5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 5:38–39

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

اور چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ، یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے، اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا۔ اللہ ( کی قدرت سب پر) غالب ہے اور وہ دانا اور حکمت والا ہے۔

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

چوری کی سزا تشریح : چوری کا مطلب ہے کسی کی چیز چھپ کر بغیر اجازت کے لے لینا، اسلام میں اس کے لیے سزا بڑی سخت ہے، اس لیے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ چوری کی گئی چیز کی مالیت کتنی ہے ؟ اور پھر چوری کرنے والا پاگل یا نابالغ تو نہیں۔ پھر چوری کرنے والا مرد ہو یا عورت دونوں کو یہ سخت سزا ہی ملے گی اور پھر ہاتھ کاٹنے کی سخت سزا خاص حکمت پر مبنی ہے۔ کیونکہ اگر ایک کو یہ سزا مل جائے تو تمام لوگ کانپ اٹھیں گے اور عبرت حاصل کریں گے اور اس طرح ایک انتہائی غلط کام ( چوری) کی زبردست روک تھام ہوجائے گی۔ یہ حد اللہ کی طرف سے لگائی گئی ہے جو بڑا زبردست اور بہت حکمت والا ہے۔ اب اس مال کی مالیت دیکھی جائے جس کے چوری کرنے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ مالیت کے بارے میں کافی اختلاف ہے مگر مجموعی طور پر یہی معلوم ہوسکا ہے کہ اس کی مالیت ایک دینار یا دس درہم سے کم نہ ہو اور محفوظ جگہ سے چوری کی گئی ہو، مثلاً گھر، دکان اور مقفل عمارت ہو اور اس پر چوکیدار بھی مقرر ہو۔ کھانے پینے کی چیزوں کی چوری اور لاوارث پڑی ہوئی چیزوں کی چوری پر حد نہیں لگتی۔ پھر توبہ کا ذکر کیا گیا ہے تو اس میں بھی کافی اختلاف پایا جاتا ہے اور زیادہ رائے یہی ہے کہ اگر چور گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کرلے تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی مگر بعض علماء کی رائے ہے کہ حد تو ضرور لگے گی اگر توبہ کرے تو قیامت کے عذاب سے بچ سکے گا۔ اس میں بھی شرط یہ ہے کہ چوری کا مال واپس کر دے یا اس کی قیمت ادا کر دے اور اگر دونوں کام اس کے لیے ممکن نہیں تو پھر مالک سے معاف کروالے۔ سچی توبہ کا دروازہ اللہ رب العزت نے ہر ایک کے لیے کھول رکھا ہے۔ بیشک اللہ معاف کرنے والا ہے اور بےحد رحم کرنے والا بھی ہے۔ بحث کو سمیٹتے ہوئے یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ قرآن پاک میں قانون کی تین صورتیں ملتی ہیں۔ ایک حدود دوسری قصاص اور تیسری تعزیرات یعنی جرگہ، حاکم وقت، قاضی یا جج۔ امام ابوحنیفہ کے مطابق سرقہ کا نصاب 10 درہم ہے اس پر ہاتھ کاٹنے کی حد لگ جاتی ہے چور معافی مانگ لے یا نہ مانگے۔ پھر قصاص کا درجہ آتا ہے جو اوپر بیان ہوچکا، پھر تعزیرات ملک کا درجہ آتا ہے یہ چھوٹی موٹی چوری، گناہ یا دنگا فساد پر مناسب سزا یا جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے جو بھی حاکم وقت قاضی یا جج مقرر کرے۔ پرندوں کی چوری، ترکاریاں، پھل، پکا ہوا کھانا، گوشت، غلہ، کھیل وغیرہ کے آلات، جنگل میں چرتے ہوئے جانور کی چوری اور بیت المال کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ مگر عدالت یا جرگہ کی طرف سے اس کو مناسب سزا ضرور دی جائے گی اور نفس کی پاکی کے لیے سچی توبہ بھی بےحد ضروری ہے جسمانی سزا چاہے چھوٹی ملے یا بڑی۔
Ayah 5:40

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جس کو چاہے عذاب دے اور جس کو چاہے بخش دے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے تشریح : پچھلی آیات میں جرم و سزا اور بیشمار اخلاقی، مذہبی اور جسمانی موضوعات پر قرآنی قوانین کے بارے میں مفصل بیانات گزر چکے ہیں۔ کئی کم عقل، بیوقوف کفار و مشرکین ان قوانین پر الٹے سیدھے اعتراضات کرتے ہیں۔ تو اس آیت میں اللہ رب العزت اپنے اختیارات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنی پیدائش اور ان تمام سہولیات کی پیدائش کو دیکھ کر یہ یقین کرنے میں کیوں مشکل پیش آرہی ہے کہ آسمانوں، زمین اور ہر چیز کا مالک صرف اور صرف اللہ ہی ہے۔ اس نے یہ تمام سلسلہ چلانے کے لیے جو انتظامات کر رکھے ہیں وہ انسانی سمجھ سے باہر ہیں کیونکہ اللہ کے اندازے اور کاریگری اتنی عظیم، ناقابل فہم اور مکمل ہے کہ اس میں کسی قسم کا کوئی نقص یا خرابی دکھائی نہیں دیتی، اسی طرح اس نے انسان کو زندگی گزارنے کے جو اصول دے دیے ہیں وہ بھی بڑے ہی مکمل اور فائدہ مند ہیں۔ وہ ہر شخص کی نیت، ارادے اور عمل کو خوب اچھی طرح جانتا ہے جو انسان نہیں جان سکتا، اس لیے وہ جس کو سزا کے قابل سمجھتا ہے سزا دیتا ہے اور جس کو بخشش کے قابل سمجھتا ہے معاف کردیتا ہے، لہٰذا انساں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کو مذاق بنائے ان میں ردوبدل کرے یا ان کو نہ مانے۔ مولانا وحید الدین خاں نے اپنی کتاب ” خدا اور انسان “ میں بہت خوبصورت وضاحت کی ہے لکھتے ہیں۔ ” انسان نے جو تمدنی دنیا بنائی وہ اللہ کی بنائی ہوئی دنیا سے کس قدر مختلف ہے۔ انسان کی بنائی ہوئی سواریاں شور اور دھواں پیدا کرتی ہیں مگر اللہ کی دنیا میں روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے اور نہ کہیں شور ہوتا ہے نہ دھواں۔ انسان کے بنائے ہوئے تمام شہروں میں کوڑے کو ٹھکانے لگانا ایک مشکل مسئلہ بنا ہوا ہے، مگر اللہ کی بنائی ہوئی وسیع تر دنیا میں ہر روز بڑے پیمانے پر کوڑا نکلتا ہے مگر کسی کو پتہ نہیں چلتا کیونکہ اس کو Recycle کر کے دوبارہ کائنات کے مفید اجزاء میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ “ یہی سبق اس آیت میں دیا گیا ہے کہ جب انسان اللہ اَلْعَظِیْم، اَلْحَکِیْم، اَلْعَزِیْز، اَلرَّحْمٰن، اَلْمَلِکُ ، اَلْعَزِیْز، اَلْعَلِیْم، اَلْغَفُوْرُ کی اور بیشمار صفات اور طاقت کا اقرار کرلیتا ہے تو پھر وہ کسی صورت بھی رب ذوالجلال کی نافرمانی نہیں کرسکتا اور نہ ہی اللہ کے کسی قانون پر نکتہ چینی کرسکتا ہے۔
Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! وہ لوگ جو کفر کی راہ پر بڑی تیزی سے چل رہے ہیں آپ کیلیے باعث رنج نہ ہوں۔ خواہ وہ ان میں سے ہوں جو منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر دل ان کے ایمان نہیں لائے، یا ان میں سے ہوں جو یہودی بن گئے ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی خاطر، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے، سن گُن لیتے پھرتے ہیں، کتاب اللہ کے الفاظ کو انتہائی مناسب ہونے کے باجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں، اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے جو ہم دے رہے ہیں تو مان لو اگر کوئی اور حکم دیا جائے تو نہ مانو۔ جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب

کفار کی چالیں اور سزا تشریح : سورة مائدہ کے تیسرے رکوع سے اہل کتاب کا ذکر چلا آ رہا تھا، درمیان میں کچھ دوسرے خاص مضامین آگئے اب پھر اہل کتاب ہی کا ذکرشروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ اس آیت کا شان نزول دو واقعات کا سبب ہے۔ جو مدینہ کے آس پاس دو یہودی قبائل میں پیش آئے۔ ایک واقعہ قتل و قصاص کا اور دوسرا زنا کا ہے۔ یہود کی یہ پرانی عادت تھی کہ اپنے دنیاوی فائدں کے مطابق اپنی تورات سے ہٹ کر خود ہی فتوے بنا لیا کرتے تھے۔ خصوصاً سزائوں کے معاملہ میں تو امیر و غریب کی وجہ سے خود ہی ردوبدل کرلیا کرتے تھے۔ ان کے اس رویہ کو مذکورہ آیت میں بیان کیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ اہل ِ کتاب تو بڑے پرانے بگڑے ہوئے عہد شکن، ہٹ دھرم اور نافرمان لوگ ہیں آپ ان کی پرواہ ہرگز نہیں کریں مگر ان سے ہوشیار ضرور رہیں کہ ان میں سے اکثر یہود کے جاسوس ہیں جو مسلمان بن کر یہود کے لیے جاسوسی کرتے ہیں اور پھر تسلی دی کہ آپ ان کو نہ تو ٹھیک کرسکتے ہیں اور نہ ہی سمجھا سکتے ہیں یہ غلط لوگ ہیں، غلط راہوں کی تلاش میں رہتے ہیں، غلط راہوں کے لیے کوشش کرتے ہیں، اس لیے اللہ نے ان کے لیے غلط راہوں کو ہی آسان کردیا ہے۔ ان کا کوئی علاج نہیں سوائے اس کے کہ دنیا میں بےچینی، بےسکونی اور ذلت کی زندگی گزاریں اور آخرت میں سخت سزا میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مبتلا کیے جائیں۔ نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ سختی سے اپنی شریعت پر قائم رہیں اور ہر فیصلہ قرآن کے مطابق کریں۔ یہود کی بالکل پرواہ نہ کریں اور آپ ﷺ کو ان کے پاس آنے والے منافقین کے وفد سے پوری طرح خبردار کردیا گیا اور ساتھ ہی مسلمانوں کو ہدایت کردی گئی کہ وہ ہر قسم کی مشرکانہ اور کافرانہ خصلت سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

یہ جھوٹ بولنے کے لیے جاسوسی کرنے والے اور حرام کھانے والے ہیں، اگر یہ تیرے پاس فیصلہ کروانے کے لیے آئیں تو آپ کو اختیار دیا جاتا ہے چاہیں تو آپ فیصلہ کردیں، چاہیں تو نہ کریں، اور اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں گے تو وہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے، اور اگر آپ فیصلہ کریں تو پورے انصاف سے فیصلہ کریں بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

نبی اکرم ﷺ کو انصاف کرنے کا حکم تشریح : یہاں یہود کی بری خصلتوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ جھوٹی اور غلط بات کرنے اور سننے کے عادی ہیں، اس لیے ان کے علماء نے تورات کے تمام قوانین کو مرضی کے مطابق بدل ڈالا ہے۔ دوسری بری خصلت ان کی یہ ہے کہ یہ پکے منافق ہیں یہ یہاں ایمان کی پختگی کے لیے نہیں آتے بلکہ صرف جاسوسی کرنے آتے ہیں۔ تیسری بری خصلت ان کی یہ ہے کہ یہ ہر کام میں رشوت لے کر ٹھیک کو غلط اور غلط کو ٹھیک کہہ دیتے ہیں، اس لیے اے نبی ﷺ ! آپ کے پاس جب بھی یہ کسی فیصلہ کے لیے آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کرنے کے پابند نہیں۔ اگر فیصلہ کریں تو صرف اور صرف اللہ کی فرمانبرداری کو سامنے رکھتے ہوئے بالکل ٹھیک اور انصاف سے فیصلہ کریں۔ کیونکہ مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ انصاف کرنے والا ہے اور وہ انصاف کرنے والوں کو ہی دوست رکھتا ہے۔ حدیث ہے۔ سیدنا موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کہ یہ بھی اللہ کی تعظیم کرنے ہی کی شکلیں ہیں کہ بوڑھے مسلمان، قرآن کے حافظ کی عزت کی جائے جو نہ اس میں مبالغہ کرتا ہو نہ کمی اور اس حاکم کی عزت کی جائے جو عدل کرنے والا ہو۔ “ (سنن ابو دائود)
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

یہ تمہیں کیسے منصف بناتے ہیں جب کہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔

یہود و نصارٰی کی اصلیت تشریح : اللہ تعالیٰ یہودو نصارٰی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بس ہر چیز کو کھیل تماشا ہی سمجھے ہوئے ہیں نہ یہ تورات کو عمل میں لاتے ہیں نہ قرآن کو مانتے ہیں۔ ورنہ فیصلے خود ان کی کتاب میں موجود ہیں۔
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی جو مسلم تھے، اسی کے مطابق یہود کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے اور اسی طرح درویش اور عالم بھی، کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے، پس تم (اے یہود ! ) لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو تھوڑے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو ۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔

تورات کے مضامین تشریح : تورات میں بھی توحید اور ہدایت کا سبق دیا گیا تھا اور ان کے علماء اور فقہاء بھی مسلم ہی تھے مگر یہود نے سب کچھ برباد کردیا اور کفار میں شامل ہوگئے۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

تورات میں ہم نے یہود پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔ پھر جو قصاص کو معاف کر دے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔

تورات کے احکامات تشریح : آیت 44 سے سورة مائدہ کا ساتواں رکوع شروع ہوچکا ہے۔ اس رکوع میں رب العالمین یہود کو مخاطب کر کے ان کو ان کی بدعہدی اور نافرمانی کا احساس دلاتے ہیں اور کتاب پر عمل نہ کرنے والوں کو کافر اور ظالم قرار دیتے ہیں۔
Ayahs 5:46–47

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا۔ تورات میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں راہنمائی اور روشنی تھی اور وہ (انجیل) بھی تورات میں جو کچھ موجود تھا اس کی تصدیق کرنے والی تھی اور تقوٰی اختیار کرنیوالے لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

ہمارا حکم تھا کہ اہل ِ انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں

انجیل اور اس پر عمل کے بارے میں تشریح : ان آیات میں پوری طرح سے واضح کردیا گیا ہے کہ تمام آسمانی کتابیں ایک جیسے احکاماتِ الٰہی سے بھری ہوئی ہیں اور ہر آنے والے پیغمبر نے پہلے پیغمبر کی تصدیق کی ہے، اسی طرح سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے کی۔ انجیل نے تورات کی تصدیق کی مگر افسوس کہ دونوں قوموں نے اپنی کتابوں کے تمام احکامات کو اپنی چھوٹی چھوٹی اغراض اور دنیاوی فائدوں کے لیے بدل دیا۔ پیغمبروں کو قتل کیا اور کسی بھی حکم کی پابندی کرنے سے انکار کردیا اور یوں اللہ تعالیٰ نے ان کو کافر، فاسق اور ظالم کہا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان قوموں کے حالات اور انجام سے عبرت حاصل کریں اور قرآن و سنت پر پوری طرح عمل کریں۔
Ayah 5:48

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

پھر اے محمد ﷺ ! ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور کتاب (تورات) میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے، لہٰذا تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی مت کرو۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی، حالانکہ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا لیکن اس نے یہ اس لیے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے، لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کار تم سب کو اللہ کی طرف پلٹ کر جانا ہے ؟ پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔

قرآن پاک کی حکمت تشریح : پچھلی آیات میں تورات اور انجیل کے بارے میں بتایا گیا ہے اور اب نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ پر قرآن نازل فرمایا اور پھر قرآن کی برکات، خصوصیات اور بہترین ہدایات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ قرآن پاک کی سب سے پہلی خصوصیت تو یہ ہے کہ یہ برحق کتاب ہے کوئی بھی حکم انسانی فطرت سے نہیں ٹکراتا۔ تمام قوانین وقت، حالات اور انسان کی ضروریات کے عین مطابق، آسان اور فائدہ مند ہیں یہی حق کی تعریف ہے۔ دوسری خاصیت قرآن پاک کی یہ ہے کہ یہ تمام پچھلی آسمانی کتابوں کو سچ کہتا ہے۔ تیسری خاصیت قرآن کی یہ ہے کہ یہ گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کا محافظ، شاہد، نگران اور نگہبان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پچھلی کتابوں کے قوانین، مضامین اور اصولوں کو لوگوں نے اپنی مرضی کے مطابق بدل لیا تھا جبکہ قرآن ان کتابوں کے اصلی مضامین اور اصول بتاتا ہے اور اب قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ اس میں ہرگز کوئی شخص بھی ردوبدل کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا اور یوں تورات و انجیل کے اصل مضامین بھی محفوظ ہوگئے اور پھر قرآن پاک ان تمام کتابوں اور جن رسولوں پر یہ نازل کی گئیں سب کو سچ اور بالکل حق ثابت کرتا ہے۔ پھر اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ انسانوں کو اپنی تمام زندگی قرآنی احکامات کے مطابق ہی گزارنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ تاکید کے ساتھ حکم دیتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! جس طرح آپ ہمیشہ سے ہر فیصلہ اور ہر کام قرآن کے احکامات کے مطابق کرتے رہے ہیں اسی طرح ہمیشہ اپنے فیصلے قرآن کی روشنی میں ہی کرتے رہیں۔ کسی شخص یا کسی بھی مجبوری سے آپ کو اپنے راستہ سے ہرگز ہٹنا نہیں چاہیے۔ پھر فرمایا کہ بیشک تمام نبیوں کو ایک ہی دین دیا گیا۔ مگر شریعت میں کچھ فرق رکھا گیا ہے، مثلاً : عبادت کی صورتیں، حلال و حرام اور رہن سہن کے کچھ طریقوں میں فرق ہے۔ اس کی خاص وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ آج سے ایک صدی پہلے انسان کے رہن سہن اور ضروریات کی شکل کچھ اور تھی اسی طرح دو صدی پہلے پھر تین صدی پہلے یونہی دیکھتے دیکھتے جب ہم انسان کی ابتدائی زندگی کو دیکھتے ہیں تو وہ آج کے انسان کی زندگی سے بےحد مختلف دکھائی دیتی ہے۔ کبھی انسان غاروں میں رہتا تھا، پتوں سے اپنا جسم ڈھانپتا تھا۔ جو بھی جانور مل گیا اور جیسے بھی مارا گیا کچا ہی کھالیا اور پھر اللہ کو جیسے بھی جہاں بھی جس طرح بھی خیال میں آیا یاد کرلیا یا نہ کیا۔ اسی طرح انسان نے آہستہ آہستہ ترقی کرنا شروع کی اور اپنی زندگی کو آسان بنانے کے لیے اپنی عقل سے کام لے کر رہن سہن اور عبادت اور اللہ کی تلاش میں نئے نئے راستے اور طریقے ایجاد کرنے شروع کیے تو اللہ نے انسان کو اکیلا کبھی نہیں چھوڑا ہمیشہ راہنمائی کے لیے انہی میں سے کسی کو ان کا رہبر بناتا رہا، جس کو رسول یا پیغمبر کہا جاتا ہے۔ وہ رسول یا پیغمبر ان کو دین تو ایک ہی بتاتا تھا مگر شریعت مختلف ہوتی تھی۔ شریعت کا مطلب ہے دین کو جاری رکھنے کے لیے وہ روشن راستہ جو رسول بتائے کیونکہ دین تو بڑی ہی وسیع چیز ہے۔ اب اللہ رب العزت کی قدرت کا ذکر ہوتا ہے کہ اس کے لیے کوئی بھی بات ہرگز مشکل نہیں وہ چاہتا تو شروع سے لیکر آج تک ایک ہی امت بنا دیتا، یعنی ایک ہی معیار کے ایک ہی رہن سہن اور ایک ہی طریقہ سلیقہ انسان کو دے دیتا مگر یہ اس کی مرضی اور حکمت ہے کہ اس نے انسان کو اس طرح رکھا جیسا کہ بیان ہوچکا ہے۔ ایک بڑی مصلحت اللہ تعالیٰ یہ بتاتے ہیں کہ اگر ایک ہی امت بنا دی جاتی تو پھر اچھے اور برے کا امتحان کیسے لیا جاتا۔ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ دے دیا اور راہنمائی کے لیے رسول مبعوث فرمایا اب راہ اختیار کرنا یہ بندے پر چھوڑ دیا کہ جو نیک پرہیزگار اور مخلص بندے ہیں وہ تو رسول کی کہی بات پر چلیں گے، اس کی کتاب پر پابندی سے عمل کریں گے مگر جو ہٹ دھرم، نافرمان اور بےقوف ہیں وہ نہ تو رسول کی بات سنیں گے اور نہ نیک راہ اختیار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ فضول باتوں میں وقت ضائع نہ کرو، بلکہ اہل کتاب کو خاص طور سے خبردار کرتے ہیں کہ دیکھو عرب کے جاہل بدو اور کفار کس تیزی سے ایمان کی طرف آ رہے ہیں تم تو نبی، قرآن اور اسلام کے بارے میں سب کچھ اپنی کتاب کے ذریعہ جان چکے ہو تم ایمان لانے میں جلدی کیوں نہیں کرتے ؟ ہر بھلائی اور نیکی کی طرف جلد از جلد بڑھتے چلے جاؤ۔ کیونکہ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز فانی، ناپائیدار اور دھوکہ دینے والی ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں اور تمام پہلی کتابوں میں زندگی گزارنے کے بہترین طریقے بتائے گئے ہیں، ان پر عمل کرو اور خوب اچھی طرح جان لو اور خوب یقین کرلو کہ جس طرح تم اب زندہ ہو اسی طرح تم مرنے کے بعد دوبارہ ضرور زندہ کیے جاؤ گے اور اس زندگی میں کیے گئے تمام اعمال کا حساب دے کر سزا یا جزا پائو گے۔ وہاں جو بھی فیصلہ ہوگا اٹل ہوگا کوئی سفارش نہ ہوگی کوئی رشوت نہ ہوگی اور وہ سب باتیں جو تم کرتے ہو اور وہ سب اعمال جو تم کرتے ہو تمہارے سامنے موجود ہوں گے اور تم بدلہ پائو گے۔ سورة الاحقاف کی آیت 33 میں اللہ فرماتا ہے : ” کیا ان لوگوں نے یہ نہ جانا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور ان کو بناتے ہوئے جو (ذرا بھی) نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مردوں کو قیامت کے روز زندہ کر دے ؟ کیوں نہیں، بیشک وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے۔ “
Ayahs 5:49–50

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اے محمد ﷺ ! آپ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ آپ کو فتنہ میں ڈال کر اس پر ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو اللہ نے آپ کی طرف نازل کی ہے۔ پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے گناہوں کی جہ سے ان کو مصیبت میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں اکثر فاسق ہیں

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کیا یہ پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ یہ لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں۔ یقین رکھنے والے لوگوں کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں

اللہ کا حکم بہترین ہے تشریح : جیسا کہ پچھلی آیت میں بیان کیا جاچکا ہے کہ نبی ﷺ کو قرآنی فیصلوں پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تاکید کی گئی ہے اور ان فاسق لوگوں پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ قرآن اور اسلام کی روشنی کو چھوڑ کر جاہلیت کے اندھیروں میں رہنا چاہتے ہیں۔ جب یہ اندھیروں میں رہیں گے تو ظاہر ہے بھٹکتے پھریں گے دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار ہوں گے جبکہ اللہ پر ایمان رکھنے والے خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ فیصلوں میں سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا صرف اور صرف رب اعلیٰ ہی ہے۔
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہود و نصارٰی کو اپنا دوست نہ بنائو، یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا دوست بناتا ہے تو اس کا شمار بھی انہی میں ہے یقیناً اللہ ظالموں کو ( اپنی) ہدایت سے محروم کردیتا ہے

یہود و نصارٰی کی دوستی سے بچو تشریح : مسلمانوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ یہود و نصارٰی کو دوست نہ بنائو کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کو سیدھی راہ سے بھٹکانے کی کوششوں میں لگے رہتے تھے، اس لیے ان کی دوستی سے منع کیا گیا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایک دفعہ تم راہ سے بھٹک گئے تو پھر سمجھ لو کہ اللہ کی راہنمائی سے تم محروم کردیئے جاؤ گے۔ سورة آل عمران میں بھی ان کی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔
Ayahs 5:52–53

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

آپ دیکھتے ہیں کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ انہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں کہتے ہیں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں۔ مگر قریب ہے کہ جب اللہ تمہیں فتح بخشے گا یا کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو پھر یہ لوگ اپنے اس (نفاق) پر نادم ہوں گے جو انہوں نے دل میں چھپا رکھا ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کی قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ؟ ان کے تمام اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام و نامراد ہو کر رہے۔

نو مسلموں کی کشمکش تشریح : پہلے یہود و نصارٰی کی دوستی سے منع کیا گیا۔ یہاں منافقین کا ذکر ہے جن کو ہر وقت یہ پریشانی رہتی تھی کہ یہود انتہائی مالدار اور عالم لوگ ہیں جب کہ مسلمان جب مدینہ میں گئے تو شروع میں کافی کمزور حالت تھی کیونکہ مدینہ میں تو وہ ہجرت کر کے آئے تھے تو منافق باوجود منع کرنے کے یہود و نصارٰی کے ساتھ چپکے رہتے جب ان سے وجہ پوچھی جاتی تو کہتے معلوم نہیں مسلمانوں کی کمزور سی جماعت ہے اس پر کیا مصیبت آپڑے۔ یہود و نصارٰی تو بڑے امیر کبیر ہیں مشکل میں ہمارے کام آسکیں گے۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ عنقریب ہی مسلمانوں کو فتح و کامیابی نصیب ہوگی اور ان کی پوزیشن بھی بڑی مضبوط ہوجائے گی، تب یہ منافق لوگ اپنے آپ پر سخت ندامت کریں گے تو اس قت سوائے حیرت کے اور کوئی چارہ کار نہ ہوگا، اس لیے بہتر ہے کہ ابھی سے اپنے ایمان کو مضبوط اور دل کو منافقت سے پاک صاف کرلو۔ مسلمان ان منافقین پر حیرت کا اظہار کرتے جو قسمیں کھا کر اپنے ایمان کا یقین دلاتے مگر جب دیکھو اسلام کے دشمنوں کے ساتھ مل کر سازشیں کر رہے ہوتے تو ان کی اس دو رخی پالیسی کی وجہ سے اللہ رب العزت نے ان کی وہ تمام نیکیاں بھی ضائع کردیں جو کبھی انہوں نے کی تھیں آخر میں تو ان کو اپنے کیے ہوئے غلط اعمال کا خوب ہی احساس ہوجائے گا جب سوائے سزا کے ان کے لیے اور کچھ بھی نہ ہوگا۔
Ayahs 5:54–56

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ بہت سے ایسے لوگ اور پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارا دوست تو اصل میں صرف اللہ، اس کا رسول اور وہ مومن ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

جو اللہ اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا دوست بنا لے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے

اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم اور اس کے اوصاف تشریح : پچھلی آیات میں مسلمانوں کو کفار اور منافقین کی دوستی سے منع کیا گیا ہے، اس لیے نہیں کہ انسان دوستی بری ہے۔ انسان دوستی تو مسلمان کا پہلا سبق ہے مگر یہاں معاملہ دوسرا ہے کہ وہ جاسوسی کرتے تھے بظاہر مسلمان ہوتے تھے مگر اندر سے مسلمانوں کے دشمن تھے۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ صاف صاف اعلان کرتے ہیں کہ اگر کچھ لوگ اللہ کے دین کو چھوڑ کر کافر یا مرتد ہونا چاہتے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان سے اسلام کو یا اللہ کو ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے خود ان کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے کیونکہ اللہ بڑی قدرت، طاقت اور اختیار رکھتا ہے وہ ایسے منافق لوگوں کی جگہ بڑے اچھے، مخلص اور پکے مسلمانوں کی جماعت کو لے آئے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل مشکل کام نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ ان اچھے مسلمانوں کی تعریف ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ -1 اللہ ان سے محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ -2 آپس میں مشفق اور مہربان ہوں گے۔ -3 وہ بہادر، نڈر اور مضبوط ارادہ رکھتے ہوں گے۔ -4 وہ کفار کے لیے سخت گیر ہوں گے۔ -5 ان کا سونا جاگنا، اوڑھنا بچھونا، زندگی اور موت سب اسلام کے فروغ اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہوگا۔ اسلام کی حفاظت اور فروغ کے لیے ہر وقت تیار رہیں گے۔ -6 ان کا تعلق صرف اللہ سے ہوگا۔ وہ کسی ملامت کرنے والے اور ڈرانے والے کی ہرگز پرواہ نہ کریں گے کیونکہ ان کا معاملہ سیدھا اور صاف اللہ تعالیٰ سے ہوگا۔ آخر میں بندہ مومن کو ہدایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رب کریم بڑا ہی وسیع علم رکھنے والا اور سب پر غالب ہے تمہیں کسی اور کو دوست بنانے کی کیا ضرورت ہے تمہارا دوست تو صرف اللہ، اس کا رسول ﷺ اور وہ مومنین ہونے چاہئیں جو نماز پڑھتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور صرف اللہ کے آگے جھکتے ہیں۔ بھلا تمہیں کسی اور سے دوستی کرنے کی آخر کیا ضرورت یا مجبوری ہے ؟ تم جھکو تو اللہ کے آگے، مانگو تو اللہ سے اور ڈرو تو صرف اللہ سے ڈرو۔ یقین، مکمل بھروسہ اور پورا ایمان رکھو کہ اللہ کے سامنے کوئی جماعت نہیں ٹھہر سکتی۔ اللہ جو قادر مطلق ہے بادشاہوں کا بادشاہ، عظمت طاقت میں بےمثال اسی کی جماعت کامیاب و کامران ہوگی اور سب پر غالب رہے گی ؟ اس لیے اللہ کی جماعت کے ساتھ مخلص ہو کر رہو اور کسی کی طاقت پر ہرگز بھروسہ مت کرو۔ سیدنا جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ تم میں سے جو کوئی بھی مرے اسی حالت میں مرے کہ اللہ سے نیک گمان رکھتا ہو۔ (اس کی رحمت کا امیدوار ہو۔ ) ۔ (سنن ابن ماجہ)
Ayahs 5:57–60

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اہل ِ کتاب اور کفار جو تمہارے دین کو مذاق بناتے ہیں دوست مت بنائو، اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

جب تم نماز کے لیے بلاتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس کو کھیل تماشہ بناتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

ان سے کہو اے اہل ِ کتاب ! تم ہم سے صرف اس لیے بگڑے ہو کہ ہم اللہ پر اور اس ( دین کی تعلیم) پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی، اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ؟۔

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

پھر کہو کیا میں ان لوگوں کے بارے میں بتائوں جن کا انجام اللہ کے ہاں ان (فاسقوں) کے انجام سے بھی بدتر ہے اور جن پر اللہ نے لعنت کی، جن پر اس کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بندر اور سؤر بنائے گئے، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی، ان کا درجہ اور بھی برا ہے اور وہ سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔

دین اسلام کا مذاق اڑانے والے سے دوستی نہ لگاؤ اور یہود کی سزا تشریح : ان آیات میں کوئی نئی بات نہیں سب کچھ بیان ہوچکا ہے۔ یہاں یہود و کفار کی غیر اخلاقی حرکتوں کا ذکر ہے، پھر ان کے عذاب بتائے گئے ہیں اور پھر غلط اور برے لوگوں کی دوستی سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ آیات میں تفصیل سے بتا دیا گیا ہے۔ اگلی آیات میں بھی یہود کی خصلت کا ذکر ہے۔
Ayah 5:61

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور حالت یہ ہے کہ کافر ہی آئے تھے اور کافر ہی چلے گئے اور جو کچھ وہ چھپائے ہوئے تھے اللہ خوب جانتا ہے۔

یہود کی بدخصلت تشریح : اس آیت میں تشریح طلب کوئی بات نہیں آیت میں ہی بات کی وضاحت ہے۔
Ayahs 5:62–63

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر کو آپ دیکھیں گے کہ دوڑتے ہیں گناہ، ظلم اور حرام کھانے پر یہ سب بہت برے کام ہیں جو یہ کر رہے ہیں۔

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

ان کے فقہا اور علماء ان کو کیوں منع نہیں کرتے، گناہ کرنے حرام کھانے سے۔ یہ سب بہت برے ( اعمال) ہیں جو یہ کر رہے ہیں

یہودی علماء کی فرض سے کوتاہی تشریح : اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ جب کوئی قوم برائیوں میں حد سے گزر جاتی ہے تو پھر اس قوم کے علماء اور فقہاء بھی قوم کی بےراہروی میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ خود قوم سے زیادہ عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا تو فرض یا منصب ہی یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو نیکی کی راہ دکھائیں تو ان اہل کتاب کا درجہ اس قدر گرگیا ہے کہ فقہاء میں بھی وہی صفات، یعنی برائیاں پیدا ہوچکی ہیں جو اوپر بیان کی جاچکی ہیں۔ بلکہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ علماء کا ہی زیادہ قصور ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے علماء و فقہاء کو دین کی مضبوطی اور قوم کی صحیح رہنمائی کرنے کی پوری صلاحیت عطا کرے کہ ہم اللہ کے غضب سے بچ سکیں۔
Ayah 5:64

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

یہودی کہتے ہیں اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ باندھے گئے ان کے ہاتھ اور لعنت پڑی ان پر اس بری بات پر جو یہ کرتے ہیں۔ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور گناہوں میں اضافہ کا باعث بن گیا ہے، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے یہ زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا

یہود کی گستاخی تشریح : اس آیت میں یہود کی انتہا سے بڑھی ہوئی بدتمیزی کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر اس پر انتہائی سخت غصہ اور عذاب کا ذکر ہے جو اللہ رب العزت نے ان پر کیا اور پھر فرمایا کہ ان پر عذاب قیامت تک جاری رہے گا۔ مسلمانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ ان سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں یہ اپنی ہر کوشش میں ضرور ناکام رہیں گے کیونکہ فساد پھیلانے والے اللہ کی نظر میں بےحد برے اور نالائق لوگ ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو یہودیوں کی بد اعمالیوں اور طریقوں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ کس طرح یہ قوم عروج سے زوال تک پہنچی اور ذلیل و خوار ہوگئی۔
Ayahs 5:65–66

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اگر یہ اہل کتاب ایمان لے آتے اور ڈرتے تو ہم ان کی برائیاں ان سے دور کردیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

کاش ! انہوں نے تورات، انجیل اور دوسری آسمانی کتابوں پر عمل کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے بھیجی گئی تھیں۔ اگر ایسا کرتے تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ راست باز بھی ہیں لیکن زیادہ لوگ سخت بدعمل ہیں۔

یہود نے اپنے ساتھ خود ظلم کیا تشریح : تشریح تو خود آیات میں ہی موجود ہے۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دیں۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے یقین رکھو کہ وہ کفار کو ہدایت کی راہ (ہرگز) نہ دکھائے گا

رسول اللہ ﷺ کو حق رسالت ادا کرنے کی تاکید تشریح : اس آیت میں اللہ رب العزت اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑی تسلی دیتے ہوئے ہمت بندھاتے ہیں کہ بیشک ان لوگوں نے آپ ﷺ کو ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر آپ ﷺ فکر نہ کریں بالآخر فتح آپ کی ہی ہوگی اور پھر تاریخ نے ثابت کردیا کہ کس طرح اس چھوٹی مسلم طاقت نے بڑی بڑی طاقتوں کو فتح کیا اور اسلام کا بول بالا پوری دنیا میں ہوگیا اور اگر مسلمانوں نے قرآن و سنت پر عمل کیا تو انشاء اللہ قیامت تک اسلام کا جھنڈا ہمیشہ بلند ہی رہے گا اور اس میں سب سے بڑی کوشش پیغمبر آخرالزماں سیدنا محمد ﷺ کی ہی ہے۔ جنہوں ے سختیاں برداشت کیں مگر ہمت نہ ہاری۔ پہلے مکہ کے انتہائی اکھڑ، جاہل اور وحشی لوگوں سے واسطہ پڑا، پھر مدینہ میں آکر کافر، فاسق اور منافقین سے نمٹنا پڑا۔ آخر نبی ﷺ بھی تو انسان ہی تھے۔ اسی لیے کئی دفعہ آپ ﷺ کو رب العالمین نے تسلی دی کہ آپ بالکل گھبرائیں نہیں اللہ کی پوری پوری مدد آپ کے ساتھ ہے کوئی شخص، جماعت یا قوم آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ آپ پورے کے پورے احکاماتِ الٰہی لوگوں کو بتا دیں اور عمل کر کے دکھا دیں تاکہ اللہ کا پیغام مکمل طور پر لوگوں تک پہنچ جائے۔ دراصل یہ حکم مسلمان فقہاء، علماء اور صاحب ایمان لوگوں کو بھی دیا گیا ہے کہ یہودی علماء کی طرح حقائقِ دین کو ہرگز لوگوں سے نہ چھپائیں بلکہ جو کچھ بھی معلوم ہو کھول کھول کر لوگوں کو بتائیں۔ رسول پیغمبر اور انبیاء کے بعد یہ فریضہ علمائے کرام کے ذمے لگ جاتا ہے ان کو بھی اپنی زبان اور اپنے عمل سے نیکی کی ترغیب دینا لازمی ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے تو یہ کبھی بھی امید نہ کی جاسکتی تھی کہ وہ کوئی بھی ایسا نکتہ لوگوں کو نہ بتائیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو وحی کے ذریعہ بتایا ہو۔ انہوں نے اس راستے میں بیشمار اور مشکل ترین حالات کا مقابلہ کیا اور اللہ کی مدد کے ساتھ اللہ کا ہر حکم زبان سے اور عمل سے لوگوں تک پہنچا دیا اور تبلیغ کا حق ادا کردیا۔
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

(ان سے) کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! تمہاری کوئی حیثیت نہیں جب تک کہ تم تورات، انجیل اور اس کتاب کو جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے، نافذ نہ کرو۔ ضروری ہے کہ یہ فرمان ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار میں اضافہ کر دے۔ آپ انکار کرنے والوں پر افسوس نہ کریں

اہل ِ کتاب کو نصیحت کا حکم تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ اہل ِ کتاب کو سمجھا دو کہ جب تک تورات، انجیل اور دوسری آسمانی کتابوں کو تم اچھی طرح سمجھ کر ان پر عمل نہیں کرتے تمہاری کوئی حیثیت نہیں اگر تم ان کتابوں کو اچھی طرح غور سے پڑھو تو نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانا تمہارے لیے بےحد آسان ہوجائے کیونکہ تمہاری کتابوں میں بھی وہی احکام ہیں جو قرآن پاک میں نازل کیے گئے ہیں کیونکہ وہ خود اپنی کتابوں سے بالکل غافل ہیں اس لیے جیسے جیسے آپ ان کو توحید اور ہدایت کی باتیں بتاتے ہیں وہ اور بھی زیادہ سرکشی اور نافرمانی کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ ان کی سرکشی، ہٹ دھرمی اور نافرمانی پر بالکل افسوس نہ کریں۔
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے یا یہودی ہیں یا صابی یا عیسائی ہیں جو بھی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بیشک اس کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا۔

خوف و غم سے نجات تشریح : اس آیت سے متعلقہ مضمون سورة البقرہ کی آیت 62 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نجات کے لیے اللہ پر ایمان آخرت پر ایمان اور نیک اعمال ضروری ہیں۔ جو اس معیار پر پورا اترے وہ ہر قسم کے غم اور فکر سے آزاد ہوسکتا ہے۔ صرف نام سے نجات نہیں ہوسکتی، یعنی یہ کہ ہم کیونکہ یہودی ہیں، اس لیے ہمیں عذاب نہ ہوگا وغیرہ۔
Ayahs 5:70–71

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور بہت سے رسول ان کی طرف بھیجے مگر جب بھی کوئی رسول ان کی مرضی کے خلاف کوئی حکم لایا تو ایک گروہ کو انہوں نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کردیا۔

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ نہ اٹھے گا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کیا تو ان میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

یہود کے کرتوت تشریح : ان آیات میں وہ عہد جو ہم کلمہ پڑھ کر اللہ سے کرتے ہیں اس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے یہود کی مثال دی گئی ہے کہ جو بھی یہود کی طرح نفسانی خواہشات کو ترجیح دے کر اللہ سے کیے گئے عہد کو بھلا دے گا تو وہ ہمیشہ دنیا میں نقصان اٹھائے گا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوگا۔ یہود کو ہمیشہ رسولوں کی باتیں بری لگتی تھیں تو وہ یا تو ان کو جھٹلاتے یا پھر قتل ہی کردیتے جیسا کہ سیدنا زکریا اور سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کو انہوں نے قتل کر ڈالا۔ اللہ ارحَمُ الّٰرحِمِین ہے اس نے بار بار یہود کو معاف کیا مگر یہود نے اس معافی اور درگزری سے کبھی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ سرکشی کرنے لگتے اور برے کاموں میں لگے رہتے ان کو یہ خیال ہی نہ آتا کہ ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا اللہ جل جلالہ بار بار یاد کرواتے ہیں کہ کبھی مت بھولو۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر کام سے اچھی طرح واقف ہے جو بھی کوئی بندہ کر رہا ہے اور عہد کے مطابق حساب کتاب کا دن ضرور آئے گا اور حساب کتاب کے بعد سزا اور جزا ضرور ملے گی، اس لیے ہر شخص کو ہر وقت اپنے اعمال پر سختی سے نظر رکھنی چاہیے اور ان قوموں سے سبق لینا چاہیے جنہوں نے خواہشات کی پیروی کی اور دنیاو آخرت خراب کرلی۔
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے عیسیٰ بن مریم کو اللہ کہہ دیا اور مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل ! اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ بیشک جس نے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا تو یقیناً اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

نصارٰی کا غلط عقیدہ اور سزا اگلی آیت میں بھی ان کے کفر کا ذکر ہے۔
Ayahs 5:73–74

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا اللہ تین میں کا ایک ہے، حالانکہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز نہ آئے تو جنہوں نے کفر کیا ہے ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے ؟ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

نصارٰی کا غلط عقیدہ ” تین خدا “ تشریح : اس آیت میں عیسائیوں کے تثلیث کے عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے تثلیث کا مطلب ہے تین الٰہ یعنی باپ، بیٹا، روح القدس۔ اس وقت بھی نصارٰی کا یہی عقیدہ ہے کہ یہی تینوں اللہ ہیں یا علیحدہ علیحدہ اللہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن پاک نے صاف الفاظ میں اس عقیدے کو کفر کہا ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ صرف اور صرف ایک ہے کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہوسکتا جو اللہ وحدہ لاشریک لہ نہیں مانتا تو اس کو دردناک عذاب دیا جائے گا۔ لیکن توبہ کا دروازہ ان لوگوں کے لیے کھلا ہے۔ اللہ بےحد رحم کرنے والا، معاف کرنے والا اور بڑا درگزر کرنے والا ہے۔
Ayahs 5:75–77

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح بن مریم صرف ایک رسول تھا، اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے، اس کی ماں ایک راستباز عورت تھی، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے، دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے سچی نشانیاں واضح کرتے ہیں پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھرے جاتے ہیں۔

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

ان سے کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع پہنچا سکتا ؟ حالانکہ (سب کی) سننے والا اور (سب کچھ) جاننے والا تو صرف اللہ ہی ہے۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

کہو، اے اہل ِ کتاب ! اپنے دین میں مبالغہ نہ کرو، اور ان لوگوں کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور اکثر کو گمراہ کیا اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔

سیدنا مسیح اور مریم کی حیثیت تشریح : ان آیات میں عیسائیوں کے عقائد کو خوب واضح کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ان نصارٰی کو سمجھائو کہ تم اگر تھوڑی سی عقل بھی رکھتے ہو تو تم بڑی آسانی سے اپنے تمام عقائد کو چھوڑ کر ایک ٹھیک اور سیدھا عقیدہ، یعنی عقیدہ توحید کو اپنا سکتے ہو اور پھر تاکید ًا ان کو سمجھایا کہ تمہارے رسول نے تو تمہیں توحید کی ہی تعلیم دی تھی تم نے خواہ مخواہ گمراہ قوموں کے کہنے پر سیدھے راستے کو چھوڑ دیا ہے۔ یہاں اشارہ ان گمراہ قوموں کی طرف ہے جنہوں نے عیسائیوں پر بھی اثر ڈالا۔ ان میں قدیم مصری شرک جو یونانیوں میں پوری طرح رچ بس چکا تھا۔ بڑے بڑے یونانی فلسفی اسکندریہ کی روشن خیالی سے بڑے متاثر تھے۔ عیسائیوں نے مشرکانہ عقائد کو آرام سے قبول کرلیا اور پھر پولس (سینٹ پال) نے سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی تمام تعلیمات کو ختم کر کے مسیحیت کو یونانی شرک کی ایک شاخ ہی بنا دیا۔ آخر میں رومیوں نے اپنے مشرکانہ عقائد ان پر عائد کردیئے۔ اب موجودہ مسیحی قوموں کے عقائد وہ نہیں جو ان کو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے بتائے تھے۔ آنحضرت ﷺ نصارٰی کو یہی بتا رہے ہیں کہ تمہارا عقیدہ تمہارے نبی کی تعلیمات کے مطابق بالکل ٹھیک اور سچا عقیدہ تھا جو کہ گمراہ قوموں کی وجہ سے بالکل خراب ہوچکا ہے، اس لیے غورو فکر کرو اور توحید کی سیدھی راہ اختیار کرو۔ تمہارا موجودہ مسیحی مذہب، عقائد اور رسم و رواج سب کے سب مصری شرک، یونانی شرک اور رومی شرک کا نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ بار بار نصارٰی کو ان کی اصلیت اور ان کے نبی کی تعلیم کے بارے میں بتا رہے اور سمجھا رہے ہیں کہ جو کچھ بھی خرابیاں تمہارے مذہب میں شامل ہوچکی ہیں ان کو بھول جاؤ اور اللہ واحد کی طرف لوٹ آئو۔ گمراہ لوگوں کا راستہ چھوڑ کر اپنی کتاب کی پیروی کرو۔ جو بھی سیدھی راہ اختیار کرے گا دنیا و آخرت میں نجات پائے گا ورنہ شرک تو بہت ہی بڑا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” مگر جب اللہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو ! تمہاری اس سرکشی کا وبال تم ہی کو بھگتنا ہوگا۔ دنیا کے چند روزہ مزے ہیں پھر ہماری ہی طرف تم کو پلٹ کر آنا ہے، اس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔ “ (یونس آیت : 23 )