3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 3:118–120

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتے، تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے۔ ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، حالانکہ تم تمام کتب آسمانی کو مانتے ہو جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی مان لیا ہے مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیض و غضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں۔ ان سے کہہ دو اپنے غصہ میں آپ جل مرو، اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے لیے نقصان دہ نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس پر حاوی ہے

مسلمانوں کا راز دان کون ؟ اہل کتاب کا حسد تشریح : ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ یہود و منافقین کے شر سے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ مدینہ کے اطراف میں یہودی اور ان کے ساتھ اوس و خزرج کے دو قبیلے بھی آباد تھے۔ قریب قریب رہنے کی وجہ سے ان کی آپس میں بہت دوستی تھی یہ دونوں قبیلے مسلمان ہوگئے مگر پرانے تعلقات کی وجہ سے مسلمانوں نے یہودی قبائل سے دوستی پہلے کی طرح ہی قائم رکھی کیونکہ ان کے دل کینے سے پاک تھے مگر اہل کتاب، یعنی یہود کے دل حسد، بغض اور نفرت سے بھرے ہوئے تھے، اس لیے وہ مسلمانوں کی دوستی سے غلط فائدہ اٹھا رہے تھے۔ مسلمان سادگی میں ان سے کئی راز کی باتیں بھی کہہ جاتے تو وہ ان باتوں سے فائدہ اٹھا کر ان کو خوب نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے کیونکہ وہ دل کے صاف نہ تھے وہ تو مسلمانوں کی ترقی، خوشحالی اور خوش بختی کو دیکھ کر جل جاتے اور اگر کوئی مصیبت پڑتی تو بےحد خوش ہوتے۔ اللہ رب العزت نے صاف صاف بتا دیا کہ یہ یہودی تمہارے ساتھ ہرگز مخلص نہیں ان کو نہ تو اپنے دوست سمجھو اور نہ ان کو اپنے عزیز، مخلص اور ہمدرد سمجھو، کیونکہ ان کے دل و دماغ تمہارے بھلے کے لیے نہیں نقصان اور برائی کے لیے بھرے ہوئے ہیں۔ اللہ رب العزت خبردار کرتے ہیں کہ اگر تم عقل مند ہو تو ان سے دور رہو اور بہت محتاط رہو کیونکہ وہ پکے منافق ہیں تمہارے سامنے تمہاری دوستی کا دم بھرتے ہیں مگر جب جدا ہوتے ہیں تو ہر صورت سے تمہیں نقصان پہنچانے اور تکلیف دینے کی تدبیریں کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن سے پوری طرح باخبر ہے، اس لیے تمہیں خبردار کر رہا ہے کہ تم تو تمام آسمانی کتابوں پر یقین رکھتے ہو مگر یہ لوگ تم سے، تمہارے دین سے اور تمہارے نبی سے بڑی زبردست دشمنی رکھتے ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ ہمارے تعلقات تم سے ختم ہوچکے ہیں۔ جب یہ حکم نازل ہوا کہ یہود سے دوستی مت رکھو اور ان کے برے ارادوں سے مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا تو مسلمانوں نے سوچا کہ اس طرح تو یہ لوگ اور بھی زیادہ دشمنی پر اتر آئیں گے اس پریشانی سے بچنے کے لیے اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ تم ان کی شرارتوں اور خباثتوں سے بالکل محفوظ ہو پورے صبر اور یقین کے ساتھ اور پورے تقویٰ کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہو ان سے مت ڈرو صرف اللہ کی ذات سے ڈرو کیونکہ وہی بہترین مددگار ہے اس کے سامنے ان لوگوں کی کیا مجال کہ تمہیں کچھ نقصان پہنچا سکیں۔ اس لیے پورے صبر اور سکون سے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف رہو اور ہر دم اللہ سے مدد مانگو اسی پر بھروسہ رکھو اور اسی سے ڈرو وہ ان کی تمام چالوں اور منصوبوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے اور ان کی تدبیر کو بھی اچھی طرح ناکام کرسکتا ہے۔ بس تمہیں چاہیے کہ صبر اور تقوٰی سے کام لو۔ کیونکہ زندگی کے ہر موڑ اور ہر میدان میں مسلمانوں کی فتح و کامیابی اور تمام مشکلات کا حل صبر اور تقویٰ جیسی دو صفتوں میں موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اس پر عمل اختیار کرلیں تو ان کے دین و دنیا کے لیے وہی کافی ہے آیت یہ ہے ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستہ نکال دیتے ہیں۔ “ (معارف القرآن) مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی پریشانی پر ہرگز پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھ کر دعا کرنی چاہیے اور پورا یقین رکھنا چاہیے کہ ہر کام صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر ڈرنا ہی ہے تو اللہ سے ڈرو اور اسی سے دعا کرو۔
Ayahs 3:121–127

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اے پیغمبر ( مسلمانوں کے سامنے اس موقع کا ذکر کرو) جب تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے اور (احد کے میدان میں) مسلمانوں کو جنگ کے لیے جا بجا مامور کر رہے تھے۔ اللہ ساری باتیں سنتا ہے اور وہ نہایت باخبر ہے۔

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

یاد کرو) جب تم میں سے دو گروہ بزدلی دکھانے پر آمادہ ہوگئے تھے، حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کرچکا ہے، حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے، لہٰذا تم کو چاہیے کہ اللہ کی ناشکری سے بچو، امید ہے کہ اب تم شکر گزار بنو گے

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے ؟

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

بیشک اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئیں گے اسی آن تمہارا رب پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

یہ بات اللہ نے تمہیں اس لیے بتا دی ہے کہ تم خوش ہوجاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا دانا اور بینا ہے۔

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا) تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے، یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہوجائیں

غزوہ احد تشریح۔: گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ اگر مسلمان صبر اور تقوٰی پر مضبوطی سے قائم رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ غزوہ احد کی معمولی شکست اور تکلیف کا بیان اس لیے کیا گیا ہے کہ اس میں مسلمانوں نے صبر اور تقوٰی میں کمزوری دکھائی تھی اور اسی کمزوری اور کوتاہی کی سزا ان کو فوراً مل گئی۔ اور غزوہ بدر کی جیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شروع میں غزوہ احد کے لیے نبی اکرم ﷺ کا صبح نکلنا، میدان جنگ میں اپنی فوج کو ترتیب دینا، فوج کو مناسب جگہوں پر بٹھانا اور میدان جنگ کا نقشہ درست کرنا یہ سب ذکر کیا گیا ہے۔ صرف جنگ احد کی یاد دہانی کے لیے غزوہ احد شوال 3 ھ کا واقعہ ہے۔ ہوا اس طرح کہ قریش مکہ تین ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے چل پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ شہر سے باہر نکل کر احد کے پہاڑ کے دامن میں مقابلہ کے لیے فوج کو اتارا جائے۔ ایک ہزار کا لشکر مسلمانوں کا میدان جنگ کی طرف روانہ ہوگیا مگر راستہ میں عبداللہ بن ابی اپنے تین سو منافق ساتھیوں کے ساتھ لشکر سے علیحدہ ہوگیا تب اسلامی جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر ؄کو دے دیا گیا اور جو مسلمان بغیر زرہ کے تھے ان کو حضرت امیر حمزہ ؄کی کمان میں رکھا گیا۔ پچاس تیر اندازوں کو حضرت عبداللہ بن جبیر ؄کی نگرانی میں پہاڑی کے درہ پر متعین کیا گیا۔ ان کو یہ حکم تھا کہ فتح ہو یا شکست تم نے اس درے کو ہرگز نہیں چھوڑنا۔ ان تیاریوں کے ساتھ کفار اور مومنین کا یہ زبردست معرکہ شروع ہوا۔ مسلمان صرف 700 اور کفار تین ہزار تھے اس پر بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے لوگ گھبرا گئے مگر رب دو جہاں نے مسلمانوں کے دلوں کو یوں مضبوط کیا کہ وہ جذبہ ایمانی میں تعداد وغیرہ کا فرق بھول گئے اور توکل اور جوش ایمانی کے جذبہ سے سرشار یوں میدان میں اترے کہ کفار کے حوصلے پست ہوگئے اور وہ میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان کو بھاگتے ہوئے دیکھا تو درے کے پاس تیز انداز اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت اکٹھا کرنے کے لیے میدان میں اتر آئے۔ خالد بن ولید ؄کفار کے لشکر کی قیادت کر رہے تھے وہ بڑے عقلمند کمانڈر تھے انہوں نے جیسے ہی درہ کو خالی دیکھا فوراً اپنے دستہ کے ساتھ پیچھے سے مسلمانوں پر زبردست حملہ کردیا یہ حملہ بڑا اچانک تھا اس لیے مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی اور فتح شکست میں بدل جانے کے آثار ہوگئے نبی اکرم ﷺ کی شہادت کی خبر پھیل گئی جس کی وجہ سے مسلمان اور بھی بدحواس ہوگئے، لیکن جلد ہی مسلمان دوبارہ اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے اللہ کی مدد سے قریشی بہادروں کو مار بھگایا اور یوں ایک دفعہ پھر شکست فتح میں تبدیل ہوگئی، یوں اس غزوہ کی بدولت مسلمانوں کو یہ سبق دیا گیا کہ تعداد اور سازو سامان فتح کے لیے ضروری نہیں ہوتا، بلکہ صبر تقوٰی، تنظیم، اتحاد، یقین اور اللہ پر مکمل بھروسہ فتح و کامیابی کی بہت بڑی وجوہات ہیں۔ علامہ اقبال نے کچھ یوں فرمایا ہے۔ جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقین پیدا تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامین پیدا یعنی جب انسان جو مٹی کا بنا ہوا ہے اور جس کو اللہ نے اپنی قدرت سے زندگی عطا کردی ہے اپنے اندر یقین و ایمان پیدا کرلیتا ہے اور اللہ رب العزت پر اس کا اعتماد پختہ ہوجاتا ہے تو پھر اس میں بےپناہ قوت پیدا ہوجاتی ہے اور اس میں فرشتوں والی خصوصیات پیدا ہوجاتی ہیں اور وہ اس بےپناہ طاقت سے عرش کو چھونے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اسی لیے تو اللہ رب العزت نے بھی فرمایا ہے کہ ” مومن اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔ “ اسی طرح نصرت الٰہی، یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد غزوہ بدر کے واقعہ سے بڑی اچھی طرح واضح ہوچکی ہے۔ یہ واقعہ اس طرح سے ہوا کہ مسلمان ابھی ابتدائی حالات میں ہی تھے کہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ بدر مدینہ کے جنوب مغرب میں کوئی بیس میل کے فاصلے پر ایک منڈی ہے۔ اس غزوہ کی اہمیت بھی اسی وجہ سے ہے کہ 17 رمضان 2 ھ کو مکہ سے ایک ہزار کا زبردست لشکر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا۔ اس وقت مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے اور اسلحہ بھی بہت کم تھا۔ مگر اللہ کی مہربانی اور مدد سے مسلمانوں نے فتح و کامیابی حاصل کی اور یہ کامیابی بھی مسلمانوں کی صبر و استقامت اور توکل علی اللہ کا واضح ثبوت ہے۔ جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں : ” اور اللہ بدر میں تمہاری مدد کرچکا ہے، حالانکہ تم کمزور تھے سو اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم شکر گزار رہو۔ “ آیت 123 آل عمران میں اس غیبی مدد کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ رب العزت نے فرشتوں کی صورت میں بدر کی جنگ میں بھیجی اور یہ صرف اس لیے بھیجی گئی کہ اس وقت مسلمان تقوٰی، صبر و استقلال پر قائم، نافرمانی سے بچتے اور اللہ پر بھروسہ رکھتے تھے لہٰذا رب العالمین نے پانچ ہزار فرشتے مسلمانوں کی مدد کے لیے میدان جنگ میں اتاردیئے اور یوں مسلمانوں کو بدر کے غزوہ میں زبردست فتح حاصل ہوئی۔ 70 کافر قتل ہوئے، 70 قیدی ہوئے اور باقی ذلیل و خوار ہو کر واپس لوٹ گئے۔ بدرکایہ واقعہ حق و باطل کا بہت بڑا معرکہ تھا جو کہ مسلمانوں کی تاریخ کا بہت بڑا اور شاندار واقعہ بن چکا ہے، اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ سب مدد مسلمانوں کو صرف اس لیے دی گئی تاکہ مسلمانوں کے دل مضبوط ہوجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ان ظاہری اسباب کی ہرگز محتاج نہیں وہ تو اپنی قدرت سے ویسے ہی سب کچھ کرسکتا ہے، کیونکہ اللہ غالب اور زبردست ہے وہ خوب جانتا ہے، بڑی حکمت والا ہے یہ اسی کے علم میں ہے کہ کس کی مدد کیسے کرنی ہے۔ انسان کے خیال میں اسباب کے بغیر کوئی نتیجہ ظاہر نہیں ہوسکتا، حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ ان اسباب کے پیچھے بھی تو قدرت الٰہی ہی کام کر رہی ہے۔ تمام اسباب کے پیچھے اللہ کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے : ” وہ اللہ جو پاک ہے اور بہت بالا و اعلیٰ ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔ اس کی پاکی تو ساتوں آسمان، زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ مخلوقات میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، البتہ تم لوگ ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بیشک وہ بڑاہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے۔ “ ) آیت 17 سورة بنی اسرائیل (
Ayahs 3:128–130

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ فیصلہ کے اختیارات میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، اللہ کو اختیار ہے چاہے انہیں معاف کرے، چاہے سزا دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اللہ کے لیے ہے، جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے، وہ معاف کرنے والا، رحم والا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔

اللہ کا اختیار تشریح : غزوہ احد میں جب نبی کریم ﷺ زخمی ہوگئے تو آپ ﷺ کے منہ سے بددعا نکل گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا : وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کے چہرے کو زخمی کردے۔ یہ آیات اسی کے جواب میں نازل ہوئی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ نہ چاہتے تھے کہ آپ ﷺ بددعا دیں تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ انسان کو اللہ کے کاموں کا بالکل علم نہیں اور نہ ہی کوئی اختیار حاصل ہے۔ یہ علم اور اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے عذاب دے اور جسے چاہے ہدایت دے ہر اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے ایمان کی توفیق دے کر بخش دے اور جسے چاہے کفر کی سزا میں پکڑ لے۔ ویسے اللہ واحد کی یہ دونوں صفات، یعنی رحم کرنا اور بخش دینا باقی تمام صفات سے زیادہ عام ہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بےحد پیار کرتا ہے اور وہ بندے کو دیکھتا رہتا ہے، جب بندے کی نافرمانی اور بدعملی انتہا سے بڑھ جائے تو پھر اس کی پکڑ کرتا ہے۔ جیسا کہ چند دنوں کے بعد ان میں سے بےشمارلوگوں کو اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کے قدموں میں لا ڈالا اور ان کو اسلام کے بہترین سپاہی بنا دیا جیسا کہ خالد بن ولید ؓ غزوہ احد میں ابھی اسلام نہ لائے تھے اور کفار کے سپہ سالار تھے اور بعد میں اسلام قبول کرکے بہترین جنگ جو ُ اور نامور سپہ سالار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ ان آیات میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ ایک تو ہمیشہ صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے دوسرے اللہ معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے والے بندوں کو بےحد پسند کرتا ہے، اس لیے کبھی بھی کسی کے لیے بددعا نہیں کرنی چاہئے، سزا دینا اور بدلہ لینا اللہ کا کام ہے۔
Ayahs 3:131–133

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور اللہ کی اور رسول کی اطاعت کروتا کہ تم پر رحم کیا جائے گا

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

دوڑ کر چلو ( اس راہ پر جو) تمہارے رب کی بخشش اور جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے

سود کی ممانعت، بدی کی سزا، نیکی کی جزا تشریح : پچھلی آیات میں غزوہ احد و بدر کا ذکر کیا گیا اور فوراً سود کا ذکر آگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں لڑائیوں میں یہودیوں کا کافی عمل دخل تھا اور ان کے ساتھ مسلمانوں کا سودی لین دین چل رہا تھا تو اللہ رب العزت نے اس تعلق سے منع کردیا، تاکہ اس تعلق کی وجہ سے بعد میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ ویسے تو سود کے موضوع پر سورة ٔبقرہ میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے، یہاں پھر کہا جارہا ہے کہ سود بڑی بری لعنت ہے، اس کو چھوڑ دینا چاہئے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس سے بچنا چاہئے، اللہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ اسی میں انسان کے لیے نجات، بخشش اور کامیابی ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے اور ہر وقت اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو اسی میں تمہاری نجات ہے اور ہر وقت نیکی، پاکبازی اور ایمان کی طرف لپکتے رہو کیوں کہ انسان کی فلاح اسی میں ہے اور ایسے ہی پرہیزگاروں کے لیے اللہ رب العزت نے جنت بنا رکھی ہے، جس کا عرض یعنی چوڑائی بہت زیادہ ہے، یوں سمجھ لو کہ زمین اور آسمانوں کے برابر وسیع و عریض ہوگی۔ جہنم تو نافرمانوں کے لیے ہے جب کہ جنت فرمانبرداروں کے لیے ہے۔ یہ اعلان کئی دفعہ قرآن مجید میں کیا جا چکا ہے تاکہ لوگ خبردارہو جائیں اور اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کی پابندی کریں۔ سورة ٔآل عمران آیت 164 میں اللہ فرماتا ہے۔” وہ ( آنحضرت ﷺ تلاوت کرتے ہیں ان پر اس (اللہ) کی آیات اور تزکیہ کرتے ہیں ان کا اور تعلیم دیتے ہیں ان کو کتاب اور حکمت کی۔ “ تو ظاہر ہوا کہ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت ہی جنت کا وارث بنا سکتی ہے اور نافرمانی دوزخ میں لے جائے گی۔ جنت اور دوزخ کیا ہیں ؟ جناب سلطان بشیر محمود صاحب اپنی کتاب ” قیامت اور حیات بعد الموت “ میں لکھتے ہیں : ” سوچنے کی بات ہے کہ آنے والی کائنات کے بڑے بڑے علاقے جنت، دوزخ اور اعراف ہیں اور ان میں سے اکیلی ایک جنت ہی موجودہ تمام کائنات سے بڑی ہے اس لحاظ سے نئی کائنات کی تمام تر وسعت کا اندازہ لگانا انسانی عقل سے باہر ہے۔ خاص طور سے جب یہ سوچیں کہ موجودہ نظام قدرت ہی انسانی عقل کو حیران کرنے کے لیے کافی ہے۔ “ مزید لکھتے ہیں کہ ” مسلمان سائنس دانوں کے لیے ضروری ہے کہ ان حقائق کو اپنی حساب دانی (علم) سے ثابت کرکے انسانیت کو راہ دکھائیں۔ “ مزید لکھتے ہیں کہ ” منفی اور مثبت کائنات کا نظریہ قرآن کے جوڑوں میں پیدائش “ والے قانون سے ثابت ہوتا ہے سورة یٰسین آیت 36 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں پاک ہے وہ اللہ جس نے سب چیزوں کو جوڑوں میں پیدا کیا وہ تمام جو زمین سے پیدا ہوتے ہیں اور خود انسان کی اپنی ذات اور ان تمام چیزوں میں جن کا انہیں کوئی علم نہیں۔ “ اسی طرح کائنات اور انٹی کائنات کا نظریہ بھی سائنسی حلقوں میں جانا پہچانا نظریہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر ہماری اس کائنات کا کہیں منفی جوڑا موجود ہے تو پھر ان دونوں کی قیامت کے لیے کسی لمبے چوڑے حساب کی ضرورت نہیں۔ جیسے ہی قریب ہوں گے اچانک ایک آواز آئے گی اور پھر کچھ باقی نہ رہے گا۔ “ مزید لکھتے ہیں۔ کائنات کا آغاز اس کی انتہاء اور پھر نئے سرے سے آغاز، یہ سبھی ایک ہی خالق کی تخلیق ہیں اور یہ سب کچھ اللہ کے مقرر شدہ اندازے کے تحت ہو رہا ہے موجودہ نظام کا خاتمہ اتنا ہی ضروری ہے جیسے اس کی بنیاد ضروری تھی۔ دراصل یہ خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئی کائنات کی ابتداء ہوگی، جو موجودہ کائنات سے بہت بڑی اور شاندار ہوگی اور موجودہ کائنات میں رہنے والوں کا گھر ہوگی۔ “ سورة آل عمران کی آیت 133 جس کی تشریح ہم کر رہے ہیں اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ موجودہ زمین و آسمان کی جگہ نئے زمین و آسمان ہوں گے اور وہ ان سے بےحد بڑے، لمبے اور چوڑے ہوں گے۔ آنے والے جہان میں انسانی وجود کس شکل میں ہوگا ؟ اس کا جواب قرآن کی روشنی میں تو یہی ملتا ہے کہ وہ جہان بھی زندگی سے بھرپور ہوگا، اس کی جنت اور جہنم زندہ انسانوں کے رہنے کی جگہ ہوگی۔ جنت راحت، آرام، خوشیوں اور بیشمار آسانیوں کی شاندار جگہ ہوگی جو نیکو کار، پرہیزگار اور اللہ سے ڈرنے والوں کو دی جائے گی، جبکہ جہنم، آگ سے بھڑکتا ہوا، خوفناک، بدترین اور تکلیف دہ ٹھکانہ ہوگا جو موجودہ دنیا کے بدکار، نافرمان، کافر، جھوٹے، منافق، فسادی، قاتل اور برے لوگوں کا گھر ہوگا اور پھر اللہ رب العزت نے بار بار فرمایا ہے کہ جنت کا ٹھکانہ اور دوزخ کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ کتنی آسان بات ہے کہ ہم ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لیے اس دنیا کی ختم ہوجانے والی زندگی کو نیکی کے راستوں پر چل کر گزار دیں دوسروں کو بھی نیکی کی ہدایت کریں اور برائی سے منع کریں۔ اللہ جل شانہ ہمیں اس کی توفیق دے اور ہماری نیکیوں کو قبول کرکے جنت میں جگہ دے۔ آمین۔
Ayahs 3:134–136

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

وہ (ان لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے) جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، خواہ بدحال ہوں یا خوش حال، جو غصہ کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں، ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور جن کا حال یہ ہے کہ) اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً انہیں یاد آجاتا ہے اور اللہ سے وہ اپنے قصوروں کی معافی مانگتے ہیں، کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہے اور وہ دیدہ دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے۔

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ایسے لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں انہیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ کیسا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کے لئے

نیک لوگوں کی صفات تشریح : پچھلی آیات میں جنت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نیک اور صالح لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے ان آیات میں نیک اور صالح انسانوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ متقی انسان کی صفات یہ ہیں۔ -1 وہ امیر ہوں یا غریب، خوشحال ہوں یا تنگ حال اپنا مال اور طاقت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ -2 غصہ پی جاتے ہیں اور قوی تر شخص وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے اوپر قابو پالے۔ -3 وہ خطا کرنے والے کو معاف کردیتے ہیں وہ جانتے ہیں اللہ معاف کرنیوالا ہے اور وہ معاف کرنے والوں کو بےحد پسند کرتا ہے۔ -4 وہ احسان کرکے جتاتے نہیں۔ -5 اگر وہ بھول کر کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ سے معافی مانگ لیتے ہیں۔ -6 جانتے بوجھتے اپنی غلطی پر مصر نہیں ہوتے بلکہ گناہ کو چھوڑ دینا ان کی صفت ہے۔ یہ تمام صفات جس انسان میں ہوں وہ اللہ کے نزدیک بہترین انسان ہے۔ اللہ رب العزت ایسے لوگوں سے بےحد خوش ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے نیک اعمال کی وجہ سے جنت میں بہترین ٹھکانے کا بندوبست اللہ نے کر رکھا ہے۔ جنت کہ جس کی تعریف کئی دفعہ قرآن پاک میں آچکی ہے اور یہ وعدہ بھی اللہ نے کر رکھا ہے کہ یہ ٹھکانا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ کیونکہ آخرت کی زندگی نہ ختم ہونے والی ہوگی۔
Ayahs 3:137–138

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں، زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا ؟ جنہوں نے اللہ کو جھٹلایا

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ لوگوں کے لیے صاف تنبیہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے

عبرت حاصل کرنے کی تاکید تشریح : تم سے پہلے بہت سے لوگ گزر چکے ہیں۔ ان میں اچھے بھی تھے اور برے بھی۔ تمام قوموں کا ذکر اور ان کا انجام قرآن میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ تاکہ ان واقعات سے عقل مند لوگ نصیحت حاصل کریں اور اس طرح اپنی اصلاح کرسکیں قرآن مجید لوگوں کے لیے نصیحت، ہدایت اور عبرت کا سبق لے کر آیا ہے۔ اس میں گزشتہ قوموں کا جو ذکر کیا گیا ہے تو وہ صرف قصہ کہانی کے لیے نہیں کیا گیا، بلکہ وعظ ونصیحت اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ نیک لوگ اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور اپنے اعمال کو اور بھی زیادہ اچھا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
Ayahs 3:139–142

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اس وقت اگر تمہیں زخم لگے ہیں تو اس سے پہلے ایسے ہی زخم تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکے ہیں یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں ؟ اور تم میں سے کچھ لوگوں کو درجہ شہادت دینا چاہتا تھا، کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور وہ اس آزمائش کے ذریعے سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کردینا چاہتا تھا

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے، حالانکہ اللہ نے ابھی یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کرنے والے اور ( اس کی خاطر) صبر کرنے والے ہیں

عارضی شکست اور مسلمانوں کا غلبہ تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت مسلمانوں کو تسلی دیتے ہیں کہ احد کی جنگ میں اگر تمہیں نقصان پہنچا ہے تو فکر نہ کرو اگر تم اللہ وحدہ لاشریک کے فرمانبردار بن کر رہو گے تو یقین رکھو رب العالمین تمہیں ضرور فتح عطا کرے گا اور اللہ رب العزت نے فرمایا کہ زندگی نام ہے دکھ اور سکھ کا کیونکہ اللہ کے اس کام میں بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اگر تمہیں نقصان ہوا ہے تو کافروں کو بھی بےحد نقصان اٹھانا پڑا ہے اگر وہ اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں تو تم کیوں ہمت ہار رہے ہو ؟ ایمان کو مضبوط رکھو اور دکھ پریشانی سے ہرگز نہ گھبراؤ۔ اللہ پر بھروسہ رکھو کیونکہ تمہارے پاس تو توکل کا بہت بڑا ہتھیار موجود ہے یاد رکھو اللہ ظالموں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ یہ جو مصیبت تم پر پڑی ہے تو یہ صرف اس لیے کہ اللہ رب العزت تم میں سے سچے اور پکے مسلمانوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا اور تمہیں یہ سبق دینا چاہتا تھا کہ نافرمانی سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور پھر نقصان سے گھبرا کر ایمان کی کمزوری دکھانی مومن کی شان کے خلاف ہے۔ مومن تو وہی ہے جو اللہ جل شانہ کی محبت میں جان و مال اور اولاد سب کچھ قربان کر دے۔ تو جو اس کی آزمائش میں پورے اترے تو تمہیں رب ضرور کامیاب و کامران کرے گا اور کافروں کو مٹا دے گا۔ جنت حاصل کرنا آسان کام نہیں، اس کے لیے بڑے صبر اور امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ رب دو جہاں خوب اچھی طرح چھانٹ پھٹک کر جنت میں بلند وبالا درجات دے گا۔ شہداء اور صابرین کے درجات اللہ کے پاس بہت بلند ہیں اور دنیا میں بھی ان کو آزمائش کے بعد بےحد عزت و احترام حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

تم تو موت کی تمنائیں کررہے تھے مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی اور تم نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا

مرنے کی آرزو تشریح : اس آیت میں اللہ رب العزت ان صحابہ کرام کا ذکر کرتے ہیں جو کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شامل نہ ہو سکے تھے تو وہ تمنا کرتے رہے کہ کاش پھر ایسا موقع آئے کہ ہم بھی اللہ کی راہ میں جان دے کر شہادت کا رتبہ حاصل کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ ان صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہیں کہ لو اب جہاد تمہارے سامنے موجود ہے۔ آگے بڑھو اور باطل کے ساتھ پوری قوت اور بہادری سے ٹکرا جاؤ اور اپنا شوق شہادت پورا کرلو۔ سچا مسلمان تو وہ ہے جو جیتا ہے تو رب کے لیے مرتا ہے تو رب کے لیے۔ علامہ اقبال نے کیا تعریف کی ہے مرد مسلمان کی۔ شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی مطلب یہ ہے کہ اقبال اللہ کے ان سپاہیوں کی تعریف کرتے ہیں کہ جنہوں نے تھوڑے ہی عرصہ میں بیشمار کامیابیاں حاصل کیں اللہ کے یہ سپاہی دنیا کی ہر نعمت سے بےنیاز صرف شہادت کے خیال میں ڈوب کر اللہ کے دشمنوں سے بےجگری سے لڑتے تھے۔ ان کا مقصد مال غنیمت اور ملکوں کو فتح کرنا نہیں بلکہ اللہ کا نام بلند کرنا اور شرک کو مٹانا ان کا مقصد تھا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ رب العزت نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں، پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ یاد رکھو جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزا دے گا

حضرت محمد ﷺ رسول الٰہی تشریح : اس آیت میں پھر غزوہ احد کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔ غزوہ احد بہت سی حکمتوں اور عبرتوں کا سبب بنا اسی لیے اس کا ذکر باربار مختلف موضوعات کے تحت کیا جارہا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں یہ حکمت کی بات بتائی گئی ہے کہ جب غزوہ احد میں باقی بہت نقصان ہوا اسی طرح رسول اللہ ﷺ زخمی ہوگئے، جس پر لوگوں نے مشہور کردیا کہ آپ ﷺ شہید ہوگئے ہیں۔ اس خبر نے مسلمانوں کو اور بھی پریشان کردیا اور انہوں نے سوچا اب تو ہمارا جینا یا ہمارا ایمان پر قائم رہنا بےکار ہے۔ رسول اللہ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور سب کو معلوم ہوگیا کہ آپ زندہ ہیں۔ اس پر لوگ دوبارہ ایک جگہ جمع ہو کر زور دارحملے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ بالکل ویسے ہی ایک انسان اور رسول ہیں جیسا کہ پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں۔ وہ نہ تو اللہ ہیں اور نہ قابل عبادت ہیں۔ ہم سے پہلے جو لوگ گزر چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ قوموں نے رسول کو اتنا بلند کردیا کہ اس کو انہوں نے رب کہنا شروع کردیا۔ لوگوں کو یہ بتانا مقصد تھا کہ بیشک کلمہ میں آپ ﷺ کا نام شامل کیا گیا ہے مگر ساتھ یہ بھی صاف بتا دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اللہ نہیں کہ ان کو موت نہ آئے یا قتل نہ کئے جائیں۔ اگر ان کے شہید ہونے کی خبر پر کچھ لوگ ایمان سے میدان جنگ سے پھرجانا چاہتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی اس حرکت سے اللہ کو کوئی نقصان نہیں ہوسکتا بلکہ ایسے لوگ خود یہ گناہ کرکے بہت بڑا نقصان اٹھائیں گے۔ بلکہ ان لوگوں کو اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ دین کی خدمت میں ان کو لگا رکھا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بہت عزت بہت احترام کرنا چاہئے، بلکہ ان کی تمام زندگی اپنے لیے نمونہ بنانا چاہیے مگر یہ عقیدہ اور ایمان رکھنا بہت ضروری ہے کہ ہمیشہ رہنے والا اور عبادت کے لائق سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے یہ وضاحت کردی گئی کہ رسول اللہ ﷺ انسان ہیں ان کو انسانوں میں سب سے بڑی فضیلت جو دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ رب العالمین کے مقبول ترین اور آخری بنی ہیں بس اتنا خیال مسلمانوں کو ضرور رکھنا چاہیے۔
Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے جو شخص ثواب دنیا کے لیے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے اور جو ثواب آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا ہم اس کو آخرت میں اجر دیں گے اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطا کریں گے

موت کا مقرر ہونا اور بدلہ کا ملنا تشریح : یہاں بھی غزوہ احد کے ایک واقعہ کا حوالے دیتے ہوئے حکمت کی دو باتیں سمجھائی گئی ہیں جو تمام مسلمانوں کے لیے ہیں۔ 50 تیر انداز جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے درہ پر مقرر تھے جن میں سے صرف دس تیر انداز اپنے سردار عبداللہ بن جبیر ؓ کے ساتھ درہ سے نہ ہٹے، گویا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی پوری پوری فرمانبرداری کی، موت سے نہیں گھبرائے اور مال غنیمت کے لالچ میں فرض کو نہیں بھولے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ موت سے ڈر کر غلط راستہ اختیار مت کرو۔ کیونکہ موت کا دن، وقت اور جگہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی ہے۔ کچھ لوگ جو بھی کام کرتے ہیں دنیاوی فائدہ کو سامنے رکھتے ہوئے کرتے ہیں تو ان کو دنیا میں ہی اجر مل جاتا ہے آخرت میں نہیں ملتا۔ لیکن جو لوگ رب کی خوشنودی اور آخرت میں اجر حاصل کرنے کے لیے سب کام کرتے ہیں تو ان کو اللہ رب العزت خوش ہو کر دنیا میں بھی دیتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کو خوب ہی خوب ملے گا اور جو ہر صورت رب کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں ان سے اللہ رب العزت بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں اور نعمتوں میں اور بھی اضافہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ پسند کرتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے پر دیکھے۔ “ (ترمذی)
Ayahs 3:146–148

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جہاد کیا۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی، وہ سرنگوں نہیں ہوئے۔ ایسے ہی صابروں کو اللہ رب العزت پسند کرتا ہے

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

ان کی دعابس یہ تھی کہ اے ہمارے رب ! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے در گزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہوگیا اسے معاف کر دے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

آخر کار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر ثواب آخرت میں بھی عطا کیا۔ اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں

انبیاء اور مجاہدین کی دعائیں تشریح : ان آیات میں ذکر کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بیشمار انبیاء گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر ان کی قوم نے دشمن کا مقابلہ کیا۔ فتح و شکست تو جنگ میں ہوتی ہی رہتی ہے۔ وہ اللہ والے تن من، دھن لگانے سے باز نہیں آتے تھے، سستی نہیں دکھاتے تھے، کمزور نہیں پڑتے تھے، دبتے نہیں تھے، ثابت قدم رہتے تھے۔ اپنے نیک کاموں پر کبھی فخر اور غرور نہیں کرتے تھے بلکہ عجز و انکساری سے ہمیشہ اللہ رب العزت سے دعا کرتے رہتے تھے اللہ ثابت قدم رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ اللہ والے اللہ سے دعا کرتے رہتے تھے۔ ” اے ہمارے رب ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ ہمارے کام میں جو زیادتی ہم سے ہوگئی اس کو بھی معاف کر دے۔ ہر مشکل اور پریشانی میں ہمیں ثابت قدم رکھ اور دشمنوں پر ہمیں فتح و کامیابی عطا فرما۔ “ ان کی دعا کے جواب میں اللہ رب العزت فرماتا ہے ہم نے ایسے بندوں کو دنیا اور آخرت میں بدلہ دیا اور آخرت کا بدلہ وہ تو ایسا شاندار ہوگا کہ جو بیان نہ ہو سکے اللہ رب العزت نیکی کرنے والوں سے بےحد خوش ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کو بےحد عزیز رکھتا ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کے لیے نصیحت کا باعث ہے۔
Ayahs 3:149–151

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اگر تم ان لوگوں کی بات مانو گے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھا دیں گے، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو شریک ٹھہرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو ان ظالموں کو نصیب ہوگی

کفار کی پیروی نہ کرو تشریح : ان آیات میں احد میں عارضی شکست اور مسلمانوں کی فتح اور دشمنوں کی سازشوں کا ذکر کیا گیا ہے جس سے مسلمانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ دشمن ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ تمہیں الٹی سیدھی باتیں بتا کر پوری کوشش کرے کہ تم دین سے پھر جاؤ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں ان کی چالوں میں ہرگز مت آنا وہ ہر صورت تمہیں نقصان پہچانا چاہتے ہیں یقین رکھو تم اللہ کے بندے ہو وہ ہر صورت تمہاری مدد کرے گا اور یہ بتایا کہ ایمان کی طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اللہ جل شانہ ہر صورت کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیتا ہے۔ ہندو پاک کی 1965 ء کی جنگ میں غیبی مدد کے بیشمار واقعات دیکھے گئے۔ وجہ یہی ہے کہ کافر توحید کو نہیں مانتا جب کہ مسلمان صرف اور صرف اللہ ہی کی عبادت کرتا ہے، اسی سے مدد مانگتا ہے تو بھلا اللہ کی مدد کے ساتھ کسی اور کی مدد کیا مقابلہ کرسکتی ہے ؟ آخر میں فرمایا کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے اور مشرکوں کی بخشش نہ ہوگی، بلکہ وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے اور دوزخ بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے حدیث میں آتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ : ” جس نے لا الٰہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) کہا اور یہ کہنے سے اس کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا تھا، اللہ نے اس پر دوزخ حرام کردی۔ “ (صحیح بخاری)
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اللہ نے (تائید و نصرت) کا جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اس نے پورا کردیا۔ جب ( ابتدا میں) اس کے حکم سے ہی تم ان کو قتل کر رہے تھے۔ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا اور جونہی وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے ( مال غنیمت) تم (اپنے امیر کے حکم کی) خلاف ورزی کر بیٹھے، اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کردیا، تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کردیا، کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑے فضل والا ہے

مسلمانوں کی آزمائش تشریح : اس آیت میں احد کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ مسلمانوں کی آزمائش تھی اور حق تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے جو خاص طور پر مسلمانوں کے لیے ہی ہے۔” توبہ کا مطلب ہے ” لوٹ آنا انسان جب گناہ کرکے پشیمان ہوتا ہے اور عہد کرتا ہے کہ آئندہ ایسے نہیں کروں گا تو گویا وہ نیکی کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی ناراضی دور کرکے رحمت کے ساتھ اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
Ayah 3:153

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا اور رسول ﷺ تمہارے پیچھے سے تمہیں بلا رہے تھے اس وقت (تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا) کہ تم کو رنج پر رنج دیئے تاکہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر تم غمزدہ نہ ہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے

رسول کی نافرمانی کا نتیجہ اور صبر کا حکم تشریح : یہ آیت بھی غزوہ احد سے ہی متعلق ہے۔ جیسا کہ تمام واقعات بیان کئے جا چکے ہیں اس آیت میں دوبارہ بیان کئے گئے ہیں۔ سبق اس میں یہی دیا گیا ہے کہ کبھی بھی مصیبت اور پریشانی میں گھبرا کر بدحواس نہیں ہونا چاہئے۔ جیسا کہ تم بدحواس ہو کر میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ کیونکہ تمہاری نیتیں صاف تھیں اور یہ بات اللہ کے علم میں ہے، اس لیے اللہ رب العزت نے تم سب کو معاف کردیا، تم پر رحم کیا اور تمہاری مدد کی۔ اگلی آیات میں یہی بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 3:154–155

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت والی اونگھ طاری کردی۔ مگر ایک دوسرا گروہ جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنی جان ہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف حق تھے۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔ ان سے کہو (کسی کا کوئی حصہ نہیں) اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ( دراصل) یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں اسے تم پر ظاہر نہیں کرتے کہ اگر (قیادت کے) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ، (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔ اور یہ معاملہ جو پیش آیا یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزما لے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ مقابلہ سے پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگا دیئے تھے۔ اللہ نے انہیں معاف کردیا، اللہ بہت درگزر کرنے والا اور برد بار ہے

اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آزمائش کا مقصد تشریح : یہ آیات بذات خود اپنا مطلب بیان کر رہی ہیں اونگھ کے بارے یہ ہے کہ اطمینان اور سکون عطا کرنے کے لیے اللہ رب العزت نے ان پر نیند طاری کردی مگر یہ صرف ان لوگوں کو نصیب ہوئی جو دلوں کے مخلص اور پکے مسلمان تھے جو منافق تھے یا مخلص نہ تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے بالکل علیحدہ کردیا تھا۔ اونگھ کے بارے میں حضرت ابو طلحہ ؓ جو اس جنگ میں شریک تھے خود بیان کرتے ہیں کہ اس حالت میں مجھ پر اونگھ کا ایسا غلبہ ہو رہا تھا کہ تلوار میرے ہاتھ سے گرنے کو ہوتی میں اسے تھام لیتا پھر گرنے کو ہوتی پھر تھام لیتا۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر) اس اونگھ سے صحابہ کرام تازہ دم ہوگئے اور میدان جنگ میں پلٹ کر جمع ہوگئے یہ تو مخلص صحابہ کا حال تھا اور ان کو اللہ رب العزت نے بالکل معاف بھی کردیا تھا مگر دوسرا گروہ تو موقع سے فائدہ اٹھا کر شیطانی باتیں کرنے لگا جیسا کہ اوپر آیات میں بیان کیا جا چکا ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی عام معافی کا ذکر ہے کیونکہ اللہ جل شانہ درگزر کرنے والا اور برد بار ہے۔