Ayahs 2:99–100یہود کی عہد شکنی
تشریح : ان آیات میں یہودیوں کی عہد شکنی کا اعادہ کیا گیا ہے۔ یہود کی تاریخ عہد شکنی، نافرمانی، منافقت اور سر کشی سے بھری پڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ کو بیشمار واضح نشانیاں عطا کی ہیں ایسی جو چھپی ہوئی یا دھندلی نہیں، بلکہ نمایاں، کھلی ہوئی اور واضح روشن نشانیاں عطا کی ہیں کہ جن کو دیکھ کر کوئی بھی معقول انسان انکار نہیں کرسکتا، سوائے ان لوگوں کے جو حکم عدولی، نافرمانی اور سر کشی کے عادی ہوں۔ یہ آیات یہود کے اس اعتراض کے جواب میں نازل ہوئیں جو انہوں نے کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کس قسم کے نبی ہیں کہ ان کے پاس تو کوئی معجزہ ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے کہ یہ تو پرانے عہد شکن لوگ ہیں۔ یہ تورات میں اطاعت کا عہد کرنے کے بعد اپنے عہد سے پھرگئے مگر بہت تھوڑے کہ جو اپنے عہد پر قائم رہے۔ اسی پرانی عادت نے انہیں نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے سے روکا۔ بعض کا ذکر اسی لئے کیا گیا کہ چند نے اپنا عہد پورا کیا اور پھر نبی ﷺ پر بھی ایمان لے آئے۔ مگر اکثر نے کھلم کھلا کتاب اللہ کی مخالفت کی اسی مخالفت کا ذکر اگلی آیت میں کیا گیا ہے۔
Ayah 2:101سفلی عملیات کی خرابیاں
تشریح : اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ یہود کے دین کو مٹانے کے لئے نہیں آئے، بلکہ وہ تو تمہارے دین کو نئی زندگی اور تازگی دینے کیلئے آئے ہیں۔ ان کی تعلیم بھی اصلاح انسانیت پر مبنی ہے توحید کا سبق دینا ہے، تمہارے دین کی اصل بنیاد بھی یہی ہے اس لئے اگر تم ان کی بات نہیں مانتے تو گویا تم اپنے دین کو نہیں مانتے۔ ان تمام وضاحتوں کے باوجود یہودیوں نے محمد ﷺ کی بھرپور مخالفت کی اور اس مخالفت میں انہوں نے ان تمام نشانیوں کو جو حضور ﷺ کے بارے میں تورات میں دی گئی تھیں بدل دیا، بلکہ اس کوشش میں تورات کے مضامین کو ہی بدل دیا اور محمد ﷺ سے متعلق تمام بشارتوں اور نشانیوں سے انجان ہو بیٹھے اور اسلام کی حد درجہ مخالفت کرنے لگے اور یوں اپنی نجات کی راہ خراب کر بیٹھے۔
Ayahs 2:102–103یہود کا گھاٹے والا سودا
تشریح : جب انسان چاروں طرف سے رسوائی، پستی جہالت، غلامی اور افلاس میں گھر کر مایوس ہوجاتا ہے تو پھر سفلی عملیات کا سہارا لیتا ہے۔ یہی حال بنی اسرائیل کا ہوگیا گو کہ وہ خود اپنی وجہ سے ذلیل و خوار ہوئے، مگر اب انہوں نے نجات کے لئے جادو کا راستہ اپنانا شروع کیا اور اس کا الزام بھی حضرت سلیمان پردے دیا۔ اس آیت میں شیاطین کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ جن جو حضرت سلیمان کے تابع تھے مگر سرکش اور خبیث فطرت والے تھے، کچھ انسان بھی بری عادات والے ان کے ماتحت تھے جو آئے دن حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر تہمتیں لگاتے رہتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک مشہور پیغمبر گزرے ہیں اپنے زمانے کے بادشاہ بھی تھے۔ شام اور فلسطین کے علاوہ آپ کی حکومت مشرق کی طرف عراق تک اور مغرب میں مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔ جادو اور سفلی عملیات وہ ہیں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں شیاطین نے عام کر رکھے تھے۔ یہ لوگ جادو اور کفر تو خود کرتے تھے مگر ان غلط عملیات کو حضرت سلیمان کی طرف منسوب کرتے تھے اور کہتے تھے یہ سفلی عملیات اور جادو ٹونے حضرت سلیمان سکھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اعلان کردیا کہ حضرت سلیمان اس عمل سے بری الذمہ ہیں اور یہ لوگ بالکل جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب دنیا میں خصوصاً بابل میں جادو کا بہت چرچا تھا جادو کے عجیب اثرات کو دیکھ کر ضعیف الاعتقاد لوگ معجزہ اور جادو میں فرق نہ کرسکتے تھے یعنی معجزہ و جادو کو ایک ہی کمال سمجھنے لگے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس غلطی کو دور کرنے کے لئے بابل میں دو فرشتے انسانی شکل میں بھیج دیئے کہ وہ لوگوں کو معجزہ و سحر کا فرق بتائیں، کیونکہ انہوں نے انسانوں کی تربیت کرنی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو انسانوں کی شکل میں بھیجا۔ ان کا نام ہاروت اور ماروت تھا یہ شہر بابل عراق عرب کا قدیم نام تھا۔ اس زمانہ میں دارالخلافہ کا نام بھی بابل ہی تھا۔ یہ شہر موجودہ بغداد سے 60 میل جنوب کی طرف دریائے فرات کے کنارے پر واقع تھا۔ دجلہ و فرات اس شہر کو سیراب کرتے تھے۔ بہت ترقی یافتہ شہر تھا اس ملک میں سفلی عملیات اور جادو منتر کا بڑا چرچا تھا۔ یہودیوں نے اس راہ پر بڑی تیزی سے چلنا شروع کردیا اور یہ راہ ان کو بڑی آسان دکھائی دی۔ لوگوں نے جادوگروں اور پیغمبروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنا شروع کردیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ہاروت اور ماروت دو فرشتوں کو بابل میں انسانی شکلوں میں بھیجا کہ وہ لوگوں کو ساحرین سے دوری اختیار کرنے کا سبق دیں۔ یہ دونوں فرشتے جادو بتانے سے پہلے لوگوں کو ضرور آگاہ کردیتے تھے کہ اس عمل سے اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی آزمائش بھی مقصود ہے کہ کون لوگ جادو کے شر کو غلط استعمال کرتے ہیں اور اپنے دین کو خراب کرتے ہیں اور کون جادو کو اچھی نیت سے سیکھ کر اچھے کام کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ غرض جو بھی ان سے عہد و پیماں کرلیتا وہ اس کو جادو کے تمام اصول بتا دیتے، کیونکہ ان کا کام ہی یہی تھا اب اگر کوئی عہد شکنی کرے اور جادو کو مخلوق کی ایذار سانی (برائی) کے لئے استعمال کرے تو ایسے لوگ کا فرو فاجر کہلاتے ہیں۔ عربی میں سحر دھوکہ کو کہتے ہیں۔ یعنی ایسی بات جس سے انسان کی نگاہ دھوکہ کھا جائے حقیقت کچھ اور ہو اور ظاہر کچھ اور ہو۔ سحر کے لئے مسئلہ یہ ہے کہ ” چاہے قرآن و حدیث کے کلمات سے ہی کام لیا جائے مگر ناجائز مقصد کے لئے استعمال کریں تو وہ بھی جائز نہیں مثلاً کسی کو ناجائز ضرر پہنچانے کے لئے تعویز کیا جائے یا وظیفہ پڑھا جائے۔ اگرچہ وظیفہ اسماء الہیہ یا آیات قرآنیہ ہی کا ہو۔ وہ بھی حرام ہے “ (فتاویٰ قاضی خان شامی) لیکن معجزہ ایسے حضرات سے ظاہر ہوتا ہے جن کے تقویٰ و طہارت اور پاکیزگی، اخلاق و اعمال کی سب گواہی دیں اس کے برعکس جادو کرنے والے ناپاک، عبادت و طہارت سے دور ہوتے ہیں۔ نبی جادو کرنا چاہے تو نہ چلے کیونکہ نبی تو اصلاح انسانیت کی بات کرتے ہیں، جبکہ ساحر اور بدفطرت انسان معاشرہ کو تباہ و برباد فتنہ و فساد اور تباہی و بربادی کا سوچتا ہے اور عمل بھی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہودیوں کی شرارت کے بارے میں مزید بتاتا ہے کہ یہ لوگ زیادہ تر ان عملیات کی مدد سے میاں بیوی میں جھگڑا ڈالواتے تھے۔ اخلاقی پستی کا یہ سب سے نچلہ درجہ ہے۔ کیونکہ یہ معاشرے کی تباہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ازدواجی تعلق دراصل انسانی تمدن کی جڑ ہے اگر کسی گھر میں امن سکون نہ ہو تو اس کے اثرات بچوں پر بہت برے پڑتے ہیں اور یوں ایک ماں اور باپ کی ناچاقی پوری نسل کو خراب، بےراہ رو اور پریشان کردیتی ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ معاشرے کے لئے اصلاح یا بگاڑ کا منبع ہے۔ ہاروت و ماروت یہود کو کفر و سر کشی سے بچنے کی تلقین کرتے رہے مگر وہ شیطانیت میں لگے رہے۔ اگرچہ وہ دوسروں کے نقصان کے لئے جادو کرتے تھے مگر اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کسی کو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اس طرح وہ خود اپنا ہی نقصان کر رہے تھے، کیونکہ برے اعمال میں پھنس کر وہ اپنی عاقبت کو خراب کر رہے تھے اور یوں عارضی فائدے کے لئے آخرت کی دائمی نعمتوں کو قربان کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر بری روش کی بجائے نیکی کی راہ یہ لوگ اختیار کرتے اللہ پر ایمان لاتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے تو ضرور اللہ تعالیٰ ان کو بہتر اجر دیتا، لیکن وہ تو انتہائی نافرمان قوم تھی۔
Ayah 2:104الفاظ کا غلط استعمال
تشریح : اس رکوع اور اس کے بعد والے رکوع میں مومنین کو یہودیوں کی ان شرارتوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ جو وہ اسلام کے خلاف اکثر و بیشتر کرتے رہتے تھے، کیونکہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ پہنچے تو یہودی اپنے مفسدانہ کام میں تیزی سے مصروف ہوگئے کبھی تو وہ نو مسلموں کو مذہبی بحثوں میں الجھانے کی کوشش کرتے اور کبھی نبی کریم ﷺ کی مجلس میں آکر مکارانہ باتیں کرتے۔ اسی مقصد کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی شرارتوں سے مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ ان سے ہوشیار رہو اور ان کی مکاری میں مت آؤ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آپ ﷺ کی مجلس میں ” رَاعِنَا “ کہنے سے منع فرمایا اور اس کی جگہ ” اُنْظُرْنَا “ کہنے کی تاکید کی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہودی محمد ﷺ کی مجلس میں جاتے تو اگر کوئی بات نہ سن سکتے یا جان کر نہ سنتے تو ” رَاعِنَا “ لفظ کو زبان مروڑکر ” رَاعِیْنَا “ کہتے۔ ” رَاعِنَا “ کا مطلب ہے ہماری طرف توجہ کیجئے، جبکہ ” رَاعِیْنَا “ کا مطلب ہے ” ہمارا چرواہا “ اور ان کی عبرانی زبان میں اس کا مطلب بددعا بھی ہے۔ چونکہ عربی میں اس کا مطلب یہ نہ تھا اس لئے عام مسلمانوں نے بھی یہ لفظ استعمال کرنا شروع کردیا، جس پر یہودی بڑے خوش ہوتے آپس میں تمسخرانہ انداز میں بات کرتے کہ دیکھو اب تو کھلم کھلا ہمیں شرارت کرنے کا ذریعہ مل گیا ہے، تو اس پر اللہ کی طرف سے ” رَاعِنَا “ کہنے کی بجائے ” اُنْظُرْنَا “ (یعنی ہماری طرف توجہ کیجئے) کہنے کی تاکید کی گئی، تاکہ مسلمان یہودیوں کی شرارت کا شکار نہ ہوں اور آنحضرت ﷺ کی تعظیم و تکریم میں بھی فرق نہ پڑے دوسری بات کی یہ ہدایت کی گئی کہ نبی ﷺ کی باتوں کو غور سے سنا کرو کیونکہ جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ تمہارے لئے آخری اور قطعی فیصلہ ہوتا ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ نبی ﷺ کی بےادبی کرتے ہیں وہ کافر ہیں اور ان کی سزا کے لئے اللہ تعالیٰ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے اگلی آیت میں کفار کے تعصب کے بارے میں مزید کہا گیا ہے۔
Ayah 2:105کفار کا تعصب
تشریح : اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہیں کہ کافر یعنی اللہ اور رسول کو نہ ماننے والے اور مشرکین یعنی خدائے واحد کے سوا کسی دوسرے کی پرستش کرنے والے اور نہ ہی اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی کیونکہ ان کو تو ریت و انجیل آسمانی کتابیں دی گئیں ( اور بھی ہیں مگر یہ زیادہ مشہور اہل کتاب ہیں۔ ) یہ تینوں طبقہ کے لوگ مسلمانوں سے حد درجہ حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں چھوڑ کر مسلمانوں پر نعمتیں اور برکتیں کیوں نازل کرتے ہیں تو رب العزت فرماتا ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل کے لئے چن لیتا ہے جیسا کہ پہلے تفصیل سے بیان ہوچکا ہے کہ پچھلی قوموں نے کیا کچھ خرابیاں کیں کہ جس وجہ سے نبوت ان سے چھین کر بنو اسماعیل کو دے دی گئی۔ اس لئے نہیں چھینی گئی کہ اللہ کو ان سے دشمنی تھی بلکہ ان قوموں کے اعمال بد کی وجہ سے ان کو اس نعمت سے محروم کردیا گیا۔
Ayahs 2:106–107آیات کی تنسیخ
تشریح : یہ ایک خاص شبہہ کا جواب ہے جو یہودی مسلمانوں کے دلوں میں ڈالنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر پچھلی کتابیں اور قرآن پاک ایک ہی اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں تو پھر ان کے احکامات کیوں مختلف ہیں۔ یہ باتیں وہ تحقیق کی خاطر نہیں، بلکہ محض اس لئے کرتے تھے کہ مسلمان قرآن کو منجانب اللہ ماننے کے لئے شک و شبہہ میں پڑجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے تنسیخ آیات کا جو ذکر کیا ہے، تو تمام بڑے بڑے مفسرین نے اس کے بارے میں مختلف تفاسیر بیان کی ہیں۔ ” درس قرآن “ کی تفسیر کے مطابق یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ” آیات کے منسوخ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے پہلے احکام اور قدیم کتب کی جگہ قرآن مجید کے جدید احکام آگئے ہیں اور یہ احکام پہلے حکموں کو منسوخ کرتے ہیں واقعات اور تاریخ کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جب بھی کوئی کتاب انسانوں کے ذہن سے فراموش ہوئی یا منسوخ قرار پائی تو دوسری کتاب اس جیسی یا اس سے بہتر نازل ہوگئی اور اللہ کے بندے اللہ کی ہدایت سے محروم نہ رکھے گئے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں مالک ہوں، میرے اختیارات غیر محدود ہیں، اپنے جس حکم کو چاہوں منسوخ کر دوں اور جس چیز کو چاہوں حافظوں سے محو کر دوں یعنی بھلا دوں، مگر جس چیز کو منسوخ کرتا ہوں یا بھلا دیتا ہوں۔ اس سے بہتر چیز اس کی جگہ پر لاتا ہوں “۔ اگلی آیت میں یہودیوں کی ایک اور سازش بیان کی گئی ہے جو آنحضرت ﷺ سے سوالات کرنے کے بارے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
Ayah 2:108نبی ﷺ سے سوالات کی زیادتی
تشریح : یہودی مسلمانوں کو بھٹکانے کے لئے ان کے دلوں میں الٹے سیدھے خیالات بھرتے رہتے، تاکہ مسلمان نبی کریم ﷺ سے ہر وقت الٹے سیدھے سوالات کرتے رہیں اور اصل مقصد سے بھٹک جائیں اور اپنے مذہب سے بدگمان ہوجائیں۔ بعض مسلمان ان کی چال کے شکار ہوگئے اور بیخبر ی میں آنحضرت ﷺ سے الٹے سیدھے سوالات کرنے لگے تو ان کو اس حرکت سے منع کرنے کے لئے اللہ کا فرمان نازل ہوا اور اس حقیقت کو عیاں کیا گیا کہ جس طرح یہودیوں نے حضرت موسیٰ کے ہر فرمان پر اعتراضات کئے جیسا کہ گائے کے ذبحہ کرنے کا واقعہ گزر چکا ہے۔ سورة البقرہ کی آیات 67 تا 71 میں گائے کا واقعہ بڑی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ اس واقعہ سے یہی سبق ملتا ہے کہ رسول ﷺ سے بار بار سوال کرنے سے پابندی اور مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اور ایک آسان حکم، مشکل صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اس لئے جو حکم تمہیں دیا جاتا ہے اس پر عمل کرو اور جن کاموں سے منع کیا جاتا ہے ان سے پرہیز کرو اور صرف کام کی باتوں پر توجہ دو اور پوری طرح عمل کرو۔ کیونکہ اسی میں نیکی، بھلائی اور کامیابی ہے۔ اگلی آیت میں کفار کے حسد اور بغض کا اور بھی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 2:109–110کفار کا حسد
تشریح : مذکورہ آیات میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ خبردار کر رہے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنی بدعملیوں کی وجہ سے کفر کی راہ اختیار کرچکے ہیں۔ وہ اپنی پوری کوشش صرف کر رہے ہیں کہ تم مسلمان اپنے دین سے بد دل ہوجاؤ اور ان کی طرح غلط راہ پر چلنا شروع کر دو ۔ حالانکہ وہ حق و باطل کا فرق جانتے ہیں مگر مارے حسد کے وہ تمہیں بد راہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ تم غصہ نہ کھاؤ درگزر کرو اور ان سے نمٹنے کے لئے اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ فی الحال تم اپنی طاقت کو مجتمع رکھو، نیکی اور بھلائی کی طرف توجہ دو اور ان دو بنیادی اصولوں پر جم جاؤ، اول نماز قائم رکھو دوسرے زکوٰۃ دیتے رہو۔ یہ دونوں اصول کسی بھی گروہ یا قوم کو متحد اور مضبوط رکھنے کے لئے بےحد ضروری ہیں۔
نماز تنظیم، صحت و صفائی، پابندی اوقات اور اتحاد کی نشانی ہے۔ نماز کے ان گنت فوائد ہیں جو آئندہ بیان کئے جائیں گے۔ (ان شاء اللہ) اسی طرح زکوٰۃ، تقسیم دولت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اس سے باہمی نفرت، لالچ، حسد، بےسکونی اور خود غرضٗی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ زکوٰۃ بھی نماز کی طرح بیشمار فوائد کی حامل ہے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تنبیہہ کرتے ہیں کہ تم نیکی اور نیک اعمال کی طرف توجہ دو اور اللہ کے حکم کا انتظار کرو پھر ارشاد ہوتا ہے کہ نیکی کی راہ صرف دنیا میں کام نہیں آئے گی، بلکہ تمہاری ایک ایک نیکی اللہ کی نگاہ میں ہے اور ہر عمل کا اجر آخرت میں ضرور دیا جائے گا، بلکہ دنیا کو تو آخرت کی کھیتی کہا گیا ہے۔ یہ دنیا عارضی آزمائش گاہ ہے اس میں جو بھی اعمال کئے جائیں لوح محفوظ میں لکھے چلے جاتے ہیں۔
شاعر نے بھی خوب وضاحت کی ہے :
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
(ڈاکٹر علامہ اقبال)
تو اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا اور تسلی بھی دی کہ یہودیوں کی شرارتوں سے نہ تو تم بد دل ہو اور نہ ہی پریشان ہو، بلکہ صبر سکون اور مستقل مزاجی سے اللہ کے دیئے ہوئے ان دو اصولوں پر عمل کرو۔ یعنی سچے دل سے نماز قائم کرو اور باقاعدگی اور خلوص سے زکوٰۃ دیتے رہو۔ تمہارا کوئی عمل ضائع نہ جائے گا، بلکہ دنیا و آخرت میں تم فلاح پاؤ گے اور اس اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔ یعنی جہاد کا اگلی آیات میں یہود کی ان جھوٹی آرزوؤں کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے جو وہ جنت کے بارے میں کئے ہوئے تھے۔
Ayahs 2:111–112جنت کا مستحق کون ؟
تشریح : یہودی اور عیسائی یہ تمنا لئے ہوئے ہیں کہ ہم تو اللہ کے مقبول ہیں۔ اس لئے ہمارے سوا کوئی دوسری قوم یا شخص جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔ جنت کے حق دار تو صرف ہم لوگ ہی ہیں ان کو اتنی بھی عقل نہیں کہ محض کسی مذہب سے تعلق رکھنے سے جنت نہیں مل جاتی، بلکہ مذہب کے قواعد پر عمل کرنے اور اللہ پر صحیح ایمان لانے اور نیک راہیں اختیار کرنے سے ہی جنت میں داخلہ ملے گا اور یہی بات سچ اور اٹل ہے اگر یہودی یا عیسائی اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو کسی دلیل سے اس کو ثابت کردکھائیں۔ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ گروہ بندیوں اور بدمستیوں کی وجہ سے تمام گزشتہ مذاہب نے اپنا وقار خاک میں ملا دیا ہے اور پھر جنت کے وارث ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ مذہب اسلام سب کو متحد کرنے کے لئے اور نیکی کی تعلیم و تربیت کے لئے بھیجا گیا ہے۔ مذہب اسلام میں بار بار یہی تاکید کی گئی ہے کہ نیک راہ اختیار کرو، خود کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دو اور اطاعت، فرمانبرداری اور عبادت کے وہی طریقے اختیار کرو جو دین میں بتائے گئے ہیں، اپنے بنائے ہوئے طریقوں پر نہ چلو یہ سب کچھ جنت میں داخل ہونے کے لئے ضروری ہے نسلی مسلمان ہو یا یہودی و نصرانی۔ اللہ کے ہاں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اصل میں ایمان اور نیک عمل ہیں جو انسان کو اجر عظیم کا وارث بناتے ہیں اور ایسے لوگ دنیا و آخرت میں بالکل مطمئن اور بےخوف ہوتے ہیں۔
Ayah 2:113مذہبی گروہ بندیاں
تشریح : یہودی بھی اہل کتاب ہیں اور عیسائی بھی اہل کتاب یعنی ان کو ہدایت نامہ مل چکا تھا۔ راہ ہدایت کے اصول و ضوابط ملے ہوئے تھے مگر ان پر عمل کرنا ان کے لئے ناممکن رہا۔ خوب دل بھر کر نافرمانیاں اور ہٹ دھرمیاں کرتے ہیں، مگر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم جیسا کوئی نہیں بس ہم تو بخشے بخشائے ہیں ادھر تیسرا گروہ بھی برتری کا دعویدار ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس کو کتاب نہیں دی گئی یعنی کفار و مشرکین۔ غرض ہر کوئی برتری اور کامیابی کا یقین کئے بیٹھا ہے۔ قرآن مجید میں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ مذہبی فرقہ بندی کوئی حقیقت نہیں رکھتی اصل میں سیدھی راہ تو صرف یہ ہے کہ اللہ کا حکم مانو، نیک عمل کرو۔ اللہ قیامت کے دن اپنا فیصلہ سنا دے گا کہ کون برتر ہے اور کون بدتر ہے۔
Ayah 2:114مساجد کو ویران کرنے والے
تشریح : یہاں ان دو واقعات کا ذکر کیا جارہا ہے جو یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ انہوں نے ایک دوسرے کی مقدس کتابوں کو جلایا اور بیت المقدس کو خراب کیا۔ دوسرا واقعہ 6 ہجری کا ہے جب مشرکوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ میں جانے سے روکا، دونوں واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جب گروہ بندیاں بڑھ جائیں، لوگوں کے دل خوف اللہ سے خالی ہوجائیں۔ تعصب اور فرقہ بندی حد سے بڑھ جائے تو پھر سب سے بڑا کام یہی کیا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کو مسمار کیا جائے یا ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ لوگ عبادت گاہوں میں جاتے ہوئے ڈریں تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا کہ عبادت گاہوں کی بےحرمتی کی جائے یا لوگوں کو وہاں جانے سے روکا جائے تو جو بھی لوگ اس قدر گری ہوئی حرکت کرتے ہیں ان کو دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بہت سخت عذاب دیا جائے گا۔
Ayah 2:115اللہ ہر طرف جلوہ گر ہے
تشریح : اس آیت میں واضح کردیا گیا ہے کہ ہر طرف اللہ تعالیٰ موجود ہے۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین و کفار نے سمتیں مقرر کر رکھی تھیں کہ صرف اس طرف ہی اللہ موجود ہے، اس ایک خاص طرف وہ منہ کرکے اپنے عقیدہ کے مطابق عبادت یا پوجا کرتے تھے۔ اللہ نے صاف صاف بتا دیا کہ یہ خاص سمت والا عقیدہ یا جھگڑا بالکل بےکار ہے، کیونکہ اللہ تو ہر جگہ موجود ہے وہ صرف مشرق یا مغرب میں ہی مقید نہیں، بلکہ ہر جگہ اور ہر سمت اسی کی ہے۔ جدھر جاؤ، جدھر منہ کرو اللہ موجود ہے۔ بیت الحرام یا بیت المقدس کا تعین تو خاص مقاصد کے لئے کیا گیا ہے جو آئندہ بیان کیا جائے گا۔ (ان شاء اللہ) فی الحال یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ پوری کائنات کا احاطہ کئے ہوئے ہے وہ انتہائی بخشش کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اس لئے مشرق و مغرب کا جھگڑا ختم کرو۔ دوسری بات جو اس آیت میں بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مسافر اور سوار کو یہ رعایت دی گئی ہے کہ خلوص نیت ضروری ہے، قبلہ کا رخ اگر نہ بھی ہو سکے تو جدھر رخ کرکے عبادت کرو گے قابل قبول ہوگی۔ بہرحال اس آیت میں اللہ کی قدرت کاملہ عظمت اور علم و آگہی کا ثبوت ملتا ہے۔ جس پر یقین کرنا ہر انسان کا فرض ہے۔ آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
” اس کی (اللہ کی) حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔ “ (سورۃ بقرہ آیت نمبر 255)
Ayah 2:116اللہ کی کوئی اولاد نہیں
تشریح : یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ وضاحت فرماتے ہیں کہ یہ سب بہت بڑا شرک ہے، کیونکہ اللہ کی ذات واحد ہے نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی، نہ بیوی وہ ان تمام چیزوں سے پاک ہے وہ قادر مطلق ہے، وحدہ لاشریک ہے، صمد ہے یعنی نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس کو کسی کی مدد درکار ہے، وہ اکیلا ہے اور ہر رشتہ، ہر مدد سے بےنیاز ہے۔ زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے، ہر چیز اللہ کی فرمانبردار ہے اور ہر وقت اس کی تعریف میں مصروف رہتی ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے حکم کے آگے سر جھکائے ہوئے ہے، مسلمان کا سب سے پہلا عقیدہ توحید ہے، شرک بہت بڑا ظلم اور بہت بڑا گناہ ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی اگلی آیت میں وضاحت سے بیان کی جارہی ہے۔
Ayah 2:117رب کا حکم
تشریح : ” بَدِیْعُ “ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ یہاں خالق کا لفظ نہیں آیا، کیونکہ خالق کو مواد اور نقشہ کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ بدیع کا مطلب ہے بغیر مادے اور بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا۔ یہ اس کی بہت بڑی شان ہے اور قدرت کاملہ بھی بھلا کون اس کی طرح ہوسکتا ہے انجینئر عمارت بناتا ہے تو اللہ کی پیدا کی ہوئی چیز استعمال کرتا ہے۔ کمہار برتن بناتا ہے، سنار زیور بناتا ہے، غرض انسان جو بھی چیز بناتا ہے اس کے لئے اس کو کسی نہ کسی مادے کی ضرورت ہوتی ہے جس کو وہ جوڑ کر استعمال کرکے اور کسی نہ کسی نمونے نقشہ کی مدد سے کوئی چیز بناتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو اس کی ضرورت نہیں وہ ان تمام چیزوں کا محتاج نہیں، کیونکہ وہ جب بھی کچھ بنانا چاہتا ہے وہ صرف ” کُنْ “ (ہوجا) کا لفظ کہتا ہے اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ اتنی بڑی کائنات، زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ مخلوقات، جمادات، حیوانات، ہوا، پانی غرض ہر وہ چیز جو ہمیں دنیا میں دکھائی دیتی ہے یہ سب اللہ تعالیٰ نے صرف ” کُنْ “ (ہوجا) کے ذریعے ہی پیدا کی اسی لئے اس کو بدیع کہا جاتا ہے مادہ پرست لوگ اس کا انکار کرتے ہیں تو ان سے پوچھا جائے کہ اپنی قدرت سے یعنی اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو استعمال کئے بغیر ایک چھوٹا سا تنکہ بنا کر دکھاؤ تو انکو اللہ کی قدرت کاملہ اور وحدانیت کا یقین آجائے گا۔ سبحان اللہ وہ بڑی قدرت والا ہے زمین و آسمان ہر چیز اس کی تابع فرمان ہے ہمیں بھی اسی کی اطاعت کرنی چاہیے یقین رکھیں کہ توحید حاصل اسلام اور روح دین ہے سورة لقمان کی آیت 3 میں اللہ فرماتا ہے۔ ” یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے “ انسان کی سائنس میں ترقی اس یقین کو واضح کرتی جارہی ہے کہ یقیناً تمام نظام کائنات اور تخلیق کائنات کے پیچھے کوئی زبردست غیبی طاقت پوشیدہ ہے۔ مسلمان اسی غیبی طاقت پر ایمان رکھتا ہے۔ یہی تو ” اللہ “ ہے۔ بدیع السموات ہے۔ ” کُنْ “ (ہوجا) پر قادر ہے تمام کائنات پیدا کرنے والا ہے۔ بھلا اس کو کسی مددگار بیوی یا بیٹے کی کیا ضرورت ہے ؟ یہ سب تو انسان کے لئے اسباب اس نے بنا رکھے ہیں، اس کو کسی سبب کی ضرورت نہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اگلی آیت میں مشرکوں کی حجت بازی کا جواب دلائل سے دیا گیا ہے۔
Ayahs 2:118–121واضح دلائل اور نبی ﷺ کی ذمہ داریاں
تشریح : کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ اللہ خود ہمارے سامنے آکر ہم سے بات کیوں نہیں کرتا اور ہمیں کوئی نشانی کیوں نہیں دکھاتا کہ ہم آپ ﷺ کو آخری نبی مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ اس سے پہلے یعنی یہود و نصاریٰ نے بھی ایسی ہی باتیں کیں تھیں۔ بدنیت اور خراب لوگ ہر زمانے اور ہر قوم کے ایک ہی جیسی باتیں کرتے ہیں۔ بےکار حجت بازی کرتے ہیں اور ان کے دل عقلیں پاک بازی اور حق شناسی سے بالکل خالی ہیں۔ یہ آپ سے معجزہ کی فرمائشیں کرتے ہیں، حالانکہ آپ ﷺ کی شخصیت بذات خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے آپ ﷺ کی امانت، دیانت، پاکبازی اور امی (ان پڑھ) ہونے کے باوجود حامل قرآن ہونا کسی معجزہ سے کم نہیں پھر واقعہ معراج شق القمر کیا یہ سب معجزات کافی نہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لانا ہوتا ہے وہ لے آتے ہیں، مگر یہ سب تو بس سوائے ہٹ دھرمی اور شرارت کے اور کچھ نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ سے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کو تو ہم نے سچی کتاب دین حق دے کر بھیجا ہے آپ کا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کو نیکی کی راہ دکھائیں ان کو نیک کام کرنے ایمان لانے اور راست بازی کے انعامات کے بارے میں بتائیں۔ کفار، مشرکین اور بداعمال لوگوں کو جہنم اور برے انجام کے بارے میں بتائیں جو ان کو برے اعمال کفر اور شرک کے بدلے میں آخرت میں دیا جائے گا۔ اگر وہ راہ راست اختیار نہیں کرتے تو اس کی ذمہ داری آپ کی نہیں اس بارے میں باز پرس ان لوگوں سے کی جائے گی نہ کہ آپ سے، آپ بالکل فکر مند نہ ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے۔ کہ آپ ﷺ چاہے کتنی ہی ہمدردی اور رعایت ان منکرین دین سے کیوں نہ کریں یہ حد سے بڑھنے والے انتہائی متصعب اور نافرمان لوگ ہیں یہ تو نیکی کی راہ اختیار کریں گے اور نہ ہی ایمان لائیں گے اور آپ سے ان کی دوستی اس وقت ہوسکتی ہے کہ جب آپ دین حق کو چھوڑ کر ان کی غلط راہیں اختیار کرلیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی راہ ہدایت اور سچا دین تو صرف وہی ہے جو آپ ﷺ کو دیا گیا ہے۔ توحید اور نیک عملی ہی انسان کی نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے اور جو شخص جان بوجھ کر سیدھی راہ سے ہٹ جائے گا تو اس کے لئے بڑی سخت سزا مقرر کی جا چکی ہے وہ ضرور ملے گی اور کوئی اس سے بچانے والا نہ ہوگا۔ واضح کردیا گیا ہے کہ اہل کتاب کا دین بالکل بدل چکا ہے، جھوٹی آرزوؤں اور گروہ بندی کے سوا کوئی چیز ان لوگوں میں باقی نہیں رہی۔ دوسری طرف دین اسلام کی تعلیمات اور حق پرستی کی وضاحت کی گئی ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اہل کتاب اگر اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر نیک نیتی اور خلوص و صدق دل سے اپنی کتاب پڑھیں، غور کریں تو جو نشانیاں آنحضرت ﷺ کی ان کی کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔ ان کو غور سے پڑھ کر وہ فوراً نبی کریم ﷺ پر ایمان لاسکتے ہیں۔ لیکن اول تو انہوں نے اپنی کتاب کو ہی تبدیل کردیا ہے۔ دوسرے ان کا ارادہ ہی نہیں کہ وہ نیک راہ اختیار کریں۔ آپ ﷺ پر ایمان لائیں اور تعصب و گروہ بندی سے چھٹکارا حاصل کریں۔ لہٰذا وہ ہمیشہ کفر میں مبتلا رہیں گے اور یوں دنیا و آخرت میں نقصان اٹھائیں گے اور اللہ کے ناپسندیدہ انسان شمارکئے جائیں گے۔
Ayahs 2:122–123تشریح : گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کا ذکر بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے، ان کی ہر قسم کی کمزوریوں کو اچھی طرح بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں بنی اسرائیل کو تمام دیئے گئے انعامات یاد کروائے جارہے ہیں اور پھر واضح کیا جارہا ہے کہ اب اگر انہوں نے مزید ہٹ دھرمی، تعصب گروہ بندی اور ضد کا مظاہرہ کیا اور بنی آخرالزماں ﷺ پر ایمان نہ لائے، سیدھی راہ اگر اختیار نہ کی تو پھر آخرت میں ان کی گرفت یقیناً ہوگی اور آخرت کی گرفت بڑی سخت اور اٹل ہے۔ وہاں پر ہر شخص اپنے کئے کا بدلہ بڑے انصاف سے اور ضرور پائے گا۔ دنیا میں سزا سے بچنے کے لئے کسی کی سفارش، فدیہ (بدلہ) جرمانہ یا طاقت کام آسکتی ہے مگر آخرت میں نہ تو کوئی سفارش کام آئے گی، نہ مال، جرمانے میں قبول ہوگا اور نہ ہی کسی کی طاقت ہی کام آئے گی۔ بس اپنے کئے ہوئے تمام اعمال کا بدلہ پورا پورا ضرور بھگتنا پڑے گا کسی طرح سے بھی کوئی کسی کی ہرگز مدد نہ کرسکے گا۔ اللہ کا انصاف اور اس کی گرفت بڑی زبردست ہے۔ اللہ اس سے بچائے اور نیکی کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ ( آمین) اگلی آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قیادت اور امامت کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 2:124یوم آخرت میں گرفت
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قیادت و امامت
تشریح : اللہ تعالیٰ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان بڑا پیارا مکالمہ بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف ہوجائے یہ بڑے جلیل القدر نبی تھے، نبی کریم ﷺ کے جد امجد تھے، آپ کا وطن بابل تھا، آپ کے والد کا نام آذر تھا، ان کی نسل میں دو سلسلے چلے۔ ایک حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور دوسرا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے چلا۔ پہلے سلسلے کے نبیوں کو اسرائیلی انبیاء کہا جاتا ہے مثلاً حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، دوسرے خاندان میں حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جد الانبیاء کہلاتے ہیں، مسلمان، عیسائی اور یہودی سب ہی ان کی عزت کرتے ہیں، ان کی آزمائشوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ امتحان اس لئے لیا گیا کہ پیغمبر بننے کے لئے بڑے ہی حوصلہ، عزم و ارادہ کی مضبوطی اور ثابت قدمی کی ضرورت ہوتی ہے، یوں سمجھ لیجئے کہ مشق کے لئے ان کڑی آزمائشوں سے گزارا گیا اور یہ واضح کردیا جائے کہ کون کون سی مشکلات ان پر ڈالی گئیں۔
سب سے پہلے تو وہ ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے کہ جہاں بت پرستی اپنے عروج کو پہنچی ہوئی تھی۔ آپ نے بڑی جرات اور ہمت سے قوم کو اللہ وحدہ لاشریک کی طرف بلایا تو سب لوگ آپ کے دشمن ہوگئے۔ ایک دفعہ سب لوگ میلہ میں شریک ہونے کے لئے شہر سے باہر گئے ہوئے تھے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بڑی جرات سے تمام بتوں کو توڑ دیا اور سب سے بڑے بت کے کاندھے پر ہتھیار رکھ دیا، جب لوگ واپس آئے تو تحقیق ہونے لگی، سب نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر الزام دیا تو بادشاہ وقت نے آپ سے پوچھا تو آپ نے کہا : بڑے بت سے پوچھ لو ؟ تو اس پر وہ لاجواب ہوگئے پوری قوم نے فیصلہ کیا اور نمرود نے حکم دیا کہ آپ کو آگ میں ڈال کر جلا دیا جائے آپ بالکل نہ گھبرائے۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
(علامہ ڈاکٹر اقبال)
آپ کو اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ تھا اس کی رضا کے لئے اطمینان سے آگ میں کود گئے آگ اللہ کے حکم سے ٹھنڈی اور سلامتی کا ذریعہ بن گئی۔ مگر آپ آزمائش میں پورے اترے۔
دوسری آزمائش ملک شام کی طرف ہجرت کر جانے کی تھی، اس میں بھی پورے اترے، قوم اور وطن دونوں کو اللہ کے حکم پر قربان کردیا۔
تیسری آزمائش یہ ہوئی کہ بیوی اور شیر خوار بچہ کو ویران سنگلاخ علاقہ میں تنہا چھوڑ آنے کا حکم دیا گیا۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی اور اللہ کے بھروسہ پر دونوں کو اللہ کی حفاظت میں اس جگہ چھوڑ آئے جہاں نہ پانی تھا، نہ سایہ اور آج وہاں آب زم زم اور دنیا کا مقدس ترین شہر مکہ آباد ہے اور وہیں اللہ کا گھر تھا۔ خانہ کعبہ جس کی زیارت اور حج کا فریضہ ادا کرنے کے لئے تمام دنیا سے لاکھوں کروڑوں لوگ وہاں آتے ہیں اور اس شہر کو بیشمار انعامات سے نوازا گیا۔
چوتھی آزمائش یہ تھی کہ جب آپ کا بیٹا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جوان ہوئے تو ان کو اللہ کی راہ میں قربان کردینے کا حکم دیا گیا۔ یہ بڑا کڑا امتحان تھا، مگر باپ بیٹا دونوں اس امتحان کے لئے بخوشی تیار ہوگئے۔ بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے منیٰ کے جنگل میں لے گئے اور جونہی ذبح کرنے لگے تو صداء آئی، خواب میں جو کچھ آپ نے دیکھا تھا آپ نے اس کو پورا کردیا۔ یہ ذبح کا حکم اللہ نے خواب کے ذریعہ ہی دیا تھا، جنت سے ایک جانور فدیہ کے طور پر اتارا گیا جو قربان کردیا گیا اور حضرت اسماعیل کو زندہ سلامت بچا لیا گیا۔ یہ دائمی سنت بن گئی جو عیدالاضحیٰ کے موقعہ پر قربانی کی شکل میں ادا کی جاتی ہے۔
ابن کثیر نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ایک روایت میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ پورا اسلام تیس حصوں میں دائر ہے دس سورة برات، دس سورة احزاب اور دس سورة مؤمنون میں درج ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان پر پوری طرح عمل کیا اور تمام امتحانوں میں پورے اترے۔ ان تیس حصوں کا ذکر (ان شاء اللہ) آگے کیا جائے گا۔ ان تمام آزمائشوں میں پورا اترنے کے بعد اللہ نے ان کو خوشخبری دی ” کہ میں آپ (علیہ السلام) کو لوگوں کا امام اور پیشوا بنانے والا ہوں “۔ یہ پیشوائی صرف مذہبی اور روحانی ہی نہ تھی، بلکہ سیاسی برتری بھی تھی وہ واقعی بہت بڑے سردار اور باعزت امام بنے اور جدالانبیاء کہلائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سوال کیا کہ کیا یہ امامت و پیشوائی ان کی اولاد کو بھی حاصل ہوگی اللہ کا جواب یہ تھا کہ یہ میرا وعدہ ظالموں اور سر کشی اختیار کرنے والوں کے لئے نہیں ہوگا۔ امامت کا درجہ بڑا مقدس اور ذمہ داری کا درجہ ہے۔ اولاد میں سے جو سرکش یا نافرمان لوگ ہونگے بھلا وہ اس کے حقدار کیسے ہوسکتے ہیں۔ اس طرح اللہ نے واضح کردیا کہ یہ وعدہ ظالم و فاجر لوگوں کے لئے نہیں۔ مدت دراز تک امامت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد (بنی اسرائیل) میں رہی لیکن جب انہوں نے ظلم و نافرمانی کا راستہ اختیار کیا پوری طرح گمراہ ہوگئے تو پھر بالآخر ان سے امامت چھین لی گئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کو دے دی گئی۔ حضرت محمد ﷺ آپ کی ہی اولاد میں سے خاتم النبین بنا کر بھیجے گئے اور اب کسی اور دین یا شریعت کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی گنجائش ہے۔ مسلمانوں کو اس عزت اور اعزاز پر نہ صرف فخر کرنا چاہئے، بلکہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرتے ہوئے نیک راہیں اختیار کرنی چاہئیں۔ اگلی آیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر و اہمیت کا بیان کیا جارہا ہے۔
Ayah 2:125خانہ کعبہ کی اہمیت
تشریح : خانہ کعبہ، بیت اللہ اور قبلہ۔ یہ تینوں نام اس مسجد کے ہیں جس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے تعمیر کیا۔ مکہ مکرمہ میں ایک بہت بڑی مسجد ہے جسے مسجد حرام یعنی حرمت والی مسجد کہا جاتا ہے۔ اس کے صحن میں خانہ کعبہ ہے، خانہ کعبہ ایک مربع نما عمارت ہے جو پتھروں کی بنی ہوئی ہے اور اس پر ایک خوبصورت غلاف چڑھا ہوا ہے۔ یہ عمارت سطح زمین سے کافی اونچی ہے، شرقی دیوار میں ایک دروازہ ہے، عمارت کے اندر ستون ہیں، جن پر چھت قائم ہے، یہ سب سے پہلا اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جو زمین پر بنایا گیا اس کی عظمت و بزرگی یہ ہے کہ اس کو اللہ نے ” میرا گھر “ کہہ کر پکارا ہے اور پھر اس کو امن و مرکز قرار دیا ہے۔ امن اس طرح کہ کعبہ کی عمارت اور اس کے اردگرد شکار کرنا اور خونریزی بالکل منع ہے۔ مرکز اس طرح کہ تمام دنیا کے مسلمان صرف خانہ کعبہ کی طرف ہی منہ کرکے نماز قائم کرتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کی تنظیم و یک جہتی کا بہت بڑا نشان ہے۔ حرمت کا یہ عالم ہے کہ قبل از اسلام مجرم اور قاتل کعبہ کی دیواروں میں آکر پناہ لیتے تھے اس وقت قریش نے کعبہ کے اندر بت رکھے ہوئے تھے اور اپنے طریقہ سے اس کا طواف بھی کرتے تھے جب مکہ فتح کیا گیا تو کعبہ کو بتوں کی نجاست سے پاک کرکے خالص اللہ کی عبادت اور مسلمانوں کی مسجد بنا دیا گیا۔ دنیا جہاں سے لوگ حج کا فریضہ ادا کرنے آتے ہیں اور خانہ کعبہ کا طواف اللہ کے بتائے ہوئے طریقہ سے کرتے ہیں، مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے گھر (کعبہ) کیتعمیر کی۔ طواف کے بعد یہاں دو نفل ادا کئے جاتے ہیں اسی لئے اس کو مصلیٰ یعنی نماز ادا کرنے کی جگہ کہا گیا ہے اور اللہ نے حکم دیا ہے کہ اس کے بنانے والوں کو یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو کہ اس گھر کو پاک صاف رکھو۔ صرف ظاہری صفائی مراد نہیں، بلکہ کفر و شرک کی آلودگیوں سے بھی اس گھر کو پاک رکھو۔ حاجیوں کے لئے کعبہ کا طواف فرض کیا گیا ہے اور اس کے اندر اعتکاف کرنا، رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف سنت ہے۔ اعتکاف کا مطلب ہے مسجد کے اندر عبادت کی نیت سے ایک مدت تک قیام کرنا۔ تو اللہ نے حکم دیا کہ میرے اس گھر کو پاک صاف رکھو اعتکاف کرنے والوں کے لئے اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے۔ تعمیر کعبہ کا اعزاز اور امامت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قربانیوں اور آزمائشوں میں پورا اترنے کے سبب دیا گیا جو بہت بڑا انعام ہے مگر یہ منصب ان کی نسل کے بدکار اور نافرمان لوگوں کو نہیں ملے گا۔ یہ اعلان قرآن مجید میں کردیا گیا ہے اور پھر ایسا ہی ہوا، مکہ امن والا شہر کہلاتا ہے اس کی تفصیلات ہمیں اگلی آیت میں ملیں گی۔
Ayah 2:126ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا
تشریح : جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر کعبہ سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے اللہ جل جلالہ سے دعا کی کہ اے میرے رب ! اس بےآب وگیاہ جگہ کو ایک بارونق شہر بنا دے۔ شہر بھی ایسا کہ جہاں مکمل امن وامان ہو، کوئی خونریزی اور دنگا فساد نہ ہو، بالکل پرامن شہر ہو۔ دوسری دعا یہ کہ یہاں رہنے والے جو مومن اور پاک باز ہوں ان کو پھل اور میوے کھانے کو دے۔ ثمرات سے مراد صرف پھل ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب ہے تمام آسائش و آرام کی چیزیں جو انسان کے لئے ضروری ہیں سب ہی عطا کر دے۔ حق تعالیٰ نے ان کی دونوں دعائیں قبول کیں اور اب ہمارے سامنے شہر مکہ امن کا شہر ہے۔ قتل و غارت گری کا وہاں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا بلکہ شکار بھی منع ہے اور جانور امن و سکون سے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جڑی بوٹیاں اور گھاس پھوس کو بھی اکھیڑنا منع ہے سرزمین مکہ مکمل بےآب وگیاہ زمین ہے، نہ پانی کی بہتات ہے اور نہ ہی زمین زرخیز ہے، زمین سخت پتھریلی اور ریتلی ہے کچھ وہاں نہ پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی کچھ بنتا ہے مگر اللہ کی قدرت کہ دنیا جہاں کے بےموسمی پھل، تر کاریاں، انتہائی اعلیٰ قسم کی اور ترو تازہ بیشمار ملتے ہیں پہننے کی، استعمال کرنے کی، ہر وہ چیز جو ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہوتی ہے وہاں موجود ہے، لوگ انتہائی آرام و آسائش کی زندگی گزارتے ہیں، امامت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے لئے بھی دعا کی تھی۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے امامت کو صرف صالحین و متقین کے لئے خاص کردیا تھا اس لئے یہاں دعا میں رزق و آسائش کے لئے انہوں نے مؤمنین کا ذکر کیا جس پر رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ رزق میں مومن و کفار دونوں کو دوں گا۔ مگر کفار کو صرف دنیا ہی میں تھوڑے عرصہ کے لئے دوں گا اور پھر قیامت کے روز ان کو ان کے کفر کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور یہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ تعمیر کعبہ کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) دعائیں کرتے جاتے تھے جو امت مسلمہ کے لئے مقرر ہوچکی ہیں۔ بڑی ہی خوبصورت دعا ہے اگلی آیات میں وہی دعائیں بیان کی جاتی ہیں۔
Ayahs 2:127–129حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی دعائیں
تشریح : حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہ السلام) کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے، صاف کہا گیا ہے کہ بنیادیں موجود تھیں ان کے اوپر دیواریں اٹھا رہے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ بنیادیں حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے زمانے میں رکھ گئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی مدد سے بنیادیں ڈھونڈ لیں اور پھر عمارت تعمیر کی، تعمیر کعبہ کے دوران دونوں باپ بیٹا دعائیں کرتے جاتے تھے کہ اے اللہ تبارک تعالیٰ ہماری فرمانبرداری اور اطاعت میں اور بھی اضافہ کر دے اور ہمیں پکا مسلمان بنا دے۔ بیشک اے اللہ تو ہی سب سے زیادہ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے اور ہماری اولاد میں سے ایک فرمانبردار جماعت بنا اور یہ دعا حضرت محمد ﷺ کی بعثت اور امت مسلمہ کی شکل میں پوری ہوئی۔ اور یہ دعا کی کہ ہم نے کعبہ بنا لیا اور حج کرنے کے طریقے ہمیں سکھا۔ اور دین کے قاعدے ہمیں سکھا دے اور ہماری توبہ قبول کر کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا، بےحد مہربان ہے۔ اللہ جل جلالہ نے ان کی دعا قبول کی اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت محمد ﷺ پیدا ہوئے اور ان میں اللہ نے وہ چار خصوصیات بھی رکھ دیں جن کی دعا انہوں نے کی تھی اور وہ چار خصوصیات یہ ہیں کہ وہ یعنی محمد ﷺ کتاب اللہ (قرآن) سنائیں، پڑھائیں، سمجھائیں اور اس کے ذریعہ سے دلوں کو پاک کریں، یہ ساری صفات آنحضرت ﷺ میں موجود تھیں، بیشک انہوں نے قرآن سنایا، پڑھایا، سمجھایا اور اپنے اعمال سے قرآن کی وضاحت کردی۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے کرتے کہا کہ بیشک اللہ جل جلالہ تو بڑا زبردست اور بڑی حکمت و دانائی والا ہے۔ اگلی آیت میں دین ابراہیمی کا ذکر ہے۔
Ayahs 2:130–131احمق کی نشانی، دین ابراہیم (علیہ السلام) سے انحراف
تشریح : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اخلاقی اور روحانی عظمت کو بیان کرتے ہوئے اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم انتہائی نیک اچھے اور مکمل انسان تھے اسی طرح جو اچھی تعلیمات، اچھے اخلاق، اچھے کردار اور اچھے دین کی انہوں نے دعوت دی ہے وہ ہر نیک، اچھا اور مکمل انسان فوراً قبول کرلیتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو احمق، ہٹ دھرم اور انتہائی نافرمان ہیں۔ یہ اشارہ یہود و نصاریٰ کی طرف ہے ان کو بتایا جارہا ہے کہ جس جلیل القدر پیغمبر کو وہ اپنا پیشوا مانتے ہیں ان کا دین یہی تھا جو آنحضرت ﷺ پیش کر رہے ہیں ان کی تعلیمات بھی وہی ہیں اس لئے ان پر ایمان لانے میں انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی صفات بیان کرتے ہوئے رب جلیل فرماتا ہے کہ وہ اتنے برگزیدہ نیک، فرمانبردار اور اچھے انسان تھے کہ رب تعالیٰ نے ان کو دنیا میں پیغمبری عطا کی ان کو لوگوں کو ہدایت دینے کا درجہ عطا کیا اور آخرت میں ان کو بہترین انسانوں میں شمار کرکے ابدی سہولیات سے مالا مال کردیا جائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اتنے اچھے خوبصورت کردار اور اللہ کے فرمانبردار تھے کہ وہ تمام آزمائشوں میں پورے اترے، گھر بار، بیوی بچے، ملک و قوم ہر چیز کو انہوں نے اللہ کی رضا پر قربان کردیا اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ مطیع ہوجاؤ تو وہ فوراً بولے میں مالک کائنات کا مطیع ہوگیا، مسلم کا مطلب ہے جو اللہ کے آگے پوری طرح جھک جائے اللہ جل شانہ کو ہی اپنا مالک، آقا، حاکم اور معبود مان لے جو پوری طرح اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دے اور زندگی کا کوئی لمحہ کوئی کام اس کے بتائے ہوئے طریقہ سے ہٹ کر نہ کرے اسی طریقہ کا نام ” اسلام “ ہے اور اصل میں یہی دین ہے جو دنیا کے شروع ہوتے ہی مختلف ملکوں، قوموں کو مختلف انبیاء کے ذریعہ سکھایا گیا۔ آنحضرت ﷺ کی آمد بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا ہی نتیجہ ہے حضرت محمد ﷺ کی فضیلت تمام انبیاء پر یہ ہے کہ وہ آخری نبی ہیں، آخری کتاب قرآن مجید لائے اور دین کو مکمل کردیا۔
Ayah 2:132حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت
تشریح : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو سچے مسلمان بننے کی نصیحت کی، خاص طور سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر اس لئے کیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔ خود بھی نبی تھے آپ کا لقب ” اسرائیل “ تھا اسی لئے آپ کی اولاد بنی اسرئیل کہلائی۔ تمام اہل کتاب اور مشرکین اگرچہ اپنے بزرگوں کے دین کو ماننے کا دعویٰ کرتے تھے، مگر آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تھے قرآن مجید نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کرکے یہی یاد کروایا ہے کہ جس دین کی پیروی کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تاکید کی ہے اور جس پر وہ خود بھی قائم تھے وہ دین یہی دین توحید ہی تو ہے جس کی دعوت اسلام قرآن اور آخری نبی ﷺ تمہیں دے رہے ہیں۔ لہٰذا تم سب ایمان لے آؤ اللہ پر اور دین اسلام پر اور ایمان لانے میں جلدی کرو۔ موت کا کچھ پتہ نہیں کب آجائے تو تم مرو تو مسلم مرو۔ نیک اور صالح انسان بن جاؤ، دنیا و آخرت کی بھلائیاں اسی میں ہیں۔ اگلی آیت میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کا ذکر کیا گیا ہے۔