2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 2:68–75

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح کا ہو، (موسیٰ نے) کہا پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو سو جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے ویسا کرو

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو یہ بھی بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو، موسیٰ نے کہا پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کردیتا ہو،

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

انہوں نے کہا (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتادے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، پھر خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہوجائے گی

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا خدا فرماتا ہے کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو ، نہ تو زمین جوتتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتا ہو، اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو، کہنے لگے اب تم نے سب باتیں درست بتادیں، غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا اور پھر اس میں باہم جھگڑنے لگے لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

تو ہم نے کہا اس بیل کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو اسی طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو (اپنی قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر اسکے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گرپڑتے ہیں اور خدا تمہارے عملوں سے بیخبر نہیں

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

(مومنو ! ) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہوجائیں گے (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلام خدا (یعنی تورات) کو سنتے پھر اس کے بعد سمجھ لینے کے اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں ؟

قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم و قد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون (اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے حلان کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حق کا علم رکھنے کے باوجود اس سے معاندت برتنے والا شخص ایک جاہل انسان کی بہ نسبت رشد و ہدایت سے زیادہ دور ہتا ہے اور اس کے سدھر جانے کے امکانات جاہل کے مقابل ی میں کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم ان کے رشد و ہدایت کی توقع ختم ہوجانے کی خبر دے رہا ہے۔ کیونکہ انہوں نے حق کا علم ہوجانے کے بعد اسے جھٹلانے اور اس کے خلاف محاذ قائم کرنے کی کوشش کی۔
Ayahs 2:76–80

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جس وقت آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں کیا تم سمجھتے نہیں ؟

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں خدا کو سب معلوم ہے ؟

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں، ان پر افسوس ہے اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی، ان سے پوچھو کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا ؟ (نہیں) بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں

قول باری ہے : وقالوا لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ (وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں الآیہ کہ چند روز کی سزا مل جائے تو مل جائے) معدودۃ کا ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ تھوڑے ہوں گے جس طرح یہ قول باری ہے : وشروہ بثمن بحسن درا ھم معدودۃ (آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا) (قتادہ نے : ایا ما معدودۃ کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ چالیس دن ہوں گے یعنی اتنے دن جتنے دن انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ حسن بصری اور مجاہد نے کہا ہے کہ یہ سات دن ہوں گے۔ قول باری ہے : (کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ایاماً معدودات) (اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کردیئے گئے جس طرح تم سے پہلے ابنیاء کے پیروئوں پر فرض کئے گئے تھے، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی ۔ چند مقرر دنوں کے روزے ہیں) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایام صوم اور رمضان کے پورے مہینے کے دنوں کو معدودات کا نام دیا۔ یعنی گنتی کے چند دن۔ ہمارے شیوخ نے حیض کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت یعنی تین دن اور دس دن کے لئے حضور ﷺ کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : مستحاضہ اپنے اقراء کے ایام کی تعداد نماز کی ادائیگی چھوڑ دے گی۔ “ بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : تم اپنے حیض کے ایام کی تعداد کے مطابق نماز چھوڑ دو ۔ “ ہمارے حضرات نے اس سے استدلال کیا ہے کہ حیض کی مدت کو ایام کا نام دیا گیا ہے اور ایام کی کم سے کم مقدار تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے اس لئے کہ تین دنوں سے کم مقدار کو ایک یا دو دن کہا جاتا ہے اور دس دن سے زیادہ مقدار کو گیارہ دن کہا جاتا ہے ۔ اس لئے ایام کا اسم تین سے لے کر دس دنوں کی مدت کو شامل ہوگا اور اس سے حیض کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت پر دلالت حاصل ہوجائے گی۔ بعض لوگ اس استدلال پر قول باری : ایاماً معدودات کے ذریعے یہ کہہ کر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ رمضان کے پورے مہینے کے ایام ہیں نیز وہ قول باری : الا ایا ماً معدودۃ کے ذریعے بھی یہ کہہ کر اعتراض کرتے ہیں کہ ایک قول کے مطابق یہ ایام چالیس دن ہیں۔ لیکن یہ بات مذکورہ استدلال کے لئے قادح نہیں ہے کیونکہ یہ جائز ہے کہ اللہ سبحانہ نے : معدودات کے لفظ سے قلیل ایام مراد لئے ہوں جس طرح یہ قول باری ہے : دراھم معدودۃ یعنی تھوڑے سے دراہم اور اس سے عدد کی تحدید اور اس کی مقدار کی توقیت مراد نہ لی ہو، بلکہ اس سے مراد یہ ہو کہ اللہ نے مسلمانوں پر اتنے روزے فرض نہیں کئے جو ان کے لئے مشکل اور سخت ہوجائیں۔ یہاں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے ایک مبہم وقت مراد لیا گیا ہو جس طرح عربوں کا قول ہے۔” ایام بنی امیۃ یا ایام الحجاج “ (بنی امیہ یا حجاج کا عہد اور زمانہ) اس قول سے ایام کی تحدید مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے بنی امیہ کی حکومت کا زمانہ مراد ہے۔ حضور ﷺ کے ارشاد :” تم اپنے اقراء کے ایام میں نماز چھوڑ دو ۔ “ سے لا محالہ تحدید ایام مراد ہے، کیونکہ حیض کا ایک معین اور مخصوص وقت ہوتا ہے جس سے حیض نہ تو تجاوز کرتا ہے اور نہ ہی اس سے کم ہوتا ہے۔ اس لئے جب ایام کی اضافت ایک مخصوص عدد کی طرف ہوگی تو وہ تین سے لے کر دس دنوں کے ایام کو شامل ہوں گے۔
Ayah 2:81

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

ہاں جو برے کام کرے اور اسکے گناہ (ہر طرف سے) اس کو گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

قول باری ہے : بلی من کسب سیئۃ و احاطت بہ خطیئتہ فاولئک اصحب النار، ھم فیھا خلدون (جو بھی باری کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑا رہے گا وہ دوزخی ہے اور وہ دوزخ ہی میں ہمیشہ رہے گا) اس آیت سے یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ دوزخ کا استحقاق دو شرطوں کی بنا پر ہوتا ہے۔ اول یہ کہ اس بدی کی بنا پر جو وہ کمات ا ہے اور دوم یہ کہ اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑے رہنے کی بنا پر۔ اگر ان میں سے کسی ایک شرط کا وجود ہو تو وہ دوزخ کا مستحق نہیں ہوگا۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص طلاق یا عتاق یا کسی اور سلسلے میں دو شرطوں پر عقدیمین کرے تو ان میں سے کسی ایک شرط کے وجود کی صورت میں وہ حانث قرار نہیں پائے گا۔ جب تک دوسری شرط بھی نہ پائی جائے۔
Ayahs 2:82–83

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہنا تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے

قول باری ہے۔ ” واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لاتعبدون الا اللہ وبالوالدین احساناً ) (یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا) یہ قول باری والدین کے حق کی تاکید اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے وجوب پر دلالت کرتا ہے خواہ والدین کافر ہوں یا مومن کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ مقرون کردیا ہے۔ قول باری ہے : وذی القربی رشتے داروں کے ساتھ، صلہ رحمی اور تیامی و مساکین کے ساتھ حسن سلوک کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ قول باری ہے : وقولو ا للناس حسناً (اور لوگوں سے بھلی بات کہنا) ابو جعفر محمد بن علی سے مروی ہے کہ تمام لوگوں سے بھی بات کہو۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ وہ لوگ مسلمان اور کافر کے بارے میں اس حکم کے پابند تھے، مذکورہ بالا قول باری اسی امر پر دلالت کرتا ہے۔ ایک قول کے مطاب قیہ آیت اس قول باری کی ہم معنی ہے : ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتیھی احسن (اے نبی ! ) اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ذریعے دعوت دو اور لوگوں سے ایسے طریقے سے مباحثہ کرو جو بہترین ہو) اس آیت میں مذکورہ احسان سے مراد اللہ کی طرف بلانا اور اس بارے میں ہر ایک کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ سے مروی ہے کہ قتال کے حکم کی وجہ سے یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یحب اللہ الجھر بالسوء من انقول الا من ظلم (اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگمانی پر زبان کھولے، الآیہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو) اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت بھیجنے اور ان سے برأت کا اظہار کرنے کا حکم دیا ہے، نیز معاصی میں مبتلا لوگوں کی نکیر کا بھی حکم ملا ہے۔ یہ ایسے امور ہیں جن کے متعلق انبیاء (علیہم السلام) کے شرائع کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قول حسن یعنی بھلی بات کہنے کا جو حکم ملا ہے اس سے یا تو یہ مراد ہے ک ہ اس کا دائرہ مسلمانوں نیز ان لوگوں تک محدود ہے جو لعنت اور نکیر کے مستحق نہیں ہیں۔ اس صورت میں قول حسن خاص ہوگا۔ یا اس سے اللہ کی طرف دعوت دینا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ہے۔ اس صورت میں یہ عام ہوگا۔ دعوت الی اللہ نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تمام افعال حسن شمار ہوتے ہیں اور اللہ نے اس آیت کے ذریعے ہمیں خبر دی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے ان تمام باتوں کا عہد لیا تھا۔ میثاق اس عقد کو کہتے ہیں خبر دی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے ان تمام باتوں کا عہد لیا تھا۔ میثاق اس عقد کو کہتے ہیں جسے وعید یا قسم کے ذریعے مئوکد کردیا گیا ہو۔ مثلاً حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے بیعت لی تھی اور یہ بیعت اپنی مذکورہ شرائط کے تحت ہوئی تھی۔
Ayah 2:84

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت و خون نہ کرنا اور اپنے کو ان کے وطن سے نہ نکالنا تو تم نے اقرار کرلیا اور تم (اس بات کے) گواہ ہو

قول باری ہے : فراذا خذنا میثاقکم لاتسفکون دمآء کو ولا تخجون انفسکم من دیارکم (یاد کرو۔ ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دور سے کو گھر سے بےگھر کرنا) اس آیت میں دو معنوں کا احتمال ہے پہلا یہ کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی جان نہ لو، نیز ایک دوسرے کو گھر سے بےگھر نہ کرو جس طرح یہ قول باری ہے : ولا تقتلوا انفسکم (اور اپنی جانیں نہ لو) نیز : وقاتلوا و قتلوا ( اور انہوں نے قتل کیا اور قتل ہوئے) دو سرا معنی یہ ہے کہ ہر شخص اپنی جان خود اپنے ہاتھوں سے نہ لے، یعنی خود کشی نہ کرے جس طرح ہنود کرتے تھے یا جس طرح وہ لوگ کرتے ہیں جو زندگی کی سختیوں کا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں رکھتے۔ مایوس ہو کر زندگی سے چھٹکارا حاصل کر لیت ییہں۔ یا یہ کہ وہ کسی اور کی جان نہ لے کر پھر بدلے کے طور پر اپنی جان گنوا بیٹھے اور اس طرح خود اپنے آپ کو قتل کرنے والا بن جائے۔ چونکہ آیت کے الفاظ کے الفاظ میں دونوں معنوں کا احتمال ہے اس لئے اسے دونوں معنوں پر محمول کیا جانا واجب ہوگا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تورات کی شریعت کے اس حکم کی خبر دی ہے جسے یہود چھپاتے تھے کیونکہ اس حکم کی وجہ سے انہیں نقصان کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ قابل مذمت گردانے جاتے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس حکم کی خبر دے دی اور اسے یہود یک طرف سے آپ ﷺ کی نبوت کے انکار کے معاملے میں ان پر حجت اور دلالت بنادیا۔ اس لئے کہ حضور ﷺ نے نہ تو آسمانی کتابیں پڑھی تھیں اور نہ ہی ان میں موجود مضامین کے متعلق آپ کو کوئی علم تھا۔ اس لئے آپ ﷺ کی بتائی ہوئی مذکورہ بالا خبر صرف اس بات پر مبنی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو اس کی اطلاع دی گئی تھی، یہی کیفیت ان تمام خبروں کی ہے جن کی اطلاع زیر بحث آیات کی بعد والی آیات میں دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ارشاد ہے : وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا (باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں ماگنا کرتے تھے۔ ) اللہ تعالیٰ نے ہی حضور ﷺ کو بنی اسرائیل کی ان تمام باتوں کی خبر دی تھی جن کی بنا پر ان کی مذمت کی گئی تھی اور جنہیں یہ لوگوں سے چھپائے رکھتے تھے۔ ان خبروں کے ذریعے بنی اسرائیل کے کفر اور ظلم کا پول کھول دیا تھا اور ان کے تمام قبائح ظاہر کردیئے تھے۔ حضور ﷺ کی دی ہوئی یہ تمام خبریں آپ کی نبوت پر دلالت کرتی تھیں۔
Ayah 2:85

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کردیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کر کے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلا دے کر انکو چھڑا بھی لیتے ہو حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتاب (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں ان کو سزا اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دئیے جائیں ؟ اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان سے غافل نہیں

قول باری ہے : وان یاتوکم اسری تفادوھم وھو محرم علیکم اخراجہم افتومنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض (اور جب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں تو ا ن کی رہائی کے لئے فدیہ کا لین دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھ، تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟ ) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ لڑائی میں قید ہوجانے پر یہودیوں کا فدیہ دے کر انہیں چھڑا لینا ان پر واجب تھا اور ان میں سے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکالنا ان پر حرام تھا۔ جب ان میں سے بعض لوگوں اپنے دشمنوں کو گرفتار کرلیتے تو ان پر ان کی رہائی کے لئے فدیہ دینا واجب ہوتا۔ اس طرح یہ لوگ خود یہودیوں کے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکال کر کتاب اللہ یعنی تورات کے ایک حصے کے ساتھ کفر کرتے کیونکہ اس طرح وہ اللہ کی طرف سے ایک ممنوعہ فعل کے مرتکب ہوجاتے تھے اور پھر گرفتار شدہ یہودیوں کی رہائی کے لئے فدیہ کالین دین کر کے تورات کے ایک حصے پر ایمان رکھتے کیونکہ ایسی صورت میں وہ اللہ کی طرف سے ان پر واجب شدہ کام سر انجام دے دیتے، اس پورے پس منظر کو ذہن نشین کرنے کے لئے درج ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ ” نبی ﷺ کی آمد سے پہلے مدینے کے اطراف کے یہودی قبائل نے اپنے ہمسایہ عرب قبائل (اوس اور خزرج ) سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ جب ایک عرب قبیلہ دوسرے قبیلے سے برسر جنگ ہوتا تو دونوں کے حلیف یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے تھے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں نبرد آزما ہوجاتے تھے، ان کا یہ فعل صریح طور پر کتاب اللہ کے خلاف تھا اور وہ جانتے بوجھتے کتاب اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ مگر لڑائی کے بعد جب ایک یہودی قبیلے کے اسیران جنگ دوسرے یہودی قبیلے کے ہاتھ آتے تو غالب قبیلہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑتا اور مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر انہیں چھڑاتا تھا اور اس فدیے کے لین دین کو جائز ٹھہرانے کے لئے کتاب اللہ سے استدلال کیا جاتا تھا۔ گویا وہ کتاب اللہ کی اس اجازت کو تو سر آنکھوں پر رکھتے تھے کہ اسیران جنگ کو فدیے کو چھوڑا جائے مگر اس حکم کو ٹھکرا دیتے تھے کہ آپس میں جنگ ہی نہ کی جائے۔ (تفہیم القرآن جلد اول) قیدیوں کو فدیہ کا لین دین کر کے چھڑانے کے وجوب کا حکم ہم پر بھی ثابت ہے، الحجاج بن ارطاۃ نے الحکم سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت بیان کی ہے کہ حضور ﷺ نے حضرات مہاجرین و انصار کے درمیان ایک تحریر لکھ دی تھی کہ وہ ایک دوسرے پر لازم ہونے والا خون بہا اور تاوان ادا کریں گے۔ اپنے قیدیوں کا فدیہ معروف طریقے سے ادا کریں گے اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو درست رکھیں گے۔ منصوبے نے شقیق بن سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت بیان کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا :” کھانا کھلائو، سلام کو عام کرو، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو چھڑائو۔ “ یہ دونوں حدیثیں قیدی کو چھڑانے پر دلالت کرتی ہیں، اس لئے کہ مذکورہ لفظ (العانی) کے معنی اسیر اور قیدی کے ہیں۔ حضرت عمران بن حصین اور حضرت سلمہ بن الاکوع نے روایت بیان کی ہے کہ حضور ﷺ نے مشرکین کی رہائی کے بدلے میں مسلمان قیدیوں کو رہا کرایا تھا۔ سفیان ثوری نے عبداللہ بن شریک سے اور انہوں نے بشربن غالب سے روایت بیان کی ہے کہ حضرت حسین بن علی ؓ سے پوچھا گیا کہ اسیر کو فدیہ دے کر چھڑانا کس کے ذمہ ہوتا ہے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ : اس سر زمین کے لوگوں پر جس کے دفاع میں مذکورہ قیدی جنگ کرتا ہے۔
Ayahs 2:86–94

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو (اور طرح کی) مدد ملے گی

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی، تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا تو تم سرکش ہوجاتے رہے اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارے دل پردے میں ہیں (نہیں) بلکہ خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب خدا کے ہاں سے انکے پاس کتاب آئی جو ان کی آسمانی کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہوگئے پس کافروں پر خدا کی لعنت

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا وہ بہت بری ہے یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہوگئے اور کافروں کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے اس کو مانو تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہوچکی ہے ہم تو اسی کو مانتے ہیں (یعنی) یہ اس کے سوا اور (کتاب) کو نہیں مانتے حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے اس کی بھی تصدیق کرتی ہے (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحب ایمان ہوتے تو خدا کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے تو تم ان کے ( کوہ طور پر جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے اسکو زور سے پکڑو اور (جو تمہیں حکم ہوتا ہے اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں اور انکے کفر کے سبب بچھڑا گویا ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ﷺ ! ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اور لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے لئے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لئے مخصوص ہے اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو

قول باری ہے : قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس قسموا الموت ان کنتم صدقین (ان سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو) روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہود موت کی تمنا کرتے تو سب مرجاتے اور جہنم کے اندر اپنے اپنے ٹھکانے دیکھ لیتے اور اگر اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مباہلہ کرنے والے اپنے گھروں سے نکل آتے تو واپس جا کر نہ تو وہ اپنے اہل و عیال کو پاتے اور نہ ہی کوئی مال ملتا۔ “ حضرت ابن عباس نے فرمایا :” اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو انہیں موت کا اچھو لگ جاتا اور وہ مرجاتے۔ “ موت کی تمنا کی تفسیر میں دو اقوال منقول ہیں۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ انہیں چیلنج دیا گیا کہ دونوں گروہوں (مسلمان اور یہودی) میں سے جو گروہ جھوٹا ہو اس کے خلاف وہ موت کی دعا کریں۔ ابوالعالیہ ، قتادہ اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ جب انہوں نے کہا کہ : جنت میں صرف وہی لوگ داخل ہو سکیں گے جو یہودی یا نصاریٰ ہوں گے۔ “ نیز : کہا کہ ” ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے احبا ہیں۔ “ تو ان سے کہا گیا کہ :” پھر متو کی تمنا کرو۔ “ اس لئے کہ جو لوگ مذکورہ بالا صفات سے موصوف ہوں ان کے لئے دنیا میں زندہ رہنے سے موت بہتر ہے۔ اس طرح درج بالا آیت دو معنوں کو متضمن ہے۔ ایک تو ان کے کذب کا اظہار اور انہیں اس کذب بیانی پر ڈانٹ اور دوم حضور ﷺ کی نبوت پر دلات۔ وہ اس طرح کہ حضور ﷺ نے اللہ کے حکم سے انہیں یہ چیلنج اس طرح دیا تھا جس طرح آپ نے نصاریٰ کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا اگر انہیں حضور ﷺ کی صداقت اور پانی کذب بیانی کا علم نہ ہوتا تو یہ یہود متو کی تمنا کرنے میں تیزی دکھاتے اور نصاریٰ مباہلہ کرنے کے لئے دوڑ پڑتے، خاص طور پر جب کہ آپ نے دونوں گروہوں کو بتادیا تھا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان پر موت اور عذاب کا نزول ہوجائے گا۔ اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے اور مبالہ کے لئے نکل پڑتے اور پھر ان پر حضور ﷺ کے قول کے مطابق عذاب نازل نہ ہوتا تو اس سے آپ کی تکذیب ہوجاتی اور آپ کی قائم کردہ حجت ختم ہوجاتی۔ لیکن انہوں نے آپ کی طرف سے مذکورہ چیلنج اور وعید کے باوجود موت کی تمنا کرنے اور مباہلہ کے لئے آنے سے گریز کیا، حالانکہ یہ کام ان کے لئے بڑا آسان تا، تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ انہیں آپ ﷺ کی نبوت کی صحت کا علم تھا اور یہ علم انہیں اپنی آسمانی کتابوں میں حضور ﷺ کے متعلق مذکورہ بیانات و صفات سے حاصل ہوا تھا۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے : ولن یتمتوہ ابداً بما قدمت ایدیھم (یقین جانو کہ یہ کبھی اس کی تمنا نہ کریں گے، اس لئے کہ اپنے ہاتھوں سے جو کچھ کما کر انہوں نے وہاں بھیجا ہے اس کا اقتضا یہی ہے ) اس آیت میں حضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر ایک اور دلالت موجود ہے۔ وہ یہ کہ آپ ﷺ نے قرآن کے الفاظ میں انہیں خبر دی کہ وہ موت کی تمنا نہیں کریں گے، حالانکہ وہ بڑی آسانی سے موت کی تمنا نہ اپنی زبانوں پر لاسکتے تھے۔ یہ بات اسی طرح ہے کہ اگر آپ ﷺ ان لوگوں سے یہ فرماتے : میری نبوت کی صحت کی دلیل یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص بھی اپنے اعضاء و جوارح کے صحیح و سالم ہونے کے باوجود اپنے سر کو ہاتھ نہیں لگا سکتا اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے سر کو ہاتھ لگا دے تو اپنا بطلان تسلیم کرلوں گا۔ “ اور پھر کوئی شخص اپنے سر کو ہاتھ نہ لگا سکے گا جبکہ تمام کے تمام مخاطبین کے دلوں میں آپ سے عداوت کی آگ بھڑک رہی تھی، اور سب کے سب آپ ﷺ کی تکذیب کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے اور ان کے اعضاء و جوارح بھی صحیح سالم تھے۔ اس لئے یہ بات دو وجوہ سے واضح ہوجاتی ہے کہ آیت میں مذکورہ چیلنج اللہ کی جانب سے ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ کوئی عاقل شخص بھی اپنے دشمنوں کو اس قسم کا چیلنج نہیں دے سکتے۔ جبکہ اسے معلوم ہو کہ دشمنوں کی طرف سے اس چیلنج کا جواب ممکن ہے۔ دوسری وجہ یہے کہ یہ اخبار بالغیب ہے، کیونکہ ان لوگوں میں سے کسی نے بھی موت کی تمنا نہیں کی اور آپ کی دی ہوئی خبر حقیقت کے اعتبار سے بھی درست ثابت ہوئی۔ یہ بات اس قول باری کی طرح ہے جس میں ان لوگوں کو قرآن کی ایک سورت جیسی سورت پیش کرنے کا چیلنج دیا گیا اور پھر بتادیا گیا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ چناچہ ارشاد ہوا : فان لم تفعلوا ولن تفعلوا (اگر تم نے ایسا نہیں کیا اور ایسا کر بھی نہیں سکو گے) یہاں اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ان لوگوں نے موت کی اس لئے تمنا نہیں کی کہ اگر وہ تمنا کرتے تو ان کی یہ تمنا پوشیدہ ہوتی اور لوگوں کے علم میں ان کی یہ بات نہ آتی اور پھر یہ کہنا بھی ممکن ہوتا کہ :” تم نے اپنے دلوں سے موت کی تمنا نہیں کی۔ “ اس کا جواب یہ ہے کہ درج بالا بات دو وجوہ سے باطل ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ عربوں کے نزدیک تمنا کے لئے ایک معروف صیغہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ مثلاً کوئی شخص کہے :” کا شکر اللہ مجھے بخش دیتا ! کا شکر زید آ جاتا ! “ یا اسی قسم کے دوسرے فقرات، یہ عربی کلام کی ایک قسم ہے۔ اگر قائل یہ صیغہ استعمال کرتا تو سننے والوں کو علم ہوجاتا کہ وہ کسی چیز کی تمنا کر رہا ہے ۔ ایسے موقعے پر اس کے ضمیر اور اعتقاد کی طرف کوئی دھیان نہ دیا جاتا۔ جس طرح خبر دینے، خبر معلمو کرنے اور کسی کو پکارنے نیز دیگر امور کے لئے عربوں کے کلام میں مخصوص صیغے اور اس کی مخصوص اقسام ہیں۔ موت کی تمنا کے سلسلے میں دیئے گئے چیلنج کا رخ اس عبارت کی طرف تھا جو عربوں کی لعنت میں تمنا کے اظہار کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ایک محال امر ہے کہ ایک طرف تو ان لوگوں کی جانب سے حضور ﷺ کی تکذیب، آپ ﷺ کے معاملے میں ان کی ہٹ دھرمی اور آپ کی نبوت کی صحت کا علم رکھنے کے باوجود کھلی دشمنی کے پیش نظر انہیں چیلنج کیا جائے اور دوسری طرف ان سے کہا جائے کہ وہ اپنے دلوں میں موت کی تمنا کریں، حالانکہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ پوشیدہ طور پر ، یعنی دل میں متو کی تمنا کرنے کے چیلنج کا جواب ہر شخص دے سکتا ہے اور کوئی بھی اس سے عاجز نہیں ہوتا ایسا چیلنج نہ تو کسی بات کی صحت پر دلالت کرسکتا ہے اور نہ اس کے فساد پر ایسی صورت میں جس شخص کو چیلنج کیا جائے یہ کہہ سکتا ہے کہ : میں نے اپنے دل میں موت کی تمنا کرلی۔ “ اور اس کے مدمقابل کے لئے اس کی کذب بیانی پر دلیل قائم کرنا بھی ممکن نہیں ہوسکتا۔ بنا بریں اگر مذکورہ چیلنج کا رخ دل کے ساتھ تمنا کرنے کی طرف موڑ دیا جاتا اور زبان کی عبارت کے ساتھ تمنا کرنے کی طرف نہ موڑا جاتا تو یہ لوگ کہتے کہ :” ہم نے اپنے دلوں کے اندر موت کی تمنا کرلی ہے۔ “ اور اس کے نتیجے میں یہ لوگ مذکورہ چیلنج سے حضور ﷺ کے مساوی قرار پاتے اور اس کے نتیجے میں ان کی کذب بیانی اور آپ ﷺ کی نبوت کی صحت پر مذکورہ چیلنج کی دلالت سا قطہ ہوجاتی، لیکن چونکہ ان لوگوں نے موت کی تمنا نہیں کی اور اگر کرتے تو یہ بات ان سے اسی طرح آج منقول ہوتی جس طرح اگر وہ قرآن کا معارضہ کرتے تو ان کا یہ معارضہ آج ہم تک منقول ہوجاتا، اس لئے یہ معلوم ہوا کہ لفظ اور عبارت کے ذریعے موت کی تمنا کرنے کا انہیں چیلنج کیا گیا تھا، دل اور اعتقاد سے ایسا کرنے کا چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔