2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 2:1–3

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلام خدا ہے، خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے، اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

اقامت صلوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ قول باری ہے : (الذین یومنون بالغیب و یقیمون الصلوۃ و مما رزقنھم ینفقون) لوگ جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں) یہ قول باری نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کے امر اور حکم کو متضمن ہے کیونکہ اللہ سبحانہ نے یہ دونوں باتیں متقین کی صفات اور تقویٰ کی شرائط قرار دی ہیں، سج طرح ایمان بالغیب کو تقویٰ کی شرط قرار دیا گیا ہے، ایمان بالغیب سے مراد اللہ اور بعث و نشور پر نیز ان تمام باتوں پر ایمان لانا ہے جن کا اعتقاد ہم پر بطریق استدلال لازم ہوگیا ہے۔ تقویٰ کی شرائط قرار پانا آیت میں مذکورہ صلوۃ و زکوۃ کے ایجاب کا مقتضی بن گیا ہے۔ اقامت صلوۃ کے کئی معانی بیان ہوئے ہیں۔ ایک معنی اتمام صلوۃ ہے اور یہ معنی ” تفویم الشئی و تعقیقہ ایک چیز کو درست کرنا اور اسے حقیقت کا رنگ دینا۔ “ سے ماخوذ ہے۔ اور اسی معنی میں یہ قول باری ہے : واقیموا الوزن بالقسط اور زوزن کو ٹھیک رکھو انصاف کے ساتھ ایک معنی نماز کو اس کے تمام ارکان مثلاً قیام و رکوع و غیر ہما کے ساتھ اذکرنا ہیں۔ قیام کے لفظ سے ان تمام ارکان کی تعبیر کی گئی ہے، کیونکہ قیام نماز کے فرائض میں شامل ہے ، اگرچہ نماز اس کے سوا دیگر فرائض و ارکان پر مشتمل ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : فاقروا ما تیسر من القرآن (قرآ ن میں سے جو کچھ آسانی سے پڑھا جاسکے اس کی قرأت کرو) یہاں نماز مراد ہے جس کے اندر قرأت کی جاتی ہے۔ اسی طرح قول باری ہے : وقرآن الفجر ( اور قرآن فجر) اس سے مراد فجر کی نماز میں قرأت ہے۔ اسی طرح قول باری : واذا قیل لھم ارکعوا الایرکعون (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو رکوع نہیں کرتے) نیز وارکعوا و اسجدوا (رکوع اور سجدہ کرو) نیز : وارکعوا مع الراکعین (رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نماز کے ارکان یعنی اس کے فرائض میں سے ایک رکن اور فرض کا ذکر کر کے اس امرپر دلالت قائم کردی کہ مذکورہ رکن نماز کے اندر فرض ہے۔ اس کے ساتھ اس عمل کے ایجاب پر بھی دلالت قائم کردی جس کا شمار نماز کے فرائض ہوتا ہے اس طرح قول باری : ویقتیمون الصلوۃ نماز میں قیام کا موجب اور نماز کے ایک فرض کی خبر دینے والا بن گیا۔ قول باری : یقیمون الصلوۃ میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ متقین نماز کے فرائض پر نماز کے اوقات میں دوام کرتے ہیں، یعنی وہ ہمیشہ اوقات صلوۃ میں نماز کو اس کے فرائض و ارکان کے ساتھ ادا کرتے رہتے ہیں۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ان الصلوۃ کانت علی المومنین کتاباً موقوتاً (بےشک) اہل ایمان پ نماز اس کے معلوم و متعین اوقات میں فرض ہے) یعنی نماز اپنے معلوم اوقات میں فرض ہے۔ اسی طرح ارشاد باری ہے : قائماً بالقسط یعنی وہ انصاف کی ترازو کو قائم رکھتا ہے اور انصاف سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرتا۔ عرب کے لوگ ایسی چیز کو قائم کا نام دیتے ہیں جو تسلسل کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہو اور اس کے فاعل کو مقیم کہتے ہیں۔ محاورہ ہے : فلان یقیم ارزاق الجند (فلاں شخص فوج کی خوراک و تنخواہ کا مقیم یعنی منتظم ہے) ایک قول کے مطابق زیر بحث آیت کا مفہوم اس محاورہ سے ماخوذ ہے : قامت السوق (بازار کھل گیا) یہ فقرہ اس وقت کہا جاتا ہے جب بازار کے لوگ بازار پہنچ جائیں۔ اس صورت میں آیت کے معنی ہوں گے کہ دوسرے تمام کام کاج چھوڑ کر نماز میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اسی مفہوم میں : قد قامت الصلوۃ (نماز کھڑی ہوگئی) کا فقرہ بھی ہے۔ سطور بالا میں اقامت صلوۃ کے جو مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں ان کے متعلق یہ کہنا جائز ہے کہ وہ سب کے سب آیت کی مراد بن سکتے ہیں۔ قول باری : ومما رزقنھم ینفقون خطاب کے اندر اور اس کے سیاق و سباق ہیں اس بات پر دلالت موجود ہے کہ انفاق سے مراد فرض شدہ انفاق ہے۔ یہ وہ مالی حقوق ہیں جو اللہ کے لئے واجب ہیں، یعنی زکوۃ وغیرہ کیونکہ قول باری ہے : وانفقوا مما رزقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت اور ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرو، قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے) نیز : والذین یکنرون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ (اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے رہتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے) اس بات کی دلیل کہ انفاق سے مراد فرض شدہ انفاق ہے ، یہ ہے کہ اللہ سبحانہ، نے اس کا ذکر فرض نماز اور اللہ اور اس کی کتاب پر ایمان کے ذکر کے ساتھ مقرون کردیا ہے اور اس انفاق کو تقویٰ کی شرائط اور اس کے اوصاف میں شمار کیا ہے۔ زیر بحث آیت میں مذکورہ صلوۃ اور انفاق سے فرض نماز اور زکوۃ مراد ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ لفظ صلوۃ جب کسی وصف یا شرط کے ساتھ مقید ہوئے بغیر علی الاطلاق مذکور ہو تو یہ فرض نمازوں کا مقتضی ہوتا ہے۔ مثلاً قول باری ہے : اقم الصلوۃ لدنوک الشمس (سورج ڈھلنے پر نماز قائم کرو) نیز حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی (نمازوں کی نیز درمیانی نماز کی محافظت کرو) اور اسی طرح کی دیگر آیات۔ جب لفظ صلوۃ کے اطلاق سے فرض نماز مراد ہوگئی تو اس سے یہ دلالت بھی حاصل ہوگئی کہ انفاق سے مراد وہ انفاق ہے جو متعین پر فرض کردیا گیا ہے ۔ جب متقین کی اس بنا پر تعریف کی گئی کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے رزق سے خرچ کرتے ہیں تو اس سے یہ دلالت بھی حاصل ہوگئی کہ رزق کے اسم کا اطلاق صرف مباح، یعنی حلال رزق کو شامل ہے۔ محظور یعنی حرام مال کو شامل نہیں ہے۔ یعنی اگر ایک شخص کسی کا مال غصب کرلے یا ازراہ ظلم اس کا مال ہتھیا لے تو اس صورت میں یہ نہیں کہ اجائے گا کہ یہ رزق اللہ نے اسے دیا ہے ۔ کیونکہ اگر مذکورہ مال اس شخص کے لئے رزق من اللہ ہوتا تو اس کے لئے یہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اس کا صدقہ کرنا اور اس کے ذریعے قرب الٰہی حاصل کرنا جائز ہوتا، جبکہ اہل اسلام کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ غاصب کے لئے غصب شدہ مال صدقہ کرنے کی ممانعت ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔” غلول یعنی مال غنیمت سے چرائے ہوئے مال کا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ “ لغت میں رزق حصے کو کہتے ہیں : چناچہ ارشاد باری ہے : وتجعلون رزقکم انکم تکذبون (اور تم نے اپنا حصہ یہ بنا لیا ہے کہ تم تکذیب کرتے ہو) یعنی دعوت اسلام کے اندر تمہارا حصہ یہ ہے کہ تم اسے جھٹلاتے رہتے ہو۔ ایک شخص کا حصہ وہ چیز ہے جو خالص اس کی ہو اور اس میں اس کا کوئی شریک نہ ہو۔ اسے نصیب بھی کہتے ہیں، تاہم اس مقام پر اس سے مراد وہ پاکیزہ اور مباح چیزیں ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو عنایت کی ہیں۔ رزق کا ایک مفہوم اور بھی ہے اور وہ جانداروں کے لئے اللہ کی پیدا کی ہوئی غذائیں ہیں ان غذائوں کی طرف بھی رزق کی اضافت درست ہے۔ کیونکہ اللہ نے انہیں جانداروں کی خوراک بنایا ہے۔
Ayahs 2:4–8

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور جو کتاب (اے محمد) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے، وہ ایمان نہیں لانے کے

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے، اور انکے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے

اللہ تعالیٰ نے منافقین کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ان کے متعلق خبر دی ہے کہ وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ ان کا عقیدہ ایمان کا نہیں ہوتا اور اپنے بھائی بندوں یعنی شیاطین کے سامنے کفر کا اظہار کرتے ہیں، چناچہ ارشاد ہے : ومن الناس من یقول امنا باللہ والیوم الاخروما ھم بمئومنین (اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں) نیز : یخادعون اللہ والذین امنوا (وہ اللہ اور اہل ایمان کو دھوکا دیتے ہیں) تاقول باری : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا واذا خلوا الی شیاطینھم قالوا انا معکم انما نحن مستھزئون (اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لے آئے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب اپنے شیطانوں کے ساتھ تنہا رہ جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان لوگوں کے ساتھ محض مذاق کر رہے ہیں) اس آیت سے ایسے زندیق کی تو یہ تسلیم کرلینے پر استدلال کیا جاتا ہے جس کے افعال و اقوال سے اس کے چھپے ہوئے کفر کا پتہ چلا ہو ۔ لیکن پھر اس نے ایمان کا اظہار کیا ہو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے چھپے ہوئے کفر کی خبر دے کر انہیں قتل کردینے کا حکم نہیں دیا، بلکہ حضور ﷺ کو ان کا ظاہر قبول کرلینے کا امر فرمایا اور ان کا باطن، نیز ان کے عقیدے کی خرابی کا معاملہ جس کا علم اللہ کو تھا اللہ کے حوالے کردینے کا حکم دیا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ زیر بحث آیات کا نزول قتال کی فرضیت کے بعد ہوا تھا کیونکہ یہ آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تھیں اور مشرکین سے قتال کی فرضیت ہجرت کے بعد ہی ہوگئی تھی۔ ان آیات کے نظائر سورة برأت اور سورة محمد (ﷺ ) نیز دیگر سورتوں میں موجود ہیں جہاں منافقین کا ذکر کر کے ان کا ظاہر قبول کرلینے اور انہیں ان تمام مشرکین کے احکام پر محمول نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن کے ساتھ ہمیں قتال کرنے کا حکم ملا ہے۔ جب ہم ان نظائر کی تفسیر پر پہنچیں گے تو وہاں ان کے احکام بھی بیان کریں گے اور زندیق (بےدین اور باطنی طور پر کافر ) کے بارے میں اہل علم کے اختلاف اور ان کے استدلال کا ذکر بھی کریں گے۔ ایک شخص کے ظاہر کو قبول کرلینے کی بات حضور ﷺ کے اس ارشاد سے واضح ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ دیں، یعنی کلمہ توحید کا اقرار نہ کرلیں۔ جب وہ یہ کہہ دیں گے تو وہ مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے اموال محفوظ کرلیں گے۔ البتہ کسی حق کے بدلے ان کی جان اور مال پر گرفت ہو سکے گی اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ “ حضرت اسامہ ایک جنگ کے اندر کسی شخص پر نیزے سے حملہ آور ہوئے۔ اس شخص نے لا الہ الا اللہ کا کلمہ پڑھا، لیکن اس کے باوجود حضرت اسامہ نے اسے قتل کر دای۔ جب حضور ﷺ کو اس بات کی اطلاع لمی تو آپ ﷺ نے حضرت اسامہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا ؟ ‘ یعنی ایسے شخص کو اس کے ظاہر پر حمول کرنا چاہیے تھا اور اس کے باطن کو نظر انداز کردینا چاہیے تھا کہ باطن کا حال جاننے کے لئے ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری : ومن الناس من یقول امنا باللہ والیوم الاخر وما ھم بمئومنین۔ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اعتقاد کے بغیر اقرار کا نام ایمان نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اقرار بالا یمان کی خبر دے کر : وما ھم بمئومنین کے ذریعے ان سے ایمان کی علامت کی نفی کردی۔ مجاہد سے مروی ہے کہ سورة بقرہ کی ابتدا میں چار آیتیں اہل ایمان کی تعریف میں ہیں، دو آیتیں کافروں کے بارے میں ہیں اور تیرہ آیتیں منافقین کے متعلق ہیں۔ نفاق ایک شرعی اسم ہے اور اسے ان لوگوں کی علامت قرار دیا گیا ہے جو ایمان کا اظہار کرتے اور کفر چھپائے رکھتے ہیں۔ اس اسم کے ساتھ منافقین کو اس بنا پر مخصوص کردیا گیا ہے تاکہ نفاق کے معنی اور اس کے حکم پر دلالت ہو سکے ۔ خواہ حقیقت کے اعتبار سے یہ مشرکین کیوں نہ ہوں اس لئے کہ یہ لوگ شرک کا کھلم کھلا اظہار کرنے والوں سے احکام کے اندر مختلف تھے۔ لغت میں لفظ نفاق :” نا فقاء الیربوع (جنگلی چوہے کے پوشیدہ بلوں میں سے ایک بل) سے ماخوذ ہے جب شکاری جنگلی چوہے کو پکڑنا چاہتا ہے تو وہ ایک بل میں داخل ہو کر شکاری کو جل دے کر دوسرے بل سے نکل بھاگتا ہے ۔
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

یہ خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کا چکما نہیں دیتے اور اس سے بیخبر ہیں

قول باری : یخد عون اللہ والذین امنوا لغت کے اعتبار سے مجاز ہے۔ اس لئے خدیعہ کے اصل معنی اخفاء کے ہیں۔ منافق دوسروں کو دھوکا دینے کے لئے اشتراک ، یعنی شرک کو چھپائے رکھتا اور دھوکے اور ملمع کاری کے طور پر ایمان کا اظہار کرتا ہے لیکن اللہ کی نظروں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی اور نہ ہی حقیقت میں اسے دھوکا دیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو خداع کی صفت بد سے موصوف کیا ہے ان کا معاملہ دو میں سے ایک حال سے خالی نہیں ہے۔ یا تو وہ اللہ کی معرفت رکھتے تھے اور یہ جانتے تھے کہ اپنے عقائد پر پردہ ڈال کر وہ اللہ کو کسی طرح دھوکا نہیں دے سکتے یا انہیں اس کی معرفت نہیں تھی۔ یہ بات ذرا بعید ہے کیونکہ یہ کہنا درست نہیں ہے معرفت کے بغیر دھوکا دہی کا قصد کیا جاسکتا ہے، تاہم اللہ تعالیٰ نے ان پر لفظ خداع کا اطلاق اس وجہ سے کیا ہے کہ انہوں نے دھوکا دینے والے شخص جیسا کردار ادا کیا تھا اور دھوکا دہی کا وبال خود ان پر آپڑا تھا۔ اس طرح گویا وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے تھے۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کو دھوکا دیتے ہیں۔ حضور ﷺ کا ذکر حذف کردیا گیا ہے جس طرح قول باری : ان الذین یوذون اللہ ورسولہ (جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں) میں مراد یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دوستوں کو ایذا دیتے ہیں۔ مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی اختیار کی جائے وہ مجاز پر مبنی ہوگی، حقیقت نہیں ہوگی اور اس کا استعمال صرف ایسے مقام پر جائز ہوگا جہاں اس پر دلیل چسپاں ہوجائے گی۔ ان منافقین نے حضور ﷺ کو صرف تقیہ کے طور پر دھوکا دینے کی کوشش کی تھی تاکہ ان سے تمام مشرکین کے احاکم ٹل جائیں جن کے تحت حضور ﷺ اور الہ ایمان کو انہیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا یہ بھی ممکن ہے کہ منافقین نے اہل ایمان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار اس بنا پر کیا تھا کہ ان کے ساتھ اسی طرح کے دوستانہ مراسم پیدا کرسکیں جس طرح کے مراسم مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رکھتے تھے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ مسلمانوں کے سامنے منافقین کے اظہار ایمان کا مقصد یہ ہو کہ مسلمان اپنے راز ان کے سامنے کھول دیں اور پھر وہ یہ راز مسلمانوں کے دشمنوں تک پہنچا دیں۔ اسی طرح قول باری : اللہ یستھزی بھم (اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے) بھی مجاز ہے۔ اس بارے میں کئی اور اقوال بھی ہیں۔ ایک قول کے مطابق یہ بات کلام کا مقابلہ اس جیسے کلام کے ساتھ کرنے کی جہت سے کہی گئی ہے، اگرچہ وہ اس کے ہم معنی نہیں ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا (اور برائی کا بدلہ اس جیسی برائی ہے) یہاں دوسرا سیئہ حقیقت میں سیئہ نہیں ہے، بلکہ حسنہ، یعنی نیکی ہے، لیکن جب اس کے بالمقابل سیئہ کا ذکر ہو تو اس پر بھی سیئہ کا اسم جاری کردیا گیا : اسیطرح قول باری ہے : فمن اعتدی علیکم فاعتدواعلیہ بمثل ما اعتدی علکیم (جو شخص تمہارے ساتھ زیادتی کرے تم بھی اس کے ساتھ اس جیسی زیادتی کے ساتھ پیش آئو) یہاں مذکورہ دوسری زیادتی حقیقت میں زیادتی نہیں۔ اسی طرح یہ قول باری ہے : اور اگر تم سزا دو تو اتنی ہی سزا دو جتنی سزا تمہیں دی گئی ہے) یہاں مذکورہ پہلی سزا حقیقت میں سزا نہیں ہے، بلکہ ایک لفظ کے بالمقابل اس جیسا لفظ ذکر ہوا ہے اور الفاظ میں یکسانیت پیدا کی گئی ہے عرب کے لوگ کہتے ہیں : اجلزاء بالجزاء (ادلے کا بدلہ) حالانکہ پہلی جزا حقیقت میں جزا نہیں ہے، بلکہ بدلہ ہے۔ شاعر کا درج ذیل شعر بھی اسی کیفیت کا حامل ہے۔ الا لا یجھلن احد علینا فنجھل قوق جھل الجھاھلینا (خبر دار ہمارے سامنے کوئی شخص اپنی جاہلانہ روش کا مظاہرہ نہ کرے ورنہ ہم اس کے جواب میں جاہلوں کی تمام جاہلانہ روشوں سے آگے نکل جائیں گے) یہاں یہ بات واضح ہے کہ شاعر اپنی جاہلانہ روش کی تعریف نہیں کر رہا ہے، بلکہ عرف اور محاورے کے مطابق کلام میں الفاظ کے درمیان تقابل پیدا کر رہا ہے۔ ایک قول کے مطابق زیر بحث آیت میں اللہ تعالیٰ نے تشبیہ کے طور پر استہزاء کے لفظ کا اطلاق کیا ہے، وہ اس طرح کہ جب استہزاء کا وبال ان منافقین پر پڑنے والا اور انہیں لاحق ہونے والا تھا تو گویا اللہ نے ان کا مذاق بنادیا۔ ایک اور قول کے مطابق جب منافقین ک دنیا میں مہلت مل گئی اور مشرکین کی طرح انہیں سزا دے کر اور ان کی گردنیں ناپ کر ان کا دماغ درست نہیں کیا گیا، بلکہ سزا مئوخر کردی گئی، تو اس مہلت سے یہ دھوکا کھا گگئے اور ان کی حالت اس شخص جیسی ہوگئی جس کے ساتھ مذاق کیا گیا ہو۔
Ayah 2:10

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا خدا نے انکا مرض اور زیادہ کردیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

دنیاوی سزائیں جرائم کے مطابق نہیں ہوتیں منافقین کی مجرمانہ روش کفر کا کھلم کھلا اظہار کرنے والے کافروں کی مجرمانہ روش سے زیادہ سنگین تھی کیونکہ انہوں نے استہزاء اور دھوکہ وہی دونوں کو یک جا کرلیا تھا، جیسا کہ قول باری : یخادعون اللہ اور انما نحن مستھزون سے واضح ہے۔ یہ بات کفر میں زیادتی ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ : فی الدرک الاسفل من النار (جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے منافقین کی سزا اور آخرت میں عذاب کے استحقاق کی خبر دیتے ہوئے دنیا میں ان کے احکام اور شرک کا کھلم کھلا اظہار کرنے والوں کے احکام کے درمیان فرق رکھا ہے، یعنی ان کی طرف سے ایمان کے اظہار کی بنا پر ان سے قتل کا حکم رفع کردیا ہے اور وراثت وغیرہ کے اندر انہیں مسلمانوں جیسا قرار دیا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دنیاوی سزائیں جرائم کی مقدار کے مطابق نہیں مقرر کی گئیں، بلکہ ان کی بنیاد ان مصالح پر رکھی گئی ہے جن کا علم اللہ کو ہے ۔ اور اسی علم کی بنیاد پر اللہ نے اپنے احکام جاری کئے ہیں، چناچہ اللہ نے محض زانی پر رجم کی سزا واجب کردی ہے اور توبہ کی بنا پر رجم کی یہ سزا زانی سے دور نہیں کی۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ماعز کو رجم کرنے کے بعد حضور ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا : اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ یہ تو بہ ٹیکس اور چنگی وصول کرنے والا کرے تو اس کی بخشش ہوجائے۔ الغا مدیہ قبیلہ غامد سے تعلق رکھنے والی ایک عورت جس نے زنا کاری کا ارتکاب کیا تھا کو رجم کرنے کے بعد بھی آپ ﷺ نے اسی طرح ارشاد فرمایا تھا۔ کفر زنا سے زیادہ سنگین جرم ہے۔ لیکن اگر ایک شخص کفر کرنے کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہوجائے گی، چناچہ ارشاد باری ہے : قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلھم ماسلف ) (آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے کفر کیا کہ اگر وہ باز آ جائیں تو ان کا سابقہ کفرکومعاف کردیا جائے گا۔ ) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے زنا کے قاذف کو اسی کوڑے لگانے کا حکم دیا، لیکن کفر کے قاذف پر کوئی حد اور سزا واجب نہیں کی، حالانکہ کفر زنا سے زیادہ سنگین جرم ہے۔ شراب پینے والے پر حد واجب کردی، لیکن خون پینے والے اور مردار کھانے الے پر کوئی حد واجب نہیں کی۔ ان مثالوں سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دنیاوی سزائیں جرائم کی مقدار کے مطابق مقرر نہیں کی گئیں۔ جب یہ بات عقل کے نزدیک جائز ہے کہ زنا، قذف اور سرقہ کے جرائم میں سرے سے کوئی حدواجب نہ کی جائے، بلکہ ایسے مجرموں کا معاملہ آخرت میں ملنے والی سزائوں پر مئوخر کردیا جائے تو عقلی طور پر یہ بھی جائز ہے کہ ان سزائوں کے مابین فرق رکھا جائے، یعنی بعض جرائم کی سزا بعض دوسرے جرائم کی نسبت زیادہ سخت رکھی جائے۔ اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ حدود کا اثبات قیاس کے ذریعے کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ ان کے اثبات کا ذریعہ توقیف ، اشارع کی طرف سے راہنمائی) یا اجماع امت ہے، زیر بحث آیات میں اللہ سبحانہ نے منافقین کا احوال بیان کر کے انہیں ان کی حالت پر برقرار رہنے دیا اور ہمیں ان کے ساتھ قتال کرنے کا حکم نہیں دیا۔ یہی چیز ہمارے درج بالا قول کی اصل اور بنیاد ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ کی واجب کردہ حدود اور سزائوں کا نفاذ امام المسلمین، یعنی خلیفہ اور حاکم وقت نیز شرعی امور کے نگرانوں کا فعل ہوتا ہے۔ اس لئے ان کی حیثیت وہی ہوتی ہے جو ان آلام و تکالیف کی ہے جو اللہ کی طرف سے مجرموں کو سزا کے طور پر دی جاتی ہیں۔ جب یہ بات ممکن ہے کہ ایک منافق کو دنیا کے اندر بیماری اور فقر و فاقہ کی صورت میں کوئی سزا نہ ملے، بلکہ اس کے برعکس اس کے لئے عیش و آرام کے ساتھ زندگی گزارنے کی چھوٹ ہو اور اس کے کفر و نفاق کی زسا کو آخرت پر مئوخر کردیا جائے، تو یہ بات بھی جائز ہے کہ اللہ ہمیں دنیا کے اندر منافق کو قتل کردینے اور اس کے کفر و نفاق کی سزا میں تجیل کرنے کے حکم کا پابند نہ کرے۔ بعثت کے بعد حضور ﷺ نے تیرہ سال مکہ میں گزارے اور اس دوران میں آپ مشرکین کو اللہ کی طرف بلاتے رہے اور اس کے پیغمبروں کی تصدیق کی دعوت دیتے رہے لیکن آپ ﷺ کو مشرکین کے ساتھ قتال کرنے کا پابند نہیں کیا گیا، بلکہ آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ نرم ترین الفاظ اور لطیف ترین پیرائے میں انہیں دعوت اسلام دیں، چناچہ ارشاد ہوا : ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتیھی احسن صاے نبی، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو) نیز : واذا خاطبھم الجاھدن قالو اسلاماً (اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام) نیز : ادفع بالتیھی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم و ما یکفا ھا الا الذین صبروا وما یلقاھا الا ذوحظ عظیم۔ (آپ بدی کو ایسی نیکی سے ٹال دیا کیجیے جو بہترین ہو تو پھر یہ ہوگا کہ جس شخص کی آپ سے عداوت ہے وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے اور یہ بات ان ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کرتے رہتے ہیں اور اسی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑا صاحب نصیب ہوتا ہے) اسی طرح کی دیگر آیات جن میں بہترین انداز سے دین کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہجرت کے بعد قتال کی فرضیت ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اس مصلحت کا علم تھا جس کے تحت اس نے مکی زندگی میں قتال کا حکم نہیں دیا اور مدنی زندگی میں اس کا حکم دے دیا۔ چناچہ ہمارے بیان کردہ درج بالا اصول کی بنا پر یہ بات جائز ہوگئی کہ قتل و قتال کا حکم بعض قسم کے کافروں یعنی کھلم کھلا کفر کا اظہار کرنے والوں کے ساتھ خاص ہوجائے اور اس حکم کا تعلق ان لوگوں کے ساتھ نہ ہو جو ایمان کا اظہار کرتے اور کفر چھپائے رکھتے ہیں اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے منافق کا جرم دیگر مجرموں کے جرائم سے بڑھ کر ہے۔
Ayahs 2:11–22

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

دیکھو ! یہ بلاشبہ مفسد ہیں لیکن خبر نہیں رکھتے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں کہ بھلا جس طرح بیوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں ؟ سن لو کہ یہی بیوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم (پیروان محمد سے) تو ہنسی کیا کرتے ہیں

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیے جاتا ہے کہ شرارت و سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے (شب تاریک میں) آگ جلائی، جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان لوگوں کی روشنی زائل کردی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

(یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے راستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا ہو) اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور خدا کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے، جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہوجاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر خدا چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کردیتا، بلاشبہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کیلئے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ اور تم جانتے تو ہو

قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے نہ بیٹھنے کی قسم کھا کر دھوپ میں بیٹھ جائے تو وہ حانث قرار نہیں پائے گا اس لئے کہ قسموں کو ان اسماء پر محمول کیا جاتا ہے جو معتاد و متعارف ہوں۔ عرف کے اندر فراش اور سراج کے الفاظ کا اطلاق زمین اور سورج پر نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے اللہ سبحانہ نے اپنے منکر کو کافر کا نام دیا ہے۔ اسی طرح زارع یعنی کاشتکار کو نیز غرق، آہن شخص کو کافر کہا اجتا ہے۔ کافر کا یہ اسم علی الاطلاق مذکورہ بالا دونوں افراد کو شامل نہیں ہوتا، بلکہ اللہ کا کفر کرنے والے کو شامل ہوتا ہے۔ ایسے مطلق اور مقید اسماء کی مثالیں بہت زیادہ ہیں اور بہت سے احکام میں ان کا اعتبار واجب ہوتا ہے، یعنی عرف اور عادت کے اندر جو لفظ مطلق ہو اسے اس کے اطلاق پر رکھا جائے اور جو عقید ہوا سے اس کی تقیید پر برقرار رہنے دیا جائے۔ کسی لفظ کو اس کے اصل مقام سے آگے نہ لے جایا جائے۔ زیر بحث آیت میں اللہ کی وحدانیت پر نیز ایسے صانع اور قادر مطلق پر دلالت موجود ہے جس کے مشابہ کوئی چیز نہیں اور جسے کوئی چیز عاجز اور درماندہ نہیں کرسکتی۔ یہ دلالت آسمانوں کی بلندی، ستونوں کے بغیر ان کے قیام اور مردر ایام کے باوجود ان کے دوام کی شکل میں موجود ہے۔ زمانہ ہائے دراز گزر جانے کے باوجود آسمان اپنی جگہ قائم ہیں اور ان میں کوئی تغیر و تبدل پیدا نہیں ہوا، قول باری ہے : وجعلنا لسمآء سفقاً محفوظاً (اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت کی شکل دے دی) اسی طرح زمین کا ثبات اور کسی سہارے کے بغیر اس کا قیام توحید باری اور خالق کائنات کی قدرت کے عظیم ترین دلائل میں سے ہیں جن سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کوئی چیز اللہ کو عاجز نہیں کرسکتی۔ زمین و آسمان کے اس کارخانے میں ہمارے لئے اس کی ذات سے آگاہ ہونے، اس کی ذات پر ان سے استدلال کرنے اور اس کی نعمتوں کی یاد دہانی کے تمام اسباب موجود ہیں۔ قول باری : فاخر جبہ من الثمرات رزقا لکم (اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق پہنچایا) اس قول باری : ھو الذی خلق لکم ما فی فی الارض جمیعاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں) نیز : وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض (اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اس نے اسے تمہارے لئے مسخر کردیا) نیز : قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لبعادہ و الطیبات من الرزق صاے محمد، ان سے کہو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں) کی نظیر ہے۔ ان تمام آیات سے اس بارے میں استدلال کیا جاتا ہے کہ اشیاء کی اصل اباحت ہے اور ان میں سے کوئی چیز صرف اس وقت حرام ہوگی جب اس کے متعلق حرمت کی دلیل قائم ہوجائے گی۔
Ayah 2:23

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمد عربی ﷺ پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اس طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو

قول باری ہے : وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ وادعوا شھدآء کم من دون اللہ ان کنتم صدقین (اور اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، یہ ہماری ہے یا نہیں، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لائو، اپنے سارے ہمنوائوں کو بلالو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو، اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھائو۔ ) اس آیت میں کئی وجوہ سے حضور ﷺ کی نبوت کی صحت کی سب سے بڑی دلالت موجود ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اللہ نے مخاطبین کو اس جیسی ایک سورت پیش کرنے کا چیلنج کردیا اور پھر ببانگ دہل یہ اعلان کردیا کہ اپنی حمیت اور فخر و غرور کے باوجود وہ ایسا کرنے سے عاجز ہیں، حالانکہ اس کتاب کی زبان دہی ہے جو ان کی اپنی زبان ہے اور حضور ﷺ نے ان کے اندر ہی پیدا ہو کر عربی زبان سیکھی تھی، لیکن اس چیلنج کا جواب دینے کے لئے ان کا نہ تو کوئی خطیب میدان میں آیا اور نہ ہی کسی شاعر نے یہ تکلیف اٹھائی حالانکہ ان لوگوں نے حضور ﷺ کی دعوت اسلام کو کمزور کرنے اور آپ کے پیش کردہ دلائل کو باطل قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا اور اپنی جان اور اپنا مال صرف کیا تھا۔ اگر یہ لوگ مذکورہ چیلنج قبول کر کے میدان میں آ جاتے اور کتاب اللہ کا مقابلہ کرنے کی قدرت حاصل کرلیتے تو ان کی یہ کارکردگی حضور ﷺ کے دعوائے نبوت کو باطل کرنے اور آپ ﷺ کے رفقاء کی طرف سے آپ کا ساتھ چھوڑ جانے کے لئے موثر ترین حربہ ہوتی، لیکن جب مقابلہ میں آنے سے ان کی عاجزی واضح ہوگئی تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ یہ کتاب اللہ قادر مطلق کی طرف سے آپ پر نازل ہوئی ہے اور اس جیسی کتاب پیش کرنا بندوں کے بس سے باہر ہے۔ مقابلہ میں آنے کی بجائے انہوں نے زیادہ سے زیادہ یہی عذر پیش کردیا کہ یہ جادو ہے اور اگلے لوگوں کی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا : فلیا توا بحدیث مثلہ ان کانوا صدقین (تو پھر یہ لوگ اس جیسی کوئی بات ہی پیش کردیں، اگر یہ سچے ہیں) نیز فرمایا : فاتوا بعشر سور مثلہ مفتریان (تو اس جیسی دس سورتیں ہی گھڑ کر پیش کر دو ) اس صورت میں اللہ سبحانہ نے انہیں نظم قرآنی کے ساتھ چیلنج کیا، معنی کے ساتھ چیلنج نہیں کیا اور ان کی عاجزی اور درماندگی بھی واضح کردی۔ اس طرح یہ کتاب ہمارے نبی کریم ﷺ کے ایک معجزے کے طور پر قیامت تک کے لئے باقی رہ گئی اور اس کے ذریعے اللہ نے حضور ﷺ کی نبوت اور اس کی بنیاد پر آپ ﷺ کی فضیلت کو واضح کردیا، اس لئے کہ دیگر تمام انبیاء کے معجزات ان کے گزر جانے کے ساتھ ہی ختم ہوگئے اور اب صرف خبر کے واسطے سے ہمیں ان کا معجزات ہونا معلمو ہوتا ہے، لیکن حضور ﷺ یہ معجزہ دنیا سے آپ ﷺ کے رخصت ہوجانے کے بعد بھی باقی اور قائم ہے۔ اور آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی اس معجزے پر اعتراض کرے گا ہم اسے یہی چیلنج دیں گے کہ اس جیسی کتاب پیش کرو، اور پھر اسے پتہ لگ جائے گا کہ آپ کی نبوت کی تثبیت کے لئے اس کتاب میں دلالت کے کون کون سے پہلو ہیں۔ جس طرح یہی صورت ان لوگوں کے لئے تھی جو آپ کے زمانے میں موجود تھے۔ ان پر بھی اسی طرح کی حجت قائم ہوگئی تھی اور انہیں لاجواب کردیا گیا تھا۔ حضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والے اور آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کرنے والے دونوں کو یہ معلوم ہے کہ آپ ﷺ تمام انسانوں میں عقل و دانش کے اعتبار سے کامل ترین، حلم و بردباری کے لحاظ سے اکمل ترین اور فہم و فراست میں افضل ترین انسان تھے۔ کسی نے بھی آپ کی دانائی کے کمال، آپ ﷺ کی برد باری کے وفور، آپ ﷺ کی معاملہ فہمی کی صحت اور آپ ﷺ کی رائے کی عمدگی پر انگشت نمائی نہیں کی اور یہ بات ناممکن ہے کہ آپ ﷺ جیسی صفات رکھنے والا انسان ایک طرف یہ دعویٰ کرے کہ وہ اللہ کا نبی ہے جسے اس نے اپنی تمام مخلوقات کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے ، پھر اپنے کلام کو اس کی نبوت کی علامت اور اس کی صداقت کی دلیل بنا کر مخالفین کو اس کے ذریعہ چیلنج دے کر وہ اس جیسا کوئی کلام پیش کریں۔ جبک ہیہ بات عیاں ہو کر مخالفین میں سے ہر شخص اس کی طرح اہل زبان ہے اور پھر دوسری طرف اس کا کذب اور اس کے دعوے کا بطلان ظاہر ہوجائے۔ یہ کیفیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے مذکورہ کلام کے ذریعے مخالفین کو چیلنج کر کے بیانگ دہل ان کے عجز کا صرف اس لئے اعلان کردیا کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے آپ ﷺ پر نازل ہوا تھا اور بندوں کو اس جیسا کلام پیش کرنے کی قدرت نہیں تھی۔ اسی سیاق تلاوت میں قول باری ہے : فان لم تفعلوا ولن تفعلوا (لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا اور یقینا کبھی نہیں کرسکتے) ان الفاظ کے ذریعے اللہ نے یہ خبر دے دی کہ مخالفین اس کلام کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور وہ آئندہ بھی ایسا نہیں کرسکیں گے۔ یہ اخبار بالغیب ہے اور نفس الامر میں بھی یہ خبر اسی طرح پائی گئی جس طرح دی گئی تھی۔ اس آیت کا تعلق اعجاز نظم قرآنی سے نہیں ہے، بلکہ یہ حضور ﷺ کی نبوت کو سچا ثابت کرنے کے سلسلے میں بذاتہ ایک مستقل دلیل ہے، کیونکہ یہ اخبار بالغیب ہے جس طرح مثلاً آپ ﷺ مخالفین سے یہ فرماتے کہ میرے قول کی صحت کی دلیل یہ ہے کہ تم سب اپنے اعضا و جوارح کی صحت اور سلامتی کے باوجود تم میں سے کوئی شخص نہ اپنے سر کو ہاتھ لگا سکتا ہے اور نہ ہی اپنی جگہ سے کھڑا ہوسکتا ہے۔ “ پھر اعضا و جوارح کی صحت و سلامتی کے باوجود ان میں سے کوئی شخص نہ تو اپنے سر کو ہاتھ لگا سکے اور نہ ہی اپنی جگہ سے کھڑا ہو سکے، جبکہ ان کی طرسے آپ ﷺ کے اس چیلنج کو جھٹلانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا جائے۔ تو آپ کا یہ قول آپ ﷺ کی صحت کی دلیل بن جاتی، کیونکہ ایسی صورت میں مخالفین کا مذکورہ کام سر انجام دینے سے عاجز رہنا صرف اس بنا پر ہوتا کہ آپ نے انہیں یہ بات اس قادر اور حکیم ذات کی طرف سے کہی تھی جس نے مذکورہ حالت کے اندر مخالفین کو اس کام سے روک دیا تھا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اللہ نے جن و انس تمام مخلوق کو چیلنج کیا تھا کہ وہ سب مل کر بھی قرآن جیسی کتاب پیش کرنے سے عاجز ہیں، چناچہ ارشاد ہوا : قل لمئن اجتمعت الانس والجن علی ان یا نوا بمثل ھذا القرآن لا یساتون بمثلہ ولوکان یعضھم لبعض ظھیراً (کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) پھر جب ان کی ناکامی واضح ہوگئی تو ارشاد ہوا : قالوا بعشر سور مثلہ مفتریات (اس جیسی دس سورتیں گھڑ کرلے آئو) جب وہ اس میں بھی ناکام رہے تو فرمایا :(فلیاتوا بحدیث مثلہ ان کانوا صادقین (اس جیسی کوئی ایک بات بھی پیش کردیں اگر وہ سچے ہیں) اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآن کی چھوٹی سے چھوٹی سورت جیسی کوئی سورت پیش کرنے کا چیلنج دیا، پھ رجب ان کی ناکامی عیاں ہوگئی اور ان پر حجت قائم ہوگئی اور دوسری طرف ان مخالفین نے دلیل کا مقابلہ دلیل سے کرنے سے گریز کرتے ہوئے جنگ کے ذریعے غلبہ حاصل کرنے کی ٹھان لی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا۔ قول باری ہے : وادعوا شھداء کم من دون اللہ کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کے اصنام کو باطل ثابت کیا جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ ان کے یہ اصنام اللہ کے ہاں ان کے شفیع بنیں گے۔ ایک قول کے مطابق آیت میں مراد وہ تمام لوگ ہیں جو ان مخالفین کی تصدیق کرتے اور ان کے ہم رائے تھے۔ اور اس کے ساتھ یہ واضح کردیا کہ یہ سب کے سب اجتماعی اور انفرادی طور پر مذکورہ چیلنج کا جواب دینے میں ناکام رہے۔ یہی بات اس قول باری سے بھی واضح ہے : لئن اجتمعت الانس و الجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ ولوکان بعضھم لبعض ظھیراً ۔ سورئہ فاتحہ کی ابتدا سے لے کر سورة بقرہ کے اس مقام تک جہاں ہم اب پہنچے ہیں درج ذیل مضامین بیان ہوئے ہیں۔ اللہ کے نام سے ابتدا کرنے کا حکم، اللہ کی حمد و ثنا کے طریقے کی تعلیم، ہدایت کے اس راستے پر چلنے اور اس کی طرف راغب ہونے کی دعا جو راستہ ہمیں اس کی معرفت اور اس کی نجت اور رضا مندی کی سمت لے جائے اور اس راستے سے بچانے کی التجا جو اس کے غصب کے مستحقین نیز اس کی ذات کی معرفت اور اس کی نعمت کے شکر سے بھٹک جانے والوں کا اختیار کردہ راستہ ہے ۔ پھر سورة بقرہ کی ابتدا اہل ایمان کے ذکر سے کی گئی، بعدازاں کافروں کا ذکر وہا اور پھر منافقین کا تذکرہ اور پھر دو مثالوں کے ذریعے ان منافقین کی اصل صورت حال کو ہمارے ذہنوں سے قریب تر کردیا گیا۔ ان کے متعلق پہلی مثال ایسے شخص کی حالت کے ذریعے بیان ہوئی جس سے آگ جلائی ہو اور دوسری مثال اس بجلی کے ذریعے بیان ہوئی جو تاریکیوں میں چمکتی ہے، لیکن چمک کر فوراً ختم ہوجاتی ہے۔ ٹھہرتی نہیں یہ دراصل منافقین کے اظہار ایمان کی مثال ہے جبکہ دوسری طرف ان کا کفر پر ثبات ہوتا ہے اور وہ اس کفر ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کی یہ کیفیت رات کی اس تاریکی اور بارش کی طرح ہے جس کے درمیان بجلی چمکتی اور ان کے سامنے روشنی ہوجاتی ہے پھر یہ روشنی غائب ہوجاتی ہے اور یہ لوگ حسب سابق اندھیروں میں بھٹکتے رہ جاتے ہیں اور انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ منافقین کا ذکر ختم کرنے کے بعد اللہ نے توحید پر ایسی دلالت قائم کرنے کا ذکر کیا جسے جھٹلانا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ یہ کہ اللہ نے زمین کو پھیلا دیا اور اسے لوگوں کا ٹھکانہ بنادیا اور سب کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقعہ فراہم کردیا۔ نیز زمین سے ان سب کے گزارے کے اسباب، ان کی غذا اور ان کے لئے فائدے کے دیگر ذرائع پیدا کردیئے نیز یہ کہ اس نے اس زمین کو کسی سہارے اور ٹیک کے بغیر قائم رکھا ہے اس لئے کہ زمین کا حادث ہونا ثابت ہے۔ اس لئے اس کی کوئی نہ کوئی انتہا بھی ضرور ہوگی۔ زمین کو روک کر قائم رکھنے اولا اللہ ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے اور جو تمہارا بھی خالق ہے اور جس نے زمین سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق کی نعمت بہ ہم پہنچائی کیونکہ ان تمام کاموں کی قدرت صرف اسی قادر مطلق کو حاصل ہوسکتی ہے جسے کوئی چیز نہ تو عاجز کرسکتی ہو اور نہ کوئی چیز اس کے مشابہ ہو۔ اس طرح اللہ سبحانہ نے لوگوں کو ان مذکورہ دلائل سے قائل کیا ا اور انہیں اپنی ان نعمتوں سے اگٓاہی بخشی۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی نبوت پر مہر تصدیق ثبت کی۔ دلیل یہ دی کہ تمام مخالفین قرآن جیسی ایک سورت پیش کرنے سے عاجز ہیں اور اس کے بعد تمام انسانوں کو خدائے واحد کی عبادت کی دعوت دی جس نے ان پر اس قدر انعامات کئے ہیں۔ ارشاد ہوا : فلا تجعلوا اللہ انداداً وانتم تعلمون (پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مدمقابل نہ ٹھہرائو) یعنی تمہیں معلوم ہے کہ جن معبودان باطل کو تم الہ کے طور پر پکارتے ہو وہ درج بالا افعال میں سے کوئی افعال میں سے کوئی فعل سر انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز یہ کہ ان کے بجائے اللہ ہی تم پر انعام کرنے والا ہے اور وہی تمہیں پیدا کرنے والا ہے۔ قول باری : وانتم تعلمون کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تمہیں واجب اور غیر واجب کے مابین فرق کا علم ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں عقل کی وہ نعمت بخشی ہے جس کے ذریعے اس فرق تک رسائی تمہارے لئے ممکن ہے۔ اس لئے تمہیں اس کا مکلف بنانا ضروری ہوگیا کیونکہ عقل کے نزدیک اللہ کی ذات کی عدم معرفت کی کوئی گنجائش نہیں ہے جبکہ اس معرفت کے تمام اسباب مہیا کردیئے گئے ہوں اور تمام رکاوٹیں دور ک ردی گئی ہوں۔ جب اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت، نیز اس کی خالقیت کی بات دلائل کے ذریعے تمام لوگوں کے ذہنوں میں واضح کردی گئی تو وعید کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا : (وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فالقوا النار التی وقودھا الناس والحجارۃ اعدت للکفرین۔ ) (لیکن اگر ت م نے ایسا نہ کیا اور یقینا کبھی نہیں کرسکتے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لئے) اس کے بعد ان نعمتوں کا ذکر کیا جن کا وعدہ آخرت میں اہل ایمان سے کیا گیا ہے، چناچہ ارشاد ہوا : وبشر الذین امنوا وعملوا الصالحات ان لھم جنت تجری من تحتھا الانھر (اور اے اے پیغمبر، جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور اس کے مطابق اپنے عمل درست کرلیں انہیں خوشخبری دے دو کہ ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی) تاآخر آیات
Ayahs 2:24–25

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

لیکن اگر (ایسا) نہ کرسکو اور ہرگز نہیں کرسکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہونگے، (اور جو) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خوشخبری سنادو کہ ان کے لئے (نعمت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائیگا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا اور ان کو ایک دوسرے کے ہمشکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے

عقلی دلائل کے استعمال اور ان سے استدلال ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث آیات دلائل توحید اور اثبات نبوت کے ان مضامین کو متضمن ہونے کے ساتھ ساتھ جن کا ہم نے گزشتہ سطور میں ذکر کیا ہے عقلی دلائل اور ا ندلائل سے استدلال کرنے کے حکم کو بھی متضمن ہیں۔ یہ بات ان لوگوں کے مسلک کو باطل قرار دیتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مہیا کردہ دلائل سے استدلال کرنے کی نفی کرتے اور اپنے زعم میں اللہ کی معرفت کے لئے خبر اور رسول اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے علم پر اقتصار کرتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کی معرفت اور اپنے رسول ﷺ کی صداقت کی گواہی کے لئے لوگوں کو جو دعوت دی ہے اس میں صرف خبر پر اقتصار نہیں کیا ہے، بلکہ اس کی صحت پر ہماری عقول کی جہت سے بھی دلالت قائم کی ہے۔ درج بالا قول باری اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بشارت خوش کن خبر کا نام ہے اور زیادہ واضح اور اغلب بات یہی ہ کہ اس لفظ کا اطلاق ایسی خبر کو شامل ہوتا ہے جو سامع کے لئے خوش کن ہوا اور اس میں سرور کی لہر دوڑ ا دے ۔ غیر خوش کن خبر کے لئے اس لفظ کو مقید صورت میں بیان کیا جاتا ہے۔ مثلاً قول باری ہے۔ فبشرھم بعذاب الیم (انہیں ایک درد ناک عذاب کی خبر دیجیے) اسی طرح ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر ایک شخص کہے کہ ” میرا جو بھی غلام فلاں کی ولادت کی خوش خبری دے گا وہ آزاد ہے۔ “ اور پھر اس کے غلام ایک ایک کر کے مذکورہ شخص کی پیدائش کی خوش خبری اسے سنائیں تو خوش خبری پہنچانے والا پہلا غلام آزاد ہوجائے گا۔ دیگر غلام آزاد نہیں ہوں گے کیونکہ آقا کو پہلے غلام کے ذریعے خوش خبری ملی تھی۔ دوسروں کے ذریعے صرف خبر ملی تھی۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک درج بالا صورت اس طرح ہے کہ کوئی شخص کہے :” کہ میرا جو بھی غلام فلاں کی ولادت کی مجھے خبر دے گا وہ آزاد ہے۔ “ اور پھر اس کے غلام ایک ایک کر کے اسے یہ خبر دیں تو خبر دینے والے تمام غلام آزاد ہوجائیں گے۔ کیونکہ آقا نے مطلق خبر دینے پر عقید یمین کیا تھا، اس لئے یہ عقد خبر دینے والے تمام غلاموں کو شامل ہوگا، جبکہ پہلی صورت میں اس نے ایک خاص صفت کے ساتھ مخصوص خبر دینے پر عقیدیمین کیا تھا ۔ وہ خاص صفت یہ تھی کہ مذکورہ خبر اس کے لئے خوش کن ہو اور اس کے دل میں سرور کی لہر دوڑا دے۔ اس خبر کا موضوع وہی بات ہے جس کا ہم نے ذکر کیا اس پر یہ محاورہ دلالت کرتا ہے کہ : رأیت البشر فی وجھہ (میں نے اس کے چہرے پر خوشی اور سرور دیکھا) اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے چہروں کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا : وجوہ یومئذ مسفرہ ضاحکۃ ستبشرۃ (بہت سے چہرے اس روز چمکتے ہوئے ہنستے ہوئے بشاش ہوں گے) اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے چہروں پر پیدا ہونے والے خوشی اور سرور کے آثار کی خبر استبشار (خوش ہونے) کے ذکر سے دی ہے اور اسی بنا پر عرب کے لوگ مرد کو بشیر کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یعنی اس میں یہ نیک فالی ہوتی ہے کہ وہ خیر کی خبر دے گا۔ شرک کی خبر نہیں دے گا خیر کی خبر دینے پر بشیر کو جو انعام دیا جاتا ہے اسے بشریٰ کے نام سے موسوم کتر یہیں۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بشارت کے لفظ کا اطلاق ایسی خبر پر ہوتا ہے جو خوش کن ہو اور سرور کا باعث بن جائے۔ اس بنا پر بشارت کے لفظ کو غیر خوش کن خبر کے لئے صرف کسی دلالت کی بنا پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر اس لفظ کا اطلاق شرپر کیا جائے تو اس سے صرف خبر مراد ہوگی۔ اس بنا پر قول باری : فبشر ھم بعذاب الیم کا مفہوم یہ ہوگا کہ انہیں درد ناک عذاب کی خبر دیجیے۔ اوپر ہم نے فقہی مسئلے میں بیان کیا تھا کہ ہمارے اصحاب کی رائے میں مذکورہ فلاں کی ولادت کی خوشی خبری دینے والا پہلا غلام آزاد ہوجانے کا مستحق ہوگا یعنی خبر دینے والا پہلا غلام بشیر کہلائے گا۔ اس پر عربوں کا یہ قول دلالت کرتا ہے : ظھرت لنا تباشیرھذا الامر (اس معاملے سے پیدا ہونے والی خوشیاں ہمارے سامنے ظاہر ہوگئیں) اس سے ان کی مراد اول خوشی ہوتی ہے۔ یہ فقرہ عرب کے لوگ غمناک اور شر کی حامل خبر کے لئے نہیں بولتے، بلکہ خوشی اور مسرت پید ا کردینے والی خبر کے لئے کہتے ہیں۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ لفظ بشارت کی اصل خوشی اور غم پیدا کرنے والی بات کے لئے موضوع ہے۔ اس لئے کہ اس لفظ کا مفہوم چہرے پر ابتدائی طور پر پیدا ہونے والے خوشی یا غم کے تاثرات سے عبارت ہے ، البتہ اس کا استعمال خوش کن بات کے لئے زیادہ تر ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کا اطلاق شر کی بہ نسبت خوشی پر اخص ہوگا
Ayahs 2:26–31

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے جو مومن ہیں وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے، اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

(کافرو ! ) تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لئے پیدا کیں پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنادیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے،

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے، اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور اس نے آدم کو (سب چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا اگر سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ

قول باری ہے : (علم آدم الاسماء کلھا ثم عرضھم علی الملٓئکۃ فقال انبونی باسماء ھولآء ان کنتم صدقین۔ (اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا : اگر تمہارا خیال صحیح ہے کہ (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتائو اگر تم سچے ہو) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کو تمام اشایء کے نام سکھا دیئے، یعنی اجنسا کا ان کے معانی کے ساتھ کیونکہ اسماء کے ذکر میں لفظ کے اندر عموم ہے اور قو ل باری : ثم عرضھم علی المٓئکۃ کے اندر اس بات پر دلالت ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کی اولاد کے ناموں کا ارادہ کیا تھا جیسا کہ الربیع بن انس سے مروی ہے۔ تاہم حضرت ابن عباس اور مجاہد سے مروی ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھا دیئے تھے۔ اگر یہاں کہا جائے کہ قول باری : عرضھم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ذوی العقول کے اسماء تھے اس لئے کہ (ھم) کی ضمیر ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتی ہے، غیر ذوی العقول کے لئے استعمال نہیں ہوتی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے جب ذوی العقول اور غیر ذوی العقول دونوں کا ارادہ کیا تو پھر ذوی العقول کے اسم کی تغیب درست ہوگئی جیسا کہ یہ قول باری ہے : خلق کل دابۃ من مآء فمنھم من یمشی علی بطنہ و منھم من یمشی علی رجلین ومنھم من یمشی علی اربع (اور اللہ ہی نے ہر چلنے والے جانور کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ سو ان میں سے وہ بھی ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں اور وہ بھی جو دوپیروں پر چلتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو چار پیروں پر چلتے ہیں) جب جملے کے اندر ذوی العقول داخل ہوگئے تو پھر سب کو یہی درجہ دیا گیا۔ زیر بحث آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کی طرف سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام مختلف زبانوں کے اصول سے واقف کرا دیا گیا تھا اور اللہ نے انہیں یہ اصول ان کے معانی کے ساتھ سکھا دیئے تھے کیونکہ معانی کے بغیر اسماء کی معرفت کی کوئی فضیلت نہیں ہوتی۔ یہ بات علم کے شرف اور اس کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جب فرشتوں کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت سے آگاہ کرنا چاہا تو انہیں تمام اسماء کا ان کے معانی کے ساتھ علم عطا کردیا حتی کہ حضرت آدم نے فرشتوں کو ان اسماء کی خبر دی۔ فرشتوں کو ان اسماء کا علم نہیں دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں انہوں نے حضرت آدم کی فضیلت کا اعتراف کرلیا۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی زبان طوفان نوح تک ایک تھی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس طوفان میں اہل زمین کو غرق کردیا صرف نوح (علیہ السلام) کی نسل سے زندہ رہ جانے والے بچ رہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کی اولاد بڑھی اور تعداد زیادہ ہوگئی تو انہوں نے بابل میں ایک اونچا محل تعمیر کرنے کا ارادہ کیا تاکہ اگر طوفان دوبارہ آئے تو اس محل کے ذریعے اپنا بچائو کرلیں۔ اسی دوران میں اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان کی تحلیل کردی اور ہر گروہ اپنی سابقہ زبان بھول گیا اور پھر اللہ نے وہ زبانیں سکھائیں جو وراثت میں ان کی اولاد کو م لیں اور پھر یہ لوگ دنیا کے مختلف حصوں میں بکھر گئے اور نئے نئے شہر آباد کئے۔ بعض لوگ اس نظریے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک کامل العقل انسان کا اپنی وہ زبان بھلو جانا ناممکن ہے جس میں وہ کل تک گفتگو کرتا تھا، بلکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد مذکورہ تمام زبانیں جانتی تھی، یہاں تک کہ یہ سب گروہ روئے زمین میں بکھر گئے اور ہر ایک گروہ نے صرف اسی زبان پر اقتصار کرلیا جس کے ذریعے آج ان کی بول چال ہوتی ہے۔ باقیمانہ تمام زبانیں ترک کردیں جن کا انہیں علم تھا۔ ان کی اولاد نے یہ زبانیں ان سے نہیں سیکھیں یہی وجہ تھی کہ ان کے بعد آنے والی نسلیں تمام زبانیں نہیں جانتی تھیں۔