2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمفہوم القرآن

Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

(دنیا کی ابتداء میں) سب لوگ ایک ہی طریقہ پر تھے (پھر اختلافات رونما ہونے لگے) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کجروی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے، ان کا فیصلہ کرے اختلاف ان لوگوں نے کیا جن کو حق کا علم ہوچکا تھا۔ انہوں نے روشن ہدایات پانے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے، پس جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھا دیا جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے

اتحاد امت عقیدہ کی وجہ سے تشریح : اللہ تعالیٰ نے تاریخ ابن آدم کا ہلکا سا ذکر کیا ہے۔ وہ اس طرح کہ جب آدم (علیہ السلام) دنیا میں آئے تو ان کو حقیقت بتا دی گئی تھی اور یہ سمجھا دیا گیا تھا کہ کونسا راستہ ٹھیک ہے اور کونسا غلط اس کے بعد ایک لمبی مدت تک انسان ایک ہی نیک راستہ پر چلتے رہے اور اس طرح ایک امت کہلائے۔ لیکن پھر جیسے جیسے آبادی بڑھتی گئی لوگوں میں نئے نئے طریقے پیدا ہوتے گئے اور یوں لوگ مختلف گروہوں اور جماعتوں میں بٹنے شروع ہوگئے۔ یہ اس لیے نہیں ہوا تھا کہ ان کو حق اور ناحق کا علم نہیں تھا بلکہ وہ جانتے تھے کہ سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے۔ کچھ لوگ صرف اس لیے کہ اپنی بدفطرت سے مجبور ہو کر لوگوں کو دبانے اور خود فائدے حاصل کرنے کے چکر میں آپس میں خون خرابہ، ظلم زیادتی اور سر کشی کرنے لگے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی خرابیاں دور کرنے کے لیے اور امن و سلامتی قائم کرنے کیلئے انبیاء بھیجنے شروع کئے تاکہ لوگوں کے اخلاق درست کرکے تمام خرابیاں دور کرکے اس راستے پر ان کو چلائیں جو پہلے ان کو بتایا گیا تھا، تاکہ وہ سب پہلے کی طرح ایک اچھی امت بن کر، مل جل کر نیکی کی راہ اختیار کریں۔ یہ مطلب نہ تھا کہ ہر آنے والا بنی نئے عقیدے اور نئی امت بنا لے۔ تمام انبیاء کا سبق صرف ایک ہی تھا اور وہ تھا توحید کا سبق۔ انبیاء؊نے اسی وحدت کی طرف بلایا جس پر لوگوں کو شروع سے قائم کیا گیا تھا اب جن لوگوں نے انبیاء کی بات سمجھی اور تسلیم کی وہ تو مومن کہلائے اور جنہوں نے انکار کیا وہ اس متحدہ قومیت سے علیحدہ ہوگئے اور اس طرح ایک علیحدہ قوم قرار دیئے گئے اور اس علیحدہ قوم کا کام یہ ہے کہ انبیاء کی مخالفت کریں کتاب الٰہی کو نہ مانیں اور ہر اعتبار سے مومنین کی مخالفت کرنا ان کو تنگ کرنا۔ مگر مومنین کو چاہیے کہ اپنے عقیدے پر جمے رہیں اور ہر صورت میں امن و سکون کو پھیلائیں اور لوگوں کو برابر دین حق کی طرف بلاتے رہیں۔ یہ کام آسان نہیں اسی لیے اگلی آیت میں مسلمانوں کو صبر و سکون کی ہدایت دی گئی ہے۔
Ayah 2:214

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا۔ حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے۔ ان پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، جھنجوڑے گئے، حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی اس وقت انہیں تسلی دی گئی کہ اللہ کی مدد قریب ہے

اہل ایمان کی آزمائش تشریح : اس آیت مبارکہ میں مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ جو سختیاں اور مصیبتیں تمہیں پیش آرہی ہیں قبول اسلام اور تبلیغ ان پر گھبراؤ نہیں یہ سب کام راہ اللہ اور رضائے الٰہی کے لیے تم کرتے ہو جس کے بدلہ میں تم کو جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے تو جان لو اور کہ جنت بڑی محنت اور مشقت کے بعد ملتی ہے اس کا حصول اتنا آسان کام نہیں ہے، لوگوں کو چاہیے جو کہ اپنے سے پہلی قوموں کو اور انبیاء کو دیکھیں تو ان کو پتہ چلے گا کہ شیطان سے لڑنا اور برائی کو ختم کرنا اور حق کا بول بالا کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔ پچھلے لوگوں نے اور انبیاء نے اس قدر تکلیفیں اور مصیبتیں راہ حق میں اٹھائیں کہ وہ لوگ بلبلا اٹھے اور اللہ کے حضور عرض کرنے لگے کہ یا باری تعالیٰ ہماری مدد کب آئے گی تو اللہ ان کو تسلی دیتے ہوئے جواب میں فرماتے ہیں کہ بہت جلد اللہ کی مدد تمہیں ملے گی۔ مدد ملنے کا دستور ہی یہ ہے کہ پہلے آزمائش ہوتی ہے پھر انعام ملتا ہے۔ کیونکہ کھرے کھوٹے کی یہی پہچان ہے۔ صالحین اور انبیاء کو تو اللہ ضرور آزمائش سے گزارتا ہے اور پھر ان کی محنت اور ثابت قدمی کے مطابق ہی اجر وثواب دیا جاتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ آخر کار حق کی فتح باطل کو شکست ضرور ہوتی ہے۔ سورة آل عمران آیت نمبر 210 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلہ میں پا مردی دکھاؤ حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ “ حدیث ہے ” مصیبت پر صبر کرنا عبادت ہے “۔ (نسائی) سمجھ میں یہی آتا ہے کہ نیک راہوں پر خود چلنا اور دوسروں کو چلانا حق کی حمایت میں اور باطل کی مخالفت میں جدوجہد کرنا اور تمام پریشانیوں، مشکلات اور تکلیفوں کا خوشی اور ہمت سے مقابلہ کرنا بہت مشکل کام ہے لیکن جنت کا حاصل کرنا بھی تو آسان کام نہیں۔ جنت حاصل کرنے کے لیے اور دنیا و آخرت میں سرخرو ہونے کے لیے آزمائشوں میں پورا اترنا لازمی ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں۔ جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی روح امم کی حیات کشمکش انقلاب
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں ؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے

مال کہاں خرچ کریں ؟ تشریح : خرچ کرنے کے بارے میں پہلے بھی ہدایات آچکی ہیں۔ اس آیت میں صحابہ کرام کا آنحضرت ﷺ سے سوال کرنے کا ذکر ہے کہ مال کس جگہ خرچ کریں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنی پاکیزہ اور نیک دولت کو سلیقہ سے خرچ کرو درجہ بندی اس طرح کی گئی ہے۔ سب سے پہلے والدین پھر رشتہ دار پھر یتیم، پھر مسکین اور مسافر۔ یہ سب لوگ تمہاری کمائی کے مستحق ہیں اس کے علاوہ اپنے مال کو جس قدر بھلائی کے کاموں میں تم خرچ کرو گے تو اس کا بدلہ پاؤ گے کیونکہ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
Ayahs 2:216–219

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناپسند ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناپسند ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑناکیسا ہے۔ کہو اس میں لڑنا بہت برا ہے مگر اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور اللہ والوں پر مسجد حرام کا راستہ بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے اور وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں اس دین سے پھیرلے جائیں تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں مرجائے گا اس کے اعمال دنیا و آخرت دونوں میں ضائع ہوجائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہونگے اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

بخلاف اس کے) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا وہ رحمت الٰہی کے جائز امیدوار ہیں۔ اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے۔

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

پوچھتے ہیں شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے ؟ کہو ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے۔ اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ نفع بھی ہے۔ مگر ان کا گناہ ان کے فائدہ سے بہت زیادہ ہے۔ پوچھتے ہیں ہم اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں ؟ کہو جو تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لیے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے۔ شاید کہ تم دنیا و آخرت دونوں کی فکر کرو

جنگ کا حکم تشریح : جہاد کا حکم مسلمانوں کو مکہ سے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد ملا۔ اس وقت گو کہ مسلمان زیادہ مضبوط نہ تھے مگر اب وقت آگیا تھا کہ نئی اسلامی ریاست کی بنیاد کو مضبوط کیا جائے جس کے لیے کھلے بندوں تبلیغ کا کام بہت ضروری تھا۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا جب مسلمان اس سے قدرے پریشان ہوئے۔ کیونکہ ان کی تعداد اور سامان جنگ نہ ہونے کے برابر تھا تو اس پر رب العزت نے فرمایا کہ تم گھبراؤ نہیں، ہوسکتا ہے تم جنگ کو مشکل سمجھ رہے ہو جو کہ اللہ کے حکم سے تمہارے لیے آسان اور انتہائی فائدہ مند ثابت ہو۔ یہ مصلحت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس وقت تمہاری ترقی، مضبوطی اور کامیابی اسی میں ہے کہ باطل کے خلاف جنگ کرو، رب العزت علیم وخبیر ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تمہارے لیے کیا بہتر ہے اور کیا برا ہے اور جب انسان کا یقین کامل اور ایمان مضبوط ہو تو پھر وہ اپنی ہر چیز حتیٰ کہ جان تک اللہ کی راہ میں قربان کرنے کو تیار ہوجاتا ہے۔ انسان جانتا ہے کہ مال بھی اسی کا دیا ہوا ہے اولاد بھی۔ تو پھر کیوں نہ اس کو اسی کے لیے قربان کرکے ہمیشہ کی زندگی اور جنت میں ٹھکانہ حاصل کیا جائے۔ یہی ہے جذبہ جہاد جس کی بناء پر شہید کو مردہ کہنا منع ہے، کیونکہ وہ مرتا نہیں بلکہ حیات جاودانی پالیتا ہے اور اسے رزق دیا جاتا ہے جس کا ہمیں شعور و ادراک نہیں ہوتا اور اگر شہید نہ ہو تو غازی کہلاتا ہے اس آیت میں جنگ کا حکم دیا گیا، تاکہ اسلام کی ترقی سے دنیا امن و سکون کا گھر بن جائے اور اسلام کی ترقی ہو سکے اور شروفساد کا خاتمہ ہوجائے۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

پوچھتے ہیں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ کہو جس طرز عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو وہی اختیار کرنا بہتر ہے۔ اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے۔ اللہ چاہتا تو اس معاملہ میں تم پر سختی کرتا، مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب حکمت بھی ہے

تشریح : آیت 217 کا شان نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ سفر کے دوران کفار اور چند صحابیوں کی آپس میں لڑائی ہوگئی اور ایک مشرک مارا گیا۔ یہ لڑائی جمادی الثانی کی 30 تاریخ کو ہوئی جو کہ بعد میں معلوم ہوا کہ جمادی الثانی کا مہینہ 29 دنوں کا ہوگیا تھا۔ اس لیے لڑائی یکم رجب کو ہوگئی اور یہ مہینہ حرمت والا مہینہ تھا یہ صرف غلطی کی بناء پر ہوگیا تھا لیکن کفار کو تو بہانہ چاہیے تھا مسلمانوں پر طعنہ زنی کرنے کا کہ دیکھو مسلمان حرمت والے مہینوں کا بھی احترام نہیں کرتے تو وہ صحابہ آنحضرت ﷺ کے پاس گئے اور دریافت کیا کہ یہ غلطی بیخبر ی میں ہوگئی ہے۔ اب کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ غلطی میں گناہ معاف ہوتا ہے، حرمت کا خیال نہ رکھنا بری بات ہے لیکن غلطی ہوجائے تو معاف ہوسکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ اگر حرمت والے مہینوں میں اور حرمت والی جگہ پر کفار جنگ شروع کریں تو تم بھی دفاعی جنگ کرسکتے ہو۔ محرم رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ یہ چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ اللہ رب العزت نے وضاحت سے فرما دیا کہ غلطی سے جو ہوا وہ معاف ہے مگر یہ کفار جو جان بوجھ کر کر رہے ہیں مثلاً اللہ کی راہ سے روکنا یعنی اسلام قبول کرنے پر اذیتیں دینا، مارنا پیٹنا اور پھر بیت اللہ میں داخل ہونے سے روکنا۔ اللہ کی عبادت میں رکاوٹیں کھڑی کرنا پھر مسلمانوں پر اس قدر ظلم کئے کہ وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ فساد غارت گری اور دین سے منع کرنا یہ سب فتنے کفار خوب زور و شور سے کر رہے تھے۔ تو رب العزت فرماتے ہیں کہ جب فتنہ اس قدربڑھ جائے تو قتل کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ کیونکہ فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے اسے روکنے کے لیے قتل جائز ہے۔ تاکہ امن ہوجائے۔ اس آیت میں وضاحت سے بتایا جارہا ہے کہ کفار تو ہر وقت اور ہر صورت میں مسلمانوں سے لڑتے رہیں گے، کیونکہ اسلام کے اصول و قوانین اور عقائد ان سے بالکل علیحدہ ہیں۔ یہ کمزوروں پر ظلم کرتے ہیں، بتوں کو پوجتے ہیں، شراب پیتے ہیں، جوا کھیلتے ہیں۔ غرض ان کی ہر بات اسلام سے مختلف ہے۔ اسی لیے وہ اپنی پوری کوشش کرتے رہتے تھے کہ مسلمانوں کو اس حد تک تنگ کریں کہ وہ اسلام قبول کرنے سے باز آجائیں۔ اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ کفر کی راہ اختیار کرلیں تو اللہ تعالیٰ تنبیہ کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص گھبرا کر یا کسی بھی وجہ سے دوبارہ کافر ہوگیا تو اس کی سزا بڑی سخت ہے کفر کی حالت میں اگر وہ مرگیا تو اس کے تمام عمل ضائع ہوجائیں گے اور آخرت میں بھی ایسے لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کا عذاب دیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص مرتد ہوجائے اور پھر مرنے سے پہلے مسلمان ہوجائے تو ایسے شخص کی توبہ قبول ہوسکتی ہے، لیکن اگر کوئی کفر کی حالت میں ہی مرجائے تو جو اچھے اعمال اس نے قبول اسلام کے بعد کئے تھے۔ ان کا بدلہ بھی اس کو کچھ نہ ملے گا۔ اس لیے اس نے دنیا بھی کھو دی اور آخرت بھی کھو دی، تو مسلمانوں کو چاہیے کہ دین اور ایمان پر ڈٹے رہیں، کیونکہ اللہ جل شانہ نے بار بار اعلان کیا ہے کہ جس طرح غلطی سے صحابہ کرام سے حرمت والے مہینے میں کافر کا قتل ہوگیا تھا جو کہ انہوں نے صرف اور صرف فتنہ کو ختم کرنے کے لیے اللہ کی فرمانبرداری کیلئے جہاد کی صورت میں کیا تھا تو ان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہ اللہ کی رحمت اور اجر وثواب کے پورے پورے مستحق ہیں، کیونکہ وہ ایمان لائے انہوں نے ہجرت کی اور پھر اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ اس لیے ان کی غلطی معاف ہوچکی ہے۔ اللہ تو بہت ہی بخشنے والا اور مہربان ہے۔ ایمان، ہجرت اور جہاد یہ تو مسلمان کی ڈھال ہیں۔ ایمان ! اقرارتصدیق اور عمل کا نام ہے۔ (کتاب فردوس) ایمان کی انتہاء پرہیزگاری ہے۔ (مسند احمد) جہاد کی فضیلت میں حدیث ہے ابوعبس جن کا نام عبدالرحمن بن جبر تھا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس بندے کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں (چلنے کے باعث) غبار آلود ہوجائیں اسکو آگ نہیں چھوئے گی۔ (بخاری) اگلی آیت 219 میں شراب اور جوئے کے بارے میں احکامات ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو صحابہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں ان کو بتا دیں کہ یہ دونوں چیزیں اخلاق کو خراب کرنے والی ہیں۔ ان میں تھوڑے سے فائدے ہیں مگر نقصانات زیادہ ہیں اور اس آیت میں مصلحت کے طور پر ان دونوں چیزوں کو فوری طور پر حرام قرار نہیں دیا گیا ان لوگوں میں شراب کی عادت بہت پرانی تھی اور نشہ کی عادت فوراً چھوڑ دینا آسان کام نہیں اس لیے انسانی فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے پہلی آیت جو شراب کے بارے میں اتری اس میں صرف برائی، نقصان اور ناپسندیدگی کا ذکر کیا گیا پھر آہستہ آہستہ مختلف آیات اور واقعات کی روشنی میں شراب کو حرام قرار دے دیا گیا اور اس کو ام الخبائث یعنی تمام برائیوں کی ماں کہا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : شراب اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے۔ (نسائی) اس آیت میں صرف خرابی کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔ اور گناہ کہا گیا ہے۔ نقصانات تو بیشمار ہیں یہاں تھوڑے سے بیان کئے جاتے ہیں۔ مثلاً انسان اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہتا، گالیاں بکتا ہے، ناپاکی، حرام کاری اور فرائض سے غفلت اس کی عادت بن جاتی ہے۔ صحت، اخلاق اور معاشی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ شراب معدہ، جگر اور گردوں کو تباہ کردیتی ہے۔ پیسہ برباد ہوجاتا ہے اور پھر نشہ پورا کرنے کے لیے انسان اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں کر ڈالتا ہے، چوری، ڈاکہ، قتل اور دنگا فساد اس کیلئے معمولی بات ہوجاتی ہے اور یوں معاشرے میں نہ اس کی عزت رہتی ہے اور نہ وقار، غرض ایک اچھی عقل رکھنے والا انسان ضرور اس فیصلہ پر پہنچ جاتا ہے کہ شراب گندگی ہے، شیطانی کام ہے، زہر ہے جو انسان کی تباہی اور بربادی کا ذریعہ بنتی ہے، شراب اور جوئے کی ممانعت آہستہ آہستہ چار مختلف آیات میں نافذ کی گئی ہے جو آئندہ بیان کی جائے گی۔ تاکہ اس عادت کو چھوڑنا مشکل نہ ہو۔ آہستہ آہستہ اس کی برائیاں عملی طور پر بیان کی گئی ہیں اس کے فائدے برائے نام ہیں۔ اسی لیے صاف کہا گیا ہے کہ فائدہ کی نسبت گناہ زیادہ ہے، فائدے یہ ہیں لذت و فرحت ہوتی ہے، قوت میں عارضی اضافہ ہوتا ہے، رنگ صاف ہوجاتا ہے، تھوڑی سی دیر کے لیے غموں کو بھلا دیتی ہے، مگر یہ فائدے اتنے عارضی اور برائے نام ہیں کہ گناہ کے سمندر میں بالکل غائب ہوجاتے ہیں اسی طرح جوا انسان کو کبھی تھوڑی سی کامیابی دیتا ہے مگر انسان کی مالی حالت تباہ کردیتا ہے، لوٹ مار، چوری، قتل و غارت گری، فساد عیاشی اور فضول خرچی کا عادی بنا دیتا ہے۔ ظاہر ہوا کہ جوئے کے فائدے گناہ کے مقابلہ میں برائے نام ہیں، جوئے کی مختلف شکلیں ہیں، مثلاً گھوڑ دوڑ کی شرطیں، لاٹری، سٹے بازی، اور چوسر وغیرہ اسی طرح شرط پر جانوروں کا لڑانا بہت بےرحمی کا کام ہے، جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا : جانوروں میں لڑائی کروانا ان پر ظلم کرنا ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔ (گلدستہ احادیث بحوالہ ابن عباس ) آیت 215 میں پوچھا گیا ہے کہ کہاں خرچ کریں جو تفصیل سے بیان کردیا گیا ہے۔ اب یہاں پوچھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں ؟ یہاں انسانی سوسائٹی کو مضبوط کرنے کا بہترین اصول بتایا گیا ہے۔ یعنی ایسا نظام کہ جس سے قوم بیکاری اور غربت سے بچ سکے اور پھر اس طرح قوم کو ان تمام برائیوں سے بچایا جاسکتا ہے جو غربت، بھوک اور بیکاری سے پیدا ہوجاتی ہیں اور وہ نظام یا قانون یہ بتایا گیا ہے کہ ہر شخص جائز اور محنت سے روپیہ کمائے۔ اپنی تمام جائز اور ضروری حاجات کو پورا کرنے کے بعد جو بھی رقم بچ جائے اس کو ضرورت مند، غربا اور مستحق لوگوں میں تقسیم کر دے یہاں جو ” اَلْعَفْوَ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کا مطلب ہے۔ Surplus یعنی ضروریات سے زیادہ مال اپنے پاس رکھنے کی بجائے تقسیم کردیا جائے۔ یہ بہت امیر اور بہت غریب طبقہ کو ختم کرنے کا بہترین اصول ہے جو قرآن پاک میں بتایا گیا ہے اس کے لیے زندگی گزارنے کے اصول، آخرت کی فکر نیکی اور بدی کے تمام راستے قرآن پاک میں مسلمانوں کو اچھی طرح بتاد یئے گئے ہیں اور بار بار تاکید کی گئی ہے کہ قرآن پاک کے تمام بیانات کو خوب غور سے پڑھو، سمجھو اور ان پر عمل بھی کرو، تاکہ دنیاو آخرت میں خوشیاں، کامیابیاں سکون اور عزت و احترام حاصل ہو، کیونکہ کلام الٰہی اور احکام الٰہی بڑے ہی فائدہ مند اور بہترین ہیں۔ یتیموں کے مال اور ان کی اصلاح و تربیت کے بارے میں پہلے بتایا گیا تھا کہ جو یتیم کے مال میں گڑ بڑ کرے گا تو گویا وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرے گا اس پر صحابہ ڈر گئے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اور بھی وضاحت چاہی جس پر یہ آیت نازل ہوئی اس میں جواب دیا گیا ہے کہ اصل مقصد تو یتیموں کی اصلاح کرنا ہے جس طرح بھی ممکن ہو، کوئی بھی راستہ اختیار کرلو یتیم کا خرچہ چاہے اپنے ساتھ رکھ لو یا علیحدہ رکھ لو مگر نیت صرف یتیم کی بہتری اور اس کی مکمل اصلاح ہی ہو۔ پھر ان کو بھائی کہا گیا ہے مقصد یہ ہے کہ یتیموں کو کوئی علیحدہ مخلوق نہ سمجھو، بلکہ ان کے ساتھ خلوص، نیک نیتی اور محبت سے وہی سلوک کرو جو تم اپنے بھائیوں کے ساتھ کرتے ہو۔ یہ حکم تم لوگوں کو مشکل سے بچانے کے لیے دیا گیا ہے۔ تاکہ یہ فرض تم آسانی اور سہولت سے ادا کرسکو بیشک اللہ تعالیٰ زبردست تدبیر کرنے والا ہے۔ وہ بندوں کو آسان اور اچھے اصول بتاتا ہے تاکہ لوگ خواہ مخواہ کی پریشانی میں نہ پڑیں۔
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن لونڈی، مشرک شریف زادی سے بہتر ہے۔ اگرچہ وہ تمہیں زیادہ پسند ہو۔ اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ایک مومن غلام مشرک مرد سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو۔ یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے تمہیں جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، شائد کہ وہ نصیحت قبول کرلیں۔

ماہ حرام میں جنگ، مرتد کی سزا اور یتیموں کے بارے احکام نکاح کے مسائل تشریح : اس آیت میں نکاح کے بارے میں مسلمانوں کو ہدایات اللہ کی طرف سے بڑی تفصیل سے دی گئی ہیں۔ کیونکہ نکاح کی وجہ سے میاں بیوی اور پھر بچے یعنی ایک خاندان بنتا ہے اور خاندان ہی ملک و قوم کی اچھی یا بری بنیاد بنتے ہیں اس میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ میاں بیوی کی آپس میں صلح صفائی ہو یعنی ان کے خیالات اور عقائد ایک جیسے ہوں۔ عقائد، تہذیب، رہن سہن اس کا بہت سا انحصار مذہب پر ہے۔ اسی لیے اللہ جل شانہ نے حکم دیا ہے کہ مشرک عورت سے ہرگز نکاح نہ کرو چاہے وہ تمہیں کتنی ہی اچھی کیوں نہ لگتی ہو۔ یعنی بیشک خوبصورت، مالدار، پڑھی لکھی اور بڑے خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔ اس کے مقابلہ میں ایک لونڈی بہتر ہے جو مسلمان ہو۔ اسی طرح مسلمان عورت کے لیے حکم ہے کہ مشرک مرد سے ہرگز نکاح نہ کرے چاہے وہ اس کو کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگے۔ اس سے بہتر ہے کہ کسی غلام مسلمان سے شادی کرلی جائے اور اسی طرح یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ مردوں کو چاہیے کبھی بھی اپنی عورتوں کا نکاح کسی بھی مشرک مرد سے نہ کریں۔ کیونکہ اس طرح میاں بیوی کی ہر وقت کی مخالفت، آپس کی لڑائی سے اور گھر میں ناچا کی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ میاں بیوی کے بہتر تعلقات اور باہمی ہم آہنگی سے اولاد پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے اور ان کے خیالات، عقیدے بچوں کو بہترین ماحول میں پرورش کرنے کے لیے مدد گا رثابت ہوسکتے ہیں اور یوں وہ ملک و قوم کے بہترین شہری بن کر خود بھی کامیاب ہوسکتے ہیں اور پورے ماحول کو بھی پاک صاف اور پرامن رکھ سکتے ہیں۔ اس آیت کے شروع میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اہل کتاب عورت اور مرد سے شادی جائز ہے مگر بہتر نہیں۔ بلکہ حضرت عمر ؓ نے تو اس کو ناپسند فرمایا ہے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی عورت مسلمان تھی نکاح کے بعد کافر ہوگئی تو نکاح ٹوٹ جائے گا اسی طرح اگر کوئی مرد مسلمان تھا مگر بعد میں کافر ہوگیا تو اس کا نکاح بھی خود بخود ٹوٹ جائے گا۔ لیکن اگر کوئی مشرک عورت یا مرد مسلمان ہوجائے تو پھر اس سے نکاح کی اجازت ہے۔ ان تمام احکامات کی وجوہات اوپر بیان کردی گئی ہیں اسی لیے آیت کے آخر میں بحث کو سمیٹ کر نتیجہ بتا دیا گیا ہے کہ کافر اور مشرک اپنے مذہب اور عقیدوں کی وجہ سے تمہیں جہنم کی طرف بلاتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اسی لیے رب العزت نے یہ نکاح کا مسئلہ تم پر اچھی طرح واضح کردیا ہے۔ تاکہ تم اس کو سمجھو، غور فکر کرو اور پوری طرح عمل کرکے نجات پاؤ۔ ذیل کی حدیث بیان ہوئی کہ جن خواتین میں یہ صفات ہوں وہ حضور ﷺ کی نگاہ میں پسندیدہ ہیں۔ مثلاً نیکی، دینداری، طبیعت کا محبت کرنے والا ہونا، زیادہ صاحب اولاد ہونا۔ ( ریاض الصالحین بحوالہ مسلم) اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا متاع ہے اس کی سب سے بہتر متاع نیک عورت ہے۔ (ریاض الصالحین بحوالہ مسلم) ثابت ہوگیا کہ باقی تمام احکامات کی طرح نکاح کا حکم بھی اتنا اچھا، آسان اور سادہ ہے کہ اگر اس پر عمل کریں تو بیشمار الجھنوں، پریشانیوں اور دقتوں سے انسان بچ سکتا ہے۔ اگلی آیت میں عورتوں کے ایک اور بڑے اہم مسئلہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 2:222–223

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

لوگ آپ سے پوچھتے ہیں حیض کا کیا حکم ہے کہو وہ ایک گندگی کی حالت ہے اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہوجائیں پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ۔ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو توبہ کریں اور پاکیزگی اختیار کریں

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تمہیں اختیار ہے جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں جاؤ مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضی سے بچو، خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے اور اے نبی ﷺ جو تمہاری ہدایات کو مان لیں انہیں فلاح وسعادت کا ثمرہ سنا دو

احکام حیض تشریح : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں یہودی عورتوں کے ماہواری کے دنوں میں ان کے ہاتھ کا کھانا، پینا ان کے قریب بیٹھنا حتیٰ کہ ان کو گھر میں رکھنا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ دوسری طرف عیسائی اس دوران عورتوں سے بےتکلفی بھی کرتے تھے تو صحابہ کرام نے آپ ﷺ سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو رب العزت جواب دیتے ہیں کہ یہ ماہواری کا خون گندگی کہلاتی ہے۔ اس کے بارے میں رب العزت نے بڑا اچھا حکم دیا ہے جو کہ طہارت اور صحت انسانی کے لیے ضروری اور درست حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حیض کے دوران عورتوں کو اس قدر ناپاک نہ سمجھو کہ ان کے ہاتھ کا کھانا چھوڑ دو ان کو گھر سے نکال دو بلکہ صرف یہ خیال رکھو کہ ان سے ہم بستری نہ کی جائے، کیونکہ یہ ناقص خون، رنگ اور بو میں صاف خون سے مختلف ہوتا ہے اور اس میں حد درجہ گرمی ہوتی ہے اس لیے طبی لحاظ سے اختلاط انتہائی نقصان دہ ہے اسی لیے ان ایام میں بےتکلفی منع کی گئی ہے۔ ویسے عورت کے ہاتھ سے کھائیں پئیں اس پر کوئی پابندی نہیں اور فرمایا کہ جب یہ گندہ خون آنا بند ہوجائے تو پھر عورت کو چاہیے کہ غسل کرکے پاک صاف ہوجائے تو پھر جائز اور مناسب طریقے سے میاں بیوی آپس میں بےتکلف ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ یہ انسانی فطرت کے لیے ضروری ہے اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص ماضی میں اس حکم کے خلاف عمل کرتا رہا ہے تو اسے چاہیے کہ اللہ سے معافی مانگ لے وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ لیکن آئندہ پاکی اور ناپاکی کا خیال ضرور کرے۔ کیونکہ رب العزت پاک صاف رہنے والوں کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے اس کے بعد میاں بیوی کے مقدس رشتے کو اللہ تعالیٰ نے بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے اور عورت کو مرد کی کھیتی کہہ کر یہ واضح کردیا ہے کہ عورت مرد کی عزیز ترین دولت ہے جس طرح ایک کسان اپنی کھیت کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح مرد کو چاہیے کہ اپنی بیوی کی حفاظت کرے اس کو مکمل تحفظ دے اور اپنی بیوی کے ذریعہ اولاد حاصل کرے اور نیک اولاد کے لیے اللہ سے دعا کرے جیسا کہ کسان بیج بونے کے بعد اچھی فصل کیلئے دعا کرتا ہے انسان کو چاہیے کہ ہر کام کو کرتے وقت اپنے مستقبل کو بہترین بنانے کی کوشش کرے۔ تقویٰ کی تاکید قرآن پاک میں بار بار کی جارہی ہے۔ یہاں پھر حکم دیا جارہا ہے کہ انسان کو چاہیے ہر حال میں سوتے، جاگتے، کھاتے پیتے، اٹھتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے ہر وقت اللہ کو یاد کرتا رہے اور اللہ سے ڈرتا رہے اور ہر وقت یہ خیال میں رکھے کہ اس فانی دنیا کے بعد اس کو اللہ سے ملاقات کرنی ہے۔ پھر آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو بھی میرے حکم کے مطابق زندگی گزارے تقویٰ اختیار کرے مجھ سے ڈرے اور پرہیزگاری کی زندگی گزارے تو اس کو خوشخبری سنا دو کہ آخرت میں اس کو بہترین اجر دیا جائے گا۔ دوزخ سے بچا کر جنت میں جگہ دی جائے گی۔
Ayahs 2:224–225

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو جس سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو۔ اللہ تمہاری ساری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے (

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

جو بےمعنی قسمیں تم بلا ارادہ اٹھا لیا کرتے ہو اس پر اللہ گرفت نہیں کرتا مگر جو قسمیں سچے دل سے کھاتے ہو ان کی باز پرسی وہ ضرور کرے گا اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔

قسم کے احکامات تشریح : اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے پاک نام کو بلا وجہ قسمیں کھانے کے لیے ہرگز استعمال نہ کیا کرو۔ خاص طور سے ایسے کاموں کے نہ کرنے کی قسم کہ جس سے لوگوں میں نیکی رکے اور گناہ پھیلے۔ مثلاً کوئی شخص قسم کھائے کہ فلاں شخص سے لڑائی ہے میں اس کو کبھی نہ ملوں گا اور پھر قسم کھانے کے بہانہ سے مدتوں لڑائی رہتی ہے جس کی وجہ سے خواہ مخواہ تلخی بڑھتی رہتی ہے اس لیے قسم کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا مالک ہے عظمت و جلال والا ہے بھلا اس کی شان اور بزرگی والے نام کو یوں برے کاموں کے کرنے پر گواہ بنانا کس قدر بری بات ہے اس لیے اگر کوئی شخص قسم اٹھائے اور پھر احساس ہوجائے تو قسم توڑ دینی چاہیے مگر اس کا کفارہ ادا کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائیں یا ان کو کپڑے پہنائیں، اگر اس کی طاقت نہیں تو ایک غلام آزاد کریں اور اگر اس کی طاقت نہیں تو تین دن کے روزے رکھیں پھر ایک رعایت یہ دی گئی ہے کہ جو لوگ عادتاً ہر وقت قسم اٹھاتے رہتے ہیں تو ان کی نیت کو اللہ خوب جانتا ہے۔ ایسی قسموں پر کفارہ فرض نہیں لیکن یہ عادت ناپسندیدہ ہے اس عادت سے بچنا چاہیے۔
Ayahs 2:226–227

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں، ان کیلئے چار مہینے کی مہلت ہے اگر انہوں نے رجوع کرلیا تو اللہ معاف کرنے والا اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر انہوں نے طلاق کی ہی ٹھان لی ہو تو جان لیں اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے

طلاق کے بارے میں تشریح : ” یُؤْلُوْنَ “ اس کا مطلب ہے بیوی سے جدا رہنے کی قسم کھانا، عربوں میں رواج تھا کہ جب دل کیا شوہر ایلا کرلینے کے بعد بیوی کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد ہوجاتا۔ یعنی ایک طرح سے طلاق ہی ہوجاتی تھی۔ اسلام نے اس دستور میں تبدیلی کردی اور یہ بتایا کہ یہ فیصلہ طلاق ظاہر نہیں کرتا، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ سوچ بچار کرلی جائے اور اس کے لیے چار ماہ کی مدت مقرر کردی گئی ہے اس دوران شوہر اگر نیک نیتی سے فیصلہ کرتا ہے کہ گزارہ ہوسکتا ہے تو ٹھیک ہے، قسم کا کفارہ ادا کرکے بیوی سے صلح صفائی کرلی جائے اس سارے معاملہ میں اگر صاف ارادے اور خلوص سے مسئلہ طے کیا جائے تو اللہ بڑا مہربان ہے بےحد بخشش کرنے والا ہے لیکن اگر شوہر دیکھتا ہے کہ آپس میں نباہ مشکل ہے یا ایک دوسرے کو برداشت کرنا مشکل ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ طلاق ہوجائے تو بہتر ہے بجائے اس کے کہ تمام زندگی مشکل اور پریشانی میں گزاری جائے۔ یہودیوں میں یہ دستور تھا کہ جب چاہا طلاق دے دی۔ عیسائیوں اور ہندوؤں میں طلاق کی اجازت ہی نہیں مگر اسلام نے درمیانہ راستہ انسان کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ چھوٹی موٹی جھڑپ میاں بیوی میں ہوتی رہتی ہے۔ لیکن اگر معاملہ مشکل ہوجائے تو زندگی آسان اور مطمئن کرنے کے لیے طلاق کا راستہ رکھا گیا ہے۔ مگر اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ شرط رکھی ہے کہ آدمی یہ نہ سمجھ لے کہ میں مختار کل ہوگیا ہوں اگر وہ ظلم زیادتی سے عورت کو بلا وجہ طلاق دیتا ہے تو اس سے پوچھ ضرور ہوگی۔ سزا ضرور ملے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ تو کوئی بات چھپی ہوئی ہے اور نہ ہی ڈھکی ہوئی ہے وہ سب کچھ سنتا بھی ہے اور ہر بات کو گہرائی تک جانتا بھی ہے۔ کیونکہ اس کا سننا اور جاننا بےمثال ہے اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں کرسکتا اس لیے بیوی سے علیحدہ ہونا پھر طلاق کا فیصلہ کرنا۔ بڑی احتیاط، نیک نیتی اور ایمانداری سے کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس کی اجازت اصلاح کے لیے ہے زیادتی کے لیے نہیں۔
Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو۔ وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ خلق کیا ہو اسے وہ چھپائیں انہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اگر ان کے شوہر تعلقات درست کرلینے پر آمادہ ہوں تو وہ اس عدت کے دوران میں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں۔ عورتوں کے لیے بھی معروف طریقہ پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا ہے اور اللہ زبردست تدبیر والا ہے۔

عدت اور بیوی سے رجوع تشریح : اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر شوہر طلاق دے تو بیوی کو چاہیے کہ ماہواری تک انتظار میں رہے یہ جائز نہیں کہ طلاق لیتے ہی دوسری شادی کرلی۔ یہ ماہواری کا انتظار جو اللہ تعالیٰ نے عورت کے لیے مقرر کیا ہے تو اس میں بڑی مصلحت ہے۔ ایک مصلحت تو یہ ہے کہ ہوسکتا ہے غصہ ختم ہونے پر عورت و مرد دوبارہ اکٹھا رہنے کا فیصلہ کرلیں تو اس کی گنجائش اللہ نے رکھی ہے کہ تین ماہواری کے دوران اگر مرد مناسب سمجھے کہ معاملات ٹھیک چل سکتے ہیں تو اس کو حق حاصل ہے کہ بیوی کو واپس زوجیت میں لے لے۔ تین مہینے گزر جانے پر یہ اجازت ختم ہوجاتی ہے۔ مگر بیوی سے کوئی زیادتی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں یہ تمام معاملات انتہائی ایمانداری سے کرنے کا حکم ہے۔ عورت کے لیے سختی سے حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہے اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے تو اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ ماں بننے والی ہے تو اس بات کو ہرگز نہ چھپائے بلکہ اس معاملہ کو سب پر ظاہر کر دے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اسلام کا کوئی قانون بھی مصلحت سے خالی نہیں۔ طلاق کی اجازت صرف آخری تدبیر کے طور پر دی گئی ہے ورنہ اللہ و رسول ﷺ کو ہرگز پسند نہیں کہ میاں بیوی جدا ہوجائیں۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٹھہرائی ہوئی چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند چیز طلاق ہے اس لیے سوچ بچار کا موقعہ تین ماہواری یا تین مہینے دیا گیا ہے۔ اس دوران اگر شوہر بیوی کو واپس لانا چاہے تو طلاق کو ختم کرسکتا ہے۔ لیکن اس میں شوہر کو دوبارہ یہ حکم سختی سے دیا گیا ہے کہ اس صلح صفائی میں نیک نیتی اور خلوص کا ہونا ضروری ہے یہ نہ ہو کہ یہ کام کسی بھی صورت سے عورت کو تکلیف پہنچانے اور سزا دینے کے لیے کیا جائے اس کے بعد یہ بھی صاف طور پر اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں اسی طرح عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں۔ میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ دونوں کو اپنے اپنے فرائض پوری دیانتداری سے ادا کرنے چاہئیں جس طرح مرد پر کمانا فرض ہے اسی طرح عورت پر اس کی کمائی کو بہترین طریقہ سے خرچ کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مرد و عورت دونوں کو ایک دوسرے کی خوشی، پسند، ناپسند اور راحت و آرام کا پورا پورا خیال رکھنا چاہیے اسی طرح گھر امن و سکون کی جگہ اور جنت کا نمونہ بن سکتے ہیں۔ ایک ہنستے مسکراتے پرسکون گھر کا راز ہی اس میں ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے سچے، مخلص اور بہترین ساتھی ہوں۔ جہاں ان باتوں کا خیال میاں اور بیوی نہ رکھیں گے تو وہاں سوائے لڑائی جھگڑے، بےسکونی اور تباہی و بربادی کے اور کچھ نہ ہوگا اس لیے سخت اور مشکل کام مرد کے سپرد کردیئے گئے اور آسان اور نرم کام عورت کے سپرد کئے گئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت دی گئی ہے اور وہ ہے جسمانی طاقت گھر کی سربراہی ورنہ ہر جگہ پر اللہ تعالیٰ نے مردوں کے ساتھ عورتوں کا ذکر ضرور کیا ہے جیسا کہ سورة احزاب کی آخری آیت میں ہے۔ ” اطاعت و عبادت اور اس کی وجہ سے حق تعالیٰ کے قرب رضا اور درجات میں عورتوں کا درجہ مردوں سے کچھ کم نہیں۔ “ ” تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے “ ) سورة احزاب کی آیت (73) مرد کو جو ایک درجہ بلند دیا گیا ہے تو اس میں بھی بڑی حکمتیں ہیں جیسا کہ آیت کے آخر میں آیا ہے ” وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ“ اور اللہ زبردست تدبیر والا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں : ” مردوں کو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے مقابلہ میں ایک درجہ زیادہ دیا ہے “ اس لیے ان کو زیادہ تحمل سے کام لینا چاہیے اگر عورتوں سے کوئی کوتاہی ہو بھی جائے تو ان کا درجہ یہ ہے کہ یہ اس کو برداشت کریں اور صبر سے کام لیں اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں “۔ (قرطبی) اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو جان لینا اور پوری طرح ان کو سمجھ کر بیان کرنا ایک انسان کے بس میں نہیں، مگر یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ عورت کو جو تحفظ، عزت اور جو وقار اسلام نے دیا ہے وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔ عورت کو ہر طرح سے محفوظ و مامون کردیا گیا ہے تو ظاہر ہے اس کی حفاظت، کفالت اور ہر طرح سے نگرانی کے لیے اس سے زیادہ مضبوط انسان ہونا چاہیے جو اللہ نے اپنے فضل و کرم اور مہربانی سے مرد کو بنا دیا ورنہ دینی کاموں، نیکی اور پرہیزگاری میں مرد اور عورت بالکل برابر ہیں۔ اسلام نے جو برابری عورت اور مرد کو دی ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں دی گئی۔ بلکہ ایران میں عورت کو زن (مار) کہتے ہیں۔ انگلش میں Wo Man ( مرد کے لیے غم) یعنی نام سے ہی عورت کو حقیر بنا دیا گیا ہے۔ فرانس میں 586 میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ عورت انسان ہے، مگر ایسا انسان جو محض مرد کی خدمت گزاری کے لیے بنایا گیا ہو۔ لیکن قرآن پاک نے مختصر الفاظ میں فیصلہ کردیا ہے۔ ” عورتوں کا بھی دستور کے مطابق مردوں پر حق ہے جیسے مردوں کا ان پر ہے “۔ پھر سورة البقرہ آیت 187 میں عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ یہ اسلام کی طرف سے عورت پر بہت بڑ احسان ہے اور انسانی ترقی کا بہت زبردست اصول بھی ہے۔ اگلی آیت میں طلاق کے باقی مزیداحکامات کے بارے میں بتایا جارہا ہے
Ayahs 2:229–230

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق دو بار ہے پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقہ سے اس کو رخصت کردیا جائے (اور رخصت کرتے ہوئے ایسا کرنا) تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو۔ ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہ سکیں گے، تو ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہوجانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے۔ یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں وہی ظالم ہیں۔

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

اگر طلاق دے دی تو وہ عورت پھر اس کے لیے حلال نہ ہوگی سوائے اس کے کہ عورت کا نکاح کسی دوسرے سے ہو پھر وہ اس کو طلاق دیدے پھر اگر پہلا شوہر اور یہ عورت خیال کریں کہ حدود اللہ پر قائم رہیں گے تو وہ رجوع کرسکتے ہیں یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں جو اللہ جاننے والے لوگوں پر واضح کر رہا ہے

خلع اور رجوع کی صورت تشریح : اسلام سے پہلے یہ بری عادت تھی کہ بعض غلط آدمی جب چاہتے اور جتنی بار چاہتے بیوی کو طلاق دے دیتے اور پھر صلح کرلیتے تو اس خرابی اور ظلم کو روکنے کے لیے حکم دیا گیا کہ صرف دو بار طلاق کے بعد عورت کی واپسی ہوسکتی ہے۔ صاف طور پر بتا دیا گیا ہے کہ دو طلاق تک یہ اختیار دیا گیا ہے کہ مرد اگر چاہے تو عدت کے دوران دستور کے مطابق عورت کو رکھ لے اور اگر نہ چاہے تو بھلائی کے ساتھ عورت کو چھو ڑدے لیکن اگر عدت پوری ہوجائے تو پھر واپسی کی صورت باقی نہیں رہتی۔ ہاں اگر دونوں راضی ہوں کہ آئندہ خوش و خرم رہ سکیں گے تو پھر نئے نکاح کے ساتھ رجوع کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ لیکن اگر تیسری طلاق بھی دے دی جائے تو پھر دوبارہ نکاح کی گنجائش کچھ ضروری شرائط پوری کرنے کے بعد ہوسکتی ہے ورنہ نکاح نہیں ہوسکتا۔ اس صورت میں دوبارہ نکاح اس شرط پر ہوسکتا ہے کہ مطلقہ بیوی اپنی عدت پوری کر چکنے کے بعد کسی دوسرے آدمی سے نکاح کرے پھر وہ آدمی جس سے اس عورت نے نکاح کیا اور اس کے ساتھ بےتکلفی سے رہی۔ وہ مرد اس کو اپنی مرضی سے طلاق دے یا فوت ہوجائے تو اس صورت میں عورت اپنی عدت پوری کرنے کے بعد سابق خاوند سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے یہ حکم طلاق کے مسئلہ میں احتیاط کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حلال باتوں میں سب سے ناپسند چیز طلاق ہے جس کی اجازت صرف اس لیے دی گئی ہے کہ گھر میں ناچا کی اور بدمزگی کو ختم کیا جائے اور ایک مستقل لڑائی جھگڑے اور فساد کو ختم کردیا جائے ورنہ طلاق کو کوئی بھی اچھا آدمی اچھی چیز نہیں سمجھتا۔ اس کے بعد حکم یہ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی مرد غصہ میں آکر طلاق دے دیتا ہے اور ساتھ ہی یہ بری بات بھی کرتا ہے کہ جو کچھ بیوی کو دے چکا تھا سب واپس لے لیتا ہے تو اس بات کو اللہ نے سختی سے ناپسند کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ جو کچھ حق مہر وغیرہ تم بیوی کو دے چکے ہو وہ واپس لینا جائز نہیں۔ اگر عورت کو بسانا چاہے تو اوپر دیئے ہوئے احکامات کے مطابق خوشی سے بسائے اور اگر رخصت کرنا چاہے تو بھی بڑی خوش اسلوبی سے اس کو کچھ نہ کچھ دے دلا کر عزت سے رخصت کر دے۔ پوری آیت میں کسی بھی جگہ کوئی گنجائش نہیں کہ عورت پر ظلم کیا جائے۔ بلکہ عورت کو ان تمام ناانصافیوں سے بچایا گیا ہے جو اسلام سے پہلے اس پر کی جاتی تھیں، ہر صورت میں حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے اسی آیت میں آگے چل کر عورت کو بھی پورا پورا حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ کسی بھی وجہ سے آدمی کے ساتھ ناخوش ہو تو وہ صلح کا اصول اپنا سکتی ہے۔ اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب ایک عورت آنحضرت ﷺ کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ ” میں اپنے خاوند سے ناخوش ہوں، حالانکہ میرا شوہر میرے تمام حقوق پورے کرتا ہے اور نہ ہی وہ کردار کا برا ہے۔ شریف آدمی ہے۔ بس وہ مجھے اچھا نہیں لگتا اگر اللہ کا ڈر نہ ہو تو میں اس کے منہ پر تھوک دوں “۔ آپ ﷺ نے عورت سے مہر واپس دلوا دیا اور اسے طلاق دلوا دی اس سے اس حکم کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اگر عورت خاوند کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو کچھ مال دے کر طلاق حاصل کرسکتی ہے اسی عمل کو خلع کہا جاتا ہے۔ اب واضح ہوگیا کہ گھر کی ناچاقی ختم کرنے کے لیے جس طرح اجازت مرد کو ملی ہے اسی طرح اجازت عورت کو بھی دی گئی ہے اور اس سارے معاملہ کا مقصد صرف یہ ہے کہ گھر پرامن رہے تاکہ ملک و قوم کو پرامن ماحول ملے اور گھر میں پلنے والے بچے پرسکون ماحول میں صحت مند پرورش پائیں اس کے لیے ماں و باپ کا آپس میں پرسکون ہو کر رہنا ضروری ہے اور اس سکون کو قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے رہن سہن کی اور آپس کے تعلقات کی کچھ حدیں مقرر کردی ہیں جو کہ اوپر تفصیل سے بیان کی جا چکی ہیں۔ ان حدوں کی پابندی ہر مسلمان مرد عورت پر لازمی ہے، تاکہ خود انسان اور پورا معاشرہ نیکی اور تقویٰ پر قائم ہو۔ اور اگر کوئی شخص ان حدود سے باہر نکلے یا ان کی پابندی نہ کرے تو گویا اس نے نہ صرف اپنے اوپر ہی ظلم کیا، بلکہ گھر، محلہ، شہر اور پورے ملک پر ظلم کیا۔ کیونکہ افراد سے گھر، گھروں سے محلہ، محلوں سے شہر اور شہروں سے ملک بنتے ہیں۔ ظاہر ہوگیا کہ امن و سکون اور ترقی و خوشحالی کے لیے اللہ کی بتائی ہوئی حدود، قانون اور اصولوں کی پابندی کس قدر ضروری ہے، ہر شخص کو ان حدود میں رہ کر کس قدر آزاد زندگی گزارنے کا حق دیا گیا ہے۔ یہ سب قرآن کی تعلیمات سے ہی پتہ چلتا ہے۔ آخری حد جو اللہ تعالیٰ نے لگائی ہے جو تفصیل سے بیان کردی گئی ہے ایک نظر دوبارہ اس پر ڈال لی جائے۔ مطلقہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اس کے گھر میں بسے پھر اگر وہ شخص فوت ہوجائے یا اپنی مرضی سے طلاق دے دے تو عورت عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔ یہ فعل جائز ہے بشرطیکہ تمام معاملات نیک نیتی، خلوص اور اللہ کے خوف کو سامنے رکھتے ہوئے کئے جائیں ورنہ نافرمانوں کے لیے کہیں بھی سکون نہیں۔ آگے بیویوں سے حسن سلوک کا اور بھی زیادہ سبق دیا گیا ہے۔
Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آجائے یا تو بھلے طریقہ سے انہیں روک لو یا بھلے طریقہ سے رخصت کر دو ۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا وہ اصل میں اپنے اوپر ظلم کرے گا۔ اللہ کی آیات کو کھیل نہ بناؤ۔ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس بڑی نعمت سے تمہیں سرفراز کیا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے اس کا احترام کرو۔ اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ کو ہر بات کی خبر ہے۔

بیویوں کے ساتھ برتاؤ تشریح : طلاق کا جس قدر ذکر گزر چکا ہے اس کے لیے پھر تاکید کی گئی ہے کہ اگر کوئی مرد ایک یا دو طلاقوں کی عدت گزرنے کے دوران بیوی کو نیک نیتی سے بسانا چاہے تو گنجائش ہے۔ مگر اس بات سے سختی سے منع کیا گیا ہے کہ عورت کو تنگ کرنے کے لیے اس کو واپسی کا راستہ دکھایا جائے جیسا کہ کچھ شیطان فطرت کرتے آئے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر عدت پوری ہونے سے پہلے تم سوچتے ہو کہ بیوی کو دوبارہ بسا لینا بہتر بات ہے تو عزت و احترام سے اس کو واپس لے آؤ اور اگر بسانے کا ارادہ نہیں تو پھر بھی عزت و احترام سے اس کو رخصت کر دو اور جو ایسا نہیں کرتے تو وہ سمجھ لیں کہ اس طرح وہ خود اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے احکام الٰہی کو مذاق بنا رکھا ہے۔ حالانکہ ان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم اور خاص مہربانی سے ان کو ایسی کتاب دی ہے جو کہ حکمت اور نصیحت کی باتوں سے بھری ہوئی ہے اور یہ تمام حکمت اور نصیحت کی باتیں صرف انسان کی بہتری، بھلائی، نجات اور سہولت کے لیے بتائی گئی ہیں۔ ان کو سمجھنا، عمل کرنا اور ہر وقت اللہ کی دی ہوئی نعمتوں برکتوں کو یاد رکھنا اور یہ جان لینا کہ اللہ تعالیٰ کا علم بڑا ہی وسیع ہے اور وہ ہر چیز اور ہر انسان کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ سب ہی ایک مسلمان کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جس قدر حدود اللہ جل شانہ نے مقرر کر رکھی ہیں وہ سب عمل کے قابل ہیں اور نسل انسانی کی بھلائی کے لیے ہیں۔ اس لیے صاف نیت سے تمام معاملات کو سیدھا کرنا ہمارے لیے از حد ضروری اور فرض ہے۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو تم انہیں مت روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں، جبکہ وہ معروف طریقہ سے آپس میں نکاح پر راضی ہوں۔ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے

رجوع کے لیے عورت کی رضامندی تشریح : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک عورت کو اس کے خاوند نے ایک یا دو طلاقیں دے دیں اور پھر عدت پوری ہوگئی مگر اس نے بیوی کو نہ تو تیسری طلاق دی اور نہ ہی اس کو واپس بلایا۔ عدت پوری ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے نکاح کا پیغام بھیجا اور پہلے خاوند نے بھی پیغام بھیج دیا۔ عورت اس بات پر راضی تھی۔ مگر اس کے بھائی نے دوبارہ نکاح کرنے سے روک دیا۔ اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ عورت کی اپنی خوشنودی اور بھلائی کو سامنے رکھنا چاہیے اور دوسروں کی مرضی کو اس پر مسلط نہیں کرنا چاہئے۔ فرمایا کہ اگر تم واقعی اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو تمہیں اللہ کے احکام کا پورا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر قاعدے اور قانون کے مطابق میاں بیوی دوبارہ نکاح پر راضی ہیں تو ان کو روکنا شرارت اور فساد کے برابر ہے۔ اللہ نے جو قوانین بتائے ہیں ان پر عمل کریں، کیونکہ ان کے لیے اسی میں اچھائی، پاکیزگی اور عزت و وقار ہے۔ ایک بات کی طرف اور بھی اشارہ ملتا ہے کہ بعض اوقات پہلا شوہر اپنی مطلقہ بیوی کے دوسرے نکاح میں صرف بدفطرتی کی وجہ سے رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ اللہ نے اس حرکت سے بڑی سختی سے منع کیا ہے ہاں اگر کوئی عورت خلاف شرع کام کرے یعنی عدت پوری کئے بغیر ہی دوسرا نکاح کرے تو یہ غلط بات ہے اس سے ضرور منع کیا جانا چاہیے۔
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضاعت تک دودھ پیئے تو مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں اس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقہ سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہوگا مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالنا چاہیے نہ تو ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے اور نہ باپ ہی کو اس کے بچے کی وجہ سے تنگ کیا جائے۔ دودھ پلانے والی کا یہ حق (جیسا بچے کے باپ پر ہے) ویسا ہی اس کے وارث پر ہے۔ لیکن اگر دونوں (ماں، باپ) باہمی رضا مندی اور مشورہ سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو (کسی غیر عورت سے) دودھ پلوانے کا ہو تو اس میں بھی کوئی حرج ہیں بشرطیکہ طریقہ پر معاوضہ طے کرلو، اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو سب اللہ کی نظر میں ہے

دودھ پلانے کے مسائل تشریح : طلاق و عدت کے معاملات کے درمیان میں دودھ پلانے کے احکام دیئے گئے ہیں۔ اللہ کی تدبیر، علم اور حکمتیں لاجواب ہیں۔ نکاح کے بعد میاں بیوی کے تعلقات کے نتیجہ میں سب سے پہلا جو مرحلہ شروع ہوتا ہے وہ ہے اولاد۔ یہ مسئلہ سب سے زیادہ اہم ہے اسی لیے اس کے بارے میں ضروری احکامات طلاق کے ساتھ ہی دے دیئے گئے ہیں۔ تاکہ دودھ پیتا بچہ اس جھگڑے میں نقصان نہ اٹھائے۔ قدرت کو معلوم ہے کہ اس ننھی مخلوق کو پرورش کرنے کے لیے ماں کا دودھ کس قدر ضروری اور فائدہ مند ہے۔ دنیا میں اس کے برابر کوئی خوراک بھی اس قدر مکمل نہیں ہوسکتی کیونکہ ماں کے دودھ میں حیاتیات، شکر، چکنائی، فاسفورس اور وٹامنز انتہائی مناسب مقدار میں اس طرح موجود ہوتے ہیں کہ چربی والے سالمے بےحد چھوٹے ذروں کی صورت میں ایک جیسے پھیلے ہوتے ہیں اور پھر شروع کے دودھ میں ایسی اینٹی بوڈیز پائی جاتی ہیں جو بچہ کو ہر قسم کی چھوت کی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ ماں کے دودھ میں ایسے وٹامنز بھی موجود ہوتے ہیں جن کی دریافت ابھی تک مکمل طور پر نہیں ہوسکی غرض یہ نعمت بےمثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رب العزت نے نوزائیدہ بچے کی پرورش کے لیے ماں کے دودھ جیسی نعمت ہی مقرر کی ہے۔ یہ نعمت بغیر کسی ملاوٹ کے رب العزت کے اپنے خاص بہترین اور مکمل قدرتی پلانٹ میں تیار ہوتی ہے۔ سبحان اللہ اور پھر بچے کو دودھ پلانے کے لیے ماں کا سینہ خود بخود دودھ سے بھر جاتا ہے جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ بچے کا دودھ ہضم ہوگیا ہے اس کو بھوک لگی ہے۔ اس لیے دو تین گھنٹہ کا وقفہ دودھ کے درمیان نہیں دینا چاہیے اور پھر اللہ تعالیٰ نے بچے کو ماں کا دودھ پلانے کی مدت دو سال مقرر کی ہے۔ موجودہ طبی سائنس نے اس کی وضاحت یوں کی ہے۔ بچے کے پہلے دو سال نشوونما میں بےحد اہم ہوتے ہیں۔ کیونکہ خون بنانے اور حیاتیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہترین غذا ماں کا دودھ ہی ہے۔ صحت و صفائی اور ماں کی شفقت کا احساس اس میں تحفظ بھی پیدا کرتا ہے اسی لیے اس کی ذہنی صحت بھی بہت مضبوط ہوجاتی ہے۔ یہ سب کچھ تو صرف بندے کی سوچ بچار کا نتیجہ ہیں۔ قربان جائیں اس خالق کے جس نے یہ سب کچھ انسان کے لیے بنایا اور پھر اپنی کتاب و رسول کے ذریعہ اس کو بتایا کہ زندگی کیسے گزارنی ہے۔ چھوٹے مسائل ہوں یا بڑے ہر بات کو وضاحت سے بہترین اصولوں کے ساتھ انسان کو سمجھا دیا۔ طلاق کے تمام مراحل آہستہ آہستہ بیان کئے جارہے ہیں تو بیچ میں بچہ کے دودھ پلانے کا مسئلہ حل کردیا۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اگر ماں باپ میں طلاق، خلع یا ویسے ہی علیحدگی ہو تو بچے کو دو سال تک دودھ پلانا ماں کا فرض ہے۔ لیکن اس میں کمی بیشی اس صورت میں ہوسکتی ہے۔ جبکہ ماں باپ دونوں راضی ہوں اور پھر جب تک ماں دودھ پلائے ماں کا کھانا کپڑا وغیرہ باپ کو دینا ہوگا۔ اگر ماں نکاح میں ہے تو پھر اس کا فرض ہے دودھ پلائے اگر نکاح میں نہیں تو پھر دودھ پلانے کی اجرت باپ کو ادا کرنی ہوگی پھر یہ بھی حکم دیا گیا کہ تمام معاملات انصاف اور نیکی سے کئے جائیں اس میں نہ تو باپ کو تکلیف پہنچائی جائے اور نہ ہی ماں کو کسی صورت میں تنگ کیا جائے۔ ہر حکم کے پورا کرنے میں بالمعروف یعنی ” دستور کے مطابق “ اللہ نے شرط لگائی ہے۔ ظلم و زیادتی ختم کرنے کے لیے یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔ بچے کی پرورش کا ذمہ باپ پر ہے۔ اگر وہ مرجائے تو پھر اگر بچہ مالدار ہے تو اس کے مال سے اس کی پرورش ایمانداری سے کی جائے ورنہ پھر بچے کے عزیز رشتہ دار جو شرعاً اس کی وراثت کے حق دار ہوں۔ کیونکہ بچہ اپنی پرورش کا خود ذمہ دار تو نہیں ہوسکتا۔ والدین کسی بھی وجہ سے اگر آپس میں رضا مندی کے ساتھ دو سال سے پہلے دودھ چھڑوانا چاہیں تو اس کی اجازت ہے۔ شرط یہی ہے کہ اس معاملہ میں بھی عام دستور سے کام لیا جائے یعنی لڑائی جھگڑے سے نہیں بلکہ مصالحت سے پھر رب العزت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اگر مجبوری کی وجہ سے ماں دودھ نہ پلائے یا باپ ماں کے علاوہ کسی بھی دوسری عورت سے دودھ پلوانا چاہے تو اس کی بھی اجازت ہے۔ مگر شرط ہے کہ دودھ پلوانے کا جو بھی معاوضہ عورت سے طے کیا جائے تو وہ بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے اس عورت کو ادا کیا جاتا رہے۔ اس میں کوئی بھی کمی بیشی نہ کی جائے اور پھر دستور کے مطابق سب کچھ کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور آخر میں خبر دار کیا گیا ہے کہ ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہو، کیونکہ اس سے تمہارا کوئی کام اور خیال پوشیدہ نہیں۔ وہ ہر بات، ہر کام اور نیتوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے اس لیے تمام احکامات جو دیئے گئے ہیں ان پر خلوص اور نیک نیتی سے پورا پورا عمل کرو۔ یہ دودھ پلانے کے معاملات ہوگئے اب اگلی آیت میں عدت کے باقی احکامات کا ذکر ہے۔
Ayahs 2:234–235

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور ان کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن تک روکے رکھیں پھر جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں اختیار ہے اپنی ذات کے معاملہ میں معروف طریقہ سے جو چاہیں کریں تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

عدت کے زمانہ میں اگر تم اشارے کنایئے سے بات ظاہر کر دو یا دل میں چھپائے رکھو۔ دونوں جائز ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی۔ مگر دیکھو خفیہ عہد و پیمان نہ کرنا۔ اگر کوئی بات کرنی ہے تو معروف طریقہ سے کرو اور نکاح کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے۔ خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کے حال تک جانتا ہے

بیوہ کی عدت اور نکاح ثانی تشریح : بیوہ عورت کو چار مہینہ دس دن اپنے آپ کو روکے رکھنا چاہیئے۔ یعنی اس دوران سنگار کرنا، شوخ کپڑے اور زیورپہننا، مہندی، خوشبو، سرمہ اور بالوں کی آرائش سے پرہیز کرنا چاہیے۔ گھر سے نکلنے کے بارے میں مختلف علماء کی آراء ہیں۔ حضرت عائشہ، ابن عباس ؓ ، حضرت علی ؓ ، جابر بن عبداللہ ؓ ، حسن بصری، عمر بن عبدالعزیز اور بہت سے علماء اس بات کے قائل ہیں کہ عورت اپنی عدت کا زمانہ جہاں چاہے گزار سکتی ہے اور سفر بھی کرسکتی ہے۔ پھر جب اس کی عدت پوری ہوجائے تو پھر معروف طریقہ سے اپنے لیے جو بھی مناسب سمجھیں کرسکتی ہیں۔ اس میں ایک مسئلہ اور بھی آجاتا ہے کہ اگر اس دوران میں یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ بیوہ ماں بننے والی ہے تو پھر اس کو بچہ کی پیدائش تک انتظار کرنا ہوگا، ہر کام کرتے ہوئے اور ہر بات سوچتے ہوئے ہر عورت، مرد، بچہ، بوڑھا، جو ان سب کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ یاد رکھو ہر کام دستور کے مطابق کرو کیونکہ اللہ جل شانہ سے تمہارا کوئی عمل اور خیال چھپا ہوا نہیں۔ اگلی آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ اگر کوئی مرد بیوہ سے نکاح کا خیال اپنے دل میں پختہ کرلے مگر اس کا ذکر باقاعدہ طور پر عدت کے دوران ہرگز نہ کرے، کیونکہ یہ ناجائز بات ہے۔ ہاں جب عدت ختم ہوجائے تو پھر قاعدہ اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے عورت کو چاہیے اپنے لیے مناسب راستہ اختیار کرے۔ یہاں پھر تنبیہ کی جارہی ہے کہ کوئی غلط خیال یا عمل اللہ سے چھپا ہوا نہیں اس لیے کوئی غلط کام نہ کرو اور کوئی راستہ اختیار نہ کرو بیشک اللہ بخشنے والا بڑا بردبار ہے۔ اس آیت میں دوسرے نکاح کی اجازت دی گئی ہے مگر تہذیب، ثقافت اور اللہ کے احکامات کی پابندی کرتے ہوئے فیصلہ کی اجازت ہے۔