Ayah 2:200مناسک حج ادا کرنے کے بعد کیفیت ذکر
قول باری ہے (فاذا قضیتم مناسکم فاذاکروا اللہ کذکرکم اباء کم اواشد ذکراً پھر جب تم اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو تو جس طرح پہلے اپنے آبائو اجداد کا ذکر کرتے تھے اسی طرح اب اللہ کا ذکر کرو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر) قضا مناسک کا معنی علی وجہ التمام ان کی ادائیگی ہے۔
اس معنی میں قول باری ہے (فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیا ما وقعوداً جب تم نماز ادا کرلو تو قیام وعقود کی حالت میں اللہ کو یاد کرو ) اسی طرح (فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروافی الارض جب نماز پڑھ لی جائے تو تم زمین میں پھیل جائو)
اس معنی میں حضور ﷺ کا قول ہے (فما ادرکتم فصلوا وما فاتکم فاقضوا ، نماز با جماعت کی صورت میں تمہیں امام کے ساتھ جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لو اور جتنی نہ ملے اسے ادا کرلو) یعنی جتنی نہ ملے اسے پوری طرح ادا کرلو۔
اس قول باری (فاذکروا اللہ کذکر کم) کے دو معانی بیان کئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے وہ تمام اذکار مراد ہیں جو مناسب کی ادائیگی کے دوران پڑھے جاتے ہیں جس طرح کہ قول باری ہے (اذا طلقتم النسآء فطلقوھن بعد تھن واحصوالعدۃ جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دو تو انہیں عدت پر طلاق دو اور عدت کو شمار کرلو) جب کہ اسے طلاق دینے پہلے عدت کو شمار کرنے کا حکم ہے۔
یہ طرز بیان عربی کے ان محاوروں کے مطابق ہے مثلاً آپ کہیں ” اذا حججت فطف بالبیت “ (جب حج کرو تو بیت اللہ کا طواف کرو) یا اذا احرمت فاغتسل “ (جب تم احرام باندھو تو غسل کرلو ) یا ” اذا صلیت فتوضا “ (جب تم نماز پڑھنے لگو تو وضو کرلو)
ان تمام فقروں میں جن افعال کے کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ دراصل فقروں میں بیان کردہ امور سے پہلے ادا کئے جانے چاہئیں۔ قول باری ہے (اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوھکم جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو جائو تو اپنے چہرے دھو لو) حالانکہ چہرے کا دھونا نماز سے پہلے عمل میں آتا ہے۔
اسی طرح قول باری ہے (فاذا قضیتم مناسککم فاذکروا اللہ) اس میں یہ جائز ہے کہ اس سے مراد وہ اذکار منسونہ ہوں جو عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کے وقت اور رمی جمار اور طواف کے وقت پڑھے جاتے ہیں۔
اس آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ مناسک ادا کرتے ہوئے ٹھہر اتے اور ٹھہر کر اپنی خاندانی روایات اور اپنے آبائو اجداد کے مفاخر بیان کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ان غلط باتوں کے ذکر کی بجائے اپنے ذکر، نعمتوں پر شکر اور حمد و ثنا کا حکم دیا۔ حضور ﷺ نے میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا۔
(ان اللہ قد اذھب عنکم نخوۃ الجاھلیۃ ولعظمھا بالآ باء ۔ الناس من ادم و ادم من تواب۔ لافضل لعوبی علیٰ عجمی الا بالتقویٰ ۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے فخر و غرور اور آبائو اجداد کے نام پر جھوٹے وقار اور بڑائی کو ختم کردیا ہے ۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے ہیں۔ سکی عربی کو سکی عجمی یعنی غریب عرب پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اگر فضیلت ہے تو صرف تقویٰ کی بنا پر ہے۔
پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (یایھا الناس انا خلقنکم من ذکروا انثی و جعلنکم شعرباً و قبائل لتعارفوا۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم اے لوگو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قومیں اور خاندان بنادیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم سے سب سے معزز شخص وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ )
اس بنا پر درج بالا آیت میں زمانہ جاہلیت کی اس صورت کو پیش نظر رکھ کر وہ اپنے آبائو اجداد کے مئوثر و مفاخر بیان کیا کرتے تھے، اللہ کے ذکر کا حکم دیا گیا، اس طرح آیت کو زمانہ جاہلیت کی صورت حال کی روشنی میں دیکھا جائے۔ واللہ اعلم۔
ایام منیٰ اور ان میں کوچ
قول باری ہے (واذکرواللہ فی ایام معدودات فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں۔ پھر کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس ہوگیا تو کوئی حرج نہیں۔ )
ابوبکر جصاص کہتے ہیں سفیان اور شعبہ نے بکیر بن عطاء سے، انہوں نے حضرت عبدالرحمحٰن بن یعمر الدیلی سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ایام منی ثلثۃ ایام التشریق فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ ومن تاخر فلا اثم علیہ ایام منی ایام تشریق کے تین دن ہیں۔ پھر جو کوئی جلدی کر کے دو دن میں واپس ہوگیا تو کوئی حرج نہیں اور جو کوئی تاخیر کر کے پلٹا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد (ایام معدودات) کے سلسلے میں دراصل آیت کی مراد کا بیان ہے۔ اہل علم کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایام معدودات، ایام تشریق ہیں۔ یہ بات حضرت علی ، حضرت ابن عباس ، حضرت عمر، حضرت ابن عمر اور ان کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام سے مروی ہے۔
البتہ ایک چیز ہے جس کی روایت ابن ابی لیلیٰ نے منہال سے، انہوں نے زر سے اور انہوں نے حضرت علی سے کی ہے کہ المعدودات، سے مراد یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن ہیں۔ ان میں سے جس دن بھی تم قربانی کرنا چاہو کرسکتے ہو۔ اس روایت کے متعلق ایک قول ہے کہ یہ وہم ہے۔
حضرت علی سے جو صحیح روایت ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے یہ بات المعلومات، یعنی قول باری (فی ایام معلومات علی ما رزقھم …) کے متعلق فرمائی ہے۔ ظاہر آیت بھی اس کی نفی کرتا ہے کیونکہ قول باری ہے (فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ) اب ان دونوں کا تعلق نحر یعنی قربانی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ رمی جمار کے ساتھ ہے جو ایام تشریق میں ہوتی ہے۔
رہی یہ بات کہ ” المعومات “ کو کون سے ایام ہیں تو حضرت علی اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن ہیں۔ ان میں سے جس دن بھی قربانی کا جانور ذبح کرنا چاہو کرسکتے ہو۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا المعدودات، ایام تشریق ہیں۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ” المعلومات “ ایام عشر ہیں اور ” المعدودات “ ایام تشریق ہیں۔
ابن ابی لیلیٰ نے الحکم سے، انہوں نے مقسم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ” المعومات، یوم النحر اور اس کے بعد کے تین دن ہیں۔ یہ ایام تشریق بھی ہیں۔ اور ” المعدودات “ یوم النحر اور اس کے بعد کے تین دن ہیں، عبداللہ بن موسیٰ نے کہا، ہمیں عمارہ بن ذکو ان نے مجاہد سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے یہ روایت کی ہے کہ المعدودات ایام عشر اور المعلومات، ایام نحر ہیں۔
لیکن آپ کا المعدودات کے متعلق یہ قول بلاشبہ غلط ہے۔ کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ نیز یہ کتاب اللہ کے بھی خلاف ہے۔ اللہ کے بھی خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ) ایام عشر میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے جو دو دنوں سے متعلق ہو اور تین دنوں سے نہ ہو۔ حضرت ابن عباس سے صحیح سند کے ساتھ یہ منقول ہے کہ المعلومات ایام عشر اور المعدودات، ایام تشریق ہیں۔
یہی جمہور تابعین کا قول ہے جن میں حسن بصری، مجاہد، عطاء، ضحاک اور ابراہیم نخعی وغیرہم شامل ہیں۔ امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد سے مروی ہے کہ ” المعومات ، ایام عشر اور المعدودات، ایام تشریق ہیں۔ طحاوی نے اپنے شیخ احمد بن ابی عمران سے، انہوں نے بشر بن الولید سے نقل کیا ہے کہ ابو العباس طوسی نے امام ابو یوسف کو لکھا کہ ایام معلومات کیا ہیں ؟
امام یوسف نے مجھے جواب املاء کرایا کہ صحابہ کرام کے درمیان ان کے متعلق رائے ہے۔ حضرت علی اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ یہ ایام النحر ہیں۔ میرا بھی یہی مسلک ہے اس لئے کہ قول باری ہے (علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام … اور چند مقررہ دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔
ہمارے شیخ ابوالحسن کرخی نے احمد القادری سے، انہوں نے محمد سے اور انہوں نے امام ابوحنیفہ سے بیان کیا ہے کہ ایام معلومات، ایام عشر ہیں، اور امام محمد سے بیان کیا کہ یہ ایام نحر کے تین دن ہیں، یوم الاضحیٰ یا یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن ہیں۔ امام ابوحنیفہ سے مروی متفقہ روایات میں یہ ہے کہ المعلومات، ایام الشعر اور المعدودات ایام تشریق ہیں۔ یہی حضرت ابن عباس کا مشہور قول بھی ہے۔
قول باری (علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام) میں کوئی ایسی دلالت نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ یہاں ایام نحر مراد ہیں۔ اس لئے کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہو ’ لما رزقھم من بھیمۃ الانعام (انہیں جانور عطا کرنے کی وجہ سے) جیسا کہ قول باری ہے (ولتکبروا اللہ علی ما ھداکم اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی اس بنا پر بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی) اس میں معنی ہیں ” لما ھدا کم (تمہیں ہدایت دینے کی وجہ سے)
اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ نے اس سے ایام عشر مراد لئے ہوں اس لئے کہ ایام عشر میں یوم النحر بھی شامل ہے جس میں قربانی ہوتی ہے اور اس کے کئی دن ہوتے ہیں۔ اہل لغت نے ذکر کیا ہے کہ المعدودات، کا مفوہم المعومات کے مفوہم سے جدا ہے۔ اس لئے کہ نفطاً اس پر دلالت ہو رہی ہے کہ عدد کے لحاظ سے ان دونوں کا مفہوم جدا ہے۔
وہ اسی طرح کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کی صفت المعدودات بیان کی ہے یہ صفت ان کی تقلیل پر دلالت کرتی ہے جس طرح کہ قول باری ہے (دراھم معدودۃ “ گنتی کے چند درہم اور کسی چیز کو عدد کے ساتھ اسی وقت موصوف کیا جاتا ہے جب اس کی تقلیل کا ارادہ ہو کیونکہ وہ کثرت کی ضد ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کہیں ” قلیل اور کثیر “ گنتی کے چند درہم اور کسی چیز کو عدد کے ساتھ اسی وقت موصوف کیا جاتا ہے جب اس کی تقلیل کا ارادہ ہو کیونکہ وہ کثرت کی ضد ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کہیں ” قلیل اور کثیر “ اس لئے المعدودات، میں قلت کے معنی پائے جاتے ہیں اور دوسرے ایام کو المعلومات کہا گیا اس لئے کہ ان کی شہرت تھی اور وہ تعداد میں دس ہیں۔
اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایام منی یو م النحر کے بعد کے تین دن ہیں۔ اور حاجی کو اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ دوسرے دن واپسی میں تعجیل کرے بشرطیکہ اس نے رمی کرلی ہو۔ اس کے لئے یہ بھی گنجائش ہے کہ تیسرے دن تک تاخیر کرے یہاں تک کہ اس دن رمی جمار کرنے کے بعد کوچ کر جائے اس شخص کے متعلق اختلاف ہے جس نے دوسرے دن سورج غروب ہونے تک کوچ نہیں کیا۔
حضرت عمر، حضرت ابن عمر، حضرت جابر، حسن بصری اور ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ دوسرے دن کوچ کرنے سے پہلے اگر سورج غروب ہوجائے تو اب وہ کوچ نہیں کرسکتا، تیسرے دن رمی جمار سے فارغ ہونے کے بعد وہ کوچ کرسکے گا۔ حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے کہ اسے دوسرے دن کوچ کر جانے کی اجازت ہے، بشرطیکہ اس نے ظہر کا سارا وقت رمی جمار میں لگایا ہو۔ اگر منیٰ میں عصر کا وقت ہوجائے تو اب اسے تیسرے دن تک کوچ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تیسرے دن کی رمی اس پر اسی وقت لازم ہوگی اگر وہ منیٰ میں صبح کرے گا اور صورت میں رمی جمار کا ترک اس کے لئے جائز نہیں ہوگا۔
فقہاء کے درمیان اس بارے میں ہمیں کسی اختلاف کا علم نہیں ہے کہ جس شخص نے منیٰ میں قیام کرلیا اور تین دن وہیں رہا تو اس کے لئے رمی جمار کئے بغیر کوچ جائز نہیں ہے۔ فقہاء کا یہ کہنا کہ اگر کوئی شخص دوسرے دن شام تک منیٰ میں قیام پذیر رہے تو اس پر تیسرے دن کے رمی جمار کا لزوم نہیں ہوگا وہ صرف اس بنا پر ہے کہ دوسرے دن سے متصل رات دوسرے دن کے تابع ہے یعنی اس رات کا حکم وہی ہے جو دوسرے دن کا ہے۔ اس کا حکم وہ نہیں ہے جو اس کے بعد آنے والے دن کا ہے۔
آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص پہلے دن رمی نہیں کرتا تو آنے والی رات میں وہ رمی کرے گا اور اس صورت میں یہ رمی اپنے وقت سے موخر ہوگی۔ اس لئے کہ حضور ﷺ نے چرواہں کو رات کے وقت رمی جمار کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اس بنا پر اس رات کا حکم وہی ہوگا جو اس سے پہلے کے دن کے کا ہے لکین اس رات کم وہ نہیں ہوگا جو اس کے بعد آنے اولے دن کا ہے۔
اسی بنا پر فقہاء نے یہ کہا ہے کہ دوسرے دن شام تک منیٰ میں اس کی اقامت، دن کے وقت اقامت کی طرح ہے۔ لیکن اگر وہ وہیں قیام پذیر رہے یہاں تک کہ تیسرے دن کی صبح ہوجائے تو اس پر رمی جمار لازم ہوجائے گی۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
یہ وہ بات ہے جس سے امام ابوحنیفہ کے اس قول کی صحت پر استدلال کیا جاتا ہے کہ آپ نے تیسرے دن زوال سے پہلے تک رمی جمار کو جائز قرار دیا ہے اس لئے کہ تیسرا دن لزوم رمی کے لئے وقت ہے اور یہ بات محال ہے کہ تیسرا دن وجوب رمی کے لئے وقت ہو لیکن پھر اس میں رمی کا فعل درست نہ ہو۔
Ayahs 2:201–203قول باری ہے (فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ ومن تاخر فلا اثر علیہ لمن اتقی پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس تو کوئی حرج نہیں اور جو کچھ دیر ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں) اس آیت کی دو تفسیریں بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ جو شخص دو دنوں میں واپس ہوگیا اس پر کوئی گناہ نہیں اس لئے کہ حج مقبول کی بنا پر اس کی سیئات اور اس کے گناہوں کی تکفیر ہوگئی ہے۔
اسی طرح کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود سے ہے ۔ حضور ﷺ سے بھی اسی مضمون کی ایک روایت ہے ۔ آپ نے فرمایا (من حج فلو یرفث ولم یفسق رجع کیوں مرولدتہ امہ۔ جس شخص نے حج کیا اور حج کے دوران رفث اور فسق سے اجتناب کیا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹے گا جس طرح اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ دو ہی دن میں واپسی کے اندر جلدی کرنے میں اس پر کوئی گناہ نہیں۔ حسن وغیرہ سے اسی قسم کی تفسیر مروی ہے۔ قول باری ہے (من تاخر فلا اثم علیہ) اس لئے کہ اس کے لئے تاخیر مباح ہے اور قول باری (لمن اتقی) میں یہ احتمال ہے کہ جو شخص ان تمام باتوں سے جو اللہ نے (فلا رفث ولا فسوق لاجدال فی الحج میں بتائی ہیں احرام کی حالت میں بچتا رہا۔ اگر نہیں بچا تو اس سے کسی ثواب کا وعدہ نہیں۔
نیت درست نہ ہو تو بھلی باتیں کرنے والا منافق ہوسکتا ہے
Ayah 2:204قول باری ہے (ومن الناس من یعجیک قولہ فی الحیاۃ الدنیا ویشھد اللہ علی مافی قلبہ وھو الذالخصام انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پر بار بار خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمن حق ہوتا ہے)
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں اس بات سے خبردار کیا گیا ہے کہ کسی شخص کی ظاہری باتوں شیریں بیانی اور نیک نیتی کی بار بار یقین دہانیوں سے ہرگز دھوکا نہ کھایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ انسانوں میں کوئی تو ایسا ہوتا ہے جس کی باتیں ظاہری طور پر بڑی بھلی معلوم ہوتی ہیں اور وہ اپنی نیک نیتی پر بار بار خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے۔
یہ منافقین کی صفت ہے جیسا کہ قول باری ہے (قالوا نشھد انک لرسول اللہ ۔ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنافقین لکذبون اتخذوا ایمانھم جنۃ منافقین کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو اپنے لئے ڈھال بنا رکھا ہے۔ )
قضا، امامت اور عدالت وغیرہ کے مناصب صرف ظاہری حالت دیکھ کر نہ سپرد کردیئے جائیں
اسی طرح قول باری ہے (واذا رایتھم تعجبک اجسامھم وان یقولوا تسمع لقولھم اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے قدو قامت آپ کو خوشنما معلوم ہوں اور یہ باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتیں سننے لگیں) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ان باتوں سے آگاہ کردیا جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی ہیں تاکہ آپ ان کی ظاہری باتوں سے دھوکے میں نہ آ جائیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان جیسے لوگوں میں ہمارے لئے عبرت کا سامان رکھ دیا تاکہ ہم لوگوں کے ظاہری امور پر اور ان کی ان باتوں پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں جو وہ اپنے ما فی الضمیر کے اظہار کے طور پر بیان کرتے ہوں۔
ان جیسے لوگوں کے ساتھ جن دینی اور دنیاوی امور کا تعلق ہو اس آیت میں ان میں ہمیں احتیاط برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہم کسی دینی یا دنیاوی امر میں کسی انسان کی صرف ظاہری حالت پر ہی اعتماد نہ کر بیٹھیں بلکہ اس کے متعلق تحقیق و تفتیش بھی کریں۔
اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جس شخص کو قضا یا امامت (خلافت) یا اسی قسم کے کسی اہ ممنصب کے لئے منتخب کیا جائے یا عدالت میں گواہی دینے کے لئے طلب کیا جائے تو یہ ضروری ہے کہ صرف ان کے ظاہر کو قابل قبول نہ سمجھا جائے بلکہ ان کے متعلق پوری طرح چھان پھٹک کرلی جائے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان جیسے لوگوں کو مسلمانوں کے معاملات سپرد کردینے کے سلسلے میں ہمیں پوری طرح چوکنا رہنے کا حکم دیا ہے۔
آپ نہیں دیکھتے کہ درج بالا آیت کے فوراً ہی بعد اللہ کا ارشاد ہے (واذا تولی سعی فی الارض لیفسد فیھا و یھلک الحرث والنسل۔ جب اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھپو اس لئے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے۔
اس مقام پر اقتدار کے ذکر کی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جسے اقتدار سونپا جائے جب تک مختلف ذرائع سے اس کے حالات کی چھان پھٹک نہ کرلی جائے۔ اس وقت تک صرف) اس کے ظاہر پر انحصار کرنا جائز نہیں ہوتا۔
قول باری (وھو الدالخصام) یہ اس شخص کی کیفیت ہے جو بار بار اپنی نیک نیتی پر خدا کو گواہ بناتا ہے لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اپنی بدنیتی کی بنا پر انتہائی جھگڑالو ہے۔ اگر کسی معاملے میں اس کا کسی کے ساتھ تنازعہ ہوجائے تو شدید جھگڑے کے ذریعے اپنے فریق مقابل کو مجبور کر کے اس کے حق سے ہٹا کر اسے اپنے قبضے میں کرلیتا ہے۔
محاورہ ہے لدہ عن کذا یعنی اس نے اسے مجبور و محبوس کردیا۔ اس معنی میں حضور ﷺ (انکم تختصمون الی ولعل بعض کو یکون الحسن بججتہ من بعض من النار تم اپنے جھگڑے میرے پاس فیصلے کے لئے لے کر آتے ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض اپنی دلیل سے دوسرے کی بہ نسبت زیادہ خبردار ہو۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو جو سنوں گا اس کے فیصلہ کروں گا اگر میں نے ظاہری دلائل کی بنا پر کسی شخص کو اس کے بھائی کا حق دے دیا تو یاد رکھو میں اسے جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا دوں گا۔
اس بنا پر (الدالخصام) کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ شخص جھگڑا کرنے کے لحاظ سے دونوں فریضوں میں سے زیادہ شدید ہے۔
Ayah 2:205قول باری ہے (واللہ لایحب الفساد اور اللہ تعالیٰ پسند نہیں کتا اس کا ارادہ بھی نہیں کرتا اور جس چیز کا ارادہ نہیں کرتا اسے پسند بھی نہیں کرتا۔ اس فقرے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ہے کہ وہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
یہ چیز اس بات کو واجب کردیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد کا کام نہ کرے کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ فساد کا ارادہ کرنے والا اور اسے پسند کرنے والا قرار پائے گا اور اللہ کی ذات اس سے بہت بلند ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اس کی مثال ایک اور قول باری میں موجود ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (وما اللہ یرید ظلماً للعباد اور یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کا ارادہ کرتا ہو۔
اس بات پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ فعل کے ہونے کے متعلق اس کی پسندیدگی اس فعل کے لئے اس کا ارادہ ہوتی ہے کیونکہ یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ وہ ایک فعل کے ہونے کو پسند کرے اور اس کے ہونے کا ارادہ نہ کرے بلکہ اس کا ہونا اسے ناپسند ہو اس سے تو تنا قض لازم آتا ہے۔
مثلاً کوئی یہ کہے کہ وہ ایک کام کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اسے ناپسند بھی کرتا ہے، اس کا یہ کلام تناقض کا شکار ہوگا اور اس میں اختلال واقع ہوجائے گا۔ اس حقیقت پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے (ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لھم عذاب الیم وہ لوگ جو یہ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان کے گروہ میں فحش پھیلے بلاشبہ ا ن کے لئے درد ناک عذاب ہے ) یہاں یحبون کے معنی یریدون (وہ چاہتے ہیں) ہیں۔
آیت سے اس بات پر دلالت ہو رہی ہے کہ پسند کرنا ہی ارادہ کرنا ہے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان اللہ احب لکم ثلاثا وکرہ لکم ثلاثا۔ احب لکم القیل والقال وکثرۃ السئوال و اضاعۃ المال اللہ تعالیٰ نے تین باتوں کو تمہارے لئے پسند اور تین باتوں کو ناپسند کیا ہے۔ اس نے یہ پسند کیا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور سا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور یہ کہ تم اس شخص کے لئے خیر خواہانہ جذبات رکھو جسے وہ تم پر والی مقرر کرے۔ اس نے قلیل وقال (بلاوجہ اعتراضات کرنے) کثرت سوال اور مال کے ضیاع کو ناپسند کیا ہے)
اس حدیث میں کراہت کو محبت کے مقابل ہمیں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے یہ دلالت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے پسند بھی کرتا ہے اور جس بات کو وہ ناپسند کرتا ہے اس کا ارادہ نہیں کرتا۔ کیونکہ کراہت ارادے کے بالمقابل ہے جس طرح کہ یہ محبت یعنی پسندیدگی کے بالمقابل ہوتی ہے۔ جب کراہت ارادے اور پسندیدگی کی نقیض ہے تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ ارادہ اور محبت دونوں ایک چیز ہیں۔
Ayahs 2:206–209قول باری ہے (فاعلموا ان اللہ عزیز حکیم۔ جان لو کہ اللہ عزیز و حکیم ہے) عزیزوہ ذات ہے جو غالب و قوی ہو اور اسے اس بات کی پوری قدرت ہو کہ جو چاہے روک دے اور جو چاہے نہ روکے۔ اس لئے کہ عزت کے اصل معنی امتناع کے ہیں۔ اسی محاورہ ہے : ایسی سر زمین جو شدت اور صعوبت کی بنا پر ممتنع الوصول ہو۔
لفظ الحکیم کا اطلاق اللہ کی صفت میں دو معنوں پر ہوتا ہے۔ ایک العالم (جاننے والا) جب یہ معنی مراد ہو تو یہ کہنا جائز ہے کہ اس کا علم ہمیشہ سے ہے۔ دوسرا معنی متفن و محکم فعل یعنی پختہ اور محکم کام کرنے والا جب یہ معنی مراد ہو تو یہ کہنا جائز نہیں ہوگا وہ ہمیشہ سے حکیم ہے جس طرح کہ یہ کہنا جائز نہیں کہ وہ ہمیشہ سے کا م کرنے والا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی یہ صفت بیان کی کہ وہ حکیم ہے تو یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ نہ تو ظلم کا کام ہے، نہ ہی بےوقوفی کا اور نہ ہی قبائح کا ، نیز وہ ان کا ارادہ بھی نہیں کرتا۔ اس لئے کہ جس ذات میں یہ باتیں پائی جائیں گی وہ اہل عقل کے نزدیک حکیم نہیں ہوگا۔ اس میں بھی جبر یہ فرقہ کے مذہب کا بطلان ہے۔
Ayah 2:210قول باری ہے ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں تو) کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آ موجود ہو) یہ آیت متشابہات میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو محکمات کی طرف لوٹایا جائے۔
قول باری ہے (ھو الذی انزل علیک الکتب منہ ایات محکمات ھن ام الکتاب واخرمتشابھات، فاما الذین فی قلوبھم ذیغ فیتبعون ماتشابہ منہ وہی خدا ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں۔ ایک محکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ہمیشہ متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں)
ایسی آیت کو متشابہ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہو اور اللہ سچ مچ آ جائے اور یہ احتمال کہ اس سے مراد اللہ کا امر اور اس کی نشانیاں ہیں جو اس کی ذات اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں جس طرح کہ ایک اور جگہ ارشاد ہوا (ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملائکۃ اویاتی امر ربک اویاتی بعض آیات ربک کیا وہ اب اس کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آ اجئیں یا تیرے رب کا امر آ جائے یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں) ۔
یہ تمام آیات متشابہات اس معنی پر محمول ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول (ائو یاتی ربک ) میں کیا ہے۔ سا لئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے آنا جانا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا اور زوال ان تمام باتوں کا ثبوت جائز نہیں ہے اس لئے کہ یہ تمام باتیں اجسام کی صفات اور حدوث کی نشانیاں ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محکم قول میں یہ فرما دیا ہے (لیس کمثلہ شیء اس جیسی کوئی چیز نہیں ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ستاروں کی حرکات، ان کی منتقلی اور ان کے زوال کو ان کے حدوث کی دلیل قرار دیا اور اپنی قوم کے خلاف اس سے استدلال کیا چناچہ قول باری ہے (وتلک ججتنا اتینا ھا ابراھیم علی قومہ یہ ہماری وہ حجت ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں عطا کیا) یعنی کواکب اور اجسام کے حدوث کے متعلق، اللہ تعالیٰ تجیم و تشبیہ کے قائلین کے قول سے بہت بلند ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آیا یہ جائز ہے کہ جاء ربک (تیرا پروردگار آیا) جاء کتابہ یا جاء رسولہ ( اس کی کتاب آئی یا اس کا رسول آیا) یا اسی قسم کے کسی اور فقرے کے معنی میں ہو ؟ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ مجاز ہے اور مجاز کا استعمال صرف اس جگہ ہوتا ہے جہاں مجازی معنی مراد لینے کی دلیل موجود ہو۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا (واسئلک القریۃ گائوں سے پوچھو) اور اس سے مرا دلیا گائوں والوں سے پوچھو۔ اسی طرح فرمایا (والذین یوذون اللہ و رسولہ اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں) یہاں مراد ہے کہ اللہ کے دوستوں کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ مجاز تو صرف اسی جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں اس کے استعمال کے لئے دلیل موجود ہو یا سننے والے کے لئے اس کے معنی میں کوئی اشتباہ نہ ہو۔
قول باری ہے (والی اللہ ترجع الامور، اور آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں ۔ اس کی دو طرح سے تفسیر کی گئی ہے اول یہ کہ پیشتر اس سے کہ بندے کسی امر کے مالک ہوتے تمام معاملات اللہ ہی کے ہاتھ میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سے معاملات کا مالک بنادیا اب آخرت میں پھر سے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوں گے۔ مخلوق کے ہاتھ میں کچھ نہ ہوگا ۔ اس لئے یہ کہنا درست ہوگیا کہ تمام معاملات اسی کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس فقرے کے وہی معنی ہیں جو قول باری (الا الی اللہ تصیر الامور آگاہ رہو تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام معاملات کا مالک ہے اس کے سوا اور کوئی مالک نہیں ہے ان معاملات پر اس کی ملکیت اس طرح نہیں ہے کہ پہلے یہ معاملات اس کے قبضہ قدرت میں نہیں تھے پھر ہوگئے بلکہ اس طرح کہ اس کے سوا ان کا کوئی اور مالک نہیں ہے۔
لبید کا ایک شعر :
وما المرء الا کا لشھاب وضوء لا یحوردماداً بعد از ھوسا طع
انسان کی حقیقت ایک چنگاری اور اس کی روشنی کی طرح ہے کہ چمکنے کے بعد وہ راکھ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ شاعر کی مراد یہ ہے کہ وہ راکھ ہوجائے گا اس طریقے پر نہیں کہ پہلے وہ راکھ تھا اب پھر اپنی اصلیت کی طرف لوٹ گیا۔
Ayahs 2:211–213قول باری ہے (کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبیین ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلاف رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے) اس کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ تمام لوگ کفر کے طریقے پر تھے اگرچہ ان کے مذاہب مختلف تھے اور یہ ممکن ہے کہ ا ن میں مسلمان بھی ہوں اگرچہ ان کی تعداد تھوڑی تھی، اس صورت حال کے تحت کافروں کی جماعت پر امت کے لفظ کا اطلاق درست ہوگیا اس لئے کہ ایک لفظ کا اطلاق اکثریت اور عمومیت کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ ضحاک اور قتادہ کا قول ہے کہ پہلے تما م لوگ حق کے راستے پر ایک امت تھے لیکن پھر ان میں اختلافات پیدا ہوگئے۔
قول باری ہے (فھدی اللہ الذین امنوا لما اختلفوا فیہ من الحق باذنہ ۔ پس جو لوگ ایمان لائے انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھا دیا جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا)
عبداللہ بن طائوس نے اپنے والد طائوس سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ نے فرمایا (نحن الاخزون السابقون یوم القیامہ بیدان کل امۃ اوتوا الکتاب قبلنا واوتیناہ من بعدھم فھذ ایومھم الذی اختلفوا فیہ فھدانا اللہ لہ و للیھود غد و انصاری بعد غد ہم دنیا میں سب سے آخر میں آئے لیکن قیاتم میں سب سے آگے ہوں گے۔ البتہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد کتاب ملی۔ یہی وہ دن ہے جس کے متعلق انہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق ہمیں سیدھی راہ دکھائی یہود کے لئے آنے والا کل اور نصاریٰ کے لئے آنے والا پرسوں ہے۔ )
اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے اور آپ نے حضور ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے لیکن اس میں ایک لفظ یہ ہے (یوم لجمعتہ لناوغداللیھود و بعد غد للنصاری جمعے کا دن ہمارے لئے، ہفتے کا دن یہودیوں کے لئے اور اتوار کا دن عیسائیوں کے لئے ہے۔ )
اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ قول باری (فھدی اللہ الذین امنوا لما اختلفوا فیہ) سے مراد جمعہ کا دن ہے ۔ لیکن عموم لفظ حق کی ان تمام صورتوں کا متقاضی ہے جن کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو دی۔ یوم جمعہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ او اللہ اعلم بالصواب
Ayahs 2:214–215خرچ کی ابتداء کس سے کی جائے
قول باری ہے (لیسئلونک ماذا ینفقون قل ما انفقتم من خیر خلق الدین و الاقربین والیتامی والمساکین و ابن السبیل، وما تفعلوا من خیر فان اللہ بہ علیم۔ لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں۔ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہوگا۔ ) ۔ سوال کے ذریعے خرچ کی مقدار پوچھی گئی ہے اور جواب میں کہا گیا ہے کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے خواہ اس کی مقدار تھوڑی ہو یا بہت۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کردیا گیا ہے کہ کن لوگوں پر خرچ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل ماانفقتم من خیر یہ فقرہ قلیل اور کثیر دونوں کو شامل ہے اس لئے کہ خیر کا لفظ انفاق یعنی خرچ کی ان تمام صورتوں کو شامل ہے جو رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ پھر یہ بتادیا کہ کن لوگوں پر خرچ کیا جائے فللوالدین ولاقربین یعنی والدین اور رشتہ دار اور وہ تمام لوگ جن کا اس آیت میں ذکرہوا ہے لیکن والدین اور رشتے داران دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ حق دار ہیں جو قرابت اور تنگدستی میں ان کے ہم پلہ نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں مال کے اس حصے کی نشاندہی فرما دی ہے جس میں سے خرچ کرنا واجب ہے۔
قول باری ہے ویسئلونک ماذا ینفقون قل العفو۔ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں کہو جو کچھ ضرورت سے زیادہ ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جو کچھ تمہارے اہل و عیال کے خرچ سے بچ جائے۔ قتادہ کا قول ہے کہ العفو سے مراد الفضل ہے یعنی بچ رہنے والا۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دی ہے کہ انسان کی اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کے اخراجات سے جو بچ رہے اس سے نفقہ کیا جائے۔ حضور ﷺ کے اس قول کے بھی یہی معنی ہیں خیرالصدقۃ ماکان عن ظھر غنی بہترین صدقہ وہ ہے جو غنی یعنی فراخی کی حالت کی موجودگی میں کیا جائے۔ ایک اور روایت میں ہے خیرالصدقۃ ماایقت غنی وابدا بمن تعول۔ بہترین صدقہ وہ ہے جو فراخی کو باقی رہنے دے اور خرچ کی ابتدا اس سے کرو جس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری تم پر ہے۔ ان احادیث میں مندرجہ مضمون اس قول باری کے مطابق ہے ویسئلونک ماذا ینفقون قل العفو حضور ﷺ سے یہ بھی مروی ہے الیدالعلیاخیرمن الیدالسفلی وابداء بمن تعول امک وابوک اختک ماخوک دادناک فادناک۔ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ خرچ کی ابتدا ان لوگوں سے کرو جن کے نان و نفقہ کی ذمہ داری تم پر ہے۔ یعنی تمہاری ماں، تمہارا باپ، تمہاری بہن، تمہارا بھائی اور تمہارا قریبی اور اس کے بعد کا قریبی اور اسی طرح آگے تک۔ ثغلبہ بن زہدم اور طارق نے حضور ﷺ سے اسی قسم کی روایت کی ہے۔ یہ حدیث اس آیت کے معنی پر دلالت کر رہی ہے کہ قل ما انفقتم من خیر فللوالدین والاقربین۔ اس سے مراد یہ ہے کہ زیادہ قریبی کو مقدم کیا جائے پھر اس کے بعد کے قریبی کو اور اسی طرح آگے تک۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ آیت زکوۃ اور تطوع یعنی خیرات و صدقات سب کے متعلق ہے۔ اس کا حکم باقی ہے اور یہ منسوخ نہیں ہوئی۔ سدی کا قول ہے کہ یہ آیت زکوۃ کی فرضیت کے ساتھ منسوخ ہوگئی ہے۔
ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ یہ زکواۃ یعنی فرض اور تطوع دونوں کو عام ہے۔ جہاں تک فرض یعنی زکواۃ کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں والدین اور ولد نیچے تک مراد نہیں ہیں اس لئے کہ انہیں زکواۃ دینے کے متعلق دلیل موجود ہے۔ رہ گیا تطوع یعنی نفلی اخراجات تو یہ سب کے لئے عام ہے۔ پھر جب ہمارے لئے فرضیت زکواۃ کے باوجود ان دونوں صورتوں پر عمل ممکن ہے تو اس آیت پر منسوخ ہونے کا حکم لگانا درست نہیں ہے۔ یہی حکم تمام آیات کا ہے کہ جب ان کے احکام پر کسی ایک کی منسوخیت کے اثبات کے بغیر عمل کرنا ممکن ہو تو اسی صورت میں ہمارے لئے جائز نہیں ہوگا کہ کسی پر نسخ کا حکم لگا دیں۔ آیت سے یہ مراد لینے میں بھی کوئی امتناع نہیں کہ والدین اور رشتہ داروں پر خرچ کیا جائے جبکہ وہ محتاج ہوں اور خرچ کرنے والا خوشحال ہو۔ اس لئے کہ لفظ قل العفو کی اس پر دلالت ہو رہی ہے کہ ایک شخص پر اس کے زائد مال میں نفقہ واجب ہے۔ جب وہ اور اس کے اہل و عیال محتاج ہوں گے تو اس کے پاس زائد کوئی مال نہیں بچے گا اس لئے اس پر نفقہ واجب نہیں ہوگا۔ اس آیت کی کئی اور معانی پر بھی دلالت ہو رہی ہے۔ ایک یہ کہ جو شخص تھوڑا یا بہت خرچ کرے گا وہ اللہ کے ہاں ثواب کا مستحق ہوگا بشرطیکہ اس کا مقصد رضائے الٰہی ہو۔ اس میں نفلی صدقات اور فرض سب شامل ہیں۔ دوسرا یہ کہ زیادہ قریبی اپنی اپنی ترتیب کے لحاظ سے اس نفقہ کے زیادہ حق دار ہیں۔
اس لئے کہ قول باری ہے فللوالدین والاقربین۔ اس کے ساتھ حضور ﷺ کی اس سلسلے میں وضاحت موجود ہے۔ آپ نے فرمایا ابداء بمن تعول امک و اباک واختک واخاک وادناک فادناک۔ اس میں والدین اور رشتہ داروں کی کفالت کے وجوب پر بھی دلالت ہو رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس پر مساکین اور مسافروں اور ان تمام کی کفالت بھی واجب ہے جن کا ذکر آیت میں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ظاہر آیت تو اسی کا تقاضا کرتا ہے لیکن ہم نے اس نفقہ سے ان کی تخصیص کردی ہے جس کے اقارب مستحق ہیں اور یہ تخصیص ہم نے اور دلیل کی بنا پر کی ہے۔ یہ لوگ زکواۃ اور نفلی طور پر کئے جانے والے اخراجات میں داخل ہیں۔ ہمیں عبدالباتی بن القانع نے، انہیں معاذ بن المثنیٰ نے، انہیں محمد بن البکر نے، انہیں سفیان نے مزاحم بن زفر سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا ” ایک دینار تم اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہو، ایک مسکین کو دیتے ہو، ایک غلام آزاد کرانے کی خاطر خرچ کرتے ہو اور ایک تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو۔ ان میں سے سب سے زیادہ اس دینار کے خرچ کرنے کا ثواب ملے گا جو تم اپنے اہل و عیال پر صرف کرتے ہو “۔ یہی روایت حضور ﷺ سے مرفوعاً بھی بیان ہوئی ہے ہمیں عبدالباتی نے، انہیں محمد بن یحییٰ المروزی نے، انہیں عاصم بن علی نے، انہیں المسعودی نے مزاحم بن زفر سے ، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور آپ نے حضور ﷺ سے اسی قسم کی روایت کی۔
ہمیں عبدالباقی نے، انہیں معاذ بن المثنیٰ نے، انہیں محمد بن کثیر نے، انہیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے، انہوں نے عبداللہ بن زید سے، انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے، آپ نے حضور ﷺ سے روایت کی کہ ان المسلم اذا نفق نفقۃ علی اھلہ کانت لہ صدقۃ جب کوئی مسلمان اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے تو یہ نفقہ اس کے لئے صدقہ بن جاتا ہے۔ یہ تمام روایات قول باری ویسئلونک ماذا ینفقون قل العفو۔ کے مضمون سے مطابقت رکھتی ہیں۔ آیت میں لفظ العفو سے مراد کے متعلق اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد فراخی سے زائد مال حسن اور عطا بن ابی رباح کا قول ہے کہ اسراف کے بغیر میانہ روی۔ مجاہد کا قول ہے اس سے مراد مفروض صدقہ ہے۔ ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ جب العفو کا معنیٰ جو کچھ بچ رہے، کے ہیں تو اس سے زکواۃ بھی مراد لینا جائز ہے اس لئے کہ زکواۃ اسی مال پر واجب ہوتی ہے جو ضروریات سے زائد ہو اور جس سے فراخی حاصل ہوتی ہو یہی صورتحال تمام واجب صدقات کی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس سے نفلی صدقات مراد ہوں۔ اس صورت میں اس حکم کے ضمن میں اپنی ذات، اپنے اہل و عیال اور اپنے اقارب پر خرچ کرنے کی تمام صورتیں آجائیں گی۔ اس کے بعد جو بچ رہے اسے غیروں میں صرف کر دے۔ اس آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ فقیر پر صدقہ فطر اور دوسرے تمام صدقات واجب نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے بچ رہنے والے اور فراخی سے زائد مال کو خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔
Ayah 2:216قول باری ہے کتب علیکم القتال وھوکرہ لکم تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔ آیت کے الفاظ قتال کی فرضیت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے کہ کتب علیکم کے معنی فرض علیکم کے ہیں یعنی تم پر جنگ فرض کردی گئی ہے جس طرح کہ روزے کے سلسلے میں فرمایا گیا کہ کتب علیکم الصیام۔ آیت میں مذکورہ القتال میں الف لام یا تو معہود کے لئے ہے جس سے مخاطبین آگاہ ہیں یا معہود کے لئے نہیں بلکہ ہم جنس کے لئے ہے اس لئے کہ اسم نکرہ پر داخل ہونے والے الف لام یا تو معہود کے لئے ہوتے ہیں یا جنس کے لئے۔ اگر اس سے مراد وہ جنگ ہے جس کا مخاطبین کو علم ہے تو یہ کلام اسی کی طرف راجع ہوگا جس طرح کہ قول باری ہے وقاتلوا المشرکین کا نۃ کما یقاتلونکم کافۃ۔ تم اسی طرح تمام مشرکوں سے جنگ کرو جس طرح وہ تم سے جنگ کرتے ہیں۔
یا یہ قول باری ہے ولاتقاتلوھم عندالمسجد الحرام حتی یقاتلوکم فیہ فان قاتلوکم فاقتلوھم۔ ان سے مسجد حرام کے قریب جنگ نہ کرو جب تک کہ وہ یہاں تم سے جنگ نہ کریں اگر وہ تم سے جنگ کریں تو انہیں قتل کرو اگر الف لام سے مراد معہود ہے تو اس میں جنگ کا حکم ایک خاص حالت کے تحت ہوگا اور وہ یہ کہ ہم مشرکین سے اسی وقت جنگ کریں جب وہ ہم سے جنگ کریں۔ اس صورت میں یہ کلام ایسے معہود پر مبنی ہوگا جس کا حکم معلوم ہے اور تاکید کے طور پرا س کے ذکر کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اگر الف لام کسی معہود کے لئے نہیں ہے تو لامحالہ یہ کلام ایسے مجمل کی طرف راجع ہے جس کے بیان اور تفصیل کی ضرورت ہے۔ وہ اس طرح کہ اس حکم کے ورود کے وقت یہ بات معلوم تھی کہ الہ نے ہمیں تمام لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا اس لئے کلام میں عموم کا اعتقاد رکھنا درست نہیں ہوا، اور جس حکم میں عموم کا اعتقاد نہ رکھا جاسکے وہ مجمل ہوتا ہے اور اسے بیان اور وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہم عنقریب جہاد کی فرضیت کے متعلق اہل علم کے اختلاف کو بیان کریں گے۔ نیز جہاد کی کیفیت کے بارے میں بھی وضاحت کریں گے۔ جب ہم آیت یقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم۔ پر پہنچیں گے۔ قول باری وھوکرہ لکم کے معنی ہیں کہ یہ تمہیں ناپسند ہے یہاں مصدر کو اسم مفعول کے قائم مقام کردیا گیا ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں کہ فلان رضی اس کے معنی یہ ہیں کہ فلان مرضی (فلاں پسندیدہ ہے)
Ayah 2:217قول باری ہے یسئلونک عن الشھرالحرام قتال فیہ، قل قتال فیہ کبیر و صدعن سبیل اللہ وکفر بہ والمسجد الحرام و اخراج اھلہ منہ اکبر عنداللہ۔ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ کہو اس میں لڑنا بہت برا ہے مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ کے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا کے بندوں پر بند کردینا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے) ۔ یہ آیت اشہر حرام میں تحریم قتال کے حکم کو متضمن ہے۔ اس مضمون پر دلالت میں اس کی طرح یہ قول باری ہے (الشھرالحرام بالشھرالحرام و الحرمات قصاص ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا) ۔ اسی طرح قول باری ہے ان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھراً فی کتاب اللہ یوم خلق السموت والارض منھا اربعۃ حرم ذلک الدین القیم فلا تظلموافیھن انفسکم۔ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد اس کے نوشتے میں بارہ ہے جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ان میں چار حرمت کے مہینے ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں حجاج نے لیث بن سعد سے، انہوں نے ابوالتربیر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے، آپ نے فرمایا کہ حضور ﷺ اشہر حرام میں کفار سے جنگ نہیں کرتے تھے البتہ اگر آپ پر کافروں کی طرف سے حملہ ہوتا تو پھر ایسا کرتے، جب ماہ حرام آجاتا تو آپ ٹھہر جاتے حتی کہ وہ مہینہ گزر جاتا۔ اس آیت کی منسوخیت کے متعلق اختلاف ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کا قول ہے کہ اس کا حکم باقی ہے منسوخ نہیں ہوا۔ عطاء بن ابی رباح کا بھی یہی قول ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں حجاج نے ابن جریج سے یہ بیان کیا ہے کہ میں نے عطاء بن ابی رباح سے یہ پوچھا کہ پہلے تو ماہ حرام میں مسلمانوں کے لئے جنگ کرنا حلال نہیں ہوتا تھا پھر اس کے بعد وہ اس ماہ میں کافروں سے جنگ کرنے لگ گئے۔ یہ سن کر عطاء نے مجھ سے حلیفہ کہا کہ مسلمانوں کے لئے یہ حلال ہی نہیں کہ وہ حرم اور ماہ حرام میں جنگ کریں الایہ کہ انہیں جنگ پر مجبور کردیا جائے پھر کہنے لگے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ سلیمان بن یسار اور سعید بن المسیب نے کہا ہے کہ ماہ حرام میں بھی قتال جائز ہے اور یہی فقہائے امصار کا قول ہے۔
اور پہلی آیت اللہ کے اس قول سے منسوخ ہے اقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم تمہیں جہاں کہیں بھی مشرک ملیں انہیں قتل کرو۔ اسی طرح قول باری ہے قاتلوا الذین لایومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ان مشرکین سے قتال کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے کہ یہ آیت ماہ حرام میں قتال کی ممانعت کے بعدنازل ہوئی۔ اسی طرح ماہ حرام کے متعلق سائلین کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کون لوگ تھے۔ حسن اور ان کے سوا دوسروں کا کہنا ہے کہ کافروں نے حضور ﷺ سے آکر یہ بات پوچھی تھی ان کے اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو نشانہ تنقید بنایا جائے کیونکہ انہوں نے ماہ حرام میں قتال کو حلال کردیا تھا۔ بعض دوسروں کا قول ہے کہ یہ سوال خود مسلمانوں نے کیا تھا تاکہ اللہ کے متعلق اللہ کے حکم کا پتہ لگ جائے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس آیت کے نزول کا ایک پس منظر ہے۔ وہ ہے ایک مشرک و اقدبن عبداللہ عمرو بن حضرمی کا قتل جس کا وقوعہ مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا تھا۔ اس پر مشرکین نے پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ محمد ﷺ نے ماہ حرام میں قتال کو حلال کردیا۔ اہل جاہلیت حرمت کے مہینوں میں قتال کی حرمت کا اعتقاد رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں بتادیا کہ ماہ حرام میں قتال علی حالہ ممنوع ہے اور مشرکین کے سامنے ان کی دو عملی کو واضح کردیا کہ ایک طرف تو وہ کفر پر اڑے بیٹھے ہیں اور دوسری طرف ماہ حرام میں کسی کے قتل ہوجانے کو گناہ عظیم سمجھتے ہیں حالانکہ کفر سب سے بڑا جرم ہے جبکہ اس کے ساتھ مسجد حرام سے اہل حرم یعنی مسلمانوں کا اخراج بھی عمل میں لایا گیا ہو حالانکہ مسلمان کافروں کی بہ نسبت مسجد حرام میں رہنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ قول باری ہے انما یعمم مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر۔ اللہ کی مسجدوں کو تو صرف وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ اللہ اور مسجد حرام کے ساتھ کفر زیادہ گھنائونا جرم ہے جس کی صورت یہ ہے کہ اللہ نے مسجد حرام کو مسلمانوں کی عبادت گاہ بنائی تھی تاکہ وہ اس میں اللہ کی عبادت کریں۔ کافروں نے وہاں بت رکھ دیے اور مسلمانوں کو وہاں جانے سے روک دیا جس سے مسجد حرام کے ساتھ کفر لازم آگیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے مسلمانوں کو وہاں سے نکال دیا حالانکہ وہ کفار کی بہ نسبت مسجد حرام کے زیادہ حق دار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتادیا کہ ماہ حرام میں ایک مشرک کو قتل کے فعل کی بہ نسبت کافروں کے یہ جرائم زیادہ لائق تنقید ہیں۔