4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 4:71–74

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے بچاؤکا سامان ہر وقت تیار رکھو، پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

ہاں، تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے، اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا تو کوئی تعلق تھا ہی نہیں کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے ان لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کردیں، پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے

جہاد کی تیاری اور اس کا اجر تشریح : پہلے اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا تھا۔ ان آیات میں امت مسلمہ کو دین کی حفاظت، اسلام کے پھیلانے کے لیے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاد کا اصل مطلب ہے کمال درجہ کی کوشش کرنا۔ مسلمان زندگی کے ہر قدم پر جہاد کرتا ہے، اسلام کی سربلندی کیلئے ہر وقت جہاد کرتا ہے۔ دل، زبان، قلم، مال اور جان سب کچھ باطل کو مٹانے کے لیے اور حق کو پھیلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان آیات میں کفر و شرک کے خلاف لڑنے کا حکم دیا گیا ہے کہ ہر وقت سامان جنگ سے لیس رہو مگر لڑائی کے اصولوں سے ہٹ کر کام نہ کرو بلکہ پوری طرح منظم ہو کر ترتیب سے انتظام اور اتحاد سے لڑائی کے لیے نکلو۔ یہ نہیں کہ بےترتیب اور منتشر ہوجاؤ۔ میدان جنگ کی صورت حال کے مطابق اپنے آپ کو تیار کرو۔ اگر چھوٹے چھوٹے دستوں کی ضرورت ہے تو چھوٹے چھوٹے دستے تیار کرو اور اگر بڑے لشکر کی ضرورت ہے تو بڑے لشکر کی صورت میں منظم ہو کر لڑائی کرو، پھر ہر وقت ان لوگوں سے خبرداررہو جو دشمن کے جاسوس یا منافقین تمہاری فوج میں شامل ہو کر تمہیں بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ منافقوں کا حال تو یہ ہے کہ حیلے بہانے کرکے جنگ میں شامل ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ اگر شکست ہوجائے تو کہتے ہیں شکر ہے اللہ کا ہم نہ گئے، حالانکہ وہ اس بات سے بالکل بیخبر ہیں کہ موت تو ہر صورت آ کے رہے گا گھر میں آگئی تو بس مرگئے اور اگر جہاد میں مارے گئے تو ہمیشہ کی زندگی مل گئی کیونکہ شہید کے درجات تو اللہ رب العزت نے بہت بلند وبالا رکھے ہیں اور اگر جنگ جیت کر مال غنیمت کے ساتھ مسلمان واپس آئیں تو پھر کہتے ہیں کاش ہم بھی جاتے تو خوب لوٹ مار کرتے، یعنی ان کی نظر میں بس مال و دولت اور دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کی ہمیشہ والی زندگی سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، دین کی بجائے دنیا کے فوائد کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ان کے خلاف جہاد کرو۔ کامیابی ہو یا ناکامی اس کی پرواہ نہ کرو کیونکہ اللہ کی راہ میں اگر مارے گئے تو شہید کا بہترین درجہ پاؤ گے اگر بچ گئے تو غازی کا اعزاز ملے گا۔ غرض دونوں صورتوں میں تمہیں فائدہ ہی فائدہ ہے، ثواب ہی ثواب ہے اور اجر عظیم تمہیں ملے گا۔ جہاد کی تاکید میں حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اب ہجرت باقی نہیں رہی مگر جہاد اور ( نیک) نیتی باقی رہے گی اور جب تم لوگوں سے مطالبہ کیا جائے کہ جہاد کے لیے نکلو تو پھر نکل کھڑے ہوا کرو۔ (صحیح بخاری) کیونکہ اس کی بڑی فضیلت ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ سالم ابو النصر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفٰی ؓ نے انہیں لکھ کر بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جان لو کہ جنت تلواروں کے سایوں کے نیچے ہے۔ (بخاری)
Ayahs 4:75–76

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کہ تم اللہ کی راہ میں ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ اے اللہ ! ہم کو اس بستی سے نکال جسکے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں

مظلوموں کی مدد کے لیے جہاد تشریح : ان آیات میں مظلوم کی فریاد، پھر ان کی مدد کے لیے مسلمانوں کو صاف لفظوں میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ اصل میں یہ ان مظلوم مردوں، عورتوں اور بچوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو مکہ میں پھنسے ہوئے تھے اور ایمان لانے کی وجہ سے ان پر اہل مکہ بےحد ظلم و ستم کر رہے تھے اور بےچارے مظلوم مسلمان اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے تھے کہ کسی طرح انکی مدد کی جائے اور اس بستی سے نجات دلائی جائے جہاں کے لوگوں نے ان کی زندگیاں حرام کر رکھی ہیں تو مدینہ کے مسلمانوں کو حکم ہوا کہ جہاد کرو کفار کے خلاف اور مظلوم مسلمانوں کو ان کے چنگل سے آزادی دلاؤ۔ یہ حکم کہ کفر کے خلاف اسلام کی مضبوطی کے لیے جنگ کرو، تاکہ دنیا میں امن و سکون ہو سکے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے اس حکم کا پابند بنایا جارہا ہے۔ اسلام کا مطلب ہے سلامتی اور ہر صورت میں کفر، ظلم اور زیادتی کا خاتمہ کرنا، جو لوگ حق کی خاطر باطل کے خلاف لڑتے ہیں وہ جہاد کرتے ہیں اس بےلوث اور مخلص جنگ میں جو بھی شریک ہو مجاہد کہلاتا ہے اور ہر صورت میں بہترین انعام کا مستحق ہوتا ہے۔ اس آیت میں انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ اللہ رب العزت کے راستے کو صراط مستقیم، یعنی سیدھا راستہ اور سبیل اللہ (اللہ کا راستہ) کہا گیا ہے، جبکہ شیطان کے راستے کو طاغوت کا راستہ کہا گیا ہے، جو راستہ ہر برائی، نافرمانی اور غلط کام کی طرف جاتا ہے۔ شیطان کا کام ہے اللہ کے بندوں کو بھٹکانا اور ان کو شر، فساد اور برائی کی طرف لے جانا۔ تاریخ اسلام میں بیشمار ایسے واقعات ملتے ہیں جو کفر و ایمان کی لڑائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد فرما کر کفر کی بڑی بڑی تدبیروں کو ناکام کردیتا ہے۔ مسلمانوں کا جذبہ ایمانی، شوق جہاد، اللہ کی محبت اور خلوص اس کو کفر کے مقابلہ میں اس قدر مضبوط اور ناقابل شکست بنا دیتا ہے کہ دشمن کی تمام تدبیریں، طاقت اور تعداد کچھ بھی کام نہیں آتیں۔ ایمان کی طاقت اللہ پر بھروسہ اور اتحاد و یکجہتی مسلمانوں کے بہترین ہتھیار ہیں جن کے سامنے بڑی سے بڑی طاقت ٹھہر نہیں سکتی۔ لیکن اخلاص کا ہونا شرط ہے۔ علامہ اقبال نے کچھ یوں فرمایا۔ شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی ڈاکٹرعلامہ اقبال اللہ کے ان سپاہیوں کی تعریف کرتے ہیں جو انتہائی کم عرصہ میں مشرق و مغرب پر چھا گئے۔ فرماتے ہیں کہ وہ سپاہی اللہ کے راستے میں لڑ مرنے کو اپنی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد سمجھتے تھے۔ ملکوں کو فتح کرنا یا مال غنیمت اکٹھا کرنا ان کا مقصد نہیں تھا۔ مال کی ہوس اور دنیا کی آسائشیں ان کے سامنے کوئی حقیقت نہ رکھتی تھیں۔ ماضی بعید اور قریب میں بیشمار ایسے واقعات تاریخ میں ملتے ہیں۔ ہر مسلمان کو ہر وقت ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس کی زندگی بھی اللہ کے لیے ہے اور اس کی موت بھی صرف اللہ کے لیے ہی ہے۔
Ayahs 4:77–78

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

آپ نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جن کو کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو نماز قائم کرو اور زکٰوۃ دو ۔ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا یہ حال ہے کہ لوگوں سے ایسے ڈر رہے ہیں جیسا اللہ سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر۔ کہتے ہیں اے رب ہمارے یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا ؟ کیوں نہ ہمیں کچھ اور مہلت دی ؟ ان سے کہو، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے اور آخرت ایک متقی انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے اور تم پر ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہ کیا جائے گا

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

رہی موت تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو۔ اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ تمہاری بدولت ہے۔ کہو، سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی

لڑائی سے ڈرنے والے تشریح : ان آیات کا شان نزول کچھ یوں ہے کہ مکہ کے مظلوم مسلمان نبی کریم ﷺ سے جنگ کی اجازت مانگتے تھے کہ کفار کے ظلم و ستم سے نجات ملے۔ اس وقت ان کو جنگ سے رکے رہنے کا حکم دیا گیا کہ ابھی صرف صبر کرو اور نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ دو ۔ لیکن ہجرت کے بعد مسلمان کچھ مضبوط ہوئے تو پھر جنگ کا حکم ہوگیا۔ تب مسلمانوں کے کچھ لوگ جنگ سے یوں ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور کچھ اور مہلت مانگنے لگے تو اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ یہ دنیا کی خواہش میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ آخرت کی خوشیوں بھری ہمیشہ کی زندگی ان کو یاد نہیں۔ اور فرمایا کہ ان کو بتاؤ کہ جو بھی یہ کریں گے ذرہ ذرہ کا ثواب ان کو دیا جائے گا۔ ان پر ہرگز ظلم نہ کیا جائے گا۔ ان کو آخرت اور ہمیشہ کی زندگی کے لیے خوب نیکیاں اور بھلائیاں کرنی چاہئیں اور اگر یہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ لڑائی میں مارے جائیں گے تو یہ بہت بڑی سعادت ہوگی اگر جہاد میں مرجائیں، موت کا وقت اور جگہ تو مقرر ہوچکی ہے یہ گھر پر ہوں یا مضبوط قلعہ کے اندر بند ہو کر بیٹھ جائیں یہ موت سے بچ نہیں سکتے۔ یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ موت سے ڈر کر ان نیکی کے کاموں سے مت رک جاؤ جو تمہارے لیے آخرت میں نجات کا باعث بنیں گے اور آخرت کی تمام بھلائیوں کا سبب بنیں گی۔ یہ دنیا تو چند روزہ عیش و آرام یا مصیبتوں اور پریشانیوں کا گھر ہے۔ ہمیشہ رہنے والی مزے کی زندگی جو آخرت کی زندگی ہے اس کی فکر کریں۔ اللہ کے احکامات کو خلوص دل سے مانیں اور عمل بھی کریں اور یوں انعام آخرت حاصل کریں۔ ایک اور بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے وہ یہ کہ جب بھی ان لوگوں کو خوشیاں ملتیں تو کہتے اللہ کے فضل سے ملی ہیں اور جب کوئی تکلیف پہنچتی تو کہتے آپ ﷺ کی وجہ سے پہنچی ہے۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ان کو اتنی سی بات بھی سمجھ میں نہیں آرہی کہ فتح و شکست، فائدہ یا نقصان، سب اللہ کے ارادہ اور حکم سے ہوتا ہے اس میں کسی انسان کو دخل دینے کی نہ اجازت ہے اور نہ قدرت ہے اور پھر ان لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ رب العزت کی صفت رحمٰن و رحیم ہے اس کی طرف سے فضل و کرم ہوتا ہی رہتا ہے اور جو مصیبت ان لوگوں پر پڑتی ہے یہ خود ان کے غلط کاموں کی وجہ سے مصیبت آتی ہے۔ اس میں رسول ﷺ کا کیا کام ؟ رسول ﷺ کا کام تو صرف اللہ رب کا پیغام بندوں تک پہنچانا ہے۔ اب جو غلط کام کرے گا تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ رب العالمین جو سمیع وبصیر ہے اس لیے ان کا کیا ہوا غلط کام اللہ سے چھپا ہوا نہیں، لہٰذا غلط کام کی وجہ سے مصیبت تو ان پر ضرور پڑے گی۔ اتنی سی بات یہ لوگ سمجھنے کی تکلیف نہیں کرتے۔
Ayah 4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

آپ کو جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جو مصیبت آپ پر آتی ہے وہ آپ کے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔ ہم نے آپ کو تمام لوگوں تک پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ گواہ کافی ہے

مصیبت شامت اعمال کی وجہ سے تشریح : انسان کو تمام بھلائیاں، آرام و آسائش کی تمام چیزیں اللہ کی دی ہوئی ہیں۔ یہ بندے کی مرضی ہے کہ ان کو لوگوں کی اور اپنی بھلائی کے لیے استعمال کرے یا برائی کے لیے استعمال کرے۔ قرآن پاک کا یہ اعلان کہ مصیبت، دکھ اور تکلیف انسان خود اپنے ہاتھوں سے پیدا کرتا ہے۔ اس کی بڑی خوبصورت وضاحت سلطان بشیر محمود صاحب نے اپنی کتاب ” قیامت اور حیات بعد الموت “ میں کی ہے فرماتے ہیں۔ اگر کوئی ملک، قوم، معاشرہ یا فرد بلا خوف زندگی، اطمینان، امن اور ترقی کا خواہاں ہے تو ان کے لیے اصلاح کا پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ یہ دیکھیں کہ وہ اللہ کا کوئی قانون تو نہیں توڑ رہے۔ جہاں تک ظلم کا تعلق ہے اسلام اس کو مصیبتوں کی ماں سمجھتا ہے۔ اللہ کو نہ ماننا، کفر کی طرف جھکنا، بےانصافی، رشوت، کرپشن، کم تولنا، زیادہ لینا، سود خوری، یہ سب ظلم کی شکلیں ہیں۔ اس کو روکنے کے لیے رسول ﷺ نے فرمایا : مظلوم کی مدد کرو اسے اس کا حق دلا کر، ظالم کی مدد کرو اسے ظلم سے روک کر۔ اگر کوئی قوم ظلم کی جڑ کاٹتی رہے تو یقیناً اس قوم پر مصیبتیں نازل نہیں ہوں گی۔ اس کی وضاحت کچھ یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ ایک گندی ذہنیت کا آدمی غلط کام کا سوچے گا اور پھر سوچ پر عمل بھی غلط ہی کرے گا۔ غلط عمل کا نتیجہ بھی برا ہی نکلے گا گویا ایک غلط کام کرنے والے انسان نے پورے گھر، محلے، شہر، ملک اور دنیا کو مصیبتوں کی طرف دھکیل دیا۔ اس کے برعکس ایک نیک نیت، پر خلوص اور صاف ستھری ذہنیت والا شخص کبھی بھی غلط اور نقصان دہ کام کا سوچ نہیں سکتا اور وہ اچھے اور فائدہ مند کام کا ہی سوچتا ہے، پھر اس پر عمل کرکے خود کو، گھر کو، شہر، محلے، ملک اور دنیا کو فائدہ پہنچاتا ہے اور اس طرح اللہ کا فرمان ظاہر کرتا ہے کہ انسان اپنے لیے خود مصیبتیں، پریشانیاں، دکھ اور تکلیفیں پیدا کرتا ہے۔ اللہ نے تو اس پر پورا فضل و کرم کر رکھا ہے قرآن و سنت میں زندگی گزارنے کے بہترین اصول و قوانین بتا دیئے ہیں کہ دنیا و آخرت میں کامیابیاں حاصل کرسکے اگر ہم ان پر عمل نہیں کریں گے تو زندگی وبال اور ضرر بن جائے گی۔ برے کاموں کے برے نتیجے ہوتے ہیں۔
Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی اور جو منہ موڑ گیا تو بہرحال ہم نے آپ کو ان لوگوں پر پاسبان بناکر تو نہیں بھیجا ہے

رسول ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے تشریح : اس آیت میں اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے ان کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ نے میرا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا بس یہی آپ کا کام تھا۔ اب یہ کام ہر شخص کا اپنا ذاتی ہے کہ وہ رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتا ہے یا نہیں یہ ہدایت بھی کردی گئی ہے کہ جس نے رسول ﷺ کی پیروی کی تو گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی، کیونکہ رسول ﷺ کا فرمان دراصل اللہ کا فرمان ہے۔ اب جو احکامات کو سمجھتے ہیں، عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں تو گویا انہوں نے جنت کما لی اور جو ایسا نہیں کرتے تو وہ اس کا اجر پالیں گے ان کی بدعملی کا خود ان سے پوچھا جائے گا۔ آپ نہ ذمہ دار ہیں اور نہ آپ سے پوچھا جائے گا۔ آپ نے تو اپنا کام خوبی سے کردیا ہے، اب ہر فرد اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور سزا یا جزا اس کو اعمال کے مطابق ضرور ملے گی۔
Ayahs 4:81–82

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

وہ ( آپ سے تو) کہتے ہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں۔ مگر جب آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر آپ کی باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے۔ اللہ ان کی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے آپ ان کی پرواہ نہ کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، وہی بھروسے کے لیے کافی ہے

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سے اختلاف پاتے

نبی ﷺ کے خلاف سازشیں تشریح : ان آیات میں ان منافقین کا ذکر ہے جو آپ ﷺ کے سامنے ایمان لانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت نبی ﷺ کو ان منافقین کی طرف سے آگاہ کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کو بالکل خبر نہیں کہ ان کی کہی ہوئی ہر بات اور ہر سازش ہم لکھ رہے ہیں۔ یہاں یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ کا نگہبانی کا بندوبست اتنا زبردست اور بہترین ہے کہ اس سے بندوں کا کوئی عمل اور کوئی ارادہ چھپا ہوا نہیں۔ نبی کریم ﷺ کو منافقین سے خبردار کرنے کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ان منافقین کی طرف سے بالکل پریشان نہ ہوں، کیونکہ آپ کا حامی اور مددگار بہت طاقت ور اور بہترین سازگار ہے۔ وہ ہے اللہ رب العزت بس آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور محنت و ہمت سے اپنے کام میں لگے رہیں۔ یہ منافقین آپکا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ کیونکہ یہ شیطان کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔ جبکہ آپ قوی و عظیم اللہ رب کے بھروسہ پر کام کرتے ہیں۔ پچھلی آیات میں ایمان کامل (پکے ایمان) کی تعریف کی گئی کہ جو شخص نبی ﷺ کی فرمانبرداری کرے گا تو وہی پکا اور سچا مسلمان ہوگا اور پھر ان منافقین اور مشرکین کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ نہ تو رسول اللہ ﷺ اور نہ قرآن مجید پر ایمان رکھتے اور نہ اس کی آیات اور مضامین پر غور کرتے ہیں اگر یہ ذرہ سا بھی غور و فکر کریں تو ان کو خود بخود یقین ہوجائے کہ واقعی قرآن جیسی جامع، اعلیٰ اور حکمتوں سے بھرپور کتاب کوئی انسان نہیں بنا سکتا۔ قرآن کی ہر آیت، ہر سورت ا، نسان کو کائنات اور خود انسان کے بہت بڑے بڑے راز بتاتی ہے جو آج کے بڑے بڑے سائنس دان انتہائی محنت اور تجربات کے بعد جان سکے ہیں۔ مثلاً : قرآن میں زمین کی تخلیق کے بارے میں فرمایا : پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھواں تھا۔ اس نے آسمان اور زمین سے کہا۔ (سورۃ 41 کی آیت 11) کائنات کے وجود میں آنے کا جدید ترین نظریہ یہ ہے کہ شروع میں صرف توانائی تھی۔ اسی نے بعد میں مادے کی شکل اختیار کرلی یہ مادہ شروع میں گیس (دخان) کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اس کے بعد اس میں سے بادلوں کی طرح کے ٹکڑے ٹوٹ ٹوٹ کر سدیم وجود میں آئے جن سے کہکشائیں بنیں۔ سدیمی مادہ جمنے کے عمل سے ستاروں کی شکل اختیار کر گیا، پھر ان ستاروں میں اختراق (دوری) کا عمل ہو کر سیارے (جو حرکت کرتے ہیں) بنے جن میں سے ایک سیارہ زمین ہے جو نظام شمسی سے جڑا ہوا ہے۔ یہ تمام نظام جس سے زمین آسمان وجود میں آئے اتنی چھوٹی سی آیت میں چودہ سو سال پہلے بیان کردیا گیا۔ تو یہ قرآن کا ہی کمال ہے اور قرآن کی سچائی کا ایک چھوٹا سا ثبوت ہے۔ اس طرح کے بیشمار حقائق جگہ جگہ بیان کئے گئے ہیں جو قرآن کی سچائی اور آسمانی کتاب ہونے کا بہترین ثبوت پیش کرتے ہیں کوئی انسان یہ سب کچھ کبھی بیان نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سورة ٔملک میں فرمایا : اور بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے آراستہ کیا۔ ان اشاروں پر غور و فکر کرکے تہہ تک پہنچنا، علم فلکیات کی دعوت دیتا ہے۔ پورا قرآن پاک اسی طرح کے اشارات سے بھرا پڑا ہے۔ غور و فکر اور تحقیق کی دعوت بھی بیشمار جگہوں پر دی گئی ہے۔ یہی اللہ کا کلام ہے جو قرآن پاک کی صورت میں ہم مسلمانوں کو اور پوری دنیا کو دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی بےترتیبی نہیں کوئی جھوٹ نہیں اور کوئی خامی نہیں۔ یہ ہے اللہ کا کلام مکمل اور خامیوں سے بالکل پاک۔ علم و حکمت اور ہدایت کی باتوں سے بھرا ہوا۔ یہی تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ مشرکین اور منافقین اگر ذرا سا بھی غور و فکر کریں تو قرآن پاک کو آسمانی کتاب ماننے سے ہرگز انکار نہ کریں۔
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

یہ لوگ جہاں بھی کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں تو اسے پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہ اسے رسول ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں۔ تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) سوائے چند کے تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے

تحقیق کے بغیر افواہ پھیلانا تشریح : شروع میں مدنیہ میں ابھی نئی نئی اسلامی ریاست بنی تھی، مسلمان بھی کچھ کمزور اور کچھ پختہ عقیدہ رکھتے تھے اور پھر یہودیوں کی بستیاں بھی موجود تھیں، منافقین بھی کافی موجود تھے، غرض کافی افراتفری کا وقت تھا۔ ظاہر ہے اس ہلکی پھلکی کمزوری سے مخالفین پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، لہٰذا یہ لوگ افواہوں کے ہتھیار کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کررہے تھے جس پر اللہ رب العزت کا فرمان نازل ہوا کہ مخالفین اسلام کبھی تو دشمنوں کی طرف سے کسی ایسے خطرہ کا اعلان کردیتے جس کا کوئی وجود ہی نہ ہوتا اور لوگ ان پھیلتی ہوئی غلط افواہوں سے بےسکون اور فکر مندہوجاتے۔ کچھ نو مسلم اسلام سے دوری کا بھی سوچتے اور بعض اوقات ایسے ہوتا کہ بڑے خطرہ سے لوگوں کو لاعلم رکھنے کے لیے ایسی افواہیں پھیلائی جاتیں، تاکہ مسلمان آنے والے خطرہ کا مقابلہ کرنے سے بالکل غافل ہوجائیں اور اچانک خطرات سامنے آکھڑے ہوں اور یوں ان کو نقصان اٹھانا پڑے۔ یہاں افواہوں کو پھیلانے یقین کرنے اور آگے بیان کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن ہر چھوٹے بڑے مسئلہ کو بڑی وضاحت سے بیان کرتا ہے اور اس کا علاج بھی بتاتا ہے اسی طرح جنگ میں ہتھیار، فوج اور مناسب میدان جنگ کی ترتیب کے علاوہ ایک بہت بڑا ذریعہ افواہیں پھیلانے کا بھی ہے یہ بھی دشمن کے خلاف ایک بہت بڑا ہتھیار ہے، لہٰذا مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ بغیر تحقیق کے باتوں کو اڑانا (افواہیں پھیلانا) بڑا گناہ اور بڑا فتنہ ہے۔ اس کا مقابلہ اس طرح کیا جانا چاہیے کہ جو بھی افواہ سنی جائے اس کو فوراً اس سے متعلقہ افسر، عالم دین، سیاستدان، پیامبر، سربراہ یا حکومت کے ذمہ دار افراد کو بتایا جائے۔ تاکہ اس افواہ کا قلع قمع کیا جائے اور فوراً اس کی روک تھام کرکے اپنے شہری، ملک و قوم کو نقصان اور افراتفری سے بچایا جاسکے۔ افواہیں پھیلانا بدترین اخلاق میں سے ایک ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؄بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتناہی کافی ہے کہ جو کچھ سنے (اس کی تحقیق کئے بغیر) اسے آگے نقل کر دے۔ (مسلم) یہ بڑی ہی خطرناک بات ہے کئی دفعہ صرف افواہوں کی وجہ سے لوگوں کے درمیان جھگڑا فساد اور بدامنی شروع ہوجاتی ہے۔ اللہ اس سے اپنی حفاظت میں رکھے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے قرآن کی ہدایت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Ayahs 4:84–85

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

پس آپ ﷺ اللہ کی راہ میں لڑو، تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے ذمہ دار نہیں، البتہ اہل ایمان کو لڑنے کے لیے ابھارو، بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے، اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو بھلائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے

جہاد اور اس کی ترغیب تشریح : غزوہ احد میں ابوسفیان ؓ کے ساتھ عہدہوا تھا کہ ذیعقدہ میں بدر صغر ٰی میں جنگ کی جائے گی۔ تب نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو جہاد پر جانے کو کہا مگر لوگوں نے ٹال مٹول کیا۔ تب اللہ رب العزت نے حکم دیا کہ اے نبی ! آپ خود ہی جہاد کے لیے نکل جائیں لوگوں کو کہیں ضرور اگر وہ انکار کرتے ہیں تو ٹھیک ہے آپ نے تو اپناہی حساب کتاب دینا ہے وہ خود اپنے ذمہ دار ہیں پھر فرمایا کہ آپ بالکل گھبرائیں نہیں ہوسکتا ہے کہ ہم ان کی جنگ کو ہی روک دیں اللہ رب نے اپنی مدد اور قوت کا وعدہ کیا اور فرمایا کہ اللہ رب العزت جنگ میں بھی شدید ہے اور سزا دینے میں بھی شدید ہے، لہٰذا فتح آپ کی ہی ہوگی اور انکار کرنے والوں کو سزا ضرور بھگتنا پڑے گی۔ پھر سفارش کی حقیقت بتائی جارہی ہے کہ نیک کام اور نیک مقصد کیلئے اگر کوئی سفارش کرے تو اس کو نیکی کا حصہ ملے گا لیکن اگر برے کام، برے مقصد اور برے شخص کے لیے سفارش کی جائے تو سفارش کرنے والا گناہ میں برابر کا حصہ دار ہوگا۔ یہ تمام معاملات اللہ رب العزت کی نظر سے ہرگز چھپے ہوئے نہیں وہ تو ہر پل اور ہر دل کا حال اچھی طرح جانتا ہے، اس لیے خبرداررہنا چاہئے۔
Ayahs 4:86–87

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب کوئی شخص تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ سے جواب دو یا کم از کم اسی طرح، اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ تم سب کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے ؟

نیکی کا بدلہ تشریح : مسلمانوں کو تہذیب اور اخلاق کے بارے میں حکم دیا جارہا ہے کہ چاہے کوئی تمہارا دشمن ہی کیوں نہ ہو مسلمان کا اخلاق اجازت نہیں دیتا کہ کسی سلام کرنے والے کو اس سے بہتر اور خوش خلقی سے جواب نہ دیا جائے۔ یوں بھی آپس میں ملنے کا بہترین طریقہ اسلام علیکم کہنا ہے تو جواب میں وعلیکم السلام یا وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ کہا جائے اگر کوئی السلام علیکم و رحمتہ اللہ کہے تو جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنا چاہئے۔ اس طرح آپس میں محبت اور خوش خلقی کا اظہار ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد نے حضرت ابو امامہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں ابتدا کرے۔ پھر فرمایا کہ اللہ رب العزت ہر بات، ہر معاملہ اور ہر چیز کا حساب ضرور لے گا۔ اللہ رب العالمین واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ توحید کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ حساب کا دن اللہ رب العزت نے مقرر کر رکھا ہے جب تمام لوگ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے اور پھر ان کے کئے ہوئے اعمال کا حساب کتاب لے کر ان کو سزا اور جزا دی جائے گی۔ یہ فرمان اللہ رب کریم کا ہے جو قول کا پکا اور ارادے کا مضبوط ہے نہ اس کے ارادے میں تبدیلی آسکتی ہے اور نہ اس کا قول بدل سکتا ہے، اس لیے قیامت ضرور آئے گی۔ لوگ اللہ کے حضور ضرور پیش کئے جائیں گے اور ان کو بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ یہ سب بالکل سچ ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک میدان میں جمع کرے گا پھر ایک آواز دینے والا آواز دے کر سب کو متوجہ کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا، یہ فیصلہ کا دن ہے ہم نے تمہیں اور اگلے لوگوں سب کو جمع کردیا ہے (اب) تم میرے ساتھ جو مکرو فریب کرسکتے ہو تو وہ کرلو۔ آج کوئی متکبر، سرکش اور منکر مجھ سے نہیں بچ سکے گا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میری سزا سے نجات پا سکے گا۔ ( اخرجہ ابن ابی حاتم، تفسیرابن کثیر جلد 3) اس طرح کے پیغامات قرآن پاک میں جگہ جگہ پائے جاتے ہیں جو کہ بالکل سچ اور شک سے پاک ہیں جیسا کہ آیت مذکورہ کے آخر میں آیا ہے۔ ” اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے۔
Ayahs 4:88–89

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

پھر یہ تمہیں کیا ہوگیا ؟ کہ منافقین کے بارے میں تمہارے دو گروہ بن گئے ہیں، حالانکہ جو برائیاں انہوں نے کمائی ہیں ان کی بدولت اللہ انہیں الٹا پھیر چکا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ نے ہدایت نہیں بخشی اسے تم ہدایت بخش دو ؟ حالانکہ جسے اللہ نے راستہ سے ہٹا دیا، اس کے لیے آپ کوئی راستہ نہیں پاسکتے۔

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہوجاؤ، تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہوجائیں، لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں اور اگر وہ ہجرت سے باز رہیں تو جہاں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہ بناؤ

ایمان کا معیار تشریح : مدینہ اللہ رب العزت کی طرف سے مسلمانوں کیلئے جائے پناہ تھا اسی لیے مکہ سے ہجرت کرکے مسلمان مدینہ میں جمع ہوتے رہے۔ مگر آس پاس کئی ایسی بستیاں تھیں کہ جہاں لوگ مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کا اچھی طرح پتہ نہ چل رہا تھا کچھ مسلمان تو ان کو واقعی پکے مسلمان سمجھتے تھے مگر کچھ مسلمان ان کی منافقت سے آگاہ ہوچکے تھے تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ یہ لوگ مسلمان تو ہوگئے ہیں مگر ان کے دل مسلمانوں سے دور ہیں یہ صرف ذاتی مفادات اور دنیاوی فائدوں کی وجہ سے مسلمان ہوگئے ہیں۔ یہ لوگ دلوں کے اتنے برے اور بدنیت ہیں کہ ہدایت آنے کے بعد بھی ہدایت پانا نہیں چاہتے، بلکہ یہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسلام سے پھر جاؤ اور ان کے ساتھ شامل ہوجاؤ۔ یہ لوگ دوست بنانے کے قابل ہرگز نہیں نہ انہیں دوست بناؤ اور نہ ہی ان کے لیے سوچ بچار کرو۔ وہاں اگر تم ان میں سے سچے اور منافق مسلمانوں کو علیحدہ علیحدہ کرنا چاہو تو اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ تم ان کو دیکھو جو لوگ اللہ اور اسلام کی خاطر اپنا ملک مال و دولت بیوی بچے (اگر چھوڑنے پڑیں) چھوڑ کر صرف دین کی خاطر مدینہ ہجرت کرکے آجائیں اور اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرنے کی نیت ہو تو پھر ان کی مدد کرو ان سے دوستی کرو۔ لیکن اگر یہ لوگ صرف جان بچانے کے لیے مسلمان بنتے ہیں تو پھر ہرگز ان سے دوستی نہ کرو بلکہ میدان جنگ میں جہاں بھی یہ تمہارے خلاف لڑ رہے ہوں ان کو قتل کر دو ۔ ان آیات میں صاف طور پر بتا دیا گیا ہے کہ منافقین سے ہرگز دوستی نہ کرو۔
Ayahs 4:90–91

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

البتہ وہ منافق اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جاملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے۔ اسی طرح وہ منافق بھی مستثنیٰ ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں، نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے۔ اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے، لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوجائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

ایک اور قسم کے منافق تمہیں ایسے ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی، مگر جب کبھی فتنہ کا موقعہ پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ایسے لوگ اگر تمہارے مقابلہ سے باز نہ رہیں اور صلح و سلامتی تمہارے آگے پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو جہاں وہ ملیں انہیں پکڑو اور مارو، ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے ہم نے تمہیں کھلی حجت دے دی ہے

منافقوں سے جنگ تشریح : یہاں ان منافقین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جو واجب القتل منافق ہیں لیکن اگر وہ کسی ایسی قوم یا ملک میں پناہ لے لیں کہ جس سے مسلمانوں کا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تو اس علاقے میں جاکر ان کو قتل کریں اور نہ ہی ان کا تعاقب کریں یہ احترام منافق کا نہیں، بلکہ اس معاہدے کا احترام ہے جو اسلامی حکومت نے اس دوسری حکومت سے کر رکھا ہے۔ یہاں معاہدے کی پاسداری کا قانون بھی مسلمانوں کو بتا دیا گیا ہے۔ ایک تیسری قسم کے منافقین کے لیے اس طرح حکم دیا گیا ہے کہ وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے تمہارے ساتھ امن وامان سے رہنے کا معاہدہ کرتے ہیں تو ٹھیک ہے امن وامان سے رہو، لیکن جب کبھی تمہاری جنگ مخالف گروہ سے ہوجائے اور وہ لوگ جن سے تمہارا امن کا معاہدہ تھا ان کے ساتھ شامل ہو کر تمہارے خلاف لڑائی کریں تو پھر تم بھی ان کو قتل کرو اور مارو۔ کیونکہ انہوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے تو اب تم بھی امن کے معاہدہ سے آزاد ہوگئے ہو۔ ان سے باقاعدہ جنگ کرو اور ان کو قتل کرو۔ یہ تمام قوانین جو یہاں بیان کئے گئے ہیں یہ سب موجودہ اسلامی مملکتوں کیلئے بھی ضروری بنا دیئے گئے ہیں۔ ہمیں بھی ایسے ہی جنگی قوانین اپنانے ہوں گے۔
Ayahs 4:92–93

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

کسی مومن کے یہ لائق نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، سوائے اس کے کہ غلطی سے ایسا ہوجائے اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خو ن بہا دے مگر یہ کہ وہ خون بہا معاف کردیں۔ لیکن اگر وہ مسلمان مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو اس کا کفارہ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد تھا جس سے تمہارا معاہدہ ہو تو اس کے وارثوں کو خون بہا دیا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا، پھر جو غلام نہ پائے وہ پے درپے دو مہینوں کے روزے رکھے یہ اس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے اور اللہ علیم و دانا ہے

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اللہ کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے

غلطی سے یا جان بوجھ کر مسلمان کو قتل کرنے کی سزا تشریح : مومن کو قتل کرنا بڑا سخت گناہ ہے، لیکن اگر غلطی سے ایسا ہوجائے تو پھر اس کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا کی رقم ادا کرنا ہوگی اگر وارث خون بہا معاف کردیں تو ٹھیک ہے۔ اگر مسلمان مقتول کسی ایسی قوم کا فرد ہو جس سے تمہاری دشمنی ہو تو پھر اس کا کفارہ ایک غلام مومن آزاد کرنا ہوگا اور اگر ایسی قوم کا فرد تھا کہ جس کے ساتھ امن کا معاہدہ ہو تو پھر ایک مومن غلام آزاد کرنا ہوگا اور خون بہا اس کے وارثوں کو دینا ہوگا اگر غلام کی توفیق نہ ہو تو پھر توبہ کے طور پر دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھنے پڑیں گے۔ یہ تو اللہ رب العزت سے معافی مانگنے کا طریقہ ہے اور یہ طریقہ اللہ علیم و دانا کا مقرر کیا ہوا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کر دے تو یہ بڑا سخت گناہ ہے اتنا سخت کہ کفارہ دے کر اس سے نجات نہیں ہوسکتی۔ سورة ٔ بقرہ میں قصاص کا حکم دیا گیا ہے، یعنی جان کے بدلے جان۔ یہاں اس جرم پر خبردار کیا جارہا ہے کہ ایسا شخص آخرت میں جہنم کے عذاب کا مستحق ہوگا، پھر فرمایا کہ اس جرم پر اللہ نے اس پر انتہائی غصہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسے شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو کہ بڑی سخت سزا ہے۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) سفر کرو تو ( دوست دشمن) کی تحقیق کرلیا کرو اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اسے فوراً نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے۔ اگر تم دینوی فائدے چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سے اموال غنیمت ہیں آخر اسی حالت میں تم خود بھی تو مبتلا رہ چکے ہو، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا، لہٰذا تحقیق سے کام لو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

جہاد میں قتل سے احتیاط تشریح : اس آیت میں بڑی سختی سے حکم دیا گیا ہے کہ بغیر تحقیق کے فیصلہ کرنا جائز نہیں۔ اصل میں شروع کا زمانہ تھا۔ کیونکہ رہن، سہن، رسم و رواج، بات چیت اور زبان سب ایک ہی طرح تھا تو مسلمان اور کافر کا فرق معلوم کرنا انتہائی مشکل تھا۔ یہ غلطی خاص طور سے جہاد میں ضرور ہوجاتی، اس لیے حکم ہوا کہ جب کوئی اپنے مسلمان ہونے کے ثبوت میں السلام علیکم کہے یا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہے تو پھر کسی شک و شبہ میں مت پڑو بس اس کو مسلمان سمجھ کر اس سے بہتری کا اور بھائی چارے کا سلوک کرو۔ یہ سمجھ کر اس کو قتل مت کرو کہ یہ اصل میں مسلمان نہیں۔ بلکہ اس وقت اپنی جان اور مال بچانے کے لیے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہا ہے۔ بلکہ اس کی بات پر یقین کرو اور اس کو ہرگز قتل نہ کرو اور نہ ہی اس کا مال، غنیمت میں رکھ لو اگر کوئی کافر جھوٹ بول کر جان بچا لیتا ہے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم کسی مسلمان کو صرف شک کی بنا پر قتل کر ڈالو، پھر فرمایا کہ اللہ رب العزت کا احسان ہے کہ آج تم مسلمانوں کی ایک جماعت کی شکل میں زندگی گزار رہے ہو ورنہ وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے کہ تم مختلف قبیلوں میں منتشر تھے اور تم اپنے بچاؤ کے لیے اپنے اسلام کو چھپاتے تھے ویسے بھی زبانی اقرار کے سوا تمہارے پاس مسلمان ہونے کا کوئی ثبوت نہ تھا، پھر تاکید کی جارہی ہے کہ دیکھو تحقیق کے چکر میں مت پڑو دلوں کے بھید تو اللہ رب العزت ہی جانتا ہے کیونکہ وہ تو نیت اور ارادے تک کو جانتا ہے۔ تم لوگ دوسروں کے دعو یٰ اسلام پر یقین کرو اور مسلمان بھائی کے ساتھ پوری رعایت، خلوص اور مہربانی سے پیش آؤ۔ دوسروں کے لیے نیک گمان رکھنے کی فضیلت اسی سے ظاہر ہوتی ہے کہ حضور ﷺ نے اسے ” عبادت “ فرمایا ہے حسن ظن بہت سی روحانی بیماریوں کا علاج ہے، جبکہ بدگمان شخص کو دوسروں کا حسن سلوک بھی منافقت بن کر نظرآتا ہے۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

مسلمانوں میں سے جو لوگ کسی معذوری کے بغیر گھربیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں دونوں کی حیثیت برابر نہیں ہے۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے۔ اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے مگر اللہ کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں مغفرت اور رحمت ہے اور اللہ بڑا معاف کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے

مجاہدین کے درجات تشریح : جہاد کے متعلق چند ضروری احکامات ان آیات میں بیان کئے گئے ہیں۔ بغیر کسی معذوری کے جہاد میں شریک نہ ہونے والے جہاد میں شریک ہونے والوں کے برابر نہیں ہوسکتے۔ ویسے تو ہر نیک مسلمان کو جنت اور مغفرت اعمال کے حساب سے ضرور ملے گی مگر یہاں خاص طور پر جہاد کی درجہ بندی کی گئی ہے، ایک جہاد تو اسلام کے دشمنوں کے خلاف ملک کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے اور خاص لوگ اس کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں، لیکن اگر ان کی طاقت کمزور پڑے اور مزید فوجی طاقت کی ضرورت پڑے تو پھر آس پاس کے مسلمانوں کا جہاد میں شامل ہونا ضروری ہوجاتا ہے۔ یہ دوسرا درجہ ہے، پھر اگر ان کی طاقت بھی کم پڑجائے تو پھر مزید قریب تر لوگوں پر جہاد میں شامل ہونا ضروری ہوجاتا ہے یہ تیسرا درجہ ہے، پھر بھی اگر طاقت کم پڑجائے تو پھر مشرق و مغرب کے ہر مسلمان کا فرض ہوجاتا ہے کہ جہاد میں شریک ہو یہ چوتھی صورت ہے، جہاد میں شریک ہونے کی ویسے تو انسان کی زندگی خود ایک جہاد سے کم نہیں، عام طور پر انسان کی اجتماعی اور قومی ضرورتوں کو فرض کفایہ کا درجہ دیا گیا ہے۔ فرض کفایہ کا مطلب ہے پوری جماعت میں سے کچھ لوگ اس فرض کے ادا کرنے میں شامل ہوجائیں تو پوری جماعت کی طرف سے فرض ادا ہوجاتا ہے اور اگر ایک فرد بھی شامل نہ ہو تو پھر پوری جماعت گناہ گارہو گی۔ یہ اس لیے تاکہ تمام لوگ اپنے اپنے مستقل محاذ پر کام کرسکیں، یعنی کچھ لوگ جہاد میں شریک ہو کر اپنا کام کریں، کچھ تعلیم، رفاعی کام، سائنس، طب اور دوسری اسلامی اور انسانی ضروریات کو پورا کریں اور ان تمام کاموں کو جسمانی، مالی اور روحانی طریقہ سے جہاد ہی سمجھیں۔ یہ سب جہاد ہی ہیں مگر ان آیات میں بطور خاص جہاد سے مراد کفار و مشرکین سے قتال کرنا ہے۔ اللہ رب العزت نے ہر جہاد کا درجہ مقرر کردیا ہے اور پھر فرمایا کہ ہر مجاہد کے لیے مہربانی، رحمت اور بخشش رکھ دی گئی ہے ہاں، اگر ان تمام فرائض کی ادائیگی میں اگر کبھی کوئی بھول چوک ہوجائے تو اللہ رب العزت کے خزانے رحمت اور بخشش سے بھرے پڑے ہیں اللہ غفور ورحیم ہے۔ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتا ہے۔ جو مال اور جان اللہ کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار رہے اس پر اللہ رب العزت بہت مہربان رہتا ہے۔ مسلمان کا جہاد ہر وقت جاری رہتا ہے۔ قرآن، زبان، قلم، دل، مال اور جان سب کچھ اگر اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور بندوں کی بھلائی کے لیے استعمال کیے جائیں تو جہاد ہی جہاد ہے۔ جہاد کا مطلب ہے سچائی اور اسلام کی سربلندی کے لیے بھرپور کوشش اور محنت کرنا۔ اللہ بدلہ دینے والا ہے۔ دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔
Ayahs 4:97–100

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کرتے رہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے آتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور اور مجبور تھے۔ فرشتے کہتے ہیں اللہ کی زمین و سیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

ہاں، جو مرد، عورتیں اور بچے واقعی بےبس ہیں اور نکلنے کا کوئی ذریعہ اور راستہ نہیں پاتے

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور درگزر کرنے والا ہے

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کیلئے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے، پھر راستہ ہی میں اسے موت آجائے اس کا اجر اللہ کے ذمہ واجب ہوگیا، اللہ بہت بخشنے والا اور رحیم ہے

ہجرت کا بیان تشریح : ان آیات میں اللہ کے دین کے لیے ہجرت کرنے کو بےحد اچھا کام کہا گیا ہے۔ یہ اس وقت کا حکم ہے جب مدینہ دارالاسلام کے طور پر مسلمانوں کے لیے آزادی سے رہنے کا مقام بن چکا تھا۔ تو اس وقت پوری طرح اعلان کردیا گیا تھا کہ آس پاس اور جہاں کہیں بھی مسلمان کفار کی بستیوں میں رہ رہے ہیں تو وہ فوراً مدینہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور سکون سے اسلامی فرائض ادا کریں۔ مگر کچھ لوگ ہجرت کرسکنے کے باوجود کفار کے ساتھ ہی آدھے مسلم آدھے کافر کی زندگی گزارتے رہے یہ اس لیے کہ ہجرت کرنے سے ان کے مال مویشی، زمین اور گھروں کا نقصان ہوجاتا تو ایسے دنیا پرست آدھے مسلمان اور آدھے کافر اللہ کو ہرگز ناپسند تھے اور پھر جو اسی حالت میں مرگئے تو ان کے لیے جہنم کے عذاب کی خبر دی گئی ہے۔ دوسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ دین کو فوقیت دینا ہر مسلمان کے لیے باعث نجات اور ضروری ہے اگر کسی جگہ دین میں آزادی نہ ہو بلکہ دین کے فتنے میں پڑجانے کا خطرہ ہو تو فوراً اس جگہ سے کسی ایسی جگہ منتقل ہوجانا چاہیے جہاں اللہ و رسول کی اطاعت گزاری میں کوئی رکاؤٹ پیدا نہ ہو۔ اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے اور اللہ کا فضل و کرم بیشمار ہے، پھر فرمایا کہ اگر کوئی شخص مجبوراً اللہ کی راہ میں ہجرت کے لیے نہ نکل سکے، یعنی ایسے مرد، عورتیں اور بچے جو واقعی ہجرت کرنے کے قابل نہ ہوں کسی بھی خاص مجبوری کی وجہ سے تو ایسے لوگوں کو اللہ رب العزت بالکل معاف کردے گا۔ کیونکہ وہ ان کی مجبوری سے خوب واقف ہے اور اللہ بہت درگزر کرنے ولا اور معاف کرنے والا ہے، اس لیے ایسے لوگوں کو فکر مند نہیں ہونا چاہئے۔ ہجرت نہ کرنے کی اجازت دو صورتوں میں دی گئی ہے۔ ایک یہ کہ دارالکفر (کافروں کی بستی) میں رہ کر اسلام کی تبلیغ مقصود ہو اور دوسری یہ کہ کسی بھی وجہ سے ہجرت کرنا ممکن نہ ہو۔ ورنہ ہجرت کرنا فرض ہے، پھر فرمایا کہ اگر کوئی اللہ و رسول ﷺ اور دین کی خاطر ہجرت کے لیے نکلے اور راستہ میں فوت ہوجائے تو اس کو پورا پورا اجر وثواب ملے گا، اس لیے کہ اس کا مقصد نیک اور نیت صاف تھی اللہ رب العزت تو ویسے ہی بہت زیادہ بخشش کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ کیونکہ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
Ayahs 4:101–102

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم سفر کیلئے نکلو تو کوئی حرج نہیں اگر نماز میں اختصار کرلو۔ جب کہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے یقینا کافر تمہارے کھلم کھلا دشمن ہیں

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ ! جب آپ مسلمانوں کے درمیان ہوں اور (حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کھڑے ہوں تو چاہئے کہ ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو اور اسلحہ لیے رہے۔ پھر جب وہ سجدہ کرلیں تو پیچھے چلے جائیں اور دوسرا گروہ جس نے نماز ابھی نہیں پڑھی آکر تمہارے ساتھ پڑھے اور وہ اپنا بچاؤ پکڑیں اور اپنا اسلحہ لیے رہیں، کیونکہ کفار اس تاک میں ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان کی طرف سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں، البتہ اگر تم بارش کی وجہ سے تکلیف محسوس کرو یا بیمار ہو تو اسلحہ رکھ دینے میں مضائقہ نہیں مگر پھر بھی چوکنے رہو۔ یقین رکھو کہ اللہ نے کافروں کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے

سفر میں نماز قصر اور نماز خوف کے مسائل تشریح : پچھلی آیات میں ہجرت اور جہاد کا ذکر ہے جس میں سفر اور خوف لازمی ہے تو ان حالات میں نماز کے مسائل کا بیان ان آیات میں واضح کیا گیا ہے۔ اگر سفر میں ہوں یا جنگ کی حالت تو نماز میں رعایت دی گئی ہے مگر چھوڑنے کا ذکر بالکل آخر میں ہوا ہے وہ بھی چھوڑنے کا نہیں بلکہ قضا کرنے کا حکم ہے اس سے ظاہر ہوا کہ نماز کس قدر ضروری فریضہ ہے۔ سفر کے لیے یہ رعایت ہے کہ اگر 19 دن کا قیام ہو تو فرض چار کی بجائے دو پڑھ لیے جائیں وتر میں کوئی رعایت نہیں چونکہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں بھی پڑھے ہیں اس لیے سفر میں بھی پڑھ لیے جائیں۔ یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے، اس لیے اس میں گناہ کا کوئی کام نہیں اب دوسری صورت جنگ کی ہے تو اس میں نماز کے وقت فوج کو دو حصوں میں تقسیم کرلینا چاہیے۔ ایک حصہ فوج کا کفار کے آگے ڈٹا رہے دوسرا حصہ امام کے پیچھے نماز کیلئے کھڑا ہوجائے ایک رکعت پوری کرکے فارغ ہو کر پیچھے ہٹ جائیں اور دشمن کے سامنے ڈٹ جائیں اور جو حصہ دشمن کے سامنے کھڑا تھا وہ نماز کے لیے امام کے پیچھے آکر کھڑا ہوجائے اور دوسری رکعت پڑھ لے سلام پھیر کر دوبارہ دشمن کے سامنے جا کھڑے ہوں جب کہ پہلا دستہ واپس آکر اپنی دوسری رکعت پوری کرلے (خود ہی) اسی طرح دوسرا دستہ واپس آکر اپنی دوسری رکعت پوری کرے۔ اس نماز میں اور بھی بہت سی رعایتیں ہیں۔ مثلاً : جنگ کی صورت حال کے مطابق نماز میں چل پھر سکتے ہیں سواری پر نماز پڑھ سکتے ہیں اگر مجبوری ہو تو اشاروں سے اور جدھر بھی رخ ہو جس صورت میں بھی ہو سکے نماز ادا کرنے کی اجازت ہے مگر ضروری ہے کہ اپنا اسلحہ اور بچاؤ کا سامان ساتھ ضرور رکھا جائے۔ ہاں، اگر بارش کی وجہ سے یا بیماری کی وجہ سے اسلحہ جسم پر لگایا نہ جاسکے تو پھر اتار سکتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہر خطرے کا مکمل بندوبست رکھتے ہوئے، جیسے بھی نماز ادا ہو سکے کرلیں۔ کیونکہ دشمن تمہاری ہلکی سی غفلت سے بھی بہت بڑا فائدہ اٹھاتے ہوئے تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ احکامات اس لیے دیئے جارہے ہیں، کیونکہ دشمن سے بچاؤ اور ہر قسم کی احتیاط بےحد ضروری ہے اس کے بعد اللہ کا فضل اور اس کی مدد پر پورا بھروسہ رکھو، کیونکہ اللہ رب العزت نے تمہارے مقابلے میں لڑنے والے کفار کیلیے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب نماز سے فارغ ہوجاؤ تو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو اور جب اطمینان نصیب ہوجائے تو پوری نماز پڑھو۔ نماز درحقیقت (ایسا فرض ہے جو) پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے

اللہ کو یاد کرو تشریح : جنگ ہو، سفر ہو یا بیماری نماز ہر صورت میں ادا کرنی ضروری ہے جو رعایتیں دی گئی ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ۔ اب اس آیت میں اللہ حکم دیتا ہے کہ مشکلات میں نماز تو بس فرض ہی پورا ہوتا ہے، اس لیے جب حالت جنگ ختم ہوجائے اور امن و سکون ہوجائے تو پھر پورے سکون و اطمینان اور خشوع و خضوع سے نماز قائم کرو۔ اس کے بعد اللہ رب العالمین نے فرمایا : اللہ کو ہر وقت دل میں، زبان سے، اٹھتے، بیٹھتے یاد کرتے ر ہو اس ذکر کے لیے کوئی پابندی نہیں، ہر وقت، ہر صورت اس کو یاد کیا جاسکتا ہے۔ مگر نماز کی ادائیگی کے لیے وقت کی پابندی ضروری ہے نہ بےوقت نماز ہوسکتی ہے اور نہ ہی وقت پر ٹالی جاسکتی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے۔ ” نماز وقت پر پڑھا کرو۔ “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 4:104

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اس گروہ کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھاؤ، اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو تمہاری طرح وہ بھی غموں سے دوچار ہوئے ہیں اور تم اللہ سے اس چیز کے امیدوارہو جس کے وہ امیدوار نہیں ہیں۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ جاننے والا اور دانا ہے

دشمن کو ڈھیل نہ دو تشریح : اس آیت میں بھی جنگ کے داؤ پیچ سکھائے گئے ہیں اور حکم ہو رہا ہے کہ جب ایک دفعہ تمہارا آمنا سامنا کفار سے ہو ہی جائے تو پھر ان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہ برتی جائے ان کو آخر دم تک دھکیلتے رہو اور پوری طرح ان کا پیچھا کرو اور اچھی طرح ان کو سزا دو تاکہ فتنہ و فساد پوری طرح ختم ہوجائے۔ لڑائی سے جو کچھ تکالیف تمہیں اٹھانی پڑتی ہیں وہ تکالیف ان کو بھی اٹھانی پڑتی ہیں مگر کیونکہ ان کا مقصد لڑائی کا اللہ کے خلاف لڑنا ہے جبکہ تمہارا مقصد صرف اور صرف اللہ اور اس کے دین کی سربلندی ہے، لہٰذا تمہیں خوش ہونا چاہیے اور مطمئن بھی کہ تم جیت گئے تو غازی، مارے گئے تو شہید، غازی اور شہید دونوں ہی اللہ رب العزت کی طرف سے بہترین انعامات کے مستحق ہوتے ہیں جو کہ دنیا میں بھی ملتے ہیں اور آخرت میں بھی ملیں گے۔ یہ وعدہ اللہ علیم و حکیم کا ہے، یعنی وہ ہمارے تمام اعمال حتٰی کہ ہماری نیتوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے اور سب سے بڑا حکمت و دانائی رکھنے والا ہے۔ اس کا وعدہ نہ تو بدل سکتا ہے اور نہ ہی غلط ہوسکتا ہے۔ مسلمان حق کے لیے لڑتا ہے تو اس کا اجر بھی اس سے بہترین ہی ملتا ہے۔ جبکہ کافر کفر کو پھیلانے کے لیے اور شیطان کے لیے لڑتا ہے تو اس کو اس کا اجر بھی دنیا میں تباہی و بربادی کی صورت میں اور آخرت میں سزا ضرور دی جائے گی۔ اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خدا کے دین کے دشمنوں سے جہاد کرو تو اجر کے علاوہ مال غنیمت بھی ملے گا اور روزہ رکھو تو اجر کے علاوہ تندرستی بھی حاصل ہوگی۔ (ترغیب بحوالہ طبرانی)
Ayahs 4:105–108

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ جو بصیرت اللہ نے آپ کو دی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرسکیں اور آپ بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنیں

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور اللہ سے بخشش کی درخواست کریں، وہ بڑا درگزر فرمانے والا، رحیم ہے

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں آپ ان کی حمایت نہ کریں۔ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں۔ ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے

فیصلہ عدل سے کرو تشریح : ان آیات کا شان نزول ایک جھگڑا ہے جو طعمہ مسلمان اور زید یہودی کے درمیان ہوگیا تھا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ طعمہ نے کچھ مال چوری کیا اور اس مال کو پکڑے جانے کے خطرہ سے یہودی کے گھر رکھوا دیا جب کھوج لگانے والوں نے مال یہودی کے گھر سے پکڑ لیا تو یہودی کو چوری کے الزام میں پکڑ لیا۔ یہودی کیونکہ بےقصور تھا وہ بہت پریشان ہوا لیکن مال کا ملنا بہت بڑا ثبوت تھا اس کے علاوہ طعمہ کے خاندان والوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ یہودی غلط کہتا ہے۔ یہ قضیہ فیصلہ کے لیے نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا تو طعمہ اور اس کے ساتھیوں نے قسمیں کھا کر اور بڑا زور دے کر نبی کریم ﷺ کو یقین دلا یا کہ زید جھوٹ بول رہا ہے کہ طعمہ نے اس کے پاس مال نہیں رکھا، بلکہ اس نے خود ہی چرایا ہے اور اب جھوٹا الزام طعمہ پر لگا رہا ہے۔ بظاہر فیصلہ طعمہ کے حق میں ہی ہونا چاہیے تھا تو آنحضرت ﷺ کی ٹھیک راہنمائی کیلیے یہ آیات نازل ہوئیں تاکہ غلط فیصلہ سے بچ سکیں اور یوں دین اور نبی ﷺ کی بدنامی نہ ہو فیصلہ ٹھیک ہو اور اصل مجرم کو سزا مل سکے۔ اللہ نے فرمایا : ہم نے قرآن کو سچی اور ٹھیک باتیں بتانے کے لیے آپ پر نازل کیا ہے۔ تاکہ آپ لوگوں کے آپس کے جھگڑوں کا فیصلہ اللہ کی ہدایت کے مطابق ٹھیک ٹھیک کریں، جھگڑنے والے نیک ہوں یا بد کافر ہوں یا مومن آپ جھوٹے کو جھوٹا اور سچے کو سچا ٹھہرانا چاہئے اور انصاف سے فیصلہ کرنا چاہیے۔ غلطی ہونے کا امکان تھا تو اس کے لیے اللہ رب العزت سے معافی مانگ لینی چاہیئے وہ تو بخشش کرنے والا اور بےحد رحم کرنے والا ہے۔ پھر فرمایا کہ آپ ﷺ خیانت کرنے والے اور اس کے ساتھیوں کی حمایت ہرگز نہ کریں یہ لوگ جان بوجھ کر دھوکے اور دغا بازی پر تلے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو دغا باز لوگ بالکل پسند نہیں۔ یہ لوگ دو گناہ کر رہے ہیں ایک تو چور کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور دوسرا بےگناہ کو چور بنا رہے ہیں۔ یہ لوگوں سے تو ڈرتے ہیں مگر اللہ سے نہیں ڈرتے جبکہ اللہ ہر وقت ان کو دیکھ رہا ہے۔ جب یہ لوگ راتوں کو چھپ کر مشورے کرتے ہیں تو اللہ سے وہ مشورے ہرگز پوشیدہ نہیں وہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ ان سے راضی نہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ یہ کرتے ہیں بندوں سے تو چھپا سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے ہرگز کچھ بھی چھپا نہیں سکتے۔