2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 2:240–243

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور خدا زبردست حکمت والا ہے

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان نفقہ دینا چاہئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ پھر ان کو زندہ بھی کردیا کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

طاعون سے بھاگ نکلنے کا بیان قول باری ہے (الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم، (a) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے موت کے خوف سے نکل پڑے حالانکہ ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا جائو۔ پھر انہیں زندہ کردیا) ۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ان کی تعداد چار ہزار تھی اور یہ لوگ طاعون سے بھاگ نکلنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے پھر سب کے سب مرگئے۔ ان پر اللہ کے ایک نبی کا گذر ہوا۔ انہوں نے اللہ سے انہیں انہیں زندہ کردینے کی دعا کی ، اللہ نے انہیں زندہ کردیا۔ حسن بصری سے بھی منقول ہے کہ یہ لوگ طاعون سے بھاگ نکلے تھے۔ عکرمہ کا قول ہیح کہ یہ لوگ جنگ سے بھاگے تھے۔ یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طاعون سے ان کے بھاگ نکلنے کو ناپسند فرمایا تھا۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (اینما تکونوا یدرککم الموت ولوکنتم فی بروج مشیدۃ (a) تم جہاں کبھی ہوگے موت تمہیں آلے گی خواہ تم مضبوط برجوں میں ہی کیوں نہ ہو) اسی طرح قول باری ہے (قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم، (a) آپ کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور ت میں آملے گی) ۔ اسی طرح قول باری ہے (قل لن ینفعکم الفرار ان فرر تم من الموت او لقتل، (a) آپ کہہ دیجئے کہ فرار سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا اگر موت یہ قتل سے فرار اختیار کروگے) نیز ارشاد ربانی ہے (فاذا جآء اجلھم لایتاخرون ساعۃ ولا یستقدمون، (a) پس جس وقت ان کی اجل آجائے گی تو نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے) ۔ جب انسانوں کے اجال موقت اور محصور ہیں کہ ان میں تقدیم و تاخیر کا کوئی امکان نہیں۔ جس کی جو اجل اللہ نے مقرر کردی ہے وہ آگے پیچھے نہیں ہوسکی۔ اب طاعون کے مقام سے جان بچانے کی خاطر بھاگ نکلنا اور اصل اس قانون خداوندی سے روگردانی کے مترادف ہے۔ بدفالی، شگون کی خاطر پرندہ اڑانے اور ستاروں کی چال پر یقین کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔ یہ سب صورتیں دراصل اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے فرار کی شکلیں ہیں حالانکہ کسی کو اس کی قضاء و قدر سے نکلنے کا یارا نہیں ہوتا، عمرو بن جابر الحضرمی سے روایت ہے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (الفرار من الطاعون کالفرار من الزحف والصابر فیہ کالصابر فی الزحف، (a) طاعون کے مقام سے بھاگنا اسی طرح گناہ کی بات ہے جس طرح میدان جنگ اور لشکر اسلام سے فرار ہونا اور طاعون کی وبا میں صبر کرکے اپنی جگہ مقیم انسان میدان جنگ میں ڈٹ جانے والے انسان کی طرح ہے) ۔ یحییٰ بن کثیر نے سعید بن المسیب سے، انہوں نے حضرت سعد ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ (لاعدویٰ وادطیرۃ وان تکن الطیرۃ فی شیء فھی فی الفرس ولمرأۃ والدار واذا سمعتم یالطاعون بارض و لستم بھا فلاتھیلوا علیہ واذا کان وانتم بھا فلا تخرجوانوارا عنہ (a) چھوت اور بدفالی کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر کسی چیز میں بدشگونی ہوتی تو گھوڑے، عورت یا گھر میں ہوتی۔ اگر تمہیں کسی علاقے میں طاعون پھوٹ پڑنے کی خبر ملے اور تم اس علاقے کے اندر نہ ہو تو وہاں نہ جائو اور اگر کسی جگہ تمہارے ہوتے ہوئے یہ بیماری پھیل جائے تو اس سے بھاگنے کی خاطر وہاں سے نہ نکلو) ۔ حضرت ابامہ بن زید ؓ کے واسطیح سے طاعون کے متعلق حضور ﷺ سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے۔ زہری نے عبدالحمید بن عبدالرحمن سے ہے، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن عبداللہ بن نوفل سے، انہوںں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ سرزمین شام کی طرف گئے جب مقام سرغ میں پہنچے تو تاجروں نے اطلاع کردی کہ وبائی بیماری پھیلی ہوئی ہے۔ آپ نے مہاجرین و انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا لیکن ان حضرات کی آراء میں اختلاف تھا۔ آپ نے واپسی کا عزم کرلیا تھا اس پر امیر لشکر اسلام حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ ” آیا یہ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر سے فرار نہیں ہے ؟ “ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ” ابو عبیدہ کا شکریہ بات تمہارے سوا کسی اور کی زبان سے نکلی ہوتی ! ہم اللہ کی ایک قضائو قدر سے نکل کر دوسری تضائو قدر کی طرف جارہے ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے اونٹ ہوتے اور انہیں لے کر تم ایک وادی میں داخل ہوجاتے جس کے دو کنارے ہوتے ایک کنارا سرسبز و شاداب اور دوسرا خشک اور قحط زدہ بنجر ہوتا اگر تم سرسبز حصے میں اپنے اونٹ چراتے تو بھی اللہ کی قضائو قدر کے مطابق چراتے اور اگر خشک حصے میں چراتے تو بھی اللہ کی قضائو قدر کے مطابق چراتے۔ “ اسی دوران حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ وہاں آگئے اور فرمایا کہ میرے پاس اس بارے میں حضور ﷺ کا ارشاد موجود ہے۔ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ (اذا سمعتم بہ فی الارض فلا تقدموا علیہ واذا وقع بارض وانتم بھا فلا تخرجوا فواراً منہ، (a) جب تم کسی علاقے میں وباء کے متعلق سنو تو ادھر نہ جائو اور اگر تم کسی ایسی جگہ موجود ہو اور وہاں یہ وباء پھوٹ پڑیح تو اس سے بھاگ نکلنے کی خاطر وہاں سے نہ نکلو) ۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے اللہ تعالیٰ کا شکر اور حمدو ثناء کی پھر وہیں سے مدینہ منورہ لوٹ گئے ان تمام روایات میں طاعون سے بچ نکلنے کی خاطر طاعون کی جگہ سے نکل جانے کی ممانعت ہے نیز طاعون کی جگہ میں جانے کی بھی ممانعت ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ جب بندوں کے آجال مقرر و محصور ہیں کہ ان میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی تو اس کی کیا وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے ایسی سرزمین میں داخل ہونے سے منع فرمادیا جہاں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہو جبکہ آپ نے وہاں سے اس وباء کی وجہ سے نکلنے سے بھی روک دیا حالانکہ وہاں جانے اور وہاں ٹھہرے رہنے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ نہی کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص وہاں جائے گا تو عین ممکن ہے کہ وہ طاعون میں مبتلا ہوکر مرجائے۔ اس صورت میں کہنے والے کو یہ کہنے کا موقعہ مل جائے گا کہ اگر وہ وہاں نہ جاتا تو اس کی موت واقع نہ ہوتی۔ اس لئے حضور ﷺ نے وہاں جانے سے روک دیا تاکہ ایسی بات نہ کہی جائے کیونکہ یہ بات قضاء و قدر کے خلاف ہے۔ اس کی مثال یہ قوری باری ہے (یآ یھا الذین اٰمنوا لاتکونوا کالذین کفروا وقالو لاخوانھم اذا ضربوا فی الارض اوکانوا غری لوکانوا عندنا ماماتو وما قتلوا لیجعل اللہ ذٰلک حسرۃ فی قلوبھم، (a) اے ایمان لانے والو ! کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں اور وہاں کسی حادثے سے دو چار ہوجاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے۔ اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت و اندوہ کا سبب بنادیتا ہے) ۔ حضور ﷺ نے اسے پسند نہیں کیا کہ کوئی شخص ایسی جگہ پر اپنی اجل کی بنا پر مرجائے اور پھر جاہل لوگ یہ کہتے پھریں کہ اگر وہاں نہ جاتا تو نہ مرتا۔ ایک شاعر نے اس مفہم کو بہت اچھے طریقے سے اپنے ان دو شعروں میں ادا کیا ہے۔ یقولون لی لوکان بالرمل لم تمت بثنید والانبیاء یکذب قیلھا (a) ولوانی استودع تھا الشمس لاھتدت الیھا المنا یا عینھا ودلیلھا (a) لوگ مجھے کہتے ہیں کہ اگر تم مقام رمل میں ہوتے تو بثینہ نہ مرتی حالانکہ خبریں اس بات کی تکذیب کرتی ہیں۔ اگر میں بثینہ کو سورج کے اندر بھی چھپا دیتا پھر بھی اس کی موت بعینہ وہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتی۔ ہمارے اس بیان کردہ معنی پر حضور ﷺ کا یہ قول (لایورون ذوعاھۃ علی مصح، (a) کوئی آفت والا یعنی متعدی مرض والا کسی صحت مند کے پاس ہرگز نہ جائے) محمول کیا جائے گا جبکہ آپ کا یہ قول بھی موجود ہے (لاعدوی ولاطیرۃ ، (a) چھوت اور بدفالی کی کوئی حیثیت نہیں ہے) ۔ تاکہ کسی صحت مند کو متعدی مرض والے کے پاس جانے کی بنا پر بیماری لگ جانے کی صورت میں یہ نہ کہا جائے کہ اسے اس بیماری کے قرب کی وجہ سے تعدیہ ہوگیا ہے یعنی بماری لگ گئی ہے۔ حضور ﷺ سے ایک دفعہ عرض کیا گیا کہ ابتدائی خارش تو اونٹ کی تھوتھنی میں ہوتی ہے۔ لیکن دوسرے اونٹوں کو خارش کی بیماری لگ جاتی ہے۔ یعنی اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری میں تعدیہ یعنی چھوت موجود ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا (فما اعدی الاول (a) پھر پہلے اونٹ میں کسی چیز نے چھوت پیدا کردی) ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت زبیر ؓ نے ایک شہر فتح کرنا چاہا ان سے کہا گیا کہ وہاں تو طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہے لیکن حضرت زبیر ؓ اس میں داخل ہوگئے اور فرمایا کہ ” ہم تو طعن یعنی نیزہ بازی اور طاعون کے لئے ہی آئے ہیں۔ “ یہ بھی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے جب شام کی طرف عساکر اسلامی روانہ کئے تو آپ کچھ دوران کے ساتھ گئے اور یہ دعا کی کہ ” اے اللہ ! انہیں طعن یعنی نیزوں اور طاعون کے ذریعے فنا کر “ حضرت ابوبکر ؓ کے اس قول کی تاویل میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ کچھ کا یہ قول ہے کہ جب حضرت ابوبکر ؓ نے لشکریوں کو ایمان پر استقامت اور صحیح بصیرت، نیز کفار سے جہاد کی بےتابی کی کیفیت میں پایا تو آپ کو خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں یہ کسی آزمائش میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ دوسری طرف شام کا علاقہ طاعون کی بیماری کے لئے مشہور تھا۔ اس لئے آپ نے یہ چاہا کسان کی موت اسی حالت میں واقع ہو جس حالت میں یہ مدینے سے نکلے ہیں اور انہیں دنیا اور اس کی چمک دمک کی آزمائش میں پڑنے کا موقعہ ہی نہ آئے۔ کچھ دوسرے اہل علم کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک بار فرمایا تھا (فناء امتی بالطعن والطاعون (a) میری امت کی موت نیزی بازی اور طاعون میں لکھی ہوئی ہے۔ یہاں لفظ امتی، سے آپ کی مراد جیل القدر صحابہ کرام ہیں۔ آپ نے یہ اطلاع دے دی کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ہاتھوں ممالک فتح کرائے گا جن کی صفت یہ ہوگی۔ اس بنا پر حضرت ابوبکر ؓ نے یہ توقع ظاہر کی کہ شام کی طرف جانے والی فوجیں ہی وہی لوگ ہوں جن کا حضور ﷺ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اسی لئے آپ نے دعا کے الفاظ کے ذریعے ان کی حالت کی خبر دے دی۔ یہی وجہ ہے کہ شامی محاذ کے سپہ سالار اعظم حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ نے شام کے علاقے سے نکلنا پسند نہیں کیا۔ حضرت معاذ ؓ شام میں تھے جب وہاں طاعون کی وباء پھیلی آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں بھی اس وبا کا ایک حصہ عطا کر۔ جب آپ کی ہتھیلی میں نیزہ لگا تو آپ نے اس زخم کو چومنا شروع کردیا اور کہنے لگے کہ اگر میرے کف دست میں فلاں فلاں چیزیں ہوتیں تو مجھے خوشی نہ ہوتی لیکن نیزے کے زخم کی انتہائی خوشی ہے (چونکہ اس زخم کی بنا پر حضرت معاذ ؓ کو اپا تعلق حضور ﷺ کی متذکرہ بالا حدیث سے نظر آنے لگا تھا۔ اسی بنا پر آپ اس خوشی کا اظہار کررہے تھے) ۔ آپ کہتے کہ ” کاش میں بچہ ہوتا کیونکہ بعض دفعہ بچے پر اللہ تعالیٰ کی برکت نازل ہوتی ہے “ اس قول سے آپ طاعون کے مرض میں مبتلا ہونے کی تمنا کا اظہار کرتے تاکہ آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہوجائیں جن کی صفت حضور ﷺ نے یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں ممالک فتح کرائے گا اور ان کی وجہ سے اسلام کو غلبہ عطا کرے گا۔ آیت میں ان لوگوں کے قول کے بطلان پر دلالت موجود ہے جو عذاب قبر کے منکر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عذاب قبر کا اقرار دراصل تناسخ کے قول کو تسلیم کرنا ہے (تناسخ کا عقیدہ یہ ہے کہ انسانی روح فنا نہیں ہوتی بلکہ موت کے بعد وہ کوئی اور روپ دھار لیتی ہے اس کا یہ روپ اس کی پہلی زندگی کے مطابق ہوتا ہے اور پہلی زندگی میں پن یعنی نیکی غالب ہوگی تو دوسری زندگی کا یہ روپ اچھا ہوگا۔ اگر پہلی زندگی میں باپ یعنی گناہ غالب ہوگا تو دوسری زندگی کا روپ برا ہوگا۔ ہندوئوں کا یہی عقیدہ ہے) ۔ آیت میں اس قوم کا بطلان اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ اس نے اس قوم کو موت سے ہمکنار کردیا پھر انہیں زندہ کردیا اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں قبر میں بھی زندہ کردے گا اور اگر وہ عذاب کے سزاوار ہوں گے تو انہیں وہیں عذاب بھی دے دے گا۔
Ayah 2:244

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور (مسلمانو ! ) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) سنتا (اور سب کچھ) جانتا ہے

قول باری ہے (وقاتلوا فی سبیل اللہ واعلموٓا ان اللہ سمیع علیم۔ (a) اور اللہ کے راستے میں قتال کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے) اس آیت میں اللہ کے راستے میں قتال کا حکم ہے لیکن یہ حکم مجمل ہے کیونکہ اس میں اس سبیل کا ذکر نہیں ہے جس کے ذریعے قتال کیا جائے۔ البتہ دوسرے مواقع میں اس کا ذکر ہے۔ ہم جب ان مواقع میں پہنچیں گے تو انشاء اللہ تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے میں اس کو کئی حصے زیادہ دے گا ؟ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

قول باری ہے (من ذا الذین یقرض اللہ قرضاً حسناً فیضاعفہ لہ اضعافاً کثیرۃ، (a) کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے کہ پھر اللہ اسے اس کے لئے کئی گنا کردے) آیت میں لطیف ترین کلام اور بلیغ ترین پیرایہ بیان کے ذریعے نیکی کے کاموں اور بھلائی کی راہوں میں اتفاق کی دعوت دی گئی ہے۔ اسے قرض نام دیا تاکہ نیکی کے کاموں پر ثواب کے استحقاق کی تاکید ہوجائے۔ کیونکہ قرض کا لازمی طورپر عوض ہوت ہے جس کا قرض دینے والا مستحق ہوتا ہے۔ یہود کو اس لطیف نکتے کی خبر نہ ہوسکی یا انہوں نے جان بوجھ کر جاہل بننے کی کوشش کی چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے قرض مانگ رہا ہے گویا ہم دولتمند ہیں اور وہ (نعوذ باللہ) ہمارا محتاج ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء، (a) بیشک اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بات سن لی ہے جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم مال دار ہیں) ۔ لیکن دوسری طرف اہل اسلام نے اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیا اور انہیں اللہ کی طرف سے دیئے جانے والے ثواب اور کئے جانے والے وعدے کا پورا وثوق ہوگیا جس کے نتیجے میں وہ صدقات و خیرات میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں کوشاں ہوگئے۔ روایت ہے کہ آپ پر جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوال حد ؓ اح حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سے قرض مانگ رہا ہے اور میرے پاس دو زمینیں ہیں ایک اوپر کی طرف یعنی عالیہ میں اور دوسری نیچے کی جانب یعنی سافلہ میں۔ اب میں اس میں سے بہتر زمین کو اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔
Ayahs 2:246–247

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں ؟ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھرگئے اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہے بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں پیغمبر نے کہا کہ خدا نے اس کو تم پر (فضیلت دی ہے اور بادشاہی کیلیے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے

قول باری ہے (ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا قالوا انی یکون لہ الملک علینا، (a) بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ بناکر بھیجا ہے۔ کہنے لگے کہ ہم پر اسے کس طرح حکومت حاصل ہوسکتی ہے) آیت اس پر دلالت کررہی ہے کہ امامت میں وراثت نہیں ہے کیونکہ جب یہود نے اپنے اوپر ایسے شخص کو بادشاہ بنائے جانے کو ناپسند کیا جو اہل نبوت اور سلطنت میں سے نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ طالوت علم اور قوت کی بنا پر اس اعزاز کے مستحق ٹھہرے ہیں نسب کی بنا پر نہیں۔ نیز آیت کی اس پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ علم اور ذاتی فضائل کے مقابلے میں نسب کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ خوبیاں نسب پر مقدم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اس نے طالوت کا انتخاب ان کے علم اور قوت کی بنا پر کیا ہے اگرچہ دوسرے یہود ان سے نسب کے لحاظ سے افضل تھے۔ یہاں جسم کا ذکر دراصل طالوت کی جسمانی قوت اور طاقت کی زیادتی سے عبارت ہے کیونکہ عادۃً جس شخص کے جسم میں پھیلائو زیادہ ہوتا ہے اس کی طاقت و قوت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں موٹاپا مراد نہیں کہ جس میں قوت و طاقت کا فقدان ہو اس لئے کہ جنگ کے اندر ایسے جسم کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہوتی بلکہ یہوبال جان ہوتا ہے جبکہ یہ اعلیٰ قوت کا مالک نہ ہو۔
Ayahs 2:248–249

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائیگا کہ) وہ میرا نہیں اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائیگا) میرا ہے ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلّو بھر پانی لے لے (تو خیر جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے

قول باری ہے (فمن شرب منہ فلیس منی ومن لم یطعمہ فانہ منی لا من اغترف غرفۃ بیدہ، (a) جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے۔ ہاں ایک آدھ کلو کوئی پی لے تو پی لے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دریا سے پینے سے مراد منہ لگاکر اور اپنے ہونٹ پانی پر رکھ کر پنا ہے۔ اس لئے کہ آیت میں دریا سے پینے اور پیاس بجھانے کی ممانعت تھی۔ البتہ ایک آدھ چلو بھر لینے کی اجازت تھی۔ یہ تشریح امام ابوحنیفہ کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے۔ ” میں نے اگر دریائے فرات سے پانی پی لیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ “ تو اسے منہ لگاکر پینے پر محمول کیا جائے گا۔ اگر اس نے چلو بھر کر یا کسی برتن میں ڈال کر دریا کا پانی پی لیا تو حانث نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں انہیں دریا سے پانی پینے کی ممانعت کردی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ پیاس بجھانے سے بھی انہیں روک دیا گیا تھا۔ لیکن اس سے چلو بھر لینے کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا۔ اس لئے شرب یعنی پانی پینے کی ممانعت بحالہ باقی رہی اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ چلو بھر لینا شرب میں داخل نہیں ہے۔
Ayahs 2:250–256

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل میں آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر کفار پر فتح یاب کر)

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا اور خدا نے ان کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے نہ ہٹاتا رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمد ﷺ تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتا) بھیجتے رہے ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی اور اگر خدا چاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاش کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہوسکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں اور زمین میں سے سب اسی کا ہے کون ہے کہ اسکی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کرسکے، جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کرسکتے، ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اسکی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف) طور پر ظاہر اور گمراہی سے الگ ہوچکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کچھ ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور جانتا ہے

قول باری ہے (لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی، (a) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط بات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے) ۔ ضحاک، سدی اور سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے (یآیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین، (a) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو) ۔ نیز یہ قول باری ہے (فاقتلوا المشرکین، (a) مشرکین کو قتل کرو) حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے حق میں جزیہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف ایک ہی راستہ تھا اسلام یا تلوار۔ ایک قول ہے کہ یہ آیت انصار کے ان بعض اولاد کے متعلق نازل ہوئی تھی جنہیں ان کے والدین نے اسلام لانے پر مجبور کیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر سے یہی روایت ہے۔ اس کی تشریح میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ ” جو شخص جنگ کے بعد اسلام لے آیا ہو اسے یہ نہ کہو کہ وہ زبردستی مسلمان ہوگیا ہے، اس لئے کہ جب وہ اسلام لانے پر رضامند ہوگیا اور درست طریقے سے اسلام لے آیا تو اب زبردستی کی صورت باقی نہ رہی۔ ابو بکر حصاص کہتے ہیں کہ قول باری (لا اکراہ فی الدین) (a) کی خیر کی صورت میں امر ہے۔ اس میں اس کی گنجائش ہے کہ مشرکین کے ساتھ قتال کے حکم سے پہلے اس آیت کا نزول ہوا ہو۔ اس لئے اس کا حکم تمام کفار کو عام ہو۔ جس طرح کہ یہ قول باری ہے (اد فع بالتیھی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم، (a) آپ نیکی سے بدی کو ٹال دیا کیجئے تو پھر یہ ہوگا کہ جس شخص میں اور آپ میں عداوت ہے وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (ادفع بالتیھی احسن السیئۃ، (a) آپ نیکی سے بدی کو ٹال دیا کیجئے) نیز قول باری ہے (وجادلھم بالتیھی احسن، (a) آپ ان کا مقابلہ نیکی سے کیجئے) اسی طرح قول باری ہے (واذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاماً ۔ (a) اور جب ان سے جہالت والے لوگ بات چیت کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں خیر) ۔ ابتدائے اسلام میں قتال کی ممانعت تھی حتیٰ کہ مخالفین کے سامنے حضور ﷺ کی نبوت کی صحت کی حجت قائم ہوگئی لیکن جب حجت تام ہونے اور معاملہ واضح ہوجانے کے بعد بھی مخالفین نے معاندانہ رویہ اپنائے رکھا تو مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کا حکم ملا گیا۔ اس لئے زیر بحث آیت میں مندرج حکم مشرکین عرب کے حق میں قول باری (واقلتوا المشرکین حیث وجدتموھم، (a) اور مشرکین کو تم جہاں کہیں بھی پائو قتل کردو) کی بنا پر منسوخ ہوگیا۔ البتہ اہل کتاب کے حق میں آیت کا حکم باقی رہا۔ بشرطیکہ وہ جزیہ کی ادائیگی تسلیم کرلیں اور اہل اسلام کے حکم اور ان کی ذمہ داری میں داخل ہوجائیں۔ اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ حضور ﷺ نے مشرکین عرب سے اسلام یا تلوار کے سوا اور کوئی بات قبول نہیں کی۔ اس آیت میں یہ بھی جائز ہے کہ اس کا حکم فی الحال تمام کافروں کے لئے ثابت ہو۔ اس لئے کہ اگر کوئی بھی مشرک یہودی یا عیسائی ہوجائے تو اسے اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ ہم اسے جزیہ کے بدلے اس کے دین پر باقی رہنے دیں گے۔ اب اگر آیت کا حکم ان تمام مشرکین کے لئے ثابت ہے جنہوں نے اہل کتاب کا دین اختیار کرلیا ہو تو پھر آیت امام شافعی کے قول کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ان کا قول ہے مجوس یا نصاریٰ میں سے جو شخص یہودیت اختیار کرے گا اسے اپنے دین کی طرف لوٹ جانے یا اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ آیت بہرحال اس قول کے بطلان پر دلالت کررہی ہے کیونکہ اس میں یہ حکم ہے کہ ہم کسی کو دین کے معاملے میں مجبور نہ کریں۔ اس حکم میں جو عموم ہے اسے تمام کفار کے حق میں اس طرح استعمال کرنا ممکن ہے جو ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ سوال اٹھائے کہ حضور ﷺ کو مشرکین عرب کے ساتھ قتال کا حکم دیا گیا اور ان سے اسلام یا تلوار کے سوا اور کوئی صورت قبول نہ کرنے کا امر ہوا اس طرح گویا انہیں دین کے معاملے میں مجبور کردیا گیا اور یہ بات تو واضح ہے کہ جو شخص زبردستی دین اسلام میں داخل ہوگاوہ مسلمان نہیں ہوگا۔ آخر اسلام پر انہیں مجبور کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ انہیں اسلام کے اظہار پر مجبور کیا گیا تھا۔ اسلام کے اعتقاد پر مجبور نہیں کیا گیا تھا کیونکہ اعتقاد پر مجبور کرنا ہمارے نزدیک درست نہیں ہوتا۔ اسی بنا پر حضور ﷺ کا ارشاد ہے (امرت ان اقاتل الناس حتیٰ یقولوا لا الٰہ الا اللہ فاذا قالوھا عصموا منی دماء ھم واموالھم الابحقھا دحسابھم علی اللہ، (a) میں تو اس پر مامور ہوں کہ لوگوں سے جنگ کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ، (a) یعنی کلمہ توحید کا اقرار کرلیں۔ جب وہ ایسا کرلیں گے تو وہ میرے ہاتھوں سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کرلیں گے اور ان پر صرف اسی وقت ہاتھ ڈالا جائے گا جب کسی کا حق ان پر لازم ہوجائے گا اور ان کا حساب و کتاب اللہ کے ذمے ہوگا) حضور ﷺ نے اس حدیث میں یہ بتادیا کہ مشرکین سے قتال صرف اظہار اسلام کی خاطر ہوتا ہے۔ رہ گئے ان کے اعتقادات تو وہ اللہ کے سپرد ہیں نیز حضور ﷺ نے اپنی نبوت کی صحت پر دلیل و برہان اور حجت قائم کئے بغیر ان مشرکین سے قتال نہیں کیا۔ گویا نبوت کی صحت کے دلائل اعتقاد اور اظہار اسلام دونوں کے لئے قائم کئے گئے تھے۔ کیونکہ ان دلائل کی وجہ سے جہاں مشرکین پر اسلام لانا اور اسلام کے متعلق اعتقاد پیدا کرنا لازم ہوجاتا وہاں یہ دلائل ان سے اظہار اسلام کے بھی متقاضی ہوتے اور جنگ اظہار اسلام کے لئے ہوتی تھی۔ اس میں بڑے بڑے مصالح پوشیدہ تھے ایک تو یہ کہ جب ایک مشرک اسلام کا اظہار کردیتا اگرچہ عقیدۃً وہ اسے تسلیم نہ کرتا۔ تو اس صورت میں مسلمانوں کے ساتھ اس کی مجالست، قرآنی آیات کی سماعت، حضور ﷺ کی نبوت کے دلائل کے مشاہدات اور ان کا پے درپے وقوع اسے اسلام کی طرف بلانے اور اس کے اپن عقیدئہ شرک کے فساد کی وضاحت کا باعث بنتے۔ ایک اور مصلحت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ ان لوگوں کی نسل میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو عقیدئہ توحید کے پرستار بنیں گے اس لئے انہیں قتل کرنا درست نہیں تھا جبکہ یہ علم بھی ہو کہ ان کی اولاد میں موحدین اور اہل ایمان پیدا ہوں گے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اہل کتاب میں سے اگر کسی کو اسلام پر مجبور کرکے مسلمان بنالیا جائے تو وہ ظاہری طور پر مسلمان شمار ہوگا اور اسے اپنے دین کی طرف لوٹ جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ البتہ اگر وہ اپنے سابقہ دین کی طرف لوٹ جائے گا تو اس کی گردن نہیں ماری جائے گی اور اسے دین اسلام میں داخل ہونے پر مجبور کیا جائے گا کیونکہ جب ایک شخص دائرہ اسلام میں داخل ہوجائے تو اکراہ یا جبر کی وجہ سے اسلام کا حکم زائل نہیں ہوتا اگرچہ اس کا بالجبر اسلام میں دخول اس بات دال ہوتا ہے کہ اس کے دل میں اسلام کے عقیدے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم ان مشرکین کے اسلام کا حال بیان کر آئے ہیں جو حضور ﷺ کے قتال کی وجہ سے مسلمان ہوگئے تھے۔ درج بالا حدیث میں حضور ﷺ کا ارشاد (امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الٰہ الا اللہ فاذا قالوھا عصموا منی دماء ھم واموالھم الابحقھا) (a) اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ نے قتال کے موقع پر اظہار اسلام کو اسلام کے حکم میں داخل کرلیا۔ اس لئے اہل ذمہ میں سے جو شخص زبردستی اسلام میں داخل ہوا ہو اسے بھی اسلام کے حکم میں داخل کرنا ضروری ہوگیا۔ انہیں شک کا فائدہ دے کر قتل نہیں کیا گیا۔ ہمیں اس مسئلے میں فقہاء کے کسی اختلاف کا علم نہیں ہے کہ اگر اہل اسلام سے برسر جنگ کسی قوم کا کوئی جنگی قیدی سزائے موت پانے کے لئے لایا جائے اور وہ اس وقت کلمہ اسلام پڑھ لے تو وہ مسلمان شمار ہوگا۔ قتل کے خوف سے اس کا اسلام لانا اور اس سے اسلام کا حکم زائل نہیں کرسکے گا اسی طرح ذمی کا بھی مسئلہ ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ قول باری (لا اکراہ فی الدین) (a) ذمی کو اسلام میں زبردستی داخل کرنے کی ممانعت کررہا ہے اور جب اس طرح کا اکراہ ممنوع ہے تو ضروری ہے کہ ایسا شخص اسلام کے حکم میں شمار نہ کیا جائے اور نہ ہی اسلام کا کوئی حکم اس سے متعلق ہو۔ نیز اس معاملے میں ذمی کا حکم حربی کے حکم کی طرح نہ ہو کیونکہ حربی کی طرف سے مسلمانوں کے ذمے میں آنے سے انکار اسلام میں اسے زبردستی داخل کرنے کے جواز کا باعث بن سکتا ہے لیکن جو شخص مسلمانوں کے ذمے میں آکر ذمی بن گیا اسے اسلام پر مجبورکرنا درست نہیں ہوگا۔ اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ جب یہ ثابت ہوگیا کہ جن لوگوں کو اسلام پر مجبور کرنا جائز ہے ان کے حق میں زبردستی اور خوش دلی کے لحاظ سے اسلام کے حکم میں کوئی فرق اور اختلاف نہیں ہوتا اس بنا پر اس کی مشابہت عتق، طلاق اور ایسے تمام عقود کے ساتھ ہوگئی جن میں جد اور ہزل (سنجیدگی سے کوئی بات کہنا یا کام کرنا جد کہلاتا ہے اور مذاق اور لا ابالی انداز سے ایسا کرنا ہزل کہلاتا ہے) دونوں کے حکم میں یکسانیت ہوتی ہے اور اختلاف نہیں ہوتا۔ پھر اس کے بعد اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اکراہ کا حکم دیا گیا تھا یا اس کی اجازت دی گئی تھی جس طرح کہ اس لحاظ سے عتق اور طلاق کے حکم میں فرق نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اگر کسی شخص نے کسی کو طلاق یا عتاق پر مجبور کردیا تو ان دونوں کا حکم اس پر ثابت ہوجائے گا۔ اگرچہ مجبور کرنے والا اس لحاظ سے ظالم قرار دیا جائے گا کہ اسے ایسا کرنے سے روکا گیا تھا لیکن اسے ایسا کرنے سے روک دیا جانا ہمارے نزدیک عتاق اور طلاق کے حکم کو باطل نہیں کرے گا۔ یہی صوت حال اسلام پر مجبور کرنے کی بھی ہے۔
Ayahs 2:257–259

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجئے۔ یہ سن کر کافر حیران رہ گیا۔ اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق سے گزر ہو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا تو خدا نے اسکی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا کہ تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہو ہو اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے کی) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

قول باری ہے (قال لبثت یوماً او بعض یوم قال بل لبثت مائۃ عام، (a) اس نے کہا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ گزارا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمای تو نے یہاں ایک سو برس گزارے ہیں) اس قائل کا قول کذب بیانی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے تو اسے ایک سو برسوں تک موت کی حالت میں رکھا تھا، اس نے اپنے خیال کے مطابق یہ کہا تھا گویا اس نے یوں کہا تھا کہ ” میرے خیال میں میں ایک دن یا دن کا بعض حصہ گزارا ہوں۔ “ اس کی نظیر اصحاب کہف کی زبان سے ادا ہونے والا فقرہ ہے جس کی حکایت اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کی ہے (قال قائل منھم کم لبثتم قالوا لبثنا یوماً او بعض یوم) (a) حالانکہ انہوں نے تین سو نو سال گزارے تھے، انہوں نے اپنے خیال کے مطابق جو بات کہی تھی اس میں انہیں کاذب قرار نہیں دیا جاسکتا گویا انہوں نے یوں کہا تھا۔ ” ہمارے خیال میں ہم نے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ گزارا ہے۔ اس کی نظیر حضور ﷺ کا وہ قول ہے جو آپ نے اس وقت فرمایا تھا جب چار رکعتوں والی ایک فرض نماز کی آپ نے دو رکعتیں ادا کیں اور اس پر ایک صحابی ذوالیدین ؓ نے عرض کیا تھا کہ آیا نماز مختصر کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا (لم تقصرولم انس، (a) نہ نماز مختصر ہوئی اور نہ ہی میں بھولا ہوں) حضور ﷺ اپنے اس قول میں سچے تھے کیونکہ آپ نے اس بات کی اطلاع دی تھی جو آپ کے اپنے ظن اور گمان کے مطابق تھا۔ آپ کے گمان میں یہ تھا کہ آپ نے نماز پوری ادا کی ہے۔ کلام کے اندر اس بات کی گنجائش ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص اپنے ظن و تخمین کے مطابق کسی بات کی اطلاع دے تو وہ قابل گرفت نہیں ہوتی۔ البتہ حقیقت نفس الامری کے متعلق اطلاع نہ دے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے لغو قسم کھانے والے کو درگذر کردیا ہے اور روایت کے مطابق اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے پوچھے کہ آیا فلاں بات یا فلاں واقعہ پیش آیا ہے ؟ جس کے جواب میں وہ شخص اپنے خیال کے مطابق کہے کہ ” نہیں بخدا نہیں “ یا یوں کہے کہ ” بخدا کیوں نہیں “ اگرچہ حقیقت نفس الامری اس کے خلاف ہو۔ اس شخص کی گرفت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے قسم کھاکر جو جواب دیا تھا وہ اس کے عقیدے اور ضمیر کے مطابق تھا۔ واللہ الموفق۔
Ayahs 2:260–262

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن (میں دیکھنا) اس لیے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان حاصل کرلے خدا نے کہا کہ چار جانور پکڑو اور اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھو دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے، وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال اللہ کے راستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس تیار ہے اور (قیامت کے روز) نہ انکو کچھ خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے

صدقہ دے کر احسان جتلانا قول باری ہے (الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ ثم لایتبعون ما انفقوا منا ولا اذی لھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون، (a) جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں پھر احسان نہیں جتاتے نہ دکھ دیتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لئے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں) ۔ اسی طرح قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذیٰ کالذی ینفق مالہ رئا الناس ولایومن باللہ والیوم الاٰخر، (a) اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت پر) ۔ اسی طرح قول باری ہے (قول معروف ومغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعھا اذی، (a) ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دکھ ہو) ایک جگہ ارشاد ہے (وما اتیتم من ربا لیربو فی اموال الناس فلا یربو عند اللہ وما اٰتیتم من زکوۃ تریدون وجہ اللہ فائولئک ھم المضعفون (a) اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہوکر وہ بڑھ جائے اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا۔ اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو اسی کے دینے والے درحقیقت اپنا مال بڑھاتے ہیں) ۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ بتلادیا ہے کہ صدقات اگر خالصۃً اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں ہوں گے نیز احسان جتلانے اور اذیت پہنچانے سے مبرا نہ ہوں گے تو وہ درحقیقت صدقات ہی نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے اجر اور ثواب کے حبط ہوجانے کی وجہ سے یہ باطل ہوجائیں گے اور صدقہ دینے والے کی حیثیت یہ ہوجائے گی کہ گویا اس نے صدقہ دیا ہی نہیں ہے۔ اسی طرح وہ تمام کی تمام عبادات ہیں جو تقرب الیٰ اللہ کی خاطر کی جاتی ہیں۔ ان میں ریاکاری یا اللہ کی خوشنودی کے علاوہ کسی اور عنصر کا شامل ہوجانا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ چیز اس عبادت کو باطل کردیتی ہے۔ قول باری ہے (ولا تبطلوا اعمالکم، (a) اور تم اپنے اعمال باطل نہ کرو) ۔ نیز ارشاد ہے (وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفآء، (a) انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔ اطاعت اور فرمانبرداری کو اسی کے لئے خالص کرکے اور تمام باطل طریقوں سے منہ موڑ کر) ۔ اس لئے جس عبادت میں اللہ کے لئے خالص فرمانبرداری نہیں پائی جائے گی اس پر اس کے فاعل کو کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (من کان یرید حوث الاٰخرۃ نخلہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ فی الاٰخرۃ من نصیب، (a) جو شخص آخرت کی کھیتی طلب کرے گا ہم اس کی کھیتی میں اور اضافہ کردیں گے اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہے گا ہم اسے دنیا میں سے دیں گے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا) ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ حج کرنے، نماز ادا کرنے ، قرآن کی تعلیم دینے اور ایسے تمام افعال میں کسی کو کرایہ پر رکھنا جائز نہیں ہے جو تقرب الٰہی اور اس کی خوشنودی کی خاطر سرانجام دیئے جائیں کیونکہ ان پر اجرت لینا انہیں قربت یعنی تقرب الٰہی کا ذریعہ بننے کے دائرے سے خارج کردیتا ہے۔ درج بالا آیات اس استدلال کی بنیاد ہیں۔ نیز ان آیات کے نظائر سے بھی اس دعوے کی تائید ہوتی ہے۔ عمرو نے حسن بصری سے آیت (لاتبطلوا صدقاتکم بالمن والاذیٰ ) (a) کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ اس سے مراد ایسا صدقہ ہے جس پر انسان جتایا جائے اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمادیا۔ حسن بصری نے مزید کہا کہ صدقہ کرنے والے کو اللہ کی حمدو ثناء کرنی چاہیے کہ اس نے اسے صدقہ کرنے کی راہ دکھلائی اور توفیق عطاء کی۔ قول باری (مثلو الذین ینفقون اموالھم ابتغاء موضات اللہ وتثبیتاً من انفسھم، (a) ان لوگوں کی مثال جو اپنے اموال اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں۔۔۔ ) کی تفسیر میں حسن بصری سے مروی ہے کہ یہ لوگ تحقیق و جستجو کرتے ہیں کہ صدقات کہاں دیئے جائیں۔ شعبی سے مروی ہے کہ دل کے ثبات اور یقین کے ساتھ اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ پورے اعتماد کے ساتھ، صدقہ میں احسان جتلانے کی صورت یہ ہے کہ صدقہ کرنے والا یوں کہے کہ ” میں نے فلاں کے ساتھ احسان کیا ہے۔ “ یا ” میں نے اسے خوش حال کردیا ہے “۔ یا ” میں نے فلاں کو مال دار بنادیا ہے۔ “ وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے ان باتوں سے صدقہ لینے والے کو اذیت ہوگی اور اسے بڑی ناگواری ہوگی۔ صدقہ میں اذی یعنی دکھ پہنچانے کی صورت یہ ہے کہ صدقہ دینے والا صدقہ لینے والے سے کہے کہ ” تو تو ہمیشہ فقیر ہی رہتا ہے۔ “ یا ” میں تو تیری وجہ سے مصیبت میں پھنس گیا ہوں “۔ یا ” اللہ تعالیٰ تجھ سے میری جان چھڑا دے۔ “ وغیرہ۔ ایسے اقوال جن میں صدقہ لینے والے کی فقیری اور تنگ دستی کا ذکر بطور طنز و استحقار کیا جائے۔ قول باری ہے (قول معروف ومغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعھا اذی) (a) یعنی واللہ اعلم۔۔۔ اچھے الفاظ سے اسے ٹال دینا۔ لفظ (مغفرۃ) (a) کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ سائل کے سامنے اپنی ضرورت مندی کی پردہ پوشی کرنا، ایک قول ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم کی معافی دے دینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے دکھ پہنچانا ہو۔ کیونکہ صدقہ کرنے والا احسان جتاکر اور دکھ پہنچا کر گناہ کا مستحق ٹھہرتا ہے اور سائل کو بھلے الفاظ کے ذریعے ٹال دینے میں اللہ کی نافرمانی میں بچائو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ اچھے الفاظ کو ٹال کر صدقہ نہ دینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد احسان جتانا اور دکھ پہنچانا آجائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (واما تعرضن عنھم ابتغآء رحمۃ من ربک ترجوھا فقل لھم قولاً میسوراً ۔ (a) اگر ان سے یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے تمہیں کترانا ہو اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کررہے ہو تو انہیں نرم جواب دے دو ) ۔ واللہ تعالیٰ الموفق۔