2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمفہوم القرآن

Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

تمہارے لئے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے مگر اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لطف اللہ نے تمہارے لئے جائز کردیا ہے اسے حاصل کرو نیز راتوں کو کھاؤ پیؤ یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدہ صبح کی دھاری نمایاں نظر آجائے تب یہ سب کام چھوڑ کر رات تک اپنا روزہ پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو، تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں (لہٰذاتم) ان کے قریب نہ پھٹکنا اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لئے صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے توقع ہے کہ ( وہ غلط رویہ سے) بچیں گے

میاں بیوی کا تعلق اور اللہ کی حدود تشریح : اس آیت مبارکہ میں بعض ان پابندیوں اور آسانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو روزوں میں میاں بیوی کے آپس میں تعلقات پر شک کا باعث تھیں۔ مثلاً یہ واضح کردیا گیا ہے کہ میاں بیوی روزے کے دوران آپس میں بےتکلفی سے نہ ملیں البتہ روزہ افطار کرنے کے بعد مل سکتے ہیں کیونکہ میاں بیوی کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ مطلب یہ کہ میاں بیوی لباس کی طرح ایک دوسرے کے راز دان ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی پردہ پوشی بھی کرتے ہیں اچھے میاں بیوی ہمیشہ ایک دوسرے کے لئے سکون، راحت اور آرام کا موجب ہوتے ہیں، مگر روزے کے دوران جس طرح کھانے پینے، بےحیائی کی باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے اسی طرح رمضان کے مہینہ میں صرف دن کے وقت روزے کے دوران بےتکلفی سے منع کیا گیا ہے جو اس کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کی سزا تب معاف ہوگی جب وہ غلام آزاد کرے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو لگاتار ساٹھ روزے رکھے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ورنہ سزا اور گناہ کا موجب ہوگا۔ میاں بیوی کو واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ اپنے تعلقات سے اولاد حاصل کریں جو کہ تمہاری زندگیوں کا پھل ہے۔ سحر و افطار کا وقت دوبارہ واضح کیا جارہا ہے، کیونکہ اس کے بارے میں بھی لوگوں کو شک و شبہ تھا۔ لہٰذا بتایا کہ صبح صادق تک سحری کا وقت ہوتا ہے۔ یعنی آسمان پر مشرق کی طرف رات کی سیاہ دھاری صبح کی سفید دھاری سے جدا ہوجائے اور افطار کا وقت اس طرح بیان کیا گیا کہ سورج غروج ہوجائے اور تاریکی پھیلنی شروع ہوجائے یہی روزے کے اوقات ہیں، رمضان میں اعتکاف کرنا سنت کفایہ ہے یعنی محلہ میں سے ایک بھی کرے تو دوسروں کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ اعتکاف کا مطلب ہے کہثواب کی نیت سے اپنے آپ کو چند روز مسجد میں روک رکھنا تاکہ عبادت و ریاضت کی جائے اعتکاف کے دوران اپنے آپ کو دنیاوی معاملات سے بالکل علیحدہ رکھنا چاہیے صرف ضروری حاجات کے لئے ہی مسجد سے باہر نکلنا چاہئے یہاں پابندی یہ ہے کہ پورے اعتکاف کے دوران عورتوں کے پاس نہ جائیں، اعتکاف کا مقصد یا فوائد یہ ہیں کہ اس طرح انسان پوری یکسوئی، خلوص اور مکمل توجہ اور بےفکری سے اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کو ایمان کی روشنی، روحانی قوت اور خاص قسم کی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ جو کہ اس کے دل دماغ اور روح کو پاک صاف اور خوبصورت بنا دیتی ہے۔ چونکہ دوران اعتکاف مسجد کے اندر ہی کھانا پینا اور سونا ہوتا ہے اس لیے یہ عبادت کا ایک منفرد انداز اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین طریقہ بن جاتا ہے۔ اب آخر میں تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ تمام حدیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی بہتری، خوشی، صحت و سلامتی، پاکیزگی اور ایمان کی مضبوطی کے لئے مقرر کردی ہیں اور ان پر قائم رہنا ان کی پابندی کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے۔ اگر کوئی ان حدود کے قریب بھی جائے گا تو غلطی کا امکان ہوسکتا ہے اس لئے ان حدوں کے اندر رہ کر اپنی زندگیاں گزارنی چاہیں۔ ہر وقت ذہن میں رکھنا چاہئے کہ خدائے واحد جو کہ انسان کا خالق، رہبر، مشفق اور مہربان ہے جو بھی فرماتا ہے بندے کی بھلائی، ترقی اور نجات کے لئے ہی فرماتا ہے انسان کی عقل اس کی قدرت، طاقت، مصلحت اور برتری کو کبھی بھی نہیں سمجھ سکتی اس لئے انسان کو چاہئے کہ پورے خلوص، نیک نیتی اور محبت سے اس کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنائے رکھے اور ان کی پابندی بھی کرے اسی میں انسان کی نجات ہے۔ شیطان سے بچنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدود کو کبھی بھی پار نہ کریں پچھلے احکامات و عبادات کے بعد اب اگلی آیت میں مال ناحق یعنی رشوت اور حرام مال کھانے کی حدیں مقرر کردی گئی ہیں۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقہ سے مت کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لئے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔

رشوت کی مذمت تشریح : یہاں ان اموال کا ذکر ہے جو ناجائز طریقہ سے حاصل کئے جائیں۔ جیسے سود، لوٹ مار، جعلسازی، دھوکہ فریب، بددیانتی، جوا اور ناجائز کاروبار سے حاصل شدہ مال، اسی طرح ہر وہ طریقہ کہ جس پر ہمارا ضمیر مطمئن نہ ہونا جائز مال کہلائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ تمام عمر حلال مال کھانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ مال کی حرص تو کبھی ختم ہی نہیں ہوتی اور مال نعمت بھی ہے اور زحمت بھی ہے۔ حدیث میں آتا ہے حضرت کعب بن عیاض ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ” کہ ہر امت کے لئے ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال و دولت ہے “۔ آج کل یہی دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہر شخص مال کے پیچھے دیوانہ ہوا جارہا ہے بس یہی حرص ہی ایک ایسی بری عادت ہے کہ جو انسان کو حلال و حرام کی تمیز سے بھی دور کردیتی ہے۔ یہی تاکید کی جارہی ہے کہ حلال مال کے بہت سے طریقوں میں ایک طریقہ تحفہ لینے دینے کا بھی ہے اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے آپس میں تحفہ لینا اور دینا محبت دوستی اور خلوص کو بڑھاتا ہے مگر یہی طریقہ اگر ملازم اور افسر کے درمیان ہوجائے تو یہ رشوت کہلائے گا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ ” ہدیہ حاکم کے لئے خیانت ہے “ (طبرانی) ایک اور جگہ آیا ہے۔ ” ملازم کا ہدیہ سب کا سب حرام ہے “ (بخاری) یہ ہدیہ چاہے کسی شکل میں ہو۔ ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے “ (ترمذی) سب سے ضروری بات جس کا ذکر آیت کے آخر میں کیا گیا ہے وہ ہے انسان کا اپنا ضمیر (اور تم جانتے ہو) مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جج یا حاکم کو غلط بیانی سے یقین دلا دیتا ہے اور جج غلط انسان کے حق میں فیصلہ کردیتا ہے تو اس کا گناہ، وبال اور سزا اس شخص کو ملے گی جس نے حق چھپا کر غلط بیانی سے کام لے کر حق دار کا حق مارا یا کسی کو غلط سزا دلوائی۔ حالانکہ اس کو معلوم تھا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے اس میں جھوٹی گواہیاں بھی شامل ہیں اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ ضمیر کا پہرہ جو ہر انسان پر بٹھایا گیا ہے بڑا زبردست پہرہ ہے خود کو دھوکہ دینا اور دوسرے کو دھوکہ دینا یہ آسان بات ہے مگر اللہ کو دھوکہ دینا ناممکن ہے اس لئے ضمیر کی آواز سنو اور اس کو دبا دبا کر ختم نہ کرو تو اس طرح تم بیشمار برائیوں، قباحتوں، مشکلوں، عذابوں اور تباہیوں سے بچ سکتے ہو۔ حدیث میں آتا ہے۔ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا : میں ایک انسان ہوں تم میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو یہ ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی نسبت اپنی دلیل اچھی طرح پیش کرے اور میں جو کچھ سنوں اس کے مطابق فیصلہ کردوں اور اگر میں کسی کو اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دینے کا فیصلہ کردوں تو اسے چاہئے کہ وہ نہ لے کیونکہ میں اسے آگ کا ٹکڑا دے رہا ہوں۔ (صحیح البخاری کتاب الاحکام ) قرآن مجید نے دو باتوں پر زور دیا ہے ایک تو یہ کہ کوئی فرد اپنے مال سے حاکم کو ورغلانے کی کوشش نہ کرے دوسری یہ کہ ضمیر کی آواز پر توجہ دے اور ضمیر کو کبھی بھی مردہ نہ ہونے دے بلکہ ضمیر کو زندہ رکھے اور اس کی آواز سنے۔
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

لوگ تم سے چاند ( کی گھٹتی بڑھتی صورتوں) کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو یہ لوگوں کے لئے تاریخوں کا تعین اور حج کی علامتیں ہیں۔ ( نیز ان سے کہو) یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہو۔ نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضگی سے بچے۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔

چاند کا حساب اور غلط رسم تشریح : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگ آپ سے چاند کے گھٹنے بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ اسلام سے قبل لوگ چاند کے بڑھنے کو مبارک اور گھٹنے کو منحوس سمجھتے تھے اور پھر اسی توہم پرستی کی وجہ سے اپنے بہت سے کام کرتے تھے۔ بعض اس کو دیوتا مان کر اس کی پرستش کرتے تھے تو انہی شکوک و شبہات کی وجہ سے مسلمانوں نے چاند کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے میں سوالات کئے تو وحی کے ذریعہ سے حکم ہوا کہ لوگوں کو بتاؤ کہ چاند کے گھٹنے بڑھنے میں فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کو تاریخوں، مہینوں اور سالوں کا حساب کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جن پر اسلامی عبادات اور شرعی احکام موقوف ہیں گویا چاند کا عمل ایک قدرتی کمپیوٹر ہے جو آسمان پر ظاہر ہو کر تمام دنیا کے لوگوں کو تاریخوں کا حساب کتاب بتاتا رہتا ہے۔ حج کا ذکر چاند کے ساتھ اس لئے کیا گیا کیونکہ عرب میں ہر طرح سے حج کی بڑی اہمیت تھی۔ سال کے تین مہینے حج کے لئے مقرر تھے ان میں بھی کاروبار خوب فروغ پاتا کیونکہ ان مہینوں میں امن وامان اور ہر طرف سکون رہتا تھا۔ قرآن مجید میں شمسی حساب پر قمری حساب کو ترجیح دی گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سورج کا گھٹنا بڑھنا اور طلوع و غروب کے ہلکے سے تغیر کو جانچنا عامۃ الناس کے لیے ممکن نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہارت، خاص علم اور آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ چاند میں بڑا واضح تغیر ہوتا رہتا ہے اور اس ردو بدل کو سمجھنا ہر جاہل و عالم کے لئے بےحد آسان اور سادہ ہے اور چاند کے طلوع و غروب کا موسم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ قرآن مجید کے اس آسان اور مفصل بیان نے اوہام پرستی اور شکوک و شبہات کی جڑکاٹ دی۔ اسی طرح جاہلیت کے زمانے کی ایک اور غلط رسم یہ بھی تھی کہ وہ لوگ احرام باندھنے کے بعد یا حج سے واپسی پر اپنے گھر میں داخل ہونے کے لئے دروازہ استعمال نہ کرتے تھے، بلکہ پچھلی دیوار سے اندر داخل ہونے کے لیے سوراخ کرلیتے یا چھت پر چڑھ کر اندر پھلانگ جاتے تھے۔ کیونکہ وہ اس بات کو بڑی عبادت سمجھتے تھے تو اس غلط فہمی کو بھی اس آیت میں دور کیا گیا ہے اور صاف بتایا گیا ہے کہ اپنے پاس سے بنائے ہوئے اصول و قوانین پر عمل کرنا ہرگز نیکی میں شمار نہیں ہوتا۔ بلکہ نیکی یہ ہے کہ اللہ کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل کیا جائے۔ اس کی بنائی ہوئی حدود کا سختی سے خیال رکھا جائے۔ حکم دیا گیا کہ احرام باندھنے کے بعد اپنے گھروں میں دروازوں سے داخل ہوں، پچھواڑے سے داخل ہونا یہ کوئی عبادت اور فرمانبرداری نہیں بلکہ فرمانبرداری اور تقویٰ اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی منع کی ہوئی باتوں سے بچتے رہنا اور اس کے بتائے ہوئے احکامات پر سختی سے عمل کرنا یہی تقویٰ ہے اور اس میں دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں ہیں۔
Ayahs 2:190–192

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا ان سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے، اس لئے کہ اگرچہ قتل برا ہے، لیکن فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ رکیں تو تم بھی بےتکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے۔

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ باز آجائیں تو جان لو کہ اللہ رحم کرنے والا ہے اور معاف کرنے والا ہے

اللہ کی راہ میں جنگ اور احترام کعبہ تشریح : اس حکم سے مسلمانوں کو پہلی دفعہ کفار سے لڑنے کی اجازت ملی۔ اس سے پہلے تیرہ برس مکہ میں مسلمانوں کو صبر و سکون کی ہی تلقین کی گئی تھی۔ کیونکہ اس وقت تک صرف تبلیغ و تلقین کا سلسلہ ہی جاری تھا۔ اب چونکہ مدینہ میں چھوٹی سی شہری ریاست بن گئی تھی تو اپنی حفاظت، دین کی حفاظت اور اسلام کے فروغ کے لئے پہلی دفعہ حکم ہوا کہ جو تم سے لڑیں تم ان سے لڑو اس کے بعد ہی جنگ بدر پیش آئی اور پھر فلاح و بہبود اور اسلام کی تبلیغ کے لئے جنگوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مگر جنگ میں بھی حدودبندی کا سلسلہ جاری رہا اور مسلمان کو کبھی ظلم و زیادتی کی اجازت ہرگز نہیں دی گئی۔ کیونکہ مسلمان لڑتا ہے تو اللہ کے لئے، مرتا ہے تو اللہ کے لئے، جیتا ہے تو اللہ کے لئے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ جنگ میں پہل نہ کرو، مدافعت میں لڑو، صرف ان کو قتل کرو جو تمہارے خلاف جنگ میں شریک ہوں جو جنگ میں شریک نہ ہوں ان کو قتل نہ کرو۔ مثلاً راہب، پادری، کفار کے ملازمین، بیمار، عورتیں معذور اور بچے اور پھر حکم ہے زیادتی نہ کرو حد سے نہ گزرو یعنی کھیتوں کو برباد کرنا، پھل دار درخت ضائع کرنا، مویشیوں کو مار دینا یا اور کوئی ایسا وحشیانہ عمل کرنا جس کو انسانیت کے خلاف سمجھا جائے وغیرہ۔ مقصد صرف اور صرف اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو، ہر مسلمان کو ہر وقت ہر فعل میں خیال رکھنا چاہیئے کہ ہمارا دین، ہمارا خدا، ہمارا رسول کبھی بھی ظلم و زیادتی کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ ہمارا مذہب امن و سلامتی کی ہی تلقین کرتا ہے۔ اس لئے جنگ کے بدلے جنگ کی اجازت دی گئی ہے، حد سے بڑھنا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں اور نہ ہی اس کی اجازت دی گئی ہے۔ البتہ اللہ کا حکم ہے کہ ایسے کافر جو تم سے شرارت کرنے سے باز نہ آئیں اور ظلم و زیادتی کریں تو ان کو جہاں بھی تم پاؤ قتل کر دو اور پھر جس طرح انہوں نے تمہیں تکلیفیں دے دے کر اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا تم بھی اپنا آبائی وطن اور روحانی مرکز ان سے واپس لے لو اور ان کو وہاں سے نکال دو اور پھر حکم ہے فتنہ کو ختم کرنے کے لئے اگر کچھ لوگ قتل کرنے پڑیں تو ضرور قتل کر دو ۔ کیونکہ فتنہ قتل سے بڑا اور خطرناک فعل ہے۔ یعنی معاشرے کو فساد، برائی، بدامنی اور شرک سے بچانے کے لئے قتل کی اجازت ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے گلے سڑے حصہ کو آپریشن کرکے جسم سے علیحدہ کردیا جاتا ہے اسی طرح معاشرے کو پاک صاف رکھنے کے لئے غلط کار لوگوں کو ختم کردینا ضروری ہے اور یہ انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے۔ جیسا کہ جنگ میں پہل کرنے، بےجا قتل و غارت اور فتنہ فساد سے ہمیشہ مسلمان کو منع کیا گیا ہے۔ اس جگہ بھی یہی حکم دیا گیا ہے کہ مسجد حرام میں لڑائی فساد بالکل منع ہے۔ جیسا کہ پچھلے اسباق میں تفصیلاً بیان ہوچکا ہے۔ مگر یہاں اللہ تعالیٰ اجازت دے رہا ہے کہ اگر کوئی مسجد حرام میں تم سے لڑے، قتل و غارت گری کرے تو تم جواب میں بیشک اس کو قتل کرو۔ کیونکہ کفار سے مقابلہ کرنا نہ صرف ضروری ہی ہے بلکہ ان کی سزا بھی یہی ہے پھر فرمایا گیا کہ پھر جب وہ توبہ کرلیں۔ بدعملی، فتنہ و فساد اور گمراہی سے باز آجائیں تو پھر تم بھی ان پر ہرگز تلوار نہ اٹھاؤ۔ بلکہ ان کے ساتھ پیار و محبت شفقت اور حسن سلوک سے پیش آؤ۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ خود نہایت مہربان اور معاف کرنے والا ہے۔ ” غفور رحیم “ اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ہیں اور ان کی یہ فضیلت ہے کہ الغفور۔ (بہت بخشنے والا) کا ورد کرنے والا درد بخار اور مایوسی سے نجات پاتا ہے اور بخشش حاصل کرلیتا ہے۔ الرحیم (بڑا مہربان) ہر نماز کے بعد سو دفعہ پڑھنے سے دنیاوی آفتوں سے محفوظ اور مخلوق مہربان ہوجاتی ہے۔ (بحوالہ شرح اسماء الحسنیٰ تاج کمپنی لمیٹڈ ) مقصد یہ ہے کہ ہمارا رب جس پر ہم ایمان لاتے ہیں۔ بےحد مہربان ہے اسی طرح ہمیں بھی ظلم کو روکنے کے لئے قتل کرنا جائز ہے جب کوئی راہ راست پر آجائے تو اس کو فوراً معاف کر دو کہ مسلمان کی یہی شان ہے۔
Ayah 2:193

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

تم ان سے لڑتے رہو۔ یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہوجائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی جائز نہیں

جنگ کی آخری حد تشریح : اس آیت میں لڑائی کی آخری حد بیان کردی گئی ہے۔ اسلام زبردستی اور ظلم کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ اسلام کا مطلب ہے امن و سکون۔ یعنی قانون اللہ کا نافذ ہو دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ امن و سکون سے رہیں، ان کی عبادت گا ہیں بالکل محفوظ رہیں، اسلام کی راہ میں کسی قسم کی کوئی رکاؤٹ پیدا نہ ہو، امن و سکون کو برقرار رکھنے کے لئے اسلام کے پاس تین راہیں کھلی ہیں۔ (درس قرآن) 1 ۔ لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دے۔ اگر ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دے گا۔ 2 ۔ اگر لوگ اسلام قبول کرنے کو تیار نہ ہوں۔ البتہ اسلام کی مخالفت سے باز آنے کا اقرار کرلیں تو شوق سے وہ اسلامی سلطنت میں رہیں اس صورت میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں کے سپرد ہوگی۔ 3 ۔ اگر ان دونوں باتوں پر راضی نہ ہوں اور وہ اللہ کے قانون کی خلاف ورزی کرتے رہیں تو پھر ان کا فیصلہ تلوار سے کردینا چاہیئے ان کی سزا قتل کے سوا اور کوئی نہیں۔ کیونکہ فتنہ ناقابل معافی ہے اور یہ قتل و غارت کی جڑ ہے، اسکو ختم کردینا لازمی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی روا نہیں رکھی جاسکتی۔ یعنی ظالموں کو ان کے ظلم کا بدلہ ضرور دیا جانا چاہیے۔ حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” کہ میری امت کا ایک گروہ حق کے لئے لڑتا رہے گا، جو ان سے دشمنی کریں گے وہ ان پر غالب رہے گا یہاں تک کہ ان میں سے آخری لوگ مسیح دجال سے لڑیں گے “۔ (ابوداؤد)
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کیساتھ ہوگا۔ لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے تو تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کیساتھ ہے جو اسکی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں

حرمت والے مہینے تشریح : اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اجازت دی ہے کہحرمت والے مہینوں اور حرم میں جنگ کرسکتے ہیں وہ بھی صرف اس خاص صورت میں جبکہ کفار ان سے جنگ کرنے پر تل جائیں ورنہپہلے گزر چکا ہے کہ حرمت والے مہینوں میں حرمت والی مسجد میں اور اس کے آس پاس جنگ و جدل کرنا بالکل منع ہے۔ اس آیت میں یہ اجازت دی گئی ہے واقعہ یہ ہے کہ اہل عرب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے اس بات کے پابند تھے کہ چار مہینوں میں جنگ و جدل ہرگز نہ کیا جائے گا۔ تاکہ لوگ امن وامان سے حج وعمرہ ادا کرسکیں۔ ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم حج کے لئے اور رجب کا مہینہ عمرے کے لئے مختص تھا ہوا یہ کہ ذی قعدہ 7 ھ میں رسول اللہ ﷺ چند صحابہ کے ساتھ عمرہ کی غرض سے مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو وہاں کے مشرک آپ سے جنگ کرنے کو تیار ہوگئے انہوں نے نہ تو مسلمانوں کے احرام باندھنے کا خیال کیا اور نہ ہی اپنے معاہدے اور نہ حرمت والے علاقے کا خیال کیا۔ مسلمانوں کی پریشانی پر اللہ کا حکم نازل ہوا کہ حرمت والے مہینوں اور حرم کا احترام اس وقت تک کرو جب تک مخالف فریق بھی کرے اگر وہ معاہدہ سے پھر جائے اور لڑائی پر آمادہ ہوجائے تو تم بھی ہتھیار اٹھا لو اور ان کے ساتھ دفاعی جنگ کر دو ۔ اگر وہ زیادتی کریں تو تم بھی زیادتی کرو۔ یہ محاورتاً استعمال ہوا ہے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ زیادتی سے بچتے ہوئے ان کو قتل بھی کرو اگر وہ قتل کریں اور ان کو سزاء بھی دو اگر وہ سزا دیں۔ مگر ہر وقت، ہر صورت اور ہر عمل میں تقویٰ کو ہرگز مت بھولو۔ اللہ سے ڈرتے رہو تقویٰ کا ذکر تقریباً 14 دفعہ آچکا ہے۔ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے۔ قناعت، بےطمعی، بےنفسی، جذبات پر قابو، سعادت شعاری، عدل، خودداری، غیرت مندی، حدود اللہ کی حفاظت غرض سیرت و کردار کی تمام خوبیاں منفرد طور پر یا جماعت کے طور پر سب تقویٰ کے لفظ میں آجاتی ہیں۔ اسی لئے آیت کے آخر میں یہی یاد کروایا گیا ہے کہ تقویٰ کو یاد رکھو، کیونکہ تقویٰ پر قائم رہنے والے لوگ ہی اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ اسلام کی روح تقویٰ میں ہی ہے۔ اگلی آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اپنا مال بھی جہاد میں خرچ کرو۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ احسان کا طریقہ اختیار کرو یقینا اللہ احسان کرنیوالوں کو پسند کرتا ہے۔

اللہ کی راہ میں خرچ تشریح : گزشتہ آیات میں جہاد کا حکم دیا گیا تھا کہ دشمنوں سے لڑو اور اللہ کی راہ میں اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جانیں بھی قربان کرو، شہادت کی سعادت حاصل کرو۔ اس آیت میں اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ جنگ میں مال کی بےحد ضرورت ہوتی ہے۔ اسلحہ کے لئے، شہیدوں کے رشتہ داروں کی دیکھ بھال کے لئے، زخمیوں کے علاج کے لئے اور خوردونوش کے لئے۔ غرض جانوں کے ساتھ ساتھ مال کی بھی بےحد ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ سب تم پوری کرنے کی کوشش نہ کرو گے تو خدا نخواستہ شکست ملک و قوم کی ہوگی۔ نقصان دین کا ہوگا تو گویا یہ خود تمہارا نقصان ہوگا کیونکہ ملک و قوم بھی تمہارا ہی ہے اور دین بھی تمہارا ہی ہے۔ اس لئے اس کی سلامتی کے لئے مال و دولت خوش دلی اور خلوص سے خرچ کرو۔ یہی احسان ہے۔ اللہ اس طرح کے خلوص، محبت اور خوشی کے ساتھ خرچ کئے ہوئے مال کو قبول کرتا ہے اور خرچ کرنے والے کو بےحد پسند کرتا ہے۔ ” احسان انسانی زندگی کا حسن ہے۔ لہٰذا زندگی کو حسین بنانے کے لئے احسان سے کام لینا ضروری ہے “۔ مولانا مودودی صاحب لکھتے ہیں۔ ” پہلا درجہ محض طاعت کا درجہ ہوتا ہے جس کے لئے صرف تقویٰ اور خوف کافی ہوجاتا ہے اور دوسرا درجہ احسان کا درجہ ہے جس کے لئے محبت اور گہرا قلبی لگاو درکار ہوتا ہے “۔
Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اللہ کی خوشنودی کے لئے حج اور عمرہ مکمل کرو اور اگر کہیں گھیر لیے جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سر نہ مونڈواؤ جب تک کہ قربانی اپنی قربان گاہ نہ پہنچ جائے مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ( اور اس بناء پر اپنا سر نہ منڈوا سکے تو اسے چاہیے کہ) فدیہ کے طور پر روزے رکھے، صدقہ دے یا قربانی کرے پھر اگر تمہیں امن نصیب ہوجائے تو تم میں جو شخص حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے وہ حسب مقدور قربانی دے اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھرپہنچ کر رکھے، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے۔ یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

حج اور اسکے مسائل تشریح : حج : اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ جو شخص مالی و جسمانی لحاظ سے حج کی استطاعت رکھتا ہو اس پر زندگی میں ایک دفعہ حج فرض ہے ورنہ وہ گناہ گار ہوگا۔ حج مساوات اور یکجہتی کا سبق دیتا ہے۔ ایک ہی لباس میں سب لوگ ایک ہی طریقہ سے اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور ارکان حج ادا کرتے ہیں۔ حج کے دوران احرام باندھنا ضروری ہے۔ سر منڈانا، ناخن تراشنا، شکار کرنا، خوشبو لگانا، میاں بیوی کا آپس میں تعلق قائم کرنا، آرائش کرنا یہ سب منع ہوتے ہیں۔ تمام حاجی بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں، حجرا سود کو بوسہ دیتے ہیں، آب زم زم پی کر دعائیں کرتے ہیں، صفاء مر وہ کے درمیان سعی کرتے ہیں، میدان عرفات میں جمع ہو کر خطبہ سنتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں، منیٰ میں قربانی دیتے ہیں، گناہ معاف کرواتے ہیں، جمرات پر کنکریاں مارتے ہیں، مگر یہ سب کچھ خلوص، خشوع و خضوع توجہ اور عشق الٰہی میں ڈوب کر کرنا چاہیے ورنہ سب بیکار ہے۔ ” اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو “۔ عمرہ بھی بڑی سعادت ہے مگر اس کے لئے مہینہ اور تاریخ کی کوئی قید نہیں۔ یہ عبادت خالصتاً اللہ کی رضاء کے لئے ہونی چاہئے۔ البتہ اس میں جائز تجارت، تاریخی مقامات کی زیارت اور سیروسیاحت کی اجازت ہے۔ اس میں ایک رعایت اللہ نے دے رکھی ہے کہ کوئی شخص یا جماعت حج یا عمرہ کے لئے احرام باندھے اور پھر راستہ میں بیمارہو جائے یا کسی بھی قسم کی رکاؤٹ راستہ میں حائل ہوجائے جس کی وجہ سے سفر جاری رکھنا ممکن نہ رہے تو ان تمام صورتوں میں یہ حکم ہے کہ اپنا قربانی کا جانور کسی طریقہ سے بیت اللہ بھجوا دے اور جب تک جانور حرم میں نہ پہنچ جائے اس وقت تک وہ سر نہیں منڈوا سکتا اور احرام نہیں کھول سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک رعایت اور بھی معذور لوگوں کو دے رکھی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بیماری کی وجہ سے سر نہ منڈوا سکے تو اسے چاہئے کہ اس کے بدلے تین روزے رکھے یا چھ مسکینوں کو صدقہ فطر کے برابر غلہ دے یا جانور کی قربانی دے۔ بعد ازاں ایسے حاجی کا حکم بیان کیا گیا ہے جو حج اور عمرہ دونوں ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو جسے حج تمتع کہتے ہیں ایسے حاجی پر قربانی واجب ہے جو ایک بکرا، چھترا یا پھر اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ ہے۔ یہ قربانی اس پر واجب نہیں جو صرف حج ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کے ساتھ عمرہ نہ ادا کرنا چاہتا ہو۔ جو لوگ تمتع کریں، لیکن افلاس یا کسی اور خاص مجبوری کی وجہ سے قربانی نہ کرسکیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ تین روزے حج کے دنوں میں اور سات روزے گھر واپس پہنچ کر یعنی دس روزے پورے کریں۔ یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ نفس پاکیزہ اور نیت صاف رہے۔ طبیعت میں بغاوت اور نافرمانی پیدا نہ ہو۔ اب قربانی کے حکم کی وضاحت کی جاتی ہے۔ حج اور عمرہ ملا کر کرنے کی اجازت صرف ان کے لئے ہے۔ جن کے گھر مکہ معظمہ یا قریبی بستیوں میں نہ ہوں۔ اس حکم کے ساتھ ایک دفعہ پھر وضاحت کردی گئی ہے کہ اصل چیز تقویٰ ہے۔ ہر عبادت اور ارکان پورا کرتے وقت اللہ کی خوشنودی، اخلاص اور اللہ کا خوف ہی پیش نظر ہونا چاہیئے۔ یہ تمام احکامات اور عبادات اللہ جل شانہ کی طرف سے نافذ کئے گئے ہیں اور ہماری تمام زندگی، ہمارا مذہب اور عقائد ان پر ہی کھڑے کئے گئے ہیں۔ اس لئے ان کا بدلنا یا ان سے انکار کرنا بڑی سخت سزا کا موجب ہوگا۔ چناچہ اگلی آیت میں حج اور کچھ مزید حدود کا ذکر ہو رہا ہے۔
Ayahs 2:197–199

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے مہینے معلوم ہیں جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے ( اسے خبردار رہنا چاہیے کہ) حج کے دوران اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بدعملی اور کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہوجائے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفر حج کے لئے زاد راہ ساتھ لے جاؤ اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہوش مندو میرا خوف اختیار کئے رکھو۔

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

حج کے ساتھ ساتھ اگر تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں پھر جب عرفات سے واپس آؤتو مشعر حرام (مزدلفہ) کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں دی ہے یقینا اس سے پہلے تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے۔

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر جہاں سے باقی سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو، یقیناً وہ معاف کرنے والا، رحم کرنیوالا ہے

حج کے دوران ذکر و اذکار تشریح : ان آیات میں حج کی ضروری حدود کا بیان ہے۔ حج کے اصل ارکان ذی الحجہ کے دوسرے ہفتہ میں شروع ہوتے ہیں۔ چناچہ احرام میقات کی حدود میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی پر واجب ہوجاتا ہے۔ حج کی نیت کی عملی نشانی احرام باندھ لینا ہے۔ احرام دو بغیر سلی چادریں ہوتی ہیں جو مرد حضرات ایک تہہ بند کے طور پر باندھ لیتے ہیں اور دوسری چادر اوپر اس طرح ڈال لیتے ہیں کہ سر ننگا رہے، جبکہ عورتیں سر اور جسم کو اس طرح چادر اور سلے ہوئے لباس میں ڈھانپ لیتی ہیں کہ ستر پوشی مکمل ہوجائے۔ حج کے دوران تین باتوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ یہ پہلی آیت میں بھی بیان آچکا ہے دوبارہ بیان کیا جارہا ہے۔ 1 ۔ خاوند و بیوی کے آپس میں خاص تعلقات قائم کرنا منع ہے۔ 2 ۔ ہر قسم کے چھوٹے بڑے گناہ سے بچا جائے۔ 3 ۔ ہر قسم کے لڑائی جھگڑے، فساد، بدکاری اور گالی گلوچ سے بچنا ضروری ہے۔ اس کے بعد حج کے لئے زاد راہ لے کر جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ حج پر جاتے ہوئے کچھ ساتھ نہ لے جاتے ان کے خیال میں یہ عبادت کا اعلیٰ درجہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیتوں کو اللہ خوب جانتا ہے، نیک نیتی، پاکیزگی اور خلوص ضروری ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ راستہ کے لئے مناسب رقم اور ضروریات کی چیزیں ساتھ ضرور رکھو کہ سفر میں بھیک نہ مانگنی پڑے اور کسی قسم کی پریشانی نہ اٹھانی پڑے اس کے ساتھ ساتھ دوسرے بہترین زاد راہ (تقوٰی) کا بھی پورا پورا خیال رکھو۔ تقویٰ کی تعریف کئی بار بیان کی جا چکی ہے، قرآن پاک میں بار بار حکم آتا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ اور خوف الٰہی سے دور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان نام کا ہی مسلمان رہ جاتا ہے اور ایسے انسان کی زندگی پریشانیوں، ناکامیوں اور بےچینیوں سے بھر جاتی ہے۔ ایمان، توکل اور یقین کی روشنی اور مضبوطی سے ایسا انسان بالکل دور ہوجاتا ہے اس لئے تقویٰ میں کمال حاصل کرنے کے لئے دل کو اللہ کے خوف اور ذکر سے خالی نہیں رکھنا چاہیے اور حج تقویٰ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اللہ جل شانہ اجازت دیتا ہے کہ تم حج وعمرہ کے ساتھ دنیاکا فضل یعنی جائز تجارت بھی کرسکتے ہو۔ اسلام سے پہلے حج کے زمانہ میں لوگ خوب تجارت کرتے تھے۔ اسلام کے بعد مسلمانوں نے سوچا کہ حج کے ساتھ تجارت کرنا عبادت میں کمی کا باعث ہوسکتی ہے اس لئے انہوں نے خود ہی تجارت کو ناجائز سمجھنا شروع کردیا تو اس پر اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ہمیشہ کے لئے اس بات کی اجازت کو دے دی گئی کہ تجارت ضرور کرو۔ محنت کرکے اللہ کا فضل یعنی منافع حاصل ضرور کرو البتہ نیت یہ رکھو کہ تم اللہ کی خوشنودی اور ثواب حاصل کرنے کیلئے حج پر آئے ہو، خدا کے خوف اور آخرت کی زندگی حساب و کتاب سے ہرگز غافل نہ ہو۔ اسلام کا کوئی بھی رکن ایسا نہیں جو انسانی بھلائی کے خلاف ہو یا جو انسانی ترقی چاہے دنیاوی ہو یا اخروی ہونے کے لئے رکاوٹ بنے۔ اسلام تو عین دین فطرت ہے جس کا ثبوت خود ہماری عبادات ہیں۔ یعنی توحید، نماز، زکوٰۃ روزے اور حج، ہر رکن اپنی جگہ انسانی بہتری اور ترقی، فلاح و بہبود اور صحت و صفائی کا ضامن ہے۔ اسی طرح دور دراز سے آنے والے مسلمان حج کے موقعہ پر جمع ہوتے ہیں اور یوں بیشمار تجارتی اور معاشی فائدے حاصل کرسکتے ہیں اسی لئے حج کے ساتھ اللہ نے تجارت کی اجازت ضرور دی ہے مگر جائز تجارت کی شرط ہے اور مقصد اول حج کی شرط ہے۔ حج کے تمام اعمال میں سے فرض تین ہیں۔ 1 ۔ احرام باندھنا۔ 2 ۔ ذوالحجہ کی 9 تاریخ کو عرفات میں حاضر ہونا جسے وقوف عرفہ بھی کہا جاتا ہے۔ 3 ۔ طواف کعبہ۔ اس آیت میں یہی بتایا گیا ہے کہ جب عرفات سے واپس آؤ تو مزدلفہ میں قیام کرکے اللہ تعالیٰ کو یاد کرو، توبہ استغفار کرو اور اللہ جل شانہ کی عبادت میں مصروف رہو۔ عرفات مکہ سے 12 میل کے فاصلہ پر ایک میدان ہے جس میں ایک پہاڑی ہے جو سطح سمندر سے 200 گز بلند ہے۔ یہ میدان پورا سال سنسان پڑا رہتا ہے۔ 9 ذی الحجہ کو حاجیوں کی آمد سے یہاں خوب رونق ہوجاتی ہے، حاجی 8 ذی الحجہ کو دوپہر تک منیٰ میں آجاتے ہیں، اگلے روز سورج نکلتے ہی عرفات کو روانہ ہوجاتے ہیں۔ دوپہر سے عصر تک حاجیوں کو وہیں رہنا پڑتا ہے اس کو وقوف عرفہ کہا جاتا ہے، عرفات میں قیام، حج کا سب سے اہم کام ہے۔ اس قیام کے دوران ذکر و فکر، توبہ استغفار اور تسبیح و تقدیس کا حکم ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد مزدلفہ کی طرف روانہ ہونا چاہیے۔ اس روز ظہر و عصر کی نمازیں اکٹھی عرفات کی مسجد نمرہ میں ظہر کے وقت ادا کی جاتی ہیں۔ مغرب و عشاء کی نمازیں مزدلفہ پہنچ کر عشاء کے وقت ادا کی جاتی ہیں۔ المشعرالحرام یہ مزدلفہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان ہے۔ مکہ سے تقریباً 6 میل کے فاصلہ پر ہے۔ حاجی 9 تاریخ کو اسی راستہ سے جاتے ہیں۔ لیکن واپسی کے لئے دوسرا راستہ اختیار کرنے کا حکم ہے۔ حاجیوں کے قافلے رات یہیں گزارتے ہیں، پہاڑی کے اوپر مسجد میں سارا وقت عبادت الٰہی میں گزارتے ہیں، عبادت الٰہی کے وہی طریقے بہترین مستند اور باعث بخشش ہیں جو طریقے اللہ تعالیٰ نے انسان کو بتا دیئے ہیں اور جن کی وضاحت آنحضرت ﷺ نے اپنے اسوہ حسنہ سے کردی ہے۔ اس کے علاوہ جتنے طریقے اسلام سے پہلے اختیار کئے جاتے رہے ہیں۔ سب باطل اور غلط طریقے ہیں اس آیت میں ان پچھلے تمام طریقوں کو بالکل غلط اور گناہ قرار دیا گیا ہے اور صرف ان طریقوں پر چلنے کا حکم دیا گیا ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے بنا دیئے ہیں مقرر کردیئے ہیں اور وہ سب طریقے قرآن مجید میں بڑی وضاحت سے بیان کردیئے گئے ہیں اور وہ طریقے انسان کے لئے نہ صرف فائدہ مند ہی ہیں بلکہ آسان اور نجات دلانے والے بھی ہیں اور یہ سب پہلے کسی کو معلوم نہ تھے۔ رب العزت نے انسان پر مہربانی کی اور قرآن کی صورت میں انسان کی راہنمائی کی۔ اس لئے انہی طریقوں کے مطابق عبادت کرنی چاہیئے۔ یہاں ایک اور حکم دیا جارہا ہے، بلکہ پچھلے حکم کو ہی دہرایا جارہا ہے، مقصد اس کا یہ ہے کہ قریش اپنے آپ کو محترم سمجھتے ہوئے حج میں عرفات کے میدان میں جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے اور مزدلفہ تک ہی رہ جاتے تھے تو اس پر اللہ نے حکم دیا کہ سب ایک ہی جگہ قیام کریں گے اور ایک جگہ سے ہی ان کی واپسی ہوگی اور اس طرح نسلی اور قومی فرق کو مٹا دیا گیا۔ مساوات اور یکجہتی کا سبق دیا گیا۔ کیونکہ مسلمان کی تو شان ہی مساوات میں ہے، غرور اور فخر اللہ تعالیٰ کو بالکل ناپسند ہے۔ سب بندے برابر ہیں اسی لئے حکم ہوا کہ ” سب ایک ہی جگہ قیام کریں گے اور ایک جگہ سے ہی ان کی واپسی ہوگی “۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اپنے گناہوں کی معافی مانگو خلوص دل سے استغفار کرو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بخشنے والا۔ معاف کرنے والا انتہائی مہربان ہے۔ کسی وقت بھی اس کے ذکر سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ مناسک حج کے بعد دعا کا طریقہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 2:200–203

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو تو جس طرح پہلے اپنے آباؤ اجداد کا ذکر کرتے تھے، اسی طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ ان میں سے کوئی تو ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دے دے، ایسے شخص کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے بچا

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کوئی دیر نہیں لگتی۔

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس ہوگیا تو کوئی حرج نہیں اور جو کچھ دیر ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں (بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کیے ہوں) اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان لو کہ ایک روز اس کے حضور تمہاری پیشی ہونے والی ہے

دنیاوی حصہ یا دنیاو آخرت تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ جاہلیت کی ایک رسم کو ختم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ حکم یہ ہے کہ حج سے فارغ ہو کر تم اللہ جل شانہ کی تسبیح و تقدیس کرو، اللہ کو یوں یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے یا اس سے بھی کچھ زیادہ، یہ جاہلیت کے زمانہ کی رسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قدیم عرب 12-11-10 ذوالحجہ کو منیٰ میں جمع رہتے اور وہاں اپنے قبیلہ اور باپ دادا کے کارنامے فخریہ انداز میں بیان کرتے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر ان کے کارناموں کی کہانیاں سناتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ چاہے جتنی دیر مرضی ٹھہرو مگر وہاں ذکر الٰہی میں مشغول رہو۔ کیونکہ انسان کو پیدا کرنے والا، پرورش کرنے والا، عقل سمجھ، دانائی، شرافت، عزت اور تمام بھلائیاں دینے والا صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ ہی ہے اس لئے ہر قسم کی تعریف و توصیف کے لائق رب العزت ہے نہ کہ آباؤ اجداد۔ دعا کرنے کا طریقہ رب العزت بتاتے ہیں۔ کہ کچھ لوگ دعا کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی بھی ہے جو کہ ہمیشہ رہنے والی زندگی ہوگی اور وہاں اعمال کرنے کی بجائے یہاں کیئے ہوئے اعمال کا بدلہ ملے گا تو ایسے لوگ صرف یہ دعا کرتے ہیں کہ ان کو اس دنیا میں ہر قسم کی بھلائی، عزت، دولت اور صحت و سلامتی عطا کی جائے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لیئے فرماتا ہے کہ ان کو صرف دنیا کی ہی بھلائیاں دی جائیں گی آخرت میں ان کو کچھ نہ ملے گا اس کے برعکس وہ لوگ دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے مالا مال کردیئے جائیں گے جو یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی ہر قسم کی نعمتیں، برکتیں، عزتیں اور آسائشیں عطا کر اور اسی طرح آخرت میں بھی ہر قسم کی تمام بھلائیاں عطا کر دے تو ایسے لوگوں کو ان کی دعا کے مطابق دنیا و آخرت دونوں جگہ نجات، عزت بخششیں اور تمام بھلائیاں عطا کی جائیں گی اور پھر دعا کرتے ہیں کہ اے رب ہمارے ہمیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لینا تو اللہ ان کی دعا سنتا ہے۔ قبول کرتا ہے اور ان کی نجات کا سامان پیدا کرتا ہے دوسری قسم کے لوگ یعنی جو دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگتے ہیں، دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں، تو اللہ ان کی غلطیاں معاف کر دے گا۔ جنت میں رہنے کی جگہ دی جائے گی اور ان کو آخرت کی ابدی زندگی میں تمام قسم کی آسائشیں دی جائیں گی۔ آخر میں خبردار کیا گیا ہے کہ یاد رکھو اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے، یہ فانی دنیا آخرت کی دنیا کے لئے کھیتی کا درجہ رکھتی ہے، ہر کام کا بدلہ انصاف کے ساتھملے گا۔ اس لیئے ہر شخص کو خیال رکھنا چاہیے کہ یہ زندگی نہ تو بےکار ہے اور نہ ہی اللہ سے چھپی ہوئی، بلکہ ہر شخص کا ہر عمل ٹیپ ہوتا جارہا ہے اور پھر قیامت دور نہیں۔ اس دن ہر شخص اپنے کیئے کا بدلہ پالے گا اور جس نے دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگی ہوں گی اس کو دنیا و آخرت میں اجر دیا جائے گا جس نے صرف دنیا کی بھلائیاں طلب کی ہوں گی اس کو صرف دنیا میں ہی ملے گا۔ آخرت میں کچھ نہ ملے گا۔ جس نے دوزخ سے پناہ مانگی ہوگی اس کو دوزخ سے پناہ دی جائے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی دعا کو پورے خشوع و خضوع سے مانگنا چاہیئے ایسی خوبصورت، جامع اور بہترین دعا تو انسان کبھی نہیں ترتیب دے سکتا جیسی اللہ نے سکھا دی ہے۔” رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الاْٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ “ ” اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھی سب بھلائیاں عطا کر اور آخرت میں بھی تمام بھلائیاں عطا کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ “ سورة البقرہ آیت (201) اس چھوٹی سی دعا میں اعتقادات، عبادات، جنت، دوزخ، قیامت اور پھر اللہ کی کبریائی، عظمت، رحمت، انصاف اور طاقت سب کچھ ہی اس میں سمٹ گیا ہے۔ اللہ کرے تمام مسلمان اس دعا کو پڑھیں سمجھیں اور عمل بھی کریں۔ حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد 10 ذی الحجہ کو منیٰ میں جمع ہوجاتے ہیں۔ منیٰ مکہ سے تقریباً چار میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں خوب رونق لگتی ہے، حاجی 12، 13 تاریخ تک یہیں ٹھہرتے ہیں اور حج کے سلسلے میں کئی واجبات اور سنتیں ادا کرتے ہیں۔ مثلاً جمرات کو کنکریاں مارتے، قربانی کرتے، سر کے بال اترواتے ہیں اور احرام اتارتے ہیں حکم دیا گیا ہے کہ یہ دن گنتی کے دن ہیں یعنی دسویں، گیا رھویں اور بارھویں ذوالحجہ ان کو خوب عبادت میں گزارو اور یاد الٰہی کی ایک خاص صورت یہ ہے کہ ہر حاجی دسویں تاریخ کو جمرہ عقبیٰ پر سات کنکریاں مارے ہر کنکری پر اللہ اکبر کہے اسی طرح گیارہ اور بارہ تاریخ کو باقی دونوں جمروں کو سات سات کنکریاں اللہ اکبر کہتے ہوئے مارے۔ بار بار تاکید کی گئی ہے کہ حج کے دوران ہر وقت خلوص سے اللہ کا ذکر کرتے رہو۔ حج کا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان میں مشقت صبر و سکون، ہر قسم کی تکلیف و پریشانی کی برداشت پیدا کرتا ہے اور انسان روحانی لحاظ سے بہت بلند ہوجاتا ہے۔ اس بلندی کو قائم رکھنے کے لئے یاد الٰہی اور ذکر اللہ بےحد ضروری ہے اس لئے اس سے ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہ ہوں۔ یہ تین دن ایام تشریق کہلاتے ہیں۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص 12 تاریخ کے بعد بھی منیٰ میں ٹھہرتا ہے۔ ذکر الٰہی کرتا ہے تو کوئی گناہ نہیں اگر کوئی صرف دو ہی دن وہاں ٹھہر کر مکہ چلا جائے تو بھی کوئی گناہ نہیں۔ اصل چیز تقویٰ ، خوف الٰہی اور مکمل فرمانبرداری ہے۔ کیونکہ انہی خصوصیات سے انسانی زندگی میں پاکیزگی اور عمدگی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اگر تقویٰ کے باوجود کچھ احکام مجبوری کی وجہ سے رہ جائیں تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ لیکن اگر کوئی لاپرواہی، نافرمانی یا محض سستی کی وجہ سے کوئی احکام پورے نہ کرے تو اس کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں وہ نیتوں کے حال بہت اچھی طرح جانتا ہے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب کو بالآخر اللہ ہی کے پاس واپس جانا ہے اور اپنے تمام اعمال کا حساب کتاب دے کر اس کے مطابق جزا و سزا بھی پانی ہے اور یہی ہر انسان کا حاصل زندگانی ہے۔ اس آیت کے ساتھ ہی حج کے فرائض اللہ کے فرمان کے مطابق ختم ہوجاتے ہیں آسان زبان میں مختصراً بیان کیا جاتا ہے۔ حج اسلام کا ایک رکن ہے۔ اس کا مطلب ” بیت اللہ کا طواف اور دیگر مناسک کی ادائیگی کے لیے قصد کرنا “ ہے یہ صرف ان لوگوں پر فرض ہے جو مالی اور جسمانی لحاظ سے اس قابل ہوں کہ اخراجات اٹھا سکیں اور سفر وحج کی مشقت برداشت کرسکیں۔ یہ زندگی میں ایک دفعہ کرنا فرض ہے۔ اس کی بڑی فضیلت ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ” میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ کے لیے حج کیا، پھر نہ فحش باتیں کیں اور نہ اللہ کی نافرمانی کی تو وہ (اس طرح گناہوں سے پاک ہو کر) لوٹے گا جیسا کہ وہ اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ “ (بخاری) عمرہ کا مطلب ہے بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کے لیے سفر کرنا، اس کے دن اور مہینہ مقرر نہیں ہے۔ جب چاہیں کرسکتے ہیں اس کی فضیلت میں حدیث ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے مہمان تین ہیں۔ پہلا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا اور دوسرا حج کرنے والا اور تیسرا عمرہ کرنے وا لا۔ ( نسائی ) حج کے مناسک یہ ہیں۔ میقات، احرام، طواف، سعی، قیام عرفہ، رمی، قربانی اور سر کے بال اتروانا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور عیسائی بھی مانتے ہیں۔ انہوں نے توحید کا سبق دیا اور حج اسی سبق کو عملی طور پر کرنے کا طریقہ ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ مناسک حج بہت سے ایسے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت ہاجرہ کے تاریخی کاموں کو دہرائے جانے کا عمل ہے ان کے کارناموں کو زندہ رکھنے کے لئے ان کو دہرایا جاتا ہے اور تاقیامت دہرایا جاتا رہے گا۔ آپ ﷺ کے زمانے میں سب سے بڑا حج کا اجتماع حجتہ الوداع کا تھا اس کے بعد حاجیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی چلی گئی اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ حاجیوں کے لئے قرعہ اندازی سے انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہ بہت بڑی سعادت ہے جو قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے اور پھر سب سے ضروری اور مشکل کام یہ ہے کہ اس سعادت کو ہمیشہ قائم رکھا جائے اور اس کے لئے پہلے سے زیادہ زہد وتقویٰ ، پاک بازی اور عجز و انکساری سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ تو سب کیا کرایا ضائع بھی ہوسکتا ہے۔ حج کرنے کے بعد شیطان کے حملے زیادہ ہوسکتے ہیں، عزت ملنا آسان ہے مگر اس کی حفاظت کرنا مشکل ہے۔
Ayahs 2:204–207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پر بار باروہ خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے مگر حقیقت میں وہ بدترین جھگڑالوہوتا ہے

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

جب اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے۔ تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے اور اللہ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو اپنے وقارکا خیال اس کو گناہ پر جما دیتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے

قسمیں کھانیوالے جھگڑالو اور اللہ کی رضا چاہنے والے تشریح : جیسا کہ حج کے بیان میں نیک و بد انسان کی نشانیاں بیان ہوچکی ہیں کہ بد آدمی صرف دنیا ہی مانگتا ہے مگر نیک دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مانگتا ہے اور پھر دوزخ سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ آیت 204 کا شان نزول اس طرح بیان کیا جاتا ہے۔ کہ قبیلہ ثقیف کا ایک شخص اخنس بن شریق بظاہر مسلمانوں کا بڑ اخیر خواہ تھا۔ نبی کریم ﷺ کے پاس آتا تو قسمیں کھا کھا کر اپنی صفائی میں بڑے بڑے دعوے کرتا۔ لیکن جیسے ہی وہاں سے اٹھتا تو اسلام کے خلاف ہر طرح شرارت، فساد اور جھگڑا کھڑا کرتا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر منافق شخص کچھ ایسے ہی کام کرتا ہے۔ اگلی آیت میں منافق کے بارے میں مزید بتایا جارہا ہے کہ جہاں بھی اس کا داؤ لگتا ہے۔ فساد پھیلاتا ہے، کھیتیاں برباد کرتا ہے، قتل و غارت گری کرتا ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔ اللہ تعالیٰ امن و سکون کو پسند کرتا ہے، مومن اسلام کے پھیلانے میں امن و سکون کو بڑھانے میں اپنے کردار سے پوری کوشش کرتا ہے، جبکہ منافق ہر نیکی کی راہ میں رکاؤٹ پیدا کرتا ہے۔ جب منافق کو کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو وہ اپنی جھوٹی شان و شوکت اور فنا ہونے والی عزت و طاقت میں اتنا زیادہ بدمست ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلط راہ کو ہرگز چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو ایسے لوگوں کے لیے رب العزت نے فرمایا ہے کہ ان کی منافقت ان کو دوزخ میں لے جائے گی اور دوزخ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جو یہ پکا یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ بھی ان کے پاس ہے سب اللہ کا ہی دیا ہوا ہے۔ وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہر چیز حتیٰ کہ اپنی جانیں تک قربان کردینے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں ایسے ہی سچے اور پکے مسلمان اللہ تعالیٰ کو بےحد پسند ہیں اور وہ اپنے بندوں پر بےحد مہربان ہے اگلی آیت میں رب العزت انسان کو راہ ہدایت اختیار کرنے کی تاکید فرماتا ہے۔
Ayahs 2:208–210

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں اگر ان کو پالینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں تو) کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ خود اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں

مکمل ضابطہ حیات اور منکرین کی ہٹ دھرمی تشریح : یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اسلام میں داخل ہوگئے۔ یہ یہودی علماء میں سے تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کو خیال ہوا کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو یہودی مذہب میں جائز تھیں کیوں نہ ان کو بھی اپنے عمل میں جاری رکھا جائے۔ وہ باتیں یہ تھیں یہودی ہفتہ کے دن کو مقدس سمجھتے تھے، اونٹ کے گوشت اور دودھ کو حرام سمجھتے تھے۔ حضرت عبداللہ ؓ اور کچھ دوسرے نو مسلم یہودی علماء نے سوچا کہ چلو کچھ یہودیت کے عقیدوں کو مانے رکھتے ہیں اور کچھ اسلام کے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات جاری کی گئیں کہ یہ رویہ بالکل غلط ہے۔ اگر مسلمان ہونا ہے تو پھر پورے طور طریقے اور تمام اعتقادات کو بھی اپنے عمل میں لاؤ یہ نہیں کہ کچھ اصول مان لیے اور کچھ نہ مانے یہ تو اسلام کی سچائی کے بالکل خلاف ہے اور اس قسم کے خیالات شیطان کی طرف سے تمہارے دل و دماغ میں آتے ہیں اس کی پیروی ہرگز نہ کرو، کیونکہ یہ تو تم سب کو معلوم ہے کہ شیطان ہمیشہ تمہیں برے راستوں پر چلنے کے لیے کہے گا اور پھر یہ بھی طریقہ غلط ہے کہ دل سے اللہ پر ایمان لے آؤ مگر اعمال شیطانی کرو ایمان زبان سے دل سے اور عمل سے پختہ ہونا چاہئے۔ حکم ہے کہ ایمان لاؤ اور پکے مسلمان، اللہ کے نیک بندے بن کر فلاح پاؤ۔ کتنی خوش نصیبی ہے انسان کی کہ اس کی ہدایت اور بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ ہمیشہ پیغمبر اور رسول بھیجتا رہا ہے جو انسان کو نیکی و بدی کا فرق بتاتے ہیں اور ایسی اچھی ہدایت کی باتیں بتاتے ہیں کہ جن پر عمل کرکے انسان دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی خوشیاں حاصل کرسکتا ہے دوزخ سے بچ کر جنت میں جاسکتا ہے اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی انسان ایمان نہیں لاتا تو کیا اس کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ اور فرشتے خود بادلوں کے سائے میں ان کے سامنے آجائیں تو پھر وہ ایمان لائیں گے ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ زبردست بھی ہے اور حکمت والا بھی ہے اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ وقت کب آنے والا ہے اور جب یہ وقت آئے گا تو عمل اور توبہ کا وقت گزر چکا ہوگا۔ اور پھر تمام لوگوں کے ہر قسم کے تمام معاملات اللہ ہی کے سامنے فیصلہ کے لیے پیش کئے جائیں گے اور یہ حساب کا دن ہوگا۔
Ayah 2:211

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

بنی اسرائیل سے پوچھو ! کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انہیں دکھائی ہیں (اور پھر یہ بھی انہیں سے پوچھ لو) اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو بدلتی ہے اسے اللہ کیسی سخت سزا دیتا ہے

بنی اسرائیل سے عبرت تشریح : اس سوال کے لیے بنی اسرائیل کو اس لیے چنا گیا ہے کہ دور جانے سے بہتر ہے کہ جیتی جاگتی ایسی قوم کو سامنے رکھ کر بات کی جائے جو کہ عبرت کا باعث بن چکی ہے اور اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی کی وجہ سے امامت کا درجہ بھی ان سے چھین لیا گیا۔ بنی اسرائیل کے انعامات، فضیلتیں، برکتیں اور رحمتیں یہ سب سورة البقرہ کی آیت 40 سے شروع ہو کر آیت 117، پر ختم ہوجاتی ہیں اور اس تاریخی قرآنی حقائق کو دو باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ختم کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ مقبول ترین قوم بنی اسرائیل ہی رہی۔ دوسری بات یہ کہ ناشکری اور نافرمانی پر تمام نعمتیں چھن گئیں اور امامت کا شرف بھی ان سے چھین لیا گیا۔ بنی اسرائیل کے قصہ سے مسلمانوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ خدائی مہربانی کوئی ایسی شمع نہیں کہ کسی قوم پر ہر صورت میں ہوتی رہے۔ اس کی بھی شرائط ہوتی ہیں بندے جب تک راہ راست پر رہتے ہیں اللہ و رسول ﷺ کی فرمانبرداری خلوص نیت سے کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر و شکر کرتے رہتے ہیں۔ ان پر اللہ کی نعمتیں، برکتیں اور رحمتیں برستی رہتی ہیں، لیکن جب وہ ناشکری، نافرمانی، سر کشی اور بغاوت کرنے لگیں تو نہ صرف یہ کہ نعمتیں ہی چھن جاتی ہیں، بلکہ دنیا و آخرت میں درد ناک سزائیں بھی حق تعالیٰ کی طرف سے دی جاتی ہیں اور یہ حقیقت ہے۔ اسی کا ذکر مذکورہ آیت میں کیا گیا ہے۔ ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس شخص نے کسی دن مجھے یاد کیا یا کسی جگہ مجھ سے ڈرا اسے دوزخ سے نکال لو۔ “ (ترمذی)
Ayah 2:212

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے، ان کے لیے دنیا کی زندگی بڑی محبوب و دل پسند بنا دی گئی ہے۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں، مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ہی ان کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے رہا دنیا کا رزق، تو اللہ کو اختیار ہے جسے چاہے بےحساب دے۔

مؤمن کا مذاق نہ اڑاؤ تشریح : درس القرآن میں اس آیت کے نازل ہونے کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ مشرکوں کے رئیس مسلمانوں پر ہنستے تھے۔ حضرت بلال، عمار، صہیب اور دوسرے غریب صحابہ ؓ کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے کہ آنحضرت ﷺ ان غریب لوگوں کی امداد سے عرب کے سرداروں پر غالب آنا چاہتے ہیں انہیں لوگوں کے مذاق اڑانے پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ ان کا اس طرح سوچنا جہالت اور نادانی ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ یہی غریب اور تنگدست قیامت کے دن ان رئیسوں سے اعلیٰ اور بہترین ہونگے۔ اللہ جسے چاہے بیشمار روزی عطا فرماتا ہے چناچہ ایک دن آیا کہ انہی غریبوں کو بنو قریظہ اور بنو نصیر کی دولتیں ملیں اور اس زمانے کی ایران اور روم جیسی بڑی بڑی سلطنتوں پر اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا کی۔ دنیا کی دولت، حکومت اور قیادت ان کے سپرد کردی اکثر امیر منافقین اپنی دولت کے نشے میں موت کو بھی بھول جاتے ہیں اور ان کی نظر میں یہ دنیا اور دنیا کا مال و متاع ہی سب کچھ ہوتا ہے، جبکہ اصل زندگی نیکی اور پرہیزگاری میں ہے، کیونکہ قیامت میں اسی کے بدلہ میں بہترین اجر، اللہ کی رحمت، برکت اور بخشش ملے گی، جبکہ منکر لوگ اس دن پچھتا رہے ہوں گے اور ذلت و رسوائی ان کے نصیب میں لکھ دی جائے گی۔ دنیا میں رزق کی زیادتی انسان کو گمراہ اور بےخوف بنا دیتی ہے لیکن نیک اور اچھے لوگ اپنے رزق کو دوسروں میں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں خوش دلی سے خرچ کرتے ہیں اور خوف خدا سے دل کو ہر وقت بھرا رکھتے ہیں۔ ذکر و فکر سے وہ کبھی غافل نہیں ہوتے اور ہر وقت شکر ادا کرتے رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ جس کو چاہے بےحساب رزق دیتا ہے، کیونکہ ہر چیز کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے۔