3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 3:40–41

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

کہا اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا جب کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ فرمایا (فرشتے نے) اسی طرح اللہ جو چاہے کرتا ہے

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

کہا اے میرے رب ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ فرمایا تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرے گا مگر اشارے سے اپنے رب کو بہت یاد کر اور صبح و شام اس کی تسبیح کر

حضرت یحیٰی (علیہ السلام) کی پیدائش تشریح : ان آیات میں اللہ کا اکمل ہونا اور دعا کی برکتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) بیٹے کی بشارت کا سن کر حیران ہوگئے اور بےاختیار کہہ اٹھے کہ اے رب العزت میرے ہاں بیٹا کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ میں بہت بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ اس پر رب العزت نے جواب دیا کہ میری کبریائی، میری عظمت اور میری قدرت یہی ہے کہ میں اسباب کا محتاج نہیں ہوں جو چاہوں کرسکتا ہوں۔ اس پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا باری تعالیٰ مجھے بچے کی پیدائش کی کوئی نشانی بتا دیجئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک کسی سے بات نہ کرسکو گے۔ اشارے سے بات کرو گے۔ مگر اس دوران بہت زیادہ عبادت کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح و تقدیس کرو۔ دعا ایک ایسا مقدس اور آسان ذریعہ ہے جو اللہ نے بندے کو عطا کیا ہے کہ اپنی ہر بڑی، چھوٹی خواہش اور اپنی ہر پریشانی و مصیبت کو اللہ کے حضور پیش کرسکے اور یوں دنیاو دین کی نعمتیں، سکون قلب اور رضا الٰہی حاصل کرسکے۔ دعا مانگنا عبادت ہے اور اللہ کو بےحد پسند بھی ہے۔ شرط یہ ہے کہ دل سے دعا مانگی جائے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان رکھتا ہے میں اس کے مطابق ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں یعنی خواہشات اور تمناؤں کو پورا کرنے کا بہترین وسیلہ دعا ہے۔ جیسے حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دل سے دعا کی اور وہ پوری ہوگئی۔
Ayahs 3:42–43

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب (مریم سے) فرشتوں نے آکر کہا اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں میں سے تجھ کو چن لیا

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم ! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ اس کے آگے سربسجود ہو اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا

حضرت مریم کے بلند رتبے کا بیان تشریح : حضرت مریم نبی نہ تھیں بلکہ محض ولیہ تھیں مگر اللہ نے ان کو بلند درجات دیئے، جیسا کہ آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ فرشتوں نے اللہ کا پیغام حضرت مریم کو دیا کہ اللہ نے انکو سربلندی تو شروع ہی سے دے رکھی ہے۔ کیونکہ آپ وجود میں آئیں تو اپنی والدہ کی مقبول دعاؤں کے اثر سے ہیکل کی خدمت کا کام لیا گیا جو کہ اب تک صرف لڑکوں اور مردوں کے لئے مخصوص تھا اور آپ کے حجرے میں معجزانہ طریقے سے غذائیں پہنچائی گئیں جس سے حضرت زکریا (علیہ السلام) بھی حیران رہ گئے یہ سب مثالیں آپ کی مقبولیت ہی کی تو ہیں پھر اللہ نے آپ کو بنی نہ ہونے کے باوجود گناہوں کی آلائشوں سے پاک کردیا اور آپ کو اخلاقی پاکیزگی کا ایک نمونہ بنا دیا۔ ( مطالعہ قرآن) سن بلوغ کے بعد آپ کو تمام جہان کی عورتوں پر اس طرح فضیلت بخشی ہے کہ بغیر کسی مرد کے چھوئے اللہ کی قدرت سے آپ ایک عالی شان پیغمبر کو جنم دیں گی۔ یہ خوبی دنیا میں کسی بھی عورت کو نہیں دی گئی پھر رب العزت نے فرمایا کہ جب آپ کو اس قدرعزت، وقار اور بلند رتبہ عطا کیا گیا ہے تو پھر آپ کو لازم ہے کہ آپ خلوص نیت اور انتہائی عجز و انکساری کے ساتھ اپنے رب کی بندگی کریں اور اللہ کے آگے سجدہ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور برکتیں حاصل ہونے پر کبھی مغرور نہ ہوجائیں بلکہ اور بھی زیادہ عجز و انکساری سے کام لے کر سجدہ شکر ادا کریں۔ کیونکہ عجز و انکساری اور شکر ادا کرنا اللہ کی رحمتوں اور برکتوں میں اضافہ کا سبب بنتا ہے اور پھر شکر ادا کرنے میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے۔ ایک تو نعمت زیادہ ہوتی ہے اور دوسرے خوشی اور سکون ملتا ہے۔ اس لئے اللہ کا شکر ہر وقت کرتے رہنا چاہئے حدیث میں آتا ہے حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک اللہ اس بندے سے راضی ہوجاتا ہے کہ جب کھانا کھاتا ہے تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور جب پانی پیتا ہے تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ ( صحیح مسلم)
Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کو وحی کے ذریعہ سے بتا رہے ہیں، ورنہ تم اس وقت وہاں موجود نہ تھے جب (ہیکل کے خادم) یہ فیصلہ کرنے کے لئے کہ مریم کا سرپرست کون ہو۔ اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے اور نہ تم اس وقت حاضر تھے جب ان کے درمیان جھگڑا برپا تھا

حضرت مریم  کی کفالت تشریح : یہ آیت درمیان میں اس لئے آگئی کہ اس میں محمد ﷺ کی نبوت کی تائید میں دلیل دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو اس بات پر دھیان دینا چاہئے کہ محمد ﷺ پڑھے لکھے نہیں تھے کہ جو انہوں نے بی بی مریم کا یہ اتنا پرانا واقعہ کہیں سے پڑھ کر قرآن میں بیان کردیا اور نہ ہی آپ ﷺ اس وقت وہاں موجود تھے جب حضرت مریم کی کفالت کے فیصلہ کے لئے ہیکل کے مجاوروں نے قرعہ اندازی کی یہ تمام واقعات جن کا بیان پچھلی آیات میں ہوچکا یا اگلی آیات میں ہونے والا ہے۔ یہ سب کچھ نبی اکرم ﷺ نے وحی کے ذریعہ سے ہی بتایا ہے۔ یہ سب کچھ جان لینے کے بعد بھی جو لوگ سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں۔ ان کے لئے عذاب تیار کیا گیا ہے معزز قارئین کو سمجھ لینا چاہئے کہ قرآن مجید صرف قصہ کہانیوں کی کتاب نہیں، بلکہ یہ ہدایت دینے کی کتاب ہے اور درمیان میں واقعات کا بیان بھی اسی مقصد کے لئے آتا رہتا ہے آگے پھر حضرت مریم کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔
Ayahs 3:45–46

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے کہا : اے مریم ! اللہ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا، دنیا و آخرت میں معزز ہوگا اور (اللہ کے) مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور وہ ایک مرد صالح ہوگا۔

حضرت مریم کو بیٹے کی بشارت تشریح : اس آیت میں حضرت عیسیٰ کی بشارت دی گئی ہے اور ان کو کلمۃ اللہ کہا گیا ہے جس طرح روح القدس جبرئیل (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمۃ اللہ کا لقب اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ ان کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی اور یہ صرف اللہ کے حکم سے ہوئی۔ اللہ نے آپ کو عیسیٰ ابن مریم کہہ کر پکارا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ صرف ایک بندہ بشر ہیں کیونکہ آپ کی پیدائش ایک عورت حضرت مریم کے ذریعہ ہوئی۔ تو ظاہر ہوا کہ آپ خود بھی انسان تھے اور آپ کی پیدائش بھی کسی غیر انسانی مخلوق کے ذریعہ سے نہیں ہوئی۔ اس لئے آپ کو محض ایک مقرب نبی ہی مانا جائے۔ نصاریٰ کے عقیدے کو غلط ثابت کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ نہ اللہ ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اللہ کے بیٹے ہوسکتے ہیں۔ دوسری وجہ اسے ابن مریم کہنے کی یہ ہے کہ حضرت مریم کی عزت و احترام اور وقار کا ہر وقت اقرارہوتا رہے کہ وہ کس قدر جلیل القدر رتبہ رکھتی ہیں کہ اتنے عظیم الشان پیغمبر کی والدہ ہیں چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ عیسائی بھی اور تمام مسلمان اللہ کا پیغمبر مانتے ہیں اور ان کے نام کے ساتھ ” (علیہ السلام) “ بولتے ہیں۔ انسانی فطرت کے مطابق حضرت مریم بیٹے کی بشارت کا سن کر پریشان ہوگئیں تو اللہ نے ان کو تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ کیونکہ میں اس کو صرف آخرت میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی بڑی عزت عطا کروں گا اور دشمنوں کے تمام الزامات جھوٹے ثابت کر دوں گا۔ کیونکہ تیرا بیٹا نہایت شائستہ، متقی اور صالح انسان ہوگا وہ ابھی بچہ ہی ہوگا کہ لوگوں سے باتیں کرے گا اور تمہاری پاک دامنی کی وضاحت کرے گا اور بڑا ہو کر بھی لوگوں کو اللہ کی باتیں بتائے گا۔ صالح، یعنی نیک بخت اس سے مقصد پھر یہود و نصاریٰ کے عقیدے کو غلط ثابت کیا گیا ہے کہ نہ تو وہ شعبدہ باز جادوگر تھے اور نہ ہی اللہ یا اللہ کے بیٹے تھے۔ بلکہ آپ انبیاء صالحین کی طرح صرف انسان تھے۔
Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

(یہ سن کر) مریم نے کہا : اے رب ! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا، حالانکہ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا ؟ جواب ملا ایسا ہی ہوگا اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش تشریح : اس آیت کی تشریح درس قرآن سے ماخوذ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب فرشتہ کے ذریعہ حضرت مریم کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوشخبری سنائی تو ان کو حیرت ہوئی کہ مجھے تو کسی شخص نے چھوا تک نہیں تو بغیر باپ کے بچہ کی پیدائش کیونکر ممکن ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی وسیع قدرت کا پتہ چلتا ہے وہ مسبب الاسباب ہے ہر کام کا سبب خود ہی پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام چلانے کے لئے قوانین بنارکھے ہیں۔ مثلاً پانی پیاس بجھاتا ہے، آگ جلاتی ہے۔ عورت اور مرد کے ملاپ سے اولاد پیدا ہوتی ہے، یہ تمام باتیں عام عادت کے مطابق ظاہر ہوتی ہیں انہیں، اصطلاحی زبان میں تکوینی قوانین کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر کوئی سبب واقع ہو تو اس کا فلاں نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔ اس بارے میں انسان کا مشاہدہ اس قدر پختہ ہوچکا ہے کہ وہ ہر نتیجہ کا سبب دریافت کرتا ہے اور ہر نتیجہ کو برلانے کے لئے اس کا سبب پیدا کرتا ہے۔ اگر کوئی ایسا واقعہ ظہور پذیر ہو جس کا ظاہری سبب موجود نہ ہو تو اسے حیرت ہوتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے اس مشاہدے کو غلط قرار دیا ہے اور کچھ ان پوشیدہ سائنٹیفک رموز کی طرف اشارہ کیا ہے جن پر سائنس دان دن رات کام کر رہے ہیں اللہ کی قدرت کو تو کسی بھی سبب کی ضرورت نہیں۔ اس کا اشارہ ہی کافی ہے وہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو کن (ہوجا) کا اشارہ کرتا ہے اور کام فیکون (ہو جاتا ہے) اس کو ظاہری اسباب کی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اپنی کتاب۔ قرآنی آیات اور سائنسی حقائق میں لکھتے ہیں۔ ” کُنْ “ قرآن کے بنیادی قوانین میں سے ایک ہے اور اس میں بیشمار سائنسی حقائق پوشیدہ ہیں اور وہ سب سائنسی حقائق بھی تو اسی قادر مطلق کے ہی بنائے ہوئے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کی پیدائش بھی انہی حقائق میں سے ایک ہے۔ اللہ کی قدرت، اس کی تخلیقات اور اس کا انتظام بےحد پیچیدہ اور انسانی عقل سے بہت بلند ہے۔ بہرحال حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا ذکر ہوچکا اب ان کی خصوصیات بیان کی جائیں گی۔
Ayahs 3:48–49

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور اللہ اسے کتاب و حکمت کی تعلیم دے گا، تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا۔ اور (جب وہ بنی اسرائیل کی طرف آئے تو اس نے کہا) میں تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں (تمہارے سامنے) مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔ میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مردے کو زندہ کرتا ہوں۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرکے رکھتے ہو، اس میں تمہارے لئے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ وہ تمام خوبیاں بیان کر رہے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دی جائیں گی۔ -1 اللہ تعالیٰ ان کو کتاب و حکمت کا علم عطا کرے گا اور تورات وانجیل کا علم دیا جائے گا۔ -2 وہ حکمت کی باتیں بتائے گا۔ -3 اللہ تعالیٰ اسے بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گا۔ -4 اسے کئی معجزے عطا فرمائے گا۔ مثلاً : ا مٹی کے پرندوں کو اللہ کے حکم سے اڑا دینا۔ ب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں سے کہیں گے کہ میں مادر زاد اندھوں کو اور کوڑھی کو اللہ کے حکم سے ٹھیک کرسکتا ہوں۔ ج میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ د تم جو کچھ کھا کر آؤ میں بتا سکتا ہوں اور جو کچھ گھر میں رکھ دیتے ہو وہ بھی بتا سکتا ہوں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تمام معجزات لوگوں کو دکھائے اور فرمایا کہ اگر تم لوگ اب بھی یقین کرتے ہو تو ایمان لے آؤ۔
Ayahs 3:50–51

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور اپنے سے پہلی کتاب تورات کو سچا بتاتا ہوں اور اس لئے کہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کر دوں گا جو تم پر حرام تھیں اور تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانیاں لے کر آیا ہوں سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے سو اس کی بندگی کرو یہی سیدھی راہ ہے

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات تشریح : ان آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو بتاتے ہیں کہ میں اس کتاب کی تصدیق کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی جس کا نام ہے تورات۔ میں اس کتاب کو اور اس کے اصول و قوانین کو مانتا ہوں۔ بس تھوڑی سی تبدیلی اس میں اللہ کے حکم سے میں کروں گا۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہودیوں کی حجت بازی کی وجہ سے کچھ چیزیں ان پر حرام کردی گئی تھیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ میں اللہ کے حکم سے ان حرام چیزوں کو حلال کر دوں گا۔ اس کے علاوہ میں تمہاری یقین دہانی کے لئے اپنی نبوت کی کچھ نشانیاں لے کر آیا ہوں اس لئے جو بھی احکام میں تمہیں دیتا ہوں ان کو مانو اور میری دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ میرا رب بھی وہی ہے جو تمہارا رب ہے۔ میرا اور اس کا تعلق باپ بیٹے کا نہیں، بلکہ بندے اور معبود کا ہے میں اس کا بندہ ہوں اور وہ وحدہ لاشریک لہ ہے۔ میں خدائے واحد کی عبادت کرتا ہوں تو تم بھی اسی کی عبادت کرو، اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلو، اس کی نعمتوں کا شکر اد اکرو اور اس کے سوا کسی کے سامنے نہ جھکو، یہی سیدھا راستہ ہے اس کے علاوہ سوائے تباہی اور گناہ کے اور کچھ نہیں لہذا نبی کی پیروی دنیا و آخرت میں نجات دلاتی ہے کیونکہ ان کی تعلیمات اللہ کی بھیجی ہوئی بہترین تعلیمات ہوتی ہیں۔
Ayahs 3:52–54

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

جب عیسیٰ نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہوگا حواریوں نے جواب دیا ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے مالک ! جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ دے

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

ان کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ سب سے بڑھ کر تدبیر کرنے کرنے والا ہے

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری تشریح : جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ قوم ماننے کو تیار نہیں، بلکہ انکار ہی کئے جاتے ہیں تو پھر انہوں نے قوم کو دین کی مدد کے لئے پکارا اس پر کچھ حواری بولے کہ ہم حاضر ہیں۔ حواری بمعنی انصار کے ہے اور کہیں ان کو رسول بھی کہا گیا ہے۔ اس لحاظ سے کہ وہ تبلیغ دین کا کام کرتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ لکھا گیا ہے کہ وہ سمندر کے کنارے رہنے والے دھوبی تھے۔ اسی مناسبت سے آپ کے رفیقوں اور صحابیوں کا لقب ہی حواری پڑگیا۔ (مطالعہ قرآن) یہ اہل کتاب سچے مسلمانوں کی طرح توحید کے قائل تھے اور مسیح سے گفتگو کرتے ہوئے براہ راست اللہ سے باتیں کرنے لگے اور بولے کہ اے ہمارے رب ! ہم اس پر ایمان لے آئے جو کچھ آپ نے اتارا ہے اور ہم نے رسول کی پیروی کی اس لئے ہمیں ان لوگوں کے ساتھ لکھ دیجئے جو تصدیق کرتے ہیں۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں اور خفیہ تدبیریں شروع کردیں اور ان کو حکومت کا باغی کہنے لگے اور یہ کہا کہ یہ تورات کو بدلنا چاہتا ہے۔ اس پر بادشاہ وقت نے ان کی گرفتاری کا حکم دے دیا ادھر اللہ نے اپنی خفیہ تدبیر کی اور اللہ کی تدبیر سب سے بہتر اور مضبوط ہے۔ اس کی تفصیلات اگلی آیات میں بیان کی جارہی ہیں۔
Ayahs 3:55–57

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

جب اللہ نے کہا : اے عیسیٰ ! میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور جنہوں نے تیرا انکار کیا ہے ان سے تجھے پاک کر دوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالادست رکھوں گا جنہوں نے تیرا انکار کیا ہے، پھر تم سب کو آخر کار میرے پاس آنا ہے، اس وقت میں ان باتوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہوتا رہا ہے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے انہیں دنیاو آخرت میں سخت سزا دوں گا اور وہ کوئی مددگار نہ پائیں گے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جنہوں نے ایمان اور نیک عملی کا رویہ اختیار کیا ہے انہیں ان کے اجر پورے پورے دے دیئے جائیں گے اور خوب جان لے کہ ظالموں سے اللہ ہرگز محبت نہیں کرتا

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ کے وعدے تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پانچ وعدے کئے ہیں اور انہیں تسلی دی ہے کہ میں ان لوگوں سے تمہیں ضرور نجات دلاؤں گا۔ یہودیوں کا تو یہ اصول بن چکا تھا کہ نبیوں کو قتل کردیتے تھے، حضرت یحیٰی (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بھی انہوں نے ایسا کرنا چاہا حاکم وقت کو ان کے خلاف کردیا یہ کہہ کر کہ وہ تورات کو بدل دینا چاہتے ہیں چناچہ بادشاہ نے حکم دیا کہ مسیح کو گرفتار کر کے سولی پر چڑھا دیا جائے۔ تب رب العزت نے ان سے وعدہ کیا اور انہیں دشمنوں کے ظلم و ستم سے بچا لیا۔ اللہ رب العزت نے ان سے پانچ وعدے کئے۔ جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ -1 ان کی موت یہودیوں کے ہاتھوں نہیں ہوگی۔ بلکہ اللہ ان کو صحیح سلامت آسمان پر اٹھا لے گا اور پھر قیامت کے قریب وہ دنیا میں دوبارہ آئیں گے اور اپنی ہی موت سے فوت ہوجائیں گے۔ -2 ان کو فوری طور پر عالم بالا میں اٹھا لینے کا تھا جو پورا کردیا گیا۔ -3 ان کو دشمنوں کی تہمتوں سے پاک کرنے کا تھا۔ تو وہ اس طرح پورا ہوا جب محمد ﷺ تشریف لائے تو انہوں نے صاف صاف اعلان کردیا کہ وہ واقعی اللہ کی قدرت اور مرضی کے مطابق بغیر باپ کے پیدا کئے گئے ہیں۔ جیسا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) بغیر ماں اور باپ کے اللہ کی قدرت سے پیدا کئے گئے۔ -4 آپ کے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں پر ہمیشہ غالب رکھیں گے اور وہ اس طرح پورا ہوا کہ آج تک ہمیشہ نصاریٰ اور مسلمانوں کو یہودیوں کے مقابلہ میں مستحکم حکومتیں ملیں اور انشاء اللہ ملتی رہیں گی۔ اسرائیلی حکومت تو محض امریکہ اور یورپ کی مشترکہ چھاؤنی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ پانچواں اور آخری وعدہ قیامت کے روز فیصلہ کردینے کا تھا جو بالکل اٹل فیصلہ ہے قیامت ضرور آئے گی لوگ حساب کتاب کے لئے اللہ کے حضور ضرور پیش کئے جائیں گے، نیک و بد کو پورا پورا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کیا جائے گا اور کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا اور حقیقت یہ ہے کہ کفار و مشرکین نے تو ہمیشہ ہی نبیوں اور رسولوں کی مخالفت کی اور رب العزت نے یا تو ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں ان کو عذاب دے کر بالکل فنا کردیا یا پھر پیغمبر کو ہجرت کروا کر کسی دوسری جگہ منتقل کرکے قوت و شوکت دے دی۔ عذاب کے لحاظ سے عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ کی مثال دی جاسکتی ہے اور ہجرت کے لحاظ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال دی جاسکتی ہے کہ انہوں نے بھی عراق سے ہجرت کرکے شام میں پناہ لی اور اسی طرح حضرت موسیٰ نے مصر سے شام کی طرف ہجرت کی اور آخر میں محمد ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور پھر ایک مستحکم طاقت بن کر دنیا پر چھا گئے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بھی ایک طرح سے ہجرت ہی تھی کہ وہ بعد میں دوبارہ دنیا میں آکر یہودیوں پر مکمل فتح حاصل کریں گے۔ قرآن مجید میں صاف صاف کئی جگہوں پر آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا جیسا کہ آیت کے الفاظ یہ ہیں۔” وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ “ نہ انہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا نہ سولی چڑھایا لیکن تدبیر حق نے ان کو شبہ میں ڈال دیا۔ (کہ اپنے ہی آدمی کو قتل کرکے خوش ہوگئے) اس کی تفصیلات آئندہ سورة نساء میں بھی آئیں گی۔
Ayahs 3:58–60

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ آیتیں ( اور حقیقی بیان یعنی حکمت بھری نصیحتیں) ہم تجھے پڑھ کر سناتے ہیں

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے۔ اسے مٹی سے بنایا پھر اسے کہا ہوجا وہ ہوگیا

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

حق تیرے رب کی طرف سے ہے پھر آپ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہو

عیسٰی (علیہ السلام) کی پیدائش کی مثال تشریح : اہل کتاب محمد رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے نہیں بلکہ اس کے بیٹے ہیں، ان لوگوں کی عقل میں یہ بات آہی نہیں رہی تھی کہ باپ کے بغیر بیٹا کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ حکمت اور دانائی کی باتیں ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو صرف باپ کے بغیر پیدا کئے گئے ہیں، جب کہ حضرت آدم (علیہ السلام) تو بغیر باپ اور ماں کے صرف اللہ کے حکم سے پیدا کئے گئے تھے تو کیا وہ بھی اللہ کا بیٹا یا نعوذ باللہ اللہ کہلانے کے حقدار ہوگئے تھے۔ ہرگز نہیں یہ تو اللہ رب العزت کی حکمت اور کمال ہے کہ اس نے ان دونوں کی پیدائش عام طریقہ سے نہ کی۔ یہ بالکل سچ اور حقیقت بیان کی گئی ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی بھی بات نہیں۔ لیکن اس وقت انسان اس حکمت الٰہی اور کاریگری تک نہیں پہنچ سکتا تھا جس کی طرف رب العزت نے قرآن پاک میں مختلف آیات میں بڑا واضح طور پر بتایا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا گیا اور پھر اللہ کے حکم ” کن “ سے وہ جیتے جاگتے انسان بن گئے۔ مثلاً : سورة مومنون کی آیت 12 میں فرمایا گیا :” ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے بنایا “۔ سورة ٔ سجدہ کی آیت 7 میں ہے : جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی، اس نے انسان کی تخلیق کی ابتداء مٹی کے گارے سے کی۔ سورۃ الصّٓفّٰت کی آیت 11 میں کہا گیا ہے۔ ان کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔ دراصل اوپر دی گئی تمام آیات آدم کی تخلیق کے بارے میں عظیم سائنسی سچائیوں کا اظہار کرتی ہیں اور ماہرین علم طبیعات، ریاضیات اور حیاتیات نے حال ہی میں اس نکتہ پر بڑی واضح اور سچائیوں سے بھرپور تحقیقات شائع کی ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب اپنی کتاب ” قرآنی آیات اور سائنسی حقائق “ میں لکھتے ہیں : ” آج سے سو سال پہلے اس سوال کا جواب ناممکن تھا مگر آج ہم اس قسم کی مٹی کی خصوصیات سمجھنے کے قابل ہیں مٹی میں اور چکنے گارے میں کاربن اور نائٹروجن کے ایٹموں کے ملاپ کی طاقت یا گرفت اس طرح ہے۔ سی 4- اور این۔ 3 اس خصوصیت میں یہ راز پنہاں ہے کہ آکسیجن، فاسفورس اور ہائیڈروجن جو زمین میں قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں۔ آپس میں منفی طور پر چارج کئے گئے کاربن اور نائٹروجن کے ذریعے مل سکتے ہیں۔ اس طرح انسانی جسم کے بنیادی اجزاء وجود میں آتے ہیں۔ یہی وہ راز ہے جو بیاں کی گئی آیات میں موجود ہے۔ اگرچہ تمام بنیادی جواہر (طاقتیں) بھی موجود ہوں اور وہ عمل کرنے کے قابل بھی ہوں تب بھی یہ ایک سالمہ (Cell) بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ کہاں انسانی جسم کو پیدا کرنا اور اب جسم انسانی کو مکمل طور پر پیدا کرنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ریاضیاتی پروگرام اور اس کا حکم ” ہوجا “۔ دراصل تمام انسانوں کی جسمانی خصوصیات کے قواعد (کوڈ) آدم کے نطفہ (بچہ پیدا کرنے کا پانی یا مادہ) میں ایک پروگرام کی صورت میں مہیا کردیئے گئے ہیں۔ تمام خصوصیات ایک ناخن سے لے کر چہرے کے تل تک کے قواعد (Code) اس انتہائی چھوٹے نکتہ میں مہیا کردیئے گئے ہیں جس کا سائز ایک سینٹی میٹر کے دس لاکھویں حصہ سے بھی چھوٹا ہے اور دس ارب انسانوں کے الگ الگ انگلیوں کے نشان (فنگر پرنٹ) بھی اسی طرح مہیا کئے گئے ہیں۔ ” یہی اللہ جل شانہ کی طرف سے تخلیق کا راز ہے “۔ سبحان اللہ۔ کن (ہوجا) یہ اللہ کا بنیادی کوڈ ہے جو لوح محفوظ پر موجود ہے۔ جس کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ عیسائیوں سے سوال ہو رہا ہے کہ اگر تم عیسیٰ کو صرف اس لئے اللہ کا بیٹا کہتے ہو کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوا ہے تو پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کو تو بہت ہی بڑا درجہ دینا چاہئے کیونکہ وہ تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کئے گئے ہیں۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے جو کچھ بھی تمہیں بتا دیا ہے وہ ہر قسم کے شک و شبہہ سے پاک ہے۔ اس لئے تم لوگوں کو چاہئے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو صرف ایک پیغمبر اور بہترین انسان ہی سمجھو۔ لیکن یہ بات بہت سے عیسائیوں کی سمجھ میں نہیں آسکی۔ اگلی آیت میں اسی سلسلے میں محمد ﷺ سے بحث مباحثہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 3:61–63

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

یہ علم آجانے کے بعد اب اگر کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو ( اے محمد ﷺ اس سے کہو کہ آؤ ہم اور تم خود اور اپنے بیٹوں اور اپنی عورتوں کو بلالیں اور اللہ سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

یہ بالکل صحیح واقعات ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہ اللہ ہی کی ہستی ہے۔ جس کی طاقت سب سے بالا اور جس کی حکمت نظام عالم میں کارفرما ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ منہ موڑیں (تو ان کا مفسد ہونا ظاہر ہوجائے گا) اور اللہ تو مفسدوں کے حال سے واقف ہی ہے

رسول اللہ ﷺ کا عیسائیوں سے مباہلہ تشریح : یہ ایک اہم واقعہ کا بیان ہے۔ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کو نو سال ہوچکے تھے اور حجاز پر مسلمانوں کا پورا قبضہ ہوچکا تھا کہ 9 ھ میں محمد ﷺ نے بخران کی طرف ایک فرمان بھیجا۔ جس میں تین باتوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ -1 اسلام قبول کرو۔ -2 یا جزیہ ادا کرو۔ -3 یا جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ۔ اس پر بخران کے عیسائیوں کی طرف سے ایک وفد آپ ﷺ کے پاس بات چیت کرنے کے لئے آیا۔ انہوں نے اپنے عقیدوں کا اظہار کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کو سمجھانے کی بہت زیادہ کوشش کی، مگر وہ لوگ اپنے غلط عقیدوں پر ہی اڑے رہے اس پر رب العزت نے محمد ﷺ سے فرمایا کہ ان عیسائیوں سے مباہلہ کرو۔ مباہلہ کا مطلب ہے کہ دونوں فریق اپنی جان اور اہل و عیال لے کر حاضر ہوجائیں اور پھر رب العزت سے گڑ گڑا کر دعا کریں کہ ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو اور اللہ کی لعنت ہو۔ اس پر بخران کے وفد نے سوچنے کی مہلت مانگی۔ عیسائی وفد کے سمجھدار لوگوں نے مشورہ دیا کہ ہم سب اصل میں اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور خوب جانتے بھی ہیں کہ محمد ﷺ ہی اللہ کے آخری نبی ہیں اور اس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی سب کچھ سچ کہا ہے۔ اس صورت میں بنی سے مباہلہ کرنے کا نتیجہ تو یہی ہوگا کہ ہم پر عذاب آن پڑے گا اور تباہی و بربادی ہوجائے گی۔ یوں بخرانی وفد آپس میں مشورہ کرکے محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مقابلہ کا ارادہ چھوڑ دیا۔ صلح کرکے واپس چلے گئے اور جزیہ دے کر ذمی رعایا کی صورت میں رہنا قبول کرلیا۔ سرولیم میور اپنی کتاب ( Life of Mohammad) کے صفحہ 360 میں لکھتے ہیں : واقعہ میں محمد ﷺ کے ایمان کی پختگی بالکل نمایاں ہے، نیز ان کے اس عقیدے کی شہادت کہ ان کا تعلق عالم غیب سے جڑا ہوا ہے اور اس لئے کہ حق تمام تر انہیں کے ساتھ ہے اور یہ کہ ان کے خیال کے مطابق مسیحیوں کے پاس سوائے غلط سوچ کے اور کچھ نہ تھا۔ از مطالعہ قرآن مصنف مولاناعبدالماجد صاحب لکھتے ہیں کہ سرولیم خود مسلمان نہیں بلکہ عیسائی تھے۔ مگر حق بات کو ماننے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر یہ لوگ دلائل نہ سنیں اور اس بات کو نہ مانیں کہ اللہ ہی واحد الٰہ ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس کے بیٹے ہیں۔ اللہ سب کا خالق ہے اور تمام مخلوق اس کی محکوم ہے۔ اللہ ہی سب پر غالب ہے اور زبردست حکمت والا ہے۔ اگر وہ لوگ کسی صورت بھی حق کو ماننے کو تیار نہیں تو ان کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ رب العزت ان تمام مفسدوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے اور وہ ان مفسدوں سے اچھی طرح نمٹ بھی لے گا۔
Ayah 3:64

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

کہ دیجئے : اے اہل کتاب ! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ اس دعوت سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم تو مسلمان ہیں

اہل کتاب کو دعوت کا طریقہ کار تشریح : اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی کو اپنے ساتھ ملانے کی دعوت دی جائے تو ایسے مسئلہ کی طرف دعوت دی جائے جس پر دونوں کا اتفاق ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ محمد ﷺ نے جب شاہ روم ہرقل کو اسلام کی دعوت دی تو ایسے مسئلہ پر دعوت دی جس پر دونوں فریق کو یقین تھا۔ یعنی اللہ کی واحدانیت پر۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرما رہے ہیں : آپ اہل کتاب کو کہہ دیجئے کہ آجاؤ ایسے راستہ کی طرف جو ہم دونوں میں مشترک (ایک ہی) ہے۔ یعنی جس راستہ کی سچائی اور فائدہ کا ہم دونوں قوموں کو یقین ہے اور جس عقیدہ کی تعلیم ہمارے پیغمبر اور تمہارے پیغمبر ہمیشہ دیتے آئے ہیں۔ یہودیت اور نصرانیت دونوں مذہبوں کی بنیاد ہی اصل میں توحید پر ہے۔ توریت اور انجیل میں یہی تعلیم دی گئی ہے۔ جیسا کہ متی باب 4 کی آیت 10 میں موجود ہے۔ ” تو اللہ تعالیٰ کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔ “ اور یہ تو انجیل و تورات میں کہیں بھی نہیں ملتا کہ کچھ پرستش اللہ تعالیٰ کی کرو اور بعض پرستشوں میں ابن اللہ اور روح القدس کو بھی شریک کرلیا کرو۔ مگر ان اہل کتاب نے طرح طرح کے شرک نکال لئے تھے۔ قرآن مجید نے ان تمام عقیدوں کو بالکل غلط قرار دے دیا ہے۔ یعنی کسی فقہیہ، بزرگ، امام یا سربراہ کو اللہ کے برابر مت سمجھو۔ کسی کو نہ اللہ کا بیٹا کہو نہ کسی کو اس کی بیٹی کہو۔ اس کی بتائی ہوئی حرام حلال کو پوری طرح مانویہ نہیں کہ کچھ احکام مانو کچھ نہ مانو۔ اللہ کو واحد مانو اور اس کے سوا کسی کو اللہ نہ بناؤ ، اس کے فرمانبردار بن جاؤ۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اے نبی ! اگر وہ پھر بھی نہ مانیں اور توحید کی طرف نہ آئیں تو ان سے کہہ دو کہ اے اہل کتاب تم گواہ رہو، ہم اسلام پر قائم ہیں، ہم نے اپنے آپ کو خدائے واحد کے سپرد کردیا ہے اور ہر صورت میں اسی کے فرمانبردار ہیں۔ اس آیت سے اسلام کی اصل صفت واضح ہوتی ہے کہ مسلمان ہمیشہ نیکی، راست بازی اور توحید کا ساتھ ہی دیتا ہے اور ہر اس جماعت یا فرد سے پورا پورا تعاون کرنے کو تیار ہوتا ہے جو توحید اور نیکی کی راہوں پر چلنے کو تیار ہو۔ اگر کسی سے تعاون نہیں ہوسکتا تو وہ مشرک، کافر اور منافق ہے۔ کیونکہ مسلمان کا راستہ ان سے بالکل علیحدہ ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” افضل عمل یہ ہے کہ اللہ کے لئے ہی دوستی رکھی جائے اور اللہ کے لئے ہی دشمنی رکھی جائے “۔ (ابوداؤد)
Ayahs 3:65–68

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑا کرتے ہو ؟ تورات اور انجیل تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں پھر کیا تم ( اتنی سی) بات بھی نہیں سمجھتے۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

خبردار ! تم لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے تھے ان میں تو خوب بحثیں کرچکے، اب ان (معاملات) میں کیوں بحث کرنے لگے ہو جن کا تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے نہ عیسائی، بلکہ وہ تو ایک مسلم یکسو تھے اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھے۔

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) کے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کی پیروی کی اور پھر یہ نبی اور اس کے ماننے والے ( اس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں) اللہ صرف انہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہیں

اہل کتاب کے غلط عقیدے کی وضاحت تشریح : یہودی اور عیسائی دونوں جھگڑا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ بھی وہی تھا جو ان کا عقیدہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اللہ کا حکم آنے پر ان کو سمجھایا کہ تمہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور مذہب کا علم کیسے ہوسکتا ہے ؟ تم تو خود اپنے بزرگوں کے عقائد کو ابھی اچھی طرح نہیں جانتے کیونکہ جو عقیدے تم رکھتے ہو۔ ان کی تعلیم نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دی تھی اور نہ ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے۔ پھر تم جھگڑا کرتے ہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت وہی تھی جو تمہاری ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ اس بارے میں نہ اللہ نے تمہیں کچھ خبر دی ہے اور نہ ہی تمہاری کتابوں میں اس کا کوئی ذکر ہے۔ اس لئے تمہیں ان کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں۔ حضرت ابراہیم کا زمانہ تم سے کہیں پہلے کا زمانہ تھا۔ کیونکہ یہودیت کا زمانہ تیسری چوتھی صدی قبل مسیح کا زمانہ تھا اور عیسائیت تو اس کے کافی عرصہ بعد وجود میں آئی۔ لہٰذا اس بات پر تم جھگڑا کرتے ہو جس کا تمہیں ہرگز علم نہیں یہ حماقت ہی تو ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا دین کیا تھا ؟ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سیدھے سادے مگر پکے مسلمان تھے۔ انہوں نے تمام راستے چھوڑ کر صرف اللہ کی سیدھی راہ کو پکڑ لیا تھا اور ہر وقت ہر صورت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ ان کی تمام قربانیوں کا جو انہوں نے صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کیں۔ وہ بےمثال اور بہترین مسلمان ہونے کی علامت ہیں۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ زیادہ نسبت وتعلق کے حق دار وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ تھے۔ جو ان پر ایمان لائے یا پھر پچھلی امتوں میں محمد ﷺ اور ان کی امت۔ کیونکہ امت محمدی ﷺ کے تمام عقائد اور اعمال بالکل حضرت ابراہیم ہی کی طرح کے ہیں اور پھر نبی آخرالزمان ﷺ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کے نتیجے ہی میں بھیجے گئے لہذا یہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ مناسبت رکھنے کے حقدار ہیں اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا والی ہے۔
Ayahs 3:69–72

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ سے ہٹا دے، حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کر رہے ہو۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو ؟ کیوں حق کو جان بوجھ کر چھپاتے ہو ؟

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے۔ اس پر صبح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کر دو ، شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھرجائیں ؟

اہل کتاب کی تمنا تشریح : اہل کتاب خود گمراہ ہیں اس لئے وہ مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے اس لئے وہ ان کو اپنے جال میں پھنسا کر گمراہ نہیں کرسکتے۔ بلکہ ان غلط کوششوں میں پڑ کر وہ صرف اپنے اعمال نامے کو ہی خراب کریں گے۔ دوبارہ اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو سمجھاتا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار نہ کرو۔ آخرالزماں نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں تمہاری کتابوں میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے۔ تم ان کی سچائیوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہو پھر بھی کھلم کھلا ان کی مخالفت کرتے ہو اور تنہائی میں قرآن اور محمد ﷺ کو مانتے ہو۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں ذکر ہوچکا ہے کہ یہودیوں نے تورات کے بعض احکامات دنیاوی لالچ کی وجہ سے بالکل ہی ختم کر ڈالے تھے اور بعض کو دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے چھپاتے تھے۔ مثلاً : نبی اکرم ﷺ کے بارے میں جو کچھ ان کی کتاب میں بتایا گیا تھا۔ وہ لوگوں سے اسے چھپاتے تھے۔ اسی لئے رب العزت نے ان کو خبردار کیا ہے کہ تم لوگ سچ اور جھوٹ کو ملا کر مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہو، جو بھی کرو، یہ تمہارے اعمال کا حصہ بنیں گے۔ مسلمانوں کو اللہ اپنی حفاظت میں لئے ہوئے ہے۔ ان آیات میں یہود و نصاریٰ کی ایک دوسری سازش کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ انہوں نے کچھ بندے اپنے ایسے تیار کئے کہ جو بظاہر مسلمان ہوجاتے نمازیں بھی پڑھ لیتے مگر ایک پہر گزرنے پر پھر اسلام سے منکر ہوجاتے اور خوب نشر کرتے کہ بھئی مسلمانوں میں تو بہت زیادہ خرابیاں ہیں۔ اسی لئے ہم نے اسلام سے خارج ہونے کا سوچ لیا ہے۔ یہ چال تھی کیوں کہ عرب کے ان پڑھ اور جاہل لوگ ان عیسائیوں کو بڑا عالم فاضل سمجھتے تھے اور ان کی اس چال سے نو مسلم شک میں پڑ سکتے تھے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ اس لئے وہ ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے۔ یہ دشمنی ابھی تک ختم نہیں ہوئی، بلکہ اسرائیلی ریاست کی غلط اور منافقانہ سازشیں ہر وقت مسلمان ممالک اور قوم کی تباہی اور نقصان کی تاک میں تیار ہوتی رہتی ہیں۔ مسلمانوں کو ان سے ہر وقت ہوشیار رہنا چاہئے اور اپنے بزرگوں کو سامنے رکھتے ہوئے نیکی کی راہیں اپنانی چاہئیں اور جہاد کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔ ڈاکٹر محمد اقبال مسلمان کے لئے فرماتے ہیں۔ خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد شاعر کے نزدیک کائنات کا ہر ذرہ حرکت اور جدوجہد میں لگا ہوا ہے اور مسلمان کی شان کے خلاف ہے کہ وہ اپنی زندگی میں عزم و ہمت اور یقین کے ساتھ آگے بڑھنے کو شامل نہ کرے۔ اس کا تو ہر وقت کا کام ہے نیکی کو پھیلانا، دین کو پھیلانا اور گمراہی کا خاتمہ کرنا۔ یعنی ہر وقت شیطان سے لڑنا۔
Ayahs 3:73–74

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو، (اے نبی ﷺ ان سے کہہ دو ! اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اور کہتے ہیں یا اس کی بات مانوجن کو وہی کچھ دے دیا جائے جو کبھی تم کو دیا گیا تھا یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رب کے حضور پیش کرنے کے لئے تمہارے خلاف قوی حجت مل جائے۔ (اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ فضل تو اللہ کے اختیار میں ہے، جسے چاہے عطا فرمائے وہ وسیع النظر، سب کچھ جانتا ہے

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

اپنی رحمت کے لئے جس کو چاہتا ہے مخصوص کرلیتا ہے اور اللہ بہت فضل والا ہے

اہل کتاب کا حسد تشریح : ان آیات میں وضاحت کی گئی ہے کہ ہدایت تو اللہ کے دینے سے ملتی ہے۔ اہل کتاب کی سازشوں سے نور ہدایت ختم نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان اہل کتاب کو سمجھا دو کہ نبوت پہلے ان کے پاس تھی اب بنی اسماعیل میں چلی گئی ہے مگر ان لوگوں کو حسد اور بغض نے پاگل کر رکھا ہے اور وہ اسی میں پریشان ہو رہے ہیں کہ نبوت ہم سے کیوں چھینی گئی۔ ان کا خیال تھا کہ نبوت کے حقدار تو صرف یہی لوگ ہیں عرب کے ان پڑھ لوگوں کا نبوت سے کیا واسطہ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وسیع علم و فضل رکھنے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کس کو کس وقت کیا بڑائی، عزت اور عظمت ملنی چاہئے۔ نبوت، شریعت، دین ایمان اور فضل و کرم دینا اسی کے اختیار میں ہے۔ جسے چاہے عطا کر دے وہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
Ayahs 3:75–77

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتبار پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کر دے گا اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا۔ سوائے اس کے کہ تم اس کے سر پر سوار ہوجاؤ (یہ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب) اس لیے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں (غیر یہودی) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی۔

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ہوگا بلکہ جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا، بیشک اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ دیتے ہیں تو ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ قیامت کے روز نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا۔ بلکہ ان کے لئے تو سخت درد ناک سزا ہے۔

اہل کتاب کی خیانت کا بیان تشریح : اہل کتاب کے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ انتہائی امانت دار ہیں کہ اگر انکے پاس ڈھیروں سو نار کھاجائے تو کبھی بھی اس میں خیانت نہ کریں گے۔ مگر کچھ بدنیت اور بےایمان لوگ بھی ہیں کہ اگر ایک معمولی رقم بھی انکے پاس رکھ دیں تو خیانت کرنے سے باز نہ آئیں اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ غیر یہودی کا مال کھا نابالکل جائز ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قسم کی کوئی اجازت نہیں دے رکھی بلکہ عہد کی خلاف ورزی کرنے پر اللہ تعالیٰ نے بڑے سخت قانون بنا رکھے ہیں۔ -1 حدیث میں آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : جس آدمی نے جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق دبایا تو اس نے اپنے لئے آگ کو واجب کرلیا۔ راوی نے عرض کیا کہ اگر وہ چیز معمولی سی ہوتب بھی اس کے لئے آگ واجب ہوگی ؟ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا : اگرچہ وہ درخت کی سبز ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح مسلم ) -2 اللہ تعالیٰ ان سے خوش کن بات نہیں کریں گے۔ -3 اللہ تعالیٰ ان کی طرف قیامت کے دن رحمت کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ -4 اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف نہیں کریں گے، کیونکہ عہد کے خلاف کرنے کی وجہ سے انسان کا حق مارا جاتا ہے اور انسان کے حقوق کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کریں گے۔ -5 اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔ جو کوئی عہد کو پورا کرے، امانت میں خیانت نہ کرے، اللہ سے ڈرے اور برے اخلاق سے بچے ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کو بےحد پسند ہیں۔
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے (اس طرح) زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں تاکہ تم سمجھو ( جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں) وہ کتاب ہی کی عبارت ہے حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی، وہ کہتے ہیں کہ ( جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں) یہ اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں

بدکردار لوگوں کی دھوکہ دہی تشریح : اس آیت میں اہل کتاب کی ایک اور بدنیتی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک فریق ان میں ایسا تھا جو آسمانی کتابوں کو اس طرح زبان کو الٹ کر پڑھتے کہ مضمون کے معنی ہی بدل جاتے اور سننے والا غلط مطلب سمجھ لیتا اور پھر یہ ان کو سمجھاتے کہ اللہ نے یہی کہا ہے۔ حالانکہ ان کو خوب معلوم ہوتا تھا کہ اللہ نے تو کچھ اور کہا ہے جو ان کے کہنے سے مختلف ہے۔ یعنی آسمانی کتاب کے قواعد اور مسائل کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کردیتے۔ ظاہر ہے اتنے بڑے گناہ کی سزا معمولی نہیں ہوسکتی ان لوگوں کی انہی حرکتوں کی وجہ سے نبوت ان سے چھین لی گئی۔ اور ان پر اللہ کا عذاب بھی نازل ہوا۔