5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 5:78–79

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے۔

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

انہوں نے ایک دوسرے کو برے کام کرنے سے روکنا چھوڑ دیا تھا۔ یہ برا راستہ تھا جو انہوں نے اختیار کیا۔

داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے بنی اسرائیل پر لعنت کا سبب تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہود و نصارٰی کو خبردار کر رہے ہیں کہ تمہاری بری عادتوں کی وجہ سے تنگ آکر تم پر دو بڑے معتبر رسول سیدنا داود اور سیدنا عیسیٰ (علیہما السلام) لعنت بھیج چکے ہیں۔ اگر تم اس لعنت سے نکلنا چاہو تو اسلام قبول کرلو اور سیدھا راستہ اختیار کرلو۔ لعنت بھیجنے کی تین وجوہات تھیں۔ 1 گناہوں میں بری طرح پھنس چکے تھے۔ 2 دین کی مقرر کی ہوئی تمام حدوں کو توڑ چکے تھے۔ 3 نہ خود گناہوں سے بچتے تھے اور نہ ہی دوسروں کو برے کاموں سے روکتے تھے۔ جب بھی کوئی قوم ان بری عادات کی عادی ہوجاتی ہے تو پھر اس کی بربادی یقینی ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کو ان بگڑی ہوئی قوموں سے سبق سیکھ کر سیدھے راستے کی پیروی کرنی چاہیے تب ہی تو وہ دوسروں کو برائی سے منع کرسکیں گے اور قوم تباہی سے بچ سکے گی۔
Ayahs 5:80–81

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

آج تم ان میں بہت سے ایسے لوگ دیکھتے ہو جو کفار کی حمایت اور دوستی کرتے ہیں۔ یہ انہوں نے اپنے لیے بہت ہی برا کیا ہے۔ اللہ ان پر غضب ناک ہوگیا ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والے عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں۔

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اگر واقعی یہ لوگ اللہ، پیغمبر اور اس پر نازل ہونے والے کلام کو ماننے والے ہوتے تو کبھی بھی کافروں کو اپنا دوست نہ بناتے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ اللہ کی اطاعت سے منہ موڑ چکے ہیں

غلط دوستی کا برا انجام تشریح : پچھلی آیات میں یہود و نصارٰی کی بدعملی کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی وہ کفار کی دوستی سے باز نہ آئے۔ ان آیات میں اہل کتاب اور تمام انسانوں کو مخاطب کر کے جو ہدایات دی گئی ہیں وہ دین و مذہب کی مضبوطی اور ایمان کی سلامتی کے لیے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کو سمجھنا، یاد رکھنا اور عمل کرنا بےحد ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہی ہے کہ بےایمان، برے اور کافر لوگوں سے دوستی کرنا گویا اپنے آپ کو تباہ کرنے کے برابر ہے کیونکہ برے دوستوں کی دوستی برے ہی راستے پر لے جاسکتی ہے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کی گمراہی کی وجہ غلط ماحول اور کفار سے دوستی تھی۔ اسی غلط دوستی کی وجہ سے وہ لوگ اپنی کتاب، رسول اور دین و مذہب سے بالکل دور ہوگئے جس کے نتیجہ میں ان پر پیغمبروں نے اور اللہ نے لعنت بھیجی اور ان کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں انتہائی درد ناک عذاب تیار کیا گیا ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ یہ آیات خبردار کر رہی ہیں کہ ایمان کی سلامتی انسان کی نجات اور آخرت کا انعام صرف ان لوگوں کو ہی ملے گا جو اللہ، رسول اور آسمانی کتابوں پر بالخصوص قرآن مجید پر پختہ ایمان رکھتے ہوں گے۔ قرآن مجید پر اس لیے کہ یہ تمام آسمانی کتابوں کا مجموعہ اور ان کا محافظ ہے۔ بری صحبت سے بچنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جسم کے لیے روح ضروری ہے۔ حدیث ہے : ” تو خود کو برے ہم نشین سے بچا کہ تیری اس سے شناخت ہوگی۔ “ (ابن حبان)
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

تم اہل کتاب کی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پائو گے، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے ان لوگوں کو پائو گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصارٰی ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان میں عالم اور درویش پائے جاتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

یہود و نصارٰی کا مقابلہ تشریح : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو یہود و نصارٰی کا فرق بتایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کیونکہ اسلام برائیوں، خود غرضی اور آپس میں دشمنی سے منع کرتا ہے اور امن و سلامتی کا حکم دیتا ہے اور یہ سب تعلیمات یہودیوں کی فطرت کے بالکل خلاف تھیں کفار مکہ تو تھے ہی جاہل، اس لیے ان دونوں گروہوں نے سمجھا کہ اسلام تو ان سے ان کی سرداری چھین لے گا، لہٰذا انہوں نے مسلمانوں کی اور رسول اکرم ﷺ کی خوب مخالفت کی اور ان کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کی۔ کئی دفعہ نبی ﷺ کو ختم کردینے کی کوشش بھی اسی دشمنی کی وجہ سے کی۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ عیسائی اتنے زیادہ دشمن نہیں ہیں۔ ان میں کچھ لوگ بڑے اچھے، نرم دل، خوش اخلاق اور مسلمانوں سے محبت کرنے والے ہیں۔ مثلاً حبشہ کے عیسائی بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو پناہ دی۔ روم اور دوسرے عیسائی بادشاہوں نے بھی آپ کی بھیجی ہوئی دعوت اسلام اور پیغامات کی بےادبی نہیں کی۔ اس کے برعکس یہودیوں نے شروع دن سے آج تک مسلمانوں کی بھرپور مخالفت کی اور ہمیشہ سے مشرکوں کا ساتھ دیا ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو تکالیف پہنچانے کی مسلسل کوششیں کرتے رہے اور کرتے رہتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہود و کفار شرک میں زیادہ بڑھے ہوئے ہیں جبکہ عیسائی نسبتاً نرم دل اور سمجھ دار ہیں۔
Ayahs 5:83–86

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

جب وہ اسے سنتے ہیں جو رسول ﷺ پر اترا تو حق شناسی کی وجہ سے ان کی آنکھیں تر ہوجاتی ہیں۔ وہ بول اٹھتے ہیں کہ پروردگار ! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ آخر ہم اللہ پر ایمان کیوں نہ لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں ؟ جبکہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے۔

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

ان کے اس کہنے کی وجہ سے اللہ ان کو ایسی جنتیں عطا کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ ہے بدلہ نیکی کرنے والوں کا

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلانے لگے تو وہ دوزخ کے رہنے والے ہیں۔

نصارٰی کے ایک گروہ کی کیفیت ایمان اور ان کی جزا تشریح : پچھلی آیات میں نصارٰی کو یہود سے بہتر کہا گیا ہے۔ ان آیات کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے کچھ لوگ حبشہ ہجرت کر گئے تھے تو وہاں مسلمانوں کو کوئی تکلیف نہ دی گئی بلکہ حبشہ کا بادشاہ نجاشی اور اس کے ساتھی قرآن سن کر روئے، پھر ستر نو مسلم آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے قرآن پاک سن کر ان کے دل اس قدر نرم ہوئے اور متاثر ہوئے کہ سب کے سب رونے لگے۔ یہی وہ پیارے لوگ ہیں جنہوں نے خوبصورت اور حق کی باتیں کیں، جیسا کہ آیات میں بتایا گیا ہے۔ رب کریم نے ان کو بہشت کی خوشخبری دی کیونکہ انہوں نے دل سے توحید کو قبول کیا، حالانکہ یہ بھی نصارٰی ہی میں سے تھے۔ پھر اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ جو بدنصیب ایمان کی نعمت سے محروم رہے تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم مسلمان خود اپنے اعمال، کردار اور نیتوں پر غور کریں کہ کہیں ہم بھی تو ان بدنصیبوں کے راستے پر نہیں چل رہے۔ ہم بیشک مسلمان تو ضرور ہیں، سوچنا یہ ہے کہ آیا ہمارے اندر مسلمانوں کی صفات بھی موجود ہیں یا کہ نہیں اگر کہیں بھی کوئی کمی دکھائی دے تو اسے فوراً دور کردینا چاہیے اور سچے مسلمان بن کر خود بھی زندگی گزاریں، دوسروں کو بھی سکھائیں، اسی طرح پورا معاشرہ اسلامی معاشرہ صاف ہوجاتا ہے۔
Ayahs 5:87–88

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

اے ایمان والو ! وہ پاکیزہ چیزیں جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کردیں انہیں حرام مت ٹھہرائو اور حد سے مت بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے جو چیز حلال ہے پاکیزہ (اور) کھائو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

اللہ کی حدوں پر قائم رہو تشریح : ان آیات میں ہر بات کو درمیانہ راستہ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے کسی بات میں بھی میانہ روی کو چھوڑ دینا منع ہے۔ حرام حلال کا مسئلہ صرف کھانے پینے تک ہی نہیں بلکہ اس میں انسان کی خواہشات، اس کا آرام اور دنیا کے بیشمار دوسرے کام بھی شامل ہیں، اس لئے ہر بات میں اعتدال کو سامنے رکھتے ہوئے اور قرآن و سنت کے احکام کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔ دنیا اور دین ساتھ ساتھ چلانا ہی بہترین طریقہ ہے اور ہر قدم پر اپنے دل میں اللہ کا خوف محسوس کرتے رہنا ہی ایمان کی نشانی ہے اور نجات کی ضمانت ہے۔
Ayah 5:89

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

تم لوگ جو مہمل قسمیں کھالیتے ہو ان پر اللہ گرفت نہیں کرے گا، مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو ان پر اللہ ضرور پکڑے گا۔ (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو درمیانے درجے کا کھانا کھلائو جیسا کہ تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہنائو، یا ایک غلام آزاد کرو، اور جو یہ نہ کرسکے وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھا کر توڑ دو ۔ اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔ اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لئے واضح کرتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔

قسم کا کفارہ تشریح : چونکہ بعض لوگوں نے حرام حلال کے سلسلے میں قسمیں کھا رکھی تھیں تو اسی لئے قسموں کے بارے میں تفصیلات اوپر آیت میں بیان کردی گئی ہیں۔ پھر تاکید کی گئی ہے کہ بلاوجہ ہر وقت قسمیں کھانا بری بات ہے اور پھر سنجیدگی سے کھائی گئی قسم کو بھلا دینا اور بھی بری بات ہے۔ کیونکہ ارادہ سے کھائی گئی قسم اگر ٹوٹ جائے یا توڑنی پڑے تو اس کے لئے کفارہ دینا فرض ہے۔ قسم کا بیان پہلے بھی گزر چکا ہے۔ اللہ رب العزت اپنے احکامات بار بار بیان فرماتا ہے کیونکہ ان میں بندوں کے لئے بیشمار فائدے موجود ہیں۔ اس لئے اتنی اچھی ہدایات دینے والے کا ہر وقت شکر ادا کرنا چاہیے۔ کہ اس نے زندگی گزارنے کا ہر اچھاطریقہ اور قانون اپنے بندوں کے لیے نازل کیا ہے۔ اور یہ اس کی مہربانی اور محبت کی دلیل ہے۔
Ayahs 5:90–92

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یقینا شراب، جوا، آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو تاکہ تم نجات پائو۔

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے سے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے ؟۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اللہ اور رسول کی بات مانو اور باز آجاؤ، لیکن اگر تم نے حکم نہ مانا تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے

شراب اور جوئے کے نقصانات تشریح : شراب، جوا اور فال لینا یہ سب پچھلے اسباق میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے جیسا کہ پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے طریقے بتائے گئے ہیں یہاں بھی انسانوں کی بہتری کے لیے شراب، جوا اور فال لینا حرام قرار دیا گیا ہے۔ ان کی اس قدر خرابیاں ہیں کہ ان کو اللہ نے انتہائی غلیظ کام کہا ہے۔ شراب سے انسانی عقل ختم ہوجاتی ہے صحت تباہ ہوجاتی ہے اور یوں انسان اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور انسانی محبت سے دور ہوجاتا ہے۔ جوا، لالچ، حرص نقصان اور آپس کی دشمنی کا ذریعہ بنتا ہے۔ فال اور توہم پرستی، ایمان یقین اور بھروسے کو ختم کرتی ہے۔ ان تمام باتوں کو مان لینے سے انسانوں کا اپنا ہی فائدہ ہے نہ ماننے سے اپنا ہی نقصان ہے۔ نہ اللہ کا کوئی نقصان ہوگا اور نہ رسول ﷺ کا کوئی نقصان ہوگا۔ ان کا کام تو صرف برے، اچھے کی تمیز سکھانا تھا اللہ کا حکم بندوں تک پہنچانا تھا اور بس ! آگے ان کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ جو کرو گے اس کا بدلہ دنیا میں اور آخرت میں تمہیں مل جائے گا۔
Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے انہوں نے تحریم شراب سے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں (جو حرام کی گئی ہیں) اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر تقوٰی اختیار کریں اور ایمان لائیں، پھر یہ خوف الٰہی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے

حرمت شراب سے قبل پر کوئی گرفت نہیں تشریح : جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پہلے شراب سے بچنے کا حکم ہوا پھر شراب کی برائیاں بتا کر بچنے کا حکم ہوا۔ پھر شراب کو مکمل طور پر حرام قرار دے دیا گیا تو اس آیت میں ان لوگوں کے بارے میں تفصیلات بتائی گئی ہیں جو حرام کے حکم آنے سے پہلے شراب پیتے رہے جبکہ ایمان لا چکے تھے تو ان کے لئے وضاحت کی گئی ہے کہ حکم آنے کے بعد اگر کوئی مومن شراب پیے گا تو اس کی پکڑ ضرور ہوگی لیکن حرام کا حکم آنے سے پہلے جو ہوگیا سو ہوگیا معاف ہے مگر شرط یہ ہے کہ آئندہ ان تمام احکامات کی سختی سے پابندی کرے جو اوپر آیت میں بیان کئے گئے ہیں۔ اللہ رب العزت نیک کردار بندوں کو اور اللہ سے ڈرنے والے بندوں کو بےحد پسند کرتا ہے۔ سورة بقرہ آیت 219 اور سورة نساء آیت 43 میں شراب کو ناپسند کیا گیا اور پھر نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اس کے بعد سورة مائدہ کی آیات 91-90 میں شراب کو بالکل حرام قرار دے دیا گیا۔ سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ جس دن شراب حرام ہوئی اس دن مدینہ کی گلیوں میں شراب پانی کی طرح بہادی گئی۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر ) کیونکہ شراب پینا، بیچنا، رکھنا اور تحفہ میں دینا یہ سب سختی سے حرام قرار دے دیا گیا تھا۔ تعمیل حکم کی یہ بڑی شاندار مثال پیش کی گئی ہے۔ حدیث میں آیا ہے۔ ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : شراب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے شراب پر اور اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے خریدنے، ، کشید کرنے، کشید کروانے اور لے کر جانے والے پر۔ “ (از تفہیم القرآن) یہی وجہ تھی کہ اللہ کا حکم آنے پر تمام مسلمانوں نے فوراً اس کو چھوڑ دیا۔ مگر فی زمانہ اس کی خلاف ورزی دیکھنے میں آتی رہتی ہے۔ شریعت کی رو سے یہ بات اسلای حکومت کے فرائض میں داخل ہے کہ شراب کی بندش کے حکم کو قانوناً نافذ کیا جائے تاکہ ملک قوم اور مسلمان اس حرام چیز کے تمام نقصانات سے پوری طرح بچ سکیں اور اس طرح اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شمار ہو سکیں۔
Ayahs 5:94–96

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ تمہیں اس شکار کے ذریعے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے نیزوں اور ہاتھوں کی زد میں ہوگا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون اس سے ڈرتا ہے غائبانہ طور پر، پھر جس نے اس کی ہدایت کے بعد اس کی مقرر کی ہوئی حد کو پار کیا اس کے لئے دردناک سزا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! احرام کی حالت میں شکار نہ مارو، اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اسی کے برابر ایک جانور مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا پھر کفارہ کے طور پر چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، یا پھر اس کے برابر روزے رکھنے ہوں گے، تاکہ وہ اپنے کئے کا مزہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہوچکا اسے اللہ نے معاف کردیا، لیکن اب اگر کسی نے یہ حرکت دوبارہ کی تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ہے، جہاں تم ٹھہرو وہاں بھی اسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لیے زادراہ بھی بنا سکتے ہو۔ البتہ خشکی کا شکار، جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے۔ پس اس اللہ کی نافرمانی سے بچو جس کے حضور تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا

حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور کفارہ تشریح : احرام کی حالت میں شکار کرنا منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس طرح رب العزت انہیں آزمانا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی حکم عدولی کرے گا تو اس پر جرمانہ ہے اور دردناک سزا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص شکار کرے تو کفارہ لازم ہوگا۔ کفارے کی حد کے لیے فرمایا کہ شکار کئے گئے جانور کے برابر جس کا فیصلہ تم میں سے دو آدمی کریں نذر کے طور پر خانہ کعبہ بھیج دیا جائے اور اسی طرح دو آدمیوں کی رائے کے مطابق مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا روزے رکھے جائیں پہلے یعنی اسلام سے پہلے جو کچھ ہوچکا معاف کردیا گیا ہے مگر خبردار کیا جا رہا ہے کہ اس حکم کے آنے کے بعد اگر کسی نے نافرمانی کرتے ہوئے حکم عدولی کی تو وہ بدلہ سے نہ بچ سکے گا یاد رکھو اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے۔ احرام کی حالت میں خشکی کے جانور کو شکار کرنا، پتہ بتانا یا شکار میں شریک ہونا منع ہے مگر احرام کی حالت میں پانی کا شکار مچھلی وغیرہ حلال ہے۔ ایسے ہی حرم کے احاطہ میں احرام میں ہوں یا نہ شکار کرنا منع ہے۔ احادیث میں موذی جانوروں کو مارنے کی اجازت ہے مثلاً کوا، چیل، سانپ، بچھو، چوہا، بھیڑیا اور بائولا کتا۔ آخر میں خبردار کیا گیا ہے کہ رب العزت کی نظر سے بچ جانا ہرگز ممکن نہیں اس لیے ہر وقت اس دن کو یاد رکھو جب تم سب اکٹھے کرکے اللہ کے حضور پیش کئے جاؤ گے اور اپنے اعمال کی سزا یا جزا پائو گے۔
Ayahs 5:97–100

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

اللہ نے کعبہ کو جو قابل احترام گھر ہے لوگوں کے لیے قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں کو جن کے گلوں میں پٹے پڑے ہوئے ہوں جو کعبہ کی طرف لے جائے جائیں۔ تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے واقف ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے۔

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

خوب جان لو ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور ( اسکے ساتھ ہی) درگزر اور بہت رحم (بھی) کرنے والا ہے۔

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

رسول پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، تمہارے کھلے چھپے ہوئے تمام حالات کا جاننے والا اللہ ہے

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! ان سے) کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال برابر نہیں ہیں، خواہ ناپاک کی زیادتی تمہیں کتنی ہی بھلی لگے، پس اے لوگو ! جو عقل رکھتے ہو اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرتے رہو تاکہ تم نجات پائو

خانہ کعبہ کے بارے میں احکامات تشریح : کعبہ عربی زبان میں چوکور مکان کو کہتے ہیں۔ کعبہ کے ساتھ البیت الحرام کا لفظ اس لیے لگایا گیا ہے تاکہ وہ ایک خاص مکان کو ظاہر کرے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کو لوگوں کے قیام اور امن و سکون کا سبب بتایا ہے۔ یہ چیزیں پہلے بھی اسی طرح محترم تھیں، جس طرح آج ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں بھی اللہ رب العزت نے انسانوں کے امن و سکون کے لیے لوگوں کے دلوں میں ان چار چیزوں کی عزت و حرمت ڈال رکھی تھی۔ وہ چار چیزیں یہ ہیں۔ خانہ کعبہ، ماہ ذی الحجہ، قربانی کے جانور اور جانوروں کے گلے میں ڈالے ہوئے پٹے یا ہار جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ قربانی کے جانور ہیں۔ قبل از اسلام عرب قوم بڑی ہی اکھڑ، جاہل اور فسادی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگیوں میں تھوڑا سا امن اور سکون بحال کرنے کے لیے ان چاروں چیزوں کی حرمت ان کے دلوں میں ڈال رکھی تھی۔ یہاں اس آیت میں صرف ایک مہینہ، یعنی ذی الحجہ کا ہی ذکر ہے مگر بعض جگہ یہ چار مہینوں کو کہا گیا ہے جاہلیت کے زمانے میں تو چار مہینے ہی سمجھے جاتے تھے۔ وہ لوگ ان چار مہینوں میں لڑائی جھگڑے بند کردیتے اور امن و سکون سے تجارتی قافلے آتے جاتے اور وہ لوگ سال بھر کا روزگار حاصل کرلیتے۔ مکہ کو تو ویسے ہی اللہ تعالیٰ نے برکتوں اور رحمتوں والا شہر بنا رکھا ہے۔ مکہ کی تاریخی کہانی تو بڑی تفصیل سے پہلے گزر چکی ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے بندوبست کر رکھا ہے کیونکہ ہر چیز کا علم تو صرف اللہ جل شانہ کو ہی ہے۔ وہی جانتا ہے تمام انتظام کس طرح کرنا چاہیے۔ اس لیے اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے میں ہی نجات ہے جو بھی کوئی نافرمانی کرتا ہے نقصان اٹھاتا ہے اور اللہ رب العزت ایسے لوگوں کو سخت سزا دیتے ہیں مگر ساتھ ہی اس کی بخشش اور رحم کا بھی ذکر آتا ہے کہ وہ بھول چوک اور معافی کو قبول کرنے والا ہے کیونکہ یہ اس کی صفت ہے بخش دینا اور رحم کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے رسول بھیج دیے ہیں مگر ان کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ تمہیں اچھی بری راہوں کا فرق بتا دیں تمہارا کام ہے عمل کرو یا نہ کرو مگر ہمیشہ یاد رکھو کہ تم اللہ سے کچھ بھی چھپا کر نہیں رکھ سکتے کیونکہ اس کا علم اتنا وسیع اور زبردست ہے کہ وہ ہر ہر بات اور ہر ہر چیز کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ اچھی طرح سمجھ لو کہ حرام اور حلال چیزیں کبھی برابر نہیں ہوسکتیں۔ حرام چیزیں چاہے تمہیں کتنی ہی اچھی کیوں نہ لگیں یاد رکھو وہ تمہارے لیے یقیناً نقصان دہ ہی ہوں گی اسی لیے تمہارے رب نے ان کو تمہارے لیے حرام قرار دیا ہے اس لیے تم ان سے باز رہو اس طرح تمہیں دوہرا فائدہ ملے گا۔ ایک تو حرام چیز کے نقصان سے بچو گے اور دوسرے خوف الٰہی کا ثواب ملے گا۔ حرام و حلال چیزوں کا ذکر قرآن پاک میں بیشمار دفعہ بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ ان تمام چیزوں اور کاموں کو خوب اچھی طرح ذہن میں رکھنا چاہیے تاکہ اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور اللہ بھی ناراض نہ ہو۔ صاف ظاہر ہے ایسے ہی لوگ عقل مند کہلا نے کے قابل ہوتے ہیں۔ کس قدر پیار ہے اللہ کو اپنے بندوں کے ساتھ کہ ان کی بھلائی اور نجات کے لیے نبی، رسول بھیجے کہ وہ ان کی راہنمائی کرتے رہیں تاکہ انسان ہر مشکل، پریشانی اور بےسکونی سے نجات حاصل کرکے آخرت میں بھی جنت کا حقدار بن سکے۔ سبحان اللہ۔ ہر وقت ہر انسان کو اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنے ہی فائدوں کے لیے اس کے بتائے ہوئے حکموں کو ماننا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” ان (نیک لوگوں) کا صلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ (جنت) اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ “ ( البینہ آیت : 8)
Ayahs 5:101–103

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو کہ جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کردیا، وہ درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

تم سے پہلے ایک گروہ نے اسی قسم کے سوالات کئے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے۔

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ، نہ وصیلہ اور نہ حام۔ مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔

سوالات کرنے سے بچیں تشریح : ان آیات میں آداب کا ایک نکتہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت ان لوگوں کو خبردار کر رہے ہیں جو خواہ مخواہ کی میں میخ نکالتے ہیں۔ اس بات سے منع کیا گیا ہے خاص طور پر رسول اللہ ﷺ سے بےکار قسم کے سوالات نہ کئے جائیں۔ قرآن مجید کا نزول جاری ہے ہوسکتا ہے ان لوگوں کے فضول سوالات کے جواب میں کوئی ایسا کام فرض کردیا جائے جس کو پورا کرنا مشکل ہو۔ پھر بتایا گیا کہ پچھلی قوموں نے بھی اپنے نبیوں سے فضول اور بےمعنی سوالات کئے جس کے جواب میں ان کی شریعت کے قانون سخت اور مشکل ہوتے چلے گئے، جن پر عمل کرنا آسان بات نہ تھی، لہٰذا نافرمانی میں مبتلا ہوئے اور یوں کافر شمار ہونے لگے۔ اپنے دین کے بارے اور حلال و حرام اور زندگی کے مشکل مسائل جو پوری طرح واضح نہ ہوئے ہوں ان کو ایک خاص حد کے اندر معلوم کرنا تو ٹھیک ہے لیکن ویسے ہی تفریحاً کسی مسئلہ کو سوال کر کر کے الجھا دینا نہ تو عقل مندی ہے اور نہ ہی اس کی اجازت ہے۔ بس جو قوانین، ضابطے اور اصول اللہ نے بتا دیے ہیں ان پر ہنسی خوشی اور خلوص سے عمل کرو اگر کوئی بھول چوک ہوجائے تو اللہ معاف کرنے والا تحمل والا ہے۔
Ayah 5:104

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو اس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آئو پیغمبر کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی پیروی کئے چلے جائیں گے، خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں نہ سیدھی راہ پر ہوں۔

غلط عقائد تشریح : ان آیات میں بت پرستوں کی ایک بری رسم کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے حلال چیزوں کو حرام کرلیا جاتا تھا، مثلاً کسی جانور کا دودھ پینا اس لیے چھوڑ دیتے کہ یہ دودھ کسی بت کے نام پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جیسا کہ آج کل بھی کسی پیر، فقیر اور دیوتا کے نام پر جانور چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اس سے کسی قسم کا کوئی فائدہ نہ اٹھایا جائے گا۔ اسی طرح اسلام سے پہلے اہل عرب بھی کچھ جانور آزاد چھوڑ دیا کرتے تھے اور انہوں نے ان کے مختلف نام رکھے ہوئے تھے، مثلاً بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے، جسے ہر قسم کی خدمت سے آزاد کرکے کھلا چھوڑ دیتے تھے اور اس کا دودھ اپنے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے۔ سائبہ اس اونٹ یا اونٹنی کو کہتے تھے جو کسی منت کے پورا ہونے پر آزاد پھرنے کے لیے چھوڑ دی جاتی تھی۔ وصیلہ وہ اونٹنی ہے جو پہلی بار بھی مادہ جنے اور دوسری بار بھی، ایسی اونٹنی کو بھی وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ حام وہ اونٹ جو دس اونٹوں کا باپ بن چکا ہو یعنی بوڑھا ہوچکا ہو اسے بتوں کے نام پر بطور سانڈ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ نشانی کے طور پر ان جانوروں کا کان چیر دیا کرتے تھے تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ نذرانے کے طور پر چھوڑا ہوا جانور ہے۔ پھر یہ بھی کہتے کہ اس سے بت خوش ہوتے ہیں اور اللہ بھی خوش ہوتا ہے۔ یہ تو اللہ پر جھوٹا بہتان ہے اور اللہ رب العزت ان لوگوں کو بالکل بیوقوف اور عقل سے خالی لوگ قرار دیتے ہیں اور پھر جب بھی ان لوگوں کو اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے راستوں کی طرف بلایا جاتا تو صرف کہہ دیتے کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے بتائے ہوئے طریقوں پر ہی چلیں گے۔ پھر ان سے کہا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ تمہارے باپ دادا کو ٹھیک راستہ یا طریقے کا پتہ ہی نہ چلا ہو تو کیا تم بھی آنکھیں بند کرکے انہی غلط راستوں پر ہی چلتے رہو گے ؟ یہ بات عقل کے خلاف ہے۔ اگر تمہیں کوئی ایسا راستہ دکھایا جا رہا ہے جو اچھا، سیدھا اور نجات کا راستہ ہے تو کیا تم اتنی عقل بھی نہیں رکھتے کہ سوجھ بوجھ سے کام لے کر باپ دادا کے اختیار کئے ہوئے غلط عقیدوں کو چھوڑ کر اچھے، پاکیزہ اور صاف عقیدے اختیار کرسکو۔ یہ تو گمراہی پر قائم رہنے کا ایک بہانہ ہے ورنہ عقل سے کام لینے والے لوگ نیکی اور بدی کی اصلیت سے واقف ہو کر اپنا راستہ خود اختیار کرتے ہیں اور آئندہ لوگوں کے لیے بھی قابل اطاعت مثالیں چھوڑتے ہیں۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔
Ayahs 5:105–107

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنی فکر کرو، کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو اور اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ؟

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اس کے لیے شہادت کی شرط یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو معتبر آدمی گواہ بنائے جائیں، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیر مسلموں میں ہی سے دو گواہ لے لیے جائیں۔ پھر اگر کوئی شک پڑجائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو روک لیا جائے اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم کسی بھی ذاتی فائدہ کے لیے گواہی کو بدلنے والے نہیں ہیں، اور چاہے کوئی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اور نہ ہی ہم اللہ کی گواہی چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہ گار ہوں گے۔

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

لیکن اگر معلوم ہوجائے کہ وہ دونوں سچ بات کو دبا گئے ہیں تو پھر ان کی جگہ دو اور گواہ میت کے قریب ترین لوگوں میں سے مقرر کئے جائیں جن کی حق تلفی ہوئی ہے، اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے، اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔

صرف راہ ہدایت پر چلو تشریح : صاف ظاہر ہے کہ خود نیک اور اچھے کام کرکے دوسروں کو سبق دینا اور زبان سے بھی اچھی بات کہنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور سبق دینے کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے۔ رب العالمین یہی حکم دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر کوئی تمہارے کہنے سننے سے نیکی کی راہ اختیار نہیں کرتا تو پھر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ تم اپنا خیال کرو کہ کہیں خود بھی اس گمراہ کی راہ اختیار نہ کرلو۔ اس کا اور تمہارا حساب اللہ تعالیٰ خود انصاف سے ضرور لے گا۔ کیونکہ یہ بات تو یقینی ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور اپنے اعمال خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور پھر ان کے مطابق جزا یا سزا ضرور مل جائے گی۔ اب تو سائنس دان بھی اس مسئلہ پر تحقیق کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ کافی عرصہ سے تحقیق کر رہے ہیں۔ سلطان بشیر محمود صاحب کی کتاب ” قیامت اور حیات بعدالموت “ سے ایک چھوٹا سا پیرا پیش ِ خدمت ہے۔ ” موت کے بعد روح وقت کی تمام سمتوں میں زندہ رہتی ہے لیکن جسم جو مکان کا پابند ہے اس کے اجزا مکان ہی میں تحلیل ہوجاتے ہیں لیکن آخرت میں روح اپنے اجزا کو پہچان کر اپنے پرانے ڈیزائن کے مطابق اکٹھا کرے گی یوں روح، نفس اور جسم مل کر پہلے جیسا انسان بن جائے گا۔ “ آج کل اس طرح کے کئی بیانات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ اس موضوع پر حدیثیں تو بیشمار موجود ہیں اور مسلمان کے ایمان کا تو لازمی جز ہے آخرت پر ایمان رکھنا۔
Ayah 5:108

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

اس طریقہ سے زیادہ امید کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں گے، یا یہ خوف ضرور کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے۔ اللہ سے ڈرو اور سنو، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو راہ نہیں دکھاتا۔

وصیت پر گواہ اور گواہی کے دوسرے مسائل تشریح : تمام معاملات وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں۔ اس میں وضاحت طلب بات صرف اتنی ہے کہ سفر کی حالت میں یا کسی بھی مجبوری کی وجہ سے غیر مسلم گواہ بنایا جاسکتا ہے ورنہ زیادہ بہتر یہی ہے کہ مسلمان گواہ مقرر کئے جائیں، اور گواہوں میں یہ صفات ضرور ہوں کہ وہ سچے اور دیندار لوگ ہوں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ چھوٹا معاملہ ہو یا کہ بڑا معاملہ ہو آپس کے تعلقات اعمال اور عقائد بالکل صاف ستھرے اور قرآن و سنت کے عین مطابق ہونے چاہئیں۔ پھر اللہ کا خوف ہر وقت سامنے ہونا چاہیے۔ کیوں کہ سیدھا راستہ ہی نجات دلا سکتا ہے جو سیدھے راستے سے بھٹک جائے تو اللہ رب العزت بھی پھر اس کے لیے نیکی کی راہیں بند کردیتے ہیں اور پھر وہ بھٹکتا پھرتا ہے۔ یوں اللہ کی رحمت اور مدد سے دور ہو ہوجاتا ہے اور دنیا و آخرت برباد کرلیتا ہے۔
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

(اس دن سے ڈرو) جس دن اللہ پیغمبروں کو اکٹھا کرے گا، پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا، وہ عرض کریں گے کہ ہم کو کچھ علم نہیں، چھپی ہوئی باتوں کو خوب جاننے والا تو بس تو ہی ہے۔

روز قیامت انبیائے کرام سے سوال تشریح : مسیح کو اللہ ماننے اور تین الہٰوں کا تذکرہ سورة آل عمران میں بھی کافی ہوچکا ہے، پھر سورة مائدہ میں بھی اس کی تردید کی گئی ہے۔ اس سے متعلق کچھ آیات پہلے گزر چکی ہیں اب سورت کے آخر میں دوبارہ اسی موضوع پر بات کو دہرایا گیا ہے جس کی ابتدا رسولوں سے پوچھ گچھ سے ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پیغمبروں سے پوچھے گا کہ تم نے جو پیغام رسالت پہنچایا تو تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوا ؟ تو رسول جواب دیں گے کہ ہم نے تو آپ کا پیغام ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ انہوں نے کہاں تک مانا اور کیسے عمل کیا یہ تو آپ ہی زیادہ جانتے ہیں۔ اس کا علم تو ہمیں نہیں ہوسکتا۔ اور پھر آج تو حساب کتاب کا دن ہے۔ اس دن میں تو صرف تیرا ہی علم سب سے زیادہ اور معتبر ہوگا۔ ہم تو عاجز اور کم علم رکھنے والے بندے ہیں۔ یہاں بھی قیامت اور حساب کے دن کا نقشہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ اس دن کی سختی سے بچائے۔ آمین۔
Ayahs 5:110–113

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

(اور وہ وقت یاد کرو) جب اللہ عیسیٰ ابن مریم سے کہے گا کہ میرا انعام اپنے اور اپنی والدہ کے اوپر یاد کرو، جب میں نے پاک روح سے تیری مدد کی تھی۔ تم گود میں بھی آدمیوں سے کلام کرتے تھے اور بڑی عمر میں بھی، اور جب کہ میں نے تمہیں کتاب و حکمت، تورات اور انجیل کی تعلیم دی اور جب تم میرے حکم سے پرندوں کی شکل مٹی سے بناتے اور پھونک مارتے تو وہ پرندہ بن کر اڑ جاتا۔ اور تم مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے ٹھیک کردیتے تھے اور جب تم مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے، اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روکا جب تم ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے روشن نشانیاں۔ تو جو ان میں کافر تھے کہنے لگے کہ یہ تو سیدھا سیدھا جادو ہے۔

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں کے دلوں میں ڈال دیا کہ مجھ پر ایمان لے آئو اور میرے رسول پر بھی تو وہ کہنے لگے کہ ہم ایمان لے آئے اور گواہ رہو کہ ہم فرمانبردار ہیں۔

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے کہ ہمارے لیے بھرا ہوا خوان اتارے ؟ اس نے جواب دیا اگر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرو۔

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ بولے ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں، اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں، ہم جان لیں کہ تو نے ہم سے سچ کہا اور ہم اس پر گواہ رہیں

سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور حواریوں کی فرمائش تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) سے باز پرس کی جائے گی تو قیامت کے دن کا یہ منظر بڑا ہولناک ہے اس میں وہ تمام بات چیت جو اللہ رب العزت اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ہوگی۔ آیات مذکورہ بالا میں بیان کردی گئی ہے۔ ویسے بھی یہ تمام حالات پہلے مختلف سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکے ہیں۔ اب سورت کے آخر میں ان تمام حالات کا ذکر جو کہ قیامت کو واقع ہوں گے۔ یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے نصارٰی اور اس سے بعد کے تمام نصارٰی کو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصلیت اور ان کی طرف منسوب کی گئی تمام خرافات سے اچھی طرح مطلع کردیا جائے تاکہ وہ لوگ اصلیت سے واقف ہو کر ان کو صرف نبی کا درجہ ہی دیں اور تین الٰہوں کے چکر سے اپنے آپ کو نکال سکیں۔ اگلی آیات میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے جو کہ قیامت کے دن سیدنا عیسیٰ اور اللہ کے درمیان ہوگا۔
Ayahs 5:114–115

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

اس پر عیسیٰ بن مریم نے دعا کی اے اللہ ! ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر جو ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی کا موقع بن جائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، ہم کو رزق دے اور تو بہترین رزق دینے والا ہے۔

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ نے جواب دیا : میں اس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں، مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو دنیا میں کسی کو نہ دی ہوگی۔

سیدنا (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور اللہ کی طرف سے وعید تشریح : اس کی آیات میں ہی موجود ہے یعنی اللہ سے عیسیٰ (علیہ السلام) نے مائدہ کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ وعید بیان فرمائی۔