی یہ لگائی گئی کہ کوئی کاروبار حتیٰ کہ کھانا پکانا بھی منع کردیا گیا اور یہ دن صرف عبادت کے لئے مخصوص کردیا گیا۔ خاص طور سے ہفتہ کے روز مچھلیاں پکڑنا بالکل ممنوع کردیا گیا تھا۔ اصل میں قوم کی یہ آزمائش تھی، یہودیوں نے اللہ کے حکم کی ظاہری صورت برقرار رکھتے ہوئے حیلہ سازی سے ایک تدبیر نکالی وہ ہفتہ کے دن دریا کے قریب گڑھے کھو دلیتے ان گڑھوں میں بڑی مقدار میں مچھلیاں جمع ہوجاتیں اگلے دن دریا کا راستہ بند کرکے تمام مچھلیاں پکڑ لیتے۔ اس مسلسل نافرمانی پر اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ سزا دی کہ وہ انسان سے بندر بنا دیئے گئے اس واقعہ کو خود اس قوم کے لئے اور تمام انسانوں کیلئے عبرت کا نشان بنا دیا گیا ہے کہ سب لوگ اللہ کی نافرمانی کے انجام سے آگاہ ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ بڑی سخت ہے اس لئے ہر وقت اس کے غضب کو سامنے رکھتے ہوئے فرمانبرداری اور تقویٰ کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔ تقویٰ ہی تمام نیکیوں کی جڑ ہے، تقویٰ کی تعریف متعدد بار بیان کی جا چکی ہے۔ آخر میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی یقیناً بڑے عذاب کا سبب بنتی ہے انسان کا بندر بن جانا تاریخ کا یہ واقعہ عبرتناک ہے اللہ کے غصہ اور عذاب سے ڈرتے رہنا چاہئے۔
Ayahs 2:67–71

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا ! کہ بیشک اللہ تمہیں فرماتا ہے کہ گائے ذبح کرو، وہ کہنے لگے کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو ؟ وہ بولے اللہ کی پناہ کہ میں جاہلوں میں سے ہوں

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

وہ بولے کہ اچھا اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ! اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ گائے ایسی ہونی چاہیے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، بلکہ اوسط عمر کی ہو، لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

پھر کہنے لگے اپنے رب سے یہ بھی پوچھ دو کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ! وہ فرماتا ہے کہ زرد رنگ کی گائے ہونی چاہئے، جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا دل خوش ہوجائے۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

پھر بولے کہ اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ کہ کیسی گائے مطلوب ہے، ہمیں اس کی تعیین میں اشتباہ ہوگیا ہے اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالیں گے۔

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ فرماتا ہے ایسی گائے کہ جس سے خدمت نہ لی جاتی ہو، نہ زمین جوتتی ہو نہ پانی کھینچتی ہو صحیح سالم اور بےداغ ہو۔ اس پر وہ پکار اٹھے کہ ہاں اب تم نے ٹھیک کہا ہے ٹھیک پتہ بتایا ہے پھر انہوں نے اسے ذبح کیا، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے

گائے ذبح کرنے کا حکم تشریح : ان پانچ آیات میں بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان وہ بات چیت بیان کی گئی ہے۔ جس میں بنی اسرائیل کو اللہ نے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے اس معمولی حکم کو اپنی کٹ حجتی کی وجہ سے کافی مشکل بنا لیا ظاہر ہوا کہ اللہ کا حکم بلا چوں و چرا مان لینا انسان کا فرض ہے کیونکہ اللہ کے ہر حکم میں حکمت ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ انسان کی عقل میں آجائے بندے کی بندگی یہی ہے کہ اس کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور بخوشی اس کو مان لے۔ گزشتہ آیات میں واقعہ بیان کیا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم ملا مگر انہوں نے مسلسل کٹ جہتی سے اس مسئلہ کو مشکل ترین بنا دیا۔ بالآخر اللہ نے بتا دیا کہ وہ گائے نہ بہت بوڑھی ہو، نہ چھوٹی عمر کی ہو، اس کا رنگ زرد ہو۔ وہ دیکھنے والوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہو اس پر پھر انہوں نے حجت بازی کی تو انہیں بتایا گیا کہ وہ گائے کاشتکاری کے کام نہ آتی ہو اس پر کوئی داغ دھبہ نہ ہو تب وہ بولے کہ ہاں اب ہمیں سمجھ آگیا ہے۔ غرض بیشمار حجتوں کے بعد انہوں نے گائے ذبح کی۔ اللہ کی حکمتیں تو انسان کے ادراک سے باہر ہیں مگر یہاں یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ایک تو گائے کی حرمت بنی اسرائیل کے دلوں سے دور کرنا مقصود تھا، کیونکہ مصر کے ماحول سے ان میں بھی گائے پر ستی تقریباً جڑ پکڑ چکی تھی اور دوسرے مقتول کو زندہ کرکے قاتل کا نام و پتہ معلوم کرانا مقصود تھا قاتل و مقتول کا ذکر آئندہ آیت میں کیا جارہا ہے ملاحظہ ہو۔ مگر زیادہ سوال و جواب کرنے کی ممانعت ہے۔ سورة المائدہ کی آیت 101 میں اللہ نے فرمایا : ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں “۔ گائے ذبح کرنے میں زیادہ سوالوں کی وجہ سے گائے کا انتخاب مشکل مسئلہ ہوگیا۔
Ayahs 2:72–73

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی پھر اس کے بارے میں جھگڑنے لگے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھونپنے لگے تھے اور اللہ نے فیصلہ کردیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو میں اسے کھول کر رکھ دوں گا

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے کسی حصہ سے لگاؤ دیکھو اس طرح اللہ مردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

مردے کا زندہ ہونا تشریح : بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہوگیا تھا مگر اس کے قاتل کا سراغ ملنا مشکل ہوگیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اس کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر مارو چناچہ ایسا کرنے سے مقتول زندہ ہوگیا اس نے قاتل کا نام پتہ بتایا اور پھر مرگیا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت ظاہر ہوتی ہے کہ مردہ کو زندہ کرنا اس کے لئے آسان ہے اور پھر یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے حیات بعد الممات کی تصدیق ہوتی ہے ایک حکم سے کئی نکتے سامنے آگئے۔ ایک تو قاتل و مقتول کا مسئلہ حل ہوگیا، دوسرے گائے کی عظمت و تقدیس کو ختم کیا گیا، تیسرے حکم خداوندی میں کٹ حجتی کا انجام کہ معمولی حکم بنی اسرائیل کی حجت بازی سے کافی مشکل صورت اختیار کر گیا اور بالآخر اسی گائے کی نشاندہی کردی گئی جس کی وہ لوگ پرستش کرتے تھے۔ سبق یہ ملا کہ پچھلی قوموں کے حالات سے نصیحت حاصل کریں اللہ کے احکامات کی بلاحجت تعمیل کریں اللہ کی عظمت وکبریائی کو ہر وقت دل و دماغ میں پیوست رکھیں اس کے کسی حکم کو مذاق یا معمولی نہ سمجھیں جو سمجھ میں آئے ٹھیک جو سمجھ میں نہ آئے اس کو بلا چون و چران مان لیں، اللہ کی حکمتیں انسان کی عقل سے باہر ہیں۔ یہود انہی تمام صفات سے عاری تھے اسی لئے مقبول ترین قوم ہونے کے باوجود اللہ نے ان کو ذلت و خواری سے دو چار کیا۔ یہ واقعات اور نصیحتیں اللہ تعالیٰ اس لئے بیان فرماتا ہے کہ لوگ ان میں غور کریں اور اپنی زندگیوں کو سنوار لیں اور گزشتہ اقوام کے حالات سے سبق حاصل کریں۔ اگلی آیت میں یہود کی سنگدلی کا ذکر مثالوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر تمہارے دل سخت پتھرہو گئے، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھ گئے کیونکہ پتھروں میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے اور کوئی اللہ کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے اللہ تمہارے کرتوتوں سے بیخبر نہیں۔

یہود تشریح : اس آیت مبارکہ میں یہود کی ہٹ دھرمی، نااہلی اور ڈھٹائی کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان کو بار بار اللہ کی رحمت، برکت اور معافی کا سبق دیا گیا اور ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ نیکی کی راہ اختیار کریں۔ گمراہی اور شرک و کفر سے بچیں مگر وہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کی سختی کے لئے پتھروں کی مثال دی ہے کہ ان میں بھی اتنا شعور اور خوف اللہ موجود ہے کہ وہ اپنی انتہائی سختی کے باوجود کبھی پانی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ یعنی ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، کبھی پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی کا اخراج شروع ہوجاتا ہے اور یوں بہت سے لوگ اس پانی سے فیض یاب ہوتے رہتے ہیں اور بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی پتھر اللہ کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے۔ اللہ تنبیہہ کرتا ہے کہ تم کسی غلط فہمی میں مت رہنا اب بھی وقت ہے توبہ کرلو اور متقی بن جاؤ مگر اے بنی اسرائیل ! نہ تو تم نے انبیاء کی تعلیمات سے فائدہ اٹھایا نہ نیک بندوں کی بات سنی تو پھر اپنے انجام اور سزا کے لئے تیار رہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خبیر وعلیم ہے وہ ہر لمحہ ہر ذرے اور ہر نفس کی خبر رکھتا ہے۔ رحم بھی کرتا ہے تو حساب بھی ضرور لیتا ہے۔ اور سزا بھی ضرور دیتا ہے۔ اس آیت میں پتھروں کے ذکر سے اللہ تعالیٰ نے اپنی پہچان، اپنا خوف اور قانون قدرت کی پابندی کے حقائق کی طرف واضح اشارہ کیا ہے۔ جیسا کہ سلطان بشیر محمود نے اپنی کتاب ” قیامت اور حیات بعد الموت “ میں لکھا ہے : ” قرآن حکیم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز رضائے الٰہی کو سمجھتی ہے اور اس کے امر کی تابعدار ہے اگر رب کائنات کی مرضی کا شعور زندگی کی تعریف ہے تو پھر ہر چیز کسی نہ کسی سطح پر زندہ ہے اور یہ شعور ہی ان کی زندگی کی روح ہے۔ “ سورۃ سجدہ میں ارشاد ہے : ” اے انسان ! کیا نہیں دیکھا تم نے یہ کہ اللہ کو سجدہ کرتے ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں کے بیچ میں ہیں اور جو زمین کے بیچ ہیں “۔ واقعی ہر چیز اللہ کے بنائے ہوئے قوانین جنہیں ہم سائنسی قوانین کہتے ہیں، ان کو مانتی ہے اور ان کے مطابق عمل کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ساری سائنس کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ اللہ کے قوانین اٹل ہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ ان سے آگاہ ہے اور ان کی اتباع کرتا ہے اور یوں اپنے مالک حقیقی کا عبد ہے۔ قرآن پاک سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کائنات میں ہر چیز اللہ تعالیٰ کے لئے رطب اللسان ہونے کے علاوہ اس سے خوف بھی کھاتی ہے۔ حتیٰ کہ پتھر جنہیں ہم بےجان سمجھتے ہیں، وہ بھی اللہ سے لرزتے ہیں جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت 74 میں ذکر ہوچکا ہے مصنف موصوف نے بڑے خوبصورت انداز میں ان تمام حقائق پر روشنی ڈالی ہے کہ اصل میں کائنات میں کوئی چیز مردہ نہیں ہر چیز زندہ ہے شعور رکھتی ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے اس کی فرماں بردار ہے اور اللہ کا خوف رکھتی ہے، ہر ذرہ باشعور اور فعال ہے لیکن بنی اسرائیل اس سے بھی گئے گزرے ہیں۔ قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت اور جامعیت کے قربان جائیں کہ ذرا سی ایک آیت میں اتنے بڑے بڑے نکات بیان کردیئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری آئندہ نسلوں کو قرآن پڑھنے سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ ( آمین)
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

اب کیا تم توقع رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مانیں گے اور ان میں ایک گروہ اللہ کا کلام سنتا تھا پھر وہ جان بوجھ کر اسے بدل ڈالتے تھے حالانکہ وہ جانتے تھے

کلام اللہ میں تحریف تشریح : یہ خطاب مدینہ کے ان نو مسلموں سے ہے جو یہودیوں کے ہمسایہ میں رہتے تھے وہ یہودیوں سے نبوت، ملائکہ، آخرت، شریعت اور نبی ﷺ کی نبوت کے بارے میں سن چکے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ یہودیوں سے اسلام قبول کرنے کی توقع رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان نو مسلموں کو سمجھاتے ہیں کہ جس قدر ان کے بارے میں بتایا جا چکا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پتھر دل اور ہٹ دھرم نافرمان قوم ہے، یہ کبھی بھی راہ راست پر آنے والے نہیں بلکہ ان میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو بڑے علماء اور فقہاء ہیں ان کا کام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اور بعد میں بھی یہی تھا کہ وہ اللہ کا کلام سننے کے بعد حاملین شریعت ہونے کے باوجود حقائق کو چھپاتے اور احکامات یعنی کلام اللہ میں تحریف بھی کرتے تھے تحریف کا مطلب ہے کہ اصل کلام کے معنی و مفہوم کو بدل دینا یا الفاظ میں تغیر و تبدل کرنا یہ دونوں کام بنی اسرائیل نے خوب خوب کئے، پھر اخلاقی پستی بھی ان میں انتہاء کو پہنچ چکی تھی تو بھلا ایسے لوگوں سے یہ امید کیونکر ہوسکتی ہے کہ ایمان کی نعمت سے مستفید ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے نو مسلموں اور عام مسلمانوں کو تنبیہہ کی ہے کہ وہ یہودیوں کے قبول اسلام سے انکار کی وجہ سے نہ تو بددل ہوں اور نہ ہی پریشان ہوں کیونکہ یہ تو مدتوں کی بگڑی ہوئی قوم ہے سب کچھ جانتے ہیں مگر عمل کرنے کو تیار نہیں۔ مزید مسلمانوں کو خبردار بھی کیا گیا جس کا ذکر اگلی آیت میں کیا گیا ہے پچھلی آیات سے یہود کی ہٹ دھرمی کا ذکر ہی کیا جارہا ہے اور پھر یہ بھی بتایا گیا کہ ایک فریق ایسا بھی تھا جو کلام اللہ کو جاننے کے بعد اس میں تحریف کرتا تھا اور منافق بھی تھا۔
Ayahs 2:76–77

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب وہ ایمان لانے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب آپس میں ایک دوسرے سے تنہائی میں بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہوگئے ہو ؟ ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تم سے اس کے ذریعہ تمہارے رب کے آگے جھگڑا کریں کیا تم نہیں سمجھتے

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ (

یہود کی منافقت تشریح : یہاں سے ان یہودیوں کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ جو منافق تھے۔ یہ لوگ جب بھی مسلمانوں سے ملتے تو ان کو خوش کرنے کے لئے کہتے کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں اور وہ تمام نشانیاں بیان کرتے جو ان کی آسمانی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کے متعلق موجود تھیں، لیکن جب یہ لوگ آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو ملامت کرتے کہ تم کیوں ان کو وہ تمام دلائل بتا رہے ہو جو ہماری کتابوں میں محمد ﷺ کے بارے میں آچکے ہیں، کل کو جب ہم اللہ کے سامنے حاضر ہونگے تو یہ مسلمان ہمارے خلاف اللہ کو بتائیں گے کہ ہم سب کچھ جان کر بھی حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے اور ہم سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے دین اسلام کی طرف نہ گئے اللہ تعالیٰ ان کی اس خوش فہمی، بےعلمی اور حماقت پر فرماتا ہے کہ اللہ کا علیم وخبیر ہونا کیا اتنا ہی محدود ہے کہ جو انسان بتائیں گے وہی اس کو معلوم ہوگا اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کو کچھ معلوم نہیں۔ اللہ تعالیٰ تو ظاہر اور پوشیدہ کا تمام علم بخوبی رکھتا ہے اور جو کچھ وہ چاہے نبی ﷺ اور مسلمانوں کو اپنی قدرت کا ملہ کے ذریعہ بتا سکتا ہے۔ اس کے لئے یہ سب کچھ بالکل آسان ہے اس سے نہ تو کچھ چھپایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ظاہر کرنے کی ضرورت ہے وہ ظاہر و پوشیدہ سب جانتا ہے۔
Ayahs 2:78–80

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور ان میں بعض ان پڑھ ہیں کہ کتاب کی خبر نہیں رکھتے، جھوٹی آرزوؤں کے سوا اور وہ صرف جھوٹے خیال رکھنے والے ہیں

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

تو ان کے لیے خرابی ہے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس پر تھوڑی سی قیمت لے لیں سو خرابی ہے ان کے لئے اپنے ہاتھوں سے لکھے ہوئے کی اور خرابی ہے ان کے لئے اس بناء پر جو انہوں نے کیا

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ! ہم کو ہرگز آگ نہیں لگے گی مگر چند گنے چنے دن، کہہ دو ! کیا تم اللہ کے ہاں سے اقرار لے چکے ہو کہ اللہ اب اپنے اقرار کے خلاف ہرگز نہ کرے گا یا اللہ پر جھوٹ جوڑتے ہو جو تم نہیں جانتے

جھوٹی آرزوئیں تشریح : پچھلی آیات میں یہود کی منافقت کا ذکر ہوچکا ہے اور ان آیات میں یہودیوں کی جھوٹی آرزوؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہودیوں میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ان پڑھ ہیں، انہوں نے کتاب نہیں پڑھی بلکہ اپنے بزرگوں سے سنی سنائی باتوں پر یقین کرکے یہ آرزؤ کئے بیٹھے ہیں کہ ہم کو تو ہمارے بزرگ ضرور بخشوا لیں گے، نہ تو وہ کتاب کے قوانین سے واقف تھے اور نہ ہی فلاح و خسران کے بارے میں کوئی علم رکھتے تھے۔ بس اپنی خواہشات اور توقعات کے مطابق اپنی زندگیاں گزار رہے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہم تو بس بخشے بخشائے ہیں اگلی آیت میں یہودی علماء کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ ظلم کیا کہ تھوڑے سے فائدہ کے لئے اپنی کتاب کے اصول و ضوابط، فقہی قوانین اور فلسفہ زندگی کے اصول، غرض ہر مضمون کو اپنی مرضی کے مطابق بنا کر کتاب الٰہی میں خلط ملط کردیا اور یوں ان علماء و فقہاء نے پہلے خود کو دھوکہ دیا اور پھر اپنے عوام کو دھوکہ دیا اور یوں ایک خود ساختہ کتاب، کتاب الٰہی کی صورت اختیار کرگئی۔ یہ بڑی ہی سخت نادانی تھی جو انہوں نے کی۔ اس پر خوش فہمی کا یہ عالم تھا کہ وہ لوگ اپنے آپ کو اللہ کا انتہائی محبوب طبقہ سمجھتے تھے۔ جاہل و عالم سب کا یہ خیال تھا کہ ہم تو اللہ کے بڑے لاڈلے ہیں، ہم پر اللہ ہمیشہ بڑی مہربانیاں کرتا رہا، شروع سے ہی ہم اس کی مقبول ترین قوم ہیں اس لئے ہمیں تو جہنم کی سزا ہرگز نہ ملے گی اور اگر مل بھی گئی تو بس چند دنوں کے لئے سزا مل جائے گی اور پھر نجات ہوجائے گی اور جنت کی طرف بھیج دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ : ان سے پوچھو کیا انہوں نے اللہ سے کوئی معاہدہ کر رکھا ہے جو اللہ اس معاہدے کا پابند ہو کر ان کو سزا سے مبرا قرار دے دے گا ؟ ہرگز ایسی کوئی بات نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی مضمون ان کی کتاب مقدسہ میں لکھا گیا ہے۔ یہ سب ان کی من گھڑت باتیں ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں اور بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ یہ تو بس جنت کے ٹھیکیدار ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے، اس کی وضاحت اگلی آیات میں یوں کردی گئی ہے۔
Ayahs 2:81–82

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

کیوں نہیں جس نے گناہ کمایا اور اسے اس کے گناہ نے گھیر لیا سو وہی دوزخ کے رہنے والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے۔ وہی جنت کے رہنے والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

جنت اور دوزخ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ جنت اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے اور یہود کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے برملا اعلان کرتا ہے کہ یہاں بنی اسرائیل کی کوئی خاصیت نہیں، بلکہ ہر وہ شخص جو گناہ کرتا ہے۔ بنی پر ایمان نہیں لاتا اعمال بد میں گھر چکا ہے۔ اس کو جہنم میں ضرور ڈالا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور نجات صرف ان لوگوں کی ہوگی جو اللہ پر ایمان لائیں گے، صدق دل سے اس کے احکام کو مانیں گے اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلیں گے نیک عمل کریں گے اور شیطان کی راہوں پر نہ چلیں گے تو ایسے نیک اور صالح لوگوں کے لئے جنت کا داخلہ یقینی ہوگا۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں رہیں گے نہ کہ صرف یہودی ہونے کی بنا پر ان کو جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ بد کو برا ٹھکانہ ملے گا اور نیک کو اچھا ٹھکانہ ملے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ اس وعدے کا ذکر فرماتا ہے جو بنی اسرائیل سے کیا گیا۔
Ayah 2:83

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔ ماں باپ سے نیک سلوک کرنا، کنبہ والوں سے اور یتیموں اور محتاجوں سے اور سب لوگوں سے نیک بات کہنا اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا پھر چند کے سوا تم سب پھرگئے اور تم ہی (حق سے) پھرجانے والے ہو

میثاق بنی اسرائیل ـتشریح : یہ عہد بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا۔ اس عہد کا ذکر قرآن مجید میں کئی بار آیا ہے۔ اس عہد کا ذکر تورات اور انجیل میں بھی کیا گیا ہے۔ وہ عہد کیا تھا جو اللہ نے بنی اسرائیل سے لیا تھا، عہد یہ تھا کہ بنی اسرائیل اللہ کے سوا کسی اور چیز کی پرستش نہ کریں گے یعنی توحید پر قائم رہیں گے اور پھر حقوق العباد کا ذکر فرمایا کہ والدین، عزیز و اقارب، یتیموں، بےکسوں، محتاجوں اور لاوارثوں کے ساتھ نیک سلوک کریں گے۔ ہر ایک کے ساتھ خوش خلقی، نیکی، خلوص اور محبت سے پیش آئیں گے۔ علاوہ ازیں نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیتے رہیں گے، یہ لوگ اس عہد کو بھلا بیٹھے سوائے چند لوگوں کے سب لوگ اللہ سے کئے گئے اس عہد سے پھرگئے مزید وضاحت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم لوگ ہو ہی اس ذہنیت کے کہ تم کبھی بھی عہد و پیماں پر قائم نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ ان کی تمام زندگی اسی الٹ پھیر میں گزر چکی تھی کہ وہ نیکی کی راہوں پر چلنا ہی نہ چاہتے تھے۔ گناہ و نافرمانی ان کی گھٹی میں پڑچکی تھی مزید نافرمانی کا ذکر اگلی آیات میں کیا جاتا ہے۔
Ayahs 2:84–86

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا کہ آپس میں خون نہ بہاؤ گے اور اپنوں کو اپنے وطن سے نہ نکالو گے پھر تم نے اقرار کرلیا اور تم اس پر گواہ بھی ہو

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم وہ لوگ ہو کہ آپس میں خونریزی کرتے ہو۔ اور اپنے ایک فرقہ کو ان کے وطن سے نکال دیتے ہو۔ ان پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرتے ہو اور جب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں تو ان کی رہائی کے لئے فدیہ کالین دین کرتے ہو۔ حالانکہ ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا تو کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصہ کے ساتھ کفر کرتے ہو، پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیئے جائیں۔ اللہ تعالیٰ ان حرکات سے بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ لہٰذا ان کی سزاء میں نہ کوئی تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچ سکے گی

بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور نافرمانی تشریح : اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے دو اور باتوں کا وعدہ بھی لیا تھا۔ ایک یہ کہ وہ آپس میں خونریزی نہ کریں گے جو انہوں نے کی۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنی قوم کو ناحق جلا وطن نہ کریں گے۔ اس طرح قوم کا اتحاد ختم ہوجائے گا اور ان کی طاقت نہ رہے گی جس کی وجہ سے مخالفین موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر فتح حاصل کرکے ان کو محکوم بنا لیں گے۔ ہوا یہ کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بنی اسرائیل کے جو دو قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ اور اس کے آس پاس آباد تھے۔ وہ ہمیشہ خانہ جنگی میں مصروف رہتے۔ مشرکین مدینہ کے بھی دو قبیلے، اوس اور خزرج وہاں آباد تھے، یہودیوں کا ایک قبیلہ مشرکوں کے ایک جتھے کے ساتھ ہوجاتا اور دوسرا مشرکوں کے دوسرے جتھے کے ساتھ اور جب جنگ شروع ہوتی تو قتل و غارت گری بھی ہوتی اور جلا وطنی کا عمل بھی ہوتا اور یہ فعل صاف طور پر کتاب اللہ کے خلاف تھا جو وہ عہد شکنی کرتے ہوئے کر رہے تھے۔ پھر جب ایک یہودی قبیلہ کے اسیران جنگ، دوسرے یہودی قبیلہ کے ہاتھ آتے تھے تو غالب قبیلہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑتا اور مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر انہیں چھڑاتا تھا۔ یہ لین دین کرتے ہوئے وہ کتاب اللہ کا حوالہ دیتے تھے گویا کتاب کے اس حکم کو تو مانتے تھے مگر اس حکم کی پرواہ نہ کرتے تھے جو اللہ نے دیا تھا کہ آپس میں خونریزی مت کرو، کس قدر نااہلی اور بدنصیبی ہے کسی قوم کی کہ جس کی ہدایت و راہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل فرمائی مگر قوم نے کچھ قوانین پر عمل کیا اور کچھ کو مسترد کردیا۔ یہود کی اسی نااہلی اور نافرمانی کا ذکر اللہ اس آیت میں کرتا ہے اور پھر دہراتا ہے کہ یہود کسی خوش فہمی میں نہ رہیں کہ وہ مقبول اللہ ہونے کی وجہ سے عذاب سے بچ جائیں گے، بلکہ جو لوگ کتاب کے کچھ حصہ کو مانتے ہیں اور کچھ کو نہیں مانتے ان کو سخت عذاب دیا جائے گا آخرت میں اور دنیا میں ان کی رسوائی یقینی طور پر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے۔ وہ تمہارے تمام اعمال کو خوب جانتا ہے، کبھی مت سوچو کہ وہ تمہارے اعمال سے بیخبر ہے۔ آخر میں آیت نمبر 86 میں پچھلی آیات کا خلاصہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی۔ اللہ سے عہد کرنے کے بعد اس سے پھرگئے۔ دین کو دنیا کے فائدوں پر ترجیح دی۔ آخرت کے ہمیشہ کے آرام و آسائش، لطف و کرم اور نعمتوں کے بدلہ میں دنیا کی عارضی نعمتوں کو ترجیح دی یعنی جنہوں نے آخرت کے بدلہ میں دنیا خرید لی تو انہوں نے گویا عذاب آخرت اپنے لئے چن لیا تو ایسے لوگوں کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ آخرت کا عذاب بڑا سخت اور اٹل ہے نہ تو اس میں کمی کی جائے گی نہ کسی کی سفارش کام آئے گی اور نہ کسی کی مدد اور نہ ہی مال و دولت ہی عذاب آخرت میں کمی کرسکے گا۔ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ آخرت میں یعنی مرنے کے بعد صرف اور صرف نیک اعمال ہی انسان کے کام آئیں گے اور نجات کا ذریعہ بنیں گے۔ بنی اسرائیل کا قصہ جو اس قدر تفصیل سے بیان کیا گیا ہے تو اس کا مقصد عبرت دلانا ہے۔ اس لئے اللہ پر ایمان پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ لانا چاہیے اس کے بتائے ہوئے تمام احکامات پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ حقیقت میں اللہ اور آخرت پر ایمان ہی انسان کو بےراہ روی، سرکشی اور گناہ سے بچا سکتا ہے۔ جزا و سزا کا خیال ہر وقت مدنظر رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک راہوں پر چلائے اور یہود کی اختیار کردہ راہوں سے بچائے۔ ( آمین ثم آمین)
Ayah 2:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے آخرکار عیسیٰ ابن مریم کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور روح پاک سے اس کی مدد کی پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا تو تم نے اس کے مقابلہ میں سر کشی ہی کی، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا

حضرت عیسیٰ کی آمد تشریح : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تمام نافرمانیوں، سر کشیوں اور بداعمالیوں کا ذکر کیا ہے۔ اب اس آیت میں ان کی ایمان و یقین کی کمزوریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بنی اسرائیل کتاب اللہ کو بدلنے لگے اور احکامات الٰہی کی نافرمانی کرنے لگے تو پھر ہم نے حضرت موسیٰ کے بعد اور بھی بہت سے نبی بھیجے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انبیاء کا سلسلہ جاری رہا۔ جن میں بعض مشہور نبی یہ ہیں۔ حضرت یوشع (علیہ السلام) ، داؤد (علیہ السلام) ، زکریا (علیہ السلام) ، یحییٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے آخری نبی ہیں، بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوا اور آنحضرت ﷺ کے بعد دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نبوت، بنو اسماعیل کی طرف چلی گئی۔ یہود کی ناراضگی اور دشمنی کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے پیغمبر ہیں عیسیٰ ابن مریم اس لئے کہا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت سے آپ (علیہ السلام) بن باپ پیدا ہوئے تھے اس لئے نسبت ماں سے دی گئی۔ آپ (علیہ السلام) کو متعدد معجزات عطا کئے گئے مثلاً اندھوں کو بینا، کوڑھیوں کو ٹھیک اور بیماروں کو صحت مند کرنے کی طاقت دی گئی۔ اس کے علاوہ آپ (علیہ السلام) کو جھولے میں بات کرنے کی طاقت عطا کی گئی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل دی گئی۔ بنی اسرائیل کی سر کشی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ انہوں نے تمام نبیوں کی نافرمانی کی اور بعض کو تو قتل ہی کردیا۔ حضرت عیسیٰ ان کے آخری نبی تھے، ان کی مدد کے لئے حضرت جبرائیل (روح القدس) کو مقرر کیا لیکن یہودی اپنی بدفطرت سے باز نہ آئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے پر تل گئے۔ اب اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے : ” کہ تمہاری بھی عجیب حالت ہے، جب کبھی کوئی رسول ایسے احکام لایا جو تمہاری نفسانی خواہشوں اور ذاتی غرضوں کے مطابق نہ تھے تو تم نے ان کو مسترد کردیا، چھوڑ دیا اور کچھ خود بنائے ہوئے اصول، کتاب اللہ میں شامل کردیئے، کچھ احکام مانے اور کچھ نہ مانے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تمام معجزات دیکھ کر بھی ان پر ایمان نہ لائے اور مسلسل ان کی مخالفت کرتے رہے اور ایذا رسانی کرتے رہے اور اپنے لئے مشکلات اور عذاب کا سامان کرتے رہے۔
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف ہے، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب لعنت کی ہے چناچہ وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں

بنی اسرائیل کا تعصب تشریح : جب اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو واضح طور پر غلط ثابت کردیا اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا، ناراضگی کا حکم صادر کردیا، تو یہود نے یہ عذر پیش کرنا شروع کردیا کہ ہمارے دل تو غلاف میں محفوظ ہوچکے ہیں اور سوائے اپنے دین کے کوئی چیز ہمارے دل پر اثر نہیں کرسکتی، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے صاف اعلان کردیا کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔ غلاف کی کوئی بات نہیں، بلکہ ان کے مسلسل کفر و نافرمانی کے باعث اللہ نے ان پر لعنت بھیج دی ہے، اپنی رحمت سے اللہ نے ان کو محروم کردیا ہے، اسی لئے یہ نہ سچے دین کو مان سکتے ہیں اور نہ ہی آخری نبی ﷺ پر ایمان لاسکتے ہیں۔ ہاں البتہ کچھ تھوڑے سے لوگ ایسے ہیں جن پر اللہ کی رحمت ہے اور وہ نبی ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔ اللہ ہمیں سب کو ان لوگوں میں شامل کرے جن پر اس کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ ان لوگوں میں شامل نہ کرے جن سے وہ ناراض ہو اور ان پر لعنت کردے۔
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کتاب پہنچی جو اس کتاب کو سچا بتاتی ہے جو ان کے پاس ہے اور پہلے وہ کافروں پر فتح مانگتے تھے پھر جب انہیں پہنچا جسے پہچان لیا تھا تو اس کے منکر ہوگئے تو منکروں پر اللہ کی لعنت ہے

جان بوجھ کر کفر اختیار کرنا تشریح : اس آیت میں یہود کے تعصب، ہٹ دھرمی اور جان بوجھ کر کفر پر قائم رہنے کے بارے میں بیان کیا جارہا ہے جب ان کے پاس قرآن مجید آیا جو کہ حضرت موسیٰ کی شریعت کی تصدیق کرتا تھا۔ قرآن مجید بار بار اعلان کرتا ہے کہ قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے اور دوسری سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس بات کی وضاحت قرآن میں ملتی ہے کہ ان تمام پچھلی کتابوں میں سب سے زیادہ مشہور تورات ہے جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی تھی۔ آخری نبی ﷺ کے آنے سے پہلے یہودی آپ ﷺ کی آمد کا بڑی بےچینی سے انتظار کرتے تھے اور جب اہل مدینہ سے شکست کھاتے تو کہتے کہ آخری نبی ﷺ ان کے لئے نجات دہندہ بن کر آئیں گے ان کو مان کر وہ غلامی سے نجات حاصل کرلیں گے۔ اتنا کچھ جاننے کے باوجود جب نبی آخر الزماں ﷺ تشریف لائے تو یہودی صاف انکار کرنے لگے۔ مدینہ کے لوگ جو آپ ﷺ پر فوراً ایمان لانے لگے تو اس کی وجہ یہ یہودی علماء ہی تھے، کیونکہ اکثر و بیشتر یہ محمد ﷺ کی آمد اور ان کی نشانیوں کے بارے میں ذکر کرتے رہتے تھے۔ اہل مدینہ کافی کچھ نبی ﷺ کے بارے میں جان چکے تھے۔ مگر افسوس کہ یہودی جانتے بوجھتے ہوئے کفر کا شکار ہوئے اور آپ ﷺ پر ایمان نہ لائے اور اس طرح اپنے کفر کی وجہ سے مغضوب الٰہی ہوئے ان پر اللہ کی لعنت ہوئی اور وہ اللہ کے غضب کا شکار ہوئے۔ یعنی یہود کے حسد اور تعصب و نافرمانی کی وجہ سے اللہ کی رحمت ان سے دور کردی گئی۔ دن میں کئی مرتبہ مسلمان سورة الفاتحہ پڑھتے ہیں جس میں اللہ سے یہی دعا کی جاتی ہے کہ ہمیں ان لوگوں کی راہ پر چلانا جن پر تو نے اپنی رحمتیں نازل فرمائیں نہ کہ ان لوگوں کی راہ پر کہ جو تیرے غضب اور غصہ کا شکار ہوئے اللہ ہماری دعا کو قبول کرے اور ہمیں اپنی رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال کر دے دنیا و آخرت میں کامیاب کرے آمین ثم آمین یہود کے تعصب، ضد اور نفس پر ستی کے بارے میں اللہ تعالیٰ مزید وضاحت فرماتا ہے۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

بری چیز ہے جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچا کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بناء پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل سے اپنے جس بندے کو خود چاہا نواز دیا۔ لہٰذا اب یہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں اور ایسے کافروں کے لئے سخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے

ضد اور تعصب کا نتیجہ تشریح : اس آیت میں یہودیوں کے تعصب، ضد، نفس پرستی اور حسد کا ذکر کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ وہ اللہ کے احکام کو بھی تجارتی نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمیشہ سے ان کا یہ کام رہا ہے کہ وہ احکام الٰہی کی پیروی میں ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے تھے اگر ان کو ذاتی اغراض پوری ہوتی دکھائی نہ دیں تو وہ احکام الٰہی کو یا تو بدل دیتے ہیں یا ان سے بغاوت اختیار کرتے ہیں۔ یہاں بھی یہی کہا گیا ہے کہ ذاتی منفعت اور حسد کی خاطر انہوں نے اپنی جانوں کو یعنی اپنے آپ کو بیچ ڈالا یعنی اپنی فلاح اور نجات کو اپنے غلط رویہ پر قربان کردیا۔ ہوا یہ کہ جب آنے والا بنی ان کے علاوہ دوسری قوم میں پیدا ہوا تو وہ اس کو ماننے سے انکار کرنے لگے ان کا مطلب یہ تھا، اللہ ان سے پوچھ کر انہی میں سے نبی بھیجتا۔ اللہ نے اپنے فضل سے جس کو چاہا نواز دیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نبوت بنو اسماعیل کی طرف چلی گئی۔ کیونکہ اس خاندان میں محمد ﷺ پیدا ہوئے۔ اس بات سے حسد کی آگ یہودیوں میں بھڑک اٹھی کہ نبوت بنی اسرائیل سے نکل کر بنی اسماعیل میں کیوں چلی گئی۔ ضد میں آکر یہودیوں نے آپ ﷺ کو ماننے سے انکار کردیا۔ کیونکہ یہود ضدی اور حاسد ہیں اس لئے دنیا میں اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور قیامت میں بھی ان پر ذلت و رسوائی والا عذاب ہوگا۔
Ayahs 2:91–92

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے بھیجا ہے اسے مانو تو کہتے ہیں جو ہم پر اترا ہے ہم اسے مانتے ہیں اور اسے نہیں مانتے جو اس کے علاوہ ہے۔ حالانکہ وہ حق ہے اس کی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہے۔ کہہ دو ! پھر اللہ کے پیغمبروں کو پہلے کیوں قتل کرتے رہے ہو اگر تم ایمان رکھتے ہو

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

تمہارے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کیسی روشن نشانیاں لے کر آئے پھر بھی تم ایسے ظالم تھے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے۔

یہود کا انکار تشریح : جب آنحضرت ﷺ نے یہودیوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے یہ کہہ کر دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا کہ ہمارے پاس تو پہلے سے آسمانی کتاب تورات موجود ہے۔ ہمیں مزید کسی کتاب اللہ کی ہرگز ضرورت نہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ دعویٰ ان کا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ انہوں نے تو اپنی کتاب پر بھی عمل نہیں کیا یہ تو صرف دعوت ایمان سے انکار کا ایک بہانہ ہے۔ کیونکہ یہ نہ تو احکام الٰہی کی پیروی کرتے ہیں اور نہ ہی راہ راست اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا، بلکہ بعض کو تو قتل بھی کردیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو تنبیہ کرتا ہے کہ تم راہ راست سے بھٹک چکے ہو۔ اپنی بہتری اور نجات کے لئے دین اسلام کو قبول کرلو، قرآن مجید آخری کتاب ہے اور تمہاری کتاب کی تصدیق بھی کرتی ہے اور تمہاری کتاب کی اصلاح شدہ شکل پیش کرتی ہے۔ اگر تم قرآن کو آخری کتاب نہیں مانتے تو تمہارا یہ دعویٰ کیسے ٹھیک ہے کہ تم اپنی کتاب پر ایمان رکھتے ہو، کیونکہ تمہاری کتابوں میں قرآن آخری کتاب ہے اور محمد ﷺ کا آخری نبی ہونا مذکور ہے۔ اگر تم تورات کو ماننے والے ہوتے تو پھر تم قرآن کو ضرور مان لیتے اور پھر تم ہمیشہ پیغمبروں کی نافرمانی کرتے رہے، بلکہ بعض کو تو قتل بھی کرتے رہے ہو۔ تمہارا دعویٰ غلط ہے اور دعوت ایمان سے انکار تمہاری ہٹ دھرمی اور نافرمانی کی دلیل ہے۔ اگلی آیات میں یہودیوں کی گزشتہ نافرمانیوں اور خاص طور سے گو سالہ پرستی (گائے کی پرستش) کا ذکر دہرایا گیا ہے۔
Ayah 2:93

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

پھر ذرا اس میثاق کو یاد کرو، جو طور کو تمہارے اوپر اٹھا کر ہم نے تم سے لیا تھا ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو۔ تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا، مگر مانیں گے نہیں۔ اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا۔ کہ دیجئے ! اگر تم مومن ہو تو یہ عجیب ایمان ہے جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے

یہود کی گوسالہ پرستی تشریح : بینات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئے مثلاً عصاء، یدبیضا دریا کا پھٹنا ان کا ذکر تفصیل سے گزشتہ آیات میں ہوچکا ہے۔ یہاں ذکر اس لئے کیا گیا یہ بھی تمہارے کفر کی دلیل ہیں۔ گائے کی پرستش کا واقعہ اگرچہ ان یہودیوں کے ساتھ پیش نہیں آیا تھا جو حضور ﷺ کے زمانے میں نزول قرآن کے وقت موجود تھے۔ مگر چونکہ یہ اپنے آباؤو اجداد کے حامی و طرف دار تھے اس لئے اس کو دہرایا گیا ہے اور اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جن کے اسلاف نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے کفر کیا وہ اگر محمد ﷺ پر ایمان نہ لائیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں، کیونکہ اس وقت کے یہودی ہر بات میں اپنے اسلاف کا ہی حوالہ دیتے ہیں جو ان کے کفر کی دلیل ہے۔ ان تمام حالات کے باوجود یہودی جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا تھے کہ جنت کے وارث تو یہی ہونگے اگلی آیات اسی موضوع پر بحث کرتی ہیں۔
Ayahs 2:94–96

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

ان سے کہو ! اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے لئے ہی مخصوص ہے تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

یقین جانو کہ یہ کبھی اس کی تمنا نہ کریں گے اس لئے کہ جو کچھ اپنے ہاتھوں کما کر انہوں نے آگے بھیجا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ وہاں جانے کی تمنا نہ کریں، اللہ ان ظالموں کے حال سے خوب واقف ہے

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤ گے حتیٰ کہ یہ اس معاملہ میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں، ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیئے، حالانکہ لمبی عمر اسے عذاب سے تو دور نہیں کرسکتی جو کچھ یہ اعمال کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ تو انہیں خوب دیکھ ہی رہا ہے

لمبی عمر کی حرص تشریح : ان آیات میں یہودیوں کی جھوٹی آرزوؤں کی تردید کی گئی ہے۔ جس کا ذکر گزشتہ چند آیات میں ہوچکا ہے، یہاں ان کے سامنے دلیل پیش کی جاتی ہے کہ اگر تمہیں پورا یقین ہے کہ جنت تو صرف تمہارے لئے ہی بنائی گئی ہے تو پھر اپنے اس دعویٰ کو سچ ثابت کرنے کے لئے فوراً موت کی تمنا کرو، تاکہ جنت کی تمام نعمتوں کو تم جلد از جلد حاصل کرسکو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے، کیونکہ اول تو ان کو اپنے دعویٰ کے سچ ہونے کا یقین نہیں اور دوسرے وہ اپنی بداعمالیوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ برے اعمال کی سزا آخرت میں بھی ضرور ملے گی، جو بڑی سخت سزا ہوگی۔ اس لئے وہ موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ ہزاروں سال عمر چاہتے ہیں تاکہ دنیا کی عارضی مگر بظاہر خوش کن لذتوں سے زیادہ سے زیادہ لطف اٹھاتے رہیں، اور یوں آخرت کے عذاب سے بچتے رہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ انہیں خبردار کرتا ہے کہ ان کی عمر چاہے کتنی ہی لمبی ہوجائے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔ کیونکہ وہ ان کے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔
Ayahs 2:97–98

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجئے ! جو کوئی جبرائیل کا دشمن ہو، اس نے تو یہ کلام تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے اور یہ کلام تصدیق کرنے والا ہے اس کلام کی جو اس سے پہلے آچکا اور ہدایت و خوش خبری ہے ایمان والوں کے لئے

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں کا دشمن ہو اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرائیل کا اور میکائیل کا تو اللہ ان کافروں کا دشمن ہے

حضرت جبرائیل سے دشمنی تشریح : ان آیات مبارکہ میں یہودیوں کی ایک اور دشمنی کا ذکر کیا گیا ہے، جو وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اور بڑے بڑے فرشتوں کے ساتھ رکھتے تھے۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ جبرائیل ہمارا قومی دشمن ہے بقول ان کے جس قدر عذاب یہود کے آباؤ اجداد پر آچکے تھے ان کی خبر جبرائیل ہی لایا کرتے تھے۔ حالانکہ جبرائیل امین تو مقرب ترین فرشتوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی (پیغام) اس کے پیغمبروں تک پہنچائیں۔ یہودیوں کا کہنا تھا کہ جبرائیل ہمارے بھید کی باتیں، سازشیں اور تدبیریں نبی ﷺ کو بتا دیتے تھے۔ لہٰذا جبرائیل اور تمام فرشتے ہمارے دشمن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا جواب اس آیت میں دیا ہے کہ جبرائیل کی حیثیت تو محض پیغام پہنچانے والے فرشتہ کی ہے تو اللہ نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں کو کہہ دو کہ جبرائیل نے تو اس کا کلام تیرے دل پر اتارا ہے۔ ایسا کلام جو ان کی کتاب کی تصدیق کرتا ہے اور ایمان والوں کیلئے اس میں ہدایت ہے اور جنت کی خوشخبری ہے تو جو کوئی بھی اللہ کا دشمن ہو اس کے فرشتوں کا دشمن ہو پیغمبروں کا دشمن ہو جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایسے تمام لوگوں کا اللہ خود دشمن ہے اور اللہ کی دشمنی بڑی مہنگی پڑے گی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی تین صفات بھی بیان کی ہیں۔ 1 قرآن پہلی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ 2 یہ سیدھی راہ دکھانے والی کتاب ہے۔ 3 ایمان لانے والے لوگوں کو آخرت میں بڑے اچھے اجر اور دنیا میں کامیابی کی خوشخبری سنانے والی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔ ( آمین)