4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمفہوم القرآن

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد اور عورتیں دنیا میں پھیلا دیئے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو اور رشتے باندھتے ہو۔ رشتہ اور قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو، یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے

انسان کی پیدائش تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہمارا پیدا کرنے والا اللہ ہے جس نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کے ذریعے سے دنیا میں اتنی زیادہ خلقت پیدا کی اور یہ بتا دیا کہ عورت و مرد برابر کے انسان ہیں کوئی بھی بےکار نہیں۔ یہ طریقہ اللہ رب العزت کا اپنا ہی ہے پھر پیدا کرنے کے بعد رزق بھی وہ خود ہی دیتا ہے۔ انسان کو حکم دیتا ہے کہ آپس کے بھائی چارے کو مضبوط رکھو، رب سے ڈرو، کوئی غلط کام نہ کرو۔ کیونکہ ہر کام کو اللہ رب العزت دیکھ رہا ہے، نیکی کی راہوں پر چلنا چاہئے، تاکہ دنیا میں اور آخرت میں نجات حاصل ہو سکے۔ حدیث ہے ” جو شخص اللہ کے خوف سے رویا ہو وہ آگ میں داخل نہ ہوگا “۔ (ترمذی)
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

یتیموں کے مال انکے حوالے کردو اپنے برے مال کو ان کے اچھے مال سے نہ بدلو اور نہ انکے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملاکر کھا جاؤ۔ بیشک یہ بہت بڑا گناہ ہے

یتیموں کا مال تشریح : تاکید کی جا رہی ہے کہ یتیم کے مال میں پوری طرح امانت داری اختیار کرو۔ کسی صورت میں بھی خیانت نہ کرو۔ یہ مت سمجھو کہ وہ معصوم کیا جانے ؟ اللہ تو نیتوں کو جانتا ہے اس لیے جیسے ہی یتیم بالغ ہوجائے پورے انصاف سے اس کو اس کے مال سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ بتاؤ اور اس کی پوری طرح مدد کرو کہ اس کا نقصان نہ ہوجائے۔
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ انصاف نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا وہ کنیزیں ہیں جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بےانصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ بہتر ہے

بیویوں کی تعداد تشریح : اس آیت میں یہ تاکید کی گئی ہے کہ اگر کوئی یتیم بچی تمہاری ذمہ داری میں ہو تو تم انصاف سے کام لیتے ہوئے نیک نیتی سے اس سے نکاح کرلو لیکن اگر سمجھتے ہو کہ اس کے ساتھ انصاف نہ کرسکو گے تو پھر نکاح نہ کرو دوسرا نکتہ جو اس آیت میں اٹھایا گیا ہے وہ ہے بیویوں کی تعداد کا ایک تو اس زمانے میں لوگ بیشمار بیویاں رکھتے تھے تو اس وجہ سے دو ، تین یا چار کی اجازت دی گئی، تاکہ لوگ گناہ نہ کریں، یعنی بغیر نکاح کے عورتوں سے تعلقات نہ رکھیں۔ چار کی اجازت دینے پر بھی ایک سخت شرط رکھ دی کہ اگر تم ان سے برابری کا سلوک نہ کرسکو تو پھر ایک بیوی دو یا تین سے بہتر ہے۔ غرض جس قدر انصاف تم کرسکتے ہو اتنی ہی بیویاں رکھو یا پھر ایک بیوی اور جو لونڈی تمہاری ملکیت میں ہے اس پر گزارہ کرلو یہ حکم اس وقت کا ہے جب لونڈی اور غلام کا رواج تھا۔ بہرحال اس آیت میں تاکید یہی کی گئی ہے کہ کبھی بھی کسی بھی صورت سے بیوی کے ساتھ زیادتی یا بےانصافی نہیں ہونی چاہئے۔ اس وقت کے حالات اور ماحول کی وجہ سے چار بیویوں کی اجازت دی گئی تھی مگر اس کڑی شرط کے ساتھ کہ انصاف اور حسن سلوک کیا جائے یہ اجازت آج بھی ہے مگر اسی کڑی شرط کے ساتھ۔
Ayah 4:4

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کردیں تو اسے تم مزے سے کھا سکتے ہو

حق مہر تشریح : شادی کے وقت ایک خاص رقم شوہر کی حیثیت کے مطابق مقرر کی جاتی ہے جو شوہر بیوی کو ادا کرتا ہے اس کو مہر کا مقرر کرنا کہتے ہیں۔ اس کے لیے حکم ہے کہ جو بھی مہر کی رقم تم نے مقرر کی ہے وہ بڑی خوشی سے ادا کردو چاہے بیوی مطالبہ کرے یا نہ کرے۔ بیوی کو یہ حق حاصل ہے چاہے تو مہر کی رقم معاف کر دے چاہے تو وصول کرکے خود استعمال کرلے۔ اگر وہ مہر کی رقم معاف کر دے تو پھر شوہر اس رقم کو جیسے چاہے خرچ کرے اس میں کوئی گناہ نہیں۔
Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور بےسمجھوں کو اپنے مال نہ دو ، جو اللہ نے تمہارے قائم رہنے کا ذریعہ بنائے ہیں اور انھیں ان میں سے کھانے کے لیے دو اور انھیں پہننے کے لیے دو اور ان سے اچھی بات کہو

مال کے بارے میں ہدایت تشریح : چھوٹے بچوں کے بارے میں حکم ہے کہ اپنا مال جو زندگی گزارنے کا ذریعہ ہے۔ نادان بچوں کے حوالے مت کرو۔ جن میں یتیم سب سے پہلے آتے ہیں، بلکہ ان کو طریقہ سلیقہ سے کھلاؤ پلاؤ۔ اچھی طرح پرورش کرو مگر پرورش کا ایک اہم حصہ نیکی کی ہدایت اور بہترین تعلیم ہے۔ اس سے ہرگز غفلت نہ کرو۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کی پرورش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں، پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پاؤ تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو ۔ ایسا کبھی نہ کرنا کہ ضرورت سے زیادہ اور جلدی جلدی مال کھا جاؤ کہ وہ بڑے ہو کر اپنا مال واپس لے لیں گے۔ یتیم کا سرپرست اگر مال دار ہو تو وہ پرہیزگاری سے کام لے اور اگر غریب ہو تو بہتر طریقے سے کھائے، پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنا لو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے

یتیموں کی تربیت تشریح : اس آیت میں حکم دیا گیا ہے اور کتنا آسان، فطرت انسانی کے بالکل مطابق اور انتہائی انصاف پر مبنی حکم یہ ہے کہ جب بھی کوئی یتیم تمہاری حفاظت میں آئے اور وہ مال دار بھی ہو تو تمہیں چاہیے کہ تم ان کی تعلیم و تربیت اور پرورش پوری دیانت داری سے کرو۔ اگر تم غریب ہو تو اس کے مال میں سے تنخواہ کے طور پر تم کچھ مناسب رقم لے سکتے ہو اور اس یتیم پر بھی انتہائی مناسب طریقہ سے خرچ کرسکتے ہو۔ ایسا ہرگز نہ کرنا کہ اس کا مال جلدی جلدی اور نامناسب طریقہ سے خرچ کر دو یہ سوچ کر یتیم بڑا ہو کر اپنا مال واپس لے لے گا تو پہلے ہی مال ختم کردیا جائے یہ طریقہ بالکل ناجائز ہے۔ دوسری بات یہ کہی گئی کہ اگر تم امیر آدمی ہو تو پھر یتیم کی پرورش کے بدلہ میں اس کے مال میں سے اپنے لیے کچھ مت لو بلکہ یہ ایک فرض سمجھ کر ادا کرو۔ تیسری بات جس کا حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ تم یتیم کے بالغ ہونے پر اس کو خوب اچھی طرح پرکھو اس کا بار بار امتحان لو اور اس کو خوب آزما لو کہ آیا وہ اتنی عقل اور شعور کا مالک ہوگیا ہے کہ اگر اس کو مال و دولت دے دیا جائے تو اس کو اچھے طریقہ سے استعمال کرسکتا ہے کاروبار یا کسی بھی طریقہ سے اپنا مال اچھی طرح سنبھال سکتا ہے۔ یہ عقل و شعور کسی بچہ کو تو 16-15 یا 18 سال میں حاصل ہوجاتا ہے اور بعض کو شادی کی عمر تک یہ صلاحیت حاصل ہوجاتی ہے۔ (امام ابوحنیفہ کے فرمان کے مطابق 25 سال بھی ہوسکتی ہے) مطلب یہ ہے کہ جب بھی یتیم اپنے مال کو بہترین طریقہ سے سنبھالنے کے قابل ہوجائے تو کچھ نیک لوگوں کو گواہ بنا کر یتیم کا مال پورے انصاف کے ساتھ اس کے حوالے کردینا چاہئے۔ آخر میں اللہ رب العزت نے صاف صاف فرمادیا ہے کہ یہ بات دھیان میں رکھو کہ شروع سے آخر تک جو بھی تم نیت رکھو گے اور مال کے ساتھ جو معاملہ بھی رکھو گے اس کا حساب اللہ کے حضور دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک ایک پیسے کا حساب تم سے ضرور لے گا۔ یہ یقینی بات ہے۔
Ayahs 4:7–8

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو، خواہ بہت اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب تقسیم کے موقعہ پر کنبہ کے لوگ یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بات کرو

مرنیوالے کے مال کی تقسیم تشریح : ان آیات میں پانچ حکم دیئے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ جاہلیت کے زمانے کی رسم ختم کرکے مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی وراثت کا حصہ دار بنایا گیا۔ دوسرا میراث چاہے کم ہو یا زیادہ تقسیم کرنا ضروری ہے۔ تیسرا چھوڑا ہوا مال چاہے رقم ہو، جائیداد ہو، زرعی زمین ہو، باغات ہوں، مل یا فیکٹری ہو غرض کسی بھی صورت میں مرنے والے کا چھوڑا ہوا مال تقسیم ضرور کیا جائے۔ چوتھا میراث کا مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب مرنے والاکچھ چھوڑ جائے۔ پانچواں اور آخری حکم یہ ہے کہ جب مرنے والے کے قریبی رشتہ دار موجود ہوں تو پھر دور کے رشتہ دار حصہ لینے کے حق دار نہ ہوں گے۔ لیکن اگلی ہی آیت میں انسانی جذبات، باہمی ہمدردی اور رحم و کرم کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا کہ اگر تقسیم وراثت کے وقت کوئی دور کے غریب، مسکین یا یتیم رشتہ دار بھی آجائیں تو حسب گنجائش ان کو ضرور کچھ نہ کچھ دے دینا چاہیے اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے ان کو کچھ نہ دیا جاسکے تو کم ازکم ان کو کھانا کھلا دو ۔ اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ان کے ساتھ ایسی نرم اور خوش گوار بات چیت کرو کہ ان کی عزت افزائی ہوجائے۔ دل شکنی نہ ہو۔ مال کس طرح تقسیم کیا جائے ؟ یہ احکامات آئندہ آیات میں تفصیلاً بیان کیے جائیں گے۔ وراثت کی تقسیم کا قانون انسانی بھلائی کے لیے بہترین قانون ہے۔ اس قانون سے عورتوں اور یتیموں کی حق تلفی ختم ہوگئی اور دنگے فساد کی روک تھام بھی ہوگئی۔ غیر مسلم بھی اس قانون کی تعریف کرتے ہیں۔
Ayahs 4:9–10

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

لوگوں کو اس بات کا خیال کرکے ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بےبس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کیسے اندیشے ہوتے۔ پس چاہیئے کہ وہ اللہ کا خوف کریں اور سچی اور سیدھی بات کریں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں۔ درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے

یتیم کو اپنی اولاد پر قیاس کرو تشریح : یتیم کس قدر بےبس اور قابل رحم ہوتا ہے ؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے اسی لیے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اس بات کا اندازہ کرنا ہو تو خیال کرو اگر خود تمہارے اپنے بچے یتیم ہوجائیں تو تم پر کیا گزرے گی ؟ اس بات کو سوچ کر یہ ذہن میں بٹھا لو کہ کبھی کسی یتیم پر کسی صورت سے بھی ظلم و زیادتی نہ کرو گے ان کا مال ظلم و زیادتی سے کھا لینا تو انتہائی بری اور قابل سزا بات ہے یہ ایسے ہی ہے کہ جیسا آگ سے اپنے پیٹ بھرلیے جائیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ انکو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ان کو مرنے کے بعد جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اللہ رب العزت کا ہے جو نہ تو جھوٹ ہوسکتا ہے اور نہ بدل سکتا ہے۔ اٹل اور یقینی فیصلہ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یتیم کے ساتھ ایمانداری برتو اور مہربانی سے پیش آؤ ورنہ سخت سزا پاؤ گے۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں تاکیداً حکم دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکہ کا دو تہائی دیا جائے اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ (چھوڑا ہوا مال) اس کا ہے۔ اگر میت کی اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو تو والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے گا اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی۔ یہ سب حصے اس وقت نکالے جائیں گے، جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو اس پر ہو ادا کردیا جائے۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کردیئے ہیں اور اللہ یقینا سب حقیقتوں سے واقف اور حکمت والا ہے

مرد و عورت اور والدین کا حصہ تشریح : یہ آیت بڑی اہم ہے اس کو بڑے غور سے سمجھ لینا چاہیے کیونکہ اس سے زندگی کا ایک بہت بڑا مسئلہ وابستہ ہے، لہٰذا سب سے پہلے مرنے والے کے چھوڑے ہوئے مال میں سے کفن دفن کا خرچہ بڑے مناسب طریقہ سے کیا جائے۔ اس کے بعد اگر مرنے والے نے قرض دینا ہو تو اس کے مال میں سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا۔ اگر پورا مال ہی قرضہ میں چلا گیا تو ٹھیک ہے وارثوں کو کچھ نہ ملے گا اور اگر قرضہ ادا کرنے کے بعد مال بچ جائے تو اس میں سے ایک تہائی میت کی وصیت کے مطابق دیا جاسکتا ہے۔ باقی جو بچ جائے اس کو قرآن کے اصول کے مطابق وارثوں میں تقسیم کردیا جائے تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ پہلا اصول تو یہ ہے کہ مرد کو عورت سے دوگنا حصہ ملے گا۔ اگر صرف دو لڑکیاں ہوں تو ان کا کل حصہ دو تہائی ہوگا اور ہر ایک کو تہائی حصہ ملے گا۔ پھر لڑکیاں دو سے خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں ان کا مجموعی حصہ ترکے کا دو تہائی ہی رہے گا۔ باقی ایک تہائی دوسرے ورثا کو ملے گا۔ اگر لڑکی ایک ہی ہو تو کل ترکے کا نصف حصہ ملے گا اور باقی آدھے میں دوسرے ورثا ہوں گے، لیکن اگر کوئی عزیز نہ ہو تو پھر باقی آدھا بھی اسی کو ملے گا۔ اگر بیٹی کوئی نہ ہو صرف بیٹا ہی ہو خواہ ایک ہو یا زیادہ تمام میراث انہیں ہی ملے گی۔ والدین کے لیے تین صورتیں ہیں۔ 1 اگر میت کی اولاد ہو تو ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ 2 اگر میت کی اولاد نہ ہو صرف ماں باپ ہی وارث ہوں تو ماں کو ایک تہائی اور باپ کو دوتہائی حصہ ملے گا۔ 3 اگر میت کے ایک سے زیادہ بھائی بہن ہوں۔ خواہ وہ حقیقی ہوں یا صرف ماں یا صرف باپ کی طرف سے ہوں اور اولاد نہ ہو تو اس صورت میں ماں کو چھٹا حصہ اور باقی باپ کو ملے گا۔ بھائی بہن کو کچھ نہ ملے گا، اگر صرف ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ماں کو ایک تہائی ملے گا۔ اور باپ کو دو تہائی ملے گا۔ یہ اس صورت میں ہے کہ میت کی شادی نہیں ہوئی وگرنہ تقسیم کی دوسری صورت ہوگی۔ جیسا کہ پچھلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ اگر تقسیم کے وقت کوئی دور کے رشتہ دار آجائیں تو ان کو بھی کچھ نہ کچھ دے دیا جائے مگر اس کے لیے شرط ہے کہ تمام وارثوں کی اجازت سے یہ دیا جاسکتا ہے بغیر اجازت اس کا اختیار حاصل نہیں۔ میت کے ترکہ کی تقسیم اور ٹھیک تقسیم ہی سوسائٹی کی بہتری کے لیے فائدہ مند ہے، اس لیے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ تمہیں یہ بالکل معلوم نہیں کہ تمہیں کس سے نفع پہنچے گا اور کتنا نفع پہنچے گا ؟ لہٰذا اللہ کے مقرر کئے ہوئے حصوں کو بدلنا ہرگز فائدہ مند نہ ہوگا اور یہ جائز بھی نہیں اس لیے اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کی سختی سے پابندی کرنی چاہئے۔ اللہ جل شانہ کی حکمت اور علم بےانتہا، و سیع اور مکمل ہے نہ کوئی انسان اس کی برابری کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی حکمتوں کو جان سکتا ہے۔ اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں بہترین زندگی گزارنے کے لیے بنے بنائے اصول اور قانون بیان کردیئے اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم سختی سے ان کی پابندی کریں اور دنیا و آخرت میں بھلائیاں حاصل کریں۔
Ayah 4:12

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تمہاری بیویوں نے جو چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا اگر وہ بےاولاد ہوں ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکے کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے، جب کہ وصیت جو انہوں نے کی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو انہوں نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حق دار ہوں گی اگر تم بےاولاد ہو ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہوگا، وصیت پوری کرنے کے بعد اور قرض جو تم نے چھوڑا ہو ادا کرنے کے بعد۔ اگر میت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے، جبکہ وصیت پوری کردی جائے اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے (شرط یہ ہے کہ) وہ ضرر رساں نہ ہو۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور برد بار ہے

میاں بیوی کا حصہ، وصیت اور قرض تشریح : اس آیت میں میاں بیوی کی میراث کو بیان کیا گیا ہے حکم ہے کہ خاوند کو بیوی کے ترکہ میں سے آدھا ملے گا اس صورت میں کہ بیوی کی کوئی بھی اولاد نہ ہو۔ لیکن اگر بیوی کی کوئی بھی اولاد ہو موجودہ خاوند سے یا پہلے خاوند سے تو اس صورت میں مرد کو ترکہ میں سے ایک چوتھائی ملے گا۔ یہ ضروری ہے کہ میراث تقسیم کرنے سے پہلے میت کا قرض ادا کردیا جائے اور وصیت پوری کردی جائے۔ اسی طرح عورت کو خاوند کے ترکہ میں سے چوتھائی حصہ ملے گا جب کہ مرد کی کوئی اولاد نہ ہو۔ لیکن اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ ملے گا۔ یہاں بھی ضروری ہے کہ پہلے قرض اور وصیت پوری کردی جائے۔ عورت کا مہر بھی قرض میں ہی شمار کیا جائے گا۔ ہر قسم کا مال ترکہ میں شمار ہوگا۔ زیورات، قیمتی دھاتیں، حویلی باغ یا ذرعی زمین ہو۔ اسی طرح کلالہ کا حصہ مقرر کردیا گیا ہے۔ کلالہ کا مطلب ہے جس کے والدین اور اولاد، دادا، دادی اور پوتے، پوتیاں نہ ہوں۔ یہاں ایسے بھائی بہن کی میراث کا ذکر ہے جو صرف ماں میں شریک ہوں۔ حکم یہ ہے کہ باپ اور بیٹے کے ہوتے ہوئے بہن بھائی کو کچھ نہیں ملے گا اور اگر والدین اور اولاد نہ ہو تو پھر بہن اور بھائی کو میراث ملے گی۔ بھائی اور بہن تین طرح کے ہوتے ہیں۔ سگے بہن بھائی (عینی) سوتیلے بہن بھائی جو صرف باپ میں شریک ہوں (علاتی) ۔ سوتیلے بہن بھائی جو صرف ماں میں شریک ہوں (اخیافی) ۔ اس آیت میں ماں میں شریک بہن بھائی کا ذکر ہے۔ اگر مرنے والے کے ماں، باپ، بیٹا، بیٹی کچھ نہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن اخیافی ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اخیافی بہن اور بھائی کا حصہ برابر ہے۔ دوسرے دو قسم کے بھائی بہن، یعنی عینی اور علاتی ان دونوں کو اولاد کی طرح حصہ ملے گا۔ شرط یہ ہے کہ میت کے والدین اور اولاد نہ ہو۔ اول حصہ دار عینی بھائی یا بہن ہے دوم حصہ دار علاتی ہوں گے عینی کے نہ ہونے پر۔ اگر اخیافی بھائی یا بہن ایک سے زیادہ ہوں تو مال کا ایک تہائی ملے گا قرض ادا کرنا پہلے ضروری ہے اسی طرح وصیت کا پورا کرنا بھی ضروری ہے مگر اس میں ایک شرط ہے وہ یہ کہ وصیت میں دوسروں کو نقصان نہ پہنچایا گیا ہو، یعنی یا تو ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کی گئی ہو یا پھر جان بوجھ کر ایسی وصیت کی گئی ہو کہ جس سے جائز حقدار محروم کردیئے گئے ہوں، لیکن اگر وارث اس کو قبول کرلیں تو پھر جائز ہے۔ پورے رکوع میں پانچ میراثوں کا بیان دیا گیا ہے۔ بیٹا، بیٹی، ماں، باپ، خاوند، بیوی، اخیافی بھائی بہن، ان سب کو حصہ دار کہتے ہیں۔ جب بھی میراث کی تقسیم کا ذکر ہوا تو تاکیداً کہا گیا کہ پہلے میت کا قرض ادا کرو، پھر جائز وصیت پوری کرو، پھر باقی بچے ہوئے مال کو اللہ کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق تقسیم کر دو ۔ اللہ رب العزت خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کس نے وراثت کی تقسیم میں ایمانداری کی اور کس نے ناانصافی یا نافرمانی کی ؟ ایک اور قسم کا وارث بھی ہوتا ہے جو عصبہ کہلاتا ہے۔ عصبہ کا مطلب ہے وہ مرد جس کا میت سے عورت کے واسطے سے رشتہ نہ ہو اور اس کے چار درجے ہیں۔ 1 بیٹا اور پوتا۔ 2 باپ اور دادا۔ 3 بھائی اور بھتیجا۔ 4 چچا اور چچا کا بیٹا یا اس کا پوتا۔ اگر میت کا اصل حصہ داروں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو تمام ترکہ عصبہ کو ملے گا ورنہ تمام حصہ داروں کو دینے کے بعد جو بچ جائے وہ عصبہ کو ملے گا۔ کچھ نہ بچے تو کچھ نہ ملے گا اور اگر عصبہ میں کئی لوگ ہوں تو پھر میت کے قریب ترین کو پہلے دیا جائے گا مثلاً پوتے سے پہلے بیٹا، بھتیجے سے پہلے بھائی اور سوتیلے سے پہلے سگا حصہ دار ہوگا۔ ان چاروں کے علاوہ اولاد میں اور بھائیوں میں مرد کے ساتھ عورت بھی عصبہ ہوتی ہے۔ آخر میں اللہ رب العزت کی دو صفات بیان کی گئی ہیں۔ علیم علم رکھنے والا اور حلیم انتہائی برد بار، یعنی وہ خوب جانتا ہے کہ انسان کی بھلائی اور بہتری کس اصول اور قانون میں ہے اور نرم خو اس لیے کہ اللہ نے جو بھی قوانین میراث کے بارے میں بتائے ہیں ان پر عمل کرنا بالکل آسان ہے ذرا بھی مشکل نہیں۔
Ayahs 4:13–14

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ (تمام احکام) اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا جس میں نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے نکل جائے گا، اس کو اللہ دوزخ میں ڈالے گا، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا

اللہ کی حدود تشریح : وراثت کے کچھ اصول بیان کئے گئے ہیں اور ان پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ یہ احکامات اور قانون مسلم ملت کو بیشمار جھگڑوں، فساد اور بےسکونی سے بچا سکتے ہیں۔ یہ تو صرف انسان کی بہتری کے لیے مقرر کئے گئے ہیں خود اللہ رب العزت کو تو اس میں کوئی فائدہ نہیں مگر ان آیات میں بہت سخت الفاظ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی وجہ سے ان قوانین میں ردو بدل کرے گا تو اس کو رب العالمین جہنم کا عذاب ضرور دے گا اور یہ عذاب ہمیشہ کے لیے دیا جائے گا۔ جیسا کہ کئی دفعہ بتایا جا چکا ہے کہ جہنم کا عذاب بڑا ہی شدید عذاب ہے۔ مگر ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے خوش خبری کا پیغام بھی دیا گیا ہے کہ جو شخص وراثت کی مقرر کی ہوئی حدوں، یعنی قانون اور اصول پر سختی سے عمل کرے گا اس کو دنیا میں بھی خوشی اور سکون ملے گا اور آخرت میں اس کو جنت میں داخل کیا جائے گا جہاں ہر قسم کا آرام، سکون اور عیش ہی عیش ہوگا اور یہ بہترین ٹھکانہ اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دیا جائے گا۔ اللہ رب العزت ہماری مدد فرمائے اور ہم سب مسلمانوں کو قرآن و حدیث پر سختی سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا کرے۔ آمین۔
Ayahs 4:15–16

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کریں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور وہ دونوں جو تم میں سے اس کا ارتکاب کریں سو ان دونوں کو ایذا دو ، پھر اگر دونوں توبہ کرلیں تو ان سے خیال ہٹا لو، بیشک اللہ ہمیشہ سے بےحد توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے

بدکردار عورتوں اور مردوں کی سزا تشریح : یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جبکہ اہل عرب کسی باقاعدہ حکومت کے ماتحت رہنے کے عادی نہ تھے، اس لیے یہ بات حکمت کے خلاف ہوتی اگر فوراً ہی ان پر وہ اصل قانون، جو بعد میں سورة نور میں نازل کیا گیا، نافذ کردیا جاتا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو رفتہ رفتہ سخت قوانین کا عادی بنانے کے لیے یہ سزا مقرر کی کہ اگر کوئی عورت بدکاری کرے تو سب سے پہلے چار مسلمان آدمیوں کی گواہی لی جائے (اس میں بھی حکمت ہے) اگر بدکاری کا عمل ثابت ہوجائے تو پھر اس کو گھر میں بند کردیا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے یا اللہ اس کے لیے کوئی راستہ نکال دے غالباً یہ راستہ وہی ہوسکتا ہے جو اللہ رب العزت نے بعد میں سورة نور میں نازل فرمایا، جو مصلحتاً اس وقت نافذ نہ کیا گیا تھا، پھر بدکار مرد و عورت کے لیے حکم دیا گیا کہ ان دونوں کو مار پیٹ کرو اور اچھی طرح لعن طعن کرو پھر اگر وہ پکی توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو پھر ان کو معاف کر دو ۔ اللہ تو بہ قبول کرنے والا ہے اور وہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ توبہ کی تفصیلات پہلے بیان ہوچکی ہیں اگلی آیات میں توبہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ بدکاری کا اصل قانون جو نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کی حکومت میں نافذ کیا گیا وہ آئندہ بیان کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ۔
Ayahs 4:17–18

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق انہی لوگوں کے لیے ہے جو نادانی کی وجہ سے کوئی برافعل کر گزرتے ہیں اور اس کے بعد جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظر عنایت سے پھر متوجہ ہوجاتا ہے اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور توبہ ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو برے کام کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ میں نے اب توبہ کی اور اسی طرح توبہ ان کے لیے بھی نہیں ہے جو مرتے دم تک کافر رہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے تو ہم نے درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے

سچی اور جھوٹی توبہ تشریح : ان آیات میں اللہ غفورورحیم نے اپنے بندوں کی نجات کے لیے ایک ایسا دروازہ کھول رکھا ہے جو ان کو درد ناک عذاب سے بچا سکتا ہے۔ انسان غلطیوں کا پتلا ہے شیطان ہر وقت اس کو شکار کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، لہٰذا اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ ظلم و زیادتی کو پسند نہیں کرتا لہٰذا اگر کسی سے گناہ ہوجائے تو اسے چاہیے فوراً خلوص نیت سے اللہ سے معافی مانگ لے تو اس کی توبہ یقیناً قبول کرلی جائے گی۔ توبہ کرنے کی شرائط تین یا چار ہیں : اول اپنے کئے پر ندامت محسوس کرے۔ دوم جس گناہ پر توبہ کی ہے اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔ سوم دوبارہ وہ کام نہ کرنے کا عہد کرے۔ چہارم اگر اس کا تعلق کسی انسان سے ہو تو اس سے معافی مانگے یا اس کا حق واپس کرے۔ توبہ کرتے ہوئے مکمل طور پر یہ سوچ لے کہ اللہ رب العزت ہر ہر بات کی خبر رکھتا ہے اور اس کی دانائی و حکمت بےمثال ہے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے توبہ کا کوئی فائدہ نہیں جو برابر گناہ کئے جاتے ہیں مگر جب موت کا وقت سر پر پہنچ جاتا ہے تو پھر توبہ کرنے لگتے ہیں یا جو کفر کی حالت میں ہی مرجائیں تو توبہ کے دروازے ان کے لیے بند ہوچکے ہوتے ہیں کیونکہ اعمال کرنے کے لیے یہ دنیا ہی مخصوص ہے جب یہاں سے چلے گئے تو اعمال کرنے کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ موت سے پہلے کی گئی سچی توبہ قابل قبول ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بندہ مومن موت سے ایک مہینہ پہلے اپنے گناہ سے توبہ کرے، ایک دن یا ایک گھڑی پہلے توبہ کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائیں گے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ سچی توبہ کی گئی ہو۔ (تفسیر ابن کثیر بحوالہ ابن مردویہ) جب کسی نے اوپر دی گئی ہدایات کے مطابق توبہ کرلی تو وہ ہر گناہ سے پاک، رب کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ لیکن جو برے کام کئے چلا جاتا ہے، توبہ نہیں کرتا۔ کفر کی حالت میں مرجاتا ہے تو ایسے شخص کے لیے صرف درد ناک عذاب کا ہی ایک دروازہ رہ جاتا ہے، جس میں وہ اپنے گناہوں کی سزا پاتا رہتا ہے اور یہ اس کے اپنے کئے کا بدلہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہر وقت استغفار کرتے رہنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے ” اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ “ کہا اس کے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں اگرچہ وہ جنگ سے بھی بھاگا ہو۔ (سنن ترمذی)
Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں تو (پھر تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو، اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت سی بھلائی رکھ دی ہو

مجرموں سے سلوک تشریح : پچھلی آیات میں بدکاری کی سزا اور پھر توبہ کا بیان ہوچکا ہے اس آیت میں عورتوں کو ایک اور ظلم سے بچایا گیا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ مرنے والے کا مال تو اڑا ہی لیا جاتا تھا بلکہ اس کی بیوہ کو بھی اپنی ہی ملکیت سمجھ کر رکھ لیا جاتا تھا۔ یا تو خود عورت کا دیور یا جیٹھ وغیرہ اس سے نکاح کرلیتا یا کسی سے رقم لے کر اس سے بیوہ کا نکاح کروا دیا جاتا یا پھر بغیر نکاح کے ہی عمر بھر کے لیے اس کو اپنے پاس زبردستی رکھ کر اس کے تمام مال پر قبضہ کرلیا جاتا اس ظلم سے پوری طرح منع کردیا گیا اور صاف طور پر حکم دیا گیا کہ شوہر کے مرنے کے بعد عورت (بیوہ) کو پورا اختیار حاصل ہے جہاں چاہے رہے اور عدت پوری کرنے کے بعد جس سے چاہے نکاح کرے یا نہ کرے۔ ایک اور ظلم جو عورتوں پر ہو تاکہ اگر بیوہ کہیں نکاح کرنا چاہتی تو ورثا اس میں رکاوٹ ڈالتے، تاکہ بیوہ کا مال باہر نہ چلا جائے اس بات سے بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اس آیت میں اس بات سے روکا گیا ہے کہ اگر تم بیوی کو طلاق دے دو تو مہر کی رقم اس سے واپس لینے کی تمہیں ہرگز اجازت نہیں، یا اگر تم زبردستی اس سے مہر کی رقم معاف کرواؤ یا مہر دے کر واپس لینے کیلئے عورت پر ظلم و ستم کرو یہ سب ناجائز ہے، کیونکہ یہ عورت پر ظلم ہے جس کی اجازت اللہ نے دی ہے نہ رسول ﷺ نے۔ ہاں، ایک صورت میں مہر کی واپسی یا معافی کی اجازت ہے وہ یہ کہ اگر عورت صاف طور سے بدکاری یا بدچلنی کرتے ہوئے دیکھی جائے تو پھر مہر واپس لیا جائے یا معاف کروایا جائے تو جائز ہے مگر اس میں تحقیق اور انصاف کا بےحد خیال رکھا جائے، تاکہ غلطی میں کسی عورت پر ظلم نہ ہوجائے، کیونکہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے کسی بھی مخلوق پر ظلم کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ آیت کے آخر میں میاں بیوی کا ایک مسئلہ اور بھی حل کردیا گیا تاکہ معاشرے میں شر و فساد نہ پھیلے۔ حکم ہے کہ مرد کو طلاق دینے میں ہرگز جلدی نہیں کرنی چاہئے۔ اصلاح کے لیے طلاق کی اجازت ضرور دی گئی ہے مگر ساتھ ہی طلاق کو حلال باتوں میں سب سے ناپسندیدہ کام بھی کہا گیا ہے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں مردوں کو چاہیے بڑے صبر، سکون اور سمجھ داری سے کام لیتے ہوئے اپنی اس بیوی کو موقع دیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے وہی ناپسندیدہ بیوی کسی دوسرے وصف (صفت) یا فائدہ کی وجہ سے مرد کو پسند آنے لگے۔ ہوسکتا ہے اللہ رب العزت نے اسی بیوی کو ہی خاوند کے لیے باعث برکت بنا رکھا ہو جو وقت گزرنے پر ظاہر ہونے لگے اور میاں بیوی کی محبت کا سبب بن جائے اور یوں ایک گھر برباد ہونے سے بچ جائے۔ قربان جائیں اللہ کے قانون پر کیسی کیسی حکمتیں، کیسے کیسے فائدے انسان کے لیے بیان کئے جاتے ہیں جو خود انسان کی عقل سے باہر ہیں وہ علیم (جاننے والا) حکیم (حکمت والا) اور حلیم (نرم خو) اتنا زیادہ اتنا زیادہ ہے کہ انسان تو سوچ بھی نہیں سکتا، لہٰذا قرآن کے ہر حکم کو بلا حیل و حجت مان لینا انسان کے لیے فائدے کا باعث ہے اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اسی لیے اللہ فرماتا ہے : اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو اور حکم سننے کے بعد نافرمانی نہ کرو اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے سن لیا، حالانکہ وہ سنتے سناتے نہیں۔ بیشک اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے ذرا بھی کام نہیں لیتے۔ (سورۃ الانفال آیات 20 تا 22)
Ayahs 4:20–21

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ کر ہی لو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دے دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔ کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح گناہ کر کے واپس لو گے

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور آخر تم اسے کس طرح واپس لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں

مہر کے مسائل تشریح : ان آیات میں تین صورتیں مہر کے بارے میں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ صورت ہے کہ اگر کسی وجہ سے مرد دوسری شادی کرنا چاہتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ کسی صورت پہلی بیوی سے مہر کی رقم واپس لے لے یا جو کچھ بہت سا مال تحفہ کے طور پر یا کسی بھی طور سے وہ بیوی کو دے چکا ہے اس سے واپس لے کر دوسری بیوی کے لیے خرچ کرے یا کہیں اور خرچ کرے تو اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے کہ جو مال بیوی کو دیا جاچکا ہے واپس لینا ہرگز جائز نہیں۔ سوائے اس صورت کے جو پچھلی آیت میں بیان ہوچکی تو اس صورت کے لیے فرمایا کہ صرف مال واپس لینے کے لیے یا بیوی کو ستانے کے لیے مرد کو اس حرکت کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ بہتان یا تہمت لگائے ایک پاکدامن بیوی پر۔ تہمت لگانے کا بہت بڑا عذاب اور سخت ترین سزا مقرر ہوچکی ہے تو جو بھی یہ کام کرے گا اس کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ایک تو کسی شریف، نیک اور پکے مومن کی شان کے خلاف ہے کہ دیا ہوا مال واپس لے اور دوسرے اللہ رب العزت کی پکڑ بڑی سخت اور اس کے لیے بڑا عذاب ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آخر تمہاری غیرت یہ کس طرح گوارا کرسکتی ہے کہ جس کے ساتھ تم نے نکاح کرکے پکا عہد کیا ساتھ رہنے کا اور پھر صرف نکاح ہی نہیں کیا، بلکہ نکاح کے بعد تم دونوں ساتھ اکٹھے رہے اور ایک دوسرے سے پوری طرح لطف اندوز ہوئے اس سے تم دیا ہوا مال یا مہر واپس لے لو، اس لیے صلح سے معاملات طے کرو اور کبھی بھی ظلم و نافرمانی کا راستہ اختیار نہ کرو۔ ان تمام احکامات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورت کو کس قدر محترم اور باعزت ٹھرایا ہے اور ہر صورت سے مرد کے ظلم و ستم سے اس کو پوری طرح بچایا ہے۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ عورت مظلوم ہے ہاں، دوسرے مذاہب میں اب بھی ترقی یافتہ ممالک میں عورت کو مظلوم بنایا جارہا ہے۔ مثلاً عورت اور مرد اگر ایک ہی ڈیوٹی دے رہے ہیں تو عورت کو مرد کے مقابلہ میں آدھی تنخواہ دی جاتی ہے جب کہ اسلامی ممالک میں یہ زیادتی بھی نہیں کی جاتی۔ دونوں کو ایک جیسی تنخواہ اور ایک جیسی تمام سہولتیں دی جاتی ہیں۔ سبحان اللہ یہی تو اسلام کی برکات ہیں۔ قرآن میں جہاں بھی آیا مومن مرد مومن عورتیں ہی آیا ہے۔ کہیں بھی صرف مرد نہیں آیا۔
Ayahs 4:22–23

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا۔ درحقیقت یہ ایک بےحیائی کا فعل، ناپسندیدہ اور برا چلن ہے

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہو۔ ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا نکاح ہوچکا ہو اور اکٹھے رہ چکے ہوں ورنہ اگر تعلق زن و شوہر نہ ہوا ہو تو پھر تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو مگر جو پہلے ہوگیا سو ہوگیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

محرم عورتیں، ماؤں کا احترام تشریح : پہلی آیت میں صرف سوتیلی ماں سے نکاح سے منع کیا گیا تھا اب ان عورتوں کا تفصیل سے بتایا جارہا ہے جن سے نکاح کرنا جائز نہیں اول تو ان عورتوں کا بتایا جارہا ہے جن سے نسبی تعلق ہو مثلاً ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی ان سب سے نکاح جائز نہیں اسی طرح دادی اور نانی اوپر تک سب ہی اس میں شامل ہیں، پھر اسی طرح بیٹی سے نکاح کرنے کی ممانعت میں پوتی، نواسی اور ان کے نیچے تک سب شامل ہیں اور بہن کے سلسلے میں عینی، علاتی اور اخیافی سب شامل ہیں۔ پھوپھی، باپ، دادا اور اوپر تک کی پشتوں کی بہنیں سگی ہوں یا سوتیلی سب شامل ہوگئیں۔ خالہ میں ماں، نانی اور نانی کی نانی سب کی تینوں قسم کی بہنیں شامل ہیں اور بھتیجی میں تینوں قسم کے بھائیوں کی اولاد پھر اولاد کی اولاد سب ہی شامل ہیں اور بھانجی میں تینوں قسم کی بہنوں کی اولاد پھر اولاد کی اولاد سب ہی شامل ہیں۔ نسبی رشتوں کے علاوہ رضاعی رشتے بھی ہیں اور یہ دو ہیں۔ ماں، بہن اور ساتوں رشتے جو نسب میں بیان ہوئے رضاعت میں بھی حرام ہیں، یعنی رضاعی بیٹی، پھوپھی، خالہ، بھتیجی اور بھانجی بھی حرام ہیں۔ رضاعی کا مطلب ہے ایک ساتھ دودھ پینا۔ پھر سختی سے منع کیا گیا ہے کہ جس عورت سے تمہارا باپ نکاح کرچکا ہو اس سے نکاح جائز نہیں، بلکہ اس حرکت کے لیے اللہ رب العزت نے بڑے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں، یعنی یہ عمل بےحیائی، قابل نفرت اور برا چال چلن کہلاتا ہے، اس لیے ان عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو۔ پھر اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ جاہلیت کے زمانے میں ہوتا رہا ہے اس لیے اگر تم بھی یہ حرکت کرچکے ہو تو وہ قابل معافی ہے کیونکہ اس وقت تمہیں اس کی ممانعت نہیں کی گئی تھی مگر اب اس حرکت کو قابل سزا بنا دیا گیا ہے۔ آیت نمبر 23 میں پھر ان محرمات کی تفصیلات بیان کی جارہی ہیں جو نکاح کے تعلق کی بنا پر حرام ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ اول جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح جائز ہے یہ ہیں بیوی کی ماں اور بیوی کی بیٹی۔ اگر بیوی سے لطف اندوز ہوچکے ہو تو پھر ناجائز ہے اور اگر صحبت سے پہلے بیوی کو طلاق دے دو تو پھر اس کی بیٹی سے نکاح جائز ہے۔ بیٹوں کی بیویاں اور نیچے تک پوتوں اور نواسوں کی بیویوں سے بھی نکاح نہیں ہوسکتا۔ دوسری قسم میں وہ عورتیں ہیں جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح کی ممانعت نہیں، بلکہ جب تک کوئی عورت نکاح میں رہے صرف اسی وقت تک اس عورت کی ان قرابت والی عورتوں سے نکاح منع ہے لیکن جب اس عورت کو طلاق دے دی جائے یا وہ مرجائے تو اس کی ان قرابت داروں سے نکاح جائز ہوجائے گا۔ وہ قرابت دار یہ ہیں۔ بیوی کی بہن جو بیوی کی زندگی میں نہیں لائی جاسکتی ایک وقت میں دو بہنوں سے نکاح منع ہے۔ یہی حکم بیوی کی پھوپھی، خالہ، بھتیجی اور بھانجی کے بارے میں ہے۔ یہاں حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے سگے بیٹوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں۔ لے پالک بیٹے کی بیوی طلاق کے بعد یا بیوہ ہونے پر نکاح کے لیے جائز ہے۔ پھر آخر میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جاہلیت کے زمانے میں جو ہوچکا وہ قابل معافی ہے مگر حکم الٰہی کے بعد تمام قانون پر عمل کرنا بےحد ضروری ہے۔ لاعلمی میں جو کچھ ہوگیا وہ سب معاف ہے کیونکہ رب العالمین بہت زیادہ معاف کرنے والے ہیں اور رحم کرنے والے ہیں۔ مگر نافرمان لوگوں کی پکڑ ضرور ہوگی۔ الحمد للہ پارہ نمبر 4 چار مکمل ہوا
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں، البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئیں، یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کردی گئی ہے۔ ان کے ماسوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعے سے حاصل کرنا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے، بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاؤ اس کے بدلے ان کے مہر بطورفرض کے ادا کرو، البتہ مہر کی قرارداد ہوجانے کے بعد آپس کی رضا مندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یقینا اللہ علیم اور دانا ہے

نکاح کی شرائط اور مہر تشریح : اس آیت میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ مرد کو تو چار بیویوں کی اجازت دی گئی ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کرسکتا ہو۔ مگر بیویوں کو اس کی ہرگز اجازت اسلام میں نہیں دی گئی کہ ایک وقت میں دو یا کئی شوہر رکھیں۔ اس کی بیشمار معقول وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ تو اولاد کا فساد ہے کہ یہ کیسے معلوم ہو یہ کس کی اولاد ہے، اور یہ فساد بیشمار فسادوں کی جڑ بن سکتا ہے، لہٰذا سختی سے منع کیا گیا ہے کہ شادی شدہ عورت سے نکاح کی اجازت نہیں صرف ایک صورت بنتی ہے کہ مال غنیمت کے ساتھ اگر کچھ عورتیں بھی پکڑی جائیں تو ان سے کچھ شرائط پوری کرنے کے بعد نکاح ہوسکتا ہے۔ (مال غنیمت وہ مال ہوتا ہے جو کفر و ایمان کے درمیان جنگ کے بعد مسلمانوں کو مل جائے اس میں عورتیں مرد اور بچے بھی ہوسکتے ہیں۔ ) تو ایسی عورت کے بارے میں حکم ہے کہ اگر وہ شادی شدہ ہے تو قیدی بن جانے پر اس کا نکاح ختم ہوجاتا ہے تو جس کو وہ عورت ملکیت میں مل جائے تو اس پر فرض ہے کہ ایک ماہواری گزر جانے کے بعد اس سے (اہل کتاب ہونے کی صورت میں) جماع ہوسکتا ہے اگر وہ ماں بننے والی ہو تو پھر بچہ کی پیدائش کے بعد جماع ہوسکتا ہے، پھر فرمایا گیا کہ جن عورتوں کی حرمت (ناجائز ہونا) پچھلی آیات میں بیان ہوچکی ہے ان کے سوا باقی سب قسم کی عورتیں تمہارے نکاح میں آسکتی ہیں۔ اس میں بھی چار باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ -1 ہونے والی بیوی سے باقاعدہ رضا مندی حاصل کی جائے۔ -2 مہر کی رقم ادا کرنے پر رضا مندی ظاہر کرو۔ -3 عورت کو نکاح میں لانے کے بعد اس کی تمام ضروریات کو پورا کرنا چاہیے۔ صرف عیاشی ہی مقصد نہ ہو۔ اب مسئلہ مہر کا ہے تو اس کے لئے حکم ہے کہ اگر مرد عورت سے باقاعدہ جماع، رخصتی اور جماع کا لطف حاصل کرتا ہے تو پھر مرد پر لازم ہے کہ پورا مہر ادا کرے، لیکن اگر عورت کو چھونے سے پہلے ہی طلاق ہوگئی تو پھر آدھا مہر ادا کرنے کا حکم ہے۔ ایک صورت اور ہے کہ میاں بیوی آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ بیوی مہر معاف بھی کرسکتی ہے، میاں بیوی کے ملاپ پر حق مہر اور لونڈی کے ساتھ جماع وغیرہ تمام باتوں کو خوب کھول کر بیان کردیا گیا ہے اور ان کے لئے بہترین اصول و قوانین بتا دیئے گئے ہیں، کیونکہ انسانی زندگی کی بقا اور ابتدا میاں بیوی کے ملاپ سے ہی ہوتی ہے۔ یہ ملاپ جس قدر زیادہ صاف ستھرا، پاکیزہ، پرخلوص اور مناسب حالات میں ہو اتناہی زیادہ گھر کا ماحول، بچوں کی پرورش اور معاشرے کا سکون بہتر قائم ہوگا۔ یہ معاملات بڑے پیچیدہ اور نازک ہیں۔ انسان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ ان تمام پیچیدگیوں کو سمجھ کر مناسب طریقہ سے حل کرسکے اسی لئے اللہ رب العزت جو کہ علیم (سب سے زیادہ جاننے والا) بھی ہے اور حکیم (سب سے زیادہ عقل و سمجھ کا مالک) بھی ہے اس نے انسان کے نکاح، حق مہر اور گھریلو زندگی کے ایسے بہترین اصول بیان کردیئے ہیں کہ جن پر عمل کرکے ہر شخص دنیاو آخرت میں کامیاب و کامران ہوسکتا ہے۔ اللہ کے بتائے ہوئے قانون اگر کوئی نہ مانے تو یہ اس کے لئے وبال کا سامان ہوگا، لہٰذا اللہ رب کی فرمانبرداری میں ہی نجات ہے۔ گھر سے لیکر محلہ اور شہر حتی کہ پورے ملک کیلئے عزت و احترام اور کامیابیوں کا ذریعہ ہے۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جو شخص تم میں سے اتنی قدرت نہ رکھتا ہو کہ آزاد عورتوں سے نکاح کرسکے اسے چاہیے کہ تمہاری ان مومنہ لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرے جو تمہارے قبضہ میں ہوں۔ اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو، لہٰذا ان کے سرپرستوں کی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کرلو اور معروف طریقہ سے ان کے مہر ادا کر دو تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو کر رہیں، آزاد شہوت رانی نہ کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں، پھر جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہوجائیں اور اس کے بعد کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو آزاد عورتوں کے لئے مقرر ہے۔ یہ سہولت تم میں سے ان لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے گناہ میں پڑجانے کا اندیشہ ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

لونڈی سے نکاح کی شرائط تشریح : اللہ رب العزت نے پچھلی آیات میں نکاح اور مہر کے قوانین بتائے ہیں اس آیت میں بھی وہی سلسلہ جاری ہے۔ یہاں مرد کی سہولت کا ایک راستہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ آزاد عورت سے شادی کرسکو تو پھر تمہیں چاہیے کہ کسی مالک کی اجازت سے کسی نیک اور مسلمان لونڈی سے ہی شادی کرلو مگر شرط یہ ہے کہ اس کا حق مہر دستور کے مطابق اپنی حیثیت کے مطابق مقرر کرو اور ادا بھی کرو۔ لونڈی سمجھ کر اس پر کوئی ظلم وستم نہ کرو۔ حقیقت میں تو سب انسان برابر ہیں اگر کسی کو برتری حاصل ہے تو وہ پرہیزگاری کی وجہ سے ہے، اس لیے تمہارے ایمانوں کی پختگی اور خلوص کو اللہ رب العالمین خوب جانتا ہے ہوسکتا ہے لونڈی ایک خاندانی آزاد عورت کی نسبت زیادہ پاک باز، نیک نیت، پرخلوص اور دین دار ہو۔ بہرحال تمہیں چاہیے کہ اگر کسی قسم کی مجبوری تو لونڈی سے نکاح کرلو۔ اس اجازت میں بیشمار حکمتیں موجود ہیں۔ سب سے بڑی حکمت تو بدکاری، بےحیائی اور بداخلاقی سے بچنے کا بندوبست کردیا گیا کہ اگر شادی کی عمر کو تم پہنچ گئے ہو فطری طور پر شادی کی خواہش ہے مگر مال اتنا نہیں کہ آزاد عورت سے شادی کا خرچہ برداشت کرسکو تو پھر مومنہ لونڈی جس پر تمہیں زیادہ خرچ برداشت نہ کرنا پڑے اسی سے شادی کرلو۔ اور دوسری مصلحت یہ ہے کہ لونڈی بھی تو انسان ہی ہوتی ہے اس کو بھی بلند درجہ دے دیا گیا اب یہ اس لونڈی کے اپنے اختیار میں ہے کہ سیدھا اور پاکیزہ راستہ اختیار کرکے اپنے خاوند کی فرمانبردار بیوی بن کر رہے یا کہ غلط راستہ اختیار کرکے بدی اور بےحیائی کے کام کرتی پھرے۔ اس پر حکم ہے کہ اس بدکار لونڈی کو ایک آزاد خاندانی عورت کی نسبت آدھی سزا دی جائے۔ کیونکہ لونڈی نے صرف نکاح اور خاوند کی حفاظت کو توڑا ہے جب کہ خاندانی عورت نے نکاح خاوند اور اپنے خاندان کی عزت و وقار کو بھی توڑا ہے۔ اللہ رب العا لمین فرماتا ہے کہ ان احکامات سے صرف وہی فائدہ اٹھا سکتا ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اور وہ پختہ مسلمان ہو۔ کیونکہ لونڈی بےچاری حالات اور ماحول سے مجبور ہوتی ہے، وہ ایک آزاد خاندانی عورت کی طرح محفوظ اور خود مختار نہیں ہوتی، اس لیے اگر تم صبر کرکے لونڈی سے شادی نہ کرو تو بہتر ہے، بہرحال تمہارے لیے سہولت اور آسانی کا ایک راستہ اللہ رب العزت نے کھول دیا ہے کیونکہ اس کو اپنے بندوں کے ساتھ بےپناہ محبت ہے اسی لیے وہ ان کی آسانیوں اور سہولتوں کا بندوبست کرتا ہے اور پھر وہ ہی تو بخشنے والا اور مہربان ہے۔ بخشش مانگتے رہو اور رحم طلب کرتے رہو اسی میں نجات ہے۔ ایک مرد جو لونڈی سے شادی کرے اس کو چاہئے کہ مالکوں سے اجازت ضرورلے، لونڈی کو پورا مہر ادا کرے جو بھی مقرر کیا گیا ہو اور لونڈی کے اخلاق و کردار کی تحقیق اچھی طرح کرے کہ وہ مومنہ ہو، نیک فطرت، نیک کردار اور پاک دامن ہو کیونکہ پاک دامن بیوی دنیا کی سب سے بڑی دولت اور سب سے بڑا سکون ہے مگر مرد کو بھی چاہیے کہ بیوی کے تمام حقوق خوش دلی سے پورے کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ تم کو عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم فرماتا ہے “۔ (مسنداحمد)
Ayahs 4:26–28

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے (صلحا) کرتے تھے۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے، وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

ہاں، اللہ تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

اللہ تمہیں راہ ہدایت پر چلانا چاہتاہے تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ مذہب اسلام میں جو کچھ قوانین انسان کے لیے مقرر کئے گئے ہیں سب کے سب انتہائی آسان اور انسان کی سہولت اور فطرت کے بالکل مطابق ہیں جیسا کہ سورة البقرہ سے لے کر اب تک زندگی گزارنے کے جو طریقے اور اصول بتائے گئے ہیں سب کے سب انسان کی کامیابی، نجات اور آسانی پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ یہی طریقے پہلی قوموں کو بھی بتائے گئے تھے مگر انہوں نے ان کو خلط ملط کردیا صرف چند نیک، متقی اور اچھے لوگوں نے ان اصولوں کو اپنایا اور نجات پائی، کیونکہ اللہ دانا بھی ہے اور بندوں کے ہر قسم کے حالات کو جانتا بھی ہے اسی لیے وہ ایسے راستے بتاتا ہے جو زندگی آسان کردیں۔ مگر دنیا میں ہر جگہ اور ہر زمانہ میں ایسے شریر اور فسادی لوگ موجود ہوتے ہیں جو نہ خود نیکی اختیار کرتے ہیں نہ دوسروں کو نیکی اختیار کرنے دیتے ہیں اور ہر بندے کے اچھے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور انہیں برے راستے اختیار کرنے کی ترغیب بھی دیتے ہیں تو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہتے ہوئے قرآن و حدیث پر عمل کرنا چاہئے۔ کیونکہ انسان تو ہمیشہ کمزور فطرت واقع ہوا ہے۔ اس کی کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر اللہ رب العزت نے ہر قسم کے قوانین نافذ کئے ہیں اور ان قوانین میں بہت آسانیاں رکھ دیں، تاکہ بندوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ قرآن کو پڑھنا، سمجھنا، سکھانا اور اس پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں نجات کا باعث ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین۔
Ayahs 4:29–30

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، آپس کی رضا مندی سے لین دین ہونا چاہیے اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین مانو کہ اللہ تمہارے ساتھ انتہائی مہربان ہے۔

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ پر (نہایت) آسان ہے

مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت تشریح : دونوں آیات میں مطلب واضح طور پر بتایا گیا ہے۔ ایک نکتہ اس میں قابل تشریح ملتا ہے کہ اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ اس سے تین مطلب نکلتے ہیں کہ اگر کسی کو قتل کیا تو قصاص میں خود بھی قتل کئے جاؤ گے، یعنی دوسرے کو قتل کرکے اپنے قتل کا راستہ بنا لیا۔ دوسرا مطلب خود کشی مراد ہوسکتی ہے تو یہ کیونکہ حرام موت ہے، اس لیے یہ بھی گناہ عظیم ہے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ حرام مال کھا کر یا ظلم و زیادتی سے دوسرے کا مال کھا کر اپنے نامہ اعمال کو خراب نہ کرو اور حرام مال کھانے سے دنیا میں بھی بہت بڑی سزاملتی ہے اور وہ ہے بےسکونی، پریشانی اور بیماری۔ حرام مال جیسے آتا ہے ویسے ہی چلا بھی جاتا ہے، البتہ اپنے ساتھ پریشانیوں کے عذاب کا ضروراضافہ کرتا ہے۔ اللہ مہربان ہے اسی لیے تو بار بار خبردار کرتا ہے کہ بدلہ ضرور ملے گا اور وہ ہے دوزخ کا عذاب جس سے کوئی بھی بچانہ سکے گا۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو تمہاری (چھوٹی موٹی) برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کردیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے

بڑے گناہوں سے بچو تشریح : سورة النساء کی ابتداء ہی میں تمام انسانوں کو بتا دیا گیا کہ تم حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہا السلام) کی اولاد ہو، اس لیے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال اسی جذبہ اور خلوص سے رکھو جس طرح بھائی بہن کا خیال رکھا جاتا ہے، پھر کچھ تفصیلات بیان کی گئیں اور خیال رکھنے کے لیے قانون بتا دیئے گئے کہ انسانوں کو تکلیف نہ ہو، اس میں یتیموں، عورتوں، میراث (میت کا چھوڑا ہوا مال، ) رشتہ داروں کے حقوق بتائے گئے، پھر نکاح، مہر، وصیت، قرض، اللہ کی حدود، سزا، توبہ، مجرموں سے سلوک، ماؤں کا احترام، لونڈیوں کے مسائل، جان و مال کی حفاظت کے مسائل غرض زندگی کے بیشمار اصول بتا دیئے گئے کہ جن پر عمل کرکے انعامات و درجات ملیں گے اور بد عملی کے مطابق سزا ملے گی۔ آیت 31 میں ایک خاص انعام کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر تم بڑے گناہوں سے اپنے آپ کو بچا لو گے تو چھوٹے چھوٹے گناہ اللہ رب العزت بالکل معاف فرما دیں گے اور عزت و احترام کا درجہ ملے گا جو کہ جنت الفردوس کی صورت میں ہوگا۔ بڑے گناہوں اور چھوٹے گناہوں کے بارے میں درجہ بندی احادیث کی کتابوں میں بتائی گئی ہے۔ جبکہ اس کی درجہ بندی تو ممکن ہے مگر تعداد ہرگز ممکن نہیں (معذرت) درجہ بندی ہم اس طرح کرسکتے ہیں کہ ایک بچہ سوچتا ہے آج میں اپنی کلاس کے بچہ کاربڑ، پنسل یا کتاب ضرور چرا کر اپنے گھر لے آؤں گا۔ چوری کرنے سے پہلے اس نے منصوبہ بنایا یہ گناہ ہوگیا پھر اس نے چوری کے مال کو سنھبالنے کا منصوبہ بنایا یہ گناہ ہوگیا اس کی سوچ گناہ گار ہوگئی۔ پھر اس نے اس چوری کی چیز کو چھپانے کا، والدین، استاد اور کلاس کے بچوں کو دھوکہ دینے کا منصوبہ بنایا، لیکن جب وہ اپنے اس منصوبہ پر عمل کرنے لگا یعنی چوری کرنے لگا تو اس کے ضمیر نے اس کو خبردار کردیا کہ یہ گناہ ہے اور وہ چوری کرنے سے باز آگیا۔ اس طرح اس نے بڑے گناہ سے اپنے آپ کو بچا لیا تو اللہ رب العزت نے اس کے وہ تمام چھوٹے گناہ جو چوری کرنے سے پہلے کئے یعنی سوچا اور منصوبہ بنایا یہ سب معاف کردیئے، لیکن اگر وہ چوری کا عمل کرلیتا تو پھر سوچنا منصوبہ بنانا یہ بھی سزا میں شامل کرلیے جاتے۔ تو اس بات کا انعام ضرور ملے گا جو اس نے شیطان کو شکست دے کر اپنے آپ کو بڑے گناہ سے بچا لیا۔ گویا شیطان کی بات نہ ماننا اور اپنے ضمیر کی بات مان کر برائی سے بچ جانا یہ بھی اللہ رب العالمین کو بےحدپسند ہے اور اس کا اجر ضرور ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : آنکھ کا زنا ہے، کان کا زنا ہے، زبان کا بھی اور ہاتھ پاؤں کا بھی، پھر شرمگاہ اس کی تصدیق کردیتی ہے یا تکذیب۔ (صحیح بخاری) گویا آنکھ کا زنا غیر محرم کی طرف دیکھنا، پاؤں کا اس کی طرف چل کر جانا، زبان کا غیر محرم عورت سے شہوانی گفتگو کرنا، ہاتھوں کا زنا غیر محرم عورت کو چھونا اب اگر زنا اس سے صادر ہوجاتا ہے تو باقی چھوٹے گناہ بھی برقرار رہیں گے اور اگر بچ جاتا ہے تو چھوٹے گناہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے سے معاف کردیے جائیں گے بشرطیکہ وہ نیک اعمال بھی بجا لانے والا ہو اور یہ نیک اعمال اس کے چھوٹے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اسکے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے۔ ہاں، اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو، یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

حسد سے بچو تشریح : اس آیت میں حسد اور بغض کو برا کہا گیا ہے۔ کیونکہ حسن، مال، عزت، دولت، صحت اور شہرت کی تقسیم اللہ رب العزت کی مرضی اور اندازے کے مطابق ہی ہوتی ہے اور اس میں بیشمار حکمتیں ہیں جو شخص جس قابل ہوتا ہے اللہ اس کو وہی دیتا ہے اور پھر یہ سب غیر اختیاری (انسان کے اختیار سے باہر) معاملات ہیں۔ کسی کو زیادہ دے کر کسی کو کم دے کر کسی کو حسین بنا کر، کسی کو بدصورت بنا کر غرض ہر صورت میں ہر حالت میں انسان کی آزمائش ہی ہوتی ہے کیونکہ یہ دنیا یہ زندگی امتحان کی جگہ ہے۔ مشاہدہ میں یہی آیا ہے کہ غریب اپنی غربت میں بھی خوش رہ کر شکر ادا کرتا رہتا ہے ہوسکتا ہے اگر اس کو مال و دولت مل جاتی تو وہ گناہوں کی طرف چل پڑتا تو اللہ نے اس کی عاقبت بہتر کرنے کے لیے اس کو کم مال دیا۔ کسی کا ظرف اتنا نہیں ہوتا کہ اس کو بلند مرتبہ دیا جائے تو یہ سب راز اللہ ہی جانتا ہے، البتہ عملی زندگی میں محنت، دیانت اور علم و ہنر میں ترقی کی جاسکتی ہے اور اس راستہ میں عورت و مرد برابر ہیں جو جس قدر نیکی، پاکدامنی اور تقوٰی میں برتری حاصل کرسکے کرلے نہ کہ حسد کرکے اپنی عاقبت خراب کی جائے محنت کے ساتھ اللہ کا فضل مانگا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کس کو کس حال میں رکھنا ہے۔ انسان کی عقل بہت محدود ہے وہ اپنا اچھا اور برا نہیں جان سکتا۔” رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً “ کی تعلیم خود قرآن نے دی ہے مثال کے طور پر ایک شخص اللہ سے بہت سی رقم مانگتا ہے تو حادثہ میں اس کا جوان سال بیٹا مرجاتا ہے حادثہ کی وجہ سے حکومت یا مل والے اس کو ہر جانہ کے طور پر بڑی رقم دے دیتے ہیں جو اس کو بیٹا تو واپس نہیں دلا سکتی اسی لیے جب بھی اللہ سے مانگو اس کا فضل ہی مانگو بندے کی بھلائی اسی میں ہے۔ حسد کے بارے میں حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا لیتا ہے جیسے آگ ایندھن کو کھا جاتی ہے۔ (سنن ابوداؤد)