Ayahs 2:261–262اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مثال
تشریح : یہاں مال خرچ کرنے کا طریقہ اور ثواب بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ چاہے مال تم اپنے بچوں، بیوی، والدین، رشتہ داروں یا غریبوں محتاجوں یا رفاہی کاموں کے لئے خرچ کرو تو اس میں نیت صاف رکھو اور یہی سمجھو کہ یہ سب تم اللہ کی راہ میں خلوص اور طریقہ سلیقہ سے خرچ کر رہے ہو تو اس کا ثواب تمہیں کئی گنا زیادہ کرکے دیا جائے گا اس کی مثال یوں بیان کی گئی ہے کہ جس طرح ایک دانہ سات سو دانے دیتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ ایک دانہ زمین میں بویا جائے تو اس ایک دانے سے سات بالیں نکلتی ہیں اور ہر بالی میں سودانے ہوتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ خلوص، محبت، طریقہ، سلیقہ سے خرچ کیا ہوا مال بیشمار اجر کے ساتھ واپس دیتا ہے۔ کبھی مال کی صورت میں اور کبھی ثواب کی صورت میں مگر اس سب میں یہ خیال رکھا جائے کہ نہ تو یہ حرام کام کے لئے نہ دکھاوے کے لئے اور نہ ہی کسی کی بےعزتی کرنے کے لئے خرچ کیا جائے صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خرچ کیا جائے۔ یہ نیت اور خرچ کرنے کا طریقہ لوگوں سے تو پوشیدہ رہ سکتا ہے مگر اللہ سے ہرگز پوشیدہ نہیں رہ سکتا، کیونکہ وہ وسعت والا اور جاننے والا ہے۔ وہ دلوں کے بھید خوب اچھی طرح جانتا ہے اور اگر کوئی شخص کسی ضرورت مند کو مال دیتا ہے صرف یہ سوچ کر کہ اللہ خوش ہوگا اور پھر لینے والے کو نہ بےعزت کرتا ہے اور نہ ہی اس کے بدلہ میں اس سے کوئی اضافی کام لیتا ہے تو یہ اللہ کو بہت پسند ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو ماضی حال اور مستقبل میں راحت و سکون ملتا ہے۔ خوشی ملتی ہے اور وہ نیکی اور رضائے الٰہی کی وجہ سے بڑے ہی مطمئن اور پرسکون رہتے ہیں۔ اسی موضوع پر رکوع 23 میں بھی بات چیت ہوچکی ہے۔ یہ موضوع انسانی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ مال کی حرص، بخل اور فضول خرچی نہ صرف ایک انسان کے لئے نقصان دہ ہے۔ بلکہ پورے معاشرے کے لئے زہر کا کام کرتی ہے۔ اس سے بہت سی برائیاں پھیلتی ہیں اور اخلاقی اچھائیوں میں کمی آتی ہے۔ اس لئے آئندہ تین رکوعوں میں مسلسل اسی اخلاقی تربیت کے لئے ہدایات دی گئی ہیں۔ اگلی آیت میں حکم ہوتا ہے کہ اپنی خیرات ضائع نہ کرو۔
Ayah 2:263اچھی بات کرنا بھی صدقہ ہے
تشریح : ارشاد ہوتا ہے کہ خوش خلقی نرمی اللہ کو بےحد پسند ہے۔ اس لئے اگر کسی سوالی کو تم کچھ دے نہ سکو تو اس کو جھڑکو بھی نہیں۔ بلکہ بڑے نرم طریقہ سے اس سے معذرت کرلیا کرو اور اگر کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں تم ان کو دے دو تو یہ تمہارے لئے بڑے ثواب کا کام ہے اور اس بات کا خیال رکھو کہ اگر کسی کی مدد اس لئے کرو کہ بعد میں اس کو تنگ یا ذلیل کرو تو یہ دیا ہوا مال بالکل بےکار ہوگا۔ اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ اگر کوئی سوالی بار بار تنگ کرے تو بھی غصہ نہ کرو۔ بلکہ بڑی ہی نرمی اور درگزر سے کام لو کیونکہ اللہ تعالیٰ خود بردبار بےنیاز اور حلیم ہے وہ حلیم طبع یعنی نرم مزاج لوگوں کو بےحد پسند کرتا ہے اسی طرح اگلی آیت میں بھی یہی تاکید کی گئی ہے۔
Ayahs 2:264–265ریا کاری اور احسان جتلانے کی ممانعت
تشریح : اس آیت میں ریاکاری کی مذمت بیان کی گئی ہے اور ریا کار آدمی کو تو مومن کی شان سے ہی نکال دیا گیا ہے۔ صدقہ اگر ریا کاری کے لئے دیا جائے تو وہ بالکل بےکار بےفائدہ ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال رب العزت اس طرح دیتے ہیں کہ یوں سمجھو کہ ایک دانہ ایسے پتھر پر بویا گیا کہ جس پر ہلکی سی مٹی پڑی ہوئی تھی۔ اس پر زور کی بارش ہوگئی تو اس سے نہ مٹی باقی رہی اور نہ دانہ۔ ظاہر ہے اس دانے سے کچھ حاصل نہ ہوا بالکل اسی طرح دکھاوے سے دیا ہوا مال کوئی فائدہ کوئی ثواب نہیں دلواتا۔ حالانکہ مال تو خرچ کیا مگر نیت خالص نہ تھی صرف دکھاوے کی نیت تھی جو کہ منافقت کی نشانی ہے اس لیے خرچ کیا ہوا مال بیکار ہوگیا اور پھر جو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی یہ عادت اتنی پختہ ہوچکی ہوتی ہے کہ وہ کبھی بھی اپنی اس منافقانہ عادت کو چھوڑ نہیں سکتے لہٰذا اللہ بھی ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے برعکس ان لوگوں کی مثال اللہ تعالیٰ اس طرح دیتے ہیں کہ جو لوگ بالکل خلوص نیت سے اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے مال خرچ کرتے ہیں تو گویا انہوں نے ایسے بلند ٹیلے پر باغ بویا کہ جس کی زمین بڑی ہی زرخیز اور فضاء بڑی پر بہار ہو اور ایسے باغ پر اگر خوب بارش ہوجائے تو ظاہر ہے ایسا باغ دوگنا پھل لائے گا اور اگر صرف تھوڑی سی پھوار ہی پڑجائے تو بھی پھل اچھا ہی لائے گا اس طرح نیت کے صاف ہونے کی صورت میں اگر انسان تھوڑا مال بھی خرچ کرے تو بھی اس کو اجر خوب مل جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ وہ ہماری نیتوں اور ہمارے اعمال کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ سبق یہی ملا کہ ہر وقت ریاکاری، ایذاء رسانی اور احسان جتانے سے اپنے آپ کو بچانا چاہئے، کیونکہ یہ تینوں برائیاں بڑی سے بڑی مالی قربانی کو بالکل ضائع کردیتی ہیں۔ جبکہ نیک نیتی، خلوص اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے چھوٹی سے چھوٹی خیرات بھی بیشمار ثواب اور بہترین اجر کا باعث بن سکتی ہے۔
حدیث میں آتا ہے۔” عمل کی بہتری سچی نیت میں ہے “۔ ( جامع ترمذی)
Ayah 2:266دکھلاوے کا خرچ اور اس کی مثال
تشریح : یہ آیت بھی پچھلی آیت سے ملتی جلتی ہے، کیونکہ اس میں بھی ریاکاری کو مثال دے کر واضح کیا گیا تھا اور اس میں بھی ریاکاری کے نقصان کو ایک اور مثال دے کر واضح کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس بیان پر غور و فکر کرو تو نقصان سے بچ سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اس طرح کی مثال دیتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی بھی شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ اس کی تمام عمر کی کمائی اس وقت برباد ہوجائے، جبکہ وہ بوڑھا ہوچکا ہو کمانے کے قابل نہ ہو اور اس کے بچے بھی ابھی اس قابل نہ ہوں کہ کماکر کھاسکیں اور باپ کو کھلائیں۔ یہ کہانی بالکل ایسی ہی ہے کہ ایک آدمی دنیا میں خوب کماتا اور کھاتا رہا۔ لوگوں کو بھی دیتا رہا لیکن نیت اس کی صرف دکھاوے کی ہوتی، جس کی وجہ سے سب صدقہ و خیرات بجائے نیک اعمال میں لکھے جانے کے بالکل ضائع ہوتا رہا اور جب وہ اللہ کے حضور پہنچا تو اس کے اعمال نامہ میں کوئی نیکی نہ تھی اور اب وہ کچھ نہ کرسکتا تھا کیونکہ موت کے بعد عمل کرنے کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ اعمال نیک ہوں یا برے بس وہ اس زندگی میں ہی کئے جاسکتے ہیں اور دوسری بات بچوں کی تو یہ سارا سلسلہ دنیا کی زندگی میں ہی ہے آخرت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ قرآن پاک میں بیشمار دفعہ بتایا جا چکا ہے کہ آخرت میں بدلہ صرف اپنے اعمال کا ہی ملے گا، نہ باپ بیٹے کے لئے کچھ کرسکے گا اور نہ بیٹا ہی باپ کے لئے کچھ کرسکے گا تو گویا اس شخص نے محض ریاکاری کی وجہ سے اپنا تمام کیا کرایا ضائع کردیا۔ ریاکاری نے اس کے تمام صدقات و خیرات کا ثواب ختم کردیا اور وہ خالی ہاتھ دنیا سے چلا گیا اور آخرت میں ثواب کمانا ناممکن ہوگیا۔
یہ بہت عمدہ مثال اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہوشیار کرنے کے لئے دی ہے کہ جو لوگ دنیا کے نفع نقصان میں کوشش کرتے رہتے ہیں اور آخرت کو بالکل بھولے رہتے ہیں ان کو اپنے اس اتنے بڑے نقصان کا خیال کرتے ہوئے ہر کام اور نیک کام میں خلوص نیت اور اللہ کی خوشنودی کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ ورنہ ان کا انجام بھی اس بوڑھے جیسا ہوگا کہ خالی ہاتھ آخرت کا سفر کرنا پڑے گا اور اس میں تو سوائے نقصان اور عذاب کے اور کوئی فائدہ نہیں یہ تو ریاکاری کے نقصانات بیان کئے گئے ہیں اگلی آیت میں حکم دیا جارہا ہے کہ جو چیز اللہ کی راہ میں دی جائے وہ اچھی ہونی چاہئے۔
Ayah 2:267اللہ کی راہ میں اچھی چیز دو
تشریح : اس آیت میں صدقہ و خیرات دینے کا ایک اور طریقہ بتایا جارہا ہے کہ جس سے ہمیں اس کا پورا پورا اجر وثواب مل سکے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اے مسلمانو ! جب بھی تم کوئی چیزخیرات و صدقہ میں کسی غریب محتاج کو دو تو اپنے مال میں سے ایسی بہتر چیز دو جو خود تمہیں پسند ہو اور ایسی چیز ہرگز نہ دو جو اگر تمہیں دی جائے تو تم اس کو لینا پسند نہ کرو۔ سوائے اس کے کہ کسی مجبوری کی وجہ سے وہ خراب اور غیر معیاری چیز تمہیں لینی پڑے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود فیاض ہے اور اپنی مخلوق پر ہر وقت نعمتوں اور برکتوں کی بارش کرتا رہتا ہے تو یہ بات کس طرح درست ہوسکتی ہے کہ وہ تنگ نظر، بخیل اور بداخلاق انسان کو پسند کرے اللہ کو تو ہماری کسی چیز کی ضرورت نہیں وہ تو بےنیاز ہے وہ تو خود بیشمار صفات کا مالک ہے۔ بھلا اسے ہماری دی ہوئی چیزوں کی کیا ضرورت ہے۔ یہ حکم تو انسانی معاشرے کو درست رکھنے کے لئے اور انسان میں اخلاق کی بلندی پیدا کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔ کیونکہ ایسے انسان میں محبت، رحم، شفقت، ایثار، تقویٰ اور رضائے الٰہی حاصل کرنے کی تمنا پیدا ہوتی ہے جس سے یہاں دنیا میں ہمیں خوشیاں اور برکتیں عطا ہوتی ہیں اور آخرت میں بیشمار اجر وثواب مل جائے گا حدیث میں آتا ہے۔ ” بہترین صدقہ فقیر کے ساتھ احسان اور تنگدست پر صدقہ کرنا ہے “۔ (طبرانی)
Ayahs 2:268–269اللہ کے وعدے اور انعام
تشریح : اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ شیطان تو شروع دن سے انسان کا دشمن ہے۔ وہ ہمیشہ برے خیالات کی طرف انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ جیسا کہ جب بھی انسان اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے لگتا ہے تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ مت خرچ کرو۔ ایسا نہ ہو تم غریب ہوجاؤ۔ حالانکہ جو بھی شخص اللہ کی راہ میں خوش دلی اور نیک نیتی سے خرچ کرتا ہے تو اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کے مال میں ہرگز کمی نہیں آتی۔ بلکہ اس میں برکت ہی ہوتی چلی جاتی ہے اور جو اجر آخرت میں ملے گا وہ علیحدہ فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے یہ بھی اللہ کا دیا ہوا ہے اور وہ بڑے فضل و کرم والا ہے اور اسی طرح فضل و کرم کرنے والے بندے اسے بےحد پسند ہیں اور وہ ان سے خوش ہو کر اور بھی زیادہ مہربانیاں کرتا ہے۔ اس لئے صدقہ و خیرات کرتے ہوئے کبھی بھی مفلس ہوجانے کا خیال دل میں نہ لاؤ۔ یہ تمام حکمت کی باتیں جس کو سمجھ میں آجائیں وہ بڑا خوش نصیب ہے۔ کیونکہ عقل، سمجھ اور حکمت اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور نیکی کے راستہ کی طرف بلاتے ہیں کہ یہ زندگی مختصر اور ختم ہوجانے والی ہے اس کی اتنی فکر نہ کرو بلکہ آخرت کی زندگی کی فکر زیادہ کرو جو کہ ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ عمل کرنے کا موقعہ صرف اس زندگی میں ہی ہے آخرت کی زندگی میں تو صرف یہاں کا کیا ہوا کام آئے گا۔ یہاں کے اعمال کی جزا اور سزا وہاں ملے گی بس یہی حکمت ہے اور یہی عقل مندی ہے۔ اگلی آیت میں وضاحت کی گئی ہے کہ خیرات کیسے کی جائے۔
Ayahs 2:270–271خیرات کیسے کی جائے
تشریح : اس آیت میں نذر کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ نذر یا منت مان لینا ناجائز نہیں کیونکہ یہ کسی نیک کام کے پورا ہونے پر انسان اپنے اوپر واجب کرلیتا ہے۔ یعنی کوئی یہ کہے کہ اللہ میرا فلاں کام پورا کر دے تو میں اتنی رقم خیرات کر دونگا اتنے فقیروں کو کھانا کھلاؤں گا یا اتنے نفل پڑھوں گا یا اتنے روزے رکھوگا تو مقصد پورا ہونے پر اس مانی ہوئی بات کو پورا کرنا واجب اور ضروری ہوجاتا ہے۔ یہاں بھی تاکید اسی بات کی ہے کہ ایک تو نیت خالص اور دوسرے نیک، بھلائی کے اور اچھے کام کے لئے نذر مانی جائے تو ضرور قبول ہوگی اجر بھی ضرور ملے گا لیکن اگر نیت خالص نہ ہو یا ناجائز کام ہو یا ناجائز موقع کے لئے نذر مانی جائے یا خرچ کیا جائے تو یہ اپنے اوپر ظلم کرنے کے برابر ہوگا اور اس لئے اسی کو اس کا کوئی بدلہ بھی نہ دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ تو کام ہی غلط کیا گیا ہے اس پر نہ اللہ راضی ہوگا اور نہ انعام ملے گا۔ نذر نیاز تو صرف نیک کام نیک نیت اور نیک مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی میں ہی مقبول ہوسکتی ہے۔
دوسری آیت میں یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے۔ کہ جو صدقہ فرض ہے وہ تو اعلانیہ دو لیکن جو فرض نہیں، وہ بیشک چھپا کر دو اور اس بات کا خاص خیال رکھو کہ اگر اعلانیہ خیرات یا نیکی کو لوگ ریاکاری سمجھتے ہیں تو پھر چھپا کر دو لیکن اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارا اعلانیہ صدقہ خیرات لوگوں کو نیکی کی ترغیب دیتا ہے تو پھر اعلانیہ ہی دو اور آخر میں یہی تنبیہ کی گئی ہے کہ چھپا کر دو یا اعلانیہ دو نیک نیتی سے دو یا بدنیتی سے دو اللہ کو سب کچھ معلوم ہے کیونکہ وہ خبر رکھنے کی طاقت اتنی زیادہ رکھتا ہے کہ جس کا اندازہ ایک انسان نہیں کرسکتا اس لئے جو بھی کرو اللہ کی خوشنودی کے لئے کرو اور موقعہ کی مناسبت سے کرو۔
Ayah 2:272خیرات کا پورا اجر
تشریح : اس آیت میں ایک نکتہ صدقہ دینے کا بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ شروع میں لوگ صدقہ صرف مسلمانوں کو ہی دیتے تھے، اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کو اس لئے صدقہ خیرات نہیں دیتے تھے کہ وہ مسلمان نہیں ہوئے تو یہاں اللہ تعالیٰ بڑے پیارے انداز میں یہ بات بتا رہے ہیں کہ تم اس بات کا خیال نہ کرو کہ تمہارے عزیز مسلمان کیوں نہیں ہو رہے تمہارا فرض صرف اتنا ہے کہ ان کو ہدایت، کامیابی اور نیکی کا راستہ دکھانا۔ ہدایت پر چلانا یہ نہ تمہارے بس میں ہے اور نہ تم اس کے ذمہ دار ہو، کیونکہ یہ کام تو صرف ہمارا (رب العزت کا) ہے، ہم جس کو چاہیں ہدایت دے دیتے ہیں اس لئے تم ان کی مالی امداد ضرور کرو۔ کیونکہ تم صدقہ و خیرات اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرتے ہو اور نیک نیتی سے صدقہ و خیرات ہر ضرورت مند انسان کو دو ، تمہیں تمہارا بدلہ ضرور پور اپورا دیا جائے گا اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کی جائے گی۔
Ayahs 2:273–274خیرات کے مستحق کون
تشریح : ان آیات میں ایک اور ایسے طبقہ کے لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن کو صدقہ و خیرات دینا چاہئے یہ وہ لوگ ہیں جو دینی کاموں میں اس قدرمصروف رہتے ہیں کہ ان کو روزی کمانے کا وقت ہی نہیں ملتا جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے وہ صحابہ کرام جو اصحاب صفہ کے نام سے مشہور تھے۔ یہ لوگ ہر وقت دینی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف رہتے اور کبھی کسی سے سوال نہ کرتے تو لوگ سمجھتے کہ وہ ضرورت مند نہیں ہیں۔ حالانکہ بھوک اور تنگی کی وجہ سے ان کے چہروں سے یہ بات معلوم کی جاسکتی تھی کہ وہ ضرورت مند ہیں ایسے ہی لوگ آج کل بھی موجود ہیں تو رب العزت فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی ضروریات کا پورا پورا خیال کرو۔ کیونکہ وہ خود داری کی وجہ سے لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ اللہ رب العزت ایک دفعہ پھر اپنا وعدہ دہرا رہے ہیں کہ تمہاری کوئی قربانی، کوئی صدقہ خیرات، کوئی نیکی اللہ سے ہرگز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ لوگ جو چھپا کر خیرات کرتے ہیں یا اعلانیہ کرتے ہیں۔ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے اور وہ ان کو پورا پورا بدلہ دے گا۔ ایسے لوگوں کو نہ ماضی کا غم کرنا چاہئے نہ مستقبل کی فکر کرنی چاہئے یہ ایک خاص انعام ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی راہ میں خلوص سے خرچ کرتے ہیں۔ سورة البقرہ کی آیت 283 تک مالیات یعنی مال خرچ کرنے اور اس سے پورا پورا فائدہ حاصل کرنے کے ایسے بہترین اصول اور قانون بتائے گئے ہیں کہ جن سے دنیا و آخرت میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں اس وقت دنیا میں جتنے بھی معاشی نظام چل رہے ہیں ان کا آپس میں اتنا ٹکراؤ ہے کہ جنگ و جدل ہونا ضروری ہے۔ اسلام میں معاشی نظام اتنا سادہ، آسان اور بہترین ہے کہ اس سے دنیا میں بجائے لڑائی جھگڑے کے امن و سکون پیدا ہوسکتا ہے۔ اس نظام کی ایک بنیادی بات کو یہاں بیان کیا گیا ہے جس کے دو پہلو ہیں۔
-1 اپنی ضرورت سے زیادہ مال، صدقہ و خیرات کرکے مفلسوں کی مدد کرنا۔
-2 دوسرا سود سے بچنا، کیونکہ یہ معاشرے کے مفلس، تنگ دست لوگوں کو مزیدتنگی ڈالنا ہے اس لیے اسے اللہ نے حرام قراردیا ہے۔
سورة البقرہ میں دورکوع صدقہ و خیرات کے احکامات اور فضائل کے بیان میں گزر چکے ہیں اب آئندہ آخری دو رکوعوں میں سود کے بارے میں بتایا جائے گا اور یہ دو اصول ایسے ہیں کہ جو مسلمان کو امن، سکون اور ترقی و کامیابی کی زندگی عطا کرتے ہیں۔ صرف دنیا ہی نہیں، بلکہ آخرت بھی سنور جاتی ہے۔ یعنی انسان خود بھی راضی اور اللہ تعالیٰ بھی راضی۔
صدقہ و خیرات تو پوری تفصیل سے گزر چکا اب سود کا موضوع شروع ہوتا ہے۔
Ayah 2:275سود حرام ہے
تشریح : اس سے پہلے صدقہ و خیرات کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اصل میں سود اور خیرات ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ خیرات بھلائی کی بنیاد ہے، جبکہ سود برائی کی بنیاد ہے۔ اسلام سے پہلے عربوں میں سود کا کاروبار عام تھا جس طرح شراب عام تھی، اسلام کیونکہ امن و سکون اور سلامتی کا نام ہے اس لئے سب سے پہلے شراب اور پھر سود کو حرام قرار دیا گیا۔ 8 ہجری میں سود کی حرمت کا حکم ہوا ہے سودکامطلب ہے زیادتی۔ کیونکہ اس کے اصول ظلم و زیادتی پر منحصر ہیں اس لیے اس کو سود کہتے ہیں دو طرح سود لیا اور دیا جاتا ہے۔ ایک تو انسان مجبور و بےبس ہو کر روزانہ کے اخراجات کے لئے قرضہ لیتا ہے جو کہ اس کو اس شرط پر دیا جاتا ہے کہ اتنے مال پر اتنا منافع ادا کیا جائے جب مقررہ مدت میں رقم واپس نہیں ہوسکتی تو سود کی رقم بڑھا دی جاتی ہے اور اس طرح یہ رقم بڑھتے بڑھتے اصل رقم جو قرض میں لی ہوتی ہے اس سے بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ غریب بےبس انسان قرض کے چنگل میں اس طرح پھنس جاتا ہے کہ اس کی تمام خوشیاں، غمی اور رسوائی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں بلکہ زندگی ہی برباد ہو کر رہ جاتی ہے۔ لیکن اس کے خلاف اسلام میں حکم دیا گیا ہے کہ جو مال تمہارے پاس فالتو ہے اسے غریب، لاچار اور ضرورت مند کو دے دیا جائے اگر کسی کو سود کے بغیر قرض دیا جائے یا مدد کے طور پر رقم دی جائے تو وہ شخص اس رقم سے کچھ نہ کچھ فائدہ حاصل کرکے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکتا ہے۔ جبکہ سود کے چکر میں اس کی حالت اور بھی خراب ہوجاتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ سود بےرحمی، سنگدلی، خود غرضی اور ظلم کا سودا ہے، جبکہ صدقہ و خیرات، بھائی چارے، اخلاق، مروت، خدمت خلق اور خیر اندیشی کا سودا ہے۔ اسی لئے سود کو حرام اور صدقہ و خیرات کو بہترین اعمال میں شمار کیا گیا ہے۔ باطل پرست کہتے ہیں کہ سود بھی تو تجارت کی ایک شکل ہے۔ اب سود اور تجارت کا فرق دیکھیں یہ دوسری قسم کا سود ہے۔ یعنی ایک شخص قرضہ لیتا ہے، کاروبار کرنے کے لئے اگر کوئی اس کو صرف مدد اور رضائے الٰہی کیلئے یا صدقہ خیرات میں سے رقم دے دے تو وہ اس سے تجارت کرکے رقم کو بڑھا سکتا ہے اور اس طرح اس کی مالی حالت بہتر سے بہتر ہوسکتی ہے، لیکن اگر قرض دینے والا اس کو سود کے چکر میں رقم دیتا ہے تو اس کی محنت اس کو اتنا فائدہ نہیں دیتی، کیونکہ منافع پورا اس کو نہیں ملتا بلکہ بعض اوقات اصل رقم کے منافع سے بھی سود پورا نہیں کیا جاسکتا اور یوں اس شخص کو بجائے سہولت کے ایک مستقل پریشانی اٹھانی پڑتی ہے اور اگر تجارت میں اس کو نقصان ہوجائے تو یہ اس کے لئے وبال جان بن جاتا ہے کہ اصل رقم اور سود کی رقم کہاں سے ادا کرے ؟ جبکہ سود لینے والا اس پر بالکل مہربانی نہیں کرتا، کیونکہ وہ کہتا ہے یہ میری تجارت ہے۔ حالانکہ اس طرح رقم دینے پر نہ تو اس کو محنت کرنی پڑتی ہے اور نہ ہی کوئی پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔ بس مزے سے منافع حاصل کرتا ہے۔ بس یہی فرق ہے تجارت اور سود میں۔ اس لئے تجارت رحمت ہے، جبکہ سود لعنت، زحمت ہے۔ اسی لئے سود کو حرام قرار دے دیا گیا، جبکہ تجارت انتہائی مناسب اور پاکیزہ پیشہ ہے اور بالکل حلال کمائی کا ذریعہ ہے۔
اس ساری بحث کے بعد نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ سود خور کے وقتی منافع کے مقابلہ میں اس کا اخلاقی، روحانی اور کردار کے لحاظ سے اس قدر نقصان ہوجاتا ہے کہ وہ انسانیت کے دائرہ سے نکل جاتا ہے تو اس مال کا کیا فائدہ جو انسان کو حیوان بنا دے اور سود کا یہی نشہ انسان کو ہوجاتا ہے پھر وہ خرمست ہو کر زندگی گزارتا ہے اسی لئے اس کو دیوانگی سے ملایا گیا ہے کہ اس کو کسی قسم کی کوئی تمیز نہیں رہ جاتی بس پیسہ ہی اس کا سب کچھ ہوجاتا ہے وہ دیوانوں کی طرح انسانیت اور نیکی کی تمام حدیں توڑ کر صرف مال کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے اور اس طرح شیطان کا ساتھی بن کر اپنی دنیاو آخرت تباہ و برباد کرلیتا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن سود خور اپنی قبروں سے اٹھتے وقت سیدھے کھڑے نہ ہو سکیں گے، بلکہ خبطیوں اور دیوانوں کی طرح گرتے، لڑکھڑاتے ہوئے اٹھیں گے اور پھر سودی مال، اعمال کو بےکار کردیتا ہے۔ (سمعان)
اللہ تعالیٰ نے درگزر سے کام لیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص سود کے حرام ہونے کا حکم سنے اور سودی کاروبار بند کر دے تو اس کا پچھلا سود معاف ہوجائے گا۔ لیکن جو باز نہ آیاتو وہ ہمیشہ دوزخ میں جلے گا۔
اس آیت میں ایک ایسی صداقت بتائی گئی ہے جو انسان کو پست یا بلند کرتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ سود انسان کو خود غرضی، بخل، تنگ دلی اور سنگدلی کی طرف لے جاتا ہے جو انسانی برادری کے لئے زہر کا کام دیتی ہیں۔ جبکہ تجارت اور صدقہ و خیرات انسان کو فیاضی، ہمدردی، فراخ دلی اور محبت و خلوص کی طرف لے جاتی ہیں اور یہ تمام خوبیاں انسانی برادری کی ترقی، خوشحالی اور کامیابی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
آج کل سود کا دور ہے اور معاشیات یعنی کاروبار زندگی میں سود کو ریڑھ کی ہڈی سمجھا جانے لگا ہے۔ مگر بعض یورپی حکما نے تحقیق کے بعد اس بات کو مانا ہے کہ سود معاشیات کے لئے ریڑھ کی ہڈی نہیں بلکہ ہڈی میں پیدا ہونے والا ایک کیڑا ہے جو اس کو آہستہ آہستہ کمزور کرتا ہے۔ وہ اس طرح کہ جیسے مسلمان امیر ترین قوم ہونے کے باوجود غریب ہیں، کیونکہ اس کے تمام معدنی وسائل کی آمدنی یورپی اور امریکی بینکوں میں چلی جاتی ہے جہاں سے وہ معمولی منافع یعنی سود صرف پندرہ فیصد دیتے ہیں اور خود اسی رقم سے انواع و اقسام کی مشینری تیار کرکے ہمارے ہی ہاتھ ہزاروں گنا منافع سے بیچتے ہیں۔ مسلمان کا سرمایہ کاری کا یہ کس قدر غلط طریقہ ہے اس کو اگر اسلامی اصولوں اور قرآنی قوانین کے مطابق تجارت میں اور اپنے غریب اسلامی ممالک کی امداد میں لگایا جاتا تو آج مسلمانوں کی دولت پر غیر مسلم عیش نہ کر رہے ہوتے اور دوسری طرف اسلامی ممالک اپنی ضروریات کے لئے غیر مسلموں سے سود پر قرض نہ لے رہے ہوتے۔ یہ سود کا چکر بھی مسلمانوں کے خلاف ایک زبردست سازش ہے اور اس سازش کو بڑی ہی آسانی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اگر مسلمان خود اس کے لئے تیار ہوجائیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں۔
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات، کشمکش انقلاب
سود کی لعنت سے مسلمان کو آزادی حاصل کرنا مشکل کام نہیں۔ قانون تو ہمارے پاس موجود ہے، صرف اتحاد اسلامی اور تبلیغ دین کی ضرورت ہے۔ کیونکہ تبلیغ دین کے بڑے اچھے نتائج ہوتے ہیں اور پھر اسی وجہ سے مسلمانوں کو ” خَیْرَاُمَّتٍ “ کہا گیا ہے۔ مسلمان میں بڑی طاقت ہے پہلے اتحاد چاہیے علامہ اقبال کہتے ہیں۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کا شغر
آج کا مسلمان صرف باتیں بناتا ہے اور کشکول لے کر قرض کے لئے در در پھر رہا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بیشمار نعمتیں ہیں جن کو ہم ٹھیک طرح استعمال نہیں کر رہے۔ ہمارے باپ دادا ہم سے بالکل مختلف تھے ان کی خودداری نے ان کو کبھی اجازت نہ دی تھی کہ کسی کے آگے سوال کریں۔ علامہ اقبال ان کی شان کو یوں بیان کرتے ہیں۔
گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا
غرض سود کی سب سے بڑی زحمت یہ ہے کہ یہ امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بناتا ہے اور اس سے بھی بڑی پریشانی یہ ہے کہ ہم مسلمان ہو کر سود لے رہے ہیں۔ اور دے رہے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ سود حرام ہے اور جب یہ معلوم ہوجائے تو پھر سود کو فوراً بند کردینا چاہئے ورنہ پھر یہی حکم ہے کہ سودی کاروبار کرنے والے جہنم میں ڈالے جائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وہاں ہی رہیں گے۔
میری ہر مسلمان فرد، جماعت، ملت، ملک اور پوری اسلامی دنیا سے پر زور اپیل ہے کہ سودی کاروبار کے خلاف جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ کیونکہ سودی کاروبار ہمیں غریب سے غریب ترین درجہ پر پہنچا رہا ہے اور موت کے بعد جہنم میں جانے کا سبب بنے گا۔ اور یہ اللہ کا فرمان ہے ضرور پورا ہوگا۔ سود کے بارے میں حدیث ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی سود لینے والے پر، سود دینے والے پر اور اس کے گواہوں پر اور اس کے لکھنے والے پر۔ (ترمذی)
Ayahs 2:276–277سود اور خیرات کا موازنہ
تشریح : سود کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں مزید وضاحت اس صورت سے کی جارہی ہے کہ ہمیں ضرورت سے زیادہ مال ضرورت مند لوگوں کو دے دینا چاہئے، کیونکہ یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اور ہمیں ضرورت مند لوگوں کو دیکر اس کی رضا حاصل کرنی چاہیے۔ اور اگر ہم مفلس کی مدد اپنے فالتو مال سے نہ کریں تو گویا ہم نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا، بلکہ اس مال کو سود پردے کر غریبوں کو اور بھی غریب کرنا شروع کردیا۔ بھلا یہ بات کون پسند کرسکتا ہے اور اللہ کو بھی یہ ناپسند ہے، کیونکہ یہ انسانیت کے خلاف ہے پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری سناتا ہے جو ایمان لاتے اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے نماز قائم کرتے ہیں۔ انسان کی بھلائیاں چاہتے ہوئے زکوٰۃ بھی دیتے ہیں اس لئے ان کو اطمینان، خوشی، صبر اور سکون کی دولت ملتی ہے وہ دنیا میں بھی مطمئن ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کو کوئی غم اور کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کو بےحد پسند ہوتے ہیں زکوٰۃ اسلام کا دوسرا رکن ہے یہ خاص مقدار میں مال ( سونا، چاندی، جانور، زمین کی پیداوار) پر خاص مدت گزرنے پر ادا کیا جاتا ہے اس کی تفصیلات انشاء اللہ آئندہ بیان کی جائیں گی۔ زکوٰۃ بھی عام بہتری، بھائی چارے، ہمدردی، نیکی اور فلاح و بہبود کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ نماز کے بارے میں تو بیان ہوچکا ہے کہ نماز تسکین دل کا سبب ہے اور اللہ سے دعا کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو کہ بندے اور رب کے درمیان خوش گواررابطہ پیدا کرتی ہے اور برائیوں سے بچاتی ہے۔ اگلی آیت میں پھر سود کی ممانعت کی گئی ہے۔ فتح مکہ کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 2:278–279سود لینا چھوڑ دو
تشریح : یہ آیت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی تھی۔ اسلامی حکومت کے دائرے میں سود کا لین دین قانوناً بند کردیا گیا تھا اور قبائل کو آنحضرت ﷺ نے پیغام بھجوا دیا کہ اب جو لوگ سود کا لین دین بند نہ کریں گے تو ان سے جنگ کی جائے گی۔ بخرانی عیسائیوں کو بھی سمجھا دیا گیا کہ اگر تم نے سودی کاروباربند نہ کیا تو ہمارا تمہارا معاہدہ ختم کردیا جائیگا اور ہمارے درمیان حالت جنگ پیدا ہوجائے گی اور دوسری بات یہ ہوئی کہ جو بھی دارالاسلام میں سود کھائے اسے توبہ پر مجبور کیا جائے ورنہ اسے قید کیا جائے اور توبہ کرنے پر چھوڑا جائے۔
Ayahs 2:280–281مجبور اور تنگ دست سے رعایت
تشریح : ارشاد ہوتا ہے کہ اگر قرض دارتنگ دست ہے تو اسے قرض ادا کرنے کے لئے تنگ نہ کیا جائے، بلکہ انسانیت اور نیکی یہی ہے کہ اس کو آسانی اور خوشحالی تک مہلت دی جائے کہ وہ آسانی سے قرض ادا کرسکے، بلکہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر قرض دینے والا ہمدردی کی وجہ سے معاف کر دے تو یہ بڑے ہی فائدے اور نیکی کا کام ہے اگر تمہیں سمجھ ہو یعنی قرض معاف کرنے سے قرض دار کو تو بظاہر فائدہ ہوگا لیکن دراصل فائدہ تمہیں خود ہوگا کیونکہ قرآن پاک میں اکثر جگہ بتایا گیا ہے کہ ” اس دن سے ڈرو جب تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور اپنے کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا بدلہ پاؤ گے “۔ اللہ نے انصاف اور حساب کتاب کا انتظام ایسا لاجواب بنا رکھا ہے کہ وہاں وہی ملے گا جو دنیا میں کیا ہوگا اور اس میں کسی شخص پر ہرگز کوئی ظلم یا زیادتی نہ کی جائے گی یہی دن حساب کا دن ہوگا جب سب لوگ اللہ کے حضور میں پیش ہونگے۔
Ayah 2:282لین دین کے مسائل اور گواہی
تشریح : یہ آیت پورے قرآن مجید میں سب سے لمبی آیت ہے۔ اسلام کے ہر اصول سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خیر سگالی اور امن و سکون کا مذہب ہے اس میں زندگی کے تمام اصول اس طرح بیان کئے گئے ہیں کہ ہر شخص معاشرے میں امن سکون اور عزت و احترام سے زندگی گزار سکے اور لوگوں کے آپس میں کم از کم لڑائی جھگڑے اور فساد ہوں۔ پہلے صدقہ و خیرات اور سود کی ممانعت کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے اور اب باہمی لین دین اور تجارت کے کچھ اصول بتائے جارہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب بھی تم آپس میں لین دین کرو تو ضروری ہے کہ اس کو لکھ کر معاہدہ پر دو گواہوں کے دستخط بھی کروا لو۔ گواہوں کی شرائط یہ ہیں کہ وہ تمہاری اپنی قوم کے ایسے جانے پہچانے دو مرد ہوں جن کی شہرت اچھی ہو اور تمہاری جان پہچان ان کے ساتھ اچھی ہو۔ دو مرد گواہوں کے لئے ہونے چاہئیں اگر دو مرد نہ مل سکیں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بنا لو عورتیں دو اس لئے کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد کروا دے۔ گواہوں کو جب بلایا جائے تو انکو انکار نہیں کرنا چاہئے۔ یہ ایسے لین دین کا ذکر ہے جس میں کسی مدت کا وعدہ ہو، بھول چوک سے بچنے کیلئے حکم ہے کہ معاہدہ لکھ کر رکھ لو لکھنے والے کو چاہئے کہ لکھنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے سب سے بہتر یہ ہے کہ قرض لینے والا اپنے ہاتھ سے لکھے اگر لکھنا نہیں جانتا تو کسی کاتب کو بلا لے اور اس کو بغیر کسی کمی بیشی کے تمام معاملہ لکھوا دے۔ اگر قرض لینے والا کسی وجہ سے لکھوا نہیں سکتا تو پھر اس کے وارث کو چاہئے کہ پورے انصاف سے لکھوا دے۔
یہ معاملہ اتنا ضروری ہے کہ دوبارہ تاکید کی جارہی ہے۔ کہ رقم چھوٹی ہو یا بڑی۔ قرض بڑا ہو یا معمولی ہر صورت میں لکھ کر معاہدہ کرو اور لکھنے میں ہرگز سستی نہ کرو کیونکہ لکھے بغیر بیشمار جھگڑوں کا امکان ہے پھر فرمایا کہ ہاں اگر آمنے سامنے یعنی دست بدست لین دین کرنا ہو تو پھر لکھت پڑھت کی ضرورت نہیں۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ گواہوں اور کاتب کے لئے ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کی ناانصافی نہ کریں اسی طرح قرض دینے اور لینے والے پر بھی فرض ہے کہ وہ کاتب یا گواہوں کو کسی بھی صورت سے تنگ نہ کریں۔ کیونکہ یہ گناہ ہیں، اور ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہو۔ جو کچھ اللہ سکھاتا ہے، بتاتا ہے اس پر پورے خلوص اور نیک نیتی سے عمل کرو۔ کیونکہ اللہ سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں وہ ہر بات ہر کام کو اچھی طرح جانتا ہے۔
Ayah 2:283گروی (رہن) رکھنے کی ہدایت
تشریح : پچھلی آیت سے تعلق رکھنے والا ایک نکتہ اور بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم کہیں سفر میں ہو قرض لیناپڑ جائے تو لین دین میں کاتب نہ ملے تو رہن کا معاملہ کرلیا جائے رہن کا مطلب ہے کہ قرض لینے والا اپنا کوئی سرمایہ قرض دینے والے کے پاس امانت کے طور پر رکھ دے۔ اس شرط پر کہ جب قرض ادا کرے گا تو اپنی امانت واپس لے لے گا۔ اس میں زیور، اور مال مویشی وغیرہ شامل ہیں۔ اب اس امانت پر شرط یہ ہے کہ امانت رکھی گئی چیز پر مالی فائدہ امانت رکھنے والا (یعنی قرض دینے والا) نہیں اٹھا سکتا یہ سود ہوگا جو کہ حرام ہے۔ صرف مویشی سے کام لے سکتا ہے اور اس کا دودھ بھی استعمال کرسکتا ہے کیونکہ وہ مویشی کو چارہ کھلاتا ہے اور امانت رکھنے والے کے لئے بڑی سخت تاکید ہے کہ وہ پوری دیانت داری کے ساتھ امانت کو وقت پر واپس کر دے۔ یہ تمام احکامات صرف سفر کے لئے ہی نہیں سفر میں نہ ہوں تو تب بھی مجبوری کی حالت میں ایسے کرسکتے ہیں۔ آیت کے آخر میں پھر تاکید کی جارہی ہے کہ کسی قسم کی گواہی ہرگز مت چھپاؤ۔ کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے اور یہ مت سمجھو کہ اللہ کو کیا معلوم جو مرضی کرلیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، کیونکہ اللہ سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں وہ تو بڑا ہی علیم (جاننے والا) ہے جو کچھ بھی تم عمل کرتے ہو اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
Ayah 2:284اللہ ہر چیز پر قادر ہے
تشریح : اس سورت کو بڑا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے شروع میں دین کی تمام ایسی تعلیمات کو بیان کیا گیا ہے جو دین کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں اسی طرح سورت کے آخر میں پھر مختصر کرکے وہ تمام اصول و قوانین بیان کردیئے گئے ہیں جو دین کی مضبوطی اور انسان کی فلاح، ترقی اور نجات کے لئے ضروری ہیں یہ آیت سورة بقرہ کے آخری رکوع کی پہلی آیت ہے اور اس میں انسان کو اس کی حیثیت بتائی گئی ہے کہ تم نے سب کچھ کرنے کے بعد پھر اللہ کے سامنے اپنی پوری زندگی کا حساب کتاب دینے کے لئے پیش ہونا ہے۔ ہر وقت اس بات کا خیال رکھو کہ ہماری تمام زندگی ہر حرکت ہر کام بلکہ ہماری سوچ، ہماری نیت اور ہمارا ہر ارادہ اللہ کی نظر میں ہے وہ سب کچھ جانتا ہے اس لئے ہم اپنے کردار سے لوگوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر اللہ کو ہرگز دھوکہ نہیں دے سکتے۔ ہماری ہر لمحہ کی فلم تیار ہوتی رہتی ہے جو ہمیں دکھائی جائے گی جب ہم اللہ کے سامنے پیش ہونگے کس قدر شرمندگی ہوگی جب ہم دیکھیں گے کہ ہم نے اللہ کو مانا مگر اس کے دیئے ہوئے اصولوں کو نہ مانا اس سورت میں ہمیں بہترین زندگی گزارنے کے تمام اصول بڑی تفصیل سے بتا دیئے گئے ہیں۔ مثلاً توحید، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، جہاد، طہارت، شادی، طلاق، عدت، خلع رضاعت، شراب کا حرام ہونا، ربا (سود) قرض اور لین دین کے تمام جائز اور ناجائز طریقوں کو بڑی وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے۔ تمام طریقے زندگی گزارنے کے بےحد آسان اور فائدہ مند طریقے ہیں، جن پر عمل کرنا ہمارے لئے نہ صرف ضروری ہے، بلکہ ہماری اپنی بخشش اور دنیا میں سکون سے رہنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں بچہ پیدا ہوتا ہے، جو ان ہوتا ہے، بوڑھا ہوتا ہے اور پھر مرجاتا ہے روح اس کی اللہ کے پاس چلی جاتی ہے جسم زمین میں دبا دیا جاتا ہے جب انسان مرتا ہے تو اس کی تمام آل اولاد زمین، مکان، جائیداد اور روپیہ پیسہ سب کچھ ادھر دنیا میں ہی رہ جاتا ہے۔ مگر اس پوری زندگی گزارنے کے تمام طور طریقے کی فلم اس کی روح کے ساتھ اللہ کے دفتر میں جمع ہوجاتی ہے۔ کیوں نہ ایسی فلم ہم اپنے لئے تیار کرائیں کہ جس کو دیکھ کر ہماری خوشیوں کی انتہا نہ رہے اور اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں اور ہمیں اس ہمیشہ رہنے والی زندگی میں بہترین ٹھکا نہ مل جائے جس کو جنت کہتے ہیں۔ جس میں ہر وہ نعمت بیشمار ہوگی جس کی تمنا ہم اس دنیا میں اپنی بہترین زندگی گزارنے کیلئے کرتے ہیں۔ جنت کا حصول اور دنیا کا سکون، ترقی، بےفکری، صحت و توانائی، عزت و احترام اور وقارصرف اس میں ہی ہے کہ دلوں کو اللہ کے خوف سے ہر وقت پر رکھیں اور اپنی نیتوں کو صاف، خلوص اور محبت کے دروازے ہر ایک کے لئے ہر وقت کھلے رکھیں کبھی بھی کسی سے نفرت، حسد بغض اور شرارت نہ کریں۔ کیونکہ یہ شیطان کے کام ہیں وہ ہمیں دنیا میں بھی ذلیل و خوار کرواتا ہے اور آخرت میں بھی جہنم میں ڈلوا دے گا۔ اللہ کا ڈر اور آخرت کی فکر ہماری زندگیوں کا بہترین محافظ ہے۔ اس آیت میں بڑی وضاحت سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زمین و آسمان اور ان کے درمیان میں جو کچھ بھی ہے سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہے تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ کو سب معلوم ہے وہ اچھی طرح ہر بات کا حساب لے لے گا اس کے اختیارات بےحد وسیع ہیں اس کو کوئی روکنے والا نہیں وہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس کو چاہے سزا دے کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد ایمان کے اجزاء بیان کئے گئے ہیں اور اللہ سے دعائیں کی گئی ہیں کہ ہمارے لئے آسانیاں پیدا کر دے اور بخش دے۔
Ayahs 2:285–286ارکان ایمان کا ذکر
تشریح : پچھلی آیت کا شان نزول یعنی نازل ہونے کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے۔ آیت 284 سے صحابہ کرام بہت پریشان ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کو تسلی دی کہ اللہ واقعی قادر مطلق ہے۔ وہ جو چاہے کرے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رحیم و کریم اور بےحد انصاف کرنے والا اور بےحد پیار کرنے والا ہے۔ وہ کبھی کسی بندے پر زیادتی نہیں کرتا اس لئے تم لوگ خلوص نیت سے اللہ کی اطاعت کرتے رہو تو اس پر صحابہ کرام نے بےاختیار یہ کہناشروع کردیا کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہم نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی اور ہم ہر صورت اس کا ہر حکم ماننے کو تیار ہیں رب العزت کو انکی یہ بات بےحد پسند آئی اور اس آیت میں نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کے ایمان کی تعریف فرمائی کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے یہ مان لیا کہ جو کچھ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا اس پر ایمان لائے، اللہ کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں میں کسی میں بھی فرق نہیں کرتے بلکہ سب کو مانتے ہیں پہلے اہل کتاب کی طرح نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں، ہم سب کو مانتے ہیں۔ صحابہ کرام نے کہا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور ہم اس بات پر پورا یقین رکھتے ہیں کہ ہم سب کو مرنا ہے اور اے اللہ تیرے حضور پیش ہونا ہے اور ہم تیری بخشش چاہتے ہیں۔
اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے گا۔ بلکہ اس کے اپنے کئے ہوئے اعمال کی سزا یا جزا دی جائے گی۔ جس نے نیکی کی اس کو اس کا بدلہ ملے گا جس نے برائی کی اس کو اس کا بدلہ ملے گا پھر رب العزت نے یہ دعائیں کرنے کو کہا۔ ” اے ہمارے رب ! اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے تو ہم سے درگزر کرنا، اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالنا جیسا کہ پہلی امتوں پر ڈالا گیا۔ ہم پر ایسی ذمہ داریاں نہ ڈالنا جو ہم پوری نہ کرسکیں۔ ہمیں معاف فرما دے ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مولیٰ اور آقا ہے۔ کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔ بےحد خوبصورت دعائیں ہیں۔ حق تعالیٰ نے خود بتائی ہیں اس لئے وہ ضرور قبول فرمائے گا۔ اللہ جل شانہ ہماری مشکلیں آسان کرے ہم تمام کے تمام احکامات کو خلوص نیت سے پورا کرسکیں اور دنیاو آخرت کی تمام بھلائیاں حاصل کرسکیں۔ آمین
الحمدللہ کہ سورة بقرہ مکمل ہوئی۔ اللہ اس کی برکت سے ہماری یہ دعا بھی قبول کرے۔
” رَبَّنَا اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ “
اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائیاں دے اور آخرت میں بھی بھلائیاں دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔