3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 3:156–158

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

اے ایمان والو ! کافروں کی طرح نہ ہوجانا جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں (اور وہاں کسی حادثہ سے دو چار ہوجاتے ہیں) تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت واندوہ کا سبب بنا دیتا ہے، ورنہ دراصل مارنے اور جلانے والا تو اللہ ہی ہے۔ اور جو تم عمل کرر رہے ہو اللہ انہیں خوب دیکھتا ہے

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا خود مرجاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصہ میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور خواہ تم مرو یا مارے جاؤ بہرحال تم سب کو پلٹ کرجانا اللہ ہی کی طرف ہے

منافقوں کی چال اور موت وحیات کا مسئلہ تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ منافقین کا پورا زور اس بات پر رہا کہ مسلمانوں کو بد دل اور دین سے پھیر دینے کا انتظام کیا جائے۔ اوپر کی آیات میں موت وحیات کی بات انہوں نے کی۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ موت وحیات کا مالک تو صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے۔ کہیں بھی، کسی بھی وقت بغیر کسی وجہ کے انسان مرسکتا ہے۔ کیونکہ یہ تو اللہ کی لوح محفوظ (کتاب) میں لکھا جا چکا ہے اور جو جہاد میں مرے وہ خوش نصیب ہے کیونکہ شہید کے درجات اتنے بلند ہیں کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ مرنا اور اللہ کی طرف واپس تو ضرور جانا ہے تو کیوں نہ عزت و احترام، رحمتوں، برکتوں اور فضیلتوں سے بھری ہوئی موت، یعنی شہادت حاصل کی جائے۔ سلطان بشیر محمود صاحب اپنی کتاب ” قیامت اور حیات بعدالموت “ میں آیت 157 کی تشریح بڑے ہی خوبصورت انداز میں کچھ مثالوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں لکھتے ہیں کہ ” حضرت امام ابن قیم کتاب الروح میں لکھتے ہیں۔ ” عالم برزخ میں روحوں کا ایک ٹھکانہ نہیں، پاکیزہ روحیں علیین میں ہیں اور خبیث روحیں زمین سے آگے نہیں بڑھتیں اور باقی اپنے اعمال کے مطابق ان دونوں مقامات کے درمیان میں ہوتی ہیں۔ “ مردے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ دو مہینوں کے بعد مردہ کا جسم یا تو کیڑے کھا جاتے ہیں یا مٹی کے مرکبات کے ساتھ مل کر مٹی ہوجاتا ہے اور بقیہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، ہائیڈروجن سلفائیڈ اور پانی کے بخارات بن کر مٹی اور ہوا میں گم ہوجاتے ہیں۔ تین ماہ کے بعد صرف ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ کچھ سالوں کے اندر مٹی کے مرکبات اسے بھی کھا جاتے ہیں۔ یوں انسان کی مٹی زمین کی مٹی میں مل کر غائب ہوجاتی ہے۔ “ مزید لکھتے ہیں کہ ” لیکن انبیاء، صدقین، شہداء، صالحین اور اللہ کے مخلص بندوں کے اجسام کی زمین خود حفاظت کرتی ہے (اللہ کے حکم سے۔ ) ایسی بیشمار مثالیں ماضی قریب میں دیکھی گئی ہیں۔ مثلاً 1935 کی بات ہے۔ اس وقت عراق کا حکمران شاہ فیصل اول تھا۔ ان کو خواب میں دکھایا گیا کہ دو صحابہ کرام کی قبریں دریا کے کنارے واقع تھیں ان میں طغیانی کا پانی چلا گیا اور صحابہ کرام ؇کو ناگواری ہوئی۔ تین دفعہ متواتر خواب دیکھنے پر علماء سے مشورہ کے بعد طے پایا کہ حج کے زمانہ میں قبریں کھول کر ان کی جگہ بدل دی جائے۔ جب قبریں کھولی گئیں تو قرآن پاک کے وعدہ کے مطابق جسم ترو تازہ پائے گئے اس منظر کے ہزاروں لوگ گواہ تھے ریڈیو اور اخبارات میں یہ خبر نشر کی گئی اور یہ سب اللہ رب العزت نے لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا۔ اسی طرح شہداء کے اجسام محفوظ رہنے کے بیشمار واقعات دیکھنے میں آتے رہے۔ جہاد افغانستان کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں اسلم شیرانی صاحب نے حلفیہ بیان پر بتایا کہ جہاد افغانستان کے دوران گولہ پھٹنے سے گڑھا پڑگیا وہاں ایک ٹانگ دبی ہوئی دکھائی دی جس سے خون بہہ رہا تھا۔ تجسس میں زمین کھودی گئی تو وہاں گیارہ میتیں دفن پائی گئیں سبھی تازہ حالت میں تھیں۔ درخت کی جڑ کی طرح کوئی چیز تھی جس سے رس ٹپک کر ان شہداء کے مونہوں میں گر رہا تھا بڑے بوڑھوں سے پتہ چلا کہ یہ 1904 ء میں انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان کے جسم محفوظ تھے، بلکہ ایک طرح زندہ تھے اور ان کو رزق دیا جارہا تھا۔ ان باتوں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے خاص بندوں کے جسم اور روحیں مرتی نہیں، بلکہ گہری نیند میں چلے جاتے ہیں۔ جہاں ان کو سانس لینے کی ضرورت نہیں، بلکہ ان کے جسمانی خلیات اپنی تازگی برقرار رکھتے ہیں اور قیامت تک ویسے ہی رہیں گے، حالانکہ اس عمل میں کوئی کیمیائی مادہ استعمال نہیں کیا جاتا۔ بلکہ سائنسی عمل سے جو لاشیں محفوظ کی جاتی ہیں وہ کچھ عرصہ بعد گل سڑ جاتی ہیں، جیسے چین کے چیئرمین ماؤ کی مثال ہے جو محفوظ نہ رہ سکی دوبارہ کیمیائی عمل کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے اجسام کو کیوں اور کیسے محفوظ رکھتا ہے یہ اسی کے راز ہیں۔ “ بشیر صاحب نے اس آیت کی کیا خوب وضاحت کی ہے جو اوپر بیان ہوچکی جس میں اللہ رب العزت فرماتا ہے ” اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصہ میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں اور خواہ تم مرو یا مارے جاؤ ہر حال میں تم کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے۔
Ayahs 3:159–160

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم مزاج واقع ہوئے ہو، ورنہ اگر آپ تند خو ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے دور ہوجاتے۔ ان کے قصور معاف کردیں اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں اور کاموں میں ان سے مشورہ کریں پھر جب آپ کسی کام کا پکا ارادہ کرلیں تو پھر اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اس کے بھروسہ پر کام کرتے ہیں

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں اور وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے ؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے

رسول اللہ ﷺ کی نرم مزاجی اور نصرت الٰہی تشریح : ان آیات کا تعلق بھی غزوہ احد سے ہی ہے مگر اس میں نبی کریم ﷺ کی نرم مزاجی کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ صفت ایک راہنما اور رسول کے لیے ضروری ہے۔ جیسا کہ صحابہ کی نافرمانی کی وجہ سے بےحد نقصان ہوا مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کی نافرمانی کو درگزر کرتے ہوئے معاف کردیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام سپاہی واپس آپ کے پاس جمع ہوگئے اور یوں شکست فتح میں بدل گئی۔ اللہ رب العزت نے آپ کی نرم مزاجی کی تعریف بھی کی اور نصیحت بھی کی کہ ایک مبلغ اور راہبر میں ان صفات کا ہونا بےحد ضروری ہے۔ اول سخت کلامی اور بدمزاجی سے بچنا دوسرے انتقام نہ لینا تیسرے امت کی خطاؤں اور لغزشوں پر ان کا ساتھ نہ چھوڑنا بلکہ ان کو معاف کردینا اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اور پھر رسول اللہ ﷺ کو اللہ رب العزت نے یہ بھی حکم دیا کہ دین کے کاموں میں لوگوں سے مشورہ ضرور لیا کرو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہر فیصلہ وحی کے ذریعے آپ کو بتا دیتا لیکن امت کو ایک کام کی بات اور بھی بتانا مقصود تھی کہ مشورہ کرنا بہت مفید، ضروری اور کارآمد ہے۔ لہٰذا آپ کے ذریعہ سے مشورہ کی سنت جاری کروائی گئی، اس لیے بہت سے کاموں کو وحی کے ذریعہ نہیں بلکہ مشورہ کے ذریعہ حل کرنے کا حکم دیا گیا۔ امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عبداللہ بن عمر ؄سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص مشورہ کرنے کے بعد کسی کام کا ارادہ کرے اور اس کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو صحیح اور مفید صورت کی طرف ہدایت مل جاتی ہے۔ “ البتہ جس سے رائے لی جائے اس میں یہ صفات ضرور ہونی چاہییں یعنی عقلمند، عبادت گزار اور پڑھا لکھا ہو۔ پھر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جب تم کسی بات کا فیصلہ کرلو تو پھر اللہ پر بھروسہ کرکے کام کر ڈالو۔ اللہ پر بھروسہ کرنا بےحد ضروری ہے کیونکہ اس سے ارادہ میں پختگی اور لازوال طاقت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی خوشی حاصل کرنے کے لیے اس پر پورا بھروسہ کرنا ضروری ہے۔ اللہ رب العزت تو کل علی اللہ، یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو بےحد پسند کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا ہر کام اللہ قادر مطلق کے اختیار میں ہے وہ ہمیشہ مومنین کی مدد کرتا ہے۔ دن میں کتنی ہی مرتبہ سورة فاتحہ میں ہم اللہ رب العزت کو پکارتے ہوئے کہتے ہیں ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ “ لہٰذا پوری طاقت، خلوص اور پکے ارادہ سے ہر کام کرنا چاہیے اور پھر رب کے سپرد کردینا چاہیے وہ خود ہی بہترین نتائج اور بہترین اسباب پیدا کردیتا ہے۔ اصل میں مسلمان کا بہترین ہتھیار ” اللہ پر مکمل بھروسہ ہے۔ “ یہ اتنی بڑی طاقت ہے کہ اس کے سامنے بڑی سے بڑی طاقت جھک جاتی ہے۔ اقبال نے مسلمان کی تعریف کیسے اچھے الفاظ میں کی ہے۔ خدائے لم یزل کا دست قدرت تو ہے، زباں تو ہے یقین پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے تشریح اس شعر کی یہ ہے کہ اے مسلمان تو رب لازوال کی قدرت کا ہاتھ ہے علامہ اقبال مومن کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ تو اپنے خالق ومالک پر پختہ یقین و ایمان پیدا کرتا کہ تیرا ہر کام اللہ کا کام اور تیری ہر بات اللہ کی بات بن جائے تو ثابت ہوا کہ مسلمان کا اللہ پر بھروسہ، نیک نیتی، پوری کوشش اور ہمت سے ہر کام کرنا یہی مسلمان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی ٹھہر نہیں سکتی۔
Ayahs 3:161–164

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

کسی نبی کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ خیانت کر جائے۔ جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوگا، پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضا پر چلنے والا ہو وہ اس شخص جیسے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گھر گیا ہو اور جس کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو جو بدترین ٹھکانہ ہے

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک ان کے مختلف درجات ہیں اور اللہ سب کے اعمال پر نظر رکھتا ہے۔

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

درحقیقت تو اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر مبعوث کیا جو اس کی آیات انہیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے بیشک اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے

رسول اللہ ﷺ کی شان اور خوبیاں تشریح : یہ آیات بھی غزوہ ٔ احد کے بارے میں ہیں جب آنحضرت ﷺ نے تیر اندازوں سے پوچھا کہ تم نے غلطی کیوں کی ؟ تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے سوچا ہمارے لیے مال غنیمت بچے گا ہی نہیں۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تم نے کیسے سوچ لیا کہ نبی تمہارے ساتھ مال غنیمت میں خیانت کریں گے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کسی بھی معاملہ میں دیانت، امانت اور انصاف کے سوا کوئی فیصلہ کرے۔ پیغمبر بھلا ان لوگوں کی طرح کیسے ہوسکتا ہے جن پر اللہ کا غضب ہوا ؟ وہ تو ہر معاملہ میں پوری طرح اللہ کی رضا کا تابع ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اس کی فرمانبرداری ہی کا حکم دیتا ہے۔ عام لوگ اور بنی ہرگز برابر نہیں ہوسکتے، طمع، لالچ اور بددیانتی نبی نہیں کرسکتا۔ اللہ اللہ رب العزت نبوت کا درجہ افضل ترین انسان کو ہی دیتا ہے اور وہ ہر بندے کے ہر عمل کو خوب اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کے رسول بنا کر بھیجے جانے کو بہت بڑا احسان قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم میں سے ہی تم جیسا ایک انسان تمہارے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ کیونکہ ان کے پاس بیٹھنا، ان کی باتیں سننا، سمجھنا تمہارے لیے آسان ہے۔ کیونکہ تم ان کی تمام عادات سے اچھی طرح واقف ہو تم لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہو کہ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اسی لیے ان کو اہل مکہ نے صادق (سچا) کا لقب دیا کبھی خیانت نہیں کی، اس لیے ان کو تم لوگوں نے امین کا لقب دیا کہ تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ مخلص مہربان، نرم طبیعت، انتہائی مشفق اور پاک باز ہستی ہیں تو ان کی ہدایت کی باتوں کو سمجھنا، یقین کرنا اور عمل کے لیے تیار ہوجانا تمہارے لیے آسان ہے کیونکہ یہی کام اگر کسی فرشتہ یا جن کے سپرد کیا جاتا تو تمہیں ایمان لانے پر بڑی مشکل اور پریشانی اٹھانا پڑتی۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ کی صفات یہ ہیں۔ 1 رسول اللہ ﷺ آیات الٰہی پڑھ کر لوگوں کو ان کی ہی زبان میں سناتے تھے۔ 2 لوگوں کے دلوں کو پاک صاف کرتے ان کو بت پرستی، شرک گناہ اور بدکاری سے روکتے تھے۔ 3 اللہ تعالیٰ کی کتاب بڑی وضاحت سے لوگوں کو سمجھاتے تھے۔ 4 وہ سنت کی تعلیم دیتے اور قرآن مجید کے تمام نکات وضاحت سے سمجھاتے تھے۔ ان تمام خوبیوں کی وجہ سے انہوں نے ایک ایسی قوم کو دنیا کا سردار اور ہادی بنا دیا جو سب سے زیادہ نکمی، بےراہ رو اور بھٹکی ہوئی قوم تھی۔ ڈاکٹر علامہ اقبال فرماتے ہیں۔ کیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتا خبر میں، نظر میں، اذان سحر میں الطاف حسین حالی فرماتے ہیں۔ وہ بجلی کا کڑ کا تھا یا صوت ہادی عرب کی زمین جس نے ساری ہلا دی
Ayah 3:165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

اور یہ تمہارا کیا حال ہے ؟ کہ جب تم پر مصیبت آپڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی، حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں (دشمن پر) پڑچکی ہے۔ (اے نبی ﷺ ان سے کہو، یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

مصیبت پر شکایت تشریح : اس آیت میں مسلمانوں کی غلط فہمی دور کی گئی ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کو تو اللہ کی مدد ملی ہوئی ہے وہ ہرگز شکست نہیں کھاسکتے تو ان کو بتایا گیا ہے کہ اللہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہ چاہتا تو تمہیں فتح دلا دیتا مگر تم نے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تو اس کی وجہ سے تمہیں بتایا گیا کہ اعمال اپنی جگہ ہیں ان کا بدلہ تو ملنا ضروری ہے یہ جو پریشانی تمہیں اٹھانی پڑی اس کے ذمہ دار تم خود ہو اور پھر یہ بھی تو سوچو کہ غزوہ بدر میں تم نے بھی تو دشمن کو اس سے کئی گنا زیادہ نقصان اور تکلیف پہنچائی تھی۔ اب تمہیں خود اپنی ہی وجہ سے تکلیف پہنچی ہے تو تم حیران کیوں ہو رہے ہو ؟ بدر میں کفار کے 70 آدمی مارے گئے، 70 قید ہوئے جبکہ جنگ احد میں مسلمانوں کے 70 آدمی شہید ہوئے اور یہ اس لیے ہوا کہ تم نے بےصبری اور حکم کی خلاف ورزی کی اور آپس میں اختلاف کیا۔ ان تمام باتوں کی وجہ سے نقصان ہونا بالکل ضروری تھا یہ اس لیے ہوا کہ آئندہ کے لیے تمہیں نصیحت ہوجائے۔
Ayahs 3:166–167

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھ لے (تم میں سے) مومن کون ہے ؟

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقوں کو بھی (وہ منافق) کہ جب ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا کم از کم (اپنے شہر کی) حفاظت ہی کرو تو کہنے لگے اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ یہ بات جب وہ کہہ رہے تھے اس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے

آزمائش کا مقصد، منافق کی پہچان تشریح : اس آیت میں عبداللہ بن ابی کا حال بیان کیا گیا ہے، کیونکہ وہ تین سو آدمیوں کو لیکر واپس چلا گیا تھا تو اس نے اپنی اس منافقانہ حرکت پر حیلے بہانے کرنے شروع کردیئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کھرے کھوٹے کی پہچان کرنا تھی سو ہوگئی اور پھر اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے جو یہ لوگ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں یہی منافقوں کی نشانی ہوتی ہے۔
Ayah 3:168

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور ان کے جو بھائی بند ( لڑنے گئے اور مارے گئے) ان کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے۔ ان سے کہو اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت ( جب آئے) تو اسے ٹال کر دکھا دینا

منافقانہ باتیں تشریح : یہ آیت بھی عبداللہ بن ابی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں وضاحت کرتی ہے۔ شہید زندہ ہوتے ہیں
Ayahs 3:169–171

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اس پر خوش و خرم ہیں اور مطمئن کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمزدہ ہونگے۔

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں وفرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا

تشریح : اسی سورة کی آیت 157 میں شہید کے بارے میں تفصیل گزر چکی ہے۔ نبی ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ” جو شخص نیک عمل لے کر دنیا سے جاتا ہے اسے اللہ کے ہاں اتنی اچھی زندگی ملتی ہے جس کے بعد وہ کبھی دنیا میں واپس آنے کی تمنا نہیں کرتا کہ دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے۔ مگر شہید تمنا کرتا ہے کہ پھر دنیا میں بھیجا جائے اور پھر اس لذت، اس سرور اور اس نشے سے لطف اندوز ہو جو اللہ کی راہ میں جان دیتے ہوئے حاصل ہوتا ہے۔ “ ( مسند احمد )
Ayahs 3:172–174

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ اور رسول کا حکم مانا اس کے بعد کہ انہیں زخم پہنچ چکے تھے جو ان میں سے نیک اور پرہیزگار ہیں ان کے لیے بڑا ثواب ہے

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

اور وہ جن لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، تم ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے جواب دیا ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

تو وہ اللہ کی طرف سے عظیم نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے، انھیں کوئی برائی نہیں پہنچی اور انہوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے

اللہ پر بھروسہ اور اللہ کا فضل تشریح : ان آیات کا تعلق بھی غزوہ احد سے ہی ہے۔ اس میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب ابو سفیان ؓ اپنے لشکر کے ساتھ مکہ پلٹ گیا تو راستہ میں اس کو خیال آیا کہ یہ اچھا موقعہ تھا مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کا، لہٰذا اس نے دوبارہ حملہ کا ارادہ کیا تو اس ارادے کا علم نبی ﷺ کو ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دشمن کا پیچھا کون کرے گا، اس پر 70 صحابہ کرام تیار ہوگئے، حالانکہ وہ زخموں اور نقصانات کی وجہ سے نڈھال ہو رہے تھے۔ اسی پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ وہ اسلام کے سچے مجاہد زخم کھا کر بھی رسول اللہ ﷺ کی پکار پر فوراً تیار ہوگئے ان میں نیک، پرہیزگار اور مخلص لوگوں کے لیے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ مسلمانوں نے آٹھ میل تک کفار کا پیچھا کیا جب ابوسفیان کو پتہ چلا کہ مسلمان پیچھا کر رہے ہیں تو اس نے چال چلی کہ ایک تجارتی قافلہ جو مدینہ جارہا تھا اس کے ذریعہ یہ کہلایا کہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے وہ تم مسلمانوں کو بالکل ختم کردے گا تو اس پر اللہ کے سپاہی بولے کہ ہمارے لیے تو اللہ کافی ہے اور ان کا ایمان اور بھی زیادہ مضبوط ہوگیا۔ وہ لوگ نہ گھبرائے اور نہ ہی بد دل ہوئے، پھر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے ساتھ با حفاظت پلٹ آئے ان کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا اور اللہ کی فرمانبرداری کا ثواب بھی ان کو مل گیا۔ اللہ رب العزت بہت زیادہ فضل کرنے والا ہے۔
Ayah 3:175

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

(اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ) وہ اصل میں شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرا رہا تھا۔ لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں ایمان والے ہو

شیطان کا ڈرانا بیکار ہے تشریح : پچھلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے ابو سفیان ؓ نے بھیجے تھے تو اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ تو صرف شیطان کے بھائی بند ہیں ان سے ہرگز مت ڈرو اگر تم سچے اور پکے مسلمان ہو تو پھر کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں صرف رحمن واحد سے ڈرو جو قادر مطلق ہے۔
Ayahs 3:176–178

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! ) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں رنجیدہ نہ کریں، یہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقیناً اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر رہے، ان کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

یہ ڈھیل جو ہم انہیں دے رہے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب گناہ سمیٹ لیں پھر ان کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

کفار کی سزا تشریح : یہ آیات پچھلی آیات سے وابستہ ہیں اور ان کا مطلب آیات میں ہی واضح کردیا گیا ہے۔ مومنین کے لیے خوشخبری
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس حال میں تم اس وقت ہو۔ وہ پاک کو ناپاک سے الگ کر کے رہے گا۔ مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تم کو غیب پر مطلع کر دے، غیب کی باتیں بتانے کے لیے تو وہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے، لہٰذا (امور غیب کے بارے میں) اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھو۔ اگر تم ایمان اور خوف خدا یا اللہ کے تقویٰ کی روش پر چلو گے تو تم کو بڑا اجر ملے گا

تشریح : آیت میں سب کچھ صاف اور آسان الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔ آخر میں بہترین اجر وثواب کی خوش خبری دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی عظمت بیان کرو وہ تم کو بخش دے گا۔ (مسند احمد)
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ان کے لیے اچھی ہے۔ بلکہ یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے۔ جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کر رہے ہیں وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

بخل کا انجام تشریح : سورة ٔآل عمران کی ابتدا میں یہود و نصارٰی کا ذکر ہے، درمیان میں غزوہ احد، اب یہاں سے پھر اہل کتاب کا ذکر کیا جارہا ہے۔ یہودیوں اور مسلمانوں کو واضح کرکے بتایا جارہا ہے کہ یہ مال و متاع جو بھی کسی کو عطا کیا گیا ہے یہ سب اللہ کا عطا کیا ہوا ہے وہ جس کو چاہے دے اور جس کو چاہے نہ دے اور جن کو دیا گیا ہے ان کو چاہیے کہ فراخ دلی سے اللہ کی راہ میں مال خرچ کریں کیونکہ بچا کر رکھنا ان کے کام ہرگز نہ آئے گا مرنے کے بعد یہ مال یہاں رہ جائے گا اور آخرت میں وہ تمام جمع شدہ مال انکے گلوں میں لٹکایا جائے گا اس لیے بخل کرنے کا صرف نقصان ہی ہے فائدہ ہرگز نہیں، اس لیے اللہ رب العزت کی فرمانبرداری کرو اور مال خوب خوشی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اللہ ہی تمام مال اور زمین و آسمان کا مالک ہے اور ہمارے تمام اعمال اسکی نظر میں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کو اللہ نے مال عطا کیا پھر اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے دن یہ مال ایک زہریلا سانپ بنا کر اس کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا وہ اس شخص کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں، تیرا سرمایہ ہوں۔ (صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ) مومن دل کا نرم، ہمدرد، اور ہر دوسرے شخص کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے اس لیے وہ بخیل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ہر مومن مرد اور عورت کو دل کھول کر اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا چاہئے۔
Ayahs 3:181–182

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

اللہ نے ان لوگوں کا قول سنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی۔ ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامہ ٔ اعمال میں ثبت ہے۔ (جب فیصلہ کا دن آئے گا اس وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ لو، اب عذاب جہنم کا مزہ چکھو

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ تمہارے اپنے ہاتھ کی کمائی ہے، اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا

یہود کی کم عقلی تشریح : ان آیات میں یہودیوں کی اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ جب قرآن مجید میں یہ آیت آئی کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے گا ؟ تو اس پر بجائے غور کرنے کے اور عمل کرنے کے الٹا یہود نے مذاق اڑانا شروع کردیا یہ کہہ کر کہ لو اللہ فقیر ہوگیا اور ہم مالدار ہوگئے کہ اللہ ہم سے قرض مانگ رہا ہے۔ ان بیوقوفوں کو اتنی بھی سمجھ نہیں آئی کہ سب کچھ اللہ کا ہی ہے اس نے ہمیں دیا ہے۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ ہمیں اس عطا کئے ہوئے مال کو بہترین طریقہ سے خرچ کرنے کی ترکیب بتا رہا ہے نہ تو اس کو ہمارے مال کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہماری مدد کی ضرورت ہے یہ تو اس نے حکمت کی بات بتائی ہے کہ اگر تم اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو گے تو وہ تمہیں کئی گناہ زیادہ ثواب کی صورت میں مل جائے گا۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے۔ میں ان کے تمام اعمال اور نیتوں سے خوب اچھی طرح واقف ہوں۔ انہی لوگوں کے آباؤ اجداد نے نبیوں کو بلاوجہ قتل کیا اور یہ اس بات پر خوش ہیں، اس لیے یہ بھی گناہ میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی انہی بدعملیوں کی وجہ سے ان کو بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب دیا جائے گا اور یہ عذاب اللہ کی طرف سے کوئی ظالمانہ کام نہ ہوگا، بلکہ یہ ان کے اپنے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ ہوگا جو انہوں نے دنیا میں کئے۔
Ayahs 3:183–184

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جنھوں نے کہا بیشک اللہ نے ہمیں تاکیدی حکم دیا ہے کہ ہم کسی رسول کی بات کا یقین نہ کریں، یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لائے جسے آگ کھا جائے، کہہ دے بیشک مجھ سے پہلے کئی رسول تمہارے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے اور وہ چیز لے کر بھی جو تم نے کہی ہے، پھر تم نے انھیں کیوں قتل کیا، اگر تم سچے تھے

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

اب ( اے نبی ﷺ اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول آپ سے پہلے جھٹلائے جا چکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں، صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے

یہود کی حجت بازی تشریح : یہ آیات ان یہودیوں کے بارے میں ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں موجود تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ لیا ہے کہ جب تک آپ ہمیں وہ معجزہ نہ دکھائیں جو ہمارے پیغمبر نے ہمیں دکھایا تھا ہم آپ پر ایمان نہ لائیں گے۔ معجزہ یہ تھا کہ آپ قربانی کریں اور آسمان سے آگ آکر اسے کھا جائے تو اس پر اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو کہا کہ ان کو کہو اگر اس معجزہ کے دکھانے پر ہی تم مجھ پر ایمان لاسکتے ہو تو پھر تم نے ان نبیوں کو کیوں قتل کیا جنہوں نے تم کو یہ آگ والا معجزہ دکھایا تھا ؟ دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی کتاب میں کبھی حکم نہیں آیا کہ تم صرف آگ والا معجزہ دیکھ کر ہی کسی پیغمبر پر ایمان لاؤ۔ یہ بات بالکل غلط اور بےبنیاد ہے پھر اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ تم ان کی باتوں سے ہرگز پریشان نہ ہو۔ کیونکہ یہ لوگ بڑے ہی ضدی اور نافرمان ہیں، جیسے ان کے بزرگ تھے ویسے ہی یہ بھی ہیں آپ سے پہلے کئی پیغمبر بھیجے گئے جن کو انہوں نے نہ صرف جھٹلایا بلکہ ان کی نافرمانی کی اور ان کو قتل کر ڈالا، اسی طرح کئی آسمانی کتابیں رسولوں کے ذریعے ان کو بھیجی گئیں جن میں ہدایت اور نیکی کا راستہ دکھایا گیا ہے مگر ان لوگوں کے بڑوں نے ان سے کوئی نصیحت حاصل نہ کی، ان کے احکامات کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کردیا اور ان کی بےحرمتی کی، لہٰذا آپ ان کی حجت بازی اور نامناسب باتوں کی بالکل پروا نہ کریں۔
Ayah 3:185

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

آخرکار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے پورے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے

ہر شخص کی موت ہوگی تشریح : قرآن پاک کی آیات، رسول اللہ ﷺ کی احادیث، اولیاء کرام کے فرمودات اور سائنس کے تجربات ہر وقت ہمیں یہ سمجھاتے رہتے ہیں کہ ہم نے ضرور مرجانا ہے اور مرجانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا جسم ساکت ہوجائے گا جب کہ ہماری روح اپنے اعمال کے ساتھ عالم برزخ میں چلی جائے گی۔ ” عالم برزخ “ یہ موت اور یوم حساب کے درمیان کا وقفہ ہے جس میں ہمیں اپنی دنیاوی زندگی کے اعمال کے مطابق اچھا یا برا ٹھکانا ملے گا۔ جو قبر کی صورت میں ہوگا۔ قبر جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔ اس کے بعد حساب کا دن ہوگا، جس میں فیصلہ کردیا جائے گا کہ ہمیشہ جنت میں رہنا ہے یا دوزخ میں، یہ فیصلہ بھی ہمارے دنیا میں کئے ہوئے اعمال کے مطابق ہی کیا جائے گا۔ عقل مند اور خوش نصیب وہی لوگ ہیں جو اس دنیا کی نعمتوں میں کھو کر اللہ کو اور اس کے احکامات کو نہیں بھولتے اور سمجھتے ہیں کہ اس دنیا کی زندگی کا وقفہ بہت تھوڑا ہے اور یہ وقفہ صرف امتحان اور آزمائش کے لیے دیا گیا ہے۔ یہی سنتے آئے ہیں کہ یہ دنیا آخرت کے لیے کھیتی کا درجہ رکھتی ہے یہاں جو بوئیں گے آخرت میں اس کا پھل پالیں گے۔
Ayahs 3:186–187

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

مسلمانو ! تمہیں جان اور مال دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے اگر ان سب حالات میں تم صبر اور تقوٰی کی روش پر قائم رہو گے تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلاؤ جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تم ہی کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانے والے ہو گے، انہیں پوشیدہ نہیں رکھنا ہوگا مگر انہوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اسے بیچ ڈالا۔ کتنی بری ہے وہ قیمت جو لے رہے ہیں

جان و مال کی آزمائش، اہل کتاب کا عہد تشریح : اس آیت میں مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ تمہاری نیکی، تقوٰی اور ایمان کو آزمایا جائے گا کبھی جان کے نقصان سے کبھی مال اور عزت و وقار کے نقصان سے۔ کیونکہ اہل کتاب ہر صورت تمہیں پریشان کریں گے۔ ان کی طرف سے دی گئی تکالیف سے ہرگز پریشان نہ ہونا بلکہ پورے صبر، سکون، ہمت اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے سب کچھ برداشت کرکے ثابت قدم رہنا۔ کیونکہ یہ بڑے حوصلے، کا میابی اور نجات کا راستہ ہے، پھر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب فرماتا ہے کہ ان اہل کتاب کو یہ اعتراض کرنا تو یاد رہا کہ آگ کا معجزہ دکھائیں۔ ان کو اپنا وہ عہد کیوں بھول گیا جس کا ذکر بائبل میں آتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) باربار بنی اسرائیل سے یہ عہد لیتے ہیں کہ جو احکامات تمہیں دیئے گئے ہیں ان کو اپنے دل پر نقش کرلینا اور پھر ان تمام اصولوں کو اپنی تمام نسلوں کے ہر فرد تک پہنچا دینا۔ ان احکامات کا چرچا اس حد تک کرنا کہ ہر جگہ ہر چیز پر یہ کنندہ کئے ہوئے دیکھا دیں، پھر یہ بھی تاکید کی کہ فلسطین کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد کوہ عیبال کے پتھروں پر آیات کندہ کردینا۔ لیکن بنی اسرائیل نے اپنی کتاب کو اپنی مرضی اور چھوٹے چھوٹے دنیاوی فائدوں کے لیے تبدیل کرنا شروع کردیا اور کتاب سے بالکل غافل ہوگئے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ کے 700 برس بعد ہیکل سلیمانی کے سجادہ نشین اور یروشلم کے یہودیوں کو یہ تک معلوم نہ تھا کہ ان کی کوئی آسمانی کتاب بھی ہے، یعنی یہود نے اپنا عہد کتاب اور احکامات کے بارے میں بالکل بھلا دیا یہاں تک چھپایا کہ جو کچھ ان کو آخری نبی ﷺ کی آمد کے بارے میں بتایا گیا تھا وہ بھی لوگوں سے چھپاتے رہے اور پھر انجام کار اللہ کے غضب کا شکار ہوئے۔ یہ مسلمانوں کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہے کہ علماء آیات الٰہی، یعنی قرآن کی آیات کو ہرگز نہ چھپائیں بلکہ کھول کھول کر بیان کریں اور لوگوں کو ہر صورت عمل پر آمادہ کریں۔ پچھلی امتوں کا ذکر اسی لیے کیا جاتا ہے کہ لوگ عبرت حاصل کریں۔
Ayahs 3:188–189

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں پر ان کی تعریف کی جائے جو فی الواقع انہوں نے نہیں کئے ہیں حقیقت میں ان کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

زمین اور آسمان کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے

اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ یہودی علماء اپنی مرضی اور دنیاوی فائدوں یا مصلحتوں کی وجہ سے تورات کے اصل مسائل لوگوں کو نہ بتاتے، بلکہ ان کو تبدیل کرکے بتایا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ دیکھو لوگوں کو کیسا بیوقوف بنا رہے ہیں اور پھر بھی لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں ان کو علم و فضل والے نیک بندے سمجھ کر ان کی عزت کرتے ہیں وہ اپنی اس حرکت پر خوش بھی تھے اور مطمئن بھی۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ منافق اور مفاد پرست لوگ اپنے انجام سے نہ صرف بیخبر ہیں، بلکہ دھوکہ بھی کھائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اپنے برے اعمال سے یہ خود کو اور لوگوں کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں۔ اللہ کو ہرگز دھوکہ نہیں دے سکتے کیونکہ آسمان و زمین کی ہر چیز اور ہر شخص کے ہر عمل سے اللہ تعالیٰ خوب واقف ہے اس کو معلوم ہے کہ یہ لوگ دراصل کیا کام کررہے ہیں اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس کا بدلہ ان کو ضرور ملے گا اور وہ بدلہ درد ناک سزا ہوگی۔ یہ لوگ اپنے برے اعمال کی سزا سے ہرگز بچ نہیں سکتے ان کی پکڑ ضرور ہوگی اور ان کو غلط اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا۔ سورة النبا آیت 21 تا 28 میں اللہ رب العزت فرماتا ہے : ” درحقیقت جہنم ایک گھات کی جگہ ہے۔ سرکشوں کا ٹھکانہ جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔ وہاں وہ نہ کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ پینے کی چیز کا۔ البتہ وہاں گرم پانی اور زخموں کا دھو ون انہیں ملے گا۔ یہ بھرپور بدلہ ہے ان کے کرتوتوں کا، یہ لوگ دراصل حساب آخرت کا عقیدہ ہی نہیں رکھتے تھے اور ہماری آیات کو خوب جھٹلاتے تھے۔ “ رب جل جلالہ سے دعا ہے کہ وہ ہم تمام مسلمانوں کو نیکی کی ہدایت دے، اپنے راستوں پر چلنے کی توفیق دے اور عذاب جہنم سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
Ayahs 3:190–191

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں، رات اور دن کے باری باری آنے میں، ان ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں۔ وہ بےاختیار بول اٹھتے ہیں پروردگار ! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بےمقصد نہیں بنایا، تو پاک ہے اس سے کہ عبث (غیر ضروری) کام کرے پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے

آیات الٰہی میں غور و فکر تشریح : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جب قریش نے رسول اللہ ﷺ سے معجزہ دکھانے کی خواہش کی اور کہا کہ آپ ﷺ اللہ سے دعا کریں کہ کوہ صفا سونے کا ہوجائے۔ اگر ایسا ہوجائے تو ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ ﷺ نے دعا کی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر ابن کثیر) اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک، کائنات اور اس کی تمام چیزوں کے ذریعے یہ بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور وہی تمام کائنات کو چلانے والا ہے۔ اولی الالباب (عقل والے) اور ” عقل کو کام میں لانے والے۔ “ یہ الفاظ قرآن میں بیشمار دفعہ آئے ہیں تاکہ انسان کائنات کی پیدائش میں اور اس کے انتظام پر غور و فکر کرے اور اپنے لیے نئے نئے فائدے حاصل کرے۔ انسان اور حیوان میں علم، عقل اور غور و فکر کا ہی تو فرق ہے جو انسان کائنات کا علم نہیں رکھتا وہ اس کے خالق کو کیسے پہچان سکتا ہے ؟ پھر فرمایا : اللہ کا ذکر ہی فکر و تدبر کی طرف لے جاتا ہے جو لوگ ہر لمحہ اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں ان کے لیے سوچ اور دھیان کرنے کا ایک رخ بن جاتا ہے وہ آسمان و زمین کی پیدائش پر غور کرتے ہیں تو ان کو یہ یقین کرنا بڑا آسان ہوجاتا ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقاً وجود میں نہیں آگیا بلکہ یہ اللہ رب العزت کی قدرت اور اس کی طاقت (کُنْ فَیَکُوْنُ ) ہوجا اور دنیا وجود میں آگئی کا معجزہ ہے۔ بھلا اتنی بڑی طاقت اور قدرت اللہ کے سوا کس میں ہوسکتی ہے ؟ تب انسان پکار اٹھتا ہے کہ ” اے ہمارے پروردگار ! تو نے یہ سب کچھ بےکار پیدا نہیں کیا بلکہ اس کائنات کی ایک ایک چیز انسان کے فائدہ کے لیے اور اس کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہے “۔ انوارالقرآن میں وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے ” قرآن اور اسلام ہمیں اندھے عقیدے کی طرف نہیں بلاتے، اس لیے کہ یہ وہ کتاب نہیں جو سائنس کے حقائق سے ٹکرا جائے۔ سائنس مطالعہ فطرت کا نام ہے اور اسلام دین فطرت ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دونوں جڑواں بہنیں ہیں یا پھر آپس میں لازم و ملزوم ہیں، اس لیے اسلام اور سائنس کے درمیان کہیں بھی ٹکراؤ موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں بار بار غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ انسان اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اس غور و فکر میں اس کی پوری طرح راہنمائی کرنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تیری ذات کے کھوج میں بھٹک جائے جیسا کہ کئی سائنس دان بھٹک گئے یا اللہ ! ہمیں سچی لگن اور سیدھی راہ پر رکھنا تاکہ دوزخ کے عذاب سے بچ سکیں۔ کیونکہ سائنس دان تو ہر وقت تجربات میں لگے رہتے ہیں مگر گھوم پھر کر اللہ کی موجودگی کے ہی قائل ہوجاتے ہیں ” مثال کے طور پر نیوٹن نے کہا تھا کہ یہ اللہ کا طریق کار ہے وہ اسباب و علل (علامات) کے ذریعہ کائنات میں اپنی مرضی کو ظاہر کرتا رہتا ہے۔ مگر ملحد لوگوں نے اس سے یہ مطلب نکال لیا کہ کائنات ایک خود کار مشینی نظام ہے مگر بیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی سائنس کے علم میں بہت سی ایسی حقیقتیں آگئیں جو کسی طرح بھی اس بات کا ثبوت نہ دیتی تھیں کہ کائنات ایک مشینی نظام کا نام ہے، مثلاً ریڈیم ایک تابکار عنصر ہے۔ اس کے الیکٹران خود بخود فطری عمل کے تحت مسلسل ٹوٹتے رہتے ہیں یہ معلوم کرنے کے لیے کہ اس تابکاری کا سبب کیا ہے بیشمار تجربے کئے گئے مگر ہر تجربہ ناکام رہا اسی طرح مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کیوں کھینچتا ہے ؟ اس لیے کہ اس کے خالق نے اس کو حکم دیا۔ طویل بحث مباحثہ کے بعد اب سائنس کی دنیا میں مان لیا گیا ہے کہ قانون تعلیل (خود کار نظام) کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ سائنس دان اب پلٹ کر اس بات پر آگئے ہیں کہ دنیا کا نظام نہ اتفاقی طور پر وجود میں آنے والا ہے اور نہ ہی کسی علت و معلول کے قانون کے تحت چل رہا ہے۔ بلکہ اس کے پیچھے ایک شعوری ذہن ہے جو اس کو چلا رہا ہے اور وہ ہے اللہ کی قدرت، اللہ کی طاقت۔ سائنس کی یہ واپسی مذہب کی صداقت کا ایک واضح ثبوت ہے، جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ “ (مذہب اور سائنس۔ مصنف مولانا وحید الدین خان۔ ) غور و فکر ہمارے مذہب اسلام کا بہت بڑا اعزاز ہے، عبادت ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس غور و فکر کو افضل عبادت فرمایا ہے۔ (تفسیرابن کثیر) اسی طرح حضرت سفیان بن عیینہ کا ارشاد ہے کہ غور و فکر ایک نور ہے جو تیرے دل میں داخل ہو رہا ہے۔ (فہم القرآن) حضرت وہب بن منبہ نے فرمایا : جب کوئی شخص کثرت سے غور و فکر کرے گا تو حقیقت سمجھ لے گا اس کو صحیح علم حاصل ہوجائے گا اور جس کو علم حاصل ہوگیا وہ ضرور عمل بھی کرے گا۔ “ (تفسیر ابن کثیر) غور و فکر سے ایمان کی مضبوطی اور اللہ رب العزت کی قربت حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے بندہ اس سے دعا کرتا ہے کہ ہمیں آگ کے عذاب سے بچائے رکھنا۔
Ayahs 3:192–194

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! جسے تو نے دوزخ میں داخل کردیا اسے درحقیقت بڑی ذلت و رسوائی میں ڈال دیا اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا کہ اپنے رب کو مانو ہم نے اس کی دعوت قبول کرلی، پس اے ہمارے پروردگار ! ہمارے گناہ معاف فرما ہماری برائیاں دور فرما اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال، بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے

بندہ ٔ مسلم کی دعا تشریح : ان آیات میں انسان اپنے رب سے دعائیں کرتا ہے جیسا کہ آیات میں واضح بیان کیا گیا ہے آخر میں انسان التجا کرتا ہے کہ تو وعدہ پورا کرنا کبھی بھول نہیں سکتا مگر ہمیں اتنا پکا پرہیزگار اور نیک مسلمان بنا دے کہ ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہو سکیں جن سے تو نے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن ان کو رسوائی اور عذاب جہنم سے تو بچا لے گا۔ آمین۔