4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمفہوم القرآن

Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور ہم نے ہر اس ترکے کے حق دار مقرر کردیئے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں۔ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگران ہے

وارثوں کا حصہ تشریح : وراثت کی تقسیم بڑی تفصیل سے بیان کی جا چکی ہے۔ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ جاہلیت کی اس رسم کو ختم کردیا جائے۔ رسم یہ تھی کہ دوستی میں ایک دوسرے سے یہ عہد کرلیا جاتا تھا کہ جب میں مرگیا تو میرے مال میں سے اتنا تمہارا ہوگا۔ حکم یہ ہوا کہ مسلمان کو عہد کی پابندی ضرور کرنی چاہیے، اس لیے اپنی زندگی میں ہی اس قسم کے عہد کو پورا کرتے ہوئے اپنے منہ بولے بیٹے یا دوست کو کچھ نہ کچھ دے دیا جائے، کیونکہ مرنے کے بعد وراثت صرف والدین یا رشتہ دار جو اللہ رب العزت نے حق دار مقرر کردیئے ہیں وہی حق دار ہوسکتے ہیں۔ دوست یا منہ بولے بیٹے یا دوستی میں بنائے گئے رشتہ دار ترکے میں ہرگز حصہ دار نہیں ہوسکتے۔ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں یہ حکمتیں تو اللہ رب العزت خوب اچھی طرح جانتے ہیں، کیونکہ نگران اعلیٰ ، یعنی سب سے بڑا نگرانی کرنے والا تو صرف اور صرف اللہ جل شانہ ہی ہے۔ اس کے مقرر کئے ہوئے وارث ہی ترکہ کے حق دار ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 4:34–35

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں پر برتر ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے (قوام یا قیم ہیں۔ ) اور اس بنا پر کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں، پس جو صالح عورتیں ہیں وہ فرمانبردار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، بستروں میں ان سے علیحدہ رہو اور مارو، پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے بہانے تلاش نہ کرو، یقین رکھو کہ اللہ بہت مرتبے والا اور بالاتر ہے۔

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اگر تم لوگوں کو میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک انصاف کرنے والا مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان صلح کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور خبر رکھنے والا ہے

مردوں کی عورتوں پر فضیلت تشریح : ان آیات میں گھریلو زندگی کے چند اصول بتائے گئے ہیں۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ دو افراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہ السلام) دنیا کو آباد کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنے اس ذریعہ کو مفید، بامقصد، پرامن اور کامیاب بنانے کے لیے اللہ رب العزت نے میاں بیوی کے درجات کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ گھر کا نظام چلانا، اخراجات پورے کرنا اور اپنے بیوی بچوں کو بہترین آسائشیں دینے کا بندوبست کرنا مرد کا فرض ہے، اس فرض کو پورا کرنے کے لیے مضبوط جسم و جان کی ضرورت ہے جو کہ مرد کو عطا کی گئی ہے، اسی لیے اس کو حاکم، یعنی سربراہ کہا گیا ہے۔ دوسری طرف عورت کا درجہ بھی کوئی کم تر نہیں۔ اس نے ہی تو ولیوں، پیغمبروں، فلسفیوں غرض تمام بہترین انسانوں کو جنم دیا پیدائش کا وسیلہ اللہ رب واحد نے عورت کو عطا کیا۔ صرف پیدائش کا فرض ہی نہیں دیا، بلکہ بچہ کی صحیح تعلیم و تربیت بھی اس کے ذمہ لگائی گئی۔ پیدائش اور تربیت اتنا بڑا، مشکل اور محنت کا کام ہے کہ اس کے لیے عورت کو کمانے کا وقت نہیں مل سکتا، کیونکہ کمانا خود ایک علیحدہ اور مشکل کام ہے جو مرد کے ذمہ ہے اسلام نے عورت کو کمانے کی ذمہ داری سے اس طرح آزاد کردیا ہے کہ جب پیدا ہو تو باپ کفالت کرے، جب شادی ہو تو خاوند کفالت کرے، اگر وہ مرجائے تو بیٹا، اس کے بعد بھائی اس کے بعد قریب ترین رشتہ دار اگر کوئی بھی نہ ہو تو پھر اسلامی حکومت کا فرض ہے عورت کی کفالت کرے۔ یہ بہت بڑی سہولت ہے جو مسلمان عورت کو دی گئی ہے اگر عورت خود اپنی مرضی سے کچھ کام کرنا چاہے تو اس پر پابندی نہیں۔ یہ سہولت عورت کی نزاکت اور جسمانی کمزوری اور عزت و وقار کی وجہ سے دی گئی ہے اور سب سے بڑی وجہ بچہ کو پرورش کرنے کے لیے دی گئی ہے۔ انسانی بچہ کی تمام تر تربیت اور اخلاق کی تشکیل ماں کی گود میں ہی ہوتی ہے۔ جدید نفسیات نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ 75 فیصد تربیت شخصیت و کردار کی تکمیل شروع کے تین سالوں میں ماں کی گود سے ہوجاتی ہے۔ باقی کردار سازی تعلیم و تربیت دوسرے ادارے مکمل کرتے ہیں۔ بچے کو خوش خلقی، محبت، ایثار باہمی میل جول اور تخلیقی صلاحیتیں ماں کی بہترین تربیت ہی سے ملتی ہیں۔ اسی لیے تو ماں کو صرف بچوں کی پرورش اور گھریلو ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے جبکہ باہر کی ذمہ داریوں اور کمانے کی مشقت سے اسے آزاد کردیا گیا ہے اور یہی نظام گھر، بچے اور میاں بیوی کی بہترین زندگی گزارنے کے لیے مناسب اور موزوں ہے اور اسی سے بہترین معاشرہ اور بہترین ملک وجود میں آتے ہیں۔ جب میاں بیوی کا نکاح ہوتا ہے تو میاں سربراہ کی حیثیت سے اور بیوی اس کو سربراہ مانتے ہوئے خوش گوار اطاعت گزاری کا معاہدہ کرتے ہیں۔ دونوں کو اپنے فرائض پوری ایمانداری، خلوص اور محبت سے پورے کرنے چاہئیں۔ عورت کا فرض ہے کہ خاوند کی غیر موجودگی میں اپنی اور خاوند کے مال کی حفاظت کرے اور بچوں کی تربیت، گھر کی بہتری کے لیے ہر وقت تیار رہے پھر اگر کوئی عورت نافرمانی ضد اور لڑائی جھگڑا کرے تو مرد کو حکم دیا گیا ہے کہ اس کو پیار سے سمجھائے، اگر وہ نہ سمجھے تو پھر تنبیہہ کیلئے اپنی خواب گاہ علیحدہ کرلے، اگر پھر بھی نہ مانے تو پھر بیوی کو مار کر سمجھائے۔ اگر پھر بھی بیوی راہ راست پر نہ آئے تو پھر دونوں خاندانوں سے ایک ایک آدمی میاں بیوی کے اختلافات دور کرنے کی پوری کوشش کریں اور اگر اختلافات دور ہوجائیں تو پھر مرد کو چاہیے کہ خواہ مخواہ حیلے بہانے سے عورت کو تنگ نہ کرے، بلکہ پوری رواداری اور خلوص سے بہترین زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ اگر مرد کو برتری دی گئی ہے اور اختیارات بھی دیئے گئے ہیں تو اس کو چاہیے ان اختیارات کو ایمانداری سے استعمال کرے اور ہر وقت خیال رکھے کہ اس کی پکڑ اور سزا کے لیے اس کے اوپر اللہ رب العزت کی پوری نظر ہے اور وہی سب سے بڑا اور بلند وبالا ہے۔ اسی نے مرد کو برتری اور عورت کو دوسرے لحاظ سے عزت و احترام عطا کیا ہے اور اسی نے زندگی گزارنے کے تمام قوانین انسانوں کو دیئے ہیں، کیونکہ وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ وہ انسانوں کی بہتری کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ مرد و عورت کا فرق اچھی طرح واضح ہوگیا ہے کہ مرد روزی کماتا ہے اور عورت پر اپنا مال خرچ کرتا ہے، جبکہ نیک خصلت عورت کی دو ذمہ داریاں ہیں۔ پہلی مرد کی تابعداری اور خاوند کی غیر موجودگی میں مال میں خیانت نہ کرنا، دوسری اپنے بچوں کی اور گھر کی حفاظت پوری ایمانداری سے کرنا، پھر بھی اگر کبھی آپس میں اختلاف ہوجائے تو اس کے لیے بھی بڑے اچھے اصول بتا دیئے گئے ہیں، یہ سب اس لیے کہ علیحدگی اور گھر کی خرابی سے بچاؤ ہو سکے۔ اللہ رب العزت کے دیئے ہوئے راہنما اصول جو قرآن و سنت میں وضاحت سے بتائے گئے ہیں۔ بہترین ہیں اسی لیے قرآن کو پڑھنا، سمجھنا، عمل کرنا اور قرآنی علم کو پھیلانے کی بہت بڑی فضیلت ہے اور انسانی کامیابی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے میاں بیوی کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ کیونکہ اچھے برے افراد پیدا کرنا انہی کی ذمہ داری ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’ زیادہ مکمل ایمان اس کا ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور تم میں اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی سے حسن سلوک سے پیش آئے۔ (سنن ترمذی) اسی طرح عورت کے لیے فرمایا : جو عورت خاوند کی رضا مندی میں فوت ہوئی وہ جنت میں داخل ہوئی۔ (ابن ماجہ)
Ayahs 4:36–38

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی، غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، (نوکروں سے) احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو مغرور اور خود پسند ہو۔

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں) جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دیا ہے اسے چھپاتے ہیں۔ ایسے کافر لوگوں کے لیے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں) جو اپنے مال صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخر پر۔ سچ یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوا اسے بہت ہی بری رفاقت میسر آئی

بندوں کے حقوق اور شیطان کے ساتھی تشریح : ان آیات میں بندوں کے حقوق کا ذکر کیا گیا ہے اور ان بخیل، مغرور اور کفار کا ذکر کیا گیا ہے جو شیطان کے دوست ہیں اللہ رب العزت کے ناپسندیدہ لوگ ہیں ان کو انتہائی ذلیل کرنے والا عذاب دیا جائے گا۔ اللہ رب العزت ہمیں اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔
Ayahs 4:39–40

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اللہ تعالیٰ انہیں خوب جاننے والا ہے

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اسے دو چند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے

کفار اور بخیل غور کریں تشریح : پچھلی آیات میں بخل کا ذکر کیا گیا ہے اصل میں ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو نہ صرف مال خرچ کرنے میں ہی کنجوسی کرتے تھے، بلکہ علم کے بارے میں بھی کنجوسی کرتے تھے وہ اس طرح کہ اصل مسئلہ لوگوں کو نہ بتاتے تھے حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی آمد اور قرآن مجید کے بارے میں تورات میں صاف صاف بتایا گیا تھا مگر وہ اس بات کو لوگوں سے چھپاتے تھے اور خاص طور سے مسلمان جو مدینہ میں رہتے تھے وہ یہودیوں کو علم میں اپنے سے زیادہ سمجھتے تھے، اس لیے وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں تصدیق کے لیے یہودی علماء کے پاس جاتے تو یہودی علماء ان کو حقیقت سے دور رکھتے اور اپنے اس علم کو چھپاتے جو اللہ نے اپنے فضل و کرم سے ان کو تورات کے ذریعے دے رکھا تھا۔ یوں اللہ رب العزت نے ان کی عادت یہ بتائی ہے کہ یہ شیطان کے ساتھی ہیں مال میں بھی اور علم میں بھی بخل کرتے ہیں ان آیات میں اللہ رب العالمین ان لوگوں پر افسوس کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کتنا ہی اچھا ہوتا اگر وہ پیغمبر کی ہدایات کو مانتے، اللہ پر ایمان لے آتے، آخرت پر ایمان لے آتے اور جو کچھ ان کو دیا گیا تھا اس میں سے اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرتے۔ ریاکاری، بدنیتی اور بخل سے اپنی عاقبت خراب نہ کرتے، شاید ان کا خیال ہے کہ وہ اللہ رب العزت کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ تو نیتوں تک سے واقف ہے کہ کون، کس نیت سے، کیا کر رہا ہے ؟ سب اس کی نظر میں ہے اس کے علم سے کوئی بات باہر نہیں۔ اب جو کچھ نافرمانیاں، کفر، بخل اور ظلم یہ کر رہے ہیں اسی کا تو بدلہ ان کو آخرت میں ملے گا ورنہ اللہ رب العزت کا رحم و کرم اور عنایات اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو کئی گنا زیادہ کرکے ثواب اور بہترین اجر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انتہائی مشفق، مہربان اور غفورورحیم ہے۔ وہ تو کسی انسان کو دکھ اور تکلیف میں مبتلا نہیں رکھنا چاہتا۔ دنیا میں مشکلات آتی ہیں تو ہمارے اپنے برے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں۔ آخرت میں جہنم میں جگہ ملے گی تو وہ بھی ہماری اپنی غفلت، نافرمانی اور ضد کی وجہ سے ملے گی۔ کیونکہ انسان کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے وقتاً فوقتاً رسول اور انبیاء بھیجے جاتے رہے ہیں۔ تاکہ انسان برے راستوں سے بچ کر نیکی کا راستہ اختیار کرے اور دنیا و آخرت میں ہر طرح کی بھلائیاں حاصل کرکے اللہ کا مقبول بندہ بن سکے۔ اس کی رحمت، برکت اور بخشش تو ہر وقت ہر بندے کیلئے جوش میں رہتی ہے، وہ تو تھوڑی سی نیکی کا بدلہ اپنے پاس سے کئی گنا کرکے دیتا رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا میں زہد اختیار کرو اللہ تم سے محبت کرے گا جو لوگوں کے پاس ہے اس سے بےرغبت ہو جاؤتو لوگ تجھ سے محبت کریں گے۔ (سنن ابن ماجہ)
Ayahs 4:41–42

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

پھر سوچو کہ اس وقت کیا ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر آپ ﷺ کو گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے کفر کیا اور رسول ﷺ کی بات نہ مانی تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے

حساب کے دن کفار کی تمنا تشریح : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس وقت ان کفار و منکرین کا کیا حال ہوگا ؟ جب حساب کتاب کا دن آئے گا تمام لوگ اور سب امتیں اللہ کے حضور پیش کی جائیں گی اور ان کے رسول اس بات کی گواہی دیں گے کہ ہم نے آپ کا پیغام، نیکی و بدی کا فرق اور اچھے برے راستوں کی راہنمائی پوری طرح کردی تھی۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنی امت کی اور تمام انبیاء کی سچائی کی گواہی دیں گے اور جو کچھ ان کی امتوں نے ان کے ساتھ سلوک کیا اور بداعمالیاں کیں ان سب کی گواہی پیغمبر دیں گے۔ وہ دن بڑاسخت دن ہوگا، نافرمان اور منکرین کو اپنا انجام صاف دکھائی دے رہا ہوگا۔ تب حسرت اور پریشانی میں وہ لوگ بچنے کی تدبیریں کریں گے جو کہ بالکل بےکار ہونگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپانا بالکل ممکن نہیں نہ اس جہان میں اور نہ ہی حساب کے دن میں۔ وہ سب لوگ انتہائی پریشانی اور گھبراہٹ میں یہ آرزو کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں چھپ جائیں اور حساب و کتاب کی سختی سے بچ جائیں۔ یہ سب کچھ بس حسرت ہی بنا رہے گا کیونکہ وہاں سے بھاگ جانا اور اس کی سختی سے بچنا ناممکن ہوگا۔ حساب ضرور ہوگا اور عذاب بھی ضرور ملے گا اور نیک لوگوں کو بہترین جزا ملے گی۔
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ، ( نماز اس وقت پڑھنی چاہیے) جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو اور اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک کہ غسل نہ کرلو، الا یہ کہ راستہ سے گزرتے ہو اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے لمس کیا ہو اور پھر پانی نہ ملے تو پھر پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرلو، بیشک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے۔

حالت نشہ میں نماز اور تیمم کا حکم تشریح : اس سورت میں بہت ضروری احکامات گزر چکے ہیں، مثلاً : حقوق العباد، ناجائز مال کی ممانعت، قتل کی برائی، تکبر، غرور اور ریاکاری کی ممانعت اور اب نماز کا حکم ہے جس کے لیے دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ایک یہ کہ نشہ کی حالت میں نہ ہو تاکہ نماز کا مطلب سمجھ سکو۔ دوسرا یہ کہ نماز کے لیے طہارت، یعنی جسم کی پاکیزگی ضروری ہے۔ اس آیت میں شراب کے متعلق دوسری دفعہ حکم دیا گیا ہے۔ پہلی دفعہ سورة ٔ بقرہ کی آیت 219 میں گزر چکا ہے جس میں شراب کو صرف برا کہا گیا تھا۔ جس پر کچھ مسلمانوں نے اس کو چھوڑ دیا تھا مگر اکثر نے نہ چھوڑی بلکہ نشے کی حالت میں ہی نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے تقریباً 4 ھ میں نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا، پھر کچھ عرصہ بعد شراب کو پوری طرح چھوڑ دینے کا حکم دے دیا گیا۔ سورة ٔ مائدہ کی آیت 90 اور 91 میں شراب کے حرام ہونے کا حکم دیا گیا۔ شراب کے حرام ہونے کا حکم آہستہ آہستہ دیا گیا تاکہ لوگوں کو یہ پکی اور عام عادت چھوڑنے میں مشکل پیش نہ آئے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب نیند کا غلبہ اس قدر زیادہ ہو کہ نماز کے الفاظ ادا کرنے میں دقت ہو رہی ہو تو نماز کو نیند کے پورے ہونے کے بعد ادا کیا جائے تاکہ جو پڑھو سمجھ کر پڑھو۔ دوسرا ضروری حکم نماز کی ادائیگی کے لیے یہ دیا گیا ہے کہ ناپاکی کی حالت میں نماز نہ پڑھو۔ تفصیل یہ بیان کی گئی ہے سو کر اٹھو یا رفع حاجت کرکے آئے ہو یا پھر عورت سے ملاپ کرکے آئے ہو اور غسل کی ضرورت ہو۔ اگر پانی میسر ہے تو غسل کرکے پھر نماز قائم کرو۔ لیکن اگر پانی میسر نہ ہو یا پانی استعمال کرنا طبی لحاظ سے منع ہو یا پھر سفر میں ہو اور غسل کرنا یا وضو کرنا ممکن نہ ہو تو ان صورتوں میں اللہ رب العزت نے پانی کا بدل مٹی کو بنانے کی اجازت دی ہے۔ جس کو تیمم کہا جاتا ہے۔ تیمم کا طریقہ ہے کہ پاک مٹی پر دونوں ہاتھ مار کر ان کو صاف کر کے منہ پر پھیر لیے جائیں، پھر دونوں ہاتھ ایک دوسرے پر پھیر لیے جائیں اور یہ عمل وضو اور غسل کا متبادل بتایا گیا ہے اور یہ صرف بندوں کو سہولت دینے کا ایک طریقہ ہے کیونکہ اللہ رب العزت تو ہمیشہ اپنے بندوں کو معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ یہ تیمم کی سہولت بھی صرف اسی لیے دی گئی ہے کہ انسان میں پاکی کا احساس ضرور باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب ہم پانی نہ پائیں تو زمین کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنائی گئی ہے۔ (صحیح مسلم) دوسرے یہ کہ نماز کسی حالت میں بھی چھوڑی نہیں جاسکتی۔ تیمم کا طریقہ یہ ہے۔ -1 دل سے نیت کرنا، -2 دونوں ہاتھ مٹی پر مار کر منہ پر پھیرنا، -3 پھر دونوں ہاتھ ایک دوسرے پر پھیرنا، نیز دو مرتبہ مٹی پر ہاتھ پھیرنے والی بات درست نہیں۔ تیمم انسان کے لیے سہولت ہے۔ تاکہ انسان ہمیشہ نیکی اور پاکی پر قائم رہ سکے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ناپاکی کی حالت میں مسجد میں بیٹھنا منع ہے، مسجد میں سے گزر جانے کی ممانعت نہیں۔
Ayahs 4:44–45

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ؟ جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے گمراہ ہو جاؤ

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت و مدد گاری کیلئے اللہ ہی کافی ہے

یہود کی نالائقی تشریح : ان آیات میں یہود کا ذکر ہو رہا ہے۔ ان کے بارے میں تیسرے پارہ کے آخر اور چوتھے کے شروع میں کافی بتایا جا چکا ہے۔ یہاں عبادات و معاملات کے بیان کے بعد یہودیوں کا ذکر دوبارہ کیا جارہا ہے، تاکہ موجودہ وقت کے مسلمانوں کو پھر سے یہودیوں کی خصلت بد سے خبردار کیا جائے۔ کیونکہ وہ مسلسل مسلمانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے تھے۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ یہ اہل کتاب (یہودی) کس ذہنیت کے مالک ہیں۔ بیشک یہ بڑی مقبول قوم تھی ان کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا تھا، مگر انہوں نے اپنے دنیاوی فائدوں کے مطابق کتاب کے مضامین کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کردیا ہے۔ یہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ تم ان سے بس خبرداررہو ان سے بچ کر رہو یہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب طرح جانتا ہے کیونکہ تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے جو کہ بہترین حمایت کرنے والا اور بہترین مددگار ہے، لہٰذا تم بےفکر ہو کر پورے خلوص اور محنت سے دین کی سربلندی کے لیے کام کیے جاؤ۔
Ayah 4:46

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

جو لوگ یہودی بن گئے ہیں ان میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف طعنہ زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سَمِعْنَا (ہم نے سن لیا) وَعَصَیْنَا (ہم نے قبول نہیں کیا) اور اِسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ (تم ہماری بات سنو اور اللہ کرے تمہاری بات نہ سنی جائے) اور راعِنَا (گالی کے طور پر) حالانکہ اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راست بازی کا طریقہ تھا مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔

یہود کی مکاریاں تشریح : یہودیوں کی بدتمیزیوں کے بارے میں سورة ٔ بقرہ اور آل عمران میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں پھر بتایا جارہا ہے کہ وہ جب نبی کریم ﷺ سے ملتے تو بظاہر تو ادب کے الفاظ استعمال کرتے مگر دراصل الفاظ کو ذرا دبا کر بولتے جس سے اسی لفظ کا مطلب راعِیْنَا کہ ہمارا چرواہا ہوجاتا، جب کہ راعِنَا کا مطلب ہے ہم پر شفقت کی نظر کریں۔ اسی طرح کی خرابیاں اور خباثتیں یہودی کرتے رہتے تھے اسی لیے اللہ رب العزت نے ان پر لعنت بھیجی ہے اور ان پر کامیابی کے دروازے بند کردیئے گئے۔ بہت تھوڑے ایسے لوگ تھے جو ایمان لائے اور یہودیوں کی خباثتوں میں ان کے ساتھ شامل نہ ہوئے اور اللہ کی لعنت سے بچ گئے۔
Ayahs 4:47–48

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے اہل کتاب مان لو اس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اس کتاب کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی۔ اس پر ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہم چہرے بگاڑ کر پیچھے پھیر دیں یا ان کو اسی طرح لعنت زدہ کردیں جس طرح سبت والوں کے ساتھ ہم نے کیا تھا اور (یاد رکھو کہ) اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

اللہ بس شرک کو ہی معاف نہیں کرتا، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔ اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا اس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ باندھا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی

یہودیوں کو ایمان کی دعوت تشریح : ان آیات کی پوری تفصیلات آل عمران اور سورة ٔ بقرہ میں بیان ہوچکی ہیں۔ یہاں اللہ رب العزت حکم دیتے ہیں کہ اگر تم نے راہ راست اختیار نہ کی تو پھر جیسے تمہارے اجداد اصحاب السبت کو سزا کے طور پر بندر بنا دیا گیا تھا تمہیں بھی ایسی ہی سزا ملے گی تمہارے چہرے بھی بگاڑ دیئے جائیں گے اور پھر مزید خبردار کیا کہ اللہ کا حکم ضرور پورا ہو کر رہتا ہے۔ نافرمانی سے بچو تاکہ عذاب سے بچ سکو۔ اللہ رب العزت مزید خبردار کر رہے ہیں کہ شرک اتنا شدید گناہ ہے کہ اس کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ شرک کا مطلب ہے اللہ رب العالمین کو معبود مانتے ہوئے کسی اور کو بھی معبود ماننا۔ شرک کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ -1 فرضی دیوی، دیوتا، خیالی تصاویر یا بت کو پوجنا۔ -2 کائنات کی قوتوں کو پوجنا، مثلاً : چاند، سورج، ستارے، ہوا، آگ اور بجلی وغیرہ۔ -3 اللہ کے نیک بندوں، انبیاء اور رسولوں کی پرستش کرنا یا ان کی کسی قبر یا مزار کو پوجنا۔ مثلاً : حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نیک لوگوں کے بت بنائے اور پوجنے لگے جیسا کہ ود، سواع کے نام مشہور ہیں۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ یہود و نصارٰی نے اپنے علمائے دین اور مشائخ کو اللہ بنا لیا تھا اور وہ اس طرح کہ ان کی باتوں کو اللہ کی باتوں کا درجہ دیتے تھے۔ قرآن مجید کے بیان کے مطابق بعض اپنی خواہشات کے ہی پجاری بن جاتے ہیں، کیونکہ اپنی خواہشات کے سامنے وہ یوں جھک جاتے ہیں کہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ذرا غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کائنات کا ایک ایک ذرہ اللہ کی گرفت میں ہے علم اور سائنس کی ترقی نے اس بات کو مضبوط ترین کردیا ہے کہ کائنات کے انتظام کے پیچھے کوئی زبردست طاقت کام کر رہی ہے اور وہ ہے ” اللّٰہ “ اور جو انسانی عقل سے بعید انسانی نظر سے پوشیدہ اور انسانی پہنچ سے باہر ہے۔ جب ہم انسانی تخلیق اور دنیا کی تمام مخلوقات اور ان کی روزی کے انتظامات پر غور کرتے ہیں تو اللہ کے سوا کوئی دوسرا نظر نہیں آتا، پھر بھی جو لوگ زبردستی اپنے آپ کو شرک کی غلاظتوں میں ڈالنا چاہتے ہیں تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے اوپر خود بہت بڑا ظلم کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب وہ دعا کرتے ہیں تو ان میں نہ یقین ہوتا ہے، نہ مکمل بھروسہ ہوتا ہے اور نہ ہی اعتماد ہوتا ہے۔ توجہ بھی بٹی ہوئی ہوتی ہے اور یقین بھی منتشر ہوتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مشرک انسان خود اپنے آپ کو بےیقینی کے سپرد کردیتا ہے اور اللہ کے غصہ کا شکار بھی ہوتا ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ شرک ہرگز معاف نہ ہوگا۔ باقی گناہ کسی کسی صورت سے معاف ہوسکتے ہیں۔ لیکن شرک ناقابل معافی گناہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کو بار بار تاکید فرمایا کرتے تھے کہ خبردار ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ (بخاری، مسلم، نسائی) مصیبت میں صرف اللہ کو پکارو۔ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے کہا وہی ہوگا جو اللہ چاہے گا اور آپ ﷺ چاہیں گے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے اس کو ٹوک دیا اور فرمایا : کیا تو نے مجھے اللہ کا شریک بنا لیا ہے ؟ بلکہ یوں کہو کہ جو کچھ اللہ رب العزت کو منظور ہوگا وہی ہوگا۔ (بخاری، مسند احمد)
Ayahs 4:49–55

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

آپ نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جو اپنی پاکیزگی نفس کا دم بھرتے ہیں ؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ ہی جسے چاہے دیتا ہے اور (انہیں جو پاکیزگی نہیں ملتی تو درحقیقت) ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جاتا

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو تو سہی، یہ اللہ پر بھی افترا گھڑنے سے نہیں چوکتے اور ان کے صریحاً گناہ گار ہونے کے لیے یہی ایک گناہ کافی ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ؟ جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جِبْتِ (بےفائدہ چیز) اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ مومنوں سے تو یہی زیادہ ہدایت یافتہ ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر آپ اس کا کوئی مددگار نہیں پائیں گے

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا حکومت میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ دوسروں کو پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

پھر کیا یہ دوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا ؟ اگر یہ بات ہے تو انہیں معلوم ہو کہ ہم نے تو ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا اور (منہ موڑنے والوں کے لیے تو بس) جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے

یہود کا جھوٹ تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا آپ ان یہود کو نہیں دیکھتے کہ ان میں دنیا جہان کی خرابیاں موجود ہیں پھر بھی اپنے پاک صاف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کتنی فضول سوچ ہے ان کی اور کتنی بےمعنی بات یہ اپنے بارے میں کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب تو اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے پاک کرتا ہے، یہ لوگ بالکل گمراہ ہوچکے ہیں، اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے بغیر وجہ کے اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب میں نہ ڈالے گا۔ اس آیت کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ یہودی بچھڑے کو پوجتے اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور دعو ٰی کرتے تھے کہ ہم تو اللہ کے خاص بندے ہیں، مقبول ہیں، پیغمبری ہماری خاندانی (میراث) چلی آرہی ہے ہم مشرک نہیں ہیں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ دیکھو کیسی عجیب بات ہے ؟ ہر قسم کی برائی میں مبتلا ہیں۔ اللہ پر تہمتیں لگاتے ہیں، خوب کفر کرتے ہیں۔ شرک کرتے ہیں، پھر بھی اللہ کا دوست ہونے کا دعو ٰی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ جل جلالہ کے مقبول بندے ہیں، کوئی وقت تھا کہ یہ اللہ کی مقبول قوم تھی اور ان میں بیشمار جلیل القدر نبی ہوتے رہے، یہ بھی سچ ہے کہ بنی اسرائیل پیغمبروں کی اولاد تھے، لیکن یہ تمام عزت اور وقار انہوں نے خود اپنی نالائقی، نافرمانی اور ضد کی وجہ سے کھو دیا یہ بڑی سخت مشرک اور نافرمان قوم بن گئی، لہٰذا ان سے سب کچھ چھین لیا گیا بلکہ ان کے لیے بڑا سخت عذاب بھی تیار کیا گیا ہے۔ جب ان کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں تو نبوت کا سلسلہ ان سے نکل کر بنی اسماعیل میں چلا گیا اور یہ ان کے لیے انتہائی اذیت ناک بات تھی۔ حسد میں یہ لوگ اپنی کتاب میں دی گئی نشانیوں کو بھی چھپانے لگے، جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں تورات میں ان کو بتا دی گئی تھیں، یہ لوگ (یہودی) غصہ اور حسد میں پاگل ہوگئے اور جو منہ میں آتا مسلمانوں اور نبی محمد ﷺ کے خلاف بکتے رہتے یہاں تک کہتے کہ مکہ کے مشرکین ان مسلمانوں سے زیادہ اچھے ہیں اور ہر وقت مشرکین کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں، ان کی اس قسم کی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ رب العزت نے ان پر لعنت بھیجی ہے اور ظاہر ہے جس پر اللہ ناراض ہوجائے اور لعنت بھیج دے اس کا نہ دنیا میں کوئی دوست ہوسکتا ہے اور نہ آخرت میں ہی کوئی حامی و مددگار ہوسکتا ہے، لہٰذا ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں جگہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور کوئی بھی ان کا مددگار نہیں ہوتا۔ آیت 53 کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ جب یہود نے یہ دعو یٰ کیا کہ پیغمبری، حکومت اور سرداری تو صرف ہمارا ہی حصہ ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ کیا حکومت و سلطنت صرف یہود کا ہی حصہ ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اگر یہ حاکم ہوئے تو ایک تل کے برابر بھی کسی کو یہ خیرات نہ دیں۔ پھر اللہ رب العزت پوچھتے ہیں کہ کیا یہ اس بات پر حسد کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر فضل و کرم کیا گیا اور مسلمانوں کو عزت مل گئی ہے ؟ اس بات پر حسد کرنا بالکل بےفائدہ ہے کیونکہ ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھرانے کو ہی کتاب، علم و حکمت اور سلطنت عطا کی ہے اور اب بھی یہ اسی خاندان کو ہی ملی ہوئی ہے۔ ان کا حسد اور بغض بےمعنی ہے ان کو چاہیے کہ جب بات واضح ہوگئی ہے کہ محمد ﷺ سچے پیغمبر ہیں، قرآن سچی کتاب ہے تو پھر ان پر ایمان لے آئیں۔ اسی میں ان کی بہتری ہے کہ اللہ پر ایمان لے آئیں مسلمانوں کے مددگار اور بھائی بن جائیں مگر یہ لوگ تو دنیاوی عزت، مال و دولت، طمع اور لالچ میں اس قدر بہک گئے ہیں کہ نہ تو انہوں نے فرمان الٰہی کی کوئی پرواہ کی اور نہ ہی نیکی کی راہ اپنائی، بلکہ کفر و نافرمانی، حسد اور بعض میں ہی دب کر رہ گئے ہیں، بھلا ان کو نبوت و سلطنت کس طرح دی جاسکتی ہے ؟ جبکہ یہ حد سے زیادہ بخیل اور بدکردار لوگ ہیں اور پھر یہ اتنی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ نبوت حضرت محمد ﷺ کو دی گئی ہے اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہی ہیں، پھر اللہ نے فرمایا کہ کچھ یہود تو ایمان لے آئے اور کچھ اپنی ضد پر اڑے رہے اور ایمان نہ لائے تو ایمان نہ لانے والوں کیلئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی گئی ہے۔
Ayah 4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا انہیں ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو ہم اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے تاکہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں یقینا اللہ زبردست اور بڑی حکمت والا ہے

دوزخ کا عذاب تشریح : اس آیت میں اس بھڑکتی ہوئی آگ اور منکریں کے عذاب کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ جہنم کی آگ بڑی سخت تیز ہوگی وہ ان کے جسم کی جلد کو فوراً جلا ڈالے گی اور اللہ رب العزت ان کی جلد کو دوبارہ بحال کر دے گا، پھر جلائی جائے گی، یہ عمل باربار دہرایا جائے گا تاکہ عذاب کی شدت میں کمی نہ آئے اور وہ عذاب کا پورا پورا مزہ چکھیں۔ اللہ جل شانہ زبردست حکمت والا ہے اسی لیے وہ خوب جانتا ہے کہ ان کو کس طرح اور کس قدر عذاب دیا جائے ؟ اس آیت میں خاص حکمت کی بات یہ بیان کی گئی ہے جو کہ فرانس کے مشہور سائنسدان اور سرجن ڈاکٹر مورس بوکائے نے اپنی کتاب ” بائبل قرآن اور سائنس “ میں وضاحت سے بیان کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : جب میں نے یہ آیت پڑھی تو میں پھڑک اٹھا کہ قرآن مجید نے ڈیڑھ ہزارسال قبل ہی ایک ایسی بات کہی ہے جس کا ہمیں آج پتہ چل رہا ہے۔ میں ایک سرجن ہوں جانتا ہوں کہ جسم میں جب سوئی چبھوئی جاتی ہے تو درد صرف جلد تک رہتا ہے، جلد سے آگے نہیں جاتا یعنی جسم کی کھال پورے کا پورا ایک دفاعی نظام ہے یعنی اگر ہمارے جسم میں کوئی اجنبی چیز باہر سے داخل ہونا چاہے تو جسم درد کے ذریعے ہمیں فوراً اطلاع کردیتا ہے۔ قرآن مجید یہ بات ڈیڑھ ہزار سال پہلے کہہ چکا ہے کہ درد اور تکلیف صرف جلد میں ہوتا ہے۔ یہاں اللہ جل شانہ نے بڑی وضاحت سے کہہ دیا ہے کہ جس قدر بڑا جرم ہوگا اسی قدربڑی سزا دی جائے گی۔
Ayah 4:57

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کئے ان کو ہم ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کو پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم گھنی چھاؤں میں رکھیں گے

نیک بندوں کے لیے خوش خبری تشریح : اس آیت میں خوشخبری دی جارہی ہے ان لوگوں کو جو قرآن پر ایمان لے آئے اور پھر اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں اس کے دیئے ہوئے قانون، اصول اور ہدایات کی پابندی کی اور یوں اعمال صالحہ کرتے ہوئے کامیاب زندگی گزاری تو ایسے لوگ صرف دنیا میں ہی کامیاب نہیں ہوتے، بلکہ آخرت میں بھی ان کو ایسی بہترین زندگی ملے گی کہ جن کی مثال یوں دی گئی ہے کہ خوب صورت ٹھنڈی چھاؤں والے باغات ان کا ٹھکانہ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور پھر ان کو دل بہلانے اور خوش ہونے کے لیے انتہائی خوبصورت اور پاک دامن بیویاں بھی دی جائیں گی۔ غرض وہاں کوئی پریشانی اور دقت پیش نہ آئے گی اور یہ آرام دہ زندگی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہوگی اللہ ہم سب کو نصیب کرے۔ آمین۔
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

مسلمانو ! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے

امانتیں اور انصاف تشریح : نیک بندوں کو جنت کی خوش خبری دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اب وضاحت فرما رہا ہے کہ نیک بندوں کی پہچان کیا ہے ؟ ان کے فرائض کیا ہیں ؟ اس آیت میں دو راہنما اصول بتائے جارہے ہیں جن کو عمل میں لانا ایک فرد، محلہ، شہر، ملک اور پوری دنیا کے لیے فائدہ مند اور ضروری ہے۔ پہلا اصول یہ بتایا گیا کہ امانتیں دیانت داری سے واپس کر دو ۔ یہ صرف اس پر ہی ختم نہیں ہوجاتا کہ کسی کا مال، مویشی اس کو دے دو بلکہ ذرا اور آگے چل کر دیکھیں تو اس حکم میں دستور مملکت کے چند مفید اصول ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک کا ہر عہدیدار اپنے پاس بیشمار امانتیں رکھتا ہے۔ اس کا منصب، ڈیوٹی، امانت ہے۔ اگر وہ اپنے منصب سے کوئی بھی ناجائز فائدہ اٹھائے گا، یعنی کام ایمانداری، محنت اور خلوص سے نہ کرے یا کسی ایسے بندے کو ایسی جگہ نوکری دے کہ جس کا وہ اہل نہیں، یعنی ذاتی مفاد کے لیے، یا سفارش یا رشتہ داری کے خیال سے کسی ڈاکٹر کو وزیر خزانہ اور صحافی کو میڈیکل آفیسر بنا دیتا ہے تو ہر بندہ اس نقصان کا بخوبی اندازہ کرسکتا ہے، دونوں ہی جگہ لاعلمی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے وہاں کا بیڑہ ہی غرق کردیں گے اور اس طرح ملک و قوم کو کس قدرشدید نقصان اٹھانا پڑے گا اور یہ نقصان پھیلتے پھیلتے بڑی خوفناک شکل اختیار کرے گا اور اس کا ذمہ دار صرف وہ شخص ہوگا جس نے اپنے اختیارات سے غلط فائدہ اٹھا کر غلط لوگوں کو غلط جگہ پر مقرر کردیا۔ یہ بہت بڑی اور ناقابل معافی خیانت ہے اسی طرح بیشمار اور خیانتیں ہیں جن سے ہر وقت ہر مسلمان کو بچنا چاہئے۔ دوسرا حکم اس آیت میں عدل و انصاف کا دیا گیا ہے۔ عدل و انصاف گھر سے لے کر پوری دنیا تک امن و سکون اور بہتریوں کا ضامن ہے۔ خاص طور سے اس کا اشارہ حکما، امراء اور منصفین کی طرف ہے۔ یہ منصب بےحد احتیاط اور ایمانداری کا منصب ہے۔ اگر انصاف میں کوئی بےگناہ سزا پا گیا یا کسی کو ناحق تکلیف پہنچ گئی تو منصف کو پوچھ ضرور ہوگی۔ اس میں کسی قسم کی رو رعایت یا تعلقات کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔ ہر شخص کو ہر وقت پوری طرح یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ اس سے کوئی عمل اور کوئی بات ہرگز چھپی ہوئی نہیں۔ اللہ جل شانہ جو اصول بتاتا ہے اور جو نصیحت کرتا ہے وہ بےحد مفید، جامع اور حکمت پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے اس کی نصیحتوں پر عمل کرنا بےحد ضروری اور فائدہ مند ہے دنیا میں بھی بھلائی کا سبب اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں جھگڑا ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو ، اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔

اطاعت کس کی ؟ ، جھگڑوں کا فیصلہ تشریح : پچھلی آیات کی طرح اس آیت میں بھی مسلمانوں کو کچھ ایسے اصول بتائے جارہے ہیں جو ان کی پوری زندگی کے لیے راہنما ہیں۔ مذہب، رہن سہن اور سیاسی معاملات کے لیے خاص قانون بنا دیئے گئے ہیں جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اللہ جل شانہ نے اطاعت کرنے کے لیے تین درجے بتا دیئے ہیں۔ پہلا درجہ اللہ رب العزت کا ہے۔ ہر بندہ اسی کا مطیع، اسی کا غلام اور اسی کا فرمانبردار ہے۔ ہر شخص، ہر قوم اور ہر ملک کی نجات، کامیابی اور فلاح اسی میں ہے کہ اللہ کا فرمانبرداربن کر اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلے اور پورے کا پورا اللہ کا بندہ اور غلام بن کر رہے۔ دوسرا درجہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت کا ہے، کیونکہ قرآن تو قانون ہے اور سنت اس قانون کی وضاحت ہے جو کہ عملی طور پر مسلمانوں کے سامنے رکھی گئی ہے، اس لیے حضرت محمد ﷺ نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ (صحیح بخاری) تیسری اطاعت جو اسلامی نظام میں مسلمانوں پر فرض ہے وہ ہے ” اولی الامر “ یعنی حاکم جو مسلمان ہوں۔ ان میں لیڈر، سربراہ حکومت، علماء، ملکی نظام چلانے والے حکام، جج، سردار یا سیاسی راہنما ان سب کی اطاعت ہر مسلمان پر فرض ہے شرط صرف یہ ہے کہ وہ ایک تو پکے مسلمان ہوں دوسرا کوئی بھی ایسا حکم یا فیصلہ نہ دیں کہ جو قرآن و سنت کے خلاف ہو۔ یہ حکم بھی ملکی سلامتی، امن وامان، استحکام اور ترقی کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو پھر انتشار، افراتفری اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چوتھی اور آخری بات جو آیت کے آخر میں بتائی گئی ہے وہ ہے کہ اگر کبھی کسی بات پر گھر میں، محلہ میں، شہر میں یا ملک میں کوئی جھگڑا فساد کھڑا ہوجائے تو اس کا فیصلہ کرنے کے لیے بہترین طریقہ ہے کہ کتاب اور سنت سے فیصلہ لیا جائے جو بھی حکم قرآن اور حدیث میں بیان کردیا گیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کرلو تو کوئی پریشانی اور نقصان نہ اٹھانا پڑے گا۔ یہی اصول یعنی قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کرنا ہی مسلمانوں کو کافروں سے علیحدہ اور بلند تر کرسکتا ہے۔ کیونکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ایمان لانا، یوم آخرت پر ایمان لانا، یہی تو اعمال ہیں جو ہمارے لیے نجات اور کامیابی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ دنیا اور آخرت میں بھلائی کا ذریعہ ہیں اور یہی اصول، یہی اعتقاد، مسلمان کو مرد آہن، ایک مضبوط، معقول اور ناقابل شکست انسان بنا دیتا ہے۔ یہی تو مسلمان کی شان ہے۔ علامہ ڈاکٹر اقبال نے مرد مومن کی تعریف یوں کی ہے۔ کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازو کا نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں اگر کوئی مسلمان صحیح معنوں میں اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنالے، یقین، ایمان اور نیک عمل کی دولت سے مالا مال ہوجائے تو پھر اس کے اندر اور اس کی نگاہوں میں ایسا اثر پیدا ہوجاتا ہے جو دیکھنے والوں کو دہلا دیتا ہے اور ان کے اندر نئی زندگی اور نیا جذبہ پیدا کردیتا ہے اور وہ تمام خطروں سے بےنیاز ہو کر زندگی کے میدان میں کود پڑتا ہے۔ کوئی شیطان اس کے سامنے کھڑا ہونے کی جرأت نہیں کرسکتا اور یوں وہ کامیاب و کامران، مضبوط انسان بلندیوں کی طرف پرواز کرتا چلا جاتا ہے۔
Ayah 4:60

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعو ٰی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو آپ سے پہلے نازل کی گئی تھیں، مگر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت (شیطان) کی طرف رجوع کریں، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ شیطان انہیں بھٹکا کر بہت دور لے جانا چاہتا ہے

آنحضرت ﷺ کا فیصلہ تشریح : پہلی آیات میں تمام معاملات میں اللہ اور رسول ﷺ کی بتائی ہوئی راہیں (قوانین) اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ وہ اصول اور قوانین بہترین اور انسانوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔ موجودہ آیات میں اس حکم کی نافرمانی کرنے کے نقصانات بتائے گئے ہیں۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک یہودی اور منافق (جو بظاہر مسلمان تھا) کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ فیصلہ کے لیے یہودی نے آنحضرت ﷺ کا نام لیا، جبکہ منافق نے کعب بن اشرف جو کہ یہودی عالم تھا اس سے فیصلہ کروانا چاہا۔ آخر کار دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس فیصلہ کے لیے چلے گئے۔ آپ ﷺ نے انصاف سے فیصلہ کیا اور یہودی کے حق میں فیصلہ ہوگیا مگر منافق نہ مانا اور فیصلہ کے لیے حضرت عمر کے پاس جانے کو کہا۔ حضرت عمر ؓ کو جب پتہ چلا کہ فیصلہ نبی کریم ﷺ کرچکے ہیں تو انہوں نے منافق کو نبی ﷺ کی نافرمانی پر قتل کردیا اس آیت میں اسی واقعہ کی وضاحت کی گئی ہے کہ دیکھو اس شخص کو جو دعویٰ کرتا ہے مسلمان ہونے کا ایمان بھی لے آیا، لیکن اندر سے منافق تھا اور اس کا کفر جھگڑے کے وقت اس طرح ظاہر ہوگیا کہ جھگڑے کا فیصلہ بجائے نبی ﷺ سے کروانے کے یہودی کے فیصلہ کو ترجیح دی مگر یہودی اس پر تیار نہ ہوا۔ پھر نبی کریم ﷺ کے فیصلہ کو نامنظور کیا، حالانکہ آپ ﷺ کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ اس آیت میں طاغوت، یہودی کعب بن اشرف کو کہا گیا ہے یا پھر اس شیطان کی طرف اشارہ ہے جس نے منافق کو ہر طرح سے گمراہی کی طرف جانے پر مجبور کیا۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ جو شخص بھی شیطان کی پیروی کرے گا تو شیطان اس کو دور دراز کی گمراہی میں ڈال دے گا۔ جیسا کہ اس منافق کا انجام ہوا جب وہ حضرت عمر ؓ کے پاس گیا تو رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی وجہ سے ان کے ہاتھوں قتل کردیا گیا۔ تب منافق کے وارث آنحضرت ﷺ کے پاس گئے اور قسمیں کھانے لگے کہ وہ تو صرف صلح کروانے کا مقصد لے کر حضرت عمر ؓ کے پاس گئے تھے۔ حضرت عمر ؓ پر وہ قتل کا دعویٰ کرنا چاہتے تھے تب یہ آیت نازل ہوئی اور اصل مسئلہ سے آپ ﷺ کو آگاہ کردیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بظاہر مسلمان کہلاتے تھے لیکن در پردہ احکام جاہلیت کی طرف جھکنا چاہتے تھے اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی ہیں، بہر حال آیت اپنے حکم اور الفاظ کے اعتبار سے عام ہے۔
Ayahs 4:61–62

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے۔ اور آؤ رسول ﷺ کی طرف تو ان منافقوں کو آپ دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف آنے سے گریز کرتے ہیں۔

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پھر اس وقت کیا ہوتا ہے ؟ جب ان کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آپڑتی ہے، اس وقت یہ آپ کے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ہم تو بھلائی چاہتے تھے۔ ہماری نیت تو یہ تھی کہ کسی طرح آپس میں صلح ہوجائے

منافقین کا وطیرہ تشریح : پچھلی آیت میں بیان کیا جا چکا ہے کہ خود ہی نافرمانی کرکے اپنے لیے مصیبت کھڑی کرتے ہیں اور پھر خود ہی روتے پھرتے ہیں اور جھوٹی سچی تاویلیں پیش کرتے ہیں۔ بہرحال ان آیات میں منافقوں کی نشانیاں اور پھر ان کا انجام خوب کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔
Ayahs 4:63–64

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، آپ ان سے اعراض کیجئے، انہیں نصیحت کیجئے اور ایسی بات کہیں کہ جو ان کے دلوں میں اتر جائے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

انہیں بتائیں کہ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔ اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھے تھے تو آپ کے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا تو یقیناً اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے

صحیح طریقہ تشریح : ان آیات میں بھی منافقین کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ رب العزت خوب اچھی طرح ان کو جانتے ہیں اور جب بھی وقت آئے گا ان کو سزا ملے گی۔ پھر آنحضرت ﷺ کو اللہ کا حکم ہے کہ آپ ﷺ ان کی منافقت اور خباثت کی بالکل پرواہ نہ کریں اور مسلسل انکو نصیحت کرتے رہیں، پھر اللہ رب العزت مغفرت مانگنے کی تلقین فرماتا ہے کہ اگر ان لوگوں سے قصور ہوگیا تھا تو ان کو یہی چاہیئے تھا کہ وہ رسول ﷺ کے پاس آتے اللہ سے معافی مانگتے اور رسول ﷺ سے درخواست کرتے کہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں تو اللہ رب العزت یقیناً ان کی توبہ قبول کرکے ان کو معاف کردیتا، کیونکہ بہت دفعہ بتایا جا چکا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے مگر بخشش کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں فوراً توبہ کر لینی چاہئے۔ سچی توبہ اللہ قبول کرلیتا ہے اور معاف کردیتا ہے۔ مگر ان منافقین نے تو الٹا یہ کہنا شروع کردیا کہ اللہ کی قسم ہم تو موافقت اور اصلاح چاہتے ہیں۔ ہماری نیت صاف تھی۔ مگر اللہ تو دلوں کے بھید جانتا ہے۔ یہ اس کو تو ہرگز دھوکہ نہیں دے سکتے۔ اس آیت میں خاص طور سے سبق دیا گیا ہے کہ اگر گناہ ہوجائے تو فوراً سچی توبہ کرلو۔
Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

نہیں اے نبی ﷺ ! آپ کے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ آپ کو اپنا فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ آپ فیصلہ کریں اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں، بلکہ خوشی سے مان لیں۔

یمان کی پرکھ تشریح : آیت نمبر 59 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے کہ جو لوگ سچے مومن ہیں ان کیلیے فرض ہے کہ جھگڑے کی صورت میں قرآن و سنت سے مدد لیں جو اس کے سوا کریں گے وہ مومن نہیں کافر ہیں اور جو بھی قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ پر دل سے خوش نہ ہو مطمئن نہ ہو تو یہ بھی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے، اس لیے نیک دلی اور سچائی سے قرآن و سنت کے فیصلوں کو قبول کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ امام مالک بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ روایت پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” میں تم لوگوں میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم انہیں تھامے رہو گے تم گمراہ نہیں ہو گے (ایک) اللہ کی کتاب اور (دوسری) اس کے نبی کی سنت۔ (مؤطا امام مالک) قرآن و سنت پر عمل ہر مسلمان کا اولین فرض ہے۔
Ayahs 4:66–68

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اگر ہم نے ان کو حکم دیا ہو تاکہ اپنے آپ کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے کم ہی آدمی اس پر عمل کرتے، حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے

اللہ کے احکامات مشکل نہیں تشریح : ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں کو تو کوئی مشکل کام نہیں کہا گیا جیسا کہ پہلی امتوں کو کہا گیا تھا ان کی طرح اگر ان کو رسول یا اللہ یہ حکم دیتے کہ اپنے گلے کاٹ لو اور یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو یہ لوگ اس پر ہرگز عمل نہ کرتے شاید تھوڑے سے لوگ حکم مان لیتے۔ ان لوگوں کو تو بہت ہی آسان احکامات دیئے گئے ہیں، اس لیے ان کو چاہیے کہ خوش دلی اور پورے ذوق و شوق سے تمام احکامات کو مانیں ان کو جو احکامات دیئے گئے ہیں وہ نہ صرف آسان ہی ہیں، بلکہ بےحد فائدہ مند اور بہترین اجر وثواب کے موجب بھی ہیں۔ اللہ رب العالمین نے فرمایا : اگر یہ لوگ ان کو مان لیتے تو میں اس فرمانبرداری کے بدلہ میں ان کو ایسے سیدھے اور بہترین راستہ پر ڈال دیتا کہ جو ان کو پختہ ایمان کی دولت سے مالا مال کردیتا اور یہ لوگ ہر قسم کی پریشانی، تکلیف، دکھ درد اور رنج و الم کے عذاب سے چھوٹ جاتے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آرام، سکون اور عزت و احترام کے ٹھکانے ان کو مل جاتے۔ اللہ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنا، پورے خلوص اور نیک نیتی سے اللہ و رسول کے احکامات پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں بھلائیاں حاصل کرنے کا بہت آسان اور عمدہ ذریعہ ہے۔
Ayahs 4:69–70

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ حقیقی فضل ہے جو اللہ کی طرف سے ملتا ہے اور ( حقیقت جاننے کے لیے بس) اللہ کا علم ہی کافی ہے۔

اللہ کے پسندیدہ بندے تشریح : ان آیات میں انسانوں کی درجہ بندی کی گئی ہے اعمال، کردار اور اعتقادات کی نسبت سے، یعنی اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو مخلوقات میں سے اکثر پر فضیلت دی اور پھر اس کی پرورش کے لیے تمام کائنات کو پیدا کردیا ہر قسم کی سہولیات، ہر قسم کے فائدے انسان کو جسمانی صحت کے لیے دیئے اور پھر روحانی صحت کے لیے اس کو ایسے اصول دیئے جو اس کو برائی سے بچا کر نیکی کی راہیں دکھاتے ہیں۔ یہ اصول کیسے دیئے ؟ کیونکہ بندہ نہ تو اللہ کو دیکھ سکتا ہے اور نہ آمنے سامنے بات کرسکتا ہے تو اس رابطے کے لیے اللہ نے کچھ ایسے اچھے انسان انسانوں میں سے ہی چن لیے جو اس قابل تھے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دیں۔ پیغام پہنچانے والے کو رسول، نبی یا پیغمبر کہتے ہیں۔ ان کی فطرت عام لوگوں سے بہت پاکیزہ ہوتی ہے۔ بچپن سے ہی یہ نیک فطرت، پاک دامن اور انتہائی شریف مزاج لوگ ہوتے ہیں۔ اللہ رب العزت ان کو اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے۔ ان کو اپنے پیغامات وحی کے ذریعے دیتا ہے جو وہ لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں، پھر ان پیغامات کو صحیفہ یا کتاب، یعنی آسمانی کتاب کا نام دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی کریم ﷺ تک بندوں کی ہدایت کے لیے مختلف وقتوں میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے گئے۔ انسانوں میں سب سے بلند درجہ انبیاء (نبی کی جمع) کا ہے، پھر انبیاء کا حکم ماننا بندوں پر فرض کردیا گیا ہے۔ ان انبیاء میں حضرت ابراہیم، اسماعیل، اسحٰق، داؤد، سلیمان، عیسیٰ ، موسیٰ اور حضرت محمد ﷺ شامل ہیں۔ ان پر جو لوگ سب سے پہلے اور بغیر حیل و حجت کے ایمان لے آئے وہ صدیقین کے درجہ پر آتے ہیں جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ سب سے پہلے آپ ﷺ پر ایمان لے آئے، پھر جو لوگ ان انبیاء پر اور اللہ پر اس قدر بھروسہ کرتے ہیں اور اس قدر عزت اور احترام کرتے ہیں کہ اپنی جان، مال، اولاد اور اپنی ہر چیز ان کے بتائے ہوئے راستوں پر چل کر اللہ کی راہ میں قربان کردیتے ہیں ان کو شہداء (شہید کی جمع ہے) کا درجہ دیا جاتا ہے۔ یہ درجہ بھی بہت بلند درجہ ہے۔ چوتھے نمبر پر صالحین (صالح کی جمع) کا درجہ آتا ہے۔ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے خیالات پاکیزہ ہوں جو کبھی بھی شیطان کے بہکانے میں آکر غلط کام نہ کریں اور اگر کوئی گناہ ہوجائے تو فوراً اللہ کے سامنے جھک کر عاجزی اور خلوص سے معافی مانگ لیتے ہیں۔ جھوٹ نہیں بولتے، قتل نہیں کرتے، غیبت نہیں کرتے، چوری نہیں کرتے، دوسروں کو نہ تنگ کرتے ہیں، نہ ان کا حق مارتے ہیں، غرض اللہ کی بتائی ہوئی ہر بات کو دل و جان سے مانتے ہیں اور ہرگز کسی بھی فرض کے ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے، ہر وقت اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ غرض اللہ کی مخلوق میں اللہ کے مقبول ترین بندوں میں سب سے پہلا درجہ انبیاء کا، پھر صدیقین کا، پھر شہداء کا اور پھر صالحین کا آتا ہے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ تمام لوگوں میں بہترین لوگ وہ ہیں جن کو دنیا میں اور آخرت میں بھی اوپر بیان کئے گئے مقبول ترین لوگوں کی دوستی یا قربت مل جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیک بندے کا رجحان ہمیشہ نیکی کی طرف ہی ہوتا ہے وہ دوست بھی اپنے جیسا ہی بنانا پسند کرتا ہے اور وہ اپنے جیسے نیک فطرت انسان کو ہی پسند کرتا ہے تو ایسے لوگوں پر اللہ کی رحمت کے دروازے یوں کھل جاتے ہیں کہ اللہ اپنے فضل و کرم سے ان کو بہترین لوگوں کی دوستی عطا کردیتا ہے اور پھر آخرت میں بھی ان کو ایسے ہی لوگوں کے قریب جگہ ملے گی۔ جنت کے بھی کئی درجات ہیں اور اسی طرح دوزخ کے بھی کئی درجات ہیں۔ اللہ جل شانہ ہمیں دوزخ سے بچا کر جنت میں اپنے مقبول بندوں کے قریب ترین بہترین جگہ عطا کرے اور اس کے لیے قرآن و سنت پر سختی سے عمل کرنا بےحد ضروری ہے اور ہمیشہ نیک اور اچھے لوگوں کو دوست بنانا چاہئے۔ ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” وہ بیوپاری جو سچا اور ایمان دار ہو وہ انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ “ مطلب یہ ہے کہ انسان زندگی کے جس شعبہ میں بھی رہ کر کام کر رہا ہو اس کو اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے اصولوں سے ہٹ کر ہرگز کام نہیں کرنا چاہئے۔