3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 3:195–196

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

جواب میں ان کے رب نے فرمایا : میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں۔ خواہ مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو، لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے راستے میں جہاد کیا اور مارے گئے میں ان کے سب قصور معاف کر دوں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کا اجر ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزا اللہ ہی کے پاس ہے

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) دنیا کے ملکوں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکہ میں نہ ڈال دے۔ (196) یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے، پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے

دعا کا جواب تشریح : اس آیت میں کوئی بات وضاحت کے قابل نہیں اللہ تعالیٰ نے بندے کی دعا کا صاف صاف جواب دیا ہے ایک نقطہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ عورت اور مرد دونوں برابر انسان ہیں۔ آج کل کئی ممالک میں عورت کو انسان ماننے سے ہی انکار کیا جارہا ہے تو قرآن نے اس فرق کو بالکل ختم کردیا اور صاف بتا دیا ہے کہ جس طرح مرد قابل احترام انسان ہے اسی طرح عورت بھی قابل احترام انسان ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ دعاؤں کو ضرور قبول کرتا ہے۔ دعا مومن کا بہترین ہتھیار ہے اور اسے عبادت قرار دیا گیا ہے۔
Ayahs 3:197–200

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان باغات میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ کی طرف سے یہ ان کیلئے بہترین زندگی کے سامان ہوں گے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کیلئے وہی سب سے بہتر ہے

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو ایک مانتے ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس پر بھی ایمان لاتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! صبر کرو اور مقابلے میں جمے رہو اور مورچوں میں ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! صبر کرو اور مقابلے میں جمے رہو اور مورچوں میں ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ

کافر اور مومن کے انجام کا مقابلہ تشریح : ان آیات کو غور سے پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے یہ پوری سورة ٔآل عمران کا خلاصہ ہے۔ کیونکہ اس میں نیک و بد انسان کی تعریف بیان کرنے کے بعد ان کے اجر وثواب، یعنی سزا و جزا کو خوب کھول کر بتا دیا گیا ہے اور آخر میں اللہ رب العزت دوبارہ مومنوں کو خوشخبری دیتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ ہر عمل کرتے ہوئے یہ خیال ضرور رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے بلکہ تمہاری نیتوں کو بھی اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے میں وہ محبت اور شفقت چھپی ہوئی ہے جو بیان سے باہر ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ماں کا پیار اللہ رب العزت کے پیار، مہربانی، شفقت، کرم، محبت، خلوص اور انتہائی ناقابل بیان محبت کا ایک ہلکا سا نشان ہے، یعنی اللہ نے جس طریقے پر انسان کو پیدا کیا ہے وہ تو یہی ہے کہ اللہ نے اس کو پیدا کیا اس کی پرورش کے تمام ذریعے اس کے لیے پیدا کئے تو پھر کسی بھی شخص کو یہ کیسے خیال آسکتا ہے کہ وہ اپنے اتنے مہربان رب کو چھوڑ کر کسی اور کے آگے جھکے ؟ وہ تو ہر انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب رہتا ہے جب ہم کسی بھی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو ہم اسی کو پکارتے ہیں وہی ہمیں مصیبت سے نجات دیتا ہے ہم انسان اس کے ساتھ اس قدر بےتکلف ہیں کہ ہم اس کے لیے تو کا لفظ استعمال کرتے ہیں وہ ہماری اس بےتکلفی سے خوش ہوتا ہے اسی لیے تو ہم ہر وقت اس خیال میں یا اس ڈر میں رہتے ہیں کہ کہیں ہم سے کوئی ایسی غلطی نہ ہوجائے کہ ہمارا رب ہمارا مہربان ہم سے ناراض ہوجائے اور یوں ہم بےیارو مددگار ہوجائیں اور یوں دنیا و آخرت میں بھٹکتے پھریں۔ اللہ ہمیں اپنی ناراضگی سے محفوظ رکھے اور اپنی مہربانیوں کے سائے میں دنیاو آخرت کی بہترین زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن کوئی ایسا کام کرے جسے اللہ نے حرام کیا ہو۔ “ (صحیح بخاری) خلاصہ سورة ٔآل عمران سورة آل عمران کے شروع میں یہ بتایا گیا کہ اللہ ایک ہے وہ زندہ ہے اور سب اسی کی مہربانی سے قائم و زندہ ہیں، پھر انسان کو تعلیم و ہدایت دینے کیلئے اس نے ایک آخری کتاب نازل کی، یعنی قرآن اور اس کتاب، یعنی قرآن مجید کو سمجھانے کیلئے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا۔ یہ کتاب اور جن پر یہ کتاب نازل ہوئی یعنی حضرت محمد ﷺ پوری دنیا کے لیے ہدایت کا پیغام ہیں۔ پھربتایا گیا کہ دنیا تو صرف آزمائش کا گھر ہے یہاں بیشمار ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو مذہب اور اللہ سے دور کرسکتی ہیں، یعنی بیوی، بچے، مال و دولت، عزت و شوکت، عیش و آرام اور سونے چاندی کے ڈھیر۔ یہی سبق دیا گیا ہے کہ یہ تمام دنیاوی چیزیں بالکل عارضی ہیں ہر وقت دھیان اس زندگی کی طرف رکھنا چاہیے جو ہمیشہ کی زندگی ہے اور موت کے بعد شروع ہوتی ہے وہاں یہ سب دنیاوی چیزیں ہرگز کام نہیں آئیں گی بلکہ صرف اعمال کام آئیں گے، اس لیے ان تمام چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے قرآنی قانون اور نبی ﷺ کے فرامین سامنے رکھنے چاہئیں تب جنت ملے گی۔ اس کے بعد حضرت مریم (علیہا السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش، ان کے معجزت، ان کی تعلیمات اور عیسائیوں کے حالات تفصیل سے بیان کئے گئے، پھر آنحضرت ﷺ کا آنا، قرآن مجید اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں بتایا گیا۔ پھر غزوہ بدر میں کامیابی کا معجزہ، سود کی ممانعت اور احکامات کا بیان ہے پھر غزوہ احد کا ذکر اور اس سے بیشمار مسائل کا بیان خوب تفصیل سے بتایا گیا۔ آخر میں مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی کہ یہود و نصارٰی کی زندگی کے اصول ہرگز نہ اپنائیں بلکہ صبر، سکون اور پورے خلوص و یقین سے ہر وقت اللہ رب العزت سے دعا کریں۔ دعا کا طریقہ بتایا گیا اور یہی حکم دیا گیا کہ نیکی کا راستہ ہی بہترین راستہ ہے اور جنت کی طرف یہی راستہ جاتا ہے۔ دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹے رہو۔ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور کسی سے مت ڈرو۔ علامہ اقبال نے مسلمان کی تعریف یوں کی ہے۔ یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں