5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 5:1–2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! وعدے پورے کرو۔ تمہارے لیے چوپائے حلال کئے گئے ہیں سوائے ان کے جن کے نام تمہیں سنائے جائیں گے۔ احرام کی حالت میں شکار جائز نہیں۔ یقینا جو چاہے اللہ حکم کرتا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی نہ کرو، نہ ادب والے مہینوں کی، نہ حرم میں قربان ہونے والے اور پٹے پہنائے گئے جانوروں کی جو کعبہ کو جارہے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو بیت اللہ کے ارادہ سے اپنے رب کے فضل اور اسکی رضا حاصل کرنے کے لیے جارہے ہوں۔ ہاں ! جب تم احرام اتار ڈالو تو شکار کرسکتے ہو۔ جن لوگوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا انکی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم حد سے گزر جاؤ نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو مگر گناہ اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے

ذمہ داری پوری کرو تشریح : ان آیات میں اخلاق و کردار کی خوبیوں کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ حکم دیا کہ جو لوگ ایمان والے ہیں ان کو سب سے پہلے اپنے وعدوں کی طرف توجہ دینی چاہیے وہ ایسے کہ جو بھی وعدہ وہ کریں اس کو ضرور پورا کریں، وعدہ کو پورا نہ کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے وعدہ میں کون کون سے وعدے آجاتے ہیں ؟ کبھی وعدہ خودانسان اپنے آپ سے کرتا ہے، کبھی دو انسانوں کے درمیان بھی وعدہ ہوتا ہے، کبھی ایک جماعت یا گروہ کا دوسرے گروہ سے ہوتا ہے، کبھی ایک ملک کا دوسرے ملک سے بھی ہوسکتا ہے انسان کا اللہ کے ساتھ بھی ایک وعدہ ہے۔ غرض دنیا کا کارو بار معاہدوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اس میں ہم ایک انسان کے معاہدے کی بات کرتے ہیں جو اس نے کلمہ پڑھ کر کرلیا کہ ” اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں “ اس کے بعد وہ اسلام کے پانچوں ارکان پورے کرنے کا پابند ہوگیا، یعنی توحید، نماز، زکوۃ، روزے اور حج۔ اس میں تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد جمع ہوگئے۔ دوسرا معاہدہ : مرد اور عورت کے درمیان نکاح کی صورت میں ہوسکتا ہے زندگی کی ضروریات اور کاروبار حیات چلانے کا انتہائی ضروری معاہدہ۔ تیسرا معاہدہ : تجارت، لین دین اور صلح و صفائی کا معاہدہ ہے جو ایک شخص یا ایک فریق دوسرے شخص یا فریق سے کرتا ہے۔ اسی طرح چوتھا معاہدہ ہم اس کو کہہ سکتے ہیں جو ایک ملک دوسرے ملک کے ساتھ کئی مختلف مقاصد کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اور اسی طرح کے بےشمارمعاہدے ہیں جو انسان کی زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں۔ تو ایک پکے، سچے اور اچھے مسلمان اور انسان کا یہ فرض ہے کہ تمام معاہدوں کو پورا کرے اور کبھی بھی معاہدوں سے پھر نہ جائے۔ دوسری بات اس آیت میں حلال و حرام کی بتائی گئی ہے۔ یہ بھی حکم ِ الہٰی ہے۔ کیونکہ اللہ خالق ہے وہ جانتا ہے کون سا جانور کس حالت میں انسان کے لیے فائدہ مند ہے اور نقصان دہ نہیں، لہٰذا بغیر سوچے سمجھے اللہ تعالیٰ کے حلال کیے ہوئے جانوروں کو کھالینا چاہیے۔ اور جن سے منع کیا گیا ہے ان سے باز رہنا چاہیے۔ ان کا بیان آئندہ تفصیل سے کیا جائے گا ان شاء اللہ۔ فی الحال یہاں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ تم احرام ( حج کا لباس) باندھ لو تو پھر کسی قسم کا شکار کرنا منع ہے اور ان چار مہینوں کا احترام کرو، یعنی ان چار مہینوں میں لڑائی گناہ ہے اور برے کاموں سے بچنے کی کوشش کرو۔ مہینے یہ ہیں۔ رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ حکم دیا گیا کہ جو جانور حج پر قربانی کے لیے جارہے ہوں نشانی کے طور پر ان کے گلوں میں پٹے یا رسی پڑی ہوئی ہو۔ ان کو تنگ نہ کرو اور جو لوگ حج کے لیے جارہے ہوں ان کو بھی مت ستاؤ۔ ان کے ساتھ عزت و احترام اور پیار سے پیش آؤ، البتہ جب احرام اتار دو تو پھر شکار کرنے کی اجازت ہے۔ وہ بھی مکہ سے اور مسجد حرام کے علاقہ سے باہر شکار کرسکتے ہیں، پھر نیکی پھیلا نے اور برائی سے منع کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یعنی مسلمانوں کو انصاف، ہمدردی اور خوش خلقی کا سبق دیا گیا ہے، پھر حکم ہے کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ ظلم اور زیادتی کرے تو اس کو جس قدر ہو سکے معاف کردو۔ دل میں حسد، بغض اور کینہ نہ رکھو۔ یہ اشارہ اس واقعہ کی طرف بھی ہے کہ جب 6 ھ؁ میں مسلمان مکہ کی طرف عمرہ کے خیال سے گئے تو مکہ والوں نے بڑی سخت شرائط پر آئندہ سال عمرہ کرنے کے لیے اجازت دی۔ تو اس پر مسلمانوں کو صبر و سکون کا ہی کہا گیا۔ پھر حکم ہے کہ کسی بھی ظالم کا ساتھ نہ دو ۔ جیسا کہ ابن کثیر نے بروایت طبرانی نقل کیا کہ رسول ﷺ نے فرمایا :” جو شخص کسی ظالم کے ساتھ اس کی مدد کرنے کے لیے چلاوہ اسلام سے نکل گیا۔ “ نیکی، انصاف، خوش خلقی اور ظلم اور ستم کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ہر مسلمان مرد، عورت، بوڑھا، بچہ اور جوان اسلام کا سپاہی ہے کیونکہ قرآن وسنت نے اس کو یہی سکھایا ہے اور وہ اللہ رب العزت کے خوف اور یوم حساب کے خیال پر پابند ہے کہ وہ اللہ کے ان تمام قوانین کی پابندی کرے اور اس طرح اپنی نجات اور ملک کی ترقی میں حصہ دار بن سکے اللہ ہم سب کو اپنا وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

تم پر حرام کیا گیا مردار، خون، سؤر کا گوشت، وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر مشہور کیا گیا ہو، جو گلاگھٹ کر مرگیا، چوٹ کھا کریابلندی سے گر کر مرگیا، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے درندے نے پھاڑا ہو۔ سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا ہو، اور وہ کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو، حرام ہے اور یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں ( فال نکالنے) کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ تمام کام گناہ ہیں۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے، لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر مکمل کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوگیا ( لہٰذا حرام و حلال کی پابندی کرو، ) البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر کوئی چیز کھالے، بغیر اس کے کہ گناہ کا خیال اس کے دل میں ہو۔ تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے

حرام چیزوں کا ذکر اور دین کا مکمل ہونا تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں حلال و حرام جانوروں کا ذکر تھا تو اس آیت میں ان کی وضاحت کردی ہے مطلب یہ ہے کہ صرف صحت کے لحاظ سے نقصان دہ جانوروں کو ہی منع نہیں کیا گیا بلکہ ایسے جانوروں کا گو شت کھانے سے بھی منع کیا گیا ہے جو اخلاق و کردار کو خراب کرتا ہو، روحانی پاکیزگی کو ختم کرتا ہو، مثلاً سؤر کا گوشت کچھ ایسے اجزا اپنے اندر رکھتا ہے جو انسان میں بےحیائی، لاپروائی اور سستی پیدا کرتا ہے اسکی تفصیلات پہلے بیان کی جاچکی ہیں، پھر ایسا جانور جو کسی پیر، فقیر کے نام پر مشہور کردیا جائے یا اس کی نذرونیاز کے طور پر ذبح کیا جائے یا ذبح کرتے ہوئے بجائے اللہ اکبر کہنے کے کسی دیوی، دیوتا یا کسی بت کا نام لیا جائے، مسلمان کے لیے اس کا کھانا حرام ہے کیونکہ یہ سب توحید پر ایمان رکھنے والے کے لیے ہر گزجائز نہیں ہوسکتا اور یہ عقیدہ توحید کے باکل خلاف ہے۔ پھر خون حرام ہے کیونکہ یہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے اسی لیے ضروری ہے کہ جانور کو اس طرح ذبح کیا جائے کہ خون کی نالی سے تمام جسم کا خون خوب اچھی طرح بہہ کر نکل جائے، ذبح کرنے کا طریقہ اس لیے ضروری ہے کہ اس طرح جسم کا تعلق دیر تک دماغ کے ساتھ باقی رہتا ہے جس کی وجہ سے ہر رگ کا خون کھینچ کر باہر نکل جاتا ہے جبکہ مردہ جانور کا خون گوشت کے اندر ہی جم جاتا ہے جو کئی بیماریوں کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی لیے ان جانوروں کا گوشت حرام کیا گیا ہے جو جانور گلاگٹ کر یا چوٹ سے یا بلندی سے گِر کر یا ٹکرا کر یا جسے درندے نے پھاڑکھایا ہو یہ سب حرام ہیں ہاں ! اگر ان میں جان موجود ہو تو ان کو اللہ کا نام لیکر ذبح کرلیا جائے تو ان کا گوشت حلال ہے اسی لیے کہ ذبح کرنے سے گوشت خون سے بالکل صاف ہوجائے گا اور انسانی صحت کو نقصان نہ پہنچائے گا۔ البتہ گناہ کی طرف بڑھنے والا نہ ہو کسی بڑی مجبوری کی بنا پر یعنی جان بچانا مطلوب ہو تو کھالے اور اتنا کھائے کہ جس کے ساتھ گزارا ہوسکے تو اللہ معاکرنے والا بخشنے والا ہے، پھر فرمایا کہ توہم پرستی ناجائزکام ہے۔ مطلب یہ کہ کسی کام کے لیے فال نکالنا، جوا اور لاٹری وغیرہ باکل ناجائز کام ہے، البتہ کسی بڑی مشکل صورت میں جبکہ دونوں طرف برابری ہو اور انسان فیصلہ نہ کرسکے تو پھر قرعہ اندازی کی جاسکتی ہے۔ مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب سے آخری آیت ہے اور یہ حجتہ الوادع کے موقع پر 10؁؁ھ میں نازل ہوئی۔ اس کے نازل ہونے پر مسلمانوں کو بےحد خوشی ہوئی کیوں کہ یہ مسلمانوں کے لیے بہت بڑی خوش خبری تھی۔ کہ دین کا مکمل ہونا نعمتوں کا مکمل ہونا اور پھر اسلام کو دین کی حیثیت سے مسلمانوں کے لیے خا ص کر دیاجانا مسلمانوں کی تمام اقوام عالم پر برتری، عزت اور کامیابی کا اعلان ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے پہلے انسانوں کی رہنمائی کے لیے بےشماررسولوں کو کتابیں اور شریعتیں دے کر بھیجا گیا مگر چونکہ وہ کسی خاص قوم ملک اور قبیلہ کے لیے آتی رہیں وہ وقت کے ساتھ اور ان کی شریعتیں منسوخ ہوتی رہیں۔ کچھ عرصہ کے بعد دوسرا نبی بھیجا جاتا جو نئے احکامات لاتا اور کچھ عرصہ کے بعد وہ بھی ختم ہوجاتے مگر سیدنا محمد ﷺ کو یہ مقام حاصل ہے کہ آپ تمام دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے اور آپ کو جو کتاب ( قرآن) دی گئی وہ اپنے مضامین، قوانین اور ہدایات کے لحاظ سے اتنی معقول، جامع، عام فہم، اور انسانی فطرت کے بالکل مطابق ہے کہ انسان کے لیے اس میں بھلائیوں اور کامیابیوں کے سوا کچھ نہیں، اسی لیے یہ کتاب اللہ کے وعدے کے مطابق جس طرح نازل ہوئی ہے اسی طرح قیامت تک رہے گی، اللہ رب العزت نے اس کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اب آئندہ نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ ہی کوئی شریعت آئے گی۔ آخری نبی، آخری کتاب اور آخری دین، ہم مسلمانوں کا خزانہ ہے اور ایسا خزانہ کہ جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور بس۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت پر عمل کریں گے تو مسلمان ہوں گے اگر عمل نہیں کریں گے تو اسلام کی حفاطت ہم سے ختم ہوجائے گی اور ہم کفر کے دائرے میں چلے جائیں گے اور اس طرح اسلام کی تمام برکتیں آخرت کی جنت اور دنیا کی وہ خاص نعمتیں جو مسلمان کے لیے رکھی گئی ہیں ہم ان سب انعامات سے بالکل محروم ہوجائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ” دین اسلام “ کا مطلب ہے اللہ رب العزت کی فرما نبرداری اختیار کرنے کا طریقہ یا مذہب۔ اس طرح ہمارے دین کے نام سے ہی وضاحت ہوجاتی ہے، یعنی امن و سلامتی، حفاظت اور رب کی فرمانبرداری جبکہ دوسرے کسی مذہب کے نام میں اس کی اتنی خوبیاں موجود نہیں ہوتیں۔ کیونکہ دین کا مطلب ہے بدلہ دینا، حکم چلانا، اطاعت کرنا اور طریقہ اختیار کرنا، یعنی دستور بنالینا اور اسلام کا مطلب ہے سلامتی پانا، امن و سکون پانا اور حکم بجالانا، فرمانبرداری اختیار کرنا۔ جب ہم ” دین اسلام “ کے معنی سمجھ کر دین اسلام بولتے ہیں تو ہمارے سامنے وہ ہستی، وہ زبردست طاقت اپنی تمام عظمتوں کے ساتھ آموجود ہوتی ہے جس کوا للہ کہا جاتا ہے۔ جو وحدہٗ لاشریک ہے جس نے ہمیں پیدا کیا اور زندگی گزارنے کا ہر طریقہ جس سے انسان کا واسطہ پڑتا ہے بیان کردیا، عقل اور اختیار دے دیا نیکی اختیار کرو یا بدی۔ تو حید، رسالت اور آخرت اسلام کے تین بنیادی عقائد ہیں۔ جو انسان یہ جانتا ہے کہ میں مر کر دوبارہ ضرور زندہ کیا جاؤں گا اور پنے تمام اعمال کا حساب دونگا، پھر اس کے مطابق مجھے جنت یا دوزخ ملے گی۔ بھلا وہ کیسے کوئی بھی غلط کام کرسکتا ہے یہی علم ہے یہی دیانت، تقویٰ اور مسلمانی ہے سورة الحجر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” ہم نے ہی قرآن مجید کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ “ سورة مائدہ کی یہ آیات اس وقت نازل ہوئی جب مسلمان بڑے سکون سے رہ رہے تھے مکہ فتح ہوچکا تھا اور پورا عرب اسلام قبول کرچکا تھا کفار دب چکے تھے، اس لیے اللہ رب العزت نے اعلان کیا کہ اب سوائے میرے کسی سے مت ڈرو جو نعمتیں تمہیں دی گئی ہیں اور جو اصول تمہیں بتائے گئے ہیں ان کی حفاظت کرو تمہاری ہر مشکل آسان ہوجائے گئی اور تم دنیا و آخرت میں فلاح پاؤ گئے۔
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے ؟ کہہ دو تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو جن کو اللہ کے دئیے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو۔ وہ جس جانور کو تمہارے لیے پکڑرکھیں اس کو بھی تم کھا سکتے ہو، البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو اور اللہ (کا قانون توڑنے) سے ڈ رو، اللہ جلد حساب لینے والا ہے

حلال چیزوں کے بارے میں تشریح : حلال و حرام کی وضاحت ہوچکی ہے یہاں دوبارہ یہ پوچھا جارہا ہے جو شکار شکاری کتوں اور باز وغیرہ کے ذریعے کیا جائے اس کا کیا حکم ہے ؟ تو اللہ رب العزت نے فرمایا جو بھی تمہیں پاکیزہ لگے کھاؤ اور شکاری جانوروں سے شکار کرانے کی وضاحت اس طرح کردی۔ -1 جانور کو شکار کے لیے سدھایا گیا ہو کہ شکار کو صرف تمہارے لیے پکڑرکھے۔ -2 شکار کے لیے تم خود اس کو چھوڑ دو ۔ -3 ایسے سدھاؤ کہ شکار کیا ہوا جانور یا پرندہ خود نہ کھائے۔ تمہارے بلانے پر واپس آجائے۔ -4 شکاری جانور کو بسم اللہ کہہ کر چھوڑو۔ اس کے علاوہ ایک شرط یہ بھی کہ جانور شکار کو زخمی کر دے کہ اس کا کچھ خون بہ جائے اور اگر اس نے زخمی نہیں کیا تو پھر اس کو ذبح کرنا ضروری ہے اور اگر پکڑنے سے پہلے ہی مرگیا ذبح نہ کرسکے تو مردار ہے حرام ہے۔ حلال و حرام کے تمام قوانین وضاحت سے بیان کئے جاچکے ہیں۔ اللہ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے ان پر پوری طرح عمل کرنا بےحد ضروری ہے کیونکہ اللہ رب العزت کے لیے فیصلہ کرنا اور حساب لینا نہ تو مشکل ہے اور نہ ناممکن۔ وہ تو بڑی جلدی اور بڑا مناسب حساب کتاب لینا جانتا ہے ” تم میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو اللہ سے سخت خوف کرنے والا ہو۔ “ ( سورة الحجرات )
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج تمہارے لیے تمام پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں۔ اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے۔ اور پاکدامنہ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، بشرطیکہ تم ان سے نکاح کرکے مہر ادا کرکے ان کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزادنہ بد فعلی کرنے لگو یا چوری چھپے دوستیاں کرو۔ اور جس نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کی زندگی کے تمام (نیک) اعمال ضائع ہوجائیں گئے اور وہ آخرت میں بےحد نقصان اٹھانے والا ہوگا

اہل کتاب کے کھانے اور ذبیحہ کا حکم تشریح : اس آیت میں حلال کی وضاحت ایک دوسرے پہلو سے کی گئی ہے وہ یہ کہ تمہیں جو چیزیں اچھی اور پاکیزہ لگیں وہ تم کھاؤ پیو۔ اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا تم کھا سکتے ہو جبکہ اللہ کا نام لیے کر ذبح کیا گیا ہو اور بیان کی گئی تمام شرطیں پوری ہوں یہ نہیں کہ ذبح کیا گیا سور کھالو اسی طرح تمہارے کھانے اہل کتاب کھاسکتے ہیں۔ تمہارے لیے پاکیزہ چیزوں کی شرط اس لیے رکھی گئی ہے کہ اہل کتاب اگر شراب اور سور کھائیں تو یہ تمہارے لیے حرام ہے اس احتیاط کو سامنے رکھتے ہوئے تم ان کے ساتھ کھا سکتے ہو۔ اس طرح اہل کتاب کی ان عورتوں سے جو نیک خصلت اور پاکدامن ہوں تم ان سے اس غرض سے نکاح کرسکتے ہو کہ وہ تمہارے لیے اور تم ان کے لیے عزت وا حترام اور سکون و آرام کا باعث بن سکو یہ نہیں کہ بد کاری کا مظاہرہ کرو، چھپ چھپ کر دوستیاں کرو جو کہ اخلاق اور پاکیزہ کردار کے خلاف کام ہے اس سے بچ کر رہو کیونکہ یہ حرکت انسان کو جانور کے درجہ پر پہنچا دیتی ہے۔ نکاح میں بھی پاکدامن ہونے کی شرط رکھی گئی ہے ورنہ خراب، بد کردار عورت سے بھی نکاح ہوسکتا ہے مگر ایسی عورت اچھے بھلے نیک کردار بندے کو بھی برائیوں اور خباثتوں کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ جب ایک اچھا بھلانیک آدمی بری صحبت سے برے راستوں پر چل پڑے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ایسے انسانوں کے تمام اعمال بےکار ہوجاتے ہیں اور آخرت میں اس کو سوائے نقصان کے کچھ بھی نہ ملے گا، لہٰذا اللہ کے اس فرمان پر ضرور عمل کرنا چاہیے کہ شادی کرتے وقت چاہے عورت مسلمان ہو چاہے اہل کتاب ہو مگر ہو پاکدامن کیونکہ، گھر بچے اور خاوند نیک اور پاکدامن بیوی کے ساتھ ہی پاکیزہ اور پرسکون رہ سکتے ہیں۔ نیک، پاکدامن اور صالحہ بیوی دنیا میں بڑی نعمت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ بیان کرتے ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : ” دنیا متاع ہے اور اس کی سب سے بہتر متاع نیک عورت ہے۔ “ ( صحیح مسلم بحوالہ ریاض الصالحین )
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر مسح کرلو اور پاؤ ں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اگر ناپاکی کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہوجاؤ۔ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اللہ تم پر زندگی تنگ نہیں کرنا چاہتا۔ اگر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو، بس اس پر ہاتھ مار کر اپنے مونہوں اور ہاتھوں پر پھیرلیا کرو اللہ تم پر زندگی کو مشکل نہیں بنانا چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تمہارے لیے پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بنو

وضو، غسل اور تیمم کا طریقہ تشریح : اس آیت میں پاک صاف ہو کر نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پاکیزگی انسانی صحت اور روح کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی خوراک۔” پاک صاف رہنا نصف ایمان ہے۔ “ ( مسلم) اسی لیے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جب بھی تم نماز کا ارادہ کرو تو وضو کرلو۔ وضو کرنے میں ہمارے جسم کی صفائی ہوجاتی ہے کیونکہ پہلے دونوں ہاتھ دھلتے ہیں، پھر منہ میں پانی ڈال کر اچھی طرح کلی ہوتی ہے، پھر ناک کی صفائی خوب اچھی طرح، پھر منہ کا دھونا اس کے بعد دونوں بازو کہنیوں تک، پھر ہاتھ تر کرکے سر کا مسح اور آخر میں ٹخنوں تک پاؤں اچھی طرح دھوئے جاتے ہیں یہ ساراکام انسان کو نہ صرف صاف ستھرا کردیتا ہے بلکہ انسان اپنے اندر بڑی تازگی، خوشی اور سکون محسوس کرتا ہے۔ وضو کا ہر ایک عمل صحت وصفائی کا بہترین ذریعہ ہے، پھر جب انسان سوچتا ہے کہ یہ اللہ کے دربار میں حاضر ہونے کا پہلا موقع ہے تو اس کی خوشی سرور میں بدل جاتی ہے اسکا اندازہ ایک اچھا، سچا، اور پکا مسلمان بڑی اچھی طرح کرسکتا ہے، پھر اللہ سے مدد مانگنے، توبہ کرنے اور ملاقات کرنے کا کتنا آسان، بہترین اور پیارا طریقہ ہے جب چاہو اس سے ملاقات کرلو، جو بات کسی سے نہیں کرسکتے اس سے کرلو۔ وضو کے علاوہ غسل اس وقت ضروری ہے جب کہ انسان کے جسم پر کسی قسم کی گندگی لگی ہو اور غسل کرنا ضروری ہو تو پھر پانی سے جسم کو اچھی طرح دھو لو لیکن اگر کوئی شخص بیمار ہے پانی استعمال نہیں کرسکتا یا سفر میں ہے اور پانی مل نہیں رہا تو پھر ہماری سہولت لے لیے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ پاک مٹی لو، پھر تیمم کی نیت کرو دونوں ہاتھ مٹی پر مارو چہرے پر ہاتھ اچھی طرح پھیرو پھر دونوں ہاتھوں پر پھیرو یہ تیمم کا طریقہ انسان کی سہولت کے لیے بتایا گیا ہے۔ تیمم کر کے اللہ کے حضور نماز کے لیے کھڑے ہوسکتے ہیں قضائے حاجت ہو یا ہوا نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے دوبارہ وضو کرنا فرض ہوجاتا ہے نیند آنے سے بھی وضو ختم ہوجاتا ہے دوبارہ وضو کرلینا چاہیے۔ اب اگر دیکھا جائے تو اللہ جل شانہ نے انسانوں کی بہتریوں کے لیے ہر قانون بنایا ہے کوئی بھی قانون، اصول یا حکم اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں دیا کہ جس سے انسان مشکل میں پڑجائے یا ادا کرنا انتہائی مشکل ہو، ہر حکم میں انسان کے لیے فائدے ہی فائدے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے قوانین پر عمل کریں تو دنیا و آخرت دونوں میں فائدہ ہی فائدہ ہے کامیابی ہی کامیابی ہے سکون ہی سکون ہے۔ اسی لیے ہم قرآن وسنت کو اللہ کی رحمت اور تحفہ کہتے ہیں اس رحمت اور تحفہ کے لیے ہر انسان کو ہر وقت اس کا شکریہ ادا کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ رب العزت چاہتا ہے کہ میرے بندے اتنے ہشاش بشاش، بےفکر، مطمئن اور آزاد زندگی گزاریں کہ نہ ان کو مال کی فکر ہو نہ عزت کی اور نہ صحت کی۔ کیونکہ جب ایک بندہ میرے حضور کھڑے ہو کر عاجزی سے اپنا سب کچھ میری حفاظت میں دے دیتا ہے تو ہر فکر سے آزاد ہوجاتا ہے مگر اس تمام عمل میں مکمل خلوص، نیک نیتی اور بھروسہ و توکل ضروری ہے ایمان میں بڑی طاقت ہے۔
Ayah 5:7

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اللہ نے جو نعمت تم کو عطا کی ہے اس کا خیال رکھو اور اس پکے عہد کو نہ بھولو جو اس نے تم سے لیا ہے۔ یعنی تمہارا یہ قول کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اللہ سے ڈرو اللہ دلوں کی باتوں کو جانتا ہے

اللہ سے کیا گیا وعدہ تشریح : آیت 6 اور 7 میں عبادات کے بارے میں بتایا جارہا ہے جبکہ اس سے پہلے چند آیات میں دنیاوی زندگی کے بہترین اصول انسان کو بتائے گئے ہیں۔ اس آیت میں اس عہد کا ذکر کیا جارہا ہے جو انسان کلمہ پڑھتے ہی اللہ رب العزت سے کرلیتا ہے کہ وہ اللہ کے ایک ہونے کا اقرار کرتا ہے اور یہ اقرار کرتا ہے کہ سیدنا محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، یعنی قرآن وسنت کے تمام احکامات چاہے اس کا تعلق دنیاوی کاروبار سے ہو یا عبادت سے ہو، سب پر عمل کرنا اس پر ضروری ہوگیا ہے جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جاچکا ہے کہ قرآن انسان کے لیے رحمت، برکت اور روشنی ہے کسی کا ڈر، خوف یا دباؤ انسان کو اپنے عہد سے، یعنی اسلام سے دور نہیں کرسکتا جبکہ انسان کے دل میں اللہ کا خوف موجود ہو۔ اللہ کا خوف ہی ہے جو انسان کو راہ راست پر قائم دائم رکھتا ہے اس بات کا خیال ہر مسلمان کو رکھنا ضروری ہے کہ اللہ کا علم اور طاقت اس قدر پائیدار ہے کہ وہ دلوں کے اندر کی بات کو بھی جانتا ہے اور ہماری نیتوں کا اجر بھی ہمیں ضرور دے گا۔ اصل میں تو اعمال کا دارومدار نیت پر ہی ہے۔
Ayah 5:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کی خاطر حق پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ، یہ تقوٰی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے کہ تم عدل کرو اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

حقوق العباد میں انصاف کرو تشریح : اس آیت میں حقوق العباد میں سے ایک حق کی بات ہورہی ہے وہ ہے گواہی دینا۔ جب بھی زندگی میں کبھی گواہی دینے کا موقع آئے تو صرف یہ سوچو کہ اللہ کے ڈر سے یا اس کے حکم سے سچی گواہی دینی ہے اس میں نہ تو کسی کا لحاظ شامل ہو نہ کسی طاقت ور کی طاقت کا ڈر ہو اور نہ ہی کسی رشتہ دار ہی کا خیال ہو بلکہ صرف یہ خیال ہو کہ غلط گواہی دینے سے اللہ ناراض ہوجائے گا۔ اور پھر یہ بھی خیال مت کرو کہ یہ گواہی دینے سے دشمن کا بھلا اور دوست کا نقصان ہوجائے گا بیشک بندہ دشمن کے گروہ سے تعلق رکھتا ہو اگر تم جانتے ہو کہ سچا ہے تو دوست قبیلہ کے خلاف گواہی دے دو اللہ کا ڈر ہر دوستی، دشمنی، رشتہ داری اور قرابت داری سے بڑھ کر ہے اور یہ خوف الہٰی ہی تقو ٰی کہلاتا ہے اللہ تو ہر ہر پل کی خبر رکھتا ہے جب یہ یقین ہو تو کون ہے جو غلط راستے کی طرف چلے۔ اللہ کا حکم ہے کہ بندہ کسی کی حق تلفی کسی صورت اور کبھی بھی نہ کرے۔ یہ با ہمی عزت و احترام اور اخلاق کی پابندی کا ایک بہت بڑا اصول اور ضروری سبق ہے اور حکم الہٰی ہے اس کی پابندی خود انسانوں کے لیے مفید ہے۔ بقول ابی نعیم : ” میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرا کر اور بات سچی کیا کر۔ “ (ابی نعیم )
Ayahs 5:9–10

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائیں اور نیک کام کریں اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاؤں سے در گزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر دیا جائے گا۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو کفر کریں اور اللہ کی آیات کو جھٹلائیں تو وہ دوزخ میں جانے والے ہیں

سزا اور جزا تشریح : اللہ رب العزت نیکی اور برائی کا ذکر ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس طرح جنت اور دوزخ کا ذکر بھی ساتھ ساتھ ہوتا ہے ہر مسلمان کا ایمان ہے آخرت ضرور ہوگی، مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے، دنیا میں کئے گئے اعمال کا بدلہ اچھا یا برا ضرور ملے گا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ دہرایا جارہا ہے کہ نیک لوگ اللہ کو پسند ہیں اور ان کے لیے ان کی چھوٹی موٹی خطائیں تو ویسے ہی معاف کردی جائیں گی اور ان کے نیک اعمال کا بدلہ جنت کی شکل میں ان کو ضرور دیا جائے گا جنت کی تعریف کئی دفعہ ہوچکی ہے آخرت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہوگی، اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا تو وہ دوزخ میں جائیں گے۔ قرآن میں جہنم کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔ ” در حقیقت جہنم ایک گھات کی جگہ ہے۔ سر کشوں کا ٹھکانا جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔ وہاں وہ نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ پینے کی چیز کا، ہاں ! البتہ گرم پانی اور زخموں کا دھون ( انہیں ملے گا) یہ بھر پور بدلہ ہے ان کے کرتوتوں کا۔ یہ لوگ دراصل حساب آخرت کا عقیدہ ہی نہیں رکھتے تھے۔ اور ہماری آیات کو خوب جھٹلاتے تھے۔ “ ) سورة النبا۔ آیات 21 تا :28) اکثر اچھے خاصے مسلمان کو مذاق کے طور پر یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ دیکھا جائے گا جب مریں گے تو دیکھا جائے گا۔ یہ ہر شخص کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ چھوٹا سا جملہ جو بےپروائی سے کہا جاتا ہے کس قدر بڑا گناہ بن جاتا ہے ؟ اس لیے توبہ کرنی چاہیے اور دوزخ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے اللہ تعالیٰ اَلرَّحْمٰنُ ( بےحد رحم کرنے والا) اور اٰلمُنْتَقِمُ (بدلہ لینے والا) بھی ہے یہ سب کچھ سچ اور یقینی ہے اس میں ذرہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں۔
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے، جبکہ ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارداہ کرلیا تھا اللہ نے ان کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیے۔ اللہ سے ڈر کے کام کرتے رہو، ایمان رکھنے والوں کو اللہ پر ہی بھروسہ رکھنا چاہیے۔

اللہ کی مہربانی تشریح : یوں تو بیشمار ایسے واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ رب العزت نے ہر مشکل وقت میں غیبی امداد سے مسلمان کی مدد کی۔ یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جسے سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ یہودیوں کے ایک گروہ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے خاص خاص صحابہ کو دعوت پر بلایا تھا اور خفیہ طور یہ سازش کی تھی کہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑیں گے لیکن عین وقت پر اللہ کے فضل سے نبی اکرم ﷺ کو سازش کا حال معلوم ہوگیا اور آپ ﷺ دعوت پر تشریف نہ لے گئے۔ ( تفہیم القرآن ) مطلب یہ ہے کہ جب اللہ رب العزت نے وعدہ کرلیا کہ وہ مسلمانوں کا حامی وناصر ہے اور کئی بار یہ بات ثابت بھی ہوچکی ہو تو پھر مسلمانوں کو ہر قسم کے خوف اور ڈر سے اپنے دلوں کو پاک صاف رکھ کر ہر نیک کام کرنا چاہیے۔ اگر کسی سے ڈر نا ہی ہے تو صرف اللہ سے ڈر و کیونکہ وہ ہی الحَفِیْظُ ( حفاظت کرنے والا) ہے۔
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ سردار مقرر کئے تھے اور اللہ نے کہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے رب کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہارے گناہ تم سے دور کر دونگا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کر دں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے غلط روش اختیار کی تو وہ بیشک سیدھے راستہ سے گمراہ ہوگیا

بنی اسرائیل سے اللہ کا وعدہ اور نافرمانی پر سزا تشریح : اسی سورة کی آیت نمبر 7 میں مسلمانوں کا اللہ سے عہد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب یہاں مثال بیان کرنے کے لیے بنی اسرائیل کا قصہ دوبارہ شروع کیا جارہا ہے صرف اس لیے کہ ہم مسلمانوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور اس سے کیا ہوا وعدہ یاد رکھتے ہوئے اس کے تمام احکامات پر عمل کرنا اور نیکی و پاکیزگی کی راہ پر چلنے سے ہی نجات ملے گی آخرت میں انعامات ملیں گے اور دنیا میں ترقی، کامیابی اور عزت واحترام ملے گا ورنہ یہود کی طرح ہمارا انجام دنیا میں دربدر کی ٹھوکریں اور آخرت میں جہنم کا عذاب مقرر کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ مذکورہ آیت میں فرماتے ہیں۔ سب سے پہلے تقوٰی کا مطلب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے قرآن میں بار بار تقو ٰی کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ انسانی زندگی کی نجات ہی تقو ٰی پر قائم رہنے سے ہے۔ تقو ٰی کا مطلب ہے آخرت اور اللہ کا خوف رکھتے ہوئے قناعت، لالچ سے دوری، جذبات پر قابو، سچ بولنا، انصاف کرنا، خودداری، غیرت مندی، اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کے اندر رہنا، یعنی بہترین کردار کی تمام خوبیاں تقو ٰی کہلاتی ہیں۔ یہ عہد بنی اسرائیل سے اللہ نے کیا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نے تقو ٰی اختیار کیا، نماز قائم کی، زکوٰۃ دی، رسولوں پر ایمان لائے نیک کاموں میں روپیہ خرچ کیا تو جنت ملے گی ورنہ جہنم میں ڈال دئیے جاؤ گے۔ یہی عہد مسلمانوں سے بھی لیا جاچکا ہے ہمیں چاہیے کہ بنی اسرائیل کی کہانی سے سبق سیکھیں اور ہرگز کوتاہی، نافرمانی، ضد اور ہٹ دھرمی سے زندگی نہ گزاریں کیونکہ جو انجام یہود کا ہوا یا ہورہا ہے کہیں ہمارا بھی یہی انجام نہ ہوجائے۔ اگلی آیت میں ان کے بارے میں مزید بتایا جارہا ہے ملاحظہ ہو۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

پھر ان کے اپنے عہد کو توڑ ڈالنے کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کردیے۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کرکے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ انہیں معاف کردو ان کی حرکتوں سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کرتے ہیں

بنی اسرائیل کے لیے عذاب تشریح : اس آیت میں یہود کی بری حالت اور نا لائقی کی مثال دی جارہی ہے۔ کہ وہ لوگ اپنی تمام نعمتوں، برکتوں اور فضیلتوں کو بالکل بھول گئے ہیں اس لیے اللہ نے ان پر لعنت بھیج دی، یعنی اپنی رحمتوں کا نزول بند کردیا ہے مسلمانوں کو ان سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ یہود نے اپنی آسمانی کتاب کے الفاظ بدل دیے، کہیں ان کے مطلب بدل دیے غرض ہر نیکی کے کام سے دور ہوگئے ہیں، اس لیے ان کے دل نیکی سے بالکل خالی ہوچکے ہیں کبھی بھی ان کے دلوں میں نرمی، تقوٰی اور انصاف کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ یہ اسی طرح ہے کہ جب انسان ایک برا کام کرتا ہے تو اس کا ضمیر (نفس یا دل) اس کو بار بار کہتا ہے کہ یہ برا کام ہے جو انسان تو اس آواز سے متاثر ہو کر توبہ کرلے اور گناہ سے باز آجائے وہ تو بچ گیا لیکن جس نے اپنی اس اندر کی آواز کو دبا دیا تو پھر وہ گناہوں کی دلدل میں غرق ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی حال یہود کا بھی تھا اللہ رب العزت نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ یہود تمہارے ساتھ شرارت کرتے رہیں گے، تنگ کرتے رہیں گے مگر آپ پروا نہ کریں، پکے ارادے سے اپنے کام میں لگے رہیں اور ان کو معاف کرتے رہیں، مسلمانوں کا بلند کردار یہ ہی سبق دیتا ہے کہ معاف کرتے رہو، پھر ان لوگوں میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں جیسا کہ عبداللہ بن سلام ؓ جو پکے مسلمان بن گئے تھے۔ اللہ کی صفت ہے معاف کرنا، اس لیے وہ معاف کرنے والوں کو بےحد پسند کرتا ہے تو اے نبی ﷺ ! آپ بھی ان کو معاف کرتے رہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ ان میں سے راہ راست پر آجائیں۔
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے ان لوگوں سے بھی عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصارٰی ہیں مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصہ انہوں نے فراموش کردیا، آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور آپس کے حسد اور بغض کا بیج بو دیا اور ضرور ایک وقت آئے گا اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا کرتے رہے ہیں

عیسا ئیوں کا حال تشریح : مسلمانوں کو عبرت دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ یہود ونصارٰی کی مثال دے رہے ہیں۔ یہود نے بھی عہد سے منہ موڑ لیا اور نصارٰی نے بھی عہد سے منہ موڑ لیا اور اللہ کے غصہ، عذاب اور غضب کے شکار ہوئے۔ اسی طرح اگر مسلمان بھی اپنے عہد جو کہ کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کیا جاتا ہے ہٹ گئے، پھرگئے یا سست ہوگئے تو ان کا انجام بھی یہود و نصارٰی جیساہی ہوگا یہ نہ سمجھیں کہ اللہ رب العزت ان سے رعایت کریں گے یا ان کے نبی ان کو بچالیں گے یا ان کے باپ دادا ان کو بچالیں گے ہرگز نہیں۔ پہلی کتابوں میں بھی اور قرآن مجید میں بھی بار بار تاکید اور وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ تم لوگ مرجاؤ گے مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاؤ گے مگر اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کر کے اللہ کے حضور پیش کئے جاؤ گے اور تمہارا کیا ہوا سب کچھ سامنے ہوگا اس کے مطابق اللہ رب العزت سزا یا جزا دے گا۔ کوئی سفارش نہ ہوگی۔ تو پھر جو لوگ یا قومیں اللہ سے کیا ہوا وعدہ بھول جاتی ہیں وہ دنیا میں ذلیل و خوار، ناکام و نامراد ضرور ہوتی ہیں جیسا کہ یہود و نصارٰی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ہمیں چاہیے کہ کلمہ شہادت کا کیا ہو اوعدہ ہر وقت یاد رکھیں، یعنی قرآن و سنت پر پوری طرح عمل کریں تو دنیا و آخرت میں ہم سب اللہ رب العزت کی رحمتوں، بر کتوں اور نوازشوں کے حق دار بنے رہیں گے ورنہ بری، نافرمان اور بد کردار قوموں کو اللہ نیست و نابود کردیتا ہے اور ان کی جگہ دوسری قوموں کو لے آتا ہے تاکہ دنیا میں بدی بہت زیادہ پھیل کر انسانوں کو بےسکون اور بےحیا نہ بنا دے یہی دستور الٰہی ہے جو بار بار انسان کو سمجھایا جارہا ہے۔ ایک بچہ اگر ماں سے کیا ہوا عہد پورا نہ کرے تو اس کا انجام کیا ہوگا ؟ یہی کہ ایک طرف وہ ماں کی محبت میں خود کمی کا باعث بنے گا اور دوسری طرف وہ گمراہی اور نافرمانی کے چکر میں پڑکر دنیا میں بھی نقصان اٹھائے گا اور آخرت میں دگنی سزا پائے گا۔ ایک ماں کی نافرمانی کی اور دوسری گناہ اور بدکاری کی۔ اللہ کے عہد کو عیسائیوں نے توڑا تو ان کے اندر نہ اتفاق رہا، نہ انسانیت، نہ ہی سکون قلب ہی رہا گو یا اپنے ہی ہاتھوں خود مصیبتوں میں پھنس گئے۔ نہ دنیا ملی اور نہ آخرت میں کچھ ملے گا سوائے عذاب کے۔ ہم مسلمانوں کو اللہ غفور الرحیم ان تمام پریشا نیوں سے اپنی پناہ میں رکھے اور دنیا و آخرت میں اپنے انعامات کی بارش کرتا رہے۔ آمین !
Ayahs 5:15–16

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! ہمارا رسول تمہارے پاس آگیا ہے جو کتاب الٰہی کی بہت سی ان باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے اور بہت سی باتوں پر در گزر بھی کرجاتا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی واضح کتاب۔

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

جس سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سلامتی کے طریقے بتاتا ہے جو اس کی رضا چاہتے ہیں اور اپنے حکم سے ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف ان کو لے جاتا ہے۔

قرآن ہدایت کی کتاب ہے تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اور ان کی طرف اتاری گئی کتاب دونوں تمہارے پاس آگئے ہیں اور وہ تمام باتیں کھول کھول کر تمہارے سامنے بیان کر رہے ہیں جو تہیں تمہاری کتاب تورات اور انجیل میں بتائی گئی تھیں مگر تم لوگوں کو بتاتے نہیں تھے بلکہ چھپاتے تھے اور تمہاری کرتوت جو لوگوں کو بتانے ضروری ہیں وہ بھی اللہ نے اس کتاب کے ذریعے بتائے ہیں ہاں ! جن کے بتانے سے کوئی فائدہ نہ تھا وہ تمہاری پردہ پوشی کی وجہ سے نہیں بتائے۔ یہاں ایک سبق یہ بھی دیا جارہا ہے کہ بغیر وجہ اور فائدے کے کسی کا کوئی عیب ظاہر نہ کرو بلکہ اس کو چھپا رہنے دو کسی کے عیب کو افشاء نہیں کرو۔ یہ بات اللہ کو پسند نہیں ہے کیونکہ اس سے انسانوں میں بہت سی بدامنی اور خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، لہٰذا کسی کی بھی بری بات نشر نہیں کرو۔ پھر اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ کتاب ( قرآن مجید) جو اب آخری نبی ﷺ کے ذریعے بھیجی گئی ہے یہ ایسی سچی اور مکمل کتاب ہے کہ اس کے اصول ایسے پکے اور بہترین ہیں کہ جو بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس پر عمل کرے گا تو اس کی زندگی ایسی آسان، خوبصورت اور کا میاب ہوجائے گی جیسے اندھیرے سے روشنی میں تمام اچھی بری چیزیں، گڑھے اور صاف راستے نظر آنے لگتے ہیں۔ پھر جو بھی سیدھا اور کامیابی کا راستہ اختیار کر کے کامیاب ہونا چاہے اللہ اس سے خوش ہو کر اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور جو لوگ برے اور غلط راستوں پر چل کر اپنی زندگیوں کو برباد کرنا چاہیں تو اللہ رب العزت ان کے لیے ایسے ہی غلط راستے آسان کردیتا ہے اور یوں وہ اپنی دنیا و آخرت برباد کرلیتے ہیں۔ قرآن روشنی ہے، ہدایت ہے، سچی کتاب ہے یہ انسان کو کفر کی تاریکی سے نکال کر ایمان اور نجات کی روشنی کی طرف لے جاتی ہے اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔” اِھدِنَا الصراط المستَقِیمَ “ ( ہمیں سیدھی راہ پر چلا)
Ayahs 5:17–18

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ ( اے محمد ﷺ کہو کہ اگر اللہ مسیح ابن مریم، اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کسی کی ہمت ہے جو اس کو اس کام سے روک سکے ؟ اللہ تو زمین اور آسمان اور وہ تمام چیزیں جو ان کے درمیان موجود ہیں سب کا مالک ہے جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

یہود و نصارٰی کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے ( نعوذ باللہ) اور اس کے مقبول ترین لوگ ہیں۔ ان سے پوچھو پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟ اصل میں تم بھی ویسے ہی انسان ہو، جیسے باقی تمام انسان اللہ نے پیدا کیے ہیں وہ جسے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ زمین اور آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا وہی مالک ہے اور اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔

عیسائیوں کی گمراہی تشریح : جیسا کہ آیت میں یہود و نصارٰی کی تا ریخ اور ان کے اعمال و عقائد کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر ان کا انجام بھی بتایا گیا ہے اور پھر بار بار خبردار کیا جارہا ہے کہ کفر، ہٹ دھرمی، نافرمانی اور بد عہدی سے بچو کیونکہ تم چاہے پیرزادے ہو چاہے کتنے ہی بڑے پیغمبر کی اولاد ہو لوٹ کر تم نے اللہ کے پاس ہی جانا ہے سزا اور جزا اپنے کیے ہوئے اعمال کے مطابق ہی ملے گی چاہے تم اپنے آپ کو اللہ کے مقبول ترین بندے سمجھو چاہے اپنے رسول کو اللہ یا اس کا بیٹا بنا دو اس پر دگنا اعذاب ہوگا۔ کیونکہ اس بحث میں پڑ کر کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں، اس لیے اللہ کے بیٹے ہیں، یا اللہ ہیں ( نعوذ باللہ) اس کفر اور جو بداعمالیاں وہ نصارٰی کرتے رہے ان کی سزا بھی ملے گی۔ اتنی سی بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آرہی کہ اللہ رب العزت اتنی بڑی کا ئنات کا مالک ہے اور ہر چیز جو اس نے بنائی ہے وہ اس کی محتاج اور اس کی فرمانبردار ہے۔ بھلا سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو یوں اپنی قدرت سے بغیر باپ کے پیدا کرنا اس کے لیے کیسے ممکن نہیں۔ اللہ کی مرضی میں نہ کسی کو دخل کی اجازت ہے اور نہ ہی اعتراض کرنے کی کوئی گنجائش ہے۔ زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کچھ اللہ کی مرضی، ارادے اور حکمت سے پید اہوا ہے اور حکمت سے ہی چل رہا ہے اور پھر ختم ہوجائے گا کیونکہ اس پورے نظام کا مالک اور خالق صرف اللہ وحدہٗ لاشریک لہ ہے۔ وہ جو چاہے کرے جو چاہے نہ کرے۔ بس ہمیں تو صرف یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہمیں جس نے پیدا کیا ہے مرنے کے بعد اسی کے حضور حاضر ہوں گے اور اپنے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ پائیں گے۔ تمام لوگ ایک ہی اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ وہ برے لوگوں کو سزا اور اچھے لوگوں کو جزا دے گا۔
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! یہ رسول ایسے وقت تمہارے پاس آیا ہے، اور دین کی واضح تعلیم تمہیں دے رہا ہے جب کہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدت سے بند تھا تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ سودیکھو ! اب وہ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

یہود ونصارٰی کو جزاو سزا کی خبر تشریح : یہود و نصارٰی کو پھر خبردار کیا جارہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لا کر سیدھی راہ اختیار کرلو۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، اس لیے اس نے نیک کاموں پر جنت کی خوش خبری دینے والا اور برے کاموں پر جہنم کے عذاب سے ڈرانے والا پیغمبر سیدنا محمد ﷺ بھیج دیا ہے اگر تم ان پر ایمان نہ لاؤ گے تو پھر یاد رکھو جزا وسزا دینے والا تمہیں معاف نہ کرے گا۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
Ayahs 5:20–21

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی اس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی۔ اس نے تم میں نبی پیدا کیے، تمہیں بادشاہت عطا کی اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے قوم ! اس پاک سر زمین میں داخل ہوجا ؤجو تمہارے لیے اللہ نے مقرر کردی ہے، پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام ونامراد پلٹو گے

یہود پر اللہ کے احسانات تشریح : ان آیات میں رکوع کے آخر تک اللہ تعالیٰ یہود کو اپنے دیے گئے وہ تمام انعامات یاد دلاتے ہیں اور حکم دیا کہ اب نبی اکرم ﷺ پر ایمان لاکر سیدھی راہ اختیار کرلو اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو بھی خبر دار کرتے ہیں کہ اگر تم نے گمراہی اختیار کی تو یہود کی طرح لعنت کردیے جاؤ گے۔ یہود پر جو انعامات، رحمتیں اور برکتیں اللہ تعالیٰ نے کیں ان کی تفصیل گزر چکی ہے۔ مختصراً یہاں بھی بیان کی گئی ہے۔ تمام نبی بنی اسرائیل ہی میں پیدا کیے گئے، پھر ان کو حکومت بھی دی گئی۔ مصر میں ان کو بڑا اقتدار ملا۔ مصر سے نکل کر شام ان کے نام کردیا اور فرمایا کہ جاکر اسے فتح کرلو۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بہت سے نبی پیدا ہوئے جن میں سیدنا یوسف (علیہ السلام) ، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر انبیاء شامل ہیں۔ دو نعمتیں نبوت اور بادشاہت کا ذکر ہوچکا، تیسری نعمت دولت توحید ہے توحید کی نعمت اور فضل شروع سے بنی اسرائیل کو دیا گیا کیونکہ ان سے پہلے تمام قومیں اور نسلیں شرک و کفر کے وبال میں مبتلا تھیں جب بنی اسرائیل کو شروع ہی سے توحید کا سبق دیا گیا جو انہوں نے اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے بھلا دیا اور یوں اللہ رب العزت کی ناراضگی کے مرتکب ہوئے اور اللہ کی نعمتوں سے محروم کردیے گئے جیسا کہ اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 5:22–26

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا اے موسیٰ ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں، ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں ! اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

ان ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان جباروں کے مقابلہ میں دروازے کے اندر چلے جاؤ، جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ اے موسیٰ ! ہم تو وہاں نہ جائیں گے بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

اس پر موسیٰ نے کہا اے میرے رب ! میرے اختیار میں کوئی نہیں سوائے میری اپنی ذات کے یا اپنے بھائی کے، پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے علیحدہ کر دے۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

اللہ نے جواب دیا اچھا تو وہ ملک ان پر چالیس سال کے لیے حرام ہے، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے، ان نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھائو

بنی اسرائی کا جہاد سے منہ چڑانا تشریح : ان آیات میں بنی اسرائیل کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ جب فرعون ان کے سامنے غرق ہوا تو مصر میں ان کو امن وامان کی زندگی مل گئی مگر نافرمانی سے باز نہ آئے، پھر جب ان کو جہاد شام کا حکم ہوا تو اس حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے جیسا کہ اوپر آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ ملک شام ارض مقدس، بیت المقدس پر اس وقت عمالقہ کا قبضہ تھا۔ جن سے وہ ڈر گئے، حالانکہ بارہ سرداروں میں سے دو سردار یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا نے ان کو بڑی ہمت دلائی اور فتح کا یقین بھی دلایا۔ مگر وہ جہاد کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اس پر چالیس سال تک وہ ایک محدود علاقے میں قید ہو کر رہ گئے۔ اسی دوران سیدنا ہارون (علیہ السلام) فوت ہوگئے چھ ماہ بعد سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) بھی وفات پاگئے۔ یہ تمام قصہ آنحضرت ﷺ کے وقت کے یہود کو سنایا جا رہا ہے کہ تمہارے آبا ئو اجداد نے نافرمانیوں کی اس طرح سزائیں پائیں تم اور مسلمان ان سے عبرت حاصل کریں اور نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آئیں اور عہد کی پابندی کرتے ہوئے توحید و رسالت کو مان لیں اور صراط مستقیم اختیار کریں۔ کہیں تمہارا انجام بھی ان کی طرح ہی نہ ہوجائے۔ آخر میں رب جل جلالہ فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کی حالت، انجام اور سزا پر افسردہ نہ ہوں۔ یہ سزا تو ان کو ملنی ہی تھی۔
Ayahs 5:27–34

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بھی ٹھیک ٹھیک سنا دو جب ان دونوں نے قربانی کی تو دونوں میں سے ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نہ ہوئی۔ اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا۔ اس نے جواب دیا اللہ تو متقیوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھائوں گا، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے پس تو اہل دوزخ سے ہوجائے، ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے۔

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

آخر کار اسکے نفس نے بھائی کے قتل پر اس کو راضی کرلیا، اور اس نے اس کو قتل کر ڈالا اور ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے۔ یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر ! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کا طریقہ نکال سکتا۔ اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتایا۔

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔ مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے، پھر بھی ان میں بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں۔

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے دوڑتے پھرتے ہیں کہ فساد پھیلائیں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا ان کے ہاتھ اور پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں یا وہ جلا وطن کردیئے جائیں۔ یہ ذلت ورسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پائو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

بےگناہ کا قتل اور فسادیوں کی سزا تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ اہل ِ کتاب اور پوری امت کو سیدنا آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کے بارے میں مکمل واقعہ سنا دیں۔ ہابیل اور قابیل سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے جیسا کہ آیات میں بیان کیا جاچکا ہے۔ یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد آئندہ نسلوں کو عبرت دلانا اور نصیحت کرنا ہے اور کچھ شرعی احکامات بھی بیان کرنا مقصود ہے، یعنی اگر کسی نے بغیر وجہ کسی شخص کو قتل کردیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا اور جس نے ایک شخص کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ ایک اہم اصول یہاں اور بیان کیا گیا ہے کہ اعمال اور عبادات کی قبولیت تقو ٰی اور خوفِ الٰہی کی وجہ سے ہے جیسا کہ ہابیل نے کہا کہ ” اللہ تعالیٰ کا دستور یہی ہے کہ متقی، پرہیزگار کا عمل قبول فرمایا کرتے ہیں۔ “ سیدنا علی ؓ نے فرمایا کہ ” تقو ٰی کے ساتھ کوئی چھوٹا سا عمل بھی چھوٹا نہیں ہے، اور جو عمل مقبول ہوجائے اسے چھوٹا کیسے کہا جاسکتا ہے۔ “ ( ابن کثیر) پھر اس واقعہ میں خواہش، حسد اور بغض کو بدترین عادات بتایا گیا ہے کہ ان سے ہی مغلوب ہو کر قابیل نے بھائی کو قتل کر ڈالا اور دنیا و آخرت میں نقصان اٹھایا۔ پھر بھائی کے قتل پر بہت پچھتایا۔ کسی کا حق مارنا اور رشتہ داروں کو ستانا بہت بڑا گناہ ہے۔ قابیل نے قتل کے جرم کا دنیا کو سبق دے دیا، اب ہر قتل میں وہ گناہ اور سزا میں شامل کیا جائے گا۔ اسی لیے تو ہمیشہ نیکی کرنے اور نیکی پھیلانے کی تاکید کی جاتی ہے، پھر اس قصہ سے انسان کو مرنے کے بعد دفن کرنے کا طریقہ بھی سکھایا گیا ہے، پھر یہ بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول کے مقرر کیے ہوئے قانون کی پرواہ نہیں کرتے تو گویا وہ اللہ اور رسول سے جنگ کرتے ہیں، فسادی اور لوٹ مار کرنے والے باغی چار قسم کے ہوسکتے ہیں اور ان کی سزا بھی بیان کی گئی ہے۔ -1 جنہوں نے قتل کردیا ان کو قتل کردیا جائے۔ -2 قتل کر کے مال بھی لوٹ لیا تو ان کو سولی پر چڑھا دیا جائے۔ -3 قتل نہیں کیا مگر مال چھین لیا۔ ان کا دایاں ہاتھ اور پائوں مخالف سمت میں کاٹ دیے جائیں۔ -4 قتل کرنے اور مال لوٹنے سے پہلے گرفتار ہوگئے تو ان کو جلا وطن کردیا جائے۔ اگر باغی گرفتار ہونے سے پہلے معافی مانگ لیں، توبہ کرلیں اور آئندہ فرمانبردار بننے کا اقرار کرلیں تو ان کو معاف کردیا جائے۔ آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا، کیونکہ اللہ غفور رّحیم ہے۔ ایسی سزائیں جو مجرموں کے لیے شرع میں مقرر کردی گئی ہوں ” حدود “ کہلاتی ہیں۔ سچی توبہ کرنے سے حد معاف ہوجاتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے اگر کسی انسان کو مالی یا جانی نقصان پہنچا ہو تو تاوان دینا لازم ہوگا، یعنی اگر مال لوٹا ہے تو مال واپس دینا ہوگا، اگر قتل کیا ہے تو قصاص دینا واجب ہے۔ حقوق العباد صرف توبہ سے معاف نہیں ہوسکتے ہاں ! اگر بندہ خود معاف کر دے تو قصاص معاف ہوسکتا ہے۔ تمام بات چیت میں یہ اچھی طرح واضح ہوگیا ہے کہ اسلامی ” حدود “ کا مقصد صرف اور صرف معاشرے کی اصلاح کرنا ہے نہ کہ وحشت پھیلانا۔
Ayah 5:35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کا قرب حاصل کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم (ہر طرح) فلاح پائو۔

کامیابی کی ضمانت ” قربِ الٰہی اور جہاد “ تشریح : اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے کہ جہاں عذاب اور سزا کا بیان ہوتا ہے تو وہاں ساتھ ہی نجات اور انعام کی خوش خبری بھی ضرور دی جاتی ہے۔ اس آیت میں اللہ کا قرب حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ قرب کس طرح حاصل کیا جائے۔ یہاں وسیلہ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب عربی لحاظ سے قرب ہے جب کہ اردو میں اس کا مطلب ہے ذریعہ۔ نیک لوگوں کی نصیحتوں پر عمل کرنا اچھی بات ہے ان کا ادب کرنا اور ان کو عزت و احترام دینا ثواب کا کام ہے مگر ان سے حاجت مانگنا شرک ہے۔ اسی طرح جہاد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس سے عام طور پر اللہ کی راہ میں دشمنوں کے خلاف لڑنا سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ عربی میں جہاد کا مطلب بڑا وسیع ہے۔ اس کا مطلب ہے کوشش کرنا۔ تو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کیسے کوشش کی جائے۔ برائی کو روکنے کے لیے، نیکی پھیلانے کے لیے اپنے آپ کو ہر وقت، ہر قدم اور ہر لحاظ سے شیطان کی ترغیب سے بچا کر اللہ کے راستے پر چلانا یہ سب سے بڑا جہاد ہے۔ دین پھیلانے کے لیے کوشش کرنا، چاہے مال و دولت سے ہو، زبان و قلم سے ہو یا جسمانی طور پر محنت مشقت سے ہو، سب جہاد میں شامل ہے۔ فلاح حاصل کرنے کے دو طریقے بتا دیے گئے ہیں۔ قربِ الٰہی کی تمنا اور جہاد۔ پھر فلاح حاصل کرنے والوں کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں ہر لحاظ سے کامیاب و کامران اور خوش و خرم رہیں گے۔ نہ دنیا میں ان کو کسی کا ڈر خوف ہوگا اور نہ ہی آخرت میں ہمیشہ کا عذاب ان کو دیکھنا پڑے گا بلکہ ہر وقت اللہ کی قربت ان کو مطمئن اور خوش باش رکھے گی۔ جہاد کی فضیلت میں سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ کی راہ میں صبح کو چلنا یا شام کو چلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ “ (صحیح بخاری)
Ayahs 5:36–37

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

خوب جان لو کہ جنہوں نے کفر کیا، اگر ان کے پاس ساری زمین کی دولت ہو، اتنی ہی اور اسکے ساتھ اور وہ یہ ساری دولت فدیہ کے طور پردے کر قیامت کے عذاب سے بچنا چاہیں تو وہ دولت ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں دردناک سزا مل کر رہے گی۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں ہمیشہ رہنے والا عذاب دیا جائے گا

کفر کا عذاب ضرور ملے گا تشریح : جیسا کہ ترجمہ سے مطلب صاف واضح ہوگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ایمان اور اعمال کی پاکیزگی کے سوا کوئی چیز نجات نہ دلا سکے گی۔