2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 2:263–267

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بےادبی ہے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپرواہ اور بردبار ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

مومنو ! اپنے صدقات (و خیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا جو لوگوں کو دکھاوے کیلیے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلیے اور خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کو باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہو بگولا چلے اور وہ جل (کر راکھ کا ڈھیر ہو) جائے ؟ اس طرح خدا تم سے اپنی آئتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

مومنو ! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہو اور وہ چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سے نکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو اور جان رکھو کہ خدا بےپرواہ (اور) قابل ستائش ہے

کمائی کرنے کا بیان قول باری ہے (یآ ایھا الذین امنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ۔ (a) اے ایمان والو ! جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ تم نے زمین سے تمہارے لئے نکالا ہے اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو) ۔ اس آیت میں کمائی کی صورتوں کی اباحت کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ کمائیوں میں پاکیزہ صورتیں بھی موجود ہیں۔ کمائی دو طرح سے ہوتی ہے۔ اموال اور ان کے منافع کی ادلا بدلی کے ذریعے اور چیزوں سے حاصل شدہ فوائد کی ادلا بدلی کے ذریعے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی صورت کی اباحت کا کئی مواقع پر صراحتہً ذکر فرمادیا ہے۔ ارشاد ہے (واحل اللہ البیع، (a) اللہ نے بیع یعنی خریدو فروخت کو حلال کردیا) اسی طرح ارشاد ہے (واٰخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اللہ واٰخرون یقاتلون فی سبیل اللہ، (a) کچھ لوگ ہیں جو زمین میں چل پھر کر اللہ کا فضل تلاش کررہے ہیں اور کچھ دوسرے ہیں جو اللہ کی راہ میں لڑ رہے ہیں) ۔ اسی طرح ارشاد ہے (لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربکم، (a) تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو) یعنی ۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ جو شخص تجارت کرے یا اپنی چی کرایہ پردے دے اور اس کے ساتھ حج بھی کرلے تو اس کے لئے یہ کوئی گناہ کی بات نہیں ہے۔ چیزوں سے حاصل ہونے والے فوائد کی ادلا بدلی کے متعلق قول باری ہے (فان ارضعنا لکم فآتوھن اجورھن ، (a) اگر وہ تمہارے لئے تمہارے بچوں کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دے دو ) ۔ اسی طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قول قرآن کے الفاظ میں ہے (انی ارید ان انکحک احدبنتی ھا تین علی ان تاجرنی ثمانی حجج، (a) میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں میں سے ایک بیٹی تم سے اس شرط پر بیاہ دوں کہ تم آٹھ برسوں تک میرا کام کروگے) ۔ مزدور کی مزدوری پہلے طے کرلی جائے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (من استاجرا جیرا فلیعلمہ اجرہ، (a) جو شخص کسی کو مزدوری پر رکھے اسے اس کی مزدوری بتادے۔ آپ کا یہ ارشاد بھی ہے (لان یاخذ احدکم جلاً فیحتطب خیرلہ من ان یسال الناس اعطوہ اومنعوہ۔ (a) تم میں سے کوئی شخص ایک رسی لے کر جنگل میں چلا جائے اور وہاں سے لکڑیاں سمیٹ کرلے آئے یہ اس سے بہتر ہے کہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا پھرے پھر لوگ چاہیں تو اس کی جھولی میں کچھ ڈال دیں اور چاہیں تو اسے کچھ نہ دیں) ۔ اعمش نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے اسود سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان اطیب ما اکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ، (a) انسان کے لئے پاکیزہ ترین غذا وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی ہو اور اس کا بیٹا بھی اس کی کمائی ہے) سلف کی ایک جماعت سے قول باری (انفقوا من طیبات ما کسبتم) (a) کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد تجارت کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ان حضرات میں حسن بصری اور مجاہد بھی شامل ہیں۔ اس آیت کا عمول تمام اموال میں صدقہ واجب کرتا ہے۔ اس لئے کہ قول باری (ماکسبتم) (a) تمام اموال پر مشتمل ہے اگرچہ یہ بیان اموال میں واجب صدقہ کی مقدار کی وضاحت کے لئے کافی نہیں ہے تاہم یہ اموال کے جملہ اصناف کو شامل ہے اور مقدار واجب کے بیان میں مجمل ہے۔ جسے بیان اور وضاحت کی ضرورت تھی۔ پھر جب حضور ﷺ کی جانب سے اس اجمال کی تفصیل اموات میں صدقات کی واجب مقادیر کی شکل میں آگئی تو اب آیت کے علوم سے ہر اس مال میں صدقہ کے وجوب پر استدلال کرنا درست ہوگیا جس میں ایجاب صدقہ کے متعلق اختلاف رائے ہے مثلاً اموال تجارت وغیرہ۔ جو لوگ عروض یعنی مال اسباب پر زکوٰۃ کی نفی کرتے ہیں۔ ظاہر آیت سے ان کے خلاف استدلال کیا جاسکتا ہے نیز گھوڑوں پر زکوٰۃ کے وجوب کے سلسلے میں بھی آیت سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ہر وہ مال جس میں وجوب زکوٰۃ کے متعلق اختلاف رائے ہو آیت سے وجوب کے حق میں استدلال ہوسکتا ہے۔ وہ اس طرح کہ قول باری (انفقوا) (a) سے مراد صدقہ یعنی زکوٰۃ ہے۔ اس کی دلیل قول باری (ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون، (a) اور ایسا نہ ہو کہ تم اس کی راہ میں دینے کے لئے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو) یعنی یہ بری سے بری چیز اللہ کی راہ میں صدقہ کرو۔ سلف اور خلف میں اس پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد صدقہ ہے یعنی زکوٰۃ ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے ک اس سے مراد نفلی صدقہ ہے کیونکہ جب زکوٰۃ یعنی فرض صدقہ میں ردی مال ادا کیا جائے گا تو زائد حصہ ادا کرنے والے کے ذمے باقی رہے گا۔ ہمارے نزدیک اس تاویل سے لفظ کو وجوب سے نفل کی طرف کئی وجوہ سے منتقل کرنا لازم آئے گا۔ اول یہ کہ لفظ (انفقوا) (a) امر کا صیغہ ہے۔ اور ہمارے نزدیک امر وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسی دلالت قائم ہوجائے تو ندب یعنی استحباب وغیرہ کی نشاندہی کرتی ہو تو اس صورت میں امر وجوب کے لئے نہیں ہوگا۔ قول باری (ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون) (a) میں کوئی ایسی دلالت موجود نہیں جو ندب یعنی غیر وجوب اور استحباب کی نشاندہی کرتی ہو۔ کیونکہ یہ بات نہیں ہے کہ راہ خدا میں ردی مال دینے کی نہی صرف نفلی صدقے کے ساتھ خاص فرض کے ساتھ نہیں ہے اور یہ کہ ردی یعنی گھٹیا اور عمدہ مال کے درمیان فرق کی بنا پر جو زائد مال ہوگا اس کا ادا کرنا بھی واجب ہے۔ اس لئے کہ آیت میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ البتہ یہ بات کسی اور دلالت سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس لئے یہ بات ایجاب صدقہ میں آیت کے مقتضیٰ کی راہ میں یہ حائل نہیں ہوسکتی۔ تاہم اگر آیت کی اس پر دلالت بھی ہوتی کہ زکوٰۃ ادا کرنے والے کے ذمے اس گھٹیا مال کے سوا جس کی وہ ادائیگی کرچکا ہے اور کو یء ادائیگی نہیں ہے پھر بھی یہ بات آیت کے حکم کو وجوب سے ندب یعنی استحباب کی طرف موڑ دینا لازم قرار نہیں دیتی کیونکہ یہ صورت جائز ہے کہ خطاب کی ابتداء ایجاب کے ساتھ ہو پھر اس پر ایسے حکم کو عطف کیا جائے جو ایجاب کے عموم کے بعض مقتضیات کے ساتھ خاص ہو لیکن اس بات سے یہ چیز لازم نہیں آتی کہ ابتدائے خطاب کے حکم کو عموم کے مفہوم سے ہٹاکر خصوص کے مفہوم میں منحصر کردیا جائے۔ اس کے بہت سے نظائر ہے جن کا ہم نے متعدد مواقع پر ذکر کیا ہے۔ قول باری (ومما اخرجنا لکم من الارض) (a) میں زمین کی قلیل اور کثیر ہر صنف اور ہر قسم کی پیداوار میں ایجاب حق یعنی وجوب زکوٰۃ کے لئے عموم ہے۔ اس آیت سے امام ابوحنیفہ نے اس پر استدلال کیا ہے کہ زمین میں جن فصلوں اور چیزوں کی بالارادہ کاشت لی جاتی ہے ان کی قلیل اور کثیر ہر صنف اور ہر قسم کی پیداوار میں عشر یعنی دسواں حصہ بطور زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے۔ سلسلہ تلاوت میں آیت کا اگلہ حصہ (ولستم باخذیہ الا ان نغمضوا فیہ، (a) اور تم خود بھی اسے لینے والے ہیں ہو الا یہ کہ چشم پوشی کرجائو) پوری ایت کے مفہوم کے تناظر میں اس پر دلالت کرتا ہے کہ صدقات سے مراد صدقات واجبہ یعنی زکوٰۃ و عشر وغیرہ ہیں۔ کیونکہ اغماض کی صورت دیون میں ہوتی ہے کہ جب صاحب دین اپنے دین کی ادائیگی کا مطالبہ کرے گا تو اسے عمدہ مال کی بجائے گھٹیا مال نہیں دیا جائے گا الا یہ کہ وہ خود چشم پوشی کرلے اور تساہل برت جائے۔ یہ اس پر دال ہے کہ یہاں صدقہ سے مراد صدقہ واجبہ ہے کیونکہ ۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ دیون کی ادائیگی کا جب تقاضا کیا جائے گا تو اس صورت میں اغماض کی شکل پیدا ہوگی اگر اس سے مراد نفلی صدقہ ہوتا تو اس میں اغماض کی ضرورت ہی پیش نہ آتی کیونکہ نفلی صدقہ کرنے والے کو اختیار ہوتا ہے کہ قلیل یا کثیر مال کا صدقہ کرے اسے یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ سرے سے صدقہ ہی نہ کرے۔ اسی بیان میں یہ دلیل پوشیدہ ہے کہ اس سے مراد صدقہ واجبہ ہے۔ قول باری (ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون) (a) کے سلسلے میں زہری نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے صدقہ میں دو قسم کے کھجور دینے سے منع فرمادیا ہے ۔ ایک جعرور اور دوسرا لون جیق زہری کہتے ہیں کہ لوگ بدترین قسم کے کھجور صدقہ میں نکالتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ولا تیممو الخبیث منہ تنفقون) (a) حضرت براہ بن عازب ؓ سے اسی طرح کی روایت ہے۔ آپ نے قول باری (ولستم باخذیہ الا ان تغمضوا فیہ) (a) کی تفسیر میں فرمایا : ” اگر تم میں سے کسی کی طرف وہی چیز بطور ہدیہ بھیج دی جائے جو اس نے خود صدقے کے سلسلے میں کسی کو دیا ہو تو وہ اسے ہرگز قبول نہ کرے۔ البتہ چشم پوسی اور شرما شرمی میں وہ اسے قبول کرے گا۔ “ عبیدہ کا قول ہے کہ یہ بات زکوٰۃ میں ہوتی ہے۔ لیکن ایک کھوٹا درہم مجھے کھجور سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ابن معقل سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں مروی ہے کہ لوگوں کے مال مویشیوں میں خبیث یعنی گھٹیا مال نہیں ہوتا، خبیث کا تعلق سکوں یعنی کھوٹے سکوں اور ردی دراہم ودنانیر سے ہے۔ آپ نے (ولستم بخذیہ) (a) کے سلسلے میں کہا ہے کہ اگر کسی شخص پر قرض وغیرہ کی صورت میں تمہارا حق ہو تو تم کھوٹے اور ردی درہم نہیں لوگے اور اگر کھجور لینے کی صورت ہو تو صرف عمدہ کھجور قبول کروگے۔ الا (a) یہ کہ تم اغماض برتو یعنی اسے برداشت کرجائو۔ حضور ﷺ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ آپ نے مویشیوں کی زکوٰۃ کے متعلق تحریری طور پر جو ہدایت دی تھی اس میں یہ الفاظ تھے (ولا توخذ ھرمۃ ولا ذات عوار، (a) اور نہ ہی صدقہ میں بوڑھا جانور لیا جائے گا اور نہ ہی عیب دار جانور) ۔ یہاں جانور سے مراد بھیڑ بکریاں ہیں۔ اس کی روایت زہری نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد سے کی ہے۔ قول باری (الا ان تغمضوا فیہ) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ الا (a) یہ کہ تم اس کی قیمت میں کمی کردو۔ “ حسن بصری اور قتادہ سے بھی اسی قسم کی تفسیر مروی ہے۔ حضرت براء بن عازب ؓ نے فرمایا : ” الا (a) یہ کہ تم تساہل برتو۔ “ ایک قول ہے کہ تم خود اسے لینے والے نہیں مگر کم قیمت پر تو پھر اسے قدصہ میں کس طرح دے سکتے ہو۔ اس میں درج بالا تمام معانی کا احتمال موجود ہے اور یہ جائز ہے کہ یہ تمام احتمالات اللہ کی مراد بھی ہوں اور اس کا مفہوم یہ ہوجائے کہ لوگ اللہ کے راستے میں جو گھٹیا مال دیتے ہیں اور اگر وہی مال ہدیہ کے طور پر دیا جائے تو اسے شرما شرمی قبول کریں گے۔ اگر خود وصول کرنا ہو تو عمدہ مال کے مقابلے میں اسے چشم پوشی اور نیم دلی سے وصول کریں گے اور اگر اس مال کے بدلے کوئی چیز فروخت کریں گے تو قیمت گھٹا کر اور تھوڑی قیمت پر ایسا کریں گے۔ اگر کسی شخص پر مکیل یا موزون کی جنس سے کوئی چیز واجب ہو اور وہ واجب شدہ عمدہ جنس سے کم تر ردی اور گھٹیا جن ادا کردے تو فقہاء کے درمیان اس میں اختلاف ہے کہ آیا اس پر زائد کی ادائیگی ضروری ہوگی یا نہیں۔ امام ابوحنیفہ اور امام یوسف کا قول ہے کہ واجب نہیں ہوگی اور امام محمد کا قول ہے کہ گھٹیا اور بڑھیا کے درمیان فرق کی بنا پر جو زائد جنس لازم ہوگی اس پر اس کی ادائیگی واجب ہوگی۔ تاہم بھیڑ بکریوں، گایوں، بیلوں اور مکیل و موزون کے تحت نہ آنے والی تمام اجناس کی زکوٰۃ کے متعلق تینوں حضرات کا یہ قول ہے کہ بڑھیا اور گھٹیا مال کے درمیان فرق کی وجہ سے جو زائد مال نکلے گا۔ اس پر اس کی ادائیگی واجب ہوگی۔ اس بنا پر امام محمد کے قول کے لئے اس آیت سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ قول باری (ولاتیمموا الخبیث منہ تنفقون) (a) میں خبیث سے مراد روی اور گھٹیا چیز ہے۔ اور قول باری (ولستم باخذیہ الا ان تغمضوا فیہ) (a) سے اس بات کا جواز ثابت ہوتا ہے کہ حق والے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا حق وصول کرنے میں چشم پوشی نہ کرے اور نہ ہی تساہل کرے بلکہ عمدہ مال میں سے اپنا حق مانگے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ حق ادا کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ بڑھیا اور گھٹیا کے فرق کی بنا پر پیدا ہونے والے زائد مال کی ادائیگی کردے تاکہ چشم پوشی کا وقوع نہ ہو۔ کیونکہ اس سلسلے میں اصل حق تو اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے اور اللہ نے صدقہ میں اغماض کی یوں نفی کردی ہے کہ ردی مال دینے سے روک دیا ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام یوسف کا استدلال یہ ہے کہ ہر ایسی چیز جس میں تفاضل یعنی کمی بیشی جائز نہیں تو تفاضل کی ممانعت کے لحاظ سے اس میں بڑھیا اور گھٹیا دونوں کا حکم یکساں ہوتا ہے اور اس کے جنس میں سے اس کی قیمت اس کے مثل کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کسی نے قرض کی وصولی کرلی اور یہ سمجھتا رہا کہ واپس لی ہوئی رقم بڑھیا سکون میں لوٹائی گئی ہے پھر اس نے یہ صرف کرلی اور اس کے بعد پتہ چلا کہ سکے گھٹیا تھے تو اب وہ زائد رقم کی ادائیگی اس پر لازم نہیں ہوگی۔ امام ابو یوسف یہ ضرور کہتے ہیں کہ اس صورت میں قرض خواہ وصول کردہ رقم کی مثل اپنے قرض دار کو واپس کرکے پھر اس سے اپنے قرض کی وصول کے لئے رجوع کرے گا۔ لیکن یہ بات صدقہ کی صورت میں ممکن نہیں ہے۔ اس لئے کہ فقیر کے ذمے کسی رقم کی واپسی لازم نہیں ہوتی اور اگر فقیر اس رقم کا تاوان بھر بھی دے گا۔ یعنی صدقہ کرنے والے کو وہ رقم واپس بھی کردے گا پھر بھی اسے یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ صدقہ کرنے والے سے یہ مطالبہ کرے کہ اسے عمدہ سکوں میں یہ رقم لوٹا دے گا۔ اس بنا پر اس پر زائد رقم دینا واجب نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے تو صدقہ کرنے والے کو گھٹیا مال صدقہ یعنی زکوٰۃ میں دینے سے روک دیا اور اس پر عمدہ مال واجب تھا۔ یہ حضرات بھی اسی کے قائل ہیں کہ اسے گھٹیا مال صدقہ میں دینے سے روک دیا گیا ہے۔ یلکن درج بالا سطور میں ہماری وضاحت کی روشنی میں اس نے صدقہ میں جو دیا ہے اس کا حکم وہی ہوجائے گا جو عمدہ مال کا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا دیا ہوا مال ہی کافی ہوجائے گا اور زائد مال دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن ایسا مال جس میں تفاضل جائز ہے۔ اس مال میں زکوٰۃ کے اندر گھٹیا مال ادا کرنے کی صورت میں اس پر واجب ہوگا کہ وہ گھٹیا اور بڑھیا کے فرق کی وجہ سے لازم ہونے والا زائد مال ادا کرے۔ کیونکہ اس میں امکان ہے کہ اس کے مال کی جنس میں سے اس کی قیمت اداکئے ہوئے مال سے زائد ہو اور دوسری طرف اس مال میں تفاصل یعنی کمی بیشی کی صورت میں بیع بھی جائز ہے۔ امام محمد عمدہ مال میں سے گھٹیا مال بطور صدقہ نکالنا جائز قرار نہیں دیتے اور اگر کوئی ایسا کرے تو اس کی ادائیگی عمدہ مال کی قیمت کے حساب سے ہوگی اور اس طرح ادائیگی میں جو کمی رہ جائے گی اس پر اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔ اس لئے کہ غلام اور اس کے آقا کے درمیان کوئی ربوا نہیں ہوتا۔ آیت زیر بحث میں اس بات پر دلالت موجود ہے کہ دیون کی تمام صورتوں میں عمدہ سکوں کی جگہ گھٹیا سکے وصول کرلینا جائز ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (الا ان تغمضوا فیہ) (a) میں دیون کی وصولی کے سلسلے میں اغماض کی اجازت دے دی ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں رکھا ہے۔ اس لئے اس کی معانی پر دلالت ہورہی ہے۔ ایک تو یہ کہ بیع سلم کے راس المال اور سونے چاندی کی بیع کے ثمن جن میں ان کی جگہ کوئی اور چیز لینا درست نہیں ہے۔ ان دونوں میں عمدہ سکوں کی جگہ گھٹیا سکے، جن کا ادنیٰ درجہ کھوٹے سکے اور اعلیٰ درجہ چاندی کے سکے ہیں۔ طلب کرنا اور وصول کرلینا جائز ہے۔ اور یہ اس پر دال ہے کہ اس معاملے میں ردی سکے کا حکم وہی ہے جو عمدہ سکے کا ہے۔ یہ بات اس پر بھی دلالت کررہی ہے کہ ردی چاندی کے بدلے عمدہ چاندی کی بیع جائز ہے بشرطیکہ دونوں کا وزن یکساں ہو۔ کیونکہ جس مال میں اس کے عمدہ صفت کے حامل حصے کی بجائے گھٹیا صفت کے حامل حصے کی وصولی درست ہو تو اس میں گھٹیا صفت والے حصے کے بدلے اعلیٰ صفت والے حصے کی بیع بھی درست ہوگی۔ اس کی اس پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ حضور ﷺ کے قول (الذھب الذھب مثلا بمثل، (a) سونے کے بدلے سونا برابر برابر) میں مماثلت سے مراد وزن میں مماثلث ہے نہ کہ صفت میں، یہی حکم ان تمام چیزوں کا ہے جو حضور ﷺ کی حدیث میں سونے کے ساتھ مذکور ہیں نیز اس پر دلالت ہورہی ہے کہ ردی کے بدلے جید یعنی عمدہ سکے یا مال وصول کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ قرض دار اس پر رضامند ہو۔ جس طرح کہ عمدہ سکے یا مال کے بدلے ردی اور گھٹیا سکے یا مال وصول کرلینا درست ہے۔ کیونکہ ان دونوں سکوں یا مال کا صفت کے اندر اختلاف کوئی حکم نہیں رکھتا۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ (خیرکم احسنکم قضلو، (a) تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو ادائیگی میں سب سے اچھا ہے) حضرت جابر بن عبد ؓ اللہ کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے میرا قرض ادا کیا اور ساتھ کچھ زائد بھی دے دیا۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری، سعید بن المسیب، ابراہیم نخعی اور شعبی سے مروی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک شخص کسی کو سیاہ دراہم بطور قرض دے اور اپنا قرض سعید دراہم کی شکل میں واپس لے لے بشرطیکہ وہ قرض دیتے وقت اس کی شرط عائد نہ کرے۔ سلیمان التمیمی نے ابو عثمان النہدی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ کو یہ بات ناپسند تھی کہ کوئی شخص کسی کو دراہم کی صورت میں قرض دے کر اس سے بہتر دراہم کی شکل میں اپنا قرض واپس لے لے ۔ لیکن حضرت ابن مسعود ؓ سے اس روایت میں ایسی کوئی دلالت نہیں ہے کہ آپ کو یہ بات ناپسند تھی جبکہ قرض لینے والا اس پر رضامند ہو۔ عدم جواز کی صورت تو صرف وہ ہے جبکہ قرض خواہ قرضدار کی رضامندی کے بغیر دراہم وصول کرے۔
Ayah 2:268

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

(اور دیکھنا) شیطان (کا کہا نہ ماننا وہی) تمہیں تنگدستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

قول باری ہے (الشیطان یعدکم الفقر ویامرکم بالفحشاء، (a) شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے) اس کے متعلق ایک قول ہے کہ لفظ فحشاء، (a) کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے لیکن اس جگہ اس سے مراد بخل ہے۔ عرب کے لوگ بخیل کو ’ فاحش ‘ (a) اور بخل کو ’ فحش ‘ (a) کہتے ہیں۔ ایک شاعر کا شعر ہے۔ ادی الموت یعتام الکرام ویصطفی عقیلۃ مال الفاحش المتشدد (a) میں موت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمدہ صفات کے حامل افراد کو چن لیتی ہے۔ یعنی انہیں جلد موت آجاتی ہے جس طرح کہ سخت قسم کے بخیل انسان کے مال مویشی میں سے عمدہ جانور چن لئے جائیں۔ یہاں شاعر نے الفاحش کو بخیل کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اس آیت میں بخیل اور بخل دونوں کی مذمت کی گئی ہے۔
Ayahs 2:269–271

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے اور جس کو دانائی ملی بیشک اس کو بڑی نعمت ملی اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم (خدا کی راہ) میں جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اسکو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اسطرح) کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے

قول باری ہے (ان تبدوا الصدقات فنعماھی وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء فھو خیر لکم، (a) اگر اپنے صدقات علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو تو یہ بھی اچھا ہے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت نفلی صدقہ کے بارے میں ہے لیکن صدقہ واجبہ کا اظہار افضل ہے تاکہ عدم ادائیگی کے الزام سے دامن بچا رہے۔ حسن بصری، یزید بن ابی حبیب اور قتادہ کا قول ہے کہ تمام صدقات میں اخفا افضل ہے اللہ تعالیٰ نے صدقہ کے اظہار کی اسی طرح تعریف کی ہے جس طرح صدقہ کے اخفاء کی۔ قول باری ہے (الذین ینفقون اموالھم باللیل والنھار سراً وعلانیۃ فلھم اجرھم عند ربھم، (a) جو لوگ اپنا مال رات اور دن میں چھپا کر اور علانیہ (اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے نزدیک اجر ہے) ۔ اور یہ جائز ہے کہ قول باری (وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء فھو خیر لکم) (a) نفلی صدقہ کے متعلق ہو جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ قول باری ان تمام صدقات کے متعلق ہو جن کی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کرنے والوں پر ہو خواہ وہ نفلی صدقات ہوں یا صدقات واجبہ۔ اور وہ صدقات ان میں داخل نہ ہوں جن کی وصولی امام المسلمین کے ذمہ ہو۔ تاہم آیت کا عموم تمام صدقات کا متقاضی ہے کیونکہ ’ الصدقات ‘ (a) الف لام جنس کے لئے ہے اس بنا پر یہ صدقہ کی تمام اقسام کو شامل ہے۔ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ تمام صدقات کا مصرف فقراء ہیں اور فقراء صرف فقر کی بنا پر ان کے مستحق ہیں۔ کسی اور وجہ سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (انما الصدقات للفقراء والمساکین) (a) میں صدقات کے جن مصارف کا ذکر فرمایا ہے ان کا استحقاق بھی فقر کی بنا پر ہے کسی اور وجہ سے نہیں۔ اصناف کا ذکر اس لئے ہوا ہے کہ ان تمام میں جو بات مشترک پائی جاتی ہے وہ فقر ہے۔ اور اسباب فقران سب کو عام ہے۔ البتہ ان مصارف میں سے مولفتہ القلوب اور عالمین زکوٰۃ صدقہ کو بطور صدقہ نہیں لیتے بلکہ امام المسلمین کے ہاتھوں میدں یہ صدقات فقراء کے لئے آتے ہیں پھر ان کو مؤلفتہ القلوب اور عالمین پر صدقہ کی بنا پر خرچ نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے عمل کے عوض کے طور پر خرچ کیا جاتا ہے یا اہل اسلام سے ان کی ایذاء رسانی کو دور رکھنے یا انہیں اسلام کی طرف راغب کرنے کے لئے خرچ کیا جاتا ہے۔ اس آیت سے ہمارے مخالفین نے یہ استدلال کیا ہے کہ صدقات کی تمام مدیں فقراء کو دینا جائز ہے۔ امام المسلمین کو ان کی ادائیگی ضروری نہیں، نیز یہ کہ جب لوگ مویشیوں کی زکوٰۃ فقراء کو دے دیں تو پھر امام کا حق باقی نہیں رہتا کہ وہ ان سے اس کی وصولی کرے۔ کیونکہ قول باری ہے (وان تخفوھا وتوتوھا الفقرآء فھو خیرلکم) (a) یہ آیت تمام صدقات کے لئے عام ہے کیونکہ لفظ ’ الصدقۃ ‘ اسم جنس ہے۔ ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں ہمارے نزدیک کوئی ایسی دلالت موجود نہیں ہے جس سے ان مخالفین کا قول ثابت ہوجائے۔ اس لئے کہ آیت میں زیادہ سے زیادہ جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کرنے والے کے لئے یہ طریقہ بہتر ہے۔ اس سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ وصولی کے سلسلے میں امام کا حق ساقط ہوگیا۔ نیز از خود ادائیگی کا بہتر ہونا وصولی کے سلسلے میں امام کے حق کے منافی نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کہ از خود ادائیگی کرکے بہتر صورت حال حاصل کرلی جائے اور امام کو دوبارہ ادا کرکے اس خیر کو اور بڑھالیا جائے۔ علاوہ ازیں ہم نے پہلے ذکر کردیا ہے کہ بعض لوگوں کا قول ہے کہ زیر بحث آیت نفلی صدقہ کے متعلق ہے۔ صدقہ واجبہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ بعض اہل علم کا یہ قول ہے کہ اس بات پر گویا اجماع ہوگیا ہے کہ صدقہ واجبہ یعنی زکوٰۃ و عشر وغیرہ کی اعلانیہ ادائیگی چھپا کر ادا کرنے سے افضل ہے۔ جیسا کہ فرض نمازوں کے متعلق فقہاء کا قول ہے۔ اسی بنا پر اہل اسلام کو حکم دیا گیا کہ وہ فرض نمازوں کے لئے اذان دیں اقامت کہیں اور اعلانیہ جماعت کی صورت میں اس کی ادائیگی کریں۔ یہی حکم تمام فرض عبادتوں کا ہے تاکہ کسی زکوٰۃ یا نماز کی عدم ادائیگی کا الزام عائد نہ ہوسکے۔ ان حضرات کا قول ہے کہ درج بالا تشریح کی روشنی میں یہ ضروری ہے کہ قول باری (وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء فھو خیر لکم) (a) کا تعلق نفلی صدقہ کے ساتھ ہو کیونکہ نفلی عبارات کی پس پردہ ادائیگی اعلانیہ ادائیگی سے افضل ہے۔ اس لئے کہ اس صورت میں ریاکاری کا کم سے کم شائبہ ہوتا ہے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا (سبعۃ یظلھم اللہ فی ظل عرشہ احدھم دجل تصدق بصدقۃ لم تعلم شمالہ ماتصدقت بہ یمینہ، (a) سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا۔ ان میں سے ایک وہ ہوگا جس نے اللہ کی راہ میں صدقہ دیا ہوگا لیکن اس قدر چھپا کر کہ بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلا ہوگا کہ اس نے اپنے دائیں ہاتھ سے کیا دیا) یہ صورت صرف نفلی صدقہ کی ہے فرض کی نہیں۔ آیت سے نفلی صدقہ مراد ہے۔ اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنے مویشیوں کی زکوٰۃ نہ نکالی ہو اور اس کے پاس اس کی وصولی کے لئے عامل یعنی سرکاری کارندہ آجائے تو اس صورت میں اس پر لازم ہوگا کہ وہ زکوٰۃ سرکاری کارندہ کے حوالے کردے۔ اس لئے اس صورت میں زکوٰۃ کی اعلانیہ ادائیگی اس پر فرض ہوجائے گی۔ اس میں یہ دلیل پوشیدہ ہے کہ قول باری (وان تخفوھا وتوتوھا الفرآء) (a) سے مراد نفلی صدقہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب !
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے اور (مومنو ! ) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم تو جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لے کرو گے اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا

صدقہ کے مال میں سے مشرک کو کچھ دینا قول باری ہے (لیس علیک ھداھم ولکن اللہ یھدی من یشآء وما تنفقوا من خیر فلانفسکم (a) تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہچیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لئے بھلا ہے) ۔ ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ اس خطاب کے گزشتہ حصے اور اس کی ترتیب اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قول باری (لیس علیک ھدھم) (a) کا معنی غیر مسلموں کو صدقہ کا مال دینے میں آپ کے ذمہ ان کی ہدایت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے خطاب کی ابتدا اس قول (ان تندوا الصدقات فنعماھی) (a) سے کی پھر اس پر اس قول (لیس علک ھداھم) (a) کو عطف کیا۔ پھر اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا (وما تنفقوا من خیر فلانفسکم) (a) یہ ساری ترتیب نیز ابتدائے خطاب اور صدقہ کے ذکر کا تاخر اس پر دلاتے کرتے ہیں کہ اس سے مرادان لوگوں کو صدقہ دینے کی اباحت ہے خواہ وہ دین اسلام پر نہ بھی ہوں۔ یہ بات سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے : جعفر بن ابی المغیرہ سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر نے کہا کہ حضور ﷺ نے حکم دیا تھا کہ الا تصدقوا الاعلیٰ اھل ینکم (a) صرف اپنے دینی مذہب والوں کو صدقہ دو ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی (لیس علیک ھداھم) (a) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا (تصدقوا علی اھل الادیان (a) تم مختلف مذاہب والوں کو صدقہ دے سکتے ہو) حجاج نے سالم المکی سے، انہوں نے ابن الحنفیہ سے روایت کی ہے کہ لوگ مشرکین کو صدقہ دینا ناپسند کرتے تھے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی (لیس علیک ھداھم ) (a) اس کے بعد لوگ انہیں نفلی صدقہ دینے لگے۔ ابو جصاص کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ” پھر لوگ انہیں نفلی صدقہ دینے لگے “ کس کا کلام ہے۔ اس میں یہ گنجائش ہے اس سے مراد زکوٰۃ اور مویشیوں کی صدقات واجب نہ ہوں بلکہ دوسرے صدقات مثلاً قسموں کے کفارے وغیرہ مراد ہوں۔ نیز درج بالا قول آیت کی تخصیص کو واجب نہیں کرتا کیونکہ ان کا یہ فعل و جوب کا مقتضی نہیں ہے لیکن انہیں یہ اختیار ہے کہ چاہیں تو غیر مسلموں کو صدقہ دے دیں اور چاہیں تو نہ دیں۔ اعمش نے جعفر بن ایاس سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ بہت سے لوگ ایسے تھے جن کی بنو قریظہ اور بنو نظیر کے ساتھ رشتہ داریاں تھیں وہ انہیں صدقات و خیرات دینے سے پرہیز کرتے تھے وہ چاہتے تھے کہ یہ لوگ پہلے مسلمان ہوجائیں پھر انہیں صدقات دیئے جائیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (لیس علیک ھداھم ولکن اللہ یھدی من یشاء) (a) تاآخر آیت ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ ہے۔ انہوں نے اپنی والدہ اسماء سے روایت کی کہ حضرت اسماء ؓ نے فرمایا ۔ میری والدہ قریش کے زمانے میں میرے پاس کچھ لینے کی غرض سے آئی، وہ ابھی مشرک تھی، میں نے حضور ﷺ سے اسے کچھ دینے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے اس کی اجازت دے دی۔ ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ اس معنی پر زیر بحث آیت کی دلالت کی نظر وہ دلالت ہے جو اس قول باری (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما اسیرا۔ (a) اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) میں موجود ہے۔ حسن بصری سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ قیدی ہیں جو مشرکین میں سے گرفتار ہوکر آئے تھے۔ سعید بن جبیر ؓ اور عطاء سے مروی ہے کہ اس سے مراد اہل قبلہ یعنی مسلمان واہل کتاب اور مشرکین مراد ہیں۔ ابو بکر جصاص کہتے کہ پہلی بات زیادہ واضح ہے کیونکہ دارالسلام میں مشرک کے علاوہ اور کوئی اسیر جنگ نہیں ہوتا۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (لآ ینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطو الیھم (a) اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تمہارے ساتھ قتال نہیں کیا اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا کہ تم ان کے ساتھ نیکی نہ کرو اور انصاف سے پیش نہ آئو) اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ نیکی کرنے کو مباح قرار دیا خواہ وہ مشرکین ہی کیوں نہ ہوں بشرطیکہ ہمارے ساتھ برسر پیکار نہ ہوں۔ اور صدقات بھی بر (a) یعنی نیکی کی ایک صورت ہے۔ اس بنا پر آیت انہیں صدقہ دینے کے جواز کا تقاضا کرتی ہے۔ گزشتہ آیات کے ظواہرکا تقاضا تو یہ ہے کہ تمام صدقات خواہ نفلی ہوں یا فرض، انہیں دیئے جاسکتے ہیں۔ لیکن حضور ﷺ نے اپنے اس قول (امرت ان آخذ الصدقۃ من اغنیاء کم ورد ھا فی فقراء کم (a) مجھے یہ حکم ملا ہے کہ تمہارے مال داروں سے صدقات لے کر تمہارے فقراء کو دے دوں) کے ذریعے ہر قسم کی زکوٰۃ اور مویشیوں کے صدقات نیز صدقات کی ایسی مدات جن کی وصولی امام المسلمین کی ذمہ داری ہے آیات کے اس عمومی حکم سے خاص کردی ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت معاذ ؓ کو آپ کا یہ حکم بھی موجود ہے (اعلمھم ان اللہ فرض علیھم حقا فی اموالھم یوخذ من اغنیاء ھم ویرد علی فقراء ھم (a) اہل یمن کو بتادو کہ اللہ نے ان کے اموال میں ایک حق فرض کردیا ہے۔ یہ حق یعنی زکوٰۃ ان کے مال داروں سے لے کر ان کے فقراء کو لوٹا دیا جائے گا) اس طرح ایسے صدقات جو امام المسلمین وصول کرتا ہے انہیں منجملہ صدقات سے خاص کردیا گیا ہے۔ اسی بنا پر امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ ہر ایسا صدقہ جس کی وصولی امام کی ذمہ داری نہیں ہے اسے اہل ذمہ کو دے دینا جائز ہے لیکن جو صدقہ امام وصول کرتا ہو اس کا دینا جائز نہیں۔ امام ابوحنیفہ نے کفارے کی مختلف صورتوں میں دی جانے والی رقمیں صدقہ فطر اور نذر کی رقم اہل ذمہ کو دے دینا جائز قرار دیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مال کی زکوٰۃ کی وصولی امام کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن اسے اہل ذمہ کو دینا بھی جائز نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ مال کی زکوٰۃ کی وصولی دراصل امام المسلمین کی ذمہ داری ہے۔ حضور ﷺ ، حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ اپنے عہد میں اس کی وصولی کرتے تھے، لیکن حضرت عثمان ؓ جب خلیفہ بنے تو آپ نے لوگوں سے کہہ دیا کہ ” یہ مہینہ تمہاری زکوٰۃ کی ادائیگی کا مہینہ ہے۔ اس لئے جس شخص پر قرض ہو وہ اپنا قرض ادا کردے اور پھر باقی ماندہ مال کی زکوٰۃ نکال دے۔ گویا آپ نے مال والوں کو زکوٰۃ کی ادائیگی کے سلسلے میں اپنا وکیل یا کارندہ مقرر کردیا اور اس کی وصولی کے بارے میں امام المسلمین کے حق کو ساقط نہیں کیا۔ امام ابویوسف کا قول ہے کہ ہر قسم ک واجب صدقہ کافر کو دینا جائز نہیں۔ آپ نے واجب صدقہ کو زکوٰۃ پر قیاس کرتے ہوئے یہ قول اختیار کیا۔
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے) تو ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے

قول باری ہے (للفقراء الٓین احصروا فی سبیل اللہ لا یستطیعون ضرباً فی الارض یحسبھم الجاہل اغنیآء من التعفف تعرفھم بسیماھم لا یسئلون الناس الحافاً ۔ وما تنفقوا من خسیر فان اللہ بہ علیم۔ (a) خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسب معاش کے لئے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے۔ ان کی خود داری دیکھ کر ناواقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم ان کے چہروں سے ان کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔ مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر کچھ مانگیں۔ ان کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کروگے وہ اللہ سے پوشیدہ نہیں رہے گا) یعنی اللہ کو اس نفقہ کی خبر ہے جس کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے اور اس سے مراد صدقہ ہے۔ محاہد اور سدی سے مروی ہے کہ اس سے فقراء مہاجرین مراد ہیں۔ قول باری (احصروا فی سبیل اللہ) (a) کے متعلق ایک قول ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آپ کو دشمن کفار کے خوف سے تجارت کرنے سے روکے رکھا ہے۔ قتادہ سے یہی روایت ہے کیونکہ احصار کا معنی اپنے آپ کو مرض یا ضرورت یا خوف کی بنا پر تصرف کرنے اور چلنے پھرنے سے روکے رکھنا ہے۔ اگر دشمن رکاوٹ بن جائے تو اس موقع پر کہا جاتا ہے ” احصرہ “ یعنی اس نے اسے روکے رکھا۔ قول باری (یحسبھم الجاھل اغنیاء من التعفف) (a) کا معنی ۔۔۔ واللہ اعلم ۔۔۔ وہ شخص ہے جو ان کی حالت سے ناواقف ہے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ ان لوگوں کی ظاہری ہیئت اور لباس مال داروں کی حالت کے مشابہ ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ناواقف انہیں مالدار گمان نہ کرتا کیونکہ فقر اور تنگ دستی کی نشاندہی دو باتوں سے ہوتی ہے۔ ایک تو ظاہری خستگی اور بدحالی اور دوسری اپنے آپ کو فقیرکہہ کر دست سوال دراز کرنا ناواقف انہیں مالدار اس لئے خیال کرتا ہے کہ اسے ان کی ظاہری ہیئت اور لباس کی عمدگی نظر آتی ہے جو عام طور پر خوش حالی کی علامت ہوتی ہے۔ آیت میں اس پر دلالت ہورہی ہے کہ جس شخص کے جسم پر اچھے اور قیمتی کپڑے ہوں اسے زکوٰۃ دے دینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ دینے کا حکم دیا ہے جس کی ظاہری حالت مالداروں کی حالت کے مشابہ ہو۔ آیت کی اس پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ ایک صحت مند اور تندرست انسان کو بھی زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو زکوٰۃ کی رقم دینے کا حکم دیا تھا۔ یہ لوگ مہاجرین میں سے تھے اور حضور ﷺ کے ساتھ مشرکین کے خلاف جنگوں میں بھی حصہ لیتے تھے، یہ لوگ نہ تو بیمار تھے اور نہ ہی بینائی سے معذور۔ قول باری ہے (تعرفھم بسیماھم ) ’ السیما ‘ (a) علامت کو کہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد تخشع یعنی عاجزی ہے۔ سدی اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اس سے مراد تنگ دستی کی علامت ہے۔ قول باری ہے (سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود۔ (a) ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے جو سجدے کا نشان ہے) یعنی ان کی علامت۔ اس لئے جائز ہے کہ وہ علامت جس کا ذکر قول باری (تعرفھم بسیماھم) (a) میں ہے، اس سے مراد انسان کے چہرے پر نمایاں ہونے والی بدحالی اور دل کی پریشانی ہو اگرچہ ایسے انسانوں کا لباس اور ظاہری ہیئت عمدہ اور اچھی کیوں نہ ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو کوئی ایس نشان بتادیا ہو جسے آپ ان کے اندر دیکھ کر ان کی تنگ دستی کا پتہ چلا لیتے تھے۔ اگرچہ ہمیں ان کی یہ تنگ دستی ان کے سوال اور ان کی خستہ حالی کو دیکھ کر ہی معلوم ہوسکتی ہے۔ یہ اس دلالت کرتا ہے کہ ایک شخص کی ظاہری حالت اور علامت کو اس کی اندرونی حالت کا اندازہ لگانے میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ہمارے اصحاب نے اس کا اعتبار کیا ہے جبکہ دارالسلام یا دارالحرب میں کوئی ایسی لاش ملے جس کے کفر یا اسلام کے متعلق کچھ معلوم نہ ہو تو لاش کی ظاہری علامتوں کو دیکھا جائے اگر اس کے جسم پر اہل کفر کی علامتیں ہوں مثلاً اس نے زنار پہن رکھے ہوں یا وہ غیر محققن ہو یا عیسائی راہبوں کی طرح اس نے بال بڑھا رکھے ہوں تو اس پر کافر ہونے کا حکم لگاکر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی اس کا جنازہ پڑھا جائے گا۔ اگر اس میں اہل اسلام کی علامتیں ہوں تو نماز جنازہ اور تدفین کے سلسلے میں اس پر مسلمان ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔ اگر کسی قسم کی کوئی علامت نہ پائی جائے اور اس کی لاش اہل اسلام کے کسی شہر میں ملی ہو تو اسے مسلمان قرار دیا جائے گا اور اگر لاش دارالحرب میں ملی ہو تو اس پر کافر ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔ ہمار اصحاب نے علامتوں کی موجودگی میں جائے وقوعہ کے مقابلے میں ان علامتوں کا اعتبار کیا ہے اور علامتیں نہ ہونے کی صورت میں جائے وقوعہ میں بسنے والوں کا اعتبار کیا ہے۔ ہمارے اصحاب نے لقیط (گراپڑ) بچہ جو کسی کے ہاتھ آجائے) کے معاملے میں بھی یہی طریق استدلال اختیار کیا ہے۔ اس کی بھی نظیر یہ قول باری ہے (ان کان قمیصہ قدمن قبل فصدقت وھو من الکاذبین وان کان قمیصہ قد من دبر فکذبت وھو من الصادقین (a) اگر اس کی (یوسف (علیہ السلام) کی) قمیص آگے سے پھٹی ہو تو عورت سچی ہے اور یوسف (علیہ السلام) جھوٹوں میں سے ہیں اور اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یوسف (علیہ السلام) سچوں میں سے ہیں) یہاں نشان اور علامت کا اعتبار کیا گیا۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (ولتعرفنھم فی لحن القول (a) اور تم ضرور انہیں ان کے مضمون کلام سے پہچان لو گے) اسی طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ان کی قمیص کو خون میں لت پت کرکے اسے اپنی سچائی کی علامت بنالی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وجاء و ا علی قمیصہ بدم کذب (a) وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگاکر لے آئے) قول باری ہے (لا یسئلون الناس الحاف) (a) یعنی ۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ پیچھے پڑ کر مانگنا کیونکہ الالحاف فی المسئلۃ (a) کا معنی اصرار سے مانگنا ہے۔ آیت اصرار سے مانگنے کی کراہت پر دلالت کرتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے (لایسئلون الناس الحافاً ) (a) میں ان لوگوں سے اس کی نفی کردی ہے کہ وہ پیچھے پڑ کر اور اصرار کرکے نہیں مانگتے لیکن ان سے اس کی نفی نہیں کی کہ وہ مطلقاً کسی سے مانگتے ہی نہیں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آیت کے مضمون اور خطاب کے مفہوم میں ایسی بات موجود ہے جو سوال کرنے کی بھی مطلقاً نفی کرتی ہے۔ وہ یہ قول باری ہے (یحسبھم الجاھل اغنیآء من التعفف) (a) اگر یہ لوگ دست سوال دراز کرتے اگرچہ اصرار سے نہ بھی مانگتے تو کوئی شخص انہیں مالدار خیال نہ کرتا۔ اسی طرح قول باری (من التعفف) (a) کی بھی اس پر دلالت ہورہی ہے اس لئے کہ تعفف کا معنی قناعت اور ترک سوال ہے۔ اس لئے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ سرے سے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے۔ تعفف (a) ترک سوال کو کہتے ہیں اس پر حضور ﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ (من استغنی اغناہ اللہ ومن استعف اعفہ اللہ، (a) جو شخص لوگوں سے مستغنی رہے اللہ اسے مستغنی رکھے گا اور جو شخص دست سوال دراز کرنے سے بچے اللہ اسے بچالے گا) ۔ جب پچھلی سطور میں ہماری بیان کردہ آیات کی دلالت سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ تن بدن کے کپڑے زکوٰۃ لینے سے مانع نہیں ہوتے خواہ وہ کپڑے عمدہ ہی کیوں نہ ہوں تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ مکان، سازو سامان، گھوڑا اور نوکر کا بھی یہی حکم ہو کیونکہ عام طور پر ایک انسان کو لباس کی طرح ان کی ضرورت رہتی ہے۔ جب ایک انسان کو ان چیزوں کی لازمی طور پر ضرورت ہوتی ہے تو وہ ان چیزوں کی وجہ سے مال دار نہیں کہلائے گا کیونکہ مال داری ضرورت سے زائد چیز کو کہتے ہیں۔ فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ مال کی وہ کون سی مقدار ہے جس کی بنا پر ایک شخص مالدار ہوجاتا ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد اور زفر کا قول ہے کہ جب ایک شخص کے پاس اس کے گھر، سازو سامان، لباس، نوکر اور گھوڑے وغیرہ سے زائد دو سو درہم کی مقدار مال آجائے تو اسے زکوٰۃ دینا حلال نہیں ہوگا۔ اگر یہ مقدار دو سو درہم سے کم ہو تو اسے زکوٰۃ دینا حلال ہوگا۔ ابن القاسم کی روایت میں امام مالک کا قول ہے کہ جب ایک شخص کے پاس چالیس درہم ہوں تو اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ دوسری روایت میں یہ قول ہے کہ چالیس درہم والے شخص کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔ سفیان ثوری اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ جس شخص کے پاس پچاس درہم ہوں اس کے لئے زکوٰۃ لینا حلال نہیں ہے۔ عبید اللہ بن الحسن کا قول ہے کہ جس شخص کے پاس اس قدر مال نہ ہو جس سے سال بھر کے لئے اس کے روٹی کپڑے کا بندوبست ہوسکے اسے صدقہ دیا جاسکتا ہے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ اگر کسی انسان کو بقدر حاجت اتنی زکوٰۃ دے دی جائے جو اسے فقر کی حد سے نکال کر دولتمندی کی حد تک پہنچا دے تو ایسا کرنا درست ہوگا خواہ اس وجہ سے اس پر زکوٰۃ واجب ہوجائے یا نہ ہو۔ تاہم اس بارے میں میں یعنی امام شافعی کوئی حد مقرر نہیں کرتا۔ المزنی اور الربیع نے یہ بات امام شافعی سے نقل کی ہے۔ ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ جو شخص تندرست و توانا اور کسب معاش پر قادر ہو اسے زکوٰۃ دینا حلال نہیں ہے خواہ وہ فقیر ہی کیوں نہ ہو۔ ہم نے جو بات کہی ہے کہ کسی انسان کے پاس اگر اس کی ضروریات سے زائد دو سودرہم ہوں تو وہ غنی شمار ہوگا۔ اس کی صحت کی دلیل وہ حدیث ہے جسے عبدالحمید بن جعفر نے اپنے والد سے انہوں نے قبیلہ مرنیہ کے ایک شخص سے روایت کی ہے کہ اس نے حضور ﷺ کو خطبے میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا کہ من استغنی اغناہ اللہ ومن استعف اعفہ اللہ ومن سئال الناس ولہ عدل خمس اواق سئال الحافاً ۔ (a) جو شخص لوگوں سے مستغنی رہے اللہ تعالیٰ اسے مستغنی رکھے گا جو شخص سوال کرنے سے بچے اللہ تعالیٰ اسے بچائے گا اور جو شخص پانچ اوقیہ یعنی دو سو درہم کی مقدار مال ہوتے ہوئے بھی لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرے تو اللہ کے نزدیک وہ پیچھے پڑ کر مانگنے والا قرار پائے گا۔ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے اس مقدار کا بیان ہونا اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ وہی مقدار جس کی موجودگی میں وہ فقر کی حد سے نکل کر غنا کی حد تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے لئے سوال کرنا حرام ہوجاتا ہے۔ اس پر حضور ﷺ کا یہ قول بھی دلالت کرتا ہے کہ (امرت ان آخذ الصدقۃ من اغنیاء کم فاردھا عیل فقراء (a) کم ، مجھے حکم ملا ہے کہ تمہارے مالداروں سے صدقہ لے کر تمہارے فقراء پر لوٹادوں) پھر آپ نے فرمایا (فی مائتی درھم خمسۃ دراھم ولیس فیما دونھا شیء (a) دو سو درہم پر پانچ درہم زکوٰۃ ہے اور اس سے کم پر کوئی زکوٰۃ نہیں) آپ نے مالداروں کی حد دو سو درہم مقرر کردی اس لئے اس کا ہی اعتبار واجب ہوگیا کسی اور مقدار کا نہیں۔ اس کی دلالت اس پر بھی ہورہی ہے کہ جو شخص اس مقدار کا مالک نہیں ہوگا اسے زکوٰۃ دی جاسکے گی۔ کیونکہ حضور ﷺ نے لوگوں کو دو گروہ بنا دیئے۔ مال دار اور تنگ دست۔ مال دار اسے قرار دیا جو اسی مقدار کا مالک ہو اور اس سے زکوٰۃ کی وصولی کا حکم دیا اور فقیر اس شخص کو قرار دیا جو اس مقدار کا مالک نہ ہو اور اس پر زکوٰۃ لوٹانے کا حکم دیا۔ ابو کبشہ سلولی نے سہل بن الحنظلیہ سے روایت کی ہے کہ ” میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ (من سئال الناس عن ظھر غنی فما یستکثر جمر جھنم (a) جو شخص مال داری کی پشت پناہی کے باوجود لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے گا وہ صرف جہنم کے انگارے جمع کرے گا) ۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مالداری کی پشت پناہی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا (ان یعلم ان عند اھلہ ما یغدیھم ویعشیھم (a) وہ یہ ہے کہ اس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کے خاندان کے پاس اتنا مال ہے جس کے ذریعے وہ انہیں صبح اور کا کھانا مہیا کرسکتا ہے) زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے بنو اسد کے ایک شخص سے روای کی ہے کہ ” میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ایک شخص سے یہ فرماتے ہوئے سنا (من سائل منکم وعندہ اوقیۃ اوعدلھا فقد سئال الحافاً ۔ (a) تم میں سے جس شخص نے دست سوال دراز کیا جبکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کے برابر مال ہو تو وہ عند اللہ پیچھے لگ کر مانگنے والا قرار پائے گا) اس وقت ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا تھا۔ محمد بن عبدالرحمن بن یزید نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یسئل عبدمسالۃ ولہ مایغنیہ الاجاء ت شیئاً اوکدوحا اوخدوشا فی وجھہ، (a) جو شخص بھی دست سوال دراز کرے گا جبکہ اس کے پاس اس قدر زخموں یا خراشوں کی صورت اختیار کرلے گا) آپ سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی مقدار ہے جس سے اسی کا کام چل سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا : ” پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔ “ یہ روایت سوال کرنے کی کراہت کے بارے میں وارد ہوئی ہے اس میں یہ دلالت موجود نہیں ہے کہ ایسے شخص کو صدقہ دینا حرام ہے۔ حضور ﷺ اس شخص کے لئے ترک سوال کو مستحب اور پسندیدہ سمجھتے تھے جو اس قدر مال کا مالک ہو جس سے اس کے لئے صبح و شام کے کھانے کا انتظام ہوسکتا ہو۔ کیونکہ اس وقت ایسے بھی فقراء مسلمین اور اصحاب صفہ موجود تھے جن کے پاس نہ صبح کے کھانے کا انتظام ہوتا اور نہ ہی شام کے۔ اس لئے حضور ﷺ نے اس شخص نے اس شخص کے لئے یہ پسند کیا جو اس مقدار کا مالک ہوتا کہ اتنی مقدار پر بھی اقصار کرے اور ترک سوال کے ذریعے اپنا دامن پاک رکھے تاکہ یہی مال ان لوگوں تک پہنچ سکے جو اس سے زیادہ ضرورت مند ہوں۔ ترک سوال کی یہ ترغیب اس بنا پر نہیں تھی کہ ایسے شخص کے لئے سوال کرنا حرام تھا۔ جب تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ صدقہ کو کس کے لئے مباح کردینے کی صورت ہے وہ ضرورت کے مردار کھا لینے کی صورت سے مختلف ہے کیونکہ مردار اسی وقت حلال ہوتا ہے جب کسی کو اپنی جان کا خطرہ لاحق ہوجائے جبکہ صدقہ کے متعلق امت کا اجماع ہے کہ ضرورت مند کے لئے حلال ہوتا ہے۔ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق تو نہیں ہوتا لیکن وہ تہی دست ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے فقہ کو صدقہ کی اباحت کا سبب قرار دیا جائے۔ نیز ان تمام روایات میں ان کے حکموں پر عمل کے لحاظ سے اختلاف ہے۔ پھر یہ روایتیں بھی آپس میں ایک دوسری سے مختلف ہیں اور دوسری طرف سب کا اس روایت پر عمل پیرا ہونے پر اتفاق ہے جو ہم نے بیان کیا ہے اور جس کی غنی کی حد دو سو درہم بیان کی گئی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہماری بیان کردہ روایت کا حکم ثابت رہے اور باقی ماندہ دوسری روایتوں کو اس پر محمول کیا جائے کہ یا تو یہ سوال کی کراہت کے بیان کے لئے ہیں اور یا یہ ہماری بیان کردہ روایت کی وجہ سے منسوخ ہوچکی ہیں۔ اگر ان سے مراد تحریم صدقہ ہو۔