Ayah 1:1تسمیہ/بسملہ کردار
تشریح : تعوذ کے بعد ہم بسملہ یعنی بسم اللہ پڑھتے ہیں، مقصد یہ ہوتا ہے کہ شیطان سے پناہ چاہتے ہوئے اللہ کا نام لے کر اس کی مدد شامل کرتے ہوئے اپنا کام شروع کرتے ہیں۔ اللہ کی مدد اس لئے چاہتے ہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور اپنی رحمتیں دینے والا ہے۔ بےحساب رحمتیں دیتا ہے اور کوئی معاوضہ نہیں لیتا۔ اور پھر اس کی مدد اس کی طرح بڑی ہی مکمل اور مضبوط مدد ہے جو اس کی مدد سچے دل سے مانگتا ہے وہ اس کی مدد بےحد کرتا ہے۔ اللہ کا قرب اور اس کی مدد کامیابی کی نشانی ہے۔
Ayah 1:2سورة الفاتحہ
سورۃ الفاتحہ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یعنی کھولنے والی مراد رشد و ہدایت کی کتاب قرآن مجید کو کھولنے والی سورت۔ اس سورت کو ام القرآن، الدعاء، الشفاء اور الحمد کے نام بھی دیئے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ سورة دعا بھی ہے انسان کی صحت یابی کے لئے بھی پڑھی جاتی ہے۔ خدا کی تعریف اور پھر قرآن پاک کی پہلی سورت بھی ہے یہ سورت ایک ہی وقت میں پوری نازل کی گئی ہے اس میں کل سات آیات ہیں اور یہ نبوت کے شروع میں مکہ میں نازل ہوئی تھی۔
تشریح : اس آیت میں حمد و ثنا کے ساتھ ساتھ دعا مانگنے کا سلیقہ بھی سکھایا گیا ہے کہ جس سے کچھ مانگنا ہے تو سب سے پہلے اس کی تعریف بیان کی جائے۔ اسی لئے بندہ اپنے اللہ کو پکارتا ہے کہ اے اللہ آپ ہر قسم کی تعریف کے قابل ہیں کیونکہ تمام جہانوں کو پیدا کرنے والے ہیں اور پھر ہر قسم کی تمام مخلوقات کو پالنا صرف آپ کا ہی کام ہے۔ کوئی بھی ہستی نہ تو کائنات یعنی عالمین (کائنات بڑی وسیع ہے اس میں ایک دنیا ہی نہیں بلکہ کئی اور دنیائیں بھی ہیں اسی لئے عالم کی جمع عالمین کہا گیا ہے۔ ) کو بنانے کی قدرت رکھتی ہے اور نہ ہی دنیا میں بسنے والی مخلوقات کو پیدا کرنے اور پھر پالنے کی قدرت رکھتی ہے، ہم خود اپنے آپ کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ انسان ایک چلتی پھرتی مشین ہے۔ جس کو بنانا اور بچہ سے بوڑھا تمام عمر کی تمام ضروریات کو پورا کرنا سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں کرسکتا اسی لئے صرف اسی کی تعریف کرنی چاہئے، کیونکہ آیت نمبر 2 اس کی وضاحت ان الفاظ میں پر زور طریقہ سے کرتی ہے۔
Ayah 1:3تشریح : اس آیت میں اقرار ربوبیت کے ساتھ ساتھ بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ اللہ رب العالمین ہی نہیں بلکہ انتہائی محبت اور شفقت کرنے والی ایسی ہستی ہے کہ جس کا رحم و کرم بےحد و حساب ہے۔ ماں کی محبت، اللہ کی محبت کا ایک بڑا ہی معمولی نمونہ ہے۔ وہ نہ صرف رحم کرنے والا ہے، بلکہ اس کی رحمت، محبت اور شفقت اتنی زیادہ ہے کہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ بغیر قیمت کے ہمیں زندگی دیتا ہے۔ ہوا، پانی، پھل، پھول اور مختلف اقسام کے اناج دیتا ہے، انسان کو جب اللہ نے بنایا تو ان تمام چیزوں کے نام اور استعمال کے طریقے سکھا دیئے اسی علم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ (جو سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے) نے حضرت آدم کو مسجود ملائکہ بنایا یعنی حضرت آدم کو فرشتوں سے سجدہ کروایا یہاں معلوم ہوتا ہے کہ تسبیح و تقدیس اپنی جگہ مگر علم و معرفت کو زیادہ بڑا درجہ دیا گیا ہے اور انسان کو بتایا گیا ہے کہ تم بھی آپس میں شفقت، محبت اور درگزر سے کام لو۔ تم بندوں کی خطاء معاف کرو اللہ تمہاری خطائیں معاف کر دے گا، معاف کردینا، درگزر کرنا ایثار اور خلوص سے پیش آنا اللہ کو بےحد پسند ہے اور پھر یہ تمام صفات انسان کی ترقی، سکون اور دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضامن ہیں۔ اگلی آیت میں اللہ کی بادشاہت، حاکمیت اور منصف اعلیٰ ہونے کا بیان درج ہے۔
Ayah 1:4تشریح : اس آیت میں اقرار حاکمیت ہے، اور دو لفظوں میں عقیدہ قیامت و آخرت دلیل کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔ بدلہ کا دن کیا ہے ؟ اللہ نے تمام نعمتیں، برکتیں اور آسائشیں انسان کو دے کر کھلا نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کے امتحان کا دن بھی مقرر کردیا ہے۔ انسان کو نیکی اور بدی کے راستے بتا دیئے ہیں اور پھر ہمارے تمام اعمال، خیالات اور نیتوں کے اوپر ریکارڈنگ کا نظام قائم کردیا ہے کہ جو ہمارا ہر لمحہ محفوظ کئے جارہا ہے۔ اس لئے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ جب ہم سب انسان اپنے ٹیپ کئے ہوئے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش کئے جائیں گے اور وہی دن جزاء کا دن کہلاتا ہے۔ انسان فیصلہ کرتے ہوئے بھول چوک کا شکار ہوسکتا ہے، مگر اللہ کا انصاف بڑا ہی صاف کھرا ہے اور مکمل ہوگا۔ اس دن کی تیاری اس دنیا میں ہی نیک اعمال، نیک خیالات اور نیک راہیں اختیار کرنے سے ہوسکتی ہے اس دنیا کی زندگی ہی ہمیں جنت یا دوزخ کا حق دار بنائے گی اس لئے مال کو مناسب طریقہ سے استعمال کریں، والدین، استاد اور بزرگوں کی عزت کریں، نماز پڑھیں زکوٰۃ دیں اور کبھی جھوٹ نہ بولیں کسی کو نقصان نہ پہنچائیں غیبت چوری، حق تلفی اور گناہوں سے بچیں ہر وقت حساب کے دن کا خیال ذہن میں رکھیں اور اللہ سے مدد مانگتے رہیں جیسا کہ اگلی آیت میں بتایا گیا ہے۔
Ayah 1:5تشریح : اس آیت میں اقرار توحید، اللہ کی حمد اور دعا کا پہلو ظاہر ہوتا ہے۔ مسلمان اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھتا ہے اسی لئے اقرار کرتا ہے کہ میں صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، اللہ کی وحدانیت، بڑائی اور طاقت کا اقرار کرتے ہوئے اسی سے مدد کا طلب گار بھی ہوں۔ یعنی یہ آیت اقرار توحید کی بہترین صورت ہے اگلی آیت میں عاجزی و انکساری سے دعا کی جارہی ہے۔
Ayah 1:6تشریح : اس آیت میں دعا ہے انسان اللہ سے التجا کرتا ہے کہ زندگی کے ہر لمحہ میں، ہر قدم پر ہمیں وہ طریقے بتا جو ہماری فلاح اور ہماری نجات کا ذریعہ بنیں کیونکہ تجھ سے بڑا نہ کوئی رہبر ہے اور نہ ہی ہمدرد و مہربان، تو بہترین رہبر و راہنما ہے۔ ہمیں ان بہترین لوگوں کی راہوں پر چلنے کی توفیق اور ہدایت کر کہ جنہوں نے دنیا و آخرت میں نجات حاصل کی جن کا ذکر اگلی آیت میں موجود ہے۔
Ayah 1:7تشریح : یہاں انسان مزید وضاحت چاہتے ہوئے دعا کرتا ہے کہ یوں تو ہدایت اور نجات کے تمام راستے طریقے اور اعمال قرآن مجید میں وضاحت سے بیان کردیئے گئے ہیں مگر ایسے لوگوں کی مثالیں ہمارے سامنے کھول کر رکھ دے کہ جنہوں نے فلاح پائی اور تیرے انعام کے حقدار ہوئے۔ ایسے لوگوں کا ذکر سورة نساء کی آیت 69 میں اس طرح کیا گیا ہے :
” ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی نبی، صدیق، شہید، صالح اور ان کی رفاقت کیسی اچھی ہے “۔
1 نبی : سے مراد اللہ تعالیٰ کا ایسا برگزیدہ بندہ کہ جو اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچائے۔
2 صدیق : یہ انبیاء کے بعد دوسرے درجہ پر ہیں مثلاً حضرت ابوبکر صدیق ۔
3 شہداء : خدا کی خوشنودی کے لئے اپنی جان تک قر بان کرنے والے۔ اللہ ان کو ہمیشہ کی زندگی عطا کرتا ہے اللہ فرماتا ہے :
” ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں اور تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے “۔
4 صالحین : یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو انبیاء کی پیروی ہر صورت کرتے ہیں۔
یہ تمام لوگ انعام یافتہ لوگ ہیں انہی کے نقش قدم پر چلنے کی ہمیں توفیق دے کیوں کہ یہی لوگ سیدھے راستہ پر چلے اور انعام یعنی جنت کے حق دار ہوئے۔
تشریح : دعا میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ ان لوگوں کے راستہ پر ہمیں نہ چلانا جن پر آپ ناراض ہوئے کیونکہ انہوں نے گمراہی کے راستے اختیار کئے اور پھر آپ کی ناراضگی اور غضب کا شکار ہوئے۔ ان میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جنہوں نے توحید سے انکار کیا۔ ہدایت ملنے کے باوجود راہ ہدایت پر نہ چلے مثلاً یہ لوگ دنیوی نعمتوں سے مالا مال تو ہوگئے مگر اپنی شرارتوں، نافرمانیوں، بدعہدیوں اور کفر کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئے اور آخرت میں بھی ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ان میں کفار مکہ یہود و نصاری، فرعون، نمرود اور قارون کی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ یہ سب لوگ اللہ کی نعمتوں، برکتوں اور رحمتوں سے مالا مال ہوئے مگر بداعمالیوں کی وجہ سے راہ نجات نہ پا سکے انہی لوگوں کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔
آخر میں صرف یہی کہوں گی کہ سورة فاتحہ دراصل پورے قرآن مجید کا خلاصہ ہے۔ تمام احکامات مختصراً بیان کردیئے گئے ہیں جو آگے پورے قرآن پاک میں بتائے جائیں گے۔ یہ ایک دعا ہے جو انسان مجموعی طور پر دن میں چالیس دفعہ کرتا ہے، مجموعی اس طرح کہ اس میں ہر جگہ جمع کا صیغہ یعنی ہم استعمال کیا گیا ہے جو امت مسلمہ کے اتحاد اور یکجہتی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اگر خلوص نیت سے اس کو پڑھا جائے تو اس کی وجہ سے بہت سی معاشرتی، روحانی، جسمانی اور ملکی خرابیوں سے نجات مل سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عظمت و انتظام کا جب مکمل یقین ہوجاتا ہے تو رشوت، سفارش، بےسکونی، لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت گری کا خاتمہ خود بخود ہوجاتا ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے۔
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات۔ (علامہ اقبال)
قرآن مجید میں اس کا خلاصہ یوں بیان کیا گیا ہے۔ سورة ھود میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
” اس کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ کرو۔ “