2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 2:131–133

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لئے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا تو مسلمان ہی مرنا

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اسی کے حکم بردار ہیں

دادا کی میراث قول باری ہے : ام کنتم شھدآء اذ حضر یعقوب الموت اذ قال لبنیہ ما تعبدون من بعدی قالوا نعبد الھلک والہ والہ آبآئک ابراھیم و اسمعیل فراسحق الھا واحدا (پھر کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا ؟ اس نے وفات کے وقت اپنے بیٹوں سے پوچا۔ بچو، میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟ ان سب نے جواب دیا : ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگ ابراہیم، اسمعیل اور اسحاق نے مانا ہے) یہاں دادا اور چچا کو باپ کا نام دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرمایا : واتبعت ملۃ ابائی ابراھیم و اسحق ویعقوبا میں نے اپنے بزرگوں ابراہیم، اسحق اور یعقوب کا طریقہ اختیار کیا ہے) حضرت ابن عباس نے میت کے دادا اور بھائیوں کی موجودگی میں بھائیوں کے بجائے دادا کو وارث قرار دینے کے لئے ان آیات سے استدلال کیا ہے۔ الحجاج نے عطا سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جو شخص چاہے میں اس کے ساتھ حجر اسود کے پاس جا کر اس بات پر لعان کرسکتا ہوں کہ دادا باپ ہے، بخدا ، اللہ نے دادا اور دادی کا ذکر آباء کے الفاظ میں کیا ہے : واتبعت ملۃ ابائی ابراہیم و اسحق و یعقوب ۔ بھائیوں کے بجائے دادا کو وارث قرار دینے اور باپ کی عدم موجودگی میں دادا کو باپ کا درجہ دینے کے سلسلے میں حضرت ابن عباس کا استدلال اس امر کا مقتضی ہے کہ قول باری : وورثہ ابواہ فلامہ الثلث (اور اس کے ابوین اس کے وارث ہوں : تو اس کی ماں کے لئے تہائی حصہ ہے) کے ظاہر سے اس امر پر استدلال جائز ہے کہ بھائیوں کے بجائے میت کا دادا دو تہائی ترکے کا مستحق ہوگا، جس طرح میت کا باپ میت کے بھائیوں کے بجائے اس کا مستحق ہوتا ہے، اگر وہ زندہ ہو۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ باپ کے اسم کا اطلاق دادا کو شامل ہوتا ہے اور اس امر کا مقتضی ہے کہ میراث کے اندر باپ کی عدم موجودگی میں دادا اور باپ کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت ابوبکر اور دیگر صحابہ کرام کا یہی مسلک ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا : ابوبکر نے فیصلہ دیا تھا کہ دادا باپ ہے، اور انہوں نے دادا پر باپ ہونے کے اسم کا اطلاق کیا تھا۔ امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ امام ابو یوسف، امام محمد، امام مالک اور امام شافعی نے دادا کے بارے میں حضرت زید بن ثابت کا قول اختیار کیا ہے کہ دادا اس وقت تک بھائیوں کی طرح شمار ہوگیا جب تک مقاسمہ کے طور پر اسے ملنے والا حصہ کل ترکہ کے تہائی سے کم نہ ہو۔ اگر کم ہوگا تو اسے ترکہ کا تہائی حصہ دیا جائے گا اور اس کا حصہ تہائی حصے سے کم ہونے نہیں دیا جائے گا (مقاسمہ اسے کہتے ہیں کہ دادا کو ایک بھائی فرض کر کے اسے میت کے دیگر موجود بھائیوں کے برابر حصہ دے دیا جائے۔ مترجم) قاضی ابن ابی لیلیٰ نے دادا کے بارے میں حضرت علی کا قول اختیار کیا ہے کہ دادا اس وقت تک بھائیوں کی طرح شمار ہوگا جب تک مقاسمہ کے طور پر اسے ملنے والا حصہ کل ترکہ کے چھٹے حصے سے کم نہ ہو۔ اگر کم ہوگا تو اسے ترکہ کا چھٹا حصہ دیا جائے گا۔ ہم نے مختصر الطحاوی “ کی شرح میں دادا کی میراث کے سلسلے میں صحابہ کرام کے اختلاف اور ان کے دلائل کا ذکر کردیا ہے، البتہ زیر حث آیت سے اس سلسلے میں دو طریقفوں سے استدلال کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ آیت کا ظاہر اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ اللہ سبحانہ نے دادا کو باپ کے نام سے ذکر کیا ہے۔ دوم یہ کہ حضرت ابن عباس نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے دادا پر باپ کا اطلاق کیا ہے۔ حضرت ابوبکر نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ یہ دونوں حضرات چونکہ اہل زبان تھے اس لئے ان سے لغت کے اعتبار سے اسماء کا حکم مخفی نہیں رہ سکتا۔ اگر ان حضرات نے شرعی طور پر اس کا اطلاق کیا ہے تو بھی ان کی حجت ثابت ہوجائے گی کیونکہ شرعی ور پر اسماء کا استعمال توقیف کے طریقے پر ہوتا ہے۔ یعنی ایک اسم کے متعلق جب شریعت کی طرف سے رہنمائی کردی جاتی ہے تو پھر شرعی طور پر اس کا استعمال درست ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص آیت کے ظاہر سے مذکورہ بالا استدلال کو رد کرنا چاہے، تو وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ زیر بحث آیت میں اللہ سبحانہ نے چچا کو باپ کا نام دیا ہے کیونکہ آیت میں حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کا ذکر ہے جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چچا تھے اور ظاہر ہے کہ چچا باپ کے قائم مقام نہیں ہوتا، نیز حضور ﷺ کا ارشاد ہے : میرے باپ کو میرے پاس واپس لائو، یعنی حضرت عباس کو اور حضرت عباس آپ کے چچا تھے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دادا کو باپ قرار دینے کے گزشتہ استدلال پر اس جہت سے بھی اعتراض ہوسکتا ہے کہ دادا کو بطریق مجاز باپ کہا جاتا ہے دادا سے باپ کے اسم کا انتفاء جائز ہے اس لیے کہ اگر آپ دادا کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ باپ نہیں ہے تو یہ نفی درست ہوگی جبکہ اسمائقے حقائق کسی بھی حال میں اپنے مسمیات سے منتفی نہیں ہوتے۔ اعتراض کی ایک اور جہت بھی دیکھے، دادا کا تقید کے ساتھ باپ کا نام دیاجاتا ہے اور باپ کے اسم کا علی الاطلاق ذکر دادا کو شامل نہیں ہوتا اس لیے آیت میں لفظ ابوین کے عموم سے اس سلسلے میں استدلال درست نہیں ہے نیز اعتراض کی ایک جہت یہ بھی ہے کہ ارشاد ربانی : ورثہ ابواہ میں میت کا قریب ترین باپ، یعنی حقیقی باپ مراد ہے، اس لیے اس سے جد مراد لیناجائز نہیں ہے کیونکہ وہ مجاز ہے اور طلاق میں ایک ہی لفظ کے اندر حقیقت اور مجاز شامل نہیں ہوتا۔ ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ دادا کو باپ ثابت کرنے کے لیے اب یعنی باپ کے لفظ کے عموم سے کیے گئے استدلال کو جو یہ کہہ کر رد کیا گیا ہے کہ آیت میں چچا کو باپ کا نام دیا گیا ہے حالانکہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ چچا کسی بھی حال میں باپ کا قائم مقام نہیں ہوتا، تو اس رد پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کہ باپ کے اسم کا اطلاق اگر نعت اور شرع کے اعتبار سے دادا اور چچا دونوں کو شامل ہے تو پھر ان تمام صورتوں میں اس لفظ کے عموم کا اعتبار جائز ہوگا، جن میں اس کا اطلاق ہوا ہے ۔ ایسی صورت میں اگر چچا ایک کے حکم کے ساتھ خاص ہو، اور اس میں دادا شامل نہ ہو تو یہ بات دادا کے اندر عموم کے حکم کی بقا کے لیے مانع نہیں بنے گی۔ چچا اور دادا معنی کے اعتبار سے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں کیونکہ باپ کو باپ کے نام سے اس لیے موسوم کیا جاتا ہے کہ بیٹا ولادت کے واسطے سے اس کی طرف منسوب ہوتا ہے اور یہی معنی داد ا کے اندر بھی موجود ہوتا ہے۔ اگرچہ باپ اور دادا میں اس اعتبار سے فرق ہے کہ دادا اور پوتے کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہوتا، تاہم دادا والا مذکورہ بالا مرتبہ چچا کو حاصل نہیں ہوتا کیونکہ چچا اور بھتیجے کے درمیان ولادت کا کوئی رشتہ اور واسطہ نہیں ہوتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ داد ا خواہ معنی کے اعتبار سے بعید ہی کیوں نہ ہو لیکن باپ کی عدم موجودگی میں اسم کے اطلاق اور حکم دونوں اعتبار سے اس میں قریب کا معنی پایاجاتا ہے۔ اس طرح دادا کو ایک گونہ اختصاص حاصل ہوتا ہے چناچہ یہ جائز ہے کہ باپ کے اسم کا اطلاق اسے بھی شامل ہوجائے۔ چچا کو چونکہ یہ مزیت حاصل نہیں ہوتی اس لیے علی الاطلاق چچا کو باپ کا نام نہیں دیا جاسکتا اور باپ کے لفظ سے تقلید کے بغیر چچا کا مفہوم اخذ نہیں ہوتا۔ دادا چونکہ توالد کے معنی میں باپ کے مساوی ہوتا ہے اس لیے باپ کے اسم کا دادا کو شامل ہوناجائز ہے، نیز باپ کی عدم موجودگی میں دادا کا حکم باپ کے حکم کی طرح ہوجاتا ہے۔ جن حضرات نے داد ا کو باپ قرار دینے کے سلسلے میں کیے گئے زیر بحث استدلال کو یہ کہہ کر رد کیا ہے کہ دادا کو باپ کا نام دینا بطور مجاز ہے، نیز یہ کہ آیت میں میت کا قریب ترین باپ یعنی حقیقی باپ مراد ہے۔ اس لیے آیت کے لفظ سے دادا امر لینا اس بنا پر جائز نہیں ہے کہ ایک ہی اسم کا حقیقت اور مجاز دونوں ہونا منتفی ہوتا ہے، تو ان حضرات کی یہ بات اس بنا پر پکی اور ٹھوس نہیں ہے کہ جس معنی کی بنا پر باپ کو باپ کا نام دیا جاتا ہے یعنی بیٹے کی طرف والد کے واسطے سے اس کی نسبت ہو تو یہ معنی داد ا میں بھی موجود ہے اور اس معنی میں کوئی فرق نہیں ہے جس کی وجہ سے ان دونوں میں ہر ایک کو باپ کا نام دیا گیا ہے۔ اس لیے باپ کے اسم کا اطلاق ان دونوں پر جائز ہے۔ اگرچہ ان میں سے ایک دوسرے کی بہ نسبت اخص ہے جس طرح لفظ اخوت ( بھائی) تمام بھائیوں کو شامل ہوتا ہے، خواہ وہ سگے ہوں یا ان کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں، البتہ سگا بھائی میراث تمام دیگر احکام میں علاتی یعنی باپ شریک بھائیوں سے اولیٰ ہوتا ہے لیکن اخوۃ کا اسم دونوں قسم کے بھائیوں میں بطور حقیقت استعمال ہوتا ہے اور اس میں کوئی امتناع نہیں کہ ایک ہی اسم دو معنوں میں بطور حقیقت استعمال کیا جائے۔ اگرچہ اسم کا علی الاطلاق ذکران میں سے صرف ایک معنی کو شامل ہوتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ نجم کا اسم آسمان کے تمام ستاروں میں سے ہر ایک ستارے پر حقیقی طورپر واقع ہوتا ہے، جبکہ عربوں کے نزدیک اس اسم کا علی الاطلاق ذکر صرف اس ستارے کو شامل ہوتا ہے جسے ثریا کے نام سے پکاراجاتا ہے۔ ایک عرب جب یہ کہتا ہے :” کہ میں نے فلاں فلاں کام کیا اور نجم سر کے اوپر تھا “ تو اس کی مراد ثریا ستارہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جب یہ کہاجاتا ہے کہ ” طلع النجم ( نجم طلوع ہوگیا) تو اس اطلاق سے عرب کے لوگ ثریا ستارے کے سوا کوئی اور مفہوم اخذ نہیں کرتے۔ حالانکہ انہوں نے آسمان کے تمام ستاروں کو بطورحقیقت یہی نام دیا ہے۔ اسی طرح باپ کے اسم کا بھی زیربحث استدلال کے مستدلین کے نزدیک حقیقی طورپر باپ اور دادا دونوں کو شامل ہونا ممتنع نہیں ہے۔ اگرچہ بعض احوال میں سے اس اسم کے ساتھ باپ مختص ہوتا ہے اور نہ ہی باپ کے اسم کا حقیقی باپ اور دادا دونوں کے لئے استعمال ایک لفظ کو بیک وقت حقیقت اور مجاز دونوں پر محمول کرنے کا موجب بنتا ہے۔ اگر یہاں یہ کہاجائے کہ جب تولید کی نسبت کے اعتبار سے باپ کا اسم مختص ہوتا ہے تو پھر یہ اسم ماں کو بھی لاحق ہونا چاہیے کیونکہ ماں کے اندر بھی توالدکا مفہوم پایاجاتا ہے اس لیے یہ واجب ہوجائے گا کہ ماں کو بھی باپ کا نام دیاجائے اور اس بنا پر ماں دادا اور باپ کی بہ نسبت اولیٰ قرار پائے کیونکہ بچہ پیدا کرنے کا کام حقیقی طورپر ماں سر انجام دیتی ہے ؟ اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ یہ بات ضروری نہیں ہے اس لیے کہ عربوں نے ماں کو باپ کے اسم کے سوا ایک اور نام یعنی لفظ ام کے ساتھ خاص کردیا ہے، تاکہ دو مختلف ناموں کے ذریعے ماں اور باپ کے درمیان فرق کیا جاسکے ، اگرچہ ولد ولادت کی نسبت سے ان میں سے ہر ایک طرف منسوب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کو بھی باپ کا نام دیا ہے اور دونوں کو مجموعی طورپر ابوین کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے : (اور میت کے ابوین، یعنی ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے) حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے ہم خیال حضرات کے حق میں یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ دادا کے اندر میت کی طرف نسبت اور تعصب دونوں کی بنا پر ترکہ کا استحقاق اکٹھا ہوجاتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص ایک بیٹی اور دادا پنے پیچھے چھوڑ کر وفات پا جائے تو اس صورت میں بیٹی کو ترکے کا نصف حصہ۔ دادا کو چھٹا حصہ اور عصیہ ہونے کی بنا پر باقی ماندہ تیرا حصہ بھی مل جائے گا جس طرح اگر مرنے والا اپنے پیچھے ایک بیٹی اور باپ چھوڑ کر مرجائے تو باپ ایک ہی حالت کے اندر میت کی طرف نسبت اور تعصیب دونوں کی بنا پر ترکہ کا مستحق ہوگا۔ یہ واجب ہے کہ دادا کو میراث کے استحقاق کے اندر باپ کی طرح قرار دیاجائے اور میت کے بھائی بہنوں کو محروم رکھاجائے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ دادا ازروئے تولید عصیہ بننے کا مستحق ہوتا ہے، اس بنا پر یہ واجب ہے کہ بھائی بہنوں کے ساتھ عدم مشارکت کے اندر دادا کو باپ جیسا قرار دیاجائے کیونکہ بھائی بہن صرف عصبہ ہونے کی بنا پر ترکہ کے مستحق ہوتے ہیں اور میت کے ساتھ ان کا توالدی رشتہ نہیں ہوتا۔ بھائیوں اور دادا کے درمیان مقاسم کے طورپر مشارکت کی نفی کی ایک دلیل یہ ہے کہ دادا میت کے بیٹے کی موجودگی میں ترکہ کے چھٹے حصے کا مستحق ہوتا ہے جس طرح میت کا باپ میت کے بیٹے کی موجودگی میں مذکورہ حصے کا حقدار قرار پاتا ہے۔ جب اسے علت کی بنا پر باپ کی موجودگی میں میت کے بھائی بہن ترکہ کے مستحق نہیں ہوتے تو پھر ضروری ہے کہ دادا کی موجودگی میں ان کے لیے ترکے میں کوئی استحقاق واجب نہ ہو۔ اگر یہاں کہا جائے کہ ماں میت کے بیٹے کی موجودگی میں چھٹے حصے کی حقدار ہوتی ہے لیکن یہ بات ماں کی موجودگی میں میت کے بھائی بہنوں کے وارث بننے کی نفی نہیں کرتی تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہم مذکورہ بالا علت کا ذکر بھائیوں کے ساتھ بطور مقاسمہ دادا کی مشارکت کی نفی کے لیے کرتے ہیں۔ اس لیے جس مقاسمہ کے اندر بھائیوں کے ساتھ دادا کی مشارکت منتفی ہوجائے گی جبکہ دادا کے ساتھ صرف بھائی بہن ہوں تو میراث کا سقوط ہوجائے گا۔ اس لیے کہ جب دادا کے ساتھ صرف یہی ہوں اور دیگر ورثا نہ ہوں تو اس صورت میں ان میں سے ہر ایک اپنے اور دادا کے درمیان تہائی یا چھٹے حصے کو تقسیم کرلے گا۔ مقاسمہ کی صورت میں تہائی یا چھٹے حصے کے سلسلے میں سلف کے دو اقوال اوپر گزر چکے ہیں۔ جہاں تک ماں کا تعلق ہے تو میت کے بھائی بہنوں کے ساتھ کسی بھی صورت میں اس کا مقاسمہ نہیں ہوتا۔ تقسیم کی نفی سے میراث کی نفی لازم نہیں ہوتی، لیکن اگر دادا کے ساتھ بھائی بہنوں کے مقاسمے کی نفی ہوجائے جبکہ دیگر ورثاء نہ ہوں تو یہ بات دادا کے ساتھ ان کی میراث کے اسقاط کی موجب بن جاتی ہے کیونکہ جو حضرات دادا کے ساتھ بھائی بہنوں کو وارث قرار دیتے ہیں وہ مقاسمہ کی صورت کے تحت نیز ان کے اور دادا کے درمیان مشارکت کے ایجاب کے تحت وارث بناتے ہیں۔ اس لیے جب ہماری ذکر کردہ باتوں کی بنا پر مقاسمہ ساقط ہوجائے گا تودادا کے ساتھ ان کی میراث بھی ساقط ہوجائے گی۔ اس لیے کہ دادا کے ساتھ بھائی بہنوں کے وارث ہونے کے متعلق صرف دو ہی اقوال ہیں۔ ایک قو ل تو ان لوگوں کا ہے جو دادا کی موجودگی میں بھائی بہنوں کو سرے سے وارث قرار نہیں دیتے اور ان کی میراث ساقط کردیتے ہیں۔ دوسرا قول ان حضرات کا ہے جو مقاسمہ واجب کرتے ہیں اس لیے جب ہماری ذکر کردہ باتوں کی بنا پر مقاسمہ باطل ہوجائے گا تو دادا کے ساتھ بھائی بہنوں کی میراث کا سقوط بھی ثابت ہوجائے گا۔ یہاں اگر کوئی یہ کہے کہ میت کی طرف دادا کی نسبت اپنے بیٹے یعنی میت کے باپ کے واسطے سے ہوتی ہے اور بھائی کی نسبت بھی میت کے باپ کے واسطے سے ہوتی ہے، اس لیے دونوں میں مشارکت واجب ہوجانی چاہیے جس طرح ایک شخص باپ اور ایک بیٹا چھوڑکر مرجائے تو ترکہ میں دونوں شریک ہوتے ہیں اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ یہ اعتراض دو وجوہ سے غلط ہے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اگر مذکورہ اعتبار کو درست تسلیم کرلیاجائے تو پھر دادا اور بھائی کے درمیان مقاسمہ واجب ہی نہ ہوگا بلکہ یہ بات واجب ہوگی کہ دادا کو چھٹا حصہ مل جائے اور بھائی کو باقی ماندہ ترکہ دے دیاجائے جس طرح اس صورت میں ہوتا ہے۔ جب ایک شخص باپ اور ایک بیٹا چھوڑ کر مرجائے تو باپ کو چھٹا حصہ مل جاتا ہے اور باقی ماندہ ترکہ بیٹے کے ہاتھ آجاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ درج بالا اعتبار اس امر کو واجب کردیتا ہے کہ اگر میت ایک چچا اور ایک پڑدادا ( باپ کا دادا) چھوڑ کر مرجائے توچچا اس کے ساتھ مقاسمہ کرے، اس لیے کہ باپ کا داد امیت کی طرف قریب ترین عزیز ، دادا کے ذریعے نسبت رکھتا ہے اور چچا بھی اس کے ذریعے ہی اس کی طرف نسبت رکھتا ہے، کیونکہ چچا میت کے اس قریب ترین دادا کا بیٹا ہوتا ہے لیکن جب سب کا اس پر اتفاق ہے کہ باپ کے داد ا کی موجودگی میں چچا کی میراث ساقط ہوجاتی ہے حالانکہ وہ علط موجود ہوتی ہے جس کا اوپر بیان ہوا ہے تو یہ امر اس علت کے فساد اور اس کے انتقاض پر دلالت بن جائے گا اور اس علت کے بیان سے معترض پر یہ بھی لازم آ جائے گا کہ بھائی کا بیٹا بھی میراث میں دادا کا شریک بن جائے، اس لیے کہ معترض یہ کہتا ہے کہ میت کا بھتیجا باپ کے بیٹے کا بیٹا ہے اور میت کا دادا باپ کا باپ ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص باپ اور ایک توپا چھوڑ کر وفات پا جائے تو باپ کو چھٹا حصہ اور باقی ماندہ ترکہ پوتے کو مل جائے گا۔
Ayah 2:134

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

یہ جماعت گزر چکی ان کو ان کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

قول باری ہے : تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانو ا یعملون ( وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے ، جو کچھ انہوں نے کیا یا وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کمائو گے وہ تمہارے لیے ہے، تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے) یہ آیت تین معانی پر دلالت کرتی ہے۔ اول یہ کہ آباء کی اطاعت پر ابناء ( بیٹوں) کو ثواب نہیں ملے گا اور آباء کے گناہوں کی سزا بیٹوں کو نہیں دی جائے گی۔ اس میں ان لوگوں کے مسلک کا ابطال ہے جو مشرکین کی اولاد کی ان کے آباء کے گناہوں کی بنا پر تعذیب کو جائز قرار دیتے ہیں، نیز اس سے یہود کا یہ زعم بھی باطل قرار پاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے آباء کی نیکیوں کی بنا پر ان کے گناہ معاف کردے گا۔ اللہ تعالیٰ نے دیگر آیات میں بھی اس مضمون کو بیا ن فرمایا ہے، چناچہ ارشاد ہے ( ولا تکسب کل نفس الا علیھا (اور ہر شخص کی کمائی اس کے ہی ذمے ہوگی) نیز : ولا تزرو ازرۃ وزراخری ( اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا) نیز : فان تولو فانما علیہ ما حمل وعلیکم ما حملتہ (لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ کر رسول پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اس کا ذمہ وہ ہے اور تم پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اس کے ذمہ دار تم ہو) اس مضمون کو حضور ﷺ نے اپنے ارشاد کے ذریعے واضح فرما دیا ہے۔ آپ نے ابو رمثہ کے ساتھ ان کے بیٹے کو دیکھ کر پوچھا کہ : یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : سنو ! اس کے جرم کی نسبت تمہاری طرف نہیں ہوگی اور تمہارے جرم کی نسبت اس کی طرف نہیں ہوگی۔ اسی طرح بنو ہاشم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے بنی ہاشم، ایسا نہ ہو کہ لوگ میرے پاس اپنے اچھے اچھے اعمال لے کر آئیں اور تم میرے پاس اپنے انساب ( حسب نسب) لے کر آئو اور پھر میں تم میں سے کہہ دوں کہ میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ نیز آپ نے فرمایا : جس شخص کو اس کا عمل سست کردے اسے اس کا نسب تیز نہیں کرسکتا۔
Ayahs 2:135–137

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہوجاؤ تو سیدھے راستے پر لگ جاؤ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کئے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسیٰ کو عطا ہوئیں ان پر اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہوجائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمہارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمہیں خدا کافی ہے اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے

قول باری ہے : فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم ( اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے) اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے لیے اپنے دشمنوں کے معاملے میں کافی ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کی کثرت عداد اور ان کی شدید مخاصمت کے باوجود اپنے نبی ﷺ کے لیے کافی ہوگیا اور اس کی دی ہوئی خبر خارج میں پیش آنے والے واقعات کے عین مطابق پائی گئی۔ اسی طرح یہ قول باری ہے : واللہ یعصمد من الناس ( اللہ آپ کو لوگوں کے ہاتھوں سے بچائے گا) چناچہ اللہ نے آپ کو لوگوں سے بچایا اور ان کے مکروفریب نیز ریشہ دوانیوں سے آپ کو اپنے حفظ میں رکھا۔ یہ بات آپ کی نبوت کے عین مطابق صرف اس وقت ہوسکتی ہے جب خبر دینے والا اللہ ہو جو عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ اٹکل سے کام لے کر خبر دینے والو نیز کذب بیانی کرنے والوں کی خبروں کا تمام احوال میں خارجی حالات کے مطابق ہونا ممکن ہی نہیں ہوتا، بلکہ ان کی اکثر خبریں دروغ بیانی کا پلندہ ہوتی ہیں۔ اگر اتفاق سے ان کی دی ہوئی ایک آدم خبر سچی ہو بھی جاتی ہے تو یہ ایک اتفاقیہ امیر ہوتا ہے۔
Ayahs 2:138–142

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

(کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کرلیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہوسکتا ہے ؟ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

(ان سے) کہو کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو حالانکہ وہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

(اے یہود و نصاریٰ ! ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے ؟ (اے محمد ﷺ ! ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا ؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے اور خدا اس سے غافل نہیں جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

یہ جماعت گزر چکی ان کو ان کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے ؟ تم کہہ دو کہ مشرق و مغرب سب خدا ہی کا ہے وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے پر چلاتا ہے

قول باری ہے : سیقول السفھاء من الناس ماولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا ( نادان لوگ ضرور کہیں گے، انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اس سے یکا یک پھرگئے) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ اہل اسلام کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ حضور ﷺ مکہ میں نیز ہجرت کے بعد ایک عرصے تک مدینہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت براء بن عازب ؓ نے کہا ہے کہ حضور ﷺ کی مدینہ تشریف آور کے سترہ مہینے بعد تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا۔ قتادہ نے کہا ہے کہ سولہ ماہ بعد۔ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ یہ عرصہ نو ماہ یا دس ماہ کا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا۔ زیر بحث آیات کے اندر اللہ تعالیٰ نے نقاً بیان فرما دیا کہ نماز غیرکعبہ کے رخ ادا کی جاتی تھی اور پھر اللہ سبحانہ نے اپنے قول : سیقول السفھا من الناس تا آخر آیت کے ذریعے نیز : وما جعلنا القبلتہ التی کنت علیھا الا لنعلم من یتبع الرسول ممن ینقلب علی عقبیہ ( پہلے جس طرف تم رخ کرتے تھے اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھرجاتا ہے) اور : قد نری تقلب وجھک فی السماء فلنولینک قلیلۃ ترضھا ( یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں، لو ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو ( کے ذریعے قبلہ کا رخ پھیر دیا۔ مذکورہ بالا تمام آیات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور ﷺ غیر کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف رخ پھیر دیا تھا۔ یہ بات ان لوگوں کے قول کو باطل کردیتی ہے جو کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی شریعت میں کوئی ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ بیت المقدس کی طرف حضور ﷺ کے رخ کرنے کے بارے میں اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا یہ فرض تھا اور اس کے سوا کوئی اور بات جائز نہیں تھی، یا آپ کو بیت المقدس کی طرف اور اس کے سوا کسی اور طرف رخ کرنے کا اختیار تھا۔ الربیع بن انس کے قول کے مطابق آپ ﷺ کو اس بارے میں اختیار دیا گیا تھا، جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنا فرض تھا اور اس سلسلے میں کوئی تخییر نہیں تھی۔ مذکورہ بالا دونوں اقوال میں سے جو قول بھی قبول کیا جائے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنا فرض تھا کیونکہ تخییرا سے فرضیت کے دائرے سے خارج نہیں کرتی جس طرح مثلاً کفائرہ یمین میں کئی باتوں کے درمیان تخییر ہے لیکن ان میں سے جس صورت کے تحت یہ کفارہ ادا کیا جائے گا وہ قرض قرار پائے گی۔ یا جس طرح اول یا درمیانی یا آخر وقت میں نماز کی ادائیگی۔ جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ انہوں نے فرمایا :” قرآن کی سب سے پہلی بات جو منسوخ ہوئی وہ قبلے کی بات تھی وہ اس طرح کہ جب حضور ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اللہ نے آپ کو بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس پر یہودی بڑے خوش ہوئے۔ آپ ﷺ نے کچھ اوپر دس مہینے اس کی طرف رخ کیا لیکن آپ کو اپنے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ دل سے پسند تھا۔ آپ اس کے لیے اللہ سے دعائیں کرتے اور آسمان کی طرف رخ کرنا فرض تھا اور مذکورہ بالا آیت کے ذریعے یہ فرضیت منسوخ ہوگئی۔ اس میں ان حضرات کے قول پر کوئی دلالت نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ تخییر کے بغیر بیت المقدس کی طرف رخ کرنا فرض تھا۔ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنا علی وجہ التخییر فرض ہو اور پھر نسخ کا ورود تخییر پر ہوا ہو اور اس کے ذریعے مسلمانوں کو کعبے کی طرف رخ کرنے میں بلا تخییر محدود کردیا گیا ہو۔ روایت میں ہے کہ ہجرت سے پہلے کچھ لوگ مدینہ سے مکہ حضور ﷺ کے پاس آنے کے ارادے سے چل پڑے۔ یہ لوگ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتے تھے۔ ان لوگوں میں حضرت البراء بن معرور بھی تھے۔ انہوں نے راستے میں اپنی نمازیں کعبہ کی طرف رخ کرکے پڑھیں جبکہ دوسرے رفقا نے یہ کہہ کر ایسا کرنے سے انکار کردیا کہ حضور ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے ہیں۔ جب یہ حضرات مکہ پہنچ گئے تو انہوں نے حضور ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے حضرت البراء سے فرمایا : تم ایک قبلے یعنی بیت المقدس پر تھے، اگر اس پر ثابت رہتے تو تمہارے لیے یہ بات کافی ہوتی آپ ﷺ نے انہیں پڑھئی ہوئی نمازیں لوٹانے کا حکم نہیں دیا جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اس معاملے میں انہیں تخییر حاصل تھی اور انہوں نے بیت المقدس کی طرح رخ کرنے کی بات اختیار کرلی تھی۔ اگر یہاں کہاجائے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں سب سے پہلی بات جو منسوخ ہوئی وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم تھا، تو جواب میں کہاجائے گا کہ ممکن ہے کہ اس سے مراد قرآن کا وہ حصہ ہو جو منسوخ التلاوۃ قرار پایا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد : سیقول السفھاء من الناس کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ یہاں نادانوں کے ذکر سے یہود مراد ہیں، نیز یہ کہ انہوں نے ہی تحویل قبلہ کے حکم پر نکتہ چینی کی تھی۔ یہ بات حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت بیان کی گئی ہے۔ یہوڈ نے اس نکتہ چینی کے ذریعے نسخ کے انکار کا ارادہ کیا تھا کیونکہ ان میں سے ایک گروہ نسخ کا قائل نہیں تھا۔ ایک قول کے مطابق انہوں نے حضور ﷺ سے کہا تھا کہ آپ اس قبلے سے کیوں پھرگئے جس کی طرف پہلے رخ کرتے تھے ؟ آپ ؐ پھر اس کی طرف پھر جائیے۔ ہم آپ ﷺ کی پیروی کریں گے اور آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ انہوں نے یہ کہہ کر صرف آپ ﷺ کو آزمانا چاہا تھا۔ اس طرح قبلہ اول سے قبلہ ثانی کی طرف آپ ﷺ کی تحویل پر یہود کا اعتراض اور انکی نکتہ چینی مذکورہ بالا دو میں سے ایک معنی پر محمول ہوگی حسن بصری نے کہا ہے کہ جب حضور ﷺ کو بیت المقدس سے کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ملا تو مشرکین عرب نے کہا : محمد ﷺ ! آپ ﷺ نے اپنے آبائو اجداد کے طریقے کو چھوڑ دیا تھا۔ اب آپ ﷺ پھر اسی طریقے کی طرف لوٹ آئے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ آپ ﷺ ان کے دین کی طرف بھی ضرور لوٹ آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کو بھی بیان فرمایا جس کی خاطر اس نے مسلمانوں کو قبلہ اول سے قبلہ ثانی کی طرف پھیر دیا تھا، چناچہ ارشاد ہے : وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھا الا لنعلم من یتبع الرسول ممن ینقلب علی عقبیہ ( پہلے تم جس طرف رخ کرتے تھے اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھرجاتا ہے ایک قول کے مطابق مسلمانوں کو مکہ کے اندر بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا اس لیے حکم دیا گیا تھا کہ وہ مشرکین سے ممتا ز ہوجائیں جو ان کے سامنے کعبہ کی طرف رخ کیا کرتے تھے ۔ پھر جب حضور ﷺ ہجرت کرکے مدینہ گئے تو مدینہ کے آس پاس آباد یہودی بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے اس لیے مسلمانوں کو پھر سے کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ وہ یہودیوں سے اسی طرح ممتاز ہوجائیں جس طرح وہ مکہ میں مشرکین سے ممتاز تھے۔ اس طرح مسلمان دونوں قبلوں کے اختلاف کے ذریعے مشرکین اور یہودیوں سے ممتاز ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی طرف سے نسخ کے انکار پر یہ فرما کر حجت قائم کردی کہ : قل للہ المشرق والمغرب یھدی من یشاء الی صراط مستقیم (آپ کہہ دیجئے کہ مشرق اور مغرب اللہ کے لئے ہیں وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے) یہود پر حجت قائم کرنے کی صورت یہ ہے کہ جب مشرق اور مغرب اللہ کے لیے ہے تو ان دونوں کی طرح رخ کرنا یکساں ہے، انسانی عقل کے نزدیک ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ دین اور صرا ط مستقیم کی طرف ہدایت کی مصلحت کی خاطر جس جہت کو چاہتا ہے رخ کرنے کے حکم کے ساتھ مختص کردیتا ہے۔ اسے ایک جہت سے دیکھئے۔ یہود کا دعویٰ یہ تھا کہ ارض مقدس ( فلسطین جہاں بیت المقدس واقع ہے) کی طرف رخ کرنا اولی ہے کیونکہ یہ انبیاء (علیہم السلام) کی سرزمین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو شرف اور عظمت بخشی ہے اس لیے اس سرزمین سے رخ پھیرنا بلاوجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس دعوے کا ابطال یہ کہہ کر کردیا کہ مشرق سے مغرب تک تمام مقامات اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان میں سے جس مقام کو چاہتا ہے ہر زمانے کے اندر بندوں کی بھلائی اور مصلحت کے پیش نظر مخصوص کردیتا ہے۔ مقامات کے اندربالذات تفصیل کی کوئی بات نہیں ہوتی بلکہ ان مقامات کو فضیلت کے وصف کے ساتھ ان امور کی بنا پر موصوف کیا جاتا ہے جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان مقامات کی تعظیم واجب کی اور ان مقامات میں ادا کیے جانے والے اعمال کو فضیلت حاصل ہوتی ہے۔ ابو بکر حصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث آیت کے ذریعے ان حضرات سے استدلال کیا ہے جو قرآن کے ذریعے سنت کے نسخ کے قائل ہیں۔ اس لیے حضور ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے اس کا قرآن میں ذکر نہیں ہے۔ پھر یہ بات زیر بحث آیت کے ذریعے منسوخ کردی گئی جو حضرات مذکورہ بالا نسخ کے قائل ہیں ان کا کہنا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے کہ قول باری : فاینما تولوافثم وجہ اللہ۔ منسوخ ہوا ہے اس آیت کے مضمون میں کسی بھی جہت کی طرف رخ کرنے کی بات کی گئی ہے جسے کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دے کر منسوخ کردیا گیا۔ ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک مذکورہ بالا قول باری منسوخ نہیں ہوابل کہ اس کے حکم پر تین صورتوں کے اندر عمل ہوتا ہے۔ اول اس صورت میں جب ایک شخص اپنی سمجھ بوجھ اور اجتہاد سے کام لے کر کعبہ کی جہت کے سوا کسی اور جہت کی طرف رخ کرکے نمازادا کرلے۔ دوم خوف زدہ انسان کی نماز کی صورت میں اور سوم سواری پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی صورت میں۔ حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت عامر بن ربیعہ ؓ نے روایت بیان کی ہے کہ مذکورہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو اپنے اجتہاد سے کام لے کر کعبہ کے سوا کسی اور رخ نماز ادا کرے اور پھر اس کے سامنے یہ بات واضح ہوجائے کہ اس نے کعبہ کے رخ نماز ادا نہیں کی ۔ حضرت ابن عمر ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ مذکورہ آیت کا نزول سواری پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے متعلق ہوا ہے۔ ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ جب ہمارے لیے نسخ کے ایجاب کا حکم عائد کیے بغیر آیت پر عمل کرنا ممکن ہے تو پھر اس کے نسخ کا حکم لگانا جائز نہیں ہوگا۔ ہم نے اس مسئلہ پر اصول فقہ کے اندر سیر حاصل بحث کی ہے۔ زیر بحث آیت کے اندر ایک اور حکم بھی ہے۔ حماد بن سلمہ نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے پھر یہ آیت نازل ہوئی : فول وجھک شطر المسجد الحرام (اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف موڑلو) اس پر حضور ﷺ کی طرف سے منادی کرنے والے نے اعلان کردیا کہ :” مسلمانو تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ اپنے چہرے مسجد حرام کی طرف موڑلو ! “ یہ اعلان سن کر بنو سلمہ نے اپنے چہرے بیت اللہ کی طرف رکوع کی حالت میں ہی موڑ لیے۔ عبدالعزیز بن مسلم نے عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت بیان کی کہ لوگ قبا ( مدینہ کے قریب ایک آبادی کا نام ) کے اندر صبح کی نماز میں مصروف تھے کہ ایک شخص ان کیپ اس پہنچا اور انہیں آگاہ کیا کہ حضور ﷺ پر قرآن نازل ہواہی اور آپ کو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس لیے تم لوگ بھی استقبال کعبہ کرو۔ یہ سن کر تمام لوگ اسی حالت میں کعبہ کی طرف مڑ گئے جبکہ پہلے ان کا رخ شام کی طرف تھا۔ اسرائیل نے ابو اسحق نے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت بیا ن کی ہے کہ جب آیت : قد نری تقلب وجھک فی السماء کے نزول کے بعد حضور ﷺ کعبہ کے رخ مڑ گئے تو آپ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرنے والا ایک شخص انصار کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا۔ یہ حضرات بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کر رہے تھے، یہ دیکھ کر مذکورہ شخص نے کہا کہ حضور ﷺ نے کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرمائی ہے۔ یہ سن کر انصار کا مذکورہ گروہ نماز کے اندر ہی رکوع میں جانے سے پہلے کعبہ کی طرف مڑ گیا۔ ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ اہل علم کے ہاتھوں میں یہ ایک صحیح اور مستفیض روایت ہے اور لوگوں نے اس روایت کو قبول بھی کیا ہے، اس لیے یہ روایت متواتر حدیث کے مقام پر پہنچ گئی ہے اور حدیث متواتر علم کی موجب ہوتی ہے۔ یہی روایت اس شخص کے مسئلے میں اصول کی حیثیت رکھتی ہے جو اپنے اجتہاد سے کام لے کر غیر کعبہ کے رخ نماز شروع کرے اور پھر نماز کے دوران میں اسے معلوم ہوجائے کہ اس کا رخ کعبے کی طرف نہیں ہے تو وہ کعبہ کی طرف پھر جائے گا اور نئے سرے سے نما ز شروع نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر لونڈی کو نماز کے اندر آزاد ہوجانے کی خبر مل جائے تو وہ دوپٹہ لے کر اپنی نماز جاری رکھے گی۔ یہ روایت دین کے معاملے میں خبرواحد کو قبول کرلینے کے سلسلے میں اصل اور بنیاد ہے۔ اس لیے کہ انصار نے ایک شخص کی دی ہوئی خبر کی بنیاد پر نماز کے اندر ہی اپنا رخ کعبہ کی طرف کرلیا تھا۔ نیز حضور ﷺ نے جس شخص کے ذریعے تحویل قبلہ کے حکم کی منادی کرائی تھی وہ بھی ایک تھا اور اس کی دی ہوئی خبر، خبر واحد کا درجہ رکھتی تھی۔ اگر صحابہ کرام کے لیے خبر واحد کو قبول کرنا لازم نہ ہوتا تو حضور ﷺ کی طرف سے منادی کرانے کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ یہاں اگر کوئی کہے کہ آپ کا اصول تو یہ ہے کہ ایسا حکم جو علم کو واجب کردینے والے ذریعے سے حاصل ہوا ہو سے رفع کرنے میں خبرواحد کو قبول نہیں کیا جائے گا اور زیر بحث واقعہ آپ ﷺ کے اصول کے خلاف ہے کیونکہ لوگ آپ کی طرف سے توقیف اور حکم کی بناء پر بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے اور پھر انہوں نے خبر واحد کی بنا پر اس حکم کو ترک کردیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے مذکورہ حکم اس لئے ترک کردیا کہ حضور ﷺ کے پاس سے دور رہ کر انہیں اس حکم کے باقی رہنے کا یقین نہیں تھا اور وہ اس حکم کے نسخ کو ممکن سمجھتے تھے۔ اگر یہاں کوئی شخص یہ کہے کہ جس طرح ا ن حضرات نے تحویل قبلہ کے بعد اپنی نمازیں جاری رکھیں اسی طرح آپ اس تیمم کرنے والے کو اپنی نماز جاری رکھنے کا کیوں حکم نہیں دیتے جسے نماز کے اندر پانی دستیاب ہوجائے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں اس بنا پر فرق ہے کہ تیمم کرنے والے کے لئے نماز جاری رکھنے کو جائز قرار دینا اس پر وضو کو واجب نہیں کرتا اور پانی مل جانے کے باوجود تیمم کے ساتھ اس کے لئے نماز جاری رکھنا جائز ہوتا ہے جب کہ دوسری طرف بنو سلمہ کے انصار کو جب تحویل قبلہ کی خبر پہنچی تو وہ فوراً کعبہ کی طرف پھرگئے اور اس جہت کی طرف اپنا رخ باقی نہیں رکھا جس کی طرف وہ اپنے چہرے کیے ہوئے تھے۔ اس لئے قبلہ کی نظریہ ہے کہ تیمم کرنے والے کو وضو کرنے اور نماز جاری رکھنے کا حکم دیاجائے۔ اس مسئلے میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے کہ تیمم کرنے والے کو اگر وضو کرنا لازم ہوجائے تو اس کے لئے تیمم کے ساتھ نمازیں جاری رکھناجائز نہیں ہوتا۔ اسے ایک اور جہت سے دیکھے کہ تیمم کرنے والے کے لئے اصل فرض پانی کے ذریعے طہارت حاصل کرنا ہوتا ہے اور مٹی اس کا بدل ہوتی ہے۔ اس لئے جب اسے پانی مل جائے تو وہ اپنے اصل فرض کی طرف لوٹ آتا ہے جس طرح موزوں پر مسح کرنے والا شخص مسح کا وقت ختم ہوجانے پر اپنی نماز مسح کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا۔ یہی کیفیت تیمم کرنیوالے کی ہے۔ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے والوں کا افضل فرض اس وقت کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا نہیں تھا جب وہ نماز میں داخل ہوئے تھے۔ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا فرض تو انہیں نماز کی حالت میں لاحق ہوا تھا۔ اسی طرح لونڈی کو اگر نماز کی حالت میں آزادکردیاجائے تو اس سے پہلے اس پر ستر فرض نہیں تھا، یہ فرض تو اسے نماز کی حالت میں لاحق ہوا۔ اس لئے لونڈی کا مسئلہ حضرات انصار کے مسئلے کے مشابہ ہوگیا جب انہیں تحویل قبلہ کا حکم معلوم ہوا۔ اسی طرح اپنی سمجھ بوجھ سے کام لے کر ایک جہت کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرنے والے کا فرض اس جہت کی طرف رخ کرنا تھا جس کی طرف اپنے اجتہاد کی بنا پر اس نے رخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے سو اس اس پر قول جاری فاینما تولو انتم وجہ اللہ کی بنا پر کوئی اور بات فرض نہیں تھی۔ وہ تو ایک فرض سے دوسرے فرض کی طرف منتقل ہوا تھا۔ بدل سے اصل فرض کی طرف منتقل نہیں ہوا تھا۔ زیر بحث آیت میں ایک حکم اور بھی ہے، وہ یہ کہ حضرات انصار کا مذکورہ بالا فعل اس بات کی بنیاد ہے کہ اوامر اور زواجر کے احکام ان کے بارے میں علم ہوجانے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس پر نماز فرض ہے اور پھر وہ دارالاسلام میں آ جائے، تو اس پر گزشتہ نمازوں کی فضا لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ فرضیت اسے سماع کے طریقے سے لازم ہوگی لیکن جب تک اس کا علم نہیں ہوگا اس وقت تک اس کا حکم اس سے متعلق نہیں ہوگا جس طرح حضرات انصار کے ساتھ تحویل قبلہ کی خبر آنے سے پہلے اس کا حکم متعلق نہیں ہوا۔ یہ بات وکالہ اور مضاربہ اور اسی طرح کے دیگر عقود میں جن کا تعلق بندوں کے اوامر سے ہے اس مسئلے کی اصل اور بنیاد ہے کہ اگر اسی طرح کے دیگر عقود میں جن کا تعلق بندوں کے اوامر سے ہے اس مسئلے کی اصل اور بنیاد ہے کہ اگر ان عقود میں حق فسخ رکھنے والا شخص انہیں فسخ کردے تو جب تک دوسرے کو اس کا علم نہ ہو اس وقت تک ان عقود کی کوئی بات فسخ نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے کہا ہے کہ عقد و کا لہ کا علم ہونے سے پہلے وکیل کا تصرف جائز نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخر الزماں ﷺ تم پر گواہ بنیں اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے اس کو ہم نے اس لئے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں کہ کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھرجاتا ہے اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی ہے (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحب رحمت ہے

اجماع کی صحت پر بحث قول باری ہے۔ وکذلک جعلنا کم امۃ وسطاً لتکونو ا شھداء علی الناس ( اور اسی طرح تو نے تمہیں ایک امت وسط بنایا تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو) اہل لغت کے قول کے مطابق وسط عدل، یعنی معتدل کو کہتے ہیں اور عدل وہ ہے جو کوتاہی کرنے والے اور غلو کرنے والے کے درمیان ہو۔ ایک قول کے مطابق وسط کے معنی ہیں خیار یعنی بہترین، یہ دونوں معنی یکساں ہیں اس لئے کہ عدل خیار، یعنی بہترین ہی ہوتا ہے۔ زہیر کا شعر ہے ؎ ھم وسط یرضی الانام بحکمھم اذا طرقت احدی اللیا بعظم (اگر لوگوں کو کوئی اہم مسئلہ پیش آ جائے تو ایسے موقعہ پر میرے ممدوحین اس قدر معتدل اور بہترین لوگ ثابت ہوئے ہیں کہ ان کے صادر کردہ فیصلے پر تمام لوگ رضا مند ہوجاتے ہیں) قول باری : لتکونوا شھداء علی الناس کا مفہوم ہے ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جائو “۔ لفظ شھداء کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ مسلمان دنیا و آخرت میں لوگوں پر ان کے ان اعمال کی گواہی دیں گے جن کے اندر انہوں نے حق کی خلاف ورزی کی تھی۔ قول باری ہے۔ وحی بالنبین والشھداء (اور نبیوں اور گواہوں کو لایاجائے گا) اور ایک قول کے مطابق مسلمان انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں ان کی جھٹلانے والی امتوں کے خلاف گواہی دیں گے کہ ان انبیاء نے امتوں کو پیغام حق پہنچا دیا تھا ۔ مسلمانوں کی یہ گواہی اس بنا پر ہوگی کہ حضور ﷺ نے انہیں اس بات سے آگاہ فرما دیا تھا۔ ایک اور قول کے مطابق زیر بحث لفظ کا مفہوم ہے تاکہ تم اپنی دی ہوئی گواہیوں میں حجت بن جائو جس طرح حضور ﷺ امت کے ہر فردپر شہید بمعنی حجت ہیں۔ “ ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ مذکورہ لفظ ان تمام معانی کا احتمال رکھتا ہے اور یہ جائز ہے کہ یہ تمام معانی اللہ کی مراد ہوں ۔ یعنی امت مسلمہ دنیا اور آخرت میں لوگوں کے اعمال کی ان پر گواہی دے گی اور اس امت کے افراد انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں ان کی امتوں کے خلاف گواہی دیں گے۔ یہ گواہی اس بنا پر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق انہیں بتایا ہے اور اس کے ساتھ یہ امت شریعت کو بعد میں آنے والے لوگوں کی طرف منتقل کرنے میں ان پر حجت ہوگی اور یہ اللہ کے جن احکام کا اعتقاد رکھیں اور جو فیصلے کریں ان میں بھی حجت ہیں۔ اس آیت میں دو وجوہ سے اجماع امت کی صحت پر دلالت موجود ہے۔ اول یہ کہ اس امت کو عدالت یعنی عادل ہونے کے وصف سے موصوف کیا گیا ہے نیز یہ کہ یہ بہترین ہیں۔ یہ بات اس امر کی متقضی ہے کہ اس امت کی تصدیق کی جائے اور اس کے قول کی صحت کا حکم عائد کیا جائے نیز یہ بات گمراہی پر امت کے اجماع کی نفی کرتی ہے۔ دوم یہ کہ قول باری : لتکونو ا شھداء علی الناس۔ کا مفہوم ہے کہ یہ امت لوگوں پر اسی طرح حجت ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ اس امت پر حجت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افراد کو دوسروں پر گواہ بنادیا تو گویا ان کے حق میں عدالت کا نیز ان کا قول قبول کرنے کا حمک بھی عائد کردیا کیونکہ اللہ کے مقرر کردہ گواہ نہ تو کافر ہوسکتے ہیں اور نہ ہی گمراہ۔ اس طرح آیت اس بات کی متقضی ہوگئی کہ امت کے افراد آخرت میں ان لوگوں پر گواہ بنیں گے جن کے اعمال کا انہوں نے ہر زمانے میں مشاہدہ کیا ہے۔ ایسے لوگوں پر یہ گواہ نہیں بنیں گے جو ان کے زمانے سے پہلے مرچکے ہوں جس طرح حضور ﷺ ہر اس شخض پر گواہ ہیں جو آپ ﷺ کے زمانے میں موجود تھا۔ یہ بات اس صورت میں ہوگی جب گواہی سے آخرت میں لوگوں پر ان کے اعمال کی گواہی مراد ہو، لیکن اگر گواہی سے حجت مراد ہو تو اس صورت میں یہ عنصر ثانی یعنی اپنے بعد کے زمانے کے ان لوگوں پر حجت ہوں گے جنہیں انہوں نے دیکھا تھا نیز ان لوگوں پر بھی جو قیامت تک ان کے بعد آئیں گے۔ جس طرح حضور ﷺ پوری امت پر اول سے لے کر آخر تک گواہ ہیں اس لئے اللہ کی حجت کا جب ایک وقت میں ثبوت ہوجائے تو یہ ہمیشہ کے لئے ثابت رہے گی۔ آخرت میں اعمال پر گواہی حجت کے درمیان فرق پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے : فکیف اذا جئتا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھئولا شھیدا ( پھر سوچو کہ اس وقت پر یہ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں ( یعنی محمد ﷺ کو) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے) جب اللہ سبحانہ نے ان کے اعمال پر گواہی مراد لی تو ہر گواہ کی گواہی کو اس کے زمانے کے لوگوں نیز ان افراد کے ساتھ خاص کردیا جنھیں گواہ نے مذکورہ اعمال کرتے دیکھا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں ان کی زبانی فرمایا : وکنت علیھم شھیداً ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم ( میں اسی وقت تک ان کا نگران تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگران تھے) اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اعمال کی گواہی صرف گواہی دینے کی حالت کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے۔ رہ گئی وہ گواہی جو حجت کے معنوں میں ہے تو امت پر حضور ﷺ کے حجت ہونے کے اعتبار سے امت کے اول اور آخر کا اختصاص اس کے ساتھ نہیں ہے۔ اسی طرح ہر عصر کے لوگ جب ازراہ حجت اللہ کے گواہ ہوتے ہیں تو اس سے یہ بات واجب ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے زمانے کے ان لوگوں پر بھی حجت بن جائیں جو ان کے اجماع کے اندر ان کے ساتھ داخل ہوں نیز ان لوگوں پر بھی جو آنے والے زمانوں میں ان کے بعد آئیں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اگر ایک زمانے کے لوگ کسی بات پر اجماع کرلیں اور پھر کچھ لوگ ان کے اس اجماع سے باہر ہوجائیں تو ان پر سابقہ اجماع کی حجت قائم ہوجاتی ہے کیونکہ حضور ﷺ نے اس جماعت کے حق میں اس کے قول کی صحت کی گواہی دی تھی اور اسے حجت اور دلیل قرار دیا تھا۔ اس لئے کہ اللہ کی دلیل کا وجود اپنے مدکول سے عاری ہوکر نہیں پایا جاتا اور حضور ﷺ کے بعد نسخکا وجود محال ہونے کی بنا پر ازروئے نسخ آپ کا حکم ترک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ امت کا اجماع جس حالت میں بھی منعقد ہوجائے وہ اللہ عزوجل کی حجت ہوتا ہے۔ زیر بحث آیت چونکہ صدر اول کے اجماع کی صحت پر دلالت کرتی ہے اس لیے یہ دیگر زمانوں کے اجماع کی صحت پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ اس میں کسی ایک زمانے کی تخصیص نہیں کی گئی اگر آیت کی رو سے صدر اول کے اجماعت پر اقتصار درست ہوتا اور دیگر زمانوں کا اجماع اس میں شامل نہ ہوتا تو پھر آیت ہی کے رو سے دیگر زمانوں کے اجماع پر اقتصار درست ہوجاتا اور صدر اول والے اس میں شامل نہ ہوتے اگر یہاں کوئی یہ بات کہے کہ اللہ سبحانہ نے : وکذلک جعلنا کم امۃ وسطاً فرما کر ان لوگوں سے خطاب کیا جو اس آیت کے نزول کے وقت موجود تھے تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ یہی لوگ اس خطاب کے ساتھ مخصوص تھے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آیت میں مذکورہ خطاب پوری امت کے لیے ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ خطاب ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو آیت کے نزول کے وقت موجود تھے اور ان کے لیے بھی جو قیامت تک آنے والے تھے جس طرح یہ قول باری ہے کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم ( تم پر روزہ اسی طرح فرض کردیا گیا جس طرح یہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کردیا گیا تھا) اسی طرح فرمایا کتب علیکم القصاص ( تم پر قصاص فرض کردیا گیا) اور اسی طرح کی دیگر آیات میں خطاب پوری امت کے لیے ہے جس طرح حضور ﷺ پوری امت کے لئے معبوث کئے گئے تھے یعنی ان کے لئے بھی جو آپ ﷺ کے زمانہ بعثت میں موجود تھے اور ان کے لیے بھی جو بعد میں آنے والے تھے۔ ارشاد باری ہے : انا ارسلنک شاھداً ومبشراً ونذیراً و داعیا الی اللہ باذنہ وسراجاً منیراً ( بیشک ہم نے آپ ﷺ کو بطور گواہ نیز بشارت دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے) نیز فرمایا : وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین) ہم نے آپ ﷺ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے) میرے خیال میں امت کے اندر ایک فرد بھی ایسا نہیں ہوگا جو اس قول کو جائز سمجھتا ہو کہ حضور ﷺ پوری امت از اول تا آخر کے لیے مبعوث ہوئے تھے، نیز یہ آپ ؐ پوری امت پر حجت اور گواہ نہیں تھے اور پوری امت کے لیے رحمت نہیں تھے۔ اگر یہاں کوئی شخص یہ کہے کہ قول باری ہے : وکذلک جعلنا کم امۃ وسطاً اور امت کا اسم ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو حضور ﷺ کے زمانے میں موجود تھے اور جو آپ ﷺ کے بعد قیامت تک آنے والے تھے۔ تاہم آپ کے زمانے میں موجود امت پر عدالت اور قبول شہادت کا حکم عائد کیا گیا ۔ اس میں کسی اور زمانے والوں کے لیے عدالت اور قبول شہادت کے حکم کا ذکر نہیں ہے تو پھر تم نے ہر زمانے والوں پر عدالت کا حکم کہاں سے عائد کردیا ؟ تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جن پر عادل ہونے کا حکم عائد کردیا گیا دوسروں پر حجت قرار دیا اور یہ بات معلوم ہے کہ عدالت کی مذکورہ بالا صفت انہیں دنیا میں حاصل ہوگئی تھی اور اللہ نے یہ بتادیا کہ یہ لوگ دوسروں پر گواہ ہیں تو ایسی صورت میں اگر امت پر ان کے حجت ہونے کے اعتبار سے پوری امت از اول تا آخر کا اعتبار کرلیا جائے تو ہمیں معلم ہوجائے گا کہ ہر عصر کے لوگ مراد ہیں، امت اس جماعت کا اسم ہے جس میں یکجہتی پائی جائے اس بنا پر یہ اسم ہر زمانے کے لوگوں کو علیحدہ علیحدہ بھی شامل ہے چناچہ اس امر میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ لفظ امت کا اطلاق کرکے اس کے ذریعے کسی ایک عصر کے لوگ مراد لیے جائیں۔ اسے ایک اور جہت سے دیکھئے۔ ارشاد باری ہے جعلنکم امۃ وسطاً اللہ سبحانہ نے امت کو وسط کی صفت کے ساتھ موصوف کرتے ہوئے اسم نکرہ کے ذریعے ان سے تعبیر کی اور انہیں حجت قرار دیا یہ بات ہر عصر کے لوگوں کی متقضی ہے کیونکہ قول باری : جعلنکم سب کے لیے خطاب ہے اور مذکورہ صفت مخاطبین میں سے ہر امت اور ہر گروہ کو لاحق ہے، نیز آپ ﷺ اس قول باری کو نہیں دیکھتے : ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق (اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک امت ہے جو حق کی رہنمائی کرتی ہے) حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پوری قوم ان کی امت ہے، لیکن مذکورہ بالا صفت کے ساتھ موصوف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو علی الانفراد امت کے نام سے موسوم کیا۔ اس سے یہ باتثابت ہوگئی کہ ہر زمانے کے لوگوں کو امت کے نام سے موسو م کرنا جائز ہے اگرچہ امت کا اسم بعض دفعہ امت کے اول اور اس کے آخر کو لاحق ہوجاتا ہے۔ زیر بحث آیت میں اس امر پر بھی دلالت موجود ہے کہ ایسے گروہ جن کا کفر ظاہر ہوچکا ہو مثلاً فرقہ جبریہ اور فرقہ مشبہ وغیرہ اجماع امت کے سلسلے میں ان کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اسی طرح ایسے فرقے جن کا فسق واضح ہو مثلاً خوارج اور روافض، انہیں بھی اجماع امت کے سلسلے میں قابل اعتبار نہیں سمجھا جائے گا۔ خواہ یہ فسق اعمال کی صورت میں ظاہر ہوا ہو یا اعتقاد کی شکل میں۔ اس لیے کہ اللہ سبحانہ نے آیت میں مذکورہ لوگوں کو ان کی عدالت اور خیرو بھلائی کی بنا پر گواہ قرار دیا ہے اور عدالت اور خیر کی یہ صفت نہ تو کافروں کو لاحق ہوسکتی ہے اور نہ ہی فاسقوں کو۔ اس بارے میں ان لوگوں کے حکم کے اندر کوئی فرق نہیں ہے جو تاویل کی بنا پر فسق یا کفر میں مبتلا ہوئے ہیں یا نص کو رد کردینے کی بنا پر کیونکہ مذمت کی صفت ان سب کو شامل ہے اور عدالت کی صفت انہیں کسی بھی حال میں لاحق نہیں ہوسکتی۔ واللہ اعلم۔