2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 2:236–237

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگاؤ یا مہر مقرر کرو اس صورت میں ان کو کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے خوش حال آدمی اپنی حیثیت سے اور غریب آدمی اپنی حیثیت کے مطابق معروف طریقہ سے دے یہ حق ہے نیک آدمیوں پر

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو، لیکن مہر مقرر کیا جا چکا ہو تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت معاف کردے یا وہ مرد جس کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے نرمی سے کام لے اور تم نرمی سے کام لو تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے

طلاق اور مہر تشریح : طلاق کا بیان اور مسائل بڑی تفصیل سے بیان کردیئے گئے ہیں۔ قرآن ہر ممکنہ پہلو کو سامنے لاکر قانون بتاتا ہے تاکہ کہیں بھی کسی قسم کی کوتاہی انسان سے نہ ہوجائے۔ یہاں پہلے یہ صورت بیان ہوئی کہ نکاح تو ہوگیا مگر حق مہر مقرر نہ ہوا اور نہ ہی مرد نے بیوی کو ہاتھ لگایا مگر کوئی وجہ ایسی پیدا ہوگئی کہ نکاح ختم کرنا پڑا تو اس کی اجازت اللہ تعالیٰ نے دے رکھی ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ آدمی اپنی حیثیت کے مطابق عورت کو کچھ نہ کچھ ضرور دے اور یہ کام بغیر جھگڑے اور بغیر نفرت کا اظہار کئے ہوئے معروف طریقہ سے کیا جائے تاکہ کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو کسی کو تکلیف نہ ہو اور کسی کی تذلیل نہ ہو۔ حسن و خوبی سے مسئلہ حل ہوجائے۔ کیونکہ نیک اور اچھے لوگ ہر کام سلیقہ اور صلح صفائی سے ہی کرتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ نکاح کے ساتھ ہی حق مہر بھی مقرر کردیا گیا۔ لیکن بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دینے کی صورت پیدا ہوگئی تو اس صورت میں حکم یہ ہے کہ طلاق دے دی جائے مگر اس میں حکم یہ ہے کہ آدمی مہر کی آدھی رقم بیوی کو ضرور ادا کر دے۔ ہاں اگر بیوی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ رقم معاف کردے یا تو یہ بھی جائز ہے، اور اگر مرد فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ زیادہ یا پورا مہر ادا کر دے تو اس میں کوئی گناہ نہیں، بلکہ یہ اللہ کے ہاں پسندیدہ کام ہے اور مرد کی فراخ دلی اور تقویٰ میں شامل ہے، کیونکہ رب العزت نے مرد کو طلاق دینے اور نہ دینے کا مختار بنا کر ایک درجہ برتری عطاء کی ہے تو اب اس کا فرض ہے کہ اپنی برتری سے غلط فائدہ نہ اٹھائے، بلکہ بڑی فراخ دلی، نیکی، احسان اور خوش خلقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے تمام احکامات کو پورا کرے اور آپس میں دونوں فریق معروف طریقہ سے پورا معاملہ طے کرلیں اور دل میں کسی قسم کا حسد، بعض اور غصہ نہ رکھیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چھوٹے بڑے عمل کو دیکھتا ہے اور ہمارے تمام اعمال ہماری ٹیپوں پر باقاعدہ ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ اگلی آیت میں عبادات کا موضوع شروع کیا جارہا ہے، تاکہ بندہ کو معلوم ہوجائے کہ زندگی کے عام معاملات کے ساتھ ساتھ عبادات بھی ضروری ہیں۔ لہٰذا نماز کی حفاظت کا بیان کیا جارہا ہے۔
Ayahs 2:238–239

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

اپنی نمازوں کی حفاظت کرو خصوصاً درمیان والی نماز، اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو جیسے فرمانبردار غلام کھڑے ہوتے ہیں

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

خوف کی حالت ہو تو خواہ پیدل ہو یا سوار، جس طرح ممکن ہو نماز پڑھو اور جب امن میسر آجائے تو اللہ کو اس طرح یاد کرو جو اس نے تمہیں سکھا دیا ہے جو پہلے تم نہ جانتے تھے

نمازوں کی پابندی تشریح : عبادات میں نماز کا درجہ بلند ترین ہے۔ کیونکہ اس کے قائم کرنے میں انسان کے لیے نہ دولت کی ضرورت ہے اور نہ ہی مضبوط صحت کی۔ بلکہ یہ خود انسان کی روح کو مضبوط کرنے کے لیے خزانہ ہے اور جسم کو چستی اور مضبوطی دینے کا ذریعہ بھی ہے نماز کے بیشمار فوائد ہیں۔ مثلاً : 1 روحانی قوت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ -2 برائیوں سے نماز بچاتی ہے۔ -3 نظم و ضبط، اتحاد اور اصلاح کا ذریعہ ہے۔ -4 دل کو سکون دینے کا باعث ہے۔ -5 نماز مومن کی پہچان ہے۔ -6 ارکان اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔ -7 نماز میں شفا ہے۔ (حدیث ابن ماجہ) نماز اہم ترین فرائض میں سے ہے اسی لیے نماز کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے۔ سورة طٰہ آیت 32 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو “۔ اس آیت میں نمازوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی فضیلتیں اور فائدے بیشمار ہیں جو آئندہ بھی بیان کئے جاتے رہیں گے اور درمیانی نماز کا خاص طور سے حکم ہے۔ مفسرین اور علماء نے اس بارے میں بہت سی مختلف رائے دی ہیں۔ مگر سب سے قریب ترین نماز عصر ہی لگتی ہے کہ جس کو درمیانی نماز کہا جاسکتا ہے اس کی وجہ تو رب العزت ہی جانتے ہیں ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ نماز کو بڑے آرام و سکون اور پوری توجہ سے پڑھنا چاہیے اور یہی حقیقت بھی ہے، کیونکہ نماز کا مطلب ہے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اس کی تعریف کرکے اس سے اپنی حاجات مانگی جائیں تو جب تک پوری توجہ سے اللہ کے حضور کھڑے نہ ہونگے اس سے بات چیت کیسے ہوسکتی ہے۔ نماز پڑھنے کا طریقہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ ہم غلام ہیں اور اپنے آقا کے سامنے عاجزی سے کھڑے ہیں۔ سب سے پہلے نیت کرتے ہیں پھر دونوں ہاتھ کانوں تک لے جاکر تکبیر کہتے ہیں اس کے بعد دونوں ہاتھ باندھ کر مؤدب کھڑے ہوجاتے ہیں اور اللہ کی پاکی بیان کی جاتی ہے اور یہ اقامت کہلاتی ہے۔ اس کے بعد رکوع میں جاتے ہیں اور اس کی شکل یہ ہے کہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کمر جھکائی جائے اس کے بعد سجدہ آتا ہے اور یہ انتہائی عاجزی اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا سب سے واضح طریقہ ہے، کیونکہ اس میں انسان اپنا ماتھا رب العزت کے حضور میں زمین پر ٹیکتے ہوئے اللہ کی بڑائی، عظمت اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ کی شان میں تسبیح کرتا ہے پھر آخر میں تشہد جو کہ بیٹھ کر اللہ کی تعریف نبی کریم ﷺ پر درود اور دعاء کا طریقہ ہے پھر سلام پھیر کر نماز سے رخصت مل جاتی ہے ( اس کے بعد دعا کا موقعہ ملتا ہے۔ دعا عبادت کا مغز ہے) یہ تمام عمل انسان کو وہ تمام فضیلتیں عطا کرتا ہے جو کہ پچھلے بیان میں لکھی گئی ہیں۔ اسی سلسلہ میں شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ دور کردیتی ہے روح و جان سے ہر آلودگی فکر کی دنیا کو ایسے جگماتی ہے نماز نماز قائم کرنے کی اس حد تک تاکید کی گئیے کہ جنگ کی حالت میں بھی حکم ہے کہ چاہے تم سوار ہو یا پیدل ہو تو جیسے بھی ممکن ہو اشارے سے جھک کر نماز ضرور ادا کرو اور جب امن و سکون ہوجائے تو پھر نماز پوری طرح ادا کرو جیسا کہ اس کا طریقہ بتایا جا چکا ہے۔ نماز دنیا و آخرت کی بھلائیوں کا خزانہ ہے اسی لیے نماز کو جنت کی کنجی کہا گیا ہے۔ اس کی فضیلت میں حدیث ہے حضرت عبداللہ بن بسر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” کہ میری امت قیامت کے دن سجدوں کے باعث روشن چہرے والی ہوگی اور وضو کے باعث سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والی ہوگی “۔ (ترمذی) نماز عصر کی فضیلت میں حدیث ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی گویا اس کے اہل و عیال اور اس کا مال نقصان کا شکار ہوگئے “۔ (بخاری) اگلی آیات میں بیوہ کے لیے وصیت کا بیان ہے جو کہ اب شادی شدہ زندگی کے مسائل کا آخری مسئلہ ہے۔
Ayahs 2:240–242

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں، پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو اپنی ذات کے معاملہ میں معروف طریقہ سے وہ جو کچھ بھی کریں تم پر اس کا کوئی حرج نہیں ہے، اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے

بیوہ کے لیے وصیت تشریح : یہ ازدواجی مسائل کی آخری رہنمائی ہے اس میں حکم ہوا کہ شوہر اپنے آخری وقت میں بیوی کے لیے اپنے وارثوں کو وصیت کر جائے کہ اس کی بیوہ کو ایک سال تک گھر سے نہ نکالا جائے اور وہ مراعات کی حقدار ہوگی مہر مقرر ہوچکا ہو یا نکاح کے وقت مہر کی صراحت نہ ہوئی ہو۔ ہر حال میں اسلام حسن سلوک اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے بعد میں عورت کا حصہ اور عدت مقرر کردی گئی۔ بعض مفسرین نے ان آیات کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اگلی آیات میں جہاد اور مالی قربانیوں کا ذکر ہے۔
Ayah 2:243

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

تم نے ان لوگوں کے حال پر بھی کچھ غور کیا جو موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ اللہ نے ان سے فرمایا، مرجاؤ پھر اس نے انکو دوبارہ زندگی بخشی اصل میں اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانیوالا ہے۔ مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے

موت سے بھاگنے والے تشریح : اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جہاد سے بھاگ کر یا وباء سے ڈر کر شہر سے بھاگ جانا عقل مندی نہیں۔ جہاں وباء پھوٹ پڑے، وہاں سے بھاگ کر دوسری جگہ چلے جانا نقصان دہ بات ہے ہوسکتا ہے وباء کے جراثیم سب میں ہی چلے گئے ہوں تو اس طرح دوسری جگہ بھی وباء پھیل جانے کا خطرہ ہے وہاں کے مریض کی تیمار داری اور علاج ومعالج کون کرائے گا اس لئے حکم ہے کہ اللہ پر یقین رکھو جب موت نے آنا ہے تو وہ آکر رہے گی۔ جہاد میں مرگئے تو شہادت پائی اور اگر وباء سے مرگئے تو اللہ نے اس کو شہادت ہی کہا ہے۔ جہاد سے بھاگ جانا وبا سے بھاگ جانا موت سے نہیں بچا سکتا۔ جیسا کہ اس واقعہ کو اس آیت میں یاد دلایا گیا ہے۔ جبکہ ہزاروں یہودی موت کے ڈر سے وطن سے بھاگ گئے مگر جہاں بھاگ کر وہ گئے تھے اللہ نے ان سب کو مار دیا۔ سات دن کے بعد ایک پیغمبر کی دعاء سے وہ سب اللہ کے حکم سے زندہ ہوگئے پھر انہوں نے توبہ کی اور سمجھ گئے کہ موت وحیات کا کام خود انسان کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ مارنے اور زندہ کرنے کی قدرت تو صرف اس رب العزت کے ہاتھ میں ہے جو انسان پر احسان اور مہربانیاں کرتا ہے اور وہ بڑی طاقت اور قدرت والا ہے وہ تو ہر وقت اپنے بندوں پر رحمتیں نازل کرتا رہتا ہے، اتنی زیادہ مہربانیاں کرتا ہے کہ انسان اگر ان کو گننا چاہے تو گن نہیں سکتا مثلاً : ہمارا تمام جسم اور پھر ہر طرف پھیلی ہوئی قدرت کی نعمتیں۔ ہوا، پانی، روشنی، بارش وغیرہ یہ سب کچھ حاصل کرکے بھی بعض لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ یہ بہت بری بات ہے ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اس کے ہر حکم کو مانتے ہوئے اپنی جان تک اس پر قربان کر دینی چاہئے۔ اگلی آیت میں اسی کا حکم ہے۔
Ayah 2:244

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

مسلمانو ! اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور جان رکھو کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

قرض حسنہ تشریح : اس آیت میں قرض حسنہ کا حکم دیا گیا ہے۔ قرض حسنہ اس قرض کو کہتے ہیں جو بغیر احسان اور بغیر معاوضہ کے کسی کو صرف مدد کے طور پر خوشی سے دیا جائے اور واپسی کے لئے مطالبہ بھی نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کو تو کسی سے قرض لینے کی ہرگز ضرورت نہیں، یہ تو انسان کے لئے ایک نیک کام کرنے کا راستہ بتایا گیا ہے کہ اگر انسان بغیر لالچ کے صرف اللہ کی خوشی حاصل کرنے کیلئے اپنا روپیہ پیسہ جہاد کے لئے یا کسی بھی فلاحی کام کے لئے خرچ کرے گا تو اللہ اس کو اس سے کئی گنا زیادہ ثواب اور اجر دے گا۔ اس لئے اللہ نے حکم دیا کہ دین اسلام کی خاطر دشمنوں سے لڑو، مرنے سے ہرگز نہ ڈرو جیسا کہ پچھلی آیت میں بتایا گیا ہے یہودیوں کی مثال دے کر کہ موت سے بچانے والا اور مارنے والا صرف اللہ ہی ہے اس لئے جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مرجائیں ان کے لئے بیشمار انعامات اللہ نے تیار کر رکھے ہیں۔ اس لئے ویسے ہی مرجانے سے کئی درجہ بہتر ہے کہ جہاد میں شہید ہو کر بڑے رتبے حاصل کریں اور اسی طرح اپنا مال و دولت بھی جہاد کیلئے خرچ کریں تو وہ بھی ہمیں کئی گنا زیادہ ہو کر ملے گا ویسے بھی مال و دولت تو اللہ ہی کی طرف سے ملتا ہے۔ وہ چاہے تو کم کر دے، چاہے تو مال بڑھا دے۔ ہر وقت یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ ہم نے تو آخر مرجانا ہے اور مر کر اللہ ہی کے پاس جانا ہے پھر کیوں نہ اللہ ہی کی خوشی کے لئے زندہ رہیں اسی کی خوشی کے لئے مریں اور اسی کی خوشی کے لئے مال و دولت خرچ کریں۔ تاکہ دنیا میں بھلائی اور آخرت میں نجات حاصل کریں۔ علامہ اقبال نے مومن کی شہادت یوں بیان کی ہے۔ شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن قرض حسنہ
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس کرے ؟ گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی تشریح یہ ہے کہ مومن تو صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے جان دیتا ہے مال و ملک دینا تو اللہ کا کام ہے۔ مومن تو خوشی سے مال بھی اللہ کی راہ میں اور جان بھی اللہ ہی کی راہ میں دیتا ہے۔
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

پھر تم نے اس معاملہ پر بھی غور کیا، جو موسیٰ کے بعد سرداران بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا ؟ انہوں نے اپنے نبی سے کہا ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ نبی نے پوچھا کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو۔ وہ کہنے لگے بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں جب کہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کردیئے گئے ہیں مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے اور اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے

حضرت طالوت کا قصہ تشریح : اس آیت میں بھی عبرت دلانے کیلئے بنی اسرائیل کی تاریخ کے ایک بڑے مشہور واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ واقعہ یاد دلانے سے مقصد یہ ہے کہ مسلمانو تم ہرگز اس طرح نہ کرنا۔ اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کچھ عرصہ بعد حضرت شموئیل (علیہ السلام) کا زمانہ تھا کہ یہودی بادشاہ جالوت اور کئی دوسرے دشمنوں سے گھبرا کر بیت المقدس میں جمع ہوگئے اور اپنے بنی سے کہنے لگے کہ ہم پر کوئی سپہ سالار مقرر کر دو تاکہ ہم اس کی نگرانی میں جہاد کرسکیں۔ بنی نے فرمایا کہ مجھے یہ ڈر ہے کہ جب بھی جہاد کا حکم آئے گا تو تم لوگ بھاگ جاؤ گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیوں کر بھاگ جائیں گے، جبکہ ہم پر اس قدر ظلم اور زیادتی کی گئی ہے ہم ضرور جہاد کریں گے مگر جب جہاد کا حکم آیا تو سوائے چند لوگوں کے سب بھاگ گئے۔ اللہ تعالیٰ کو تو سب معلوم تھا کہ یہ ظالم اور بےکار قسم کے لوگ یہی کریں گے۔ بنی اسرائیل کی یہ مثال صرف مسلمانوں کو سمجھانے کیلئے دی گئی ہے کہ بنی اسرائیل اپنی نافرمانیوں، ضد اور سستی کی وجہ سے بالکل ذلیل و خوار ہوگئے تھے۔ تم کبھی بھی بزدلی اور نافرمانی نہ کرنا ورنہ تمہارا بھی وہی حشر ہوسکتا ہے۔ بنی اسرائیل کی ایک اور حماقت کا ذکر اگلی آیت میں کیا گیا ہے۔
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

ان کے بنی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ یہ سن کر وہ بولے ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حق دار ہوگیا (اس کے مقابلہ میں) ہم بادشاہی کے زیادہ مستحق ہیں وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے۔ بنی نے جواب دیا : اللہ نے تمہارے لئے اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی و جسمانی دونوں قسم کی اہلیت فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہے اور اللہ کو اختیار ہے کہ وہ اپنا ملک جسے چاہے اسے دے، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے

سپہ سالار کی خصوصیات تشریح : اس آیت میں طالوت کا ذکر ہے۔ طالوت ایک تیس سالہ نوجوان تھے ان کا زمانہ 1028 قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے۔ قبیلہ بن یا میں کے ایک معمولی خاندان سے انکا تعلق تھا جو کہ مالی لحاظ سے بہت کمزور تھا مگر ذہنی، علمی اور جسمانی لحاظ سے وہ بہت ہی مضبوط تھے۔ یہودیوں نے اپنی نالائقی کے سبب پھر نکتہ چینی شروع کردی کہ یہ تو غریب آدمی ہے ہم پر یہ بادشاہ کیسے بن سکتا ہے۔ یہ قصہ بھی قرآن پاک میں اسی لئے بیان کیا گیا ہے کہ سرداری اور حکومت کرنے کے لئے مالدار ہونا ضروری نہیں، بلکہ عقل و فہم اور صحت زیادہ ضروری ہے۔ پھر نبی نے ان کو سمجھایا کہ حکومت اور سرداری کے لئے اللہ کے نزدیک مالدار ہونا ضروری نہیں، بلکہ علم اور مضبوط و بہادر ہونا زیادہ ضروری ہے یہ دونوں صفات طالوت میں موجود ہیں اور پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حکمرانی تو دراصل اللہ ہی کی ہے وہ جسے چاہتا ہے حکومت دے دیتا ہے۔ کیونکہ اللہ فضل کرنے والا اور جاننے والا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ حکومت کا مستحق کون ہے۔ تمام مسلم عوام اور مسلم ملکوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ سپہ سالار، لیڈر یا حاکم چنتے ہوئے صرف مالدار ہونا ضروری نہیں، بلکہ ایک لیڈر میں ان صفات کا ہونا بےحد ضروری ہے۔ انسانیت کا علم، فتح کا عزم مصمم، شجاعت، حوصلہ مندی، خود اعتمادی، دوسروں میں اعتماد پیدا کرنے کا طریقہ، بلند خیالی، فراخ دلی، ذہنی اور جسمانی تندرستی، انتظامی مہارت، معاف کرنے کی عادت اور اپنے جوانوں کو فوجی تربیت دینے کے تمام طریقوں سے واقفیت۔ یہ ہیں ایک کامیاب سپہ سالار، لیڈر یا حاکم بننے والوں کے اوصاف۔ صرف مالدار ہی لیڈر، حاکم یا سپہ سالار بن سکتا ہے۔ بنی اسرائیل یہ اور اس طرح کی کئی اور لایعنی حرکتیں کرتے رہے اور اسی لئے ذلیل و خوار ہوئے ہمیں ان کی خامیوں سے سبق سیکھنا چاہئے۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اس کے ساتھ ان کے نبی نے ان کو یہ بھی بتایا کہ خدا کی طرف سے اس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے سکون قلب کا سامان ہے، جس میں آل موسیٰ اور آل ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں اور جس کو اس وقت فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں۔ اگر تم مومن ہو تو یہ تمہارے لئے بہت بڑی نشانی ہے

تابوت سکینہ تشریح : حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل پر بادشاہ مقرر کردیا اور ان کو یقین اور اطمینان دلانے کے لئے ان کو بتایا کہ وہ مبارک صندوق جو جالوت تم سے چھین کرلے گیا ہے۔ وہ طالوت کے زمانے میں تمہیں واپس مل جائے گا اور یہ ایک بڑی نشانی ہے طالوت کے اچھے بادشاہ ہونے کی۔ وہ مبارک صندوق کیا تھا اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اس میں تورات کا اصل نسخہ اور بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے تبرکات موجود تھے۔ بنی اسرائیل اس کو بےحد عزیز اور فتح کا نشان سمجھتے تھے وہ اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ بلکہ لڑائی کے وقت اس کو آگے آگے رکھتے اس خیال سے کہ اس کی برکت سے فتح حاصل ہوجائے گی۔ ہوا یہ کہ ایک دفعہ فلسطینی مشرکین نے کسی لڑائی میں وہ صندوق بنی اسرائیل سے چھین لیا تھا۔ مگر وہ اس صندوق کی وجہ سے بےحد پریشان رہتے وہ جہاں اور جس بستی میں بھی اس کو رکھتے وہاں بربادی اور وبا پھوٹ پڑتی آخر تنگ آکر انہوں نے اس صندوق کو بیل گاڑی پر رکھا اور نامعلوم جگہ کی طرف اس کو ہانک دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اسے طالوت کے دروازے پر لے آئے۔ اس مبارک نشانی کو دیکھ کر بنی اسرائیل طالوت کو بادشاہ ماننے پر راضی ہوگئے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تابوت بنی اسرائیل کے پاس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد تک رہا یعنی 230 ق م۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس صندوق کو ہیکل سلیمانی میں رکھ دیا تھا اس کے بعد معلوم نہ ہوسکا وہ کہاں گیا۔ یہودیوں کا خیال ہے کہ یہ ہیکل سلیمانی کی بنیادوں میں دفن ہے۔ اگلی آیت میں طالوت (علیہ السلام) کا لشکر لے کر نکلنے کا ذکر ہے۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا تو اس نے کہا ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے جو اس کا پانی پیئے گا وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے ہاں ایک آدھ چلو کوئی پی لے۔ مگر سوائے تھوڑے لوگوں کے باقی سب نے سیر ہو کر پانی پیا پھر جب طالوت اور اس کے مومن ساتھی دریا پار کرکے آگے بڑھے تو انہوں نے (طالوت سے) کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ لیکن جو لوگ سمجھتے تھے کہ انہیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے انہوں نے کہا۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ تھوڑی تعداد کا گروہ اللہ کے حکم سے بڑی تعداد کے گروہ پر غالب آگیا ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے

مجاہدین کی آزمائش تشریح : اس آیت میں سب سے پہلے جہاد کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کا ذکر ہے کہ وہ جس کو چاہے عزت دے جیسا کہ طالوت کو بیٹھے بٹھائے بادشاہت مل گئی اور جسے چاہے فقیر کر دے یہ سب انسان کی قدرت سے باہر ہے۔ انسان کا کام ہے اللہ پر مکمل بھروسہ کرکے ہر نیک کام میں پوری کوشش کرے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ یہاں اس بات کا عملی مظاہرہ ہو رہا ہے۔ طالوت نے اپنا لشکر لیا اور جالوت کے مقابلہ کے لئے چل پڑا۔ راستہ میں دریائے اردن (بیان کیا جاتا ہے) آتا تھا۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان کی آزمائش کی تاکہ سچے اور جھوٹے سپاہیوں کی چھانٹی ہوجائے۔ ہوا اس طرح کہ طالوت نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ جو لوگ اس پانی سے سیر ہو کر پی لیں گے وہ میرے ساتھی نہیں ہوں گے اور جو میرے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے یہاں سے پانی نہیں پئیں گے وہ میرے سچے ساتھی ہوں گے۔ البتہ ایک چلو بھر پانی تم پی لو تو اس کی اجازت ہے۔ مگر جو جھوٹے اور بد نیت لوگ تھے انہوں نے خوب سیر ہو کر پانی پی لیا اس میں تھوڑے سے ایسے اچھے اور فرمانبردار لوگ تھے جنہوں نے اپنے سردار کا حکم مانا اور سیر ہو کر پانی نہ پیا جنہوں نے پی لیا وہ سست ہوگئے اور ساتھ چلنے کی ان میں طاقت نہ رہی تو وہ کہنے لگے کہ ہم تو آگے نہیں چل سکتے۔ ان کو فوج سے علیحدہ کردیا گیا اور فوج میں صرف چھ سو مجاہد باقی رہ گئے۔ اب ان کی تعداد کم ہوگئی تھی۔ جب یہ لوگ جالوت کے مقابلہ میں پہنچے تو دشمن کے لشکر کی زیادہ تعداد اور جالوت کے رعب ودبدبہ کو دیکھ کر یہ لوگ ڈرگئے مگر کچھ لوگ ان میں اتنے بہادر اور پکے مومن تھے کہ وہ نہ ڈرے، بلکہ کہنے لگے کہ کوئی بات نہیں کئی دفعہ ایسا ہوچکا ہے کہ اللہ نے چھوٹی جماعت کو بڑی جماعت پر فتح دی صرف اس لئے کہ چھوٹی جماعت کا ایمان مضبوط تھا اور وہ پورے یقین، بہادری اور ایمان کی طاقت سے لڑے۔ طالوت اور ان کے ساتھیوں کو یقین تھا کہ فتح ان کو ضرور ہوگی، کیونکہ ان کے اندر ایمان کی طاقت اللہ پر بھروسہ، ثابت قدمی، بہادری اور صبر و یقین تھا اسی لئے ان کو اللہ کی مدد اور اپنی فتح کا یقین تھا۔ طالوت کی فوج کا یہ تیسرا گروہ تھا۔ کیونکہ ایک گروہ تو ناقص ثابت ہوا جو شروع میں ہی علیحدہ ہوگیا اور باقی دو گروہ بنے ایک کامل لوگ یعنی اچھے اور دوسرے اکمل لوگ یعنی بہت اچھے۔ دوسرا گروہ یعنی کامل لوگ وہ صرف اس لئے تھوڑا گھبرائے کیونکہ ان کے مقابلہ میں جو سردار تھا ( جالوت) وہ بڑا ہی بہادر اور رعب داب والا تھا۔ تورات میں ہے کہ یہ فلسطینیوں کا سردار دس فٹ لمبا تھا، قوت، مضبوطی اور بہادری میں مشہور تھا ہر وقت سر سے پاؤں تک لوہے کا لباس پہنے رہتا تھا اور ہاتھ میں بھاری ڈھال رکھتا تھا۔ مگر طالوت کے پکے مومن اس سے ذرا بھی نہ ڈرے اور بڑی ہمت اور بہادری سے مقابلہ میں ڈٹ گئے باقی قصہ اگلی آیات میں بیان کیا جاتا ہے۔
Ayahs 2:250–251

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ میں نکلے تو انہوں نے دعا کی اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

آخرکار اللہ کے اذن سے انہوں نے کافروں کو مار بھگایا اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا اس کو علم دیا۔ اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعہ سے ہٹاتا نہ رہتا تو زمین کا نظام بگڑ جاتا۔ لیکن دنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے کہ وہ اس طرح دفع فساد کرتا رہتا ہے

صبر و استقامت تشریح : اس آیت میں گزشتہ آیت سے رابطہ قائم کرتے ہوئے بتایا جارہا ہے کہ جب طالوت کا لشکر جالوت کے مقابلہ میں آیا تو انہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے فتح و کامیابی کی دعا کی کہ ” اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو صبر اور مضبوطی عطا کر، ہمارے قدم مضبوط کر دے، ہماری پوری مدد کر اور ہمیں کافروں کی قوم پر فتح نصیب کر۔ “ اللہ کی مدد کافروں پر فتح حاصل کرنے کے لئے مانگی گئی تھی اور بڑے خلوص اور اعتماد سے مانگی گئی تھی سو اللہ تعالیٰ نے قبول کی، ان کی مدد فرمائی اور انہوں نے کافروں کو شکست دی واقعہ اس طرح ہوا کہ جب جالوت نے آکر مقابلہ کی دعوت دی تو کوئی بھی اس کے مقابلہ کی ہمت نہ کرسکا اس پر حضرت داؤد (علیہ السلام) بڑی جرات سے اس کے مقابلہ میں میدان میں اتر آئے اور انہوں نے ایک پتھر اپنے فلاخن ” گوپیا “ (چھوٹا سا ہتھیار) میں رکھ کر ایسا کھینچ کے مارا کہ وہ جالوت کے ماتھے سے گزر کر دماغ میں پہنچ گیا اور مضبوط و بہادر جالوت وہیں تڑپ کر ڈھیر ہوگیا اور یوں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فلسطینیوں پر فتح عطا کی جو کہ ناممکن نظر آرہی تھی۔ مگر مومن کے ایمان کی یہی نشانی ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہوتا ہے، اسی سے مدد مانگتا ہے اور اسی پر بھروسہ کرتا ہے اسی لئے تو علامہ اقبال نے فرمایا۔ کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازو کا نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں اب اس مرد مجاہد کی بات کی جائے جس نے جالوت کو قتل کیا۔ یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) تھے۔ اس وقت یہ کم سن نوجوان تھے، اتفاق سے یہ عین اس وقت لشکر میں پہنچے جب جالوت میدان میں کھڑا مقابلہ کی دعوت دے رہا تھا اور کوئی بھی مقابلہ میں آنے کی ہمت نہ کر رہا تھا تو حضرت داؤد (علیہ السلام) فوراً میدان میں کود پڑے اور آن واحد میں فوراً اس کو قتل کردیا۔ اس فتح اور بہادری کی وجہ سے اسرائیلیوں نے ان کو سر پر اٹھا لیا ان کی بہادری نے ان کو پوری قوم کی آنکھوں کا تارا بنا دیا۔ حضرت طالوت (علیہ السلام) نے اپنی بیٹی کی شادی ان سے کردی اور وہ اسرائیلیوں کے دوسرے فرمانروا بن گئے۔ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سلطنت اور حکمت دی ان کا ذکر قرآن مجید میں تقریباً 16 جگہ آیا ہے۔ آپ 963 تا 1024 ق م۔ ایک پیغمبر گزرے ہیں اور بنی اسرائیل کے دوسرے تاجدار بنے آپ نے سات سال تک پایہ تخت ہبرون کو رکھا۔ اس کے بعد یروشلم کو فتح کرکے اس کو پایہ تخت بنایا۔ ان کے زمانہ میں بڑی فتوحات ہوئیں اسی لئے آپ کا دور حکومت اسرائیلی تاریخ میں حسن انتظام کے لحاظ سے یادگار زمانہ سمجھا جاتا ہے اور پھر حکمت کا لفظ بھی اللہ نے استعمال کیا ہے۔ حکمت کا مطلب ہے دانائی اور پھر علوم کا ذکر ہے تو وہ علوم جو انبیاء (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں ان کا شمار کرنا مشکل ہے۔ یعنی بیشمار علوم اللہ تعالیٰ نے ان کو سکھائے ان کا ذکر انشاء اللہ آئندہ کیا جائے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ انسانوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ ہٹاتا نہ رہتا تو زمین پر فساد برپا ہوجاتا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کا انتظام برقرار رکھنے کے لئے یہ قانون بنا رکھا ہے کہ وہ انسانوں کے ایک گروہ کو ایک خاص مدت تک غلبہ اور طاقت عطا کرتا ہے مگر جب کوئی گروہ حد سے بڑھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے گروہ سے اس کا زور توڑ دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک ہی پارٹی یا گروہ ظلم وستم اور لوٹ مار میں حد سے بڑھ جاتا اور یوں اللہ کی زمین پر فساد اور گڑ بڑ پیدا ہوجاتی۔ جب کہ اللہ تو انسانوں پر فضل و کرم کرنے والا ہے، ثابت ہوا کہ حکومتوں میں ردو بدل بلاوجہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ خاص مقصد اور بھلائی کے لئے ہوتا ہے۔ اب ذرا پیچھے دیکھتے ہیں کہ اس لمبے قصہ سے پہلے جہاد کا حکم دیا گیا تھا۔ اب ذرا غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ جہاد سے متعلق کس قدر تفصیل سے باتیں بتائی گئی ہیں اور اس تاریخی واقعہ سے کس قدر اہم سبق سکھائے گئے ہیں اس قصہ کے خاتمہ پر اچانک مخاطب آنحضرت ﷺ کو کیا جارہا ہے۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں اور تم یقیناً ان لوگوں میں سے ہو جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

گزشتہ نشانیاں تشریح : اس آیت میں ایک تو اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ قرآن پاک میں جو بھی مضامین اور واقعات سابقہ قوموں کے بیان کئے گئے ہیں وہ بالکل ٹھیک اور اصل صورت میں بیان کئے گئے ہیں پچھلی قوموں کی آسمانی کتابوں کی طرح تبدیل نہیں کردیا گیا قرآن مجید کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ اس میں قیامت تک کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی یہ اللہ کا وعدہ ہے اور یہ تمام واقعات بالکل ٹھیک سنانے میں کئی مصلحتیں ہیں۔ مثلاً : پہلی بات یہ ہے کہ یہ بالکل سچے قصے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آنے والی قوموں اور نسلوں کو ان کی زندگیوں سے سبق دینا مطلوب ہے کہ نیکی اور بدی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ خلوص اور بدنیتی کا کیا بدلہ ملتا ہے جیسا کہ بنی اسرائیل کا کردار ہمارے سامنے ہے، کس طرح ہزاروں لوگ گھروں سے نکلے، مرگئے پھر زندہ کئے گئے۔ جالوت کا حملہ کرنا، سپہ سالار کے لئے درخواست کرنا، حضرت طالوت (علیہ السلام) کا بادشاہ بننا پھر انہیں علم اور جسمانی مضبوطی میں سب پر فوقیت حاصل ہونا، تابوت سکینہ کا واپس ملنا، طالوت و جالوت کا مقابلہ ہونا، حضرت داؤ (علیہ السلام) کا جالوت کو قتل کرنا اور پھر سلطنت و پیغمبری کا ملنا یہ سب واقعات آنے والے لوگوں کیلئے نصیحت کا باعث ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ واقعی سچے اور آخری نبی ہیں۔ کیونکہ یہ سب واقعات نبی کریم ﷺ کو کسی نے نہیں بتائے اور نہ ہی آپ ﷺ اس وقت موجود تھے۔ رب العزت نے ان کو اپنی کتاب قرآن مجید کے ذریعہ ہی سب کچھ بتایا ہے۔ قرآن کی سچائی اور آنحضرت ﷺ کی سچائی اس سے ثابت ہوجاتی ہے۔ آخر میں تنبیہ کی جارہی ہے کہ محمد ﷺ صرف ایک رسول اور پیغمبر ہیں جیسا کہ ان سے پہلے کئی رسول بھیجے جا چکے ہیں اور رسول کا کام صرف اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچاتا ہے وہ خود عبادت کئے جانے کے قابل نہیں ہوتے، عبادت کا حق تو صرف اللہ وحدہ لاشریک کا ہی ہے۔ صرف اللہ کی عبادت کرنے کی اجازت ہے۔ نبی یا رسول کا کام تو صرف اللہ کا حکم بندوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ جس قدر نبی اور رسول پہلے گزر چکے ہیں آپ بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ آپ کی فرمانبرداری کرنا بندوں کا فرض ہے آپ کی عبادت کرنا منع اور شرک ہے، کیونکہ عبادت کے لائق صرف اللہ ہی ہے اور کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ ہاں البتہ بعض رسولوں کو بعض پر بڑائی دی گئی ہے جس کا ذکر تیسرے پارے کے شروع میں ہی کیا جارہا ہے۔ خلاصہ پارہ دوم پہلے پارے کی ابتداء سورة فاتحہ سے ہوئی۔ یہ سورت ایک جامع دعا پر مشتمل ہے میں صراط مستقیم کی التجا تھی تو جس کے جواب میں پورا قرآن مل گیا۔ پھر سورة البقرہ شروع ہوئی اس میں مندرجہ ذیل موضوعات ہیں۔ مومن، کافر اور منافق کی تعریف و علامات، خلافت آدم، بنی اسرائیل کی تاریخ اور احکام الٰہی کی مخالفت، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کے حالات بیان کئے گئے۔ دوسرے پارہ میں سب سے پہلے ملت اسلامیہ کے فرائض بتائے گئے۔ پھر تحویل قبلہ کا ذکر ہوا۔ تیسرے رکوع میں شہادت، چوتھے اور پانچویں رکوع میں حلال و حرام اور جاہلی رسمیں۔ چھٹے رکوع میں نیکی کا تصور، قصاص، وصیت، روزہ، دعا اور اعتکاف کے بیانات ہیں۔ آٹھویں، نویں اور دسویں رکوع میں جہاد اور مختلف مسائل کا بیان ہے۔ اس کے بعد اللہ کے راستے میں خرچ کرنا، شراب کا حرام ہونا۔ اہل شرک سے نکاح کی ممانعت کا ذکر ہے۔ بارہویں سے پندرہویں رکوع میں عائلی زندگی کے تمام مسائل اور بچے کے دودھ کی مدت کا ذکر ہے۔ سولہویں اور سترہویں رکوع میں تاریخ بنی اسرائیل کا اہم واقعہ کہ حضرت طالوت (علیہ السلام) کا بادشاہ بننا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی کامیابیاں اور باطل کی شکست کا ذکر کرکے بتلایا کہ کامیابی آخر کار اہل حق کو ہوتی ہے اگرچہ آزمائش کے بعد ہو اور ناکامی ونامرادی ہمیشہ باطل پرستوں کو ہوتی ہے اگرچہ چند دن فراوانی کے گزارلیں۔ مولائے کریم سے دعا گوں ہوں کہ ہمیں بھی اہل حق کے راستہ پر چل کر دارین کی کامیابیاں عطا فرمائے۔ ( آمین) الحمد للہ دوسرا پارہ مکمل ہوا ’
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ سب رسول ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ ان میں سے کوئی وہ ہے جس سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض کے درجے بلند کئے اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کو کھلے معجزے دیئے اور اس کو روح القدس (جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ قوت دی اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو جو لوگ ان پیغمبروں کے بعد ہوئے آپس میں نہ لڑتے جب کہ ان کے پاس صاف حکم پہنچ چکے تھے لیکن انہوں نے باہم اختلاف کیا چناچہ ان میں سے کچھ وہ ہیں جو ایمان لائے اور کچھ وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ باہم نہ لڑتے۔ لیکن اللہ جو چاہے کرتا ہے

تیسرا پارہ سورة البقرہ کے آخری 8 رکوع اور سورة آل عمران کے ابتدائی 9 رکوع، اس طرح کل 17 رکوع اور 124 آیات پر مشتمل ہے۔ اس پارہ کے شروع میں رسولوں کے درجات کا بیان ہے، انفاق فی سبیل اللہ کی ہدایات، اللہ تعالیٰ کی توحید و عظمت، تین واقعات کا ذکر ہے۔ پھر انفاق فی سبیل اللہ، صدقہ، قرض، سود، تجارت، کا ذکر ہے پھر سورة آل عمران شروع ہوتی ہے اس کے بعد محکمات و متشابہات کا بیان پھر بنو نجران کا واقعہ پھر آیت 33 سے حضرت مریم ، آیت 64 اہل کتاب اور توحید کا بیان، انبیاء کے منصب اور آخر میں توحید کی دعوت اور دین اسلام کی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ رسولوں کے درجات تشریح : اس آیت میں کچھ رابطہ پچھلی آیت سے بھی ہے۔ کیونکہ اس میں یہ وضاحت کی گئی تھی کہ محمد ﷺ رسولوں میں شامل ہیں مگر وہ بھی باقی نبیوں کی طرح اللہ کا پیغام پہنچانے والے ہیں اور قابل عزت ہیں مگر یہ نہیں کہ ان کو عبادت کے لائق سمجھا جائے کیونکہ عبادت تو صرف اللہ ہی کی ہوسکتی ہے۔ ویسے تو بیشمار رسول دنیا میں لوگوں کو راہ دکھانے کے لئے بھیجے گئے ہیں مگر ان سب کو درجات علیحدہ علیحدہ ملے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختلف فضیلتیں دی ہیں۔ جیسا کہ محمد ﷺ کا درجہ تمام نبیوں اور رسولوں سے بلند ہے۔ کیونکہ باقی بنی کسی ایک قوم یا ملک کے لئے بھیجے گئے جب کہ آپ ﷺ کو تمام دنیا کے لئے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا گیا ہے اور آپ ﷺ کی تعلیمات پوری دنیا کے لئے ہیں اور پھر آپ ﷺ آخری دین اور آخری کتاب کے لانے والے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو مکمل انسان، نبی اور رسول بنایا گیا کہ آپ ﷺ کے بعد نہ کسی نبی کی ضرورت رہی، نہ دین کی اور نہ ہی کسی آسمانی کتاب کی پھر بھی آپ ﷺ کا درجہ صرف پیغمبر کا ہی ہے خالق یا معبود کا نہیں کیونکہ وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کا ہی مقام ہے۔ اسی نے تمام بنی بھیجے، کچھ کا درجہ اونچا کچھ کا نیچا ہے۔ کسی کے ساتھ اللہ نے بات چیت کی اور ان کو موسیٰ کلیم اللہ کہا گیا یہ عزت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ملی، اسی طرح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا درجہ اپنی جگہ ہے کہ ان کو بیشمار ایسے معجزات دیئے گئے کہ لوگ ان پر یقین کرنے کے لئے مجبور ہوجاتے تھے اس کے علاوہ روح القدس یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی مدد بھی ان کو تائید کی صورت میں دی گئی تھی۔ ابن مریم یعنی مریم کے بیٹے کہہ کر یہ وضاحت کردی کہ وہ خدا نہ تھے، بلکہ ایک عورت حضرت مریم کی اولاد تھے روح القدس (جبرئیل (علیہ السلام) بھی ایک مخلوق ہی ہیں جو کہ اللہ کی طرف سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حفاظت اور مدد کے لئے مقرر کئے گئے تھے۔ یہ سب نبی اور ان کے علاوہ بیشمار نبی اور رسول لوگوں کی ہدایت کے لئے وقتاً فوقتاً بھیجے جاتے رہے۔ کچھ کو آسمانی کتابیں دی گئیں اور کچھ نے دوسروں کی کتابوں سے تعلیم دی لیکن اتنی زیادہ کھلی نشانیوں اور ہدایات کے باوجود بھی لوگ آپس میں لڑتے رہے کچھ ایمان لے آئے اور کچھ نے کفر کیا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اللہ نے انسان کو پورا اختیار دے رکھا ہے کہ وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے یا بدی کا۔ ہدایت کا راستہ بتانے کے بعد انسان کی اپنی مرضی پر چھوڑ دیا گیا کہ گناہ کرے یا ثواب۔ اللہ تعالیٰ کا بندوں کو آزمانے کا یہ ایک خاص طریقہ ہے ورنہ تو اللہ تعالیٰ بہت زیادہ اختیار اور طاقت وقدرت رکھتا ہے۔ وہ اگر چاہتا تو دنیا میں کوئی انسان بھی اس کے حکم کے خلاف نہ چل سکتا۔ مگر اس نے تمام وسیلے انسان کو دے دیئے۔ ہدایت کے لئے کتابیں اور رسول بھیج دیئے مگر راہ اختیار کرنا بندے کو دے دیا یہ اس کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ نیک بن کر جنت کمائے یا بد بن کر دوزخ میں جائے۔ حدیث ہے : اللہ رحیم ہے رحم کو پسند کرتا ہے۔ اپنی رحمت ہر رحیم پر رکھتا ہے۔ (طبرانی)
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تم کو دیا اس دن کے آنے سے پہلے کہ جس دن نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ آشنائی یا سفارش کام آئے گی اور جو کافر ہیں وہی ظالم ہیں۔

اللہ کی راہ میں خرچ تشریح : اس آیت میں ایک تو اللہ کی قدرت کا ذکر ہے کہ انسان کو مال و دولت اور صحت و تندرستی غرض ہر چیز اسی کی ہی دی ہوئی ہیں۔ اس لئے انسان کو حکم دیا گیا ہے کہ تم تو صرف اس دنیا میں کچھ عرصہ کے لئے بھیجے گئے ہو تو اس دنیا سے جانے سے پہلے پہلے اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت اللہ کی راہ میں خوشی سے خوب خرچ کرو۔ کیونکہ یہ خرچ کیا ہوا تمہارے بہت کام آئے گا، جو مال تم برے کاموں کے لئے خرچ کرو گے وہ مرنے کے بعد تمہارے کام اس طرح آئے گا کہ تمہیں عذاب ملے گا۔ لیکن اللہ کی راہ میں یعنی نیک کاموں کے لئے جو بھی تم خرچ کرو گے اس سے کئی گنا زیادہ تمہیں ثواب کی صورت میں دے دیا جائے گا۔ اگر انسان اس بات کو ہر وقت ذہن میں رکھے کہ اس نے مرجانا ہے اور پھر اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ سزا یا جزاء پانی ہے تو وہ ہر برائی سے بچ سکتا ہے اور حساب والے دن کی تعریف اللہ تعالیٰ نے یوں کی ہے۔ -1 اس دن کسی سے سودے بازی لین دین نہ ہو سکے گا۔ -2 نہ محبت، دوستی یا رشتہ داری کا فائدہ مل سکے گا۔ -3 نہ کسی بڑے آدمی کی سفارش، دولت، رتبہ یا دباؤ کام آسکے گا۔ یہ سب دنیا کی سہولتیں ہیں۔ اللہ کے سامنے جب اعمال کا حساب و کتاب ہوگا تو صرف اپنے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ ملے گا اسی لئے کہا گیا ہے کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال کو برے کاموں کے لئے نہیں، بلکہ اللہ کی راہ میں نیک کاموں کے لئے خوشی سے خرچ کرو۔ حدیث میں آیا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے آدم کے بیٹے ! تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہ زندہ وجاوید ہستی ہے ( جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے) اس کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے ؟ وہ جانتا ہے جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اور جو کچھ اوجھل ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز ان کی گرفت یا ادراک میں نہیں آسکتی۔ سوائے اس کے کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے۔ اس کی حکومت زمینوں اور آسمانوں پرچھائی ہوئی ہے اور ان کی نگہبانی اس کے لئے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں۔ بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے

اللہ تعالیٰ کی صفات تشریح : یہ آیت اللہ تعالیٰ کی صفات، جلال، وحدانیت اور علو شان پر مبنی ہے۔ کرسی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یعنی مکمل اقتدار، حکومت اور اختیارات ایسے اختیارات جن میں کوئی دوسرا شریک نہیں یہ دس جملوں پر مشتمل ہے ہر جملہ اللہ کی وحدانیت کا ثبوت پیش کر رہا ہے اور دو اہم جملوں پر اس کی بنیاد ہے۔ پہلا وہ واحد ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور دوسرا ” اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ “ وہ زندہ ہے اور قائم ہے۔ (ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا) بلکہ آنحضرت ﷺ نے تو ” یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ “ کو اسم اعظم کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مندرجہ ذیل صفات سے مکمل اور اٹل کردیا گیا ہے۔ -1 اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ -2 وہ زندہ ہے، زندگی کے لئے کسی کا محتاج نہیں۔ -3 خود ہمشہ قائم رہنے والا، تمام مخلوقات کو پیدا کرنیوالا، زندہ رکھنے والا اور پوری کائنات کو مکمل طور پر سنبھالنے والا ہے۔ -4 اسے نہ نیند آتی ہے اور نہ ہی اسے اونگھ آتی ہے کیونکہ وہ ان عادات سے بےنیاز ہے۔ -5 زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ -6 اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے سامنے سفارش نہیں کرسکتا۔ -7 کوئی اس کے علم اور اقتدار میں سے کچھ چھین نہیں سکتا۔ -8 زمین و آسمان اور ساری کائنات کی حفاظت اس کے لئے آسان ہے۔ -9 وہ ہر کسی کے تمام حالات سے باخبر ہے۔ -10 بلندی اور عظمت اسی کے لئے ہے۔ یہ تمام صفات اس وقت انسان کے سامنے پوری طرح روشن ہوجاتی ہیں جب وہ اپنے اوپر نظر ڈالتا ہے اور اپنی زندگی کے راز کو دریافت کرنے نکلتا ہے۔ جیسا کہ مولانا وحید الدین اپنی کتاب ” مذہب اور سائنس “ میں لکھتے ہیں۔ ڈاکٹر Joad کے الفاظ میں کہ زندگی کا راز انسان کے لئے ناقابل دریافت ہے۔ اب جس طرح ایک بیمار شخص کی معذوری کہ وہ اپنا علاج خود نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہے اسی طرح نظام فطرت میں انسان کا ایک چیز کے لئے ضرورت مند ہونا اور پھر اس ضرورت کی تکمیل کے لئے کافی صلاحیت نہ رکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کے لئے وہ اپنے اللہ کا محتاج ہے جس نے اسے موجودہ شکل میں بنایا جس طرح اللہ نے انسان کو آکسیجن کا محتاج بنایا اور پھر آکسیجن بےحساب مقدار میں سارے کرہ ارض کے گرد پھیلا دی۔ اسی طرح اس نے انسان کو زندگی کی حقیقت جاننے کا محتاج بنایا اور پھر اپنے نبیوں کے ذریعہ زندگی کی حقیقت واضح فرمائی “۔ اسی لئے تو آیت الکرسی کے آخر میں آتا ہے کہ علم تو اسی کا ہے اور اس کا علم کسی انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتا مگر اتنا جتنا کہ وہ خود عطا کرے۔ پوری کائنات کو سنبھالے رکھنا اور تمام انتظامات بڑی ہی کامیابی سے کرنا اللہ کے لئے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں۔ یہی تمام نشانیاں ہیں جن کو دیکھ کر ہم اللہ کا اقرار کرتے ہیں ورنہ اللہ کا وجود انسان کی سمجھ میں ہرگز نہیں آسکتا۔ پس وہ ” ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ “ ہے اور ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔
Ayahs 2:256–257

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین میں کوئی جبر نہیں بیشک ہدایت گمراہی سے جدا ہوچکی ہے، جو گمراہ کرنے والوں کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ ایمانداروں کا مددگار ہے انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور جو لوگ کافر ہوئے ان کے رفیق شیطان ہیں وہ انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی لوگ دوزخی ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے

اسلام میں جبر نہیں تشریح : اس آیت میں دین کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔ دین کا مطلب ہے وہ تمام عقیدے جو گزشتہ آیت الکرسی میں بیان کئے گئے ہیں ان پر صحیح اور مکمل ایمان رکھنا اور یہ تمام عقیدے اسلام کہلاتے ہیں۔ اسلام کے جس قدر اصول اور قانون بنائے گئے ہیں وہ بہترین ہیں مگر اسلام کسی بھی شخص پر زبردستی نہیں ڈالا جاسکتا۔ مذہب اسلام کا یہ اصول ہی نہیں کہ زبردستی مسلمان کیا جائے، اسلام کی تبلیغ کے لئے بہت تاکید کی گئی ہے مگر ساری تاریخ میں کبھی کہیں اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ کسی کو زبردستی مسلمان بنایا گیا ہو، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اس کے کچھ احکامات مان لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں۔ کیونکہ جب ہدایت (اسلام) گمراہی (کفر) سے جدا ہوگئی تو پھر ایک ہی راستہ پر چلنا ہوگا۔ جب ایک دفعہ انسان نے شیطان کے راستہ کو جھوٹا قرار دے دیا اور نیکی کا راستہ اختیار کرلیا جو کہ انتہائی خوبصورت اور نورانی راستہ ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ جس نے اللہ کی راہ اختیار کی تو گویا وہ اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آگیا، لیکن جو کافر ہیں تو وہ گویا شیطان کے دوست ہیں اور شیطان تو ہمیشہ روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتا ہے۔ یہاں اسلام کو روشنی اور کفر کو اندھیرا کہا گیا ہے اور پھر واضح کردیا گیا ہے کہ جو بھی شیطان کے دوست یا فرمانبردار ہوں گے وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے اور ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ہدایت کی روشنی اور کفر کے اندھیرے کو اختیار کرنے والوں کی وضاحت میں اگلی آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کا مکالمہ بیان کیا جاتا ہے۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کی بابت جھگڑا کیا اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو سلطنت دی تھی جب ابراہیم نے کہا : میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ وہ بولا میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا بیشک اللہ سورج کو مشرق سے لاتا ہے تو تو اسے مغرب کی طرف سے نکال کر دکھا۔ تب وہ کافر لاجواب ہوگیا اور اللہ بےانصافوں کو راہ نہیں دکھاتا

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود تشریح : اس سے پہلی آیات میں مومنین اور کفار کے ایمان کی روشنی اور کفر کی تاریکی کا بیان تھا۔ اب اسی سلسلہ میں کچھ واقعات اور مثالیں بیان کی جارہی ہیں۔ پہلی مثال میں نمرود بادشاہ کا ذکر ہے جو کہ عراق پر حکومت کرتا تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اس کی سلطنت میں بہت بڑے عہدے پر کام کرتے اور بت بناتے تھے۔ نمرود اس قدر مغرور اور سرکش تھا کہ اپنے آپ کو خدا کہلواتا اور سجدہ کرواتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے خدا ماننے اور سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ نمرود نے وجہ پوچھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتا۔ نمرود نے کہا کہ رب تو میں ہوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ رب وہ ہوتا ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اس پر نمرود نے دو قیدی منگوائے، بےقصور کو مار ڈالا اور جو قصور وار تھا اس کو چھوڑ دیا اور پھر بولا کہ دیکھا میں جس کو چاہوں مار ڈالوں اور جسے چاہوں موت سے بچا لوں۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ کافر میری دلیل کو غلط رنگ دے رہا ہے تو اور عوام کو فریب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے دوسرا مسکت استدلال پیش کردیا اور کہا : اچھا میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اس کو مغرب سے نکال کر دکھا۔ اس پر نمرود حیران و پریشان ہوگیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔ مگر وہ اتنا مغرور اور احمق تھا کہ اس پر بھی ایمان نہ لایا یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ ہٹ دھرم اور گمراہی پر جم کر رہ جائیں تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ کفر کے اندھیروں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں اگلی آیت میں ایک اجڑی ہوئی بستی کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا اس شخص کو کہ وہ ایک شہر پر گزرا اور وہ شہر اپنی چھتوں پر گراپڑا تھا۔ بولا اللہ اسے کیونکر زندہ کرے گا اس کے مرنے کے بعد پھر اللہ نے اسے سو برس تک فوت کیے رکھا پھر اسے اٹھایا اور پوچھا تو یہاں کتنی دیر تک رہا ؟ بولا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم۔ کہا نہیں بلکہ تو سو برس تک رہا اب ذرا اپنے کھانے اور پینے کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا۔ دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو ( کہ اس کا پنجر تک بوسیدہ ہو رہا ہے) اور یہ ہم نے اس لئے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں پھر (گدھے کی) ہڈیوں کی طرف دیکھو کیسے ہم انہیں ابھار کر جوڑتے ہیں اور پھر کیسے گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں۔ اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہوگئی، تو اس نے کہا ” میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

موت کے بعد زندگی تشریح : اس سے پچھلے واقعہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود) میں ذات باری تعالیٰ کا اثبات تھا اور اس میں احیائے موتیٰ کا اثبات ہے اور یہ ایک پیغمبر کا قصہ بیان کیا جارہا ہے۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کے ساتھ یہ واقعہ تعلق رکھتا ہے تو واقعہ اس طرح ہوا کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) بخت نصر کی قید سے رہا ہو کر آئے تو ایک ایسی بستی سے گزرے جو بالکل برباد ہوئی پڑی تھی۔ انہوں نے تعجب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب لوگ مرچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کیسے کریں گے ؟ اللہ سننے والے اور جاننے والے نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اسی وقت فوت کردیا اور سو سال تک اسی حالت میں پڑے رہے پھر اچانک اللہ تعالیٰ نے زندہ کردیا جب وہ زندہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے پوچھا : ” آپ کتنی دیر یہاں رہے ؟۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ ” ایک دن ہوا ہے یا اس سے بھی کم اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اپنے کھانے اور پینے کو دیکھو اور اپنے گدھے کو دیکھو کیسے اس کا پنجر پڑا ہوا ہے “۔ اللہ کی قدرت سے ان کے سامنے گدھے کی تمام ہڈیاں جڑ گئیں ان پر گوشت اور کھال چڑھ گئی اس میں جان پڑگئی اور وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ یہ سب دیکھ کر حضرت عزیر (علیہ السلام) بول اٹھے۔ ” مجھے عین یقین ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ حالانکہ میں پہلے بھی جانتا تھا کہ مردہ کو زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے بالکل آسان ہے مگر اب تو سب کچھ اپنی آنکھ سے دیکھ لیا ہے “۔ اس تمام واقعہ کے بیان کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کے ایمان میں کوئی فرق تھا۔ بلکہ یہ تو صرف ان کو ذاتی طور پر دکھانا مقصد تھا۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) یہاں سے سیدھے بیت المقدس گئے وہاں ان کو کسی نے بھی نہ پہچانا کیونکہ وہ تو جوان تھے اور ان کے ساتھ والے سب بوڑھے ہوچکے تھے پھر انہوں نے لوگوں کو یقین دلانے کے لئے زبانی توریت سنائی تو لوگوں نے یقین کرلیا کہ وہ واقعی حضرت عزیر (علیہ السلام) ہی ہیں اور جو واقعہ ان کے ساتھ ہوا ہے وہ بھی سچ ہے۔ اس سارے قصہ کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگوں کو یقین ہوجائے کہ مردوں کو زندہ کرنا اللہ جل شانہ کے لئے بالکل آسان کام ہے اور قیامت کا آنا بالکل یقینی بات ہے اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ اس دن تمام لوگ ایک دم زندہ ہوجائیں گے اور اللہ کے حضور پیش ہو کر اپنا حساب کتاب دیں گے۔ اکثر مفسرین کا یہی خیال ہے کہ یہ واقعہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا تھا۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک بہت مشہور پیغمبر گزرے ہیں، ان کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح تھا۔ 450 ق م میں ڈیڑھ ہزار یہودیوں کو قید سے چھڑا کر فلسطین لائے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت یر میاہ بنی کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ بھی اسرائیلی سلسلہ کے پیغمبر تھے۔ ان کا زمانہ ساتویں صدی قبل مسیح تھا۔ بہرحال اس کی تحقیق اتنی ضروری نہیں، بلکہ یہ زیادہ ضروری ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کو یقین سے جان لیں کہ اللہ کے لئے مردوں کو زندہ کرنا بالکل آسان ہے۔ قیامت ضرور آئے گی اور ہم سب اللہ کے حضور ضرور پیش ہو کر اپنا اپنا حساب کتاب دے کر سزا اور جزا پائیں گے۔ اسی سلسلے میں ایک مثال اور دی جارہی ہے ملاحظہ ہو۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور ( یاد کرو) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے رب مجھے دکھا کہ تو مردے کیسے زندہ کرتا ہے۔ فرمایا : کیا تو نے یقین نہیں کیا ؟ کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے کیوں نہیں لیکن (اس واسطے) چاہتا ہوں کہ میرے دل کی تسکین ہوجائے۔ تو فرمایا تم چار پرندے پکڑلو پھر ان کو اپنے ساتھ مانوس کرلو پھر پہاڑ پر ان کے جسم کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر انہیں بلاؤ وہ تیرے پاس دوڑتے آئیں گے اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے

مُردوں کو زندہ کرنا تشریح : اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو عملی طور پر مردوں کو زندہ کرنے کا طریقہ دکھایا گیا جس سے اللہ کی قدرت کاملہ واضح ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے تمام علما، سائنس دان اور فقہاء اس بات کو نہیں بتا سکتے کہ اصل طریقہ یا اصل قانون کون سا ہے جس سے اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرتا ہے یا کرے گا۔ سوائے اس کے کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ یہ اس کی قدرت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی بھی کام کے کرنے میں اسباب کا محتاج نہیں اور نہ ہی کام کرنے کے لئے اس کو اسباب کی ضرورت ہے۔ انسان کے لئے ہر کام میں کوئی نہ کوئی سبب ضروری ہے اور یہ سبب بھی اللہ تعالیٰ کے ہی بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ان کو کم کر دے یا زیادہ یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ لیکن وہ خود کسی بھی کام کے کرنے میں کسی سبب یا کسی دوسرے کا محتاج نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ مجھے بتائیں آپ موت کے بعد کیسے زندگی دیتے ہیں۔ یہ سوال اس لئے نہیں کیا تھا کہ ان کا ایمان کمزور ہوگیا تھا، بلکہ لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے وہ آنکھ سے دیکھ کر بہت زیادہ اطمینان حاصل کرنا چاہتے تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس پر یقین نہیں ؟ تو آپ نے عرض کی کہ کیوں نہیں یقین تو بہت ہے مگر میں دل کو اطمینان چاہتا ہوں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ چار پرندے لیں ان کو اپنے ساتھ مانوس کرلیں پھر ان کو ذبحہ کرکے ان کے ٹکڑے آپس میں ملا دیں پھر ان کو علیحدہ علیحدہ پہاڑوں پر رکھ دیں اس کے بعد آپ ان کو پکاریں تو آپ کے سامنے وہ ٹکڑے آپس میں مل کر جیتے جاگتے پرندے آپ کی طرف بھاگ کر آجائیں گے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا اور پرندے بھاگتے ہوئے ان کے پاس آگئے اس آیت میں بہت سی حکمت کی باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ مثلاً -1 نبیوں کو آنکھ کے مشاہدہ سے ایمان اور یقین میں پختگی آتی ہے۔ -2 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اللہ سے سوال کیا تو اس کا مطلب تھا کہ وہ نیکی اور تحقیق میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ اس سے ایمان بڑھتا ہے اور دوسروں کو سکھانے اور بتانے میں آسانی اور سہولت ہوجاتی ہے۔ -3 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مانوس پرندے اگر ان کے بلانے پر دوڑے چلے آئے تو کیا انسان جس کو اللہ نے زندگی دی پھر پرورش کیا اور دنیا کی بیشمار نعمتوں سے مالا مال کیا۔ کیا اس کے لئے ضروری نہیں کہ اپنے مالک و خالق حقیقی کی آواز اور اسکے بلاوے پر دوڑا چلا آئے۔ -4 اللہ تعالیٰ کی قدرت، طاقت اور عظمت بہت زیادہ ہے جیسا کہ آیت الکرسی میں بیان کیا جا چکا ہے تو ایسے قادر مطلق کے لئے کوئی بھی کام ناممکن نہیں۔ -5 وہ عزیز و حکیم زبردست حکمت والا ہے۔ اس کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں۔ تو قیامت اور مرنے کے بعد زندگی “ بھی حکمت سے خالی نہیں یہی عقیدہ ہے جو ہر انسان کو اپنے اعمال درست رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر یہ عقیدہ نہ ہو تو کسی کو بھی نہ اللہ کا ڈر ہو نہ حساب کتاب اور سزا و جزاء کا ڈر ہو۔ جب ان دو باتوں پر یقین ہو یعنی مرنے پر اور پھر دوبارہ زندہ ہونے پر تو پھر ہر انسان اپنے اعمال پر خود ہی سخت نظر رکھتا ہے اور یوں ایک انسان پکا مسلمان، نیک اور پرہیزگار بندہ بن کر اچھی زندگی گزارتا ہے اور یوں دنیا میں امن، سکون اور خوبصورتی بڑھتی ہے۔ آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ توحید کا مضمون جو آیت الکرسی سے شروع ہوا تھا اس آیت پر ختم ہوتا ہے۔ ویسے جتنے بھی مختلف مسائل آئندہ بیاں کئے جائیں گے تو درمیان میں عقائد کا بیان جاری رہے گا۔ کیونکہ مسلمان کا بنیادی عقیدہ توحید ہی تو ہے۔