2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 2:133–134

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب (علیہ السلام) اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے اس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا ! میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟ ان سب نے جواب دیا ہم اسی ایک معبود کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق نے یکتا الٰہ مانا ہے اور ہم اسی کے لیے مطیع ہیں۔

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کے لئے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے وہ تمہارے لئے ہے تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت تشریح : حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت سارہ کے بیٹے، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی تھے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے حضرت یعقوب (علیہ السلام) تھے اس آیت میں اللہ جل شانہ یہودیوں کو خطاب کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ تم جو من گھڑت باتیں بنا کر اسلام سے پھر رہے ہو اور غلط باتیں اپنے بزرگوں کے متعلق کہتے ہو تو کیا تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے موت کے وقت اپنے بیٹوں سے سوال کیا کہ میرے بعد کس کی عبادت کرو گے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اسی اللہ کی عبادت کریں گے جس کی عبادت آپ کے دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آپ کے چچا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور آپ کے والد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کرتے آئے ہیں دین ابراہیمی اور اسلام ایک ہی چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ یعنی خدا پرستی اور نیک عملی، جو قوم یا افراد اس سے انکار کریں گے وہ چاہے کسی کے بھی بیٹے ہوں، عذاب سے بچ نہ سکیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر خاص طور سے اس لئے کیا گیا کہ اگر انہوں نے اولاد کو رب العزت کی رضا کے لئے قربان کردینا منظور کیا تو ان کے لئے نیک نصیحت اور نیک عملی کا ثبوت بھی دیا باپ کی محبت ان کو بھی اتنی ہی دی گئی تھی جتنی کسی دوسرے انسان کو دی جاتی ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے دنیا و آخرت کی بھلائیوں کے لئے دعا کی اور پھر موت کے وقت بھی ان کو یہی خیال رہا کہ اپنی اولاد کو دنیا کی سب سے بڑی دولت کی نصیحت کر جائیں اور وہ سب سے بڑی دولت کیا تھی ؟ ایمان، عمل صالح اور اسلام۔ ان کے نزدیک اولاد کے لئے کوئی دولت، دین و اسلام سکھانے کے برابر نہیں۔ ” معارف القرآن “ میں کتنی پیاری بات لکھی گئی ہے : ” آج کل مسلمانوں میں بےعلمی اور بےدینی پھیلنے کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین اگر خود دین سے واقف اور دیندار بھی ہیں تو اس کی فکر نہیں کرتے کہ ہماری اولاد بھی دیندار ہو کر ہمیشہ کی راحت پائے۔ عام طور پر ہماری نظریں صرف اولاد کی دنیوی راحت پر ہی ہوتی ہیں صرف اسی کے لئے ہی انتظام کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ آخرت کی فکر میں لگ جائیں اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے سب سے بڑا سرمایہ ایمان اور عمل صالح کو سمجھ کر اس کی کوشش کریں “۔ ( آمین) اور جب بھی دعا کریں اپنے لئے اولاد کے لئے تو دنیا و آخرت کی بھلائی کے لئے دعا کریں جیسا کہ دعا موجود ہے۔ ” اے رب ہمارے ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا کر “ ـــ۔ آخر میں بتایا گیا ہے کہ آباؤاجداد کے اعمال کی سزا و جزا، اولاد پر نہیں ہوگی اور نہ ہی نسب عذاب سے بچا سکے گا۔ اپنا کیا ہوا ہی کام آئے گا، جیسا کہ سورة یونس کی آیت 26 ۔ میں فرمایا گیا ہے۔ ” جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا ان کے لئے بھلائی ہے اور مزید فضل “ اور ایک جگہ فرمایا : ” کسی کا بوجھ قیامت کے روز کوئی دوسرا نہیں اٹھا سکے گا “۔ اس لئے ہر وقت دھیان میں رکھنا چاہیے کہ یہ دنیا فانی ہے ہم سب مرجائیں گے۔ قیامت ضرور آئے گی اور اللہ رب العزت ہمارا حساب و کتاب ضرور لیں گے اور پھر وہ زندگی ہمیشہ کی زندگی ہوگی اس زندگی کی فکر کرنا ضروری ہے خود بھی نیکی کی راہ اختیار کریں اور اولاد کو بھی نیکی کی راہ پر چلنے کی تاکید کریں۔ اسی میں فلاح ہے نجات ہے اگلی آیت میں ملت ابراہیمی کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

وہ کہتے تھے کہ یہودی یا نصرانی ہوجاؤ تو تم راہ راست پالو گے کہہ دیجئے کہ ہرگز نہیں بلکہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی راہ اختیار کی جو ایک اللہ کے ہو کر رہے تھے اور جو مشرکوں میں سے نہ تھے

ملت ابراہیمی تشریح : درس قرآن میں اس کی تفسیر بڑی جامع اور مختصر بیان کی گئی ہے ملاحظہ ہو :” قرآن مجید نے اہل کتاب اور تمام مشرکوں کے جھوٹے عقیدوں کی تردید کردی ہے، ان کی دلیلوں کو غلط ثابت کرکے روشن اور واضح دلائل کے ساتھ حق قبول کرنے کی دعوت دی، یہودیوں اور عیسائیوں کو چاہیے تھا کہ قرآن مجید کی سیدھی اور سچی تعلیم کو قبول کرلیتے۔ لیکن اس کے بجائے انہوں نے حسد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا اور الٹا مسلمانوں کو یہودیت اور عیسائیت کی دعوت دینے لگے۔ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہمارا دین قبول کرلو۔ تو تمہیں دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل ہوجائے گی، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعوت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو ساری امت کی طرف سے یہ جواب دینے کو کہا کہ اے اہل کتاب تم نے اپنی کتابوں اور شریعتوں میں بیشمار تبدیلیاں کردی ہیں اور ہمارا دین بس اسی قدیم دین توحید پر ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تھا ہم اسی دین پر قائم ہیں اور ہم نے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔ دوسرا یہ کہ تم کس منہ سے اپنے دین کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب منسوب کرتے ہو وہ تو شرک کے قریب بھی نہیں گزرے تھے وہ خالص توحید پر قائم تھے اور تم لوگوں کا مذہب تو شرک کی گندگیوں سے بھرا پڑا ہے تم کس طرح دین حق اور نجات کے دعویدار ہوسکتے ہو “۔ اگلی آیت میں مسلمانوں کے تمام نبیوں پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 2:136

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر، اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے، جو ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ (علیہ السلام) ، عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے لیے مطیع ہیں

تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے تشریح : اس آیت میں مسلمانوں کو کہا گیا ہے کہ تم یہود و نصاریٰ کو ان کی اصلیت بتا دو ، کیونکہ یہ اپنے حسد، بغض اور ہٹ دھرمی میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں، کسی نبی کو مانتے ہیں، کسی کو نہیں مانتے اور پھر ان کے خیال میں آخرت و نجات محض نسل اور قوم کی وجہ سے ہوگی، چاہے اعمال کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں۔ اس کے برعکس ہم مسلمان نہ صرف محمد ﷺ پر اور قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، بلکہ ہمارے عقیدہ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہم تمام انبیاء و رسل ان کی کتابوں اور ان کی تعلیمات کو بھی سچا سمجھتے ہیں، کیونکہ تمام انبیاء و رسل نے سچائی اور توحید کا ہی پیغام دیا ہے اولاد یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے یہ برکت عطا فرمائی ہے کہ (معارف القرآن صفحہ 353) دس انبیاء کے علاوہ باقی تمام انبیاء و رسل اولاد یعقوب (علیہ السلام) میں پیدا ہوئے۔ بنی اسرائیل کے علاوہ باقی انبیاء حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد نوح (علیہ السلام) ، شعیب (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) ، صالح (علیہ السلام) ، لوط (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) اور محمد ﷺ ہیں۔ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ تمام انبیاء و رسول سچے ہیں اور پھر مسلمان کی شان اور تعریف ہی یہ ہے کہ وہ اللہ رب العزت کا فرمانبردار ہے اور مسلمان کا سب کچھ اللہ جل جلالہ کا ہے وہ اسی کی رضا کا طالب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سے ہمیشہ راضی رہے اور شیطان ہم سے ہمیشہ ناراض رہے آمین اگلی آیات میں مسلمان کی صفات ذرا اور وضاحت سے بیان کی گئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ذکر ہے۔
Ayahs 2:137–140

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

پھر وہ اگر اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم لائے ہو تو ہدایت پا جائیں گے۔ اگر اس سے منہ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں لہٰذا ( اطمینان رکھو کہ) ان کے مقابلہ میں اللہ تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے۔ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

اللہ کا رنگ اختیار کرو، اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

اے بنی ان سے کہو ! کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں۔ تمہارے اعمال تمہارے لئے، ہم اللہ ہی کے لئے اپنی بندگی کو خاص کرچکے ہیں۔

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

یا پھر تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ، ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے ؟ کہو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس کے ذمہ اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے تمہاری حرکات سے اللہ تو غافل نہیں ہے

مسلمان کی وضاحت تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے ایمان کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ایمان اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی مقبول ہے جیسا ایمان آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کا تھا اس کے علاوہ اگر ذرا بھی نفاق، شرک اور نافرمانی کا اثر موجود ہو تو ایسا ایمان اللہ تعالیٰ کو نامنظور ہے۔ رب جل شانہ فرماتے ہیں : اے پیغمبر ﷺ آپ نے ہمارا پیغام پہنچا کر اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی نجات چاہتے ہیں تو اسلام قبول کرکے کامیاب ہوجائیں، ہم ان کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیں گے اور اگر یہ اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی پر اڑے رہتے ہیں تو آپ ﷺ اس کی بالکل فکر نہ کریں ہم ان کے ظاہر و باطن سے پوری طرح آگاہ ہیں تو ہم ان سے بڑی اچھی طرح نمٹ لیں گے آیت کے آخر میں محمد ﷺ اور امت محمد ﷺ کو کتنی اچھی بشارت دی گئی ہے کہ تمہارے لئے تمہارا رب کافی ہے رب عظیم کے بعد کسی دوسرے سہارے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی اس لئے بےفکر ہوجاؤ۔ آیت نمبر 138 میں اللہ کے رنگ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے دو باتوں کی وضاحت ہوجاتی ہے، ایک تو وہ رسم ہے کہ جو نصاریٰ اپنے بچہ کو پاک کرنے کے لئے کرتے یعنی وہ ساتویں دن بچہ کو رنگین پانی سے غسل دے کر یہ ظاہر کرتے کہ یہ تمام آلائشوں سے پاک صاف ہوگیا ہے، جبکہ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ اصل رنگ دین و ایمان کا رنگ ہے جو پاکی کی ضمانت بھی ہے اور ہمیشہ رہنے والا بھی ہے اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جونہی بچہ پیدا ہو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے، کیونکہ یہ سب سے پہلا بلاوا ہے دین فطرت کی طرف۔ دوسری بات جو اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ دین، ایمان اور اعمال صالح ایک گہرا رنگ ہے جو انسان کے چہرہ سے نظر آجاتا ہے، ایمان کی روشنی اور اللہ کا نور نیک اعمال کی وجہ سے صاف دکھائی دینے لگتا ہے اہل کتاب کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمہارے اعتقادات غلط ہیں اور یہ عقیدہ تو بالکل ہی غلط ہے کہ تم یہودی یا نصاریٰ ہونے کی وجہ سے بخش دیئے جاؤ گے۔ اور اسی خیال میں تم بدعملی کو اختیار کئے ہوئے ہو، تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں ہم جو کچھ کرتے ہیں خالصتاً اللہ کی خوشنودی اور اطاعت گزاری کے لئے کرتے ہیں، انشاء اللہ ہمارے اعمال اللہ کے حضور قابل قبول ہونگے اور وہ ضرور ہماری بخشش کر دے گا، کیونکہ خلوص کو اللہ ہی جانتا ہے۔ آیت 140 میں یہود و نصاریٰ کی ایک اور بڑی غلط فہمی کا ذکر کیا گیا ہے ان کا خیال تھا کہ ان کے تمام بزرگ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی تمام اولاد یہود و نصاریٰ کے دین کے پیروکار تھے یعنی وہ بھی (نعوذ باللہ) شرک و فرقہ بندی میں مبتلا تھے اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیشک تمہارے پاس کتاب آچکی ہے اور تمہیں وہ تمام نشانیاں بتا دی گئی ہیں جو آخری نبی ﷺ اور اسلام میں موجود ہیں اس کے باوجود تم ان تمام نشانیوں کو اور بھلائیوں کو غلط رنگ اور غلط انداز میں بیان کرتے ہو اور جو سچ بات ہے اس کو چھپاتے ہو، تمام انبیاء و رسل اور آخری نبی ﷺ ان کی تعلیمات تمہیں بتا دی گئی ہیں پھر بھی تم ان پر ایمان نہیں لاتے بلکہ حق بات کو بھی چھپاتے ہو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ جل شانہ کا علم اتنا بےحساب ہے کہ وہ تمہارے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔ ہر انسان کو ہر وقت اس خیال کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اللہ کی نظر سے اس کا کوئی عمل اور نیت ہرگز چھپا ہوا نہیں وہ ہر جگہ موجود ہے انسان کے ظاہر و باطن سے خوب اچھی طرح واقف ہے انسان کے اپنے اعمال اور نیتیں ہی اس کو جنت یا جہنم میں لے کر جائیں گی یہ بات بالکل یقینی ہے آئندہ آیات میں اسی بات پر زور دیا گیا ہے۔
Ayah 2:141

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لئے ہے جو انہوں نے کیا اور تمہارے لئے ہے جو تم نے کیا اور تم سے ان کے اعمال کے متعلق کچھ پوچھ نہیں ہوگی

اپنے اعمال کا بدلہ تشریح : اللہ جل شانہ یہودیوں اور عیسائیوں کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں میں انکے بارے میں خوب جانتا ہوں وہ اصل توحید پر قائم تھے، ان کی نیکیاں ان کے کام آئیں گی تمہارے یا کسی اور کے کام نہیں آئیں گی اور تمہیں تمہارے بزرگوں کی نیکیاں نہ بچا سکیں گی۔ جیسا کہ تم اپنے بزرگوں کی نیکیوں پر بھروسہ کرتے ہوئے تمام برائیاں اور نافرمانیاں کرتے ہو۔ دوسروں کے اعمال پر بھروسہ رکھنا سخت نادانی اور بھول ہے، دنیا میں بہت سی قومیں اسی غلط فہمی کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگئیں، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اعمال کا بدلہ ہمیں دیا جائے گا اور ان کے اعمال کا بدلہ ان کو دیا جائے گا۔ اپنے اعمال میں خلوص اور نیک نیتی کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ دکھاوے اور بدنیتی سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ معارف القرآن میں اخلاص کی تعریف یوں کی گئی ہے۔ ” بزرگوں نے فرمایا : کہ اخلاص ایک ایسا عمل ہے جس کو نہ تو فرشتے پہچان سکتے ہیں اور نہ شیطان یہ صرف بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک راز ہے۔ پارہ اول کو ہم نے اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ مکمل کیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے۔ خلاصہ پارہ اول قرآن پاک مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے، جو لوگوں کو ہدایت دینے کا ذریعہ ہے۔ اس میں انسان کی پیدائش سے لے کر قیامت تک کے تمام نکات واضح کر کے سمجھا دیئے گئے ہیں۔ غرض اصول اسلام میں توحید، رسالت، کتب سماوی، ملائکہ، قبر اور قیامت پر پوری طرح روشنی ڈال دی گئی ہے۔ مشہور مفسر قرآن حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری نے فرمایا : ” اللہ کی عبادت کرکے اس کو راضی کرلو، محمد ﷺ کی اطاعت کرکے ان کو راضی کرلو اور مخلوق خدا کی خدمت کرکے اس کو راضی کرلو۔ “ پارہ اول : پہلی سورة فاتحہ میں ایک رکوع اور سات آیات ہیں، سورة الفاتحہ کو برکت، معانی اور مقاصد کے اعتبار سے سب سے بڑی سورة قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک دعا ہے جس کے جواب میں پورا قرآن مجید عطا کردیا گیا ہے۔ سورة بقرہ سولہ رکوع پر مشتمل ہے، سورة البقرہ کے شروع میں مومن، کافر، منافق، ان تین جماعتوں کا ذکر ہے۔ پہلے رکوع میں اسلام کے بنیادی اصولوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرے رکوع میں گروہ منافقین کا ذکر ہے۔ تیسرے رکوع میں توحید کے دلائل دیئے گئے ہیں۔ چوتھا رکوع و حی الٰہی اور کمال انسان پر مشتمل ہے۔ پانچویں رکوع میں انعام یافتہ قوم یہود کا ذکر ہے۔ چھٹے رکوع میں بنی اسرائیل سے خطاب کیا جارہا ہے۔ ساتویں رکوع میں بنی اسرائیل کے متعدد واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ آٹھویں رکوع میں احساناتِ الٰہی جو یہود پر کئے گئے اور ان کی نافرمانیوں کا ذکر ہے۔ نویں رکوع میں گائے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ دسویں رکوع میں ایمان اور عمل صالح کا بیان ہے۔ گیا رھویں رکوع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت، قوم کی نافرمانیوں اور عذاب الٰہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ بارھویں رکوع میں یہود کی بےراہ روی، ملائکہ سے دشمنی، رسولوں سے دشمنی، قرآن مجید کے فضائل کا ذکر اور پھر یہود کی بدعہدی کا ذکر کیا گیا ہے۔ تیرھویں رکوع میں قرآن مجید کی تعلیمات، غیر ضروری قوانین کی منسوخی، مسلمانوں کو تعمیل رسول ﷺ کا حکم، نماز وزکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے اور یہود کی خوش فہمیوں کا جواب دیا گیا اور آخر میں مومنین کی شان اور ان کے اجر کا ذکر کیا گیا۔ چودھویں رکوع میں اللہ کی وحدانیت، رسول ﷺ کا مقام کہ وہ بشیر و نذیر ہیں کفار کے اعمال کے جوابدہ وہ نہیں ہونگے۔ پندرھویں رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں، تعمیر کعبہ اور منصب امامت کا ذکر ہے۔ سولہویں رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل، ان کی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اپنے بیٹوں کو نصیحت اور اسکے فائدے، عقیدہ ابراہیمی کی وضاحت اور پھر یہ وضاحت کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ہی فائدہ حاصل کرسکے گا حسب و نسب کسی کام نہ آئے گا۔ نیز قرآن مجید میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ ” ہر ایک نفس جو عمل کرتا ہے اس کی ذمہ داری اسی پر ہے کسی کا بوجھ قیامت کے دن کوئی دوسرا نہیں اٹھا سکے گا “ (القرآن) ۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

نادان لوگ ضرور کہیں گے جس قبلہ پر یہ لوگ تھے اس سے کس چیز نے انہیں پھیر دیا ؟ اے نبی ﷺ ان سے کہو مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔

اس پارے کا نام ” سَیَقُوْلُ “ ہے اس میں بھی ” سورة البقرہ “ کا ہی بیان جاری ہے جو سب سے لمبی اور مدنی سورت ہے۔ مدنی سورتوں میں زندگی کے ہر قسم کی عبادات اور معاملات وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں۔ مثلاً حلال و حرام، فرائض، واجبات، ممنوعات، غزوات، جہاد، مال غنیمت، خروج، جزیہ حدود اور قصاص۔ غرض دنیا و آخرت میں کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے تمام طریقے بتا دیئے گئے ہیں جو کہ انتہائی آسان اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اسی لئے اسلام کو دین فطرت کہا گیا ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ تشریح : ” سُفَہَآئُ “ کا مطلب ہے بےوقوف، یہ لفظ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کیلئے استعمال کیا ہے، کیونکہ یہی لوگ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر اعتراضات کیا کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ کو بھی ہر لمحہ تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب نبی ﷺ نے اللہ کے حکم سے بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنی شروع کی۔ کیونکہ ہجرت سے پہلے اور مدینہ میں آنے کے بعد بھی تقریباً 16 مہینے تک محمد ﷺ بیت المقدس کی طرف ہی رخ کرکے نماز پڑھتے رہے تھے۔ قبلہ اصل میں مرکزیت کے لئے متعین کیا جاتا ہے۔ قبلہ کا بدلنا اصل میں اس بات کا اعلان تھا کہ مسلمانوں کی مرکزیت یہود سے علیحدہ ہوچکی ہے۔ یہود یوں نے قبلہ کا رخ بدلنے پر معمول کے مطابق بہت شور مچایا اور طرح طرح کے اعتراضات کئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ ان بیوقوف لوگوں کو بتا دیجئے کہ یہ تبدیلی کسی حسد، بغض یا تعصب کی وجہ سے نہیں کی گئی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے کی گئی ہے اور دوسری یہ بات بھی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مشرق یا مغرب میں قید نہیں ہے، بلکہ وہ تو ہر جگہ موجود ہے۔ اس کی وضاحت آیت 116-115 میں گزر چکی ہے ہر چیز کا علم اس کو ہر وقت ہوتا ہے، ہر شے اسی کے قبضہ قدرت میں ہے، ہدایت بھی اسی کے پاس ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے، نیک فطرت لوگوں کے لئے نیکی کی راہیں کھول دیتا ہے اور بدفطرت اس سے محروم رہتے ہیں۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ” امت وسط “ بنایا ہے، تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہوں اور ہم نے وہ قبلہ نہیں مقرر کیا تھا جس پر تو پہلے تھا۔ مگر اس واسطے کہ معلوم کریں۔ کون رسول کا تابع رہے گا اور کون الٹے پاؤں پھر جائے گا یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت، مگر ان لوگوں کے لئے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے۔ اللہ تمہارے اس ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے۔

معتدل امت تشریح : یہودیوں کی بدعملیوں کی وجہ سے امامت ان سے چھین لی گئی اور نبوت محمد ﷺ کے سپرد کردی گئی اور ان کی امت کو ” امت وسط “ کا اعزاز دیا گیا۔ ” وسطا “ کا مطلب ہے معتدل یعنی ہر لحاظ سے درمیانی روش اختیار کرنے والی امت۔ ہمارے رسول ﷺ ہر لحاظ سے ایک مکمل انسان تھے، انہوں نے جو کتاب اور جو اللہ تعالیٰ کا پیغام امت کو دیا وہ کسی لحاظ سے بھی قابل اعتراض یا انسان کو مشقت میں ڈالنے والا نہیں ہے اور یہ ہر قسم کی خرابی سے پاک صاف اور بہترین ہے۔ اسلامی تعلیمات، انسان میں ہر قسم کی خرابی دور کرکے اس کو ایک مکمل اور اللہ تعالیٰ کا مقبول ترین بندہ بنا دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر سورة آل عمران میں امت محمدیہ ﷺ کے اسی اعتدال (مزاجی و روحانی) کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” یعنی تم سب امتوں میں بہتر ہو جو عالم میں بھیجی گئی ہو تم اچھے کاموں کا حکم کرتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو “ ( آیت 110) ۔ یعنی اس امت کا قومی نشان یہ ہے کہ لوگوں کو برے کاموں سے منع کرے اور نیک کاموں کی ہدایت کرے اور وہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے، جب ہم خود اعتقاد، عمل، عبادت، معاشرت، تمدن اور زندگی کے ہر ہر لمحہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں گزاریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بہت بڑا فضل کیا ہمیں تمام انبیاء (علیہم السلام) سے بہترین نبی، تمام آسمانی کتابوں سے بہترین کتاب (قرآن پاک) عطاء کی اور پھر ہمیں امت وسط کا اعزاز بھی دیا۔ اب اس اعزاز کو قائم رکھنے کے لئے امت مسلمہ کو پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا ہوگا۔ یعنی قرآن کو پڑھنا ہوگا، سکھانا ہوگا، اس پر عمل کرنا ہوگا اور دنیا کی تمام قوموں کے لئے نمونہ بننا ہوگا۔ اگر یہ ذمہ داری ہم نے پوری نہ کی تو دنیا و آخرت میں رسوائی کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ جیسا کہ پہلی نافرمان قوموں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ آخر میں گواہی کا ذکر ہے۔ ” تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہونگے “ مطلب یہ ہے کہ آخرت میں جب تمام انسانوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو اس وقت رسول ﷺ تم پر گواہی دیں گے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام امت کو پورے کا پورا بغیر کسی کمی بیشی کے پہنچا دیا تھا اور امت اس بات کی گواہی دے گی جو پیغام ان کو دیا گیا، انہوں نے نہ صرف یہ کہ اس پر عمل کیا بلکہ اس کو دوسرے لوگوں تک پہنچایا بھی اور اس طرح اپنے عمل سے اپنے فرائض ادا کرکے امت وسط ہونے کا ثبوت دیا۔ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہم پر لگائی گئی ہے۔ کیونکہ حساب کے دن ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب دنیا میں گناہ، ظلم و ستم اور قتل و غارت پھیلائی جارہی تھی تو تم کہاں تھے۔ اپنے اعمال و کردار سے ان سب برائیوں کو تم نے روکنے کی کوشش کیوں نہ کی تو ثابت ہوا کہ امت وسط ہونا بہت بڑی عزت ہے اور بہت بڑی آزمائش اور ذمہ داری بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو نبھانے کی توفیق اور آزمائش میں پورا اترنے کی طاقت عطا کرے۔ آمین۔ اسی سلسلہ میں صحیح بخاری کی حدیث ہے۔ ” حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام (کا قصر) پانچ (ستونوں) پر بنایا گیا ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج (کرنا) اور رمضان کے روزے رکھنا “۔ اسی طرح ابو داؤد میں حدیث ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” ہر مومن اپنے مومن بھائی کا آئینہ ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ امت وسط سے مراد ایک ایسی امت ہے جو زندگی میں ہر قدم پر اعتدال یعنی درمیانہ راستہ اختیار کرے اور مقصد اس کا یہ ہو کہ برائی سے منع کرنا ہے اور نیکی کو پھیلانا ہے۔ بھلا اس سے اچھی امت اور کونسی ہوسکتی ہے۔ جب تک صاف طور پر اللہ کا حکم قبلہ کے بارے میں نہ ہوا تھا تو نبی کریم ﷺ مکہ میں رہتے ہوئے بجائے کعبہ کے بیت المقدس کی طرف ہی منہ کرکے نماز پڑھتے رہے جب مکہ سے مدینہ تشریف لائے اس وقت بھی بیت المقدس ہی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ لیکن تقریباً 16 ماہ بعد بیت اللہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنانے کا حکم ہوا۔ مقصد اللہ تعالیٰ یہ بتاتے ہیں کہ اس طرح سچے مسلمان کا فرق معلوم کرنا مقصود تھا۔ کیونکہ پہلے کفار قریش کے لئے بیت المقدس کو قبلہ تسلیم کرنا مشکل ترین کام تھا اور پھر یہود و نصاریٰ کا خانہ کعبہ کو قبلہ تسلیم کرنا انتہائی مشکل تھا۔ گویا ایک تو یہ سچے مسلمان کی آزمائش تھی اور دوسری پہچان تھی کہ کون اپنے پچھلے اعتقادات کو چھوڑ کر صرف اللہ و رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں اپنا رخ بدلتا ہے اور اس طرح کچے اور سچے مسلمانوں کا فرق ظاہر ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ سچے اور پکے مسلمانوں کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ میرے فرمانبردار بندوں کے لئے یہ آزمائش نہ مشکل تھی اور نہ ہی تکلیف دہ۔ انہوں نے خدا اور رسول ﷺ کے حکم کو بلاچون و چراں قبول کیا اور اطاعت میں سر جھکا دیا جب دوبارہ خانہ کعبہ کو قبلہ مقرر کیا گیا حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کو وہم ہوا کہ جو یہ حکم آنے سے پہلے فوت ہوگئے تو ان کی نمازوں کا کیا بنے گا تو اس پر اللہ جل شانہ نے یہ نازل فرمایا ﴿وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ﴾صحیح بخاری یعنی اصل بات فرمانبرداری کی ہے، انہوں نے ہمارے حکم پر عمل کیا اس لئے ان کو پورا پورا ثواب مل چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو انسانوں پر انتہائی مہربان اور مشفق ہے۔ وہ کسی کی ذرہ برابر نیکی کو بھی ضائع نہیں کرتا۔ اللہ کی شفقت اور مہربانی بےحساب اور بےمثال ہے۔ اس کا اندازہ کوئی انسان نہیں کرسکتا۔ اگلی آیت میں اس عظیم واقعہ کو ذرا اور بھی تفصیل سے بیان کیا جارہا ہے۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

تمہارے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ہم اسی قبلہ کی طرف ضرور تمہیں پھیردیں گے جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو ۔ اب جہاں کہیں تم ہو، اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو، یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی، خوب جانتے ہیں کہ (تحویل قبلہ کا) یہ حکم ان کے رب ہی کی طرف سے ہے اور برحق ہے۔ (مگر اس کے باوجود) جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس سے غافل نہیں ہے

تحویل قبلہ تشریح : تحویل قبلہ کا حکم رجب یا شعبان 2 ہجری میں اس وقت نازل ہوا جب نبی ﷺ حضرت بشر بن براء بن معرور کے ہاں مدعو تھے وہیں پر ظہر کی نماز شروع کروائی تھی ابھی دو رکعت ادا کی تھیں کہ وحی کے ذریعے مذکورہ آیت نازل ہوئی جس پر تمام نمازیوں نے آپ کی پیروی کرتے ہوئے کعبہ کی طرف منہ پھیرلیا اور باقی دورکعتیں مسجد حرام کی طرف منہ کرکے ادا کیں۔ مسجد حرام یعنی حرمت والی مسجد اس کے اندر ہی خانہ کعبہ واقع ہے اس کے چاروں طرف بڑے بڑے دالان ہیں، اکتالیس دروازے، چھ مینار اور 150 سے زیادہ گنبد ہیں۔ یہاں جنگ کرنا اور شکار کرنا حرام ہے یہ امن کی جگہ ہے۔ اصل میں یہود و نصاریٰ کے نکتہ چینی اور مرکز ابراہیمی کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی دلی خواہش تھی کہ مسلمانوں کا قبلہ یہود سے علیحدہ ہو، سو اللہ تعالیٰ نے آپ کی خواہش پوری کردی اور حکم نازل فرمایا کہ اب سے تمہارا مرکز خانہ کعبہ ہے۔ اب تم لوگ دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو تو نماز کے وقت اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہی کیا کرو۔ یہ مسلمانوں کے اتحاد اور یکجہتی کا ایک بہت بڑا ذریعہ اور نشان ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر سفر میں ہوں تو پوری کوشش کرنی چاہئے کہ ٹھیک سمت کی طرف منہ کرکے نماز ادا کی جائے۔ لیکن اگر کسی بھی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو پھر ممکنہ سمت کی طرف منہ کرلینا چاہئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کی تلخ کلامی اور حجت بازی کی پرواہ نہ کرو یہ تو اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہی ہونا تھا یہ تو اپنی عادت سے مجبور ہیں۔ جان بوجھ کر شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے وہ ان کے تمام اعمال کو خوب اچھی طرح جانتا ہے وہ ان لوگوں کی ضرور پوچھ گچھ کرے گا۔ اگلی آیت میں اہل کتاب کی مزید نافرمانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلہ کی پیروی کرنے لگیں اور نہ تمہارے لئے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلہ کی پیروی کرو، اور ان میں سے بھی کوئی گروہ دوسرے کے قبلے کی پیروی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور اگر تم نے اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا

اہل کتاب کی ہٹ دھرمی تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمار ہے ہیں کہ یہود اتنے ضدی، ہٹ دھرم اور نافرمان ہیں کہ آپ جو چاہے نشانیاں ان کو دکھا دیں یہ خانہ کعبہ کو ہرگز قبلہ نہ مانیں گے کیونکہ آپ ﷺ کو افضل ترین قبلہ دیا گیا ہے۔ جو آپکے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی قبلہ ہے۔ اس لئے آپ اس پر ہمیشہ قائم رہیں بھلا آپ اپنے قبلہ سے کیونکر پھر سکتے ہیں اور پھر اللہ جل شانہ آپ ﷺ کو تنبیہہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ کو تو اصل قبلہ کا علم اللہ کی طرف سے ہوچکا ہے اس لئے آپ کو ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے قبلہ پر قائم رہیں۔ لیکن اگر خدا نخواستہ (جو کہ ناممکن ہے) آپ نے ان کی پیروی کرتے ہوئے ان کا قبلہ اختیار کرلیا تو یقیناً آپ َ بھی ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔ اس سے بتانا یہ چاہتے ہیں کہ جھوٹے دین کی پیروی بہت بڑا گناہ ہے۔ اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے کرنے پر عظیم ترین پیغمبر ﷺ کو بھی تنبیہ کردی گئی اور اصل میں سبق امت کو دیا گیا ہے کہ حق واضح ہونے پر بھی باطل کی اتباع کرنا قابل گرفت جرم ہوگا۔ اس لئے ہر وقت اپنے آپ کو گناہ اور نافرمانی سے بالکل بچا کر رکھنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے احکامات پر عمل کرکے دنیا و آخرت میں نجات حاصل کرنی چاہئے۔
Ayahs 2:146–147

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جنہیں ہم نے کتاب دی ہے۔ وہ اسے ایسی اچھی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو اور بیشک ان میں سے ایک فرقہ ہے جو حق کو جان بوجھ کر چھپاتا ہے

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

حق تیرے رب کی طرف سے ہے پھر تو شک کرنے والا نہ ہو

اہل کتاب کا حق کو چھپانا تشریح : اللہ جل شانہ نبی کریم ﷺ کو یقین دلا رہے ہیں کہ اہل کتاب آپ کو مانیں یا نہ مانیں آپ بالکل پریشان نہ ہوں اور نہ ہی آپ کی رسالت اور امامت میں کوئی فرق آئے گا۔ آپ اپنے کام میں لگے رہیں۔ ” یہود و نصاریٰ کو آپ کی آمد، آپ کی خصوصیات اور قرآن مجید کے بارے میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے۔ آپ کو انہوں نے خوب اچھی طرح پہچان لیا ہے کہ آپ ﷺ ہی آخری نبی ہیں، اتنی اچھی طرح پہچان لیا ہے جیسا کہ باپ اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ پھر ان لوگوں نے آپ کی نشانیوں کو چھپانے کی کوشش کی اور سب کچھ جانتے بوجھتے آپ ﷺ پر ایمان نہ لائے۔
Ayahs 2:148–149

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

ہر ایک کے لئے ایک جہت ہے جس کی طرف وہ متوجہ ہوتا ہے پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو جہاں بھی تم ہو گے اللہ تمہیں اکٹھا کر لائے گا۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو وہیں سے اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو اور یہی حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کام سے۔

نیکی میں سبقت کرنا تشریح : اس آیت میں سمت یعنی قبلہ کی اہمیت بتاتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا کہ ٹھیک ہے یکجہتی اور نظم و ضبط کے لئے قبلہ کا تعین ضروری ہے مگر سب سے اہم بات یہ ہے۔ نیکی، بھلائی اور سیدھی راہ اختیار کرنے میں تم ایک دوسرے سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ اگر امت نیکی پر ایکا کرلے اور اپنی زندگیاں نیک کاموں کے لئے وقف کر دے تو نیکی، بھلائی اور راست بازی میں اتنی طاقت ہے کہ خدا کے فضل سے تمام لوگ ایک ہی مرکز پر جمع ہوجائیں گے آپس کی تمام مخالفتیں اور ناچاقیاں ختم ہوجائیں گی۔ دراصل قبلہ کا تعین اسی چیز کے لئے کیا گیا ہے کہ تمام لوگ سچائی کی راہ پر اکٹھے ہو کر چلیں اور نیکی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں۔ کیونکہ اصل چیز نیکی اور سچائی ہے۔ پھر یہ بھی بتا دیا کہ تم جہاں کہیں بھی ہوگے وہ تمہیں اکٹھا کر لائے گا اور معارف القرآن میں اس کو یوں بیان کیا گیا ہے۔ ” عنقریب وہ دن آنے والا ہے جس میں اللہ تعالیٰ تمام اقوام عالم کو ایک جگہ جمع کرکے حساب لیں گے۔ عقل مند کا کام یہ ہے کہ اپنے اوقات اس کی فکر میں صرف کرے “۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اس کے لئے کوئی کام بھی مشکل نہیں۔
Ayahs 2:150–152

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور جہاں بھی تم ہو اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو۔ تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے، ہاں ان میں سے جو ظالم ہیں (ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی) تو ان سے تم نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں (اور اس موقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے) تم فلاح کا راستہ پاؤ گے

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جس طرح میں نے تمہارے اندر خود تم میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہیں میری آیات سناتا ہے۔ تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

لہٰذا تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ میرا شکر ادا کرو، کفران نعمت نہ کرو۔

خانہ کعبہ، محمد ﷺ کی خصوصیات اور ذکر و شکر تشریح : درس قرآن میں آیت 149 اور 150 کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے : ” ان آیات میں بھی قبلہ کی تبدیلی کا حکم مذکور ہے اور ساتھ ہی ارشاد ہے کہ ایسا نہ ہو لوگوں کو تمہارے عمل سے حجت بازی کا موقع ملے اور مکہ کے کافر و مشرک یہ کہہ سکیں کہ یہ دین ابراہیمی کے اچھے پیرو کار ہیں جو ان کے کعبہ کو قبلہ بھی نہیں مانتے، جہاں تک ڈر کا تعلق ہے وہ صرف اللہ کا چاہئے۔ فضل و کرم کی تکمیل اور ہدایت و کامرانی اسی کے اختیار میں ہے “۔ جیسا کہ پہلے اکثر اسباق میں اسلام کی فضیلتوں اور نبی کریم ﷺ کی خصوصیات، تعلیمات اور مسلمان کی فضیلتوں کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ آیت 151 میں انہی تمام نعمتوں کا ذکر مختصراً کیا گیا ہے کہ تمہیں میں سے آپ ﷺ کو تمہارے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ جن کی خصوصیات یہ ہیں۔ 1 ۔ اللہ کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں۔ 2 ۔ لوگوں کو نیکی کی تعلیم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ 3 ۔ کتاب الٰہی صرف سناتے ہی نہیں بلکہ عمل بھی کرکے دکھاتے ہیں اور کتاب کی تمام حکمتیں اور نکات اچھی طرح سمجھاتے ہیں۔ 4 ۔ تمہیں ہر وہ بات بتلاتے ہیں جس کی تمہیں پہلے خبر نہ تھی۔ تمہارے اخلاق و کردار اور زندگیاں سنوارنے اور زندگی گزارنے کے اتنے اچھے اصول و ضوابط بتائے کہ جن پر عمل کرکے تم واقعی تمام قوموں سے اچھی اور اعلیٰ قوم بن سکتے ہو پھر بار بار تاکید اس بات کی ہوتی رہی ہے کہ اسلام کو پوری طرح قبول کرو اس سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ چلو۔ کیونکہ اس طرح مخالفین کو اعتراض کرنے کا موقعہ ملے گا۔ مگر یاد رکھو کہ نیکی پر چلنا صرف اس ڈر سے ضروری نہ سمجھو کہ لوگ کیا کہیں گے، بلکہ اس ڈر سے نیکی اختیار کرو کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور وہ ناراض نہ ہوجائے۔ آیت 152 میں ذکر و شکر کی فضیلت کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ” پس یاد کرو مجھے میں یاد کروں گا تم کو اور میرا شکر کرو اور کفر مت کرو “ جناب سلطان بشیر محمود صاحب نے اپنی کتاب ” قیامت اور حیات بعدالموت (ص 510) “ میں بڑی خوبصورت بات کی ہے۔ فرماتے ہیں۔ ” یہی وہ براہ راست طریقہ ہے جس پر عمل کرکے آدمی اپنے خالق سے اپنے تعلق کو بڑھا سکتا ہے اور اپنے مقام کو پاسکتا ہے۔ اگر اس ذکر کے ساتھ فکر بھی ہو تو کائنات کی تسخیر کی راہیں خود بخود اس پر کھلنے لگ جاتی ہیں اور اپنے مقام کی پہچان ہوجاتی ہے “۔ ذراسوچا جائے کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری اس بات کا کوئی فائدہ نہیں کہ ہم ہر دم اس کو یاد کریں، بلکہ اس میں فائدہ انسان کا اپنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تو ہر وقت اپنے بندے کی بھلائی درکار ہے تو اپنے رب کو یاد رکھنے میں بھی خود بندے کی ہی بھلائی ہے۔ وہ اس طرح کہ جب انسان اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، سوتے جاگتے غرض ہر وقت اللہ کو یاد رکھے گا تو انسان کی توجہ شیطان اور شیطانی کاموں سے ہٹ کر صرف اور صرف رب کریم کی طرف لگی رہے گی تو اسے اندر ہی اندر دل کی صفائی اور روح کی بلندی حاصل ہوتی چلی جائے گی اور یوں انسان میں وہ تمام سماجی و دینی، اخلاقی خوبیاں اور شکر و رضا کی تمام صفات پیدا ہوجائیں گی جو اس کو عام انسان سے خاص طور پر کافر و مشرک سے ممتاز کردیں گی اور یوں اللہ کی نعمتیں، برکتیں اور فضل و کرم کی بارشیں اس پر ہوتی رہیں گی۔ ایک شکر گزار انسان اللہ کا پسندیدہ انسان ہوتا ہے اس لئے اس کی نعمتوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا کہ ” جو شخص حقیقی طور پر اللہ کو یاد کرتا ہے وہ اس کے مقابلہ میں ساری چیزوں کو بھول جاتا ہے تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ خود اس کے لئے ساری چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں اور تمام چیزوں کا عوض اس کو عطا کردیتے ہیں “۔ اسی طرح حضرت معاذ ؓ نے فرمایا کہ ” انسان کا کوئی عمل اس کو اللہ کے عذاب سے نجات دلانے میں ذکر اللہ کے برابر نہیں۔ “ غرض اللہ کا ذکر نجات حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے مسلمانوں مدد لو صبر اور صلوٰۃیعنی نماز سے بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

صبر اور نماز تشریح : سورة البقرہ کی آیت 45 میں صبر و نماز کی مکمل تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ بہرحال اللہ جل شانہ مومنین کو مخاطب کرتے ہوئے اکثر ان دو اعمال کا ذکر کرتے ہیں ظاہر ہوا کہ یہ دونوں عمل یعنی نماز اور صبر مشکلات اور مصیبتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین ہتھیار ہیں جو مسلمان کو دیئے گئے ہیں۔ صبر و سکون سے جو نماز پڑھی جائے وہ انسان کو اللہ کے بالکل قریب کردیتی ہے اور انسان کو اللہ جیسا مضبوط سہارا مل جائے تو پھر اس کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمیں اپنے اندر یہی دو صفات پیدا کر لینی چاہئیں اور بےخطر ہو کر دعوت و تبلیغ میں مشغول ہوجانا چاہئے۔ ” حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں : ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھ جائے یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف ہو تو اللہ اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف کردیتا ہے۔ (ترمذی) اسی طرح اس کتاب میں نماز کی اہمیت کے بارے میں حدیث نقل کی گئی ہے : حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ” رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی اہم معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھنے لگتے “۔ ثابت ہوا کہ صبر و صلوٰۃ نجات کے بہت بڑے ذرائع ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مومنین کو عطا کر رکھے ہیں۔ تسلیم و رضا اور فرمانبرداری کا ایک بہت بڑا کام شہادت ہے جس کی فضیلت، اہمیت اور تعریف اگلی آیت میں بیان کی جارہی ہے۔
Ayah 2:154

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔

شہادت کی موت تشریح : اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو مارا جائے اس کو شہید کہتے ہیں اور اللہ فرماتا ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ دراصل مرتا نہیں بلکہ وہ زندہ رہتا ہے اور رزق سے نوازا جاتا ہے، اس کا شعور واقعی انسان کو ہرگز نہیں ہوسکتا، مگر مجاہد کے اوصاف اتنے اعلیٰ ، لازوال اور بلند ہوتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر سوچا جاسکتا ہے کہ اسے انسان تو کیا موت بھی شکست نہیں دے سکتی۔ مجاہد کے اوصاف اس کو ایک عام انسان سے بہت بلند کردیتے ہیں چناچہ ایک مجاہد مندرجہ ذیل صفات کا حامل ہوتا ہے۔ خلوص، شوق آخرت، شجاعت، صبر و استقامت، ظلم سے پرہیز، اطاعت امیر اور سب سے بڑھ کر اللہ اور رسول ﷺ کی محبت میں فنا ہوتا ہے، جو شخص یہ تمام صفات اپنے اندر لے کر میدان جہاد میں نکلے گا تو بھلا ایسے شخص کو شکست کیونکر ہوسکتی ہے اور پھر جس مقصد کے لئے بھی وہ نکلے یعنی دین کی سربلندی، اسلام کی تبلیغ، اپنے ملک و قوم اور نسل کی حفاظت کے لیے تو یہ تمام جذبات محض خلوص اور قربانی پر ہی مبنی ہیں۔ بھلا جو اتنی بڑی قربانی دے اور اپنی جان عزیز کو بھی داؤ پر لگا دے اللہ جل شانہ اس کو ضرور ابدی انعامات سے نوازے گا اور نوازتا بھی ہے جو بھی شخص حق کی پاسداری میں جان دیتا ہے اس کا اجر بھی حق کی طرح کبھی ختم نہ ہونے والا ہوتا ہے۔ اس کی نوعیت رب العزت کے پاس کیا ہے اس سے انسان بیخبر ہے۔ بس یہی جان سکتا ہے کہ شہید کبھی مرتا نہیں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ البتہ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ حقیقت میں ایک مجاہد جب میدان جنگ کی طرف جاتا ہے تو اس کو اپنے خالق پر اس قدر اعتماد اور توکل ہوتا ہے کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی وہ صبر، بہادری اور امید کی چٹان ہوتا ہے۔ موت بھی اسے خوفزدہ نہیں کرسکتی ہے اس وقت اسے، بیوی، بچے، والدین اور دنیاوی سازو سامان کا کوئی خیال نہیں آتا ہے۔ بس ایک دیوانگی، ایک لگن اور ایک شوق شہادت ہوتا ہے جس میں وہ جھوم رہا ہوتا ہے یہ سب میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سنا ہے، کیونکہ 1965 ء اور 1971 ء کی جنگ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جو خالصتاً کفر و اسلام کی جنگ تھی۔ وہ کوئی زیادہ دور کی بات نہیں تو جو انسان یوں اللہ تعالیٰ اس کے رسول، اس کی کتاب اور اس کے دین کے لئے بےخود ہو کر جان دے دے گا تو بھلا اس کا اجر بےحساب اور بےاندازہ کیوں نہ ہوگا ؟ اس کا شعور واقعی انسان کی عقل سے باہر ہے۔ حدیث میں یہاں تک آیا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ” کہ جس نے صدق دل سے اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے کی دعا کی، اللہ اسے شہید کا اجر عطا فرمائے گا “ (ترمذی۔ ازحاشیہ بنت اسلام اسوہ حسنہ ص 402) صرف دعا ہی سے اتنا اجر مل سکتا ہے تو پھر شہید کا اجر تو بےمثال ہی ہوگا۔ یہ شوق شہادت، جان نثاری اور محبت الٰہی ہی تو ہے جو مسلمان کو بےخوف اور بہادر بنا دیتا ہے اور پھر ہمارے سو جوان کافروں کے ہزار جوانوں پر بھاری ہوتے ہیں، جیسا کہ علامہ اقبال فرماتے ہیں : شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی ایک اور جگہ فرماتے ہیں : دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذت آشنائی اسی طرح ایک مرتبہ فرمایا : موت کو سمجھتے ہیں غافل اختتام زندگی ہے یہ شام زندگی، صبح دوام زندگی اقبال کے اس دعائیہ شعر کے ساتھ اختتام کرتی ہوں۔ دل مرد مومن میں پھر زندہ کردے وہ بجلی کہ تھی نعرئہ لاتذر میں شعرکا مطلب یہ ہے کہ شاعر نے طارق (مجاہد) کا ہم زبان ہو کر دعا کی ہے کہ یا اللہ مسلمان کے دل اور ضمیر میں وہ بجلیاں بھر دے جو کفر کی ساری قوتوں کو جلا کر راکھ کردیں اور دنیا میں اللہ کا کوئی ایک منکر بھی نہ رہے۔ ( آمین)
Ayahs 2:155–157

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ہم تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلاء کرکے ضرور آزمائیں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں گے خوشخبری سنا دو ان کو۔

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہونگی اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں

آزمائش، صبر اور اجر تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ پوری امت کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ یہ دنیا بڑی بڑی آزمائشوں کا گھر ہے۔ پوری زندگی ایک ہی طرح نہیں گزرتی، بلکہ زندگی میں ہر قسم کا اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور مجھ پر ایمان لانے والو ! تمہیں بھی ان تمام نقصانات اور آزمائشوں کے لئے پوری طرح تیار رہنا چاہیے اور ان آزمائشوں میں بڑی بہادری سے پورا اترنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ آزمائشیں مختلف صورتوں میں آئیں گی۔ مثلاً دشمن کا خوف، قید و بند، جلاوطنی، قحط سالی، اموال و جائیداد کا نقصان، عزیزوں کا اللہ کی راہ میں شہید ہوجانا، میوؤں، پھلوں اور اناج کا نقصان ہوجانا۔ غرض ہر قسم کی مصیبت اور پریشانی کا سامنا تم لوگوں کو کرنا پڑے گا اور یہ آزمائش ہوگی رب العزت کی طرف سے اور اس طرح تم لوگوں کے صبر اور ثابت قدمی کا امتحان لیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ صبر کی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا نسخہ بھی بتاتا ہے کہ جو انسان کو بہت ساری پریشانی سے بچا لیتا ہے اور وہ نسخہ یہ ہے کہ تم نقصان کے وقت یہ پڑھو۔ ﴿ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ﴾ ” ہم تو اللہ کے لئے ہیں اور ہم تو اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ “ اگر پورے ایمان و یقین کے ساتھ آیت کے معنی پر غور کیا جائے تو پھر انسان کو ناقابل بیان سکون ملتا ہے۔ کیونکہ اس آیت میں ہمیں تین باتوں کا درس دیا گیا ہے۔ 1 ہم سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہیں۔ 2 ہم اور ہماری تمام املاک سب فانی ہیں۔ آخر مالک حقیقی کو ملنا ہے جب اسی کی طرف چلے جانا ہے تو پھر گھبرانا کیا۔ 3 آزمائشیں بیکار نہیں جاتیں ان کا اجر وثواب ہمارے صبر و ثابت قدمی کے مطابق ضرور ملے گا اس کا وعدہ اللہ رب العزت نے کیا ہے کہ : ” صبر کرنے والوں کا اجر بہت بڑا ہے صبر اور استقامت پر قائم رہنے والے لوگوں پر دنیا و آخرت میں ہماری خاص عنایتیں ہونگی ہم ان پر اپنی خاص نعمتیں بھیجیں گے اور ان پر ہماری مہربانی جاری رہے گی۔ “ اور پھر فرماتا ہے کہ ایسے ہی صابر و شاکر لوگ سیدھی راہ پر ہیں اور دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہونے والے ہیں بنت اسلام کی کتاب سے حدیث ہے۔ حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا کہ جس بندے کو بھی کوئی مصیبت پہنچے اور وہ یوں کہے۔ ” بیشک ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے اے اللہ مجھے میری مصیبت میں اجر وثواب عطا کر اور جو چیز مجھ سے چھن گئی ہے اس سے بہتر چیز مجھے عنایت فرما تو اللہ اسے اس کی مصیبت میں اجر وثواب عطا فرماتا ہے اور اس سے بہتر چیز اسے عنایت کرتا ہے “۔ (صحیح مسلم ) یہ صبر کرنے والوں کا صلہ ہے اس لئے کبھی بھی کسی نقصان پر پریشان نہیں ہونا چاہئے بلکہ اللہ رب العزت کے فضل و کرم کا امید وار رہنا چاہئے اور پریشانی کے وقت ” اِنَّالِلّٰہِ ……پڑھنا چاہیے یہ تسکین قلب کا بہترین علاج ہے۔ اگلی آیت میں حج کے مراسم کا بیان ہے۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے اور جو کوئی اپنی خوشی سے کوئی نیکی کرے تو اللہ یقیناً قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے

حج کے مناسک تشریح : صفا اور مردہ یہ دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان سوا فرلانگ کا فاصلہ ہے اور یہ دونوں مسجد حرام کے قریب ہی ہیں ” صفا “ بیت اللہ کے جنوب مشرق اور ” مروہ “ شمال مشرق میں واقع ہیں۔ ان کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے دودھ پیتے بچے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ان کی ماں حضرت ہاجرہ  کے ساتھ وادی فاران میں چھوڑ گئے تھے۔ جب ان کا کھانا پانی ختم ہوگیا تو بچہ کی پیاس کی وجہ سے برا حال ہونے لگا تو حضرت ہاجرہ  پانی کی تلاش میں کبھی ایک پہاڑی پر چڑھتی تھیں اور کبھی دوسری پر ان کے اسی عمل کی یادگار میں سعی کو حج وعمرہ کے مناسک میں شامل کیا گیا ہے۔ سعی کا مطلب ہے دونوں پہاڑیوں کے درمیان سات دفعہ چکر لگانا۔ حج اسلامی عبادات میں چوتھا رکن ہے اور ذوالحج میں مقررہ تاریخ پر خاص طریقہ سے خانہ کعبہ کی زیارت، طواف اور قربانی کے علاوہ کچھ دیگر مناسک بجالانے کو حج کہا جاتا ہے۔ بیت اللہ کو صرف نماز کے لئے ہی نہیں بلکہ حج وعمرہ کی وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے حج کا معنی ہے قصد کرنا، اسی طرح عمرہ کیا جاتا ہے اس کے لئے کوئی خاص مہینہ اور تاریخ مقرر نہیں کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔ عمرہ کا مطلب ہے زیارت مگر شرع میں اس کا مطلب ہے مسجد حرام کی حاضری اور طواف و سعی کرنا۔ ” ان آیات میں حج اور اس کے بعض مراسم کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ محض رسمیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نشانات ہیں مقصد یہ ہے کہ انسان میں نیکی کا جذبہ پیدا ہو۔ وہ گناہوں سے پاک ہو کر اللہ کے حضور میں سربسجود ہوجائے ( درس القرآن ص 184)
Ayahs 2:159–160

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں۔ حالانکہ ہم انہیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لئے اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں۔ اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

البتہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے بیان کرنے لگیں ان کو میں معاف کر دوں گا اور میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں

اللہ کی لعنت، توبہ کی شرائط تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حق اور کتاب اللہ کی تعلیمات کو چھپانے والے سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جس طرح علماء یہود کی کتاب میں جو ہدایات انسان کی بہتری کے لئے دی گئیں تھیں وہ لوگوں سے چھپادی گئیں بلکہ لوگوں کو اپنے مفاد کی خاطر ایسی غلط راہیں بھی دکھائی گئیں جو سوائے گمراہی کے اور کچھ فائدہ نہ دیتی تھیں۔ اسی برائی سے بچنے کی تاکید مسلمانوں کو بھی کی جارہی ہے کہ ہر وہ بات یا علم جو تمہیں قرآن کی بدولت مل چکا ہے اس کو مت چھپاؤ، بلکہ اس کو زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ، کیونکہ چھپانے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ لعنت کا مطلب ہے رحمت الٰہی سے محرومی ایسے شخص پر اللہ بھی اور اللہ کی دوسری مخلوق بھی لعنت بھیجتی ہے۔ لہٰذا خیال رکھا جائے کہ علم دین کا پھیلانا ہر شخص پر واجب ہے اور اس کا چھپانا حرام ہے۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں کہ ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے سب سے زیادہ فضیلت والا وہ ہے جس نے خود قرآن کا علم حاصل کیا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دی۔ “ (بخاری) علم کا پھیلانا تو ویسے ہی بڑا درجہ رکھتا ہے دین و مذہب کی تعلیم تو بہت ہی فضیلت کا باعث ہے مگر جو اس علم کو حاصل کرے اور آگے نہ پھیلائے تو ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے۔ پھر آیت کے دوسرے حصہ میں اللہ تعالیٰ وضاحت کرتا ہے کہ جو اپنی اس گزشتہ غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی عادت کو بدل لیتا ہے اور اللہ کے دین کی نشرواشاعت میں بھرپور حصہ لینے لگتا ہے، نیکی کی ہدایت کرتا ہے برائی سے منع کرتا ہے اور ایمان کامل کی تلقین کرتا ہے اور اپنی گزشتہ عادت پر نادم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کے پچھلے گناہ معاف کر دوں گا اور اس پر اپنی رحمتیں برسا دوں گا۔ کیونکہ رب العزت تو ہے ہی مجسم رحیم و کریم گناہ کو معاف کرنا اور درگزر کرنا اس کی شان کریمی ہے اسی لئے تو اس کو ” اَلْغَفَّارُ ، اَلرَّحْمٰنُ “ کہا جاتا ہے ” الغفار “ کی فضیلت یہ ہے کہ اس کا باقاعدگی سے ورد کرنے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت حاصل ہوتی ہے اسی طرح ” الرحمن “ کا 100 دفعہ ہر نماز کے بعد پڑھنا دل سے غفلت اور سختی دور کرتا ہے اور حافظہ قوی ہوجاتا ہے۔ (از 99 Names of Allah By Vega Comunication ) اس کی رحمت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معافی مانگ لینے میں ہی عاقبت ہے۔ لیکن جو لوگ کفر کی ہی حالت میں مرجاتے ہیں وہ گھاٹے میں رہتے ہیں اس کی تفصیلات اگلی آیت میں بیان کی جاتی ہیں۔
Ayahs 2:161–162

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں مرگئے۔ ان پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

اسی لعنت کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ ان کی سزا میں تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کوئی دوسری مہلت دی جائے گی

حالت کفر میں موت تشریح : انسان غلطیاں کرلیتا ہے کیونکہ انسان تو ہے ہی غلطیوں کا پتلا تو اس کے مقابلہ میں رب العزت کی رحمت، مغفرت ہر وقت موجود ہے۔ وہ ہر پکارنے والے کی پکار، ہر مانگنے والے کی درخواست اور ہر توبہ کرنے والے کی توبہ سنتا ہے اور عطا کرتا ہے لیکن جو لوگ اس کی ان عنایات سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور اپنے کفر کو نہیں چھوڑتے، سیدھی اور ایمان کی راہ اختیار نہیں کرتے ہمیشہ بدکاری اور گناہ گاری کی زندگی بسر کرتے ہیں اور پھر اسی حالت کفر میں ہی مرجاتے ہیں تو ایسے ہی لوگ اللہ کی رحمتوں، فرشتوں کی برکتوں اور انسانوں کی شفقتوں سے دو رہو جاتے ہیں۔ سب ان پر لعنت بھیجتے ہیں اس کے علاوہ رب العزت فرماتا ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے ان پر ہمیشہ لگاتار عذاب نازل ہوتا رہے گا اور اس شدید عذاب سے بچ نکلنے کی مہلت ان کو ہرگز نہ ملے گی۔ اللہ جل شانہ اگر غَفُوْرُ ورَحْمٰنْ ہے تو اسی طرح اَلْمُذِلُّ (ذلت دینے والا) اَلْقَھَّارُ (سب کو قابو میں رکھنے والا) اَلْجَبَّارُ (سب سے زبردست) یہ تمام صفات بھی اسی رحیم و کریم کی ہیں اس نے انسان کے لئے معافی اور سزا کے دونوں راستے کھول رکھے ہیں جو چاہے معافی مانگ کر رحمتوں کا حق دار ہوجائے جو چاہے گناہ، کفر اور نافرمانی کی دلدل میں پھنسا رہے اور اللہ کی رحمتوں سے نہ صرف محروم ہی ہوجائے، بلکہ مرنے کے بعد جہنم کی سزا بھی پائے جو بہت برا ٹھکانہ ہے۔ اللہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ ( آمین) اس سے بچاؤ کا یہی طریقہ ہے کہ عقیدہ توحید کو اپناؤ جس کا ذکر اگلی آیت میں کیا گیا ہے۔