4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 4:148–149

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، سوائے اس کے کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

(مظلوم ہونے کی صورت میں اگرچہ بدگوئی کا حق تم کو ہے) لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کیے جاؤ، یا کم از کم برائی سے درگزر کرو ( تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ) یقینا اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا ہے، ( حالانکہ وہ سزا دینے پر) پوری قدرت رکھتا ہے

مظلوم کا حق تشریح : ان آیات میں معاشرے کی اصلاح کا بہترین اصول بتایا گیا ہے۔ ایک طرف تو یہ اجازت دے دی گئی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز ضرور اٹھائی جائے اور ظلم کے بدلے میں تم بھی اس پر اتنا ہی ظلم کرسکتے ہو لیکن بہترین عمل یہ ہے کہ تم اس کو معاف کر دو ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ نیکی خواہ چھپا کر کی جائے یا علانیہ کی جائے دونوں صورتوں میں بہترین عمل ہے اور رب رحمن اس کی جزا ضرور دے گا۔ معاف کردینے سے دشمن دوست بن جائے گا اور یوں پھیلتی ہوئی دشمنی اور فساد بڑی آسانی سے سمٹ جائے گا۔ عدالتی کارروائی ظلم کو تو روک سکتی ہے مگر دلوں میں پلنے والی دشمنی ختم نہیں ہوسکتی۔ یہ اخلاقی درس جو قرآن نے دیا ہے بہترین طریقہ ہے۔ آخر میں فرمایا کہ معاف کرنا اور درگزر کرنا اللہ رب العزت کی صفت ہے۔ اگر تم درگزر کرو گے تو یقیناً تم اس کے مقبول ترین بندوں میں شامل ہو سکو گے۔ ابو عبداللہ جدلی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : ” رسول اللہ ﷺ نہ طبعاً فحش گو تھے، نہ فحش کام کرتے تھے، نہ آپ بازاروں میں شور و غل کرتے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ ﷺ معاف کردیا کرتے تھے اور درگزر فرماتے تھے۔ “ (جامع ترمذی)
Ayahs 4:150–151

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے اور کفر و ایمان کے بیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے رسواکن عذاب تیار کر رکھا ہے

مکمل کفر اور اس کی سزا تشریح : ان آیات میں کفار کے کفر کی خوب وضاحت کی گئی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں ہم کچھ رسولوں پر ایمان لاتے ہیں کچھ پر ایمان نہیں لاتے گویا وہ اپنی طرف سے ایک نیا دین بنانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اسلام میں ہرگز اجازت نہیں کہ کچھ رسولوں کو مانو اور کچھ کو نہ مانو۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں یہ لوگ پکے کافر ہیں اور ان کے لیے ہم نے ایسی سزا تیار کرکے رکھی ہے جو ان کو ذلیل و خوار کر دے گی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان لانا اس کے رسول پر اور ان تمام رسولوں پر جو پہلے گزر چکے نیز ان تمام کتابوں پر ایمان لانا جو ان تمام رسولوں پر نازل کی گئیں اور روز آخرت پر ایمان لانا، جو شخصان میں سے کسی ایک چیز کا بھی منکر ہو تو وہ نہ مومن ہوسکتا ہے اور نہ مومن جیسا اجر وثواب اس کو مل سکتا ہے۔ اس کے لیے تو صرف ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہی تیار کیا گیا ہے۔
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا، اللہ ان کو ان کے ثواب جلد دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا، مہربان ہے

ایمان والوں کو خوشخبری تشریح : اس آیت میں سچے مومن کی تعریف کی گئی ہے۔ یعنی مومن وہ ہے جو اللہ پر ایمان لائے اس کے تمام رسولوں کو مانے تو ایسے مومن اللہ رب العزت کی طرف سے بخشش کے مستحق ہیں اور اللہ کا وعدہ سچا اور پکا ہے۔ کیونکہ وہی معاف کرنے والا ہے اور وہی رحم کرنے والا ہے۔ ایسے ہی لوگ دنیا و آخرت میں نجات پائیں گے۔
Ayah 4:153

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

اہل کتاب آج اگر تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی کتاب ان پر نازل کر ائو تو اس سے کہیں بڑا مطالبہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کرچکے ہیں۔ اس سے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اللہ دکھا دو اور اسی سرکشی کی وجہ سے یکایک ان پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی، پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا، حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ اس پر بھی ہم نے ان سے درگزر کیا۔ ہم نے موسیٰ کو صریح دلیل عطا فرمائی

اہل کتاب کی شرارتیں تشریح : اس آیت میں یہود کی بدترین عادات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہوا اس طرح کہ یہود کا ایک گروہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور خواہ مخواہ کی حجت بازی شروع کردی۔ کہنے لگے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ایک مکمل کتاب ایک ہی دفعہ پوری اتارنے کو کہیں جیسا کہ ہمارے رسول موسیٰ (علیہ السلام) پوری کتاب لائے تھے، پھر ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ اس پر اللہ رب العزت نے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے بتایا کہ یہ قوم تو ہمیشہ سے بگڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے انبیاء کو ستایا اور ان کو قتل کیا جس کی وجہ سے ان پر اکثر عذاب آئے، مثلاً بجلی ان پر کڑکی یہ مرگئے، پھر زندہ کئے گئے۔ تھوڑی دیر کے لیے سیدھے ہوجاتے، پھر وہی ہٹ دھرمی، ضد اور نافرمانی کرنے لگتے۔ ان کے بارے میں سورة ٔبقرہ آیت 55 میں تفصیل گزر چکی ہے۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ قوم انتہائی بگڑی ہوئی اور نافرمان ہے۔ انہوں نے تمام نشانیاں دیکھنے کے باوجود بھی اللہ کو چھوڑ کر بچھڑے کو پوجنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے پھر بھی ان کو معاف کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ان پر بڑائی عطا کی۔ بنی اسرائیل کا قصہ بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے اب دوبارہ ذکر ہو رہا ہے۔
Ayahs 4:154–156

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر طور (پہاڑ) کو اٹھا کر ان سے پختہ عہدلیا۔ ہم نے ان کو حکم دیا کہ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہفتے کے دن میں حد سے تجاوز نہ کرنا اور اس پر ان سے پکا وعدہ لیا۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

آخر کار ان کی عہد شکنی کی، اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور (متعدد) پیغمبروں کو بغیر وجہ کے قتل کرنے کی وجہ سے (ان کی یہ سزا تھی) اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں، حالانکہ ان کی باطل پرستی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اسی لیے ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لاتے ہیں

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اپنے کفر میں یہ لوگ اتنے بڑھ گئے کہ انہوں نے حضرت مریم پر سخت بہتان لگایا

یہود کی بداعمالیاں تشریح : یہود کی بدنیتی اور کفر کی بیشمار باتیں ہیں جو سورة بقرۃ میں آیات 65-59-58 اور 88 میں بڑی تفصیل سے بیان کی جا چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ مختصراً بتایا جارہا ہے صرف نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے کہ آپ ان سے بالکل پریشان نہ ہوں۔ کیونکہ ایک دفعہ یہ کفر میں اتنے بڑھ گئے کہ ہم نے کوہ طوران پر پھینکنا چاہا تب انہوں نے اطاعت کا وعدہ کیا، پھر شہر ایلیا میں ہم نے کہا جھک کر جانا، پھر ان پر ہفتے کے روز مچھلی کے شکار پر پابندی لگائی۔ مگر انہوں نے ہمارے تمام احکام سے روگردانی کی اس پر ہم نے ان کو دنیا میں بھی ذلیل کیا اور آخرت میں بھی سزا دیں گے۔ یہ ایسے بہتان تراش ہیں کہ سیدہ مریم (علیہا السلام) جن کی بےگناہی تیس سال پہلے ثابت ہوچکی تھی جو کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش پر معجزہ ہوا تھا یعنی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے گود میں اپنے پیغمبر ہونے کا اعلان کیا تھا اب جب کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) تیس سال کے ہوگئے اور انہوں نے نبوت کا کام شروع کیا تو قوم نے باقی اور کئی قسم کی بدتمیزیوں کے علاوہ ایک یہ بھی بدتمیزی کی کہ ان کے بن باپ کے پیدا ہونے پر ماں و بیٹا دونوں پر انتہائی برا الزام لگایا جو کہ بالکل غلط اور جھوٹا تھا۔
Ayahs 4:157–159

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ بن مریم، رسول اللہ کو قتل کردیا، حالانکہ اصل میں نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا۔ بلکہ یہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کردیا گیا اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے صرف گمان کی ہی پیروی ہے۔ انہوں نے یقیناً اسے قتل نہیں کیا

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا، اللہ زبردست طاقت رکھنے والا، حکیم ہے۔

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا

سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا منصوبہ اور ان کا زندہ اٹھایا جانا تشریح : ان آیات کا مضمون بالکل واضح ہے۔ تفصیلات اس کی سورة آل عمران میں بیان کی جا چکی ہیں یہ جو بار بار یہود کا ذکر کیا جارہا ہے تو صرف اس وجہ سے کہ ایک تو نبی کریم ﷺ کو تسلی ہو اور دوسرے مسلمانوں کو بتانے کیلیے کہ ان لوگوں سے عبرت حاصل کریں ان کے راستوں پر نہ چلیں کیونکہ برے کاموں کا برا ہی انجام ہوتا ہے جیسا کہ یہودیوں کو سزاملی۔ بارہا معاف کرنے پر بھی جب وہ برائیوں سے باز نہ آئے تو پھر ان کو سخت سزا دی گئی۔
Ayahs 4:160–161

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

غرض ان یہودی بن جانے والوں کے اسی ظالمانہ رویہ کی بنا پر اور اس لیے کہ یہ ہمیشہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں اور جو لوگ ان میں سے کافر ہیں ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

یہود پر پابندی تشریح : جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ یہ بڑی ہی خراب قوم تھی نہ صرف یہ کہ خود ہی برائی کرتے بلکہ دوسروں کو بھی برائی کی ترغیب دیتے، نیک کاموں میں رکاوٹ ڈالتے، سود کھاتے، ناجائز مال بھی کھاتے، اسی لیے ان کی شریعت کے قانون سخت کردیئے گئے اور سزا کے طور پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، یعنی کئی حلال چیزیں ان پر حرام کردی گئیں اور نیک لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ مسلمان یا جو بھی شخص اپنی زندگی ان کی طرح گزارے گا۔ عذاب سے بچ نہ سکے گا۔
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھتے ہیں اور ایماندار ہیں۔ وہ سب اس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی تھی اس طرح کے ایمان لانے والے، نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرنے والے، اللہ اور روز آخرت پر سچا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے

صالحین کے لیے انعام تشریح : اس آیت میں جیسا کہ اوپر آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ ان میں سے جو لوگ نیک ہیں تمام نیکی کے کام کرتے ہیں ان کو یقیناً آخرت میں اجر عظیم دیا جائے گا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پس اگر وہ ایسا کرلیں تو وہ اپنا جان و مال مجھ سے محفوظ کرلیں گے سوائے حق اسلام کے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ (صحیح مسلم)
Ayahs 4:163–164

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحق، یعقوب اور اولاد یعقوب، یونس، ہارون، اور سلیمان؊ کی طرف وحی بھیجی اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کو زبور دی۔

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

ہم نے ان رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اس سے پہلے تم سے کرچکے ہیں اور ان رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا اور اللہ نے موسیٰ سے اس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے

اللہ کی وحی تشریح : ان آیات میں حضرت محمد ﷺ پر وحی کی کیفیت، سابقہ انبیاء و رسل اور آسمانی کتابوں کا ذکر بڑے پیارے انداز میں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا رسول بن کر آنا اور اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا نہ تو کوئی عجیب بات ہے اور نہ ہی فطرت کے خلاف۔ کیونکہ جب ہم نے پوری کائنات کو بنایا تو اس میں نباتات، جمادات، حیوانات اور انسان سب کچھ ہی پیدا کیا مگر انسان کو اپنا نائب بنا کر بھیجا اس کو عقل، علم اور اختیار کی طاقتیں عطا کردیں، جبکہ باقی ہر چیز میں اللہ کی راہنمائی نظر آتی ہے مثلاً : ذروں کے اندر ان کے اجزاء، کائنات میں سیارے، نباتات کا عمل، شہد کی مکھی کا بہترین عمل، پرندوں کا گھونسلے بنانا، بچے پیدا کرنا، پرندوں کا موسموں کے بدلنے پر ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جانا یہ سب ان چیزوں کی جبلت (Instinct) یعنی ان کی فطرت میں اللہ رب العزت نے رکھ دیا ہے وہ اس کے علاوہ کچھ بھی کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ جبکہ انسان اشرف المخلوقات کا درجہ رکھتا ہے اس کو اللہ نے اپنا نائب بنا کر دنیا میں بھیجا ہے مگر اس کو جبلت سے اوپر راہنمائی کا درجہ علم اور عقل کے ساتھ ارادہ اور اختیار بھی عطا کردیا اس سے اوپر رہنمائی کا درجہ وجدان (Intuition) ہے۔ یہ درجہ بہت کم اور خاص خاص انسانوں کو حاصل ہوتا ہے۔ وجدان کا مطلب ہے عقلی دلائل کے بغیر براہ راست کسی معاملے میں حقیقت کو پا جانا، یعنی ( Direct Pereeption) عقل اور وجدان بھی بعض اوقات ایک مسئلہ کے کئی نتیجے نکال دیتے ہیں۔ یہ اختلاف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عقل و وجدان سے اوپر بھی کوئی ہدایت یا راہنمائی کا ذریعہ موجود ہے جس سے شک و شبہ ختم ہوجائے اور انسان بالکل ٹھیک نتیجہ نکال سکے جیسا کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ سیدھی راہ ڈھونڈنے میں ہوا۔ یہ ذریعہ وحی کا ذریعہ ہے۔ وحی نبی یا رسول پر ہوتی ہے۔ نبی یا رسول اس شخص کو کہتے ہیں جس کو اللہ رب العزت اپنے بندوں میں سے لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے چن لیتا ہے، پھر اس کو اپنا پیغام وحی کے ذریعہ دیتا ہے۔ وحی کیا ہے ؟ اللہ کا پیغام ایک خاص فرشتے کے ذریعہ سے نبی کو دیا جاتا ہے اس کا نام قرآن میں جبرئیل (علیہ السلام) بتایا گیا ہے۔ بعض دفعہ وجدانی کیفیت میں دل میں کوئی بات آجاتی ہے اس کو الہام کہا جاتا ہے اور بعض اوقات اللہ نے اپنے رسولوں کو کتابیں بھی دیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل اور سیدنا دائود (علیہ السلام) کو زبور دی گئی اور پھر جیسا کہ اس آیت میں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ فضیلت ملی کہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسے بات چیت کی جس طرح آمنے سامنے بات چیت کی جاتی ہے اسی لیے ان کو کلیم اللہ کا لقب دیا گیا ہے، یعنی اللہ سے بات کرنے والا۔ مذکورہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ نبی ﷺ کی طرح بیشمار انبیاء اور رسل بندوں کی راہنمائی کے لیے بھیجے گئے ہیں بعض کا ذکر تو آپ سے کیا گیا ہے، مثلاً نوح، ابراہیم، اسماعیل، اسحق، یعقوب، یونس، ہارون، سلیمان اور دائود علیہم السلام۔ مگر ان کے علاوہ بیشمار نبی اور رسول بھیجے گئے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں نہیں کیا گیا جیسا کہ سیدنا ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے ہیں جن میں سے تین سو تیرہ کو شریعت بھی دی گئی۔ “ (قرطبی) جس طرح یہ تمام انبیاء رب کا پیغام لے کر لوگوں کے پاس آئے اسی طرح رسول اللہ ﷺ بھی لوگوں کی ہدایت کے لیے اللہ کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ انسانوں کو نیک، پاک صاف اور کامیاب زندگی گزارنے کے بہترین اصول نبی اور رسول بتاتے رہے ہیں۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا محمد ﷺ تک سب نے ایک ہی پیغام دیا، یعنی توحید اور پھر نیک بندوں کو خوشخبری دی اور برے بندوں کو اللہ کے غضب، ناراضگی اور سزا سے ڈرایا۔ فرق صرف یہ ہے کہ تمام انبیاء اور رسول کسی خاص قوم یا ملک کے لیے آئے اور ان کی تعلیمات میں تحریف ہوتی رہی، جبکہ سیدنا محمد ﷺ پوری دنیا کے لیے ایسا مکمل اور دیرپا نظام شریعت لے کر آئے کہ جو ہمیشہ سلامت رہے گی اور بہترین اتنی کہ اس کے بعد اب نہ کسی شریعت کی ضرورت رہی نہ نبی کی۔ یہ آخری نبی ہیں۔ اتنا کچھ جان لینے کے بعد بھی کچھ لوگوں کو آپ ﷺ پر ایمان لانے میں پریشانی ہو رہی تھی۔ یہ تو پھر ان کی بدنصیبی ہی ہوسکتی ہے اور کیا کہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب مسلمانوں کو توحید و رسالت پر ایمان لانے کی اور عمل کرنے کی پوری طرح سعادت نصیب کرے آمین۔” اور ہمیں نیک اور سیدھے راستوں پر چلنے کی توفیق عطا کر۔ “ (الفاتحہ)
Ayahs 4:165–169

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بناکر بھیجے گئے تھے۔ تاکہ ان کو بھیج کر لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے اور اللہ بہرحال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ اس نے تم پر نازل کیا ہے اپنے علم سے نازل کیا ہے اور اس پر فرشتے بھی گواہ ہیں اگرچہ اللہ کا گواہ ہونا ہی کافی ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جو لوگ اس کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ وہ یقینا گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

اس طرح جن لوگوں نے کفر و نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم و ستم پر اتر آئے اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ نہ دکھائے گا

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

سوائے جہنم کے راستہ کے اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے

اللہ کی گواہی اور کفار کے لیے جہنم تشریح : ان آیات میں بڑے واضح طریقہ سے بتا دیا گیا ہے کہ مختلف وقتوں میں مختلف قوموں کے لیے ہدایت کی راہ دکھانے کے لیے اللہ کی طرف سے ہمیشہ پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں، تاکہ حساب کتاب کے دن جو کہ آکر رہے گا کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اللہ مجھے تو کسی نے نیکی و بدی کا فرق ہی نہیں بتایا اللہ رب العزت بڑا دانا اور حکمت والا ہے۔ اسی لیے اس نے بندوں کو برے کاموں کے انجام، یعنی جہنم سے ڈرانے کے لیے اور اچھے کاموں کے بدلہ میں جنت کی خوشخبری دینے والے رسول بھیجے اس بات پر صرف اللہ کی گواہی ہی کافی ہے مگر اللہ نے اس بات پر فرشتوں کو بھی گواہ بنا رکھا ہے۔ اب کچھ لوگوں کی بدنصیبی ہے کہ وہ نہ خود ہدایت اختیار کرتے ہیں نہ دوسروں کو نیکی کی راہ پر چلنے دیتے ہیں۔ یہ شیطان فطرت لوگ گمراہی کے راستوں پر بہت دور نکل چکے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو رب کریم ہرگز معاف نہ کرے گا اور نہ ہی ان کو ہدایت ملے گی کیونکہ وہ نیک راہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کو جہنم میں ڈال دے گا۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی سزا بھگتیں گے اور یہ سزا دینا اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے۔
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو ! یہ رسول تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر آگیا ہے، ایمان لے آئو، تمہارے لیے یہی بہتر ہے اور اگر انکار کرتے ہو تو جان لو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے اور اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی

آخری رسول کی آمد تشریح : اس آیت میں اللہ جل شانہ انسانوں کو خبردار کر رہا ہے کہ یہ رسول تمہارے پاس بہترین تعلیم اور زندگی کیشانداراصول اور آخرت میں عزت و آرام کی بہترین ہمیشہ رہنے والی زندگی کے راستے بتانے کے لیے آیا ہے۔ یہ تمہارے لیے تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی عنایت اور مہربانی ہے کہ اس نے تمہاری نجات کا بندوبست کردیا ہے۔ اب اگر تم اس کو نہیں مانتے تو اپنے برے انجام کے لیے تیار ہوجاؤ کیونکہ تمہارے انکار سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اس نے اپنے علم اور حکمت سے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کائنات کی تمام چیزیں بنائی ہیں اس کو تمہاری نافرمانی سے کوئی فرق نہیں پڑ سکتا اور نہ ہی وہ تمہارے اعمال و کردار سے بیخبر ہے۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! اپنے دین میں حد سے نہ نکلو اور اللہ کی طرف سوائے سچ کے اور کوئی بات نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ بن مریم اور کچھ نہ تھے سوائے اس کے کہ اللہ کے رسول تھے اور ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے۔ پس تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو۔ اور یہ نہ کہو کہ اللہ تین ہیں۔ باز آجاؤ یہ تمہارے لیے ہی بہتر ہے۔ بیشک الٰہ تو صرف ایک اللہ ہی ہے وہ اس سے بےنیاز ہے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔ زمین و آسمان کی ساری چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور ان کی خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے

اہل کتاب کو غلو سے روکنا تشریح : اس آیت میں اہل کتاب سے مراد عیسائی ہیں۔ عیسائیوں نے اپنے رسول کو اس قدر بلند کردیا کہ ان کو اللہ یا اللہ کا بیٹا ہی بنا دیا بجائے اس کے کہ وہ ان کو صرف ایک رسول سمجھ کر ان کے پیغام پر عمل کرتے انہوں نے ان کو اللہ کا درجہ دے دیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش عام انسان سے مختلف ہوئی تھی تو اس کے لیے اللہ نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ یہ ہماری مرضی کے مطابق ہوا اب اس کھوج میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے کہ یہ مرضی اللہ کی کیوں تھی اور کیسے تھی ؟ بس اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کے لیے بھی یہی کہا کہ ہم نے مٹی کا پتلا بنایا اور اس میں روح پھونک دی۔ اسی طرح سیدہ مریم (علیہ السلام) کی طرف فرمان بھیجا۔ ایک روح تھی اللہ کی طرف سے ہر بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اللہ کے فرمان سے ہی اس کی ابتدا ہوتی ہے اور اللہ کے فرمان سے ہی اس میں زندگی (روح) پڑتی ہے۔ اور اللہ کے فرمان مرضی اور ارادہ ہی سے بچہ مکمل ہو کر پیدا ہوتا ہے اور پھر اللہ ہی کی مرضی سے عمرپاتا ہے، زندگی گزارتا ہے اور اللہ ہی کی مرضی سے مرجاتا ہے۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اللہ جل شانہ کی خاص مرضی، خاص ارادے اور خاص حکمت کا نتیجہ ہے۔ عیسائی تین خدائوں کے چکر میں پڑگئے۔ ان میں بھی کئی فرقے بن گئے، کوئی تو عیسیٰ ، اللہ اور روح القدس کو رب ماننے لگے کسی نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور مریم کو ملا کر تین اللہ بنا لیے (استغفر اللہ) تو یہ سب تمام باطل عقائد ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ میں نے مریم کو بیٹے کی بشارت دی۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) برگزیدہ انسان تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا پیغمبر بنانے کے لیے چن لیا۔ حکم ہوتا ہے کہ اس کی بات مانو اللہ ایک ہے اور وہ اس بات سے بالکل بےنیاز ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب اللہ رب العزت کا ہے اور اس تمام نظام کائنات کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی ہے۔ اس کو کسی کام کی مشکل پیش نہیں آتی کہ کسی رشتہ دار کو مدد کے لیے بلائے۔ وہ تو بس ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اپنی پوری قدرت، طاقت اور عظمت کے ساتھ۔ قرآن مجید میں کتنے مقامات پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔” وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ“ ( وہ تمام چیزوں پر مکمل طور پر قدرت رکھتا ہے)
Ayahs 4:172–174

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح نے کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا ایک بندہ ہو اور نہ مقرب ترین فرشتے اس کو اپنے لیے عار سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لیے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

اس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لاکر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر دے گا۔ اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ان کو اللہ درد ناک سزا دے گا۔ اور اللہ کے سوا ( جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے) کسی کو بھی اپنے لیے حمایتی اور مددگار نہ پائیں گے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس روشن دلیل آگئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے۔

اللہ کی عبادت کی جزا اور انکار کی سزا تشریح : سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہی شان اور حق ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں۔ انہوں نے تو ہمیشہ اللہ رب العزت کی بندگی میں ہی زندگی گزاری جس بندے کو رب نے نبی کے طور پر چننا ہوتا ہے وہ تو شروع سے ہی اس کا برگزیدہ، نیک فطرت، متقی اور عبادت گزار بندہ ہوتا ہے تو اسی طرح سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) بھی بچپن ہی سے خدا ترس اور انتہائی پاکیزہ فطرت کے مالک تھے نہ انہوں نے کبھی تکبر کیا تھا اور نہ ہی کبھی اللہ کی بندگی سے انکار کیا تھا، پھر اللہ جل شانہ خبردار کرتے ہیں کہ انسانوں میں جو بھی میری بندگی سے انکار کرے گا، تکبر کرے گا، میرے سامنے جھکنے کو اپنی عزت کے خلاف سمجھے گا، یعنی توحید سے انکار کرے گا تو سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ میں سب لوگوں کو ایک دن جو مرچکے یا جو ابھی زندہ ہیں انپے پاس جمع ہونے کا حکم دوں گا اور وہ دن ضرور آئے گا۔ اس دن جن لوگوں نے صراط مستقیم کی راہ اختیار کی ہوگی، قرآن و سنت پر عمل کرکے نیک اور صالح زندگیاں گزاری ہوں گی ان کو ان کے اعمال کے بدلے میں بہترین انعام دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ خوش ہو کر ان کے اصل اجر سے کئی گنا زیادہ انعامات ان کو دیں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ شرک و کفر پر مبنی زندگی گزاریں گے اللہ رب العزت کی عبادت، یعنی رکوع و سجود سے دوربھاگیں گے تکبر کریں گے تو ایسے لوگوں کو آخرت میں درد ناک عذاب دیا جائے گا اور پھر وہاں وہ کسی کو بھی اپنا مددگار نہ پائیں گے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” قیامت کے دن میری شفاعت کا مستحق سب سے زیادہ خوش بخت وہ شخص ہوگا جس نے پورے خلوص دل کے ساتھ ” لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ “ یعنی اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کا اقرار کیا ہوگا۔ (بخاری) عیسائیوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا درجہ دیا جبکہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) انتہائی عبادت گزار اور اللہ کے فرمانبردار بندے تھے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں قیامت کا یقینی ایمان نصیب فرمائے۔ قیامت کے دن کی سختیوں سے بچائے اور اپنی نعمتوں سے نوازے۔ آمین۔
Ayah 4:175

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے اللہ ان کو اپنی رحمت اور فضل و کرم میں چھپا لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھادے گا

اللہ پر یقین کرنے کی دلیل تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت اپنے بندوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم نے تمہاری ہدایت اور راہنمائی کے لیے سیدنا محمد ﷺ کے ذریعے ایک ایسی کتاب (قرآن) بھیج دی ہے جس کو بہترین روشنی کہا جاسکتا ہے کیوں کہ اس میں بڑے واضح، آسان اور بہترین اصول مثالیں دے دے کر بتائے گئے ہیں۔ ظاہر ہے جو لوگ اللہ پر یقین کریں گے وہ اس کی بھیجی ہوئی کتاب (قرآن) پر یقین کریں گے اور بڑی ہی مضبوطی سے اس میں نازل شدہ ہدایات پر چلیں گے۔ نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کریں گے تو یقیناً وہ دنیا و آخرت میں بہترین زندگیاں گزار سکیں گے ایسے نیک اور اچھے لوگوں سے تو اللہ ویسے ہی ہر وقت خوش رہتا ہے تو جس نے اللہ کو خوش کرلیا تو گویا اس نے نجات کا بہترین راستہ ڈھونڈ لیا۔ جب ایک بندہ اپنے لیے ٹھیک اور اچھا راستہ ڈھونڈ لیتا ہے تو پھر یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اس راستے میں جتنی بھی رکاوٹیں یا مشکلات آتی ہیں ان کو اپنے فضل و کرم اور اپنی طاقت سے دور کردیتا ہے اور یوں نیک بندے کے لیے نیکی کی راہیں بالکل آسان ہوجاتی ہیں۔
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

لوگ آپ سے کلالہ کے معاملہ میں فتو ٰی پوچھتے ہیں۔ کہو اللہ تمہیں فتو ٰی دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص بےاولاد مرجائے اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی اور اگر بہن بےاولاد مرے تو بھائی اس کا وارث ہوگا۔ اگر میت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکہ میں سے دو تہائی کی وارث ہوں گی۔ اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو مرد کے لیے دو عورتوں کی مثل حصہ ہوگا۔ اللہ تمہارے لیے احکام کی وضاحت کرتا ہے۔ تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

میراث کے باقی احکام تشریح : اس آیت میں کلالہ کے بارے میں تفصیلاً دوبارہ بتایا جارہا ہے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ لوگوں نے آپ ﷺ سے کلالہ کے بارے میں پوچھا اور آپ ﷺ نے ان کو جواب تب دیا جب اس مسئلہ کے بارے میں وحی نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ کلالہ وہ ہوتا ہے جس کا نہ باپ زندہ ہو نہ کوئی اولاد ہو، صرف بھائی بہن ہوں۔ تو ان کو میراث اس طرح ملے گی۔ اگر میت کی فقط ایک بہن ہے تو وہ اس کے ترکہ میں سے آدھا مال پائے گی، یعنی بہن کا حصہ جب میت کا ترکہ باپ اور اولاد نہ ہو بیٹی کے برابر ہے۔ اگر بہن مرگئی اور وارث صرف بھائی ہے تو بھائی کو بہن کا سارا مال مل جائے گا۔ اگر بھائی نے دو یا دو سے زیادہ بہنیں چھوڑیں تو ان دونوں کو دوتہائی مال ملے گا۔ اگر بہت سے بہن بھائی ملے جلے وارث ہیں تو سارا مال ان میں اس حساب سے تقسیم ہوجائے گا کہ مرد کا ایک حصہ عورت کا آدھا حصہ۔ یہ سب کچھ اللہ رب العزت نے اس لیے کھول کھول کر پوری تفصیل سے بتایا ہے۔ کہ وہ انسان کی کمزوریوں اور اس کے ہر قسم کے مسائل خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ اسی لیے بنے بنائے اصول و قوانین انسان کو دے دیئے کہ انسان مشکلات سے بچ سکے اور لڑائی، جھگڑا، غلط فہمیوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہے اور سیدھے راستے سے بھٹک نہ جائے۔ اسی کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم سے سورة النساء مکمل ہوتی ہے۔ الحمدللہ۔ اللہ رب العزت اس چھوٹی سی خدمت کو قبول کرے میرے مقصد کے مطابق اس لکھے ہوئے کو بچوں کے لیے راہنمائی کا بہترین ذریعہ بنائے۔ آمین۔