3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 3:1–2

الٓمَّٓۙ Open ayah 3:1 in the Quran reader

الۗمَّۗ(

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ زندہ جاوید ہستی ہے جو نظام کا ئنات کو سنبھالے ہوئے ہے حقیقت میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے

یہ حروف مقطعات میں سے ہے اللہ تعالیٰ کی صفات تشریح : اس کا شان نزول یہ ہے کہ جب اسلام کا بول بالا ہونے لگا اور غزوہ بدر میں فتح نصیب ہوئی تو بخران کے عسائیوں کا ایک وفد آپ ﷺ کے پاس تبادلہ خیالات کرنے کے لئے آیا۔ یہ لوگ مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ مانتے تھے۔ محمد ﷺ نے ان کو ثبوت دے کر سمجھانے کی کوشش کی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ نہیں ہوسکتے کیونکہ اللہ تو واحد ہے۔ وہی عبادت کے لائق ہے، کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا اس کو تو کسی نے پیدا نہیں کیا وہ ہر رشتہ سے بےنیاز ہے، بلکہ یہ تمام کائنات اس نے ہی پیدا کی ہے اور وہی اس سارے نظام کو چلا رہا ہے۔ جب کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یقیناً موت آئے گی اور جو خود اپنی ہستی کو قائم نہ رکھ سکے وہ دوسری تمام مخلوقات کو کیسے زندہ رکھ سکتا ہے اور اس تمام نظام کائنات کو کیسے چلا سکتا ہے۔ اس پر وہ لاجواب ہوگئے اس آیت میں عیسائیوں کے عقائد کو غلط ثابت کیا گیا ہے، اور ان کے تین عقیدے مشہور ہیں۔ 1 تثلیث۔ یعنی خدا، عیسیٰ اور روح القدس تینوں مل کر ایک خدا تعالیٰ بنتے ہیں۔ 2 یہ کہ مسیح اللہ ہے وہ انسان کی شکل میں آئے ہیں۔ 3 یہ کہ مسیح اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے۔ (نعوذباللہ) اس آیت سے عیسائیوں کے تینوں عقیدے غلط ثابت ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ماں کے ذریعہ سے ہوئی پھر وہ فنا ہو نگے۔ جبکہ اللہ صرف اور صرف وہی ہوسکتا ہے جو خود ہی ہو کوئی اس کو پیدا کرنے والا نہ ہو اور پھر وہ کبھی فنا نہ ہو۔ ہمیشہ رہنے والا ہو۔ کیونکہ اس تمام کائنات کو پیدا کرنا اور پھر چلانا کسی بھی ایسے فرد، نبی، رسول، چاند، سورج اور ستارے کا کام نہیں ہوسکتا جو خود پیدا کیا جائے اور پھر ختم بھی ہوجائے۔ بخران کے وفد کو سمجھ تو آگیا مگر وہ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایمان نہ لائے اور واپس چلے گئے۔ اس آیت میں توحید کا زبردست سبق دیا گیا ہے توحید کا سبق ایسا بنیادی سبق ہے کہ اس کے بغیر زندگی گزارنے کا کوئی رخ انسان کو نہیں ملتا۔ اسی لئے حضرت آدم سے لے کر محمد ﷺ تک تمام انبیاء نے سب سے پہلے توحید کا ہی سبق دیا۔ توحید کیا ہے ؟ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) پس اللہ وہ ہے جس کی عبادت کی جائے، جس کے بارے میں عقل حیران ہو، جس سے بےپناہ محبت ہو، جو اقتدار کا مالک ہو، حاجت روا حاکم، جس سے لوگ ڈریں، جو سب سے زیادہ طاقتور ہو، جو انتہائی رحیم و کریم ہو۔ ویسے تو ہر انسان خود ہی جانتا ہے کہ ایک اللہ موجود ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔ لیکن جیسے جیسے انسان نے اپنے اردگرد غور سے دیکھا تو اس کی عقل نے اس بات کو مان لیا کہ اللہ واحد ہے۔ جب انسان نے دیکھا کہ سورج، چاند، ستارے، ہوا، پانی، نباتات، جمادات، حیوانات، غرض دنیا کی ہر چیز انتہائی مضبوط قوانین کی پابند ہے اور دنیا کا ایک ایک ذرہ اس مضبوط طاقت کے کنٹرول میں ہے۔ جس کو ہم نہ دیکھ سکتے ہیں نہ چھو سکتے ہیں۔ اسی غیبی طاقت، اسی پوشیدہ قوت، اسی خالق ومالک اور بزرگ ہستی کو قدیم زمانہ سے اللہ کہتے آئے ہیں۔ غرض بقول ڈاکٹر ہلوک نور باقی (ترکی) اپنی کتاب ” قرآنی آیات اور سائنسی حقائق “ میں لکھتے ہیں۔ ہر چیز اپنے وجود اور حیات کے لئے اس (اللہ) کی مرہون منت ہے، ہر چیز کو اس ہی کی ضرورت ہے۔ اسے خود کسی چیز کی ضرورت نہیں، وہی ایک ایسی ہستی ہے جس سے ہر کسی کو مدد مانگنی چاہئے۔ اسی طرح محمد منظور الحق ڈار صاحب فرماتے ہیں : ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں لیکن حقیقت میں ہم نے اللہ کے سوا بہت سے الٰہ بنا رکھے ہیں۔ انسان بالکل دیوانہ ہے۔ وہ ایک پتہ ایک چیونٹی تک تو بنا نہیں سکتا لیکن کئی اللہ بنا لیتا ہے۔ آج ہمارے ہاں اس بات کو سمجھنا مشکل ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے کے فرائض کیا بنتے ہیں۔ “ ڈاکٹر اقبال کے بقول یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا ڈار صاحب مزید لکھتے ہیں۔ ” کلمہ لا الٰہ الا اللہ، دین حق (اسلام) کا خلاصہ ہے۔ یہ تعلیمات اسلام کی ابتداء بھی ہے اور انتہاء بھی۔ “ حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی آخری بات جو موت سے پہلے اس کی زبان سے نکلے لا الٰہ الا اللہ ہوگی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسند احمد، ابو داؤد) اللہ تعالیٰ ہمیں سچے مسلمان بننے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔
Ayahs 3:3–4

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے تم پر یہ سچی کتاب نازل کی ہے اور ان کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو پہلے سے آئی ہیں اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لئے تورات اور انجیل نازل کرچکا ہے

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

اور اس نے وہ کسوٹی تیار کی ہے (جو حق اور باطل کا فرق دکھانے والی ہے) اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کریں، ان کو یقیناً سخت سزا ملے گی اللہ بےپناہ طاقت کا مالک ہے اور (برائی کا) بدلہ دینے والا ہے

قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتب تشریح : اللہ رب العزت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ آپ کو ایسی کتاب دی گئی ہے جو حکمت اور دانائی سے بھری ہوئی ہے۔ یعنی قرآن مجید کی تعریف میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ کتاب بندوں کی اصلاح کیلئے بھیجی گئی ہے۔ کیونکہ اس میں ہر وہ نکتہ، ہر وہ راستہ اور ہر وہ اصول بتا دیا گیا ہے جو انسان کی زندگی میں ہر قدم پر مدد کرسکتا ہے۔ بچہ کی پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک کے لئے قرآن نے ایک چراغ روشن کردیا ہے جو انسان کو ہر تاریکی ہر مشکل سے اور ہر برائی سے بچا سکتا ہے۔ یہ توحید کا چراغ ہے جس کا بیان پچھلی آیت میں وضاحت سے ہوچکا ہے۔ قرآن مجید کو فرقان بھی کہا گیا ہے۔ فرقان کا مطلب ہے فرق کرنے والا۔ یعنی جھوٹ، سچ، نیکی، بدی اچھائی برائی، عزت ذلت، بلندی پستی اور کھرے و کھوٹے کا فرق بتانے والا، پھر سب سے بڑی حقیقت جو قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے وہ انسانی تاریخ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) دنیا میں آئے تو انہوں نے اپنے اس علم کو پھیلایا جو اللہ نے ان کو دیا تھا اور توحید کا پیغام دیا۔ عرصہ دراز کے بعد حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) عراق و شام میں پیدا ہوئے اور وہ بھی وہی توحید کا پیغام ہی لے کر آئے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) اور انہی کے سلسلے کے کئی انبیاء آئے سب کے سب توحید کا پیغام ہی لے کر آئے ایک زمانہ دراز گزر جانے کے بعد پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آئے اور وہ بھی توحید ہی کا پیغام لے کر آئے۔ ان سب پیغمبروں نے انسانوں کو ہدایت دی اور یہ ہدایات ان کو رب العزت نے اپنی دی ہوئی کتابوں کے ذریعہ سے پہنچائی۔ قرآن پاک ان تمام رسولوں اور ان کو دی گئی کتابوں کا ذکر کرتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ یہ سب سچے پیغمبر تھے ان کی کتابیں بھی سچی تھیں۔ گویا تورات اور انجیل میں جو سبق دیا گیا تھا وہ اس عقیدہ سے بالکل مختلف ہے جو عیسائیوں اور یہودیوں نے تین تین خداؤں کا عقیدہ بنا رکھا ہے۔ غرض یہود و نصاری نے اپنی آسمانی کتابوں کو بالکل تبدیل کردیا ہے۔ آخر میں محمد ﷺ آخری نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں ان کو جو کتاب دی گئی ہے اس کی ذمہ داری اللہ نے خود لی ہے کہ اس میں کوئی ردو بدل نہ ہو سکے گا اور اس کی حفاظت رب العزت کرے گا۔ ظاہر ہوا کہ اصول دین کے لحاظ سے اور تعلیم کے لحاظ سے تمام آسمانی کتابوں کا مضمون ایک ہی ہے۔ رب العزت نے ہر زمانے کے لحاظ سے ایسی ہی ہدایات دی ہیں جو حق و باطل، حرام حلال، نیکی بدی اور جھوٹ وسچ کے درمیان فرق ظاہر کرنے والی ہوں۔ آیت کے آخر میں رب العزت نے اپنے صفاتی ناموں میں سے عزیز ذو انتقام یعنی زبردست طاقت کا مالک اور برائی کا پورا پورا بدلہ دینے والا کہا ہے یہ ذکر ان لوگوں کو سمجھانے کے لئے کیا گیا ہے جو ہدایات حاصل کرنے کے بعد بھی ہدایت اختیار نہ کریں یا رب العزت کی بھیجی ہوئی کتابوں کو نہ مانیں، پیغمبروں کو نہ مانیں، برائیوں کو نہ چھوڑیں، شرک اور جھوٹ کی دنیا میں پھنسے رہیں تو ایسے لوگ اپنے اعمال کی سزا ضرور پائیں گے۔ کیونکہ اگر رب العزت رحیم و کریم ہے تو ساتھ وہ عزیز ذو انتقام بھی ہے۔ کیونکہ وہ ہر انسان کی ہر حرکت اور خیال پر زبردست نگاہ رکھتا ہے اسی لئے اس نے حساب کا دن مقرر کر رکھا ہے اور دنیا میں بھی ایسی قوموں کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئی بھی برا انسان اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکے گا۔ اس لئے ہر وقت دل میں نیکی کا خیال عمل میں نیکی کی راہ ہی اختیار کرنی چاہئے۔
Ayahs 3:5–6

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

زمین اور آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جیسی چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس زبردست، حکمت والے کے سوا اور کوئی اللہ نہیں ہے

قدرت الٰہی کا بیان تشریح : اس آیت میں بھی رب العزت کی قدرت کا بیان ہو رہا ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ دنیا کی تمام اشیاء جو زمین و آسمان کے درمیان موجود ہیں ان کا انتظام اوردیکھ بھال ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں۔ جیسا کہ ایک قطرہ جو ماں کے رحم میں پڑتا ہے وہ بھی اللہ کی حکمت سے نشوونما پاکر ایک انسان کا بچہ بن کر دنیا میں آموجود ہوتا ہے۔ اس کا نقشہ اس کی سیرت اور اس کا نصیب سب کچھ اللہ کی مرضی اور اس کی اجازت سے مکمل ہوتا ہے۔ کوئی نہیں جان سکتا کہ آنے والا بچہ کیا نصیب کیا شکل اور کیا کردار لے کر آرہا ہے مگر یہ سب اللہ کو معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ زبردست حکمت والا ہے۔ عام انسان کی پیدائش ماں اور باپ کی محتاج ہے لیکن اللہ تعالیٰ قدرت کا ملہ رکھتا ہے وہ بغیر ماں باپ کے بھی انسان کو پیدا کرسکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی قدرت سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور پھر ان کی پیدائش میں اس کی کیا کچھ حکمتیں تھیں ؟ یہ سب وہی جانتا ہے۔ کسی بشر کو اجازت نہیں کہ اس کی حکمتوں سے انکار کرے یا اس کی قدرت، طاقت اور بڑائی سے انکار کرے۔ ان آیات میں دو باتوں کی وضاحت ملتی ہے۔ ایک یہ کہ اللہ کی دی ہوئی راہنمائی یعنی قرآن پر یقین کامل کرنا اور دوسرے توحید پر یقین کامل رکھنا کہ بس وہی اللہ وحدہ لاشریک ہے اور کوئی عبادت کے لائق نہیں ہوسکتا۔
Ayah 3:7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے (اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں ایک) محکمات (واضح) جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشا بہات، پھر جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ان (متشابہ آیات) کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کا مقصد فتنے اور تأویل کی تلاش ہوتا ہے، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں پختہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان (متشابہات) پر ایمان ہے یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے ٹھیک سبق صرف دانش مند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں

محکم اور متشابہ آیات تشریح : اس آیت میں سب سے پہلے رب کا بیان ہے کہ وہ وہی ذات اکبر ہے جس نے تم پر حکمت والی کتاب نازل فرمائی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اس کتاب میں دو قسم کی آیات بیان کی گئی ہیں۔ ایک محکمات اور دوسری متشابہات۔ محکمات ان آیات کو کہتے ہیں جو عام فہم ہوں اور جن کا مطلب واضح ملتا ہو اور جن کے ایک ہی معنی نکلتے ہوں۔ یہی آیات ہمیں راہ راست دکھاتی ہیں، علم و حکمت سکھاتی ہیں، نیکی اور بدی کا فرق بتاتی ہیں۔ اور بہترین زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ جنت و دوزخ کا راستہ بھی انہی آیات میں دکھایا جاتا ہے اور جو لوگ ایمان کامل رکھتے ہیں وہ انہی آیات کو ہر وقت سامنے رکھتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ دوسری قسم متشابہات کی ہے۔ اس سے مراد ایسی کلام ہوتی ہے جس سے کئی ملتے جلتے معنی نکلتے ہوں اور ان کے درمیان فرق کرنا بھی مشکل ہو اور بعض اشارات ایسے ہیں کہ جن کو انسانی عقل سمجھ نہیں سکتی، بلکہ وہ اللہ ہی کی حکمت اور عظمت کا نشان ہوتے ہیں تو پھر ایسی بات کے پیچھے کیوں پڑا جائے جو انسانی سمجھ سے باہر ہو۔ اگر ان کی تحقیق میں پڑجائیں تو ممکن ہے ہم کسی غلط راہ پر نکل جائیں اور یوں ایمان کی دولت سے بھی محروم ہوجائیں جن کا ایمان مضبوط ہے وہ تو صرف یہی کہہ دیتے ہیں کہ یہ بھی ہمارے پروردگار کی طرف سے آئی ہیں لیکن ہماری سمجھ سے باہر ہیں ہمارے لئے اتناہی کافی ہے کہ ان کو اللہ کی طرف سے مان لیں اور تحقیقات کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے جن کا ایمان مضبوط نہیں یا جو لوگ محض نکتہ چینی اور نوک جھونک کرنے والے ہیں وہ محکمات تو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف متشابہات کو لے کر الٹے سیدھے مطالب نکال کر خود بھی بد راہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی بدراہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ نے روح اللہ کہا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ” وہ صرف بندہ ہے جس پر ہم نے انعام کیا “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے کہ وہ صرف ایک انسان ہی ہیں مگر ان پر انعام کیا گیا یعنی ان کو نبوت دی گئی۔ اب بدکردار اور مشرک لوگوں نے صرف ” روح اللہ “ کو پکڑ لیا اور اس نسبت سے ان کو اللہ کا بیٹا بنا دیا جب کہ دوسری آیت کا مطلب واضح ہے کہ وہ صرف بندے ہیں اس کو بالکل دھیان میں نہیں رکھا۔ ” روح اللہ “ اللہ نے معلوم نہیں کس وجہ سے کہا، یہ ہماری عقل اور سمجھ سے باہر ہے تو اس کو صرف یہی کہنا چاہئے کہ یہ اللہ ہی جانتے ہیں۔ عقل مند، نیک اور پکے مسلمان تو یہی کہتے ہیں مگر کمزور عقیدہ والے لوگ ان متشابہات کی وضاحت جاننے کی وجہ سے اپنا ایمان ہی کھو دیتے ہیں۔ لہٰذا متشابہات کو سمجھنے کی مشکل میں ہرگز نہیں پڑنا چاہئے۔ اگلی آیات میں ان تمام برائیوں سے بچنے کے لئے اللہ سے دعائیں کی جارہی ہیں۔
Ayahs 3:8–9

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے پروردگار ! جب تو ہمیں سیدھے رستہ پر لگا چکا ہے تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کردینا، ہمیں اپنے خزانہ فیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی اصل میں رحمت دینے والا ہے

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

پروردگار تو یقیناً سب لوگوں کو ایک روز جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شبہہ نہیں تو ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا

دعائے استقامت تشریح : انسان اللہ سے دعا کرتا ہے کہ ہمارے ایمان کو سلامت رکھنا کیونکہ اس کی توفیق تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ نبی اکرم ﷺ کس قدر بڑے پیغمبر تھے پھر بھی اللہ سے ایمان کی سلامتی کی دعا کرتے رہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں چاروں طرف بیشمار دنیاوی رنگینیاں اور شیطانی بہکاوے ہیں انسان کسی بھی وقت پھسل سکتا ہے۔ لیکن اگر دست بدعاپھیلائے رکھے کہ اے رب ! تو جو کہ وہاب یعنی سب کچھ عطا کرنے والا ہے ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان کی سلامتی عطا کر دے تو پھر کوئی مشکل ہے اور نہ کوئی پریشانی۔ پھر انسان دعا کرتا ہے اے ہمارے رب ! بیشک تو ہم سب کو ایک مقرر دن ضرور اپنے حضور جمع کرنے والا ہے۔ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور وہ دن ایسا ہوگا کہ جس دن ہر انسان کا حساب کتاب لیا جائے گا۔ کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا روز قیامت پر پکا یقین ہے۔ اللہ کا وعدہ بڑا پکا وعدہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس دن کی تیاری کے لئے ہمت، طاقت اور راہنمائی عطا کرے۔ آمین قرآن پاک میں اس یوم الحساب کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں وہ انتہائی لرزا دینے والی ہیں۔ اس دن مال، دھونس دھاندلی بروں کے کچھ کام نہ آسکے گی اور دنیا میں کی گئی نیکیاں اس دن نیک لوگوں کے لئے انتہائی خوش گوار نتائج کے ساتھ ان کے سامنے آجائیں گی۔ اس دن کی کیفیت سورة الزلزال کی آیت 7 اور 8 میں اس طرح بیان کی گئی ہے۔ ” جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے گا تو اسے دیکھ لے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے گا تو وہ اسے دیکھ لے گا۔ “ قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بعد اس آنے والی زندگی میں شعور کا تسلسل جاری رہے گا۔ یعنی تمام اچھے اور برے لوگ اپنی اس دنیاوی زندگی میں کئے گئے کاموں اور کہی گئی باتوں کو یاد کریں گے انہیں علم ہوگا اور بتا دیا جائے گا کہ انعام کس لئے مل رہا ہے اور سزا کس لئے مل رہی ہے۔ اس سخت دن کی تیاری دعا اور توبہ کے ساتھ ہر وقت کرتے رہنا چاہئے۔ کیونکہ موت کے بعد عمل کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور وہ زندگی ہمیشہ رہنے والی ہوگی۔ اللہ ہمیں اس زندگی میں سرخرو کرے آمین ثم آمین اگلی آیات میں سزا کا نقشہ بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 3:10–12

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے، انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ ان کا مال اور اولاد کچھ کام نہ دے گا وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

ان کا انجام) فرعون کے ساتھیوں اور ان سے پہلے نافرمان لوگوں کا سا ہوگا کہ انہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا، (نتیجہ یہ ہوا) کہ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

پس اے محمد ﷺ جن لوگوں نے ( تمہاری دعوت قبول کرنے سے) انکار کردیا ہے، ان سے کہہ دو کہ قریب ہے ( وہ وقت) جب تم مغلوب ہوجاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور جہنم بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے

کفارو مشرکین کو تنبیہ تشریح : ان آیات میں مشرکین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ جس طرح فرعون اور اس سے پہلی قوموں کو اپنے برے اعمال کی سزا دی گئی تھی تمہیں ان سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ فرعون اور اس سے پہلی قوموں کا ذکر سورة بقرہ میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ ان آیات میں ایک تو عبرت حاصل کرنے کا سبق دیا گیا ہے اور دوسرے کفار و مشرکین کو خبردار کیا گیا ہے۔ ایسے کفاربہت جلد مغلوب ہوں گے۔ اہل اسلام سے شکست کھائیں گے دنیا میں سزا پانے کے بعد آخرت میں جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ اگلی آیت میں جنگ بدر کی مثال دی جارہی ہے۔
Ayah 3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

تمہارے لئے ان دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا ( جو بدر میں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے) ۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا دیکھنے والے (مؤمنین) کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہے تھے کہ کفار دوگنا ہیں۔ مگر اللہ اپنی قدرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔ دیکھنے والوں (گہری نظر) کے لئے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے

غزوہ ٔ بدر میں اللہ کی مدد تشریح : اس آیت میں غزوہ بدر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اللہ کی نصرت اور حق و باطل کی بہت بڑی مثال گزری ہے۔ اس جنگ میں تین باتیں نہایت سبق آموز تھیں۔ -1 دونوں گروہوں کا اخلاقی فرق ظاہر تھا۔ -2 مسلمانوں کی کم تعداد اور بےسرو سامانی کفار کا تین گنا زیادہ اور مکمل اسلحہ سے لیس ہونا۔ -3، کفار کا اپنے سازو سامان اور تعداد پر ناز و نخرہ اور تکبر اور مسلمانوں کا اللہ پر بھروسہ اور کامل یقین۔ تفصیلات اس طرح ہیں اس جنگ میں کفار کی تعداد ایک ہزار تھی، سات سو اونٹ، ایک سو گھوڑے اور سب بڑے ماہر، تجربہ کار اور جنگجو تھے۔ جبکہ مسلمان صرف تین سو تیرہ، ستر اونٹ، دوگھوڑے، چھ زر ہیں اور صرف آٹھ تلواریں تھیں۔ یہ اسباب و ذرائع سے تو بہت ہی معمولی تھے مگر ایک چیز بڑی زبردست مسلمانوں کے پاس تھی اور وہ تھی کامل توکل، استقلال، اللہ کی مدد اس کے وعدے اور ایمان کی طاقت پر بھروسہ، یہ سب جذبات مسلمانوں کی نصرت اور فتح یابی کا سبب بنے۔ کیونکہ کفار کے پاس نہ تو ایمان تھا نہ وہ جذبہ، نہ توکل اور نہ ہی یقین کامل تھا ان کو اگر بھروسہ تھا تو وہ صرف اپنے سازو سامان پر اور اپنی بڑی تعداد پر اور یہی غلط جذبہ ان کی شکست کا سبب بنا۔ غرض یہ جنگ، مکہ میں کی گئی پیش گوئیوں کا ثبوت ہے اور یہ فتح سوچ سمجھ رکھنے والے لوگوں کے لئے بہت بڑی نشانی ہے۔ کفار تعداد کی زیادتی میں مست تھے جبکہ مسلمان اللہ سے دعاؤں میں اور اس کی محبت میں مست تھے۔ غزوہ بدر کی طرح کے کئی واقعات تاریخ اسلام میں ملتے ہیں۔ کیونکہ سچے مسلمان کا مقابلہ بڑا مشکل ہوتا ہے۔ مرد مومن کا تصور علامہ اقبال اس طرح پیش کرتے ہیں۔ کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازو کا نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
Ayahs 3:14–17

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

لوگوں کے لئے مرغوبات نفس (یعنی انتہائی پسندیدہ چیزیں) عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی اور زرعی زمینیں خوشی دینے والی بنا دی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں۔ حقیقت میں جو بہتر ٹھکانہ ہے وہ تو اللہ کے پاس ہے

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

کہو میں تمہیں بتاؤں کہ ان سے زیادہ اچھی چیز کیا ہے ؟ جو لوگ تقو ٰیٰ کی روش اختیار کریں، ان کے لئے ان کے رب کے پاس باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہاں انہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل ہوگی، پاکیزہ بیویاں ( ان کی رفیق ہوں گی) اور اللہ کی رضا سے وہ سرفراز ہوں گے۔ اللہ اپنے بندوں کے رویئے پر گہری نظر رکھتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے، ہماری خطاؤں سے درگزر فرما اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا لے

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راست باز ہیں، فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں

اللہ تعالیٰ کے انعامات کے اصل حقدار تشریح : ان آیات سے پہلے مسلمانوں اور کفار کی خصوصیات بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہیں۔ ان آیات میں کھرے اور کھوٹے انسان کی پہچان کرائی گئی ہے۔ کیونکہ دنیا کا سازو سامان مثلاً عورتوں کی محبت، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، عمدہ گھوڑے، مال مویشی اور زرعی زمین وغیرہ یہ سب کچھ انسان کے لئے بڑی کشش رکھتی ہیں اور یہ بہترین زندگی کے اسباب بھی ہیں۔ اسی لئے انسان ان سب چیزوں کو پسند کرتا ہے اور انہی چیزوں کو حاصل کرنے میں کوشش کرتا رہتا ہے۔ رب العزت نے فرمایا کہ یہ سب چیزیں بیشک نعمتیں ہیں۔ مگر یہ سب کچھ امتحان کا باعث بھی بنتی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ آزمائش ہوتی ہے کہ ان کا بھوت کس قدر انسان پر سوارہوتا ہے ؟ آیا وہ ان چیزوں کے حصول میں جائز اور ناجائز کو بھول جاتا ہے یا یاد رکھتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ان کو خرچ کرنے میں وہ کہاں تک احکامات قرآنی کا خیال رکھتا ہے۔ تیسرایہ کہ ان چیزوں کی محبت میں وہ کس حد تک کھو جاتا ہے اور اللہ کو بھول جاتا ہے یا یاد رکھتا ہے یہ سب امتحانات رب العزت نے ان تمام دنیاوی اشیاء کے ساتھ رکھ دیئے ہیں اور پھر سمجھا دیا ہے کہ سب کچھ اسی طرح فانی ہے جس طرح خود انسان فانی ہے یعنی ختم ہوجانے والا ہے اور پھر بہترین ٹھکانہ اور ہمیشہ رہنے والی زندگی تو صرف موت کے بعد اللہ ہی کے پاس ملے گی۔ کیونکہ دنیا کا مال و متاع ختم ہونے والی چیز ہے۔ اگر وہ ختم نہ ہو تو خود انسان ختم ہوجانے والا ہے اور اس دنیا سے موت کے بعد سوائے اپنے اعمال کے کچھ بھی ساتھ نہیں لے جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان ” لوگوں کو بتا دو کہ ان تمام چیزوں سے بہترین چیز میں تمہیں بتاتا ہوں اور وہ ہے تقو ٰی (اس کی تفصیل بیان کی جا چکی ہے) جو لوگ نیکی کی راہیں اختیار کریں گے۔ شرک اور گناہوں سے اپنے آپ کو بچائیں گے۔ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے طریقے اختیار کریں گے ان کے لئے ان کے رب کے پاس باغات ہیں جو سرسبز و شاداب پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی پاکیزہ اور انتہائی خوبصورت بیویاں ان کیلئے ہوں گی اور رب العزت ان پر ہر لحاظ سے مہربان اور خوش ہوں گے۔ غرض ہر وہ سکون، خوشی اور نعمتیں ان کو دی جائیں گی جو انسان کو چاہئے اور یہ سب کچھ کبھی ختم نہ ہونے والا ہوگا، اور یہ سب کچھ صرف متقی اور مخلص لوگوں کو ہی ملے گا۔ اس میں کسی غلطی کا امکان نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نظر ہر انسان کے ہر عمل اور نیت پر ہوتی ہے اور اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔ اور یہ ایسے لوگ ہیں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ہم تجھ پر ایمان لائے، ہماری خطاؤں کو معاف فرما اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا لینا “ پھر ان لوگوں کی تعریف رب العزت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ ” یہ لوگ صبر کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یعنی اگر ان کو کوئی تکلیف یا نقصان پہنچے تو یہ گھبراتے نہیں، بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ کو اور بھی زیادہ عجز و انکساری سے یاد کرتے ہیں۔ دوسری صفت رب العزت یہ بیان کرتے ہیں کہ ” یہ لوگ راست باز، فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں “ یعنی متقی لوگ زبان اور نیت کے سچے ہوتے ہیں۔ جھوٹ اور منافقت سے دور رہتے ہیں، گناہوں سے بچتے ہیں، بخیل نہیں ہوتے، صدقہ و خیرات کرتے رہتے ہیں اور اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں، رات کا آخری حصہ انتہائی غفلت کی نیند کا حصہ ہوتا ہے اور یہ عابد لوگ اس وقت بستروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور رکوع و سجود میں مشغول ہو کر نجات کے لئے دعائیں مانگا کرتے ہیں۔ اگلی آیت میں اللہ کی گواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 3:18

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور (یہی شہادت) فرشتوں اور اہل علم نے بھی دی ہے۔ وہ انصاف پر قائم ہے۔ اس زبردست حکیم کے سوا بالکل کوئی سچا معبود نہیں ہے۔

توحید کی گواہی تشریح : سابقہ آیات کی طرح اس آیت میں بھی توحید کا پیغام ایک انوکھے انداز سے دیا گیا ہے۔ اس پر تین شہادتوں کا ذکر ہے۔ ایک خود اللہ جل شانہ کی شہادت، دوسری اس کے فرشتوں کی، تیسری اہل علم کی۔ اللہ جل شانہ کی شہادت تو بطور مجاز ہے، مراد یہ ہے کہ رب العزت کی ذات وصفات اور اس کے تمام مظاہر و مصنوعات توحید الٰہی کی کھلی نشانیاں ہیں۔ دوسری شہادت فرشتوں کی ہے جو کہ اللہ کی مقرب ترین مخلوق ہے۔ تیسری شہادت اہل علم کی ہے جس سے مراد انبیاء (علیہ السلام) ہیں مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ عرفات میں رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی تو اس کے بعد فرمایا : اے پروردگار ! میں بھی اس پر شاہد ہوں۔ (ابن کثیر) آخر میں پھر وضاحت کی گئی ہے کہ یہ تمام کائنات اور خود انسان کی پیدائش رب العزت کی زبردست حکمت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خود اپنی زبان سے اقرار کر رہے ہیں کہ واقعی اللہ ایک ہے۔ اس کا کوئی بھی شریک نہیں۔ وہ خود ہی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
Ayahs 3:19–20

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ ان لوگوں نے جنہیں کتاب دی گئی تھی علم آجانے کے بعد آپس میں اختلاف ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لئے کیا اور جو کوئی اللہ کے احکامات و ہدایات کی ( اطاعت) سے انکار کر دے، اللہ کو اس سے حساب لیتے کوئی دیر نہیں لگتی

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں تو ان سے کہو ” میں نے اور میرے پیروکاروں نے اللہ کے آگے سر تسلیم خم کردیا ہے۔ پھر اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے پوچھو۔ کیا تم نے بھی اس کی اطاعت و بندگی قبول کی ؟ اگر کی تو وہ راہ راست پا گئے اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام دینے کی ذمہ داری تھی۔ آگے اللہ خود اپنے بندوں (کے معاملات) کو دیکھنے والا ہے

حقیقی دین، اسلام ہی ہے تشریح : دین اور اسلام کی وضاحت میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ دین کا مطلب کیا ہے۔ دین سے مراد مذہب ہے۔ مذہب کے معنی ہیں کہ سوچ کے اور عمل کے وہ طریقے کہ جن سے انسان اور قوم کی بنیاد نیکی، راست بازی اور کامیابی پر رکھی جائے، یعنی وہ اصول اور قوانین جو اللہ کی طرف سے بندے کو دیئے جائیں تاکہ انسانی قوانین کی بجائے الٰہی قوانین کو اختیار کیا جائے، کیونکہ اللہ کامل و اکمل ہے جب کہ بندہ خطاؤں کا پتلا ہے۔ تو اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ اسلام کا مطلب ہے کہ مکمل طور پر اللہ کا فرمانبردار بن جانا اور بندہ دل و جان سے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دے اور جو بھی حکم وہ اللہ کی طرف سے پائے بغیر کسی حیل و حجت اسے تسلیم کرلے۔ ویسے تو تمام انبیاء نے اسلام کی ہی تعلیم دی۔ لیکن مشکل یہ پیش آئی کہ وقتاً فوقتاً لوگوں کے عقائد میں تبدیلی آتی رہی اور وہ سب احکامات حاصل کرنے کے باوجود غلط راستے اختیار کرتے رہے۔ جیسا کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے اصل تعلیمات کو مٹا کر غلط اعتقادات اپنا لئے (یہ سب پچھلے اسباق میں بیان کیا جا چکا ہے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ احکام الٰہی کی اطاعت سے انکار کرتے ہیں تو ان کو یہ جان لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ کوئی بھی چیز اس کی نظر سے چھپی ہوئی نہیں اور وہ حساب لینے میں ہرگز غلطی نہیں کرتا اور نہ ہی دیر لگاتا ہے۔ پھر اللہ رب العزت حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر یہ بگڑے ہوئے اہل کتاب آپ سے جھگڑا کریں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تمہارا فرضی اسلام اللہ کو قبول نہیں۔ کیونکہ اصل اسلام وہ ہے جو ہم سب نے قبول کیا، ہم تمہارے سامنے مثال پیش کرتے ہیں، دیکھو ہم نے کس طرح اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے شرکیہ عقائد، بت پرستی، بداخلاقی، فسق و فجور اور ظلم و ستم کا مقابلہ کیا اور ہم نے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ یعنی اپناوطن، بیوی بچے، گھر بار غرض ہر چیز چھوڑ کر اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے اور پھر ہر وقت ہم ہر طرح تیار ہوتے ہیں کہ جو بھی حکم ہمیں رب العزت کی طرف سے ملے گا ہم بغیر چوں و چراں اس کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ اس کو یعنی احکام الٰہی کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دینا کو اسلام کہتے ہیں اور اے اہل کتاب جو کچھ تم کرتے ہو کیا یہ اسلام کہلا سکتا ہے تم خوب اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ہی آخری نبی ہوں اور جب تم تنہا ہوتے تو اس بات کو مانتے ہو مگر پھر بھی مجھ (محمد ﷺ پر ایمان لانے کو تیار نہیں ہوتے۔ یہ صرف تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔ اگر اب بھی تم فرمانبردار بن جاؤ۔ سچے مسلمان بن جاؤ تو تم سیدھے راستہ پر آجاؤ گے۔ لیکن اگر اب بھی تم ایمان لانے کو تیار نہیں تو پھر یہ تمہاری اپنی مرضی ہے۔ میرا کام تو صرف اتنا ہی ہے کہ میں تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دوں، اسلام اور کفر کا فرق بتا دوں، تم مان لو یا نہ مانو یہ تمہارا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ کیونکہ وہ ہر بندے کو خوب اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے مخلص کون اور منافق کون ہے اور پھر حساب کتاب کرنا، سزا جزا دینا یہ سب اللہ کا کام ہے۔ میری ذمہ داری صرف پیغام پہنچانا ہے۔ ذرا غور سے دیکھا جائے تو آج کا مسلمان بھی کچھ خاص اصلی مسلمان دکھائی نہیں دیتا ہم لوگ بھی بس نام کے ہی مسلمان ہیں۔ ہمیں چاہئے۔ قرآن کو خوب غور سے پڑھیں اور اس میں جو کچھ بھی احکامات اور قوانین بتائے گئے ہیں ان پر سختی سے عمل کریں، تاکہ دنیا و آخرت میں نجات حاصل کرسکیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے، کیونکہ ہمارا مذہب انسان کی فطرت کے مطابق عمل کا حکم دیتا ہے۔ بس ذرا دین کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ علامہ اقبال اس بارے میں کیا خوب فرماتے ہیں۔ کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونے وہ کیا گردوں تھا جس کا تو ہے اک ٹوٹا ہوا تارا شعر کا مطلب یہ ہے کہ اے مسلم نوجوان تو دین محمدی ﷺ سے تعلق رکھتا ہے۔ تیرے بزرگوں میں بڑی خوبیاں تھیں جو کہ تم میں نظر نہیں آتیں۔ کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ تو کتنی عظیم قوم سے تعلق رکھتا ہے اور تیرے بزرگ کس قدر پاک باز، پرہیزگار، دیندار اور سچے پکے مسلمان تھے۔ اللہ کی رضا پر جان مال اور اولاد غرض سب کچھ قربان کردینے والے تھے اور اسی کو کہتے ہیں مسلمان۔ اگلی آیت میں کفار کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔
Ayahs 3:21–22

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو خلق خدا میں انصاف کا حکم دینے کے لئے اٹھیں، ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہوگئے اور ان کا مددگار کوئی نہیں ہے

کفار کے اعمال اور سزا تشریح : اس سبق میں یہود و نصار ٰی کے بارے میں وضاحت کی جارہی ہے کہ یہ تمام لوگ نہ صرف خود اپنے دشمن ہیں، بلکہ ہر صالح شخص اور نبیوں کے دشمن ہیں، صرف اس لئے کہ وہ نیکی کی ترغیب دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان تمام برے لوگوں کو بتا دو کہ ان کے لئے دنیا و آخرت دونوں میں عذاب ہی عذاب ہے۔ اللہ ان سے سخت ناراض ہے اس لیے آخرت میں ان کو درد ناک عذاب دیگا۔ کیونکہ انہوں نے ہمیشہ نبیوں، رسولوں، اور نیک لوگوں کو قتل کیا ہے۔
Ayahs 3:23–25

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

تم نے دیکھا نہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے، ان کا حال کیا ہے ؟ انہیں جب کتاب الٰہی کی طرف بلایا جاتا ہے، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلو تہی کرتا ہے اور اس (فیصلہ کی طرف آنے) سے منہ پھیر نے والے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

ان کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں : آتش دوزخ تو ہمیں چھوئے گی بھی نہیں اور اگر دوزخ کی سزا ہمیں ملے گی بھی تو بس چند روز ان کے خود بنائے ہوئے عقیدوں نے انہیں اپنے دین کے معاملہ میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

مگر ان پر کیا گزرے گی جب ہم انہیں اس روز جمع کریں گے جس کا آنا یقینی ہے اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ پورا پورا دے دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا

عیسائیوں کا جھوٹا عقیدہ اور انجام تشریح : اس مقام پر اللہ کی کتاب سے مراد تورات اور انجیل ہے اور کتاب کا کچھ حصہ پانے والوں سے مراد یہود و نصار ٰی کے علماء ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ یہود و نصار ٰی نہ اپنی آسمانی کتابوں پر عمل کرتے ہیں اور نہ ان باتوں کی پرواہ کرتے ہیں کہ آخرت میں سزا ملے گی۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ وہ تو اللہ کے بڑے پیارے ہیں ان کو تو دوزخ میں ڈالاہی نہ جائے گا اور اگر سزا ملی بھی تو چند دن کے لئے ملے گی۔ اسی خیال سے وہ نیکی سے دور اور بدی سے نزدیک رہ کر زندگیاں گزار رہے ہیں۔ حالانکہ قرآن پاک اور ان کی کتابوں میں بار بار اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ قیامت کا دن ضرور آئے گا اور اس دن حساب کتاب سے کوئی نہ بچ سکے گا۔ سب کو اپنے اعمال کا ہی بدلہ ملے گا، کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا، کیونکہ ہر شخص اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوگا۔ اگلی آیت میں اللہ کی قدرت کاملہ کا ذکر ہے۔
Ayahs 3:26–27

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

کہہ دیجئے : اے سلطنت کے مالک ! تو جسے چاہے، حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں، جاندار میں سے بےجان کو نکالتا ہے اور بےجان میں سے جاندار کو اور جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے

قدرت الٰہی اور اس کا اختیار تشریح : ان آیات میں اللہ کی قدرت کاملہ اور انسان کی بےبسی اور عاجزی کا ذکر بڑے اچھے انداز میں کیا گیا ہے اور یہ ایک بہترین دعا بھی ہے اور اس میں امت محمدی ﷺ کے لئے بہترین فتوحات یعنی روم وفارس کو فتح کرنے کی پشین گوئی بھی کی گئی ہے۔ جس پر کفار نے بڑا مذاق اڑایا تو رب العزت فرماتے ہیں کہ ان کو سمجھا دو کہ تمام بادشاہت اللہ ہی کی ہے وہ جسے چاہے حکومت دے جس سے چاہے چھین لے جسے چاہے عزت دے جیسا کہ مسلمانوں کی چھوٹی سی جماعت کو غزوہ بدر میں فتح عطا کی اور کفار کو اتنی بڑی طاقت ہونے پر بھی شکست کی ذلت اٹھانا پڑی۔ عزت دینا، ذلت دینا، حکومت دینا اور حکومت چھین لینا سب کچھ اس مالک الملک کے ہاتھ میں ہے۔ جیسا کہ نبوت بنی اسرائیل سے چھین کر بنی اسماعیل کو دے دی اسی طرح قوموں اور حکومتوں میں عروج وزوال آتا رہتا ہے۔ بداعمال لوگوں کو بدعملیوں کی وجہ سے زوال آجاتا ہے اور ان کی جگہ صالح پرہیزگار اور متقی لوگوں کو سلطنت اور حکومت مل جاتی ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں کو یہود و نصاری پر ہر طرح سے فوقیت اور کامیابیاں حاصل ہوئیں اور یہ سب کچھ نہ کسی انسان کے ہاتھ میں ہے نہ کسی فرشتہ یا جن کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی قدرت تو صرف اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ جب ہم اپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی نعمتوں کو دیکھتے ہیں تو بےاختیار منہ سے نکل جاتا ہے۔ ” اے اللہ بیشک تو ہر چیز پر قاد رہے، آیت 27 میں دن اور رات کا ذکر کیا گیا ہے۔ دن اور رات کا آنا جانا تو معمول کا کام دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اگر قدرت کے اس نظام کی گہرائی میں جائیں تو انسان حیران رہ جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات اور ہمارا نظام شمسی ایسے قائم کیا ہے کہ زمین سورج کے گرد ایک معین فاصلہ پر چکر لگا رہی ہے۔ سورج زمین کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اسی وجہ سے زمین اپنے مدار سے دور نہیں ہوتی اس کے علاوہ زمین اپنے محور پر بھی گھوم رہی ہے جس کی وجہ سے دن اور رات اپنے مخصوص وقت پر آتے ہیں اور یہ نظام ہر قسم کی خامی سے اس قدر پاک ہے کہ صدیوں سے بغیر کسی رکاؤٹ یا خرابی کے مسلسل چلا آرہا ہے، نہ کسی مستری، انجینئر اور نہ ہی کسی ماہر فلکیات کی ضرورت پڑی ہے تو ظاہر ہوا ہے کہ یقیناً کوئی ایسی طاقت ہے جس کا تمام کائنات پر مکمل کنٹرول ہے۔ جس نے یہ سب کچھ بنایا ہے۔ اس نظام کو ترتیب دینے والا کوئی مختار کل ضرور ہے اور وہ طاقت اللہ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتی۔ اس کی قدرت کا مظاہرہ مخلوقات کی پیدائش میں بھی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے مٹی کا ایک پتلا بنایا اور اس میں اپنی قدرت سے جان ڈال دی پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کا وجود ظاہر ہوگیا حضرت حوا کو بغیر والدین کے اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا اور پھر اس کے بعد ان کی اولاد کا ایک نیا سلسلہ بنا دیا۔ یہ زمین اور تمام کائنات ذرے (Atoms) سے بنی ہوئی ہے۔ ہر ذرے کی علیحدہ خصوصیات ہیں یہ اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے چند ذروں کو ملا کر ایک خلیہ (Cell) بنایا۔ خلیہ جاندار اشیاء کا سب سے چھوٹا حصہ ہوتا ہے۔ یہ خلیہ کھا پی سکتا ہے۔ حرکت کرسکتا ہے۔ یعنی اس میں زندگی ہے اور یہ زندگی اللہ نے اس کو دی ہے، کیونکہ یہ طاقت اللہ کے سوا اور کسی کے پاس نہیں۔ یہی خلئے مل کر جاندار چیزیں بنتی ہیں۔ یعنی انسان، جانور اور پودے وغیرہ۔ آسان طریقہ سمجھنے کا ایک یہ بھی ہے کہ مرغی جاندار ہے اور انڈے بظاہر بےجان، پھر جب اس انڈے کو 21 دنوں کے لئے ایک مخصوص درجہ حرارت میں رکھیں تو اس میں سے اللہ کی قدرت سے جیتا جاگتا چوزہ نکل آتا ہے۔ کیا یہ اللہ کی قدرت کا نشان نہیں ؟ کیوں نہیں۔ اس موقعہ پر ایک بات واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کل سائنس دان کلوننگ (Cloning) یعنی غیر فطری طریقہ سے جاندار کی تخلیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک جاندار کی اتنی مکمل نقل تیار کرنا کہ جس میں کوئی فرق نظر نہ آئے اور وہ ایک بھیڑ (Dolly) کو (Clone) کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک جاندار چیز بنا سکتے ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ وہ تو ایک جاندار کے جسم سے چند خلئے لے کر ان کو (Reproduce) یعنی اگاتے ہیں۔ وہ خود اپنی قدرت سے ایک ذرے میں جان نہیں ڈال سکتے اور ہم یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ انسان کی (Cloning) میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتے۔ غرض یہ حقیقت ہے کہ اللہ کی قدرت ہر وقت ہر جگہ اور ہر صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ وہی پیدا کرتا ہے اور پھر وہی رزق بھی دیتا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے۔ رزق کی زیادتی جس طرح آسائش کا ذریعہ ہے اسی طرح بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ حدیث میں ہے۔ حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ بہت مالدار ہیں انہی کا درجہ قیامت کے دن سب سے پست ہوگا۔ سوائے ان (دولت مندوں کے) کے جنہوں نے اپنے مال کو اس طرح اور اس طرح بہایا (یعنی بکثرت اللہ کی راہ میں دیا اور اسے پاک ذرائع سے کمایا) “۔ (ابن ماجہ) دعا ہے کہ مال کے ساتھ رب العزت اس کو خرچ کرنے کے لئے نیک راہ بھی دکھائے اگلی آیت میں دوست بنانے کی وضاحت کی گئی ہے۔
Ayah 3:28

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

مومنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں، جو ایسا کرے گا اس سے اللہ کا کوئی تعلق نہیں۔ ہاں (یہ معاف) ہے کہ تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لئے (بظاہر ایسا طرز عمل اختیار کر جاؤ) اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے

کافروں سے دوستی تشریح : اس آیت میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی مت بڑھاؤ، کیونکہ کافر قول و فعل میں تضاد رکھتا ہے اور اس کے مخلص ہونے میں بھی شک و شبہ ہوسکتا ہے۔ اس لئے کوشش کرو کہ اپنے مسلمان بھائیوں سے ہی دوستی کی جائے۔ ورنہ وہ پھر سوچ لے کہ ایسے میں اللہ کی محبت سے اس کو کوئی سروکار نہ ہوگا۔ مسلمان کی شان یہی ہے کہ وہ اپنی تمام امیدیں رب العزت سے وابستہ رکھے، ہاں البتہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ کسی نہ کسی سے محبت، خلوص اور دوستی کا رابطہ ضرور رکھے اور اس کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں۔ بعض صرف دوستی کے لئے دوست بناتے ہیں، بعض صرف خوش خلقی کے اظہار کے لئے دوست بناتے ہیں اور بعض کسی خاص مقصد یعنی فائدہ یا ہمدردی کی وجہ سے دوست بناتے ہیں۔ اکثر علماء کا یہ خیال ہے کہ حقیقی دوستی کفار کے ساتھ ہرگز جائز نہیں سوائے اس حالت کے کہ مسلمان کسی صورت کفار کے دباؤ میں آجائے تو ایسی صورت میں جان و مال بچانے کے لئے وقتی دوستی کا اظہار کیا جاسکتا ہے مگر اس میں بھی یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ سب کچھ کرنے والا تو رب العزت ہی ہے یہ تو محض ایک چھوٹی سی سہولت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں مصلحتاً دوستی کی جاسکتی ہے۔ -1 اپنے بچاؤ کے لئے۔ -2 کافر کو اسلام کی طرف لانے کے لئے۔ -3 جب کافر مہمان بن کر آئے۔ اس کے علاوہ ذاتی فائدہ حاصل کرنے کے لئے کافر سے دوستی جائز نہیں۔ اگر یہ خطرہ ہو کہ کافر دین کو نقصان پہنچائے گا یا مسلمانوں کو نقصان پہنچائے گا تو ایسی حالت میں دوستی تو دور کی بات ہے اس سے میل جول بھی بند کردینا چاہئے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ مزید ڈراتا ہے اور واضح کردیتا ہے کہ جو مسلمان دوستی کے معاملہ میں دیئے گئے احکامات کی پرواہ نہ کرے گا تو اس کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ بالآخر رب العزت کے پاس ہی جانا ہے اور وہاں تمام اعمال کے مطابق سزا یا جزا ضرور ملے گی۔ خوب سوچ رکھنا چاہئے کہ رب العزت کی گرفت سے کوئی شخص کسی صورت میں بچ نہیں سکتا۔ دوستی تو ویسے بھی بہت سوچ سمجھ کر کرنی چاہئے۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ میری بزرگی اور عظمت کے خیال سے آپس میں محبت کرتے ہیں۔ ان کے لئے نور کے منبر ہوں گے ان پر نبی اور شہید رشک کریں گے۔ (ترمذی) دوست بنانے میں اللہ ہماری راہبری کرے اور ہمیں نیک صالح اور اچھے دوست عطا کرے۔ آمین
Ayahs 3:29–30

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

اے بنی ! لوگوں کو خبردار کر دو کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے خواہ تم چھپاؤ یا ظاہر کر دو ، اللہ بہرحال اسے جانتا ہے، زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اس کا اقتدار ہر چیز پر حاوی ہے

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

وہ دن آنے والا ہے جب ہر نفس اچھے عمل کو اور اپنے برے عمل کو سامنے پائے گا (اس روز) آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں سے بڑی شفقت کرتا ہے

کافروں کی پشیمانی تشریح : اس آیت میں خاص طور سے یہ بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ان لوگوں کو خوب اچھی طرح سمجھا دو کہ ان کے دلوں کی باتیں اور ان کے ظاہری اعمال کچھ بھی اللہ سے چھپا ہوا نہیں۔ کیونکہ رب العزت تو ہر اس چیز سے باخبر ہے جو اس کائنات میں موجود ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حساب کا دن ضرور آئے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں سے محبت کرتا ہے اسی لئے بار بار حساب کا دن یاد کروایا جارہا ہے وہ دن اتنا سخت ہوگا کہ اس دن کفار اپنے کئے ہوئے اعمال سے سخت شرمندہ ہوں گے اور گھبرا گھبرا کر کہیں گے کاش یہ دن ابھی نہ آتا یا یہ کہ کاش ہم دوبارہ عمل کی زندگی میں چلے جائیں یہ دونوں ناممکن ہوں گے۔ یہ جو باربار حساب کے دن کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اسی لئے کہ بندے خبردار ہو کر نیکی کی راہیں اختیار کریں۔ کیونکہ نیکی کی راہیں ہی دنیا کو آسان اور آخرت کو خوشگوار بناسکتی ہیں۔ نیکی کیا ہے ؟ اگلی آیات اسی موضوع پر نازل ہوئیں۔
Ayahs 3:31–32

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

اے بنی لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر کرے گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

ان سے کہو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کرلو، پھر اگر وہ منہ پھیر بیٹھیں تو یقین رکھو کہ اللہ (اس طرح) انکار کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا

اطاعت رسول ﷺ کا حکم تشریح : ان آیات میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ اللہ کے فرمان کے مطابق اللہ کے پیارے بندے صرف وہی ہوسکتے ہیں جو اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ﷺ کی پیروی کریں اور جو بھی رسول ﷺ کی پیروی کرے گا۔ اللہ اس سے اس قدر خوش ہوگا کہ اپنی رحمت اور بخشش کے دروازے اس پر کھول دے گا اور اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا پھر تنبیہ کی گئی ہے کہ جو لوگ اس بات سے انکار کریں گے اللہ ہرگز ان کو پسند نہیں کرے گا اور نہ ہی ان سے محبت کرے گا۔ لہٰذا وہ دنیاو آخرت میں ذلیل و خوار ضرور ہوں گے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے محمد ﷺ کی پیروی کی اس نے درحقیقت اللہ کی پیروی کی اور جس نے محمد ﷺ کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ “ (تفسیر مظہری، ج 2)
Ayahs 3:33–34

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام دنیا والوں سے (اپنی رسالت کے لئے) منتخب کیا تھا۔

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

انبیائے کرام کا سلسلہ تشریح : یہاں سے دوسرا خطبہ شروع ہوتا ہے۔ اس کے نزول کا زمانہ 9 ھ ہے۔ ان آیات میں انبیاء کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ کیونکہ رب العزت بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ ہر بات کو بخوبی سننے والا اور حقیقت حال کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اس لئے اس نے اپنے بہترین بندوں میں سے ان بندوں کا انتخاب کیا کہ جو لوگوں کے حق میں بہترین بن سکتے تھے۔ لہٰذا سب سے پہلے دنیا تخلیق کی اور پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق کیا جو کہ روحانی اور جسمانی خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ ان کو علم و حکمت عطا کیا جس کی وجہ سے ان کو سربلندی عطا کی اور فرشتوں سے ان کو سجدہ کروایا اور پھر آدم (علیہ السلام) کو نبوت کے لئے منتخب کرلیا۔ ان کے عرصہ دراز کے بعد نبوت حضرت شیت (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملی پھر عرصہ دراز کے بعد نبوت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ملی ان کے بعد جس قدر بنی آئے وہ سب انہی کے دو بیٹوں حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہی ہوئے۔ کیونکہ حضرت مریم (علیہ السلام) کے باپ عمران حضرت ابراہیم کی نسل سے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت عمران کے نواسے تھے۔ لہٰذا یہ ثابت ہوگیا کہ کوئی پیغمبر بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان سے باہر نہیں ہے۔ ان سب کا انتخاب اس عظیم اللہ جل شانہ کا ہے جو ہر بشر کے نفس کی خوبیوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس لئے اس کا انتخاب کسی صورت بھی غلط نہیں ہوسکتا۔ اگلی آیت میں حضرت مریم کی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 3:35–36

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ اے میرے پروردگار میں اس (بچہ) کو جو میرے پیٹ میں ہے۔ تیری نذر کرتی ہوں، وہ تیرے ہی لئے وقف ہوگا۔ میری اس پیشکش کو قبول فرما، تو سننے اور جاننے والا ہے۔

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا مالک ! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے۔ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کو اس کی خبر تھی اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے۔ اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنہ سے تیری پناہ میں دیتی ہوں

عمران کی بیوی کی نذر اور مریم کی پیدائش تشریح : عمران کی بیوی نے جو نذر مانی اس کے بارے میں ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ عمران حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نانا تھے۔ ان کی بیوی جن کا نام خنہ بنت فاقوذ تھا۔ انہوں نے اپنے زمانہ کے مطابق منت مان رکھی تھی کہ جو بچہ ان کے گھر پیدا ہوگا، اس کو میں ہیکل سلیمانی کی خدمت کے لئے وقف کر دوں گی اور دنیاوی کاموں سے اس کو آزاد رکھوں گی یعنی سوائے اللہ کے کاموں کے اس سے کوئی دوسرا کام نہ لوں گی اور پھر رب العزت سے دعا کی کہا اے اللہ تو اپنی مہربانی سے میری یہ نذرقبول کرلے تو میری عرض کو سنتا ہے اور میری خلوص نیت کو بھی جانتا ہے۔ کیونکہ کلیسا کی خدمت کے لئے لڑکا ہی مناسب ہوسکتا ہے تو گویا انہوں نے لڑکے کی پیدائش کے لئے دعا کی تھی۔ لیکن ان کی امید بر نہ آئی اور جب بچہ پیدا ہوا تو وہ لڑکی پیدا ہوئی۔ اس پر انہوں نے بڑی حسرت سے اللہ سے کہا کہ ” اے اللہ میں نے تو لڑکی جنم دی ہے جب کہ میری منت اس کو تیری نذر کرنے کی تھی اور وہ تو لڑکا ہی بہتر ہوسکتا تھا “۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بیٹی بڑی برکت ہے، تجھے کیا معلوم کہ یہ بڑی عزت والا مبارک بیٹا پیدا کرے گی۔ عمران کی بیوی نے عرض کیا اے اللہ میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے۔ (مریم کا مطلب ہے بلند) اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ اس سارے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت یہودیوں میں بھی کچھ اچھے اور نیک لوگ موجود تھے جو اپنی اولاد تک کو اللہ کی رضا اور خدمت کے لئے وقف کردیتے تھے دوسری بات یہ کہ اللہ ولیوں کو اپنی اولاد کی دینی واخلاقی تحفظ کی فکر ہوتی تھی۔
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

آخرکار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول کرلیا، اور اس کی بہت اچھی پرورش کی اور زکریا کو اس کا سرپرست بنا دیا۔ زکریا جب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتے تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتے، وہ کہتے اے مریم ! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا ؟ وہ جواب دیتی، یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے

حضرت مریم (علیہا السلام) کی پرورش تشریح : اس وقت کے دستور کے مطابق ہیکل کی خدمت کے لئے لڑکی قبول نہ کی جاتی تھی مگر حنہ کی دعا کی قبولیت کی وجہ سے کلیسا کے مجاوروں کے دل میں اللہ نے ان کو قبول کرنے کا خیال پیدا کردیا اور پھر اسی طرح ان کی پرورش کے متعلق ہیکل کے درمیان اختلاف ہوا تو یہ مسئلہ قرعہ اندازی کے ذریعہ حل کیا گیا اور اس طرح حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ان کی کفالت کا ذمہ دے دیا گیا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر تھے اور رشتہ میں حضرت مریم (علیہ السلام) کے خالو لگتے تھے اور جب عمران جو کہ سردار تھے ان کی وفات کے بعد ان کی جگہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ہی منتخب کیا گیا تھا۔ حضرت عمران (علیہ السلام) حضرت مریم کے والد تھے جو کہ ان کے بچپن میں ہی فوت ہوگئے تھے۔ لہٰذا حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ہیکل کے حجرات میں سے ایک حجرہ حضرت مریم کے لئے مخصوص کردیا جہاں وہ تنہائی میں ذکر و فکر میں مشغول رہتیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) وقتاً فوقتاً ان کے پاس جاتے رہتے۔ حضرت مریم کو اللہ تعالیٰ نے روحانی، جسمانی، علمی اور اخلاقی غرض ہر لحاظ سے غیر معمولی طور پر بڑھایا۔ جب انہوں نے حجرہ میں رہائش اختیار کی تو اللہ کی طرف سے خاص رحمتیں اور برکتیں ان پر نازل ہوتی رہتیں اسی طرح جب بھی حضرت زکریا (علیہ السلام) ان کے پاس آتے تو دیکھتے کہ وہاں انواع و اقسام کے پھل پڑے ہوتے تو وہ پوچھتے کہ مریم یہ کہاں سے آئے ہیں تو حضرت مریم جواب دیتیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں وہ جسے چاہے بےحساب اور کثیر رزق دیتا ہے اور ایسے ذریعہ سے دیتا ہے جس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوسکتا۔ یہاں حضرت مریم نے یہ نکتہ بھی واضح کردیا کہ اللہ کے کام اس کی مرضی سے ہوتے ہیں اس کو اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی وہ جس کو چاہے جتنا چاہے رزق دے سکتا ہے وہ اپنے ہر کام میں آزاد اور قادر مطلق ہے۔ سورة بقرہ کی آیت 107 میں اللہ فرماتا ہے :” کیا تمہیں خبر نہیں کہ زمین اور آسمانوں کی فرمانروائی اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے سوا کوئی تمہاری خبر گیری اور مدد کرنے والا نہیں۔ “ حضرت مریم کا واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے یہ سب دیکھ کر حضرت زکریا نے اولاد کے لئے دعا کی۔
Ayahs 3:38–39

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

یہ حال دیکھ کر زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ ا ے رب ! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر تو ہی دعا سننے والا ہے۔

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

جواب میں) فرشتوں نے آوازدی جب کہ وہ محراب میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ اللہ تمہیں یحییٰ (بچے) کی خوشخبری دیتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان کی تصدیق کرنے والا بن کر آئے گا اس میں سرداری اور بزرگی کی شان ہوگی۔ کمال درجہ کا ضابط ہوگا۔ نبوت سے سرفراز ہوگا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا

حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا تشریح : ان آیت کا سلسلہ پچھلی آیات سے ملتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مزید نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے جب حضرت مریم کی طہارت، عبادت اور ان پر اللہ کی عنایات کو دیکھا تو بےاختیار دعا کرنے لگے کہ ” اے اللہ مجھے بھی اولاد عطا کر دے اور وہ نیک صالح اور متقی اولاد ہو “ پھر ان کو یہ معلوم تھا کہ وہ بوڑھے ہوچکے ہیں اور ان کی بیوی بانجھ ہے (اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں) یعنی ان حالات میں ان کو اولاد کا ملنا بالکل ناممکن سا تھا مگر پھر بھی وہ اپنے رب عظیم پر اس قدراعتماد رکھتے تھے کہ انہوں نے بڑے یقین سے دعا مانگی اور یہ بھی کہا کہ ” بیشک تو دعا کا سننے والا ہے “۔ اور یہ میری دعا قبول کرنا تیرے لئے ہرگز مشکل نہیں۔ ویسے بھی حضرت زکریا (علیہ السلام) اس بات سے پریشان رہتے تھے کہ نبوت کا سلسلہ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چلا آرہا تھا اب آئندہ اس کا وارث کوئی بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے تمام حالات کو سامنے رکھ کر پورے خلوص سے دعا کی، نہ صرف اولاد کے لئے ہی دعا کی، بلکہ صالح اولاد کی دعا کی۔ ان کی دعا قبول ہوگئی۔ نماز پڑھتے ہوئے فرشتہ نے ان کو بیٹے کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی بیٹے کا نام بھی بتا دیا اور یہ بھی بتایا کہ وہ نہایت مبارک بچہ ہوگا۔ وہ احکام الٰہی کی تصدیق کرے گا۔ پاک دامن، متقی اور عورتوں سے دور رہنے والا ہوگا۔ وہ بےحد نیک، پاکیزہ اور اللہ کا نبی ہوگا حضرت زکریا (علیہ السلام) کے لئے یہ سب کچھ معجزہ سے کم نہ تھا۔