2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحکام القرآن

Ayah 2:181

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں (اور) بیشک خدا سنتا جانتا ہے۔

وصیت تبدیل کرنے کا بیان ارشاد باری ہے : فمن بدلہ بعد ما سمعہ فانما اتمہ علی الذین یبدلونہ پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا تو اس کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہوگا) نیز قول باری : فمن بدلہ میں ہائے ضمیر وصیت کی طرف راجع ہے، اس کے لیے مذکر ضمیر جائز ہے۔ کیونکہ وصیت اور ایصاء دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ قول باری : اثمُہ میں ہائے ضمیر تبدیل کی طرف راجع ہے جس پر قول باری : فمن بدلہ سے دلالت ہو رہی ہے۔ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سمعہ میں احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وصیت پر گواہ ہو۔ اس صورت میں آیت میں اسے وصیت تبدیل کرنے سے روکا گیا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ذلک ادنی ان یا تو باشھادہ علی وجھھا ( اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے) زیر بحث آیت میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے وصی مراد ہو کیونکہ وہی اس وصیت کو جاری کرنے کا نگران اور اس کی تنقید کا مال ہوتا ہے اور اسی بنا پر وصیت تبدیل کرنے کا موقعہ اسے میسر ہوتا ہے۔ یہ بات بعید ہے کہ آیت میں تمام لوگ مراد ہوں کیونکہ اس معاملے میں انہیں کوئی دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سلسلے میں انہیں کسی تصرف کا حق ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک آیت مذکورہ بالا پہلے دو معنوں، یعنی گواہ اور وصی پر محمول ہے، کیونکہ آیت میں ان دونوں کا احتمال ہے۔ گواہ کی گواہی کی جب ضرورت پڑے تو وہ ٹھیک اسی طرح گواہی دینے کا پابند ہے جس طرح ان سے سنا تھا۔ وہ اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کرسکتا۔ وصی وصیت کی اسی طرح تنفیذ کا پابند ہے جس طرح اس نے سنا تھا ، بشرطیکہ وصیت کا تعلق ایسی چیز سے ہو جس ک بارے میں وصیت جائز ہے، عطاء اور مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں ن کہا : یہی وہ وصیت ہے جو شاہد ولی کو پہنچتی ہو۔ حسن بصری نے کہا ہے : یہی وصیت ہے ، جو شخص وصیت سنے اور سننے کے بعد اسے بدل ڈالے تو اس کا گناہ بدل ڈالنے والے پر ہوگا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث آیت میں حاکم مراد لینا بھی جائز ہے۔ کیونکہ جب وصیت کا معاملہ اس کے سامنے پیش ہو تو اسے اس پر ولایت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ تصرف بھی کرسکتا ہے۔ اس لیے وہ اس وصیت کے نفاذ کا پابند ہوگا اگر یہ جائز ہو اور اسے تبدیل کرنے کی اس کو اجازت نہیں ہوگی۔ آیت میں وصیت کو حق و صداقت کی بنیاد پر جاری اور نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سمعہ وصی کی طرف سے وصیت کو اسی طرح جاری کرنے کے جواز کا مقتضی ہے جس طرح اس نے وصی سے یہ وصیت سنی ہو۔ خواہ اس پر گواہ قائم کیے گئے ہوں یا نہ کیے گئے ہوں۔ یہ بات اس امر کی بنیاد اور اصل ہے کہ اگر کوئی شخص ایک بات سنے تو حاکم کے حکم اور گواہوں کی گواہی کے بغیر اس کے لیے عندالامکان اسے اس کے مقتضا اور موجَب کے مطابق جاری کردینا جائز ہے۔ اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ اگر مرنے والے نے وصی کے سامنے کسی شخص کے حق دین کا اقرار کیا ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وارث یا حاکم یا کسی اور کے علم میں لائے بغیر وہ یہ دین ادا کر دے کیونکہ اگر وہ دین کی بات سننے کے بعد اس کی ادائیگی نہیں کرے گا تو اس کی یہ کوتاہی موصی کی وصیت میں تبدیلی کی مترادف ہوگی۔ قول باری : فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ کئی معانی کو متضمن ہے۔ ایک معنی تو یہ ہے کہ یہ فقرہ اس فرض شدہ وصیت پر عطف ہے جو والدین اور رشتہ داروں کے لیے تھی اور وہ لا محلہ اس فقرے میں پوشیدہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کلام درست نہیں ہوگا کیونکہ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سبعہ فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ ایجاب فائدہ کے اعتبار سے مستقل بنفسہ کلام نہیں ہے کیونکہ یہ کنایہ اور ضمیر پر مشتمل ہے جن کے لیے ایک مذکور اور مظہر کا ہونا ضروری ہے ۔ جبکہ آیت میں کوئی مظہر لفظ نہیں ہے سوائے اس کے جس کا ذکر آیت کی ابتدا میں ہے۔ اس وضاحت کے تحت آیت اس امر کا افادہ کرے گی کہ نفس وصیت کے ساتھ موصی کا فرض پورا ہوجاتا ہے اور اگر اس کی موت کے بعد اس وصیت میں کوئی تغیر و تبدل کیا جائے تو اس کا گناہ اسے لاحق نہیں ہوگا۔ آیت میں ان لوگوں کے قول کے بطلان پر دلالت موجود ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ آیا کے گناہوں کی سزا ان کے بچوں کو دی جاسکتی ہے۔ یہ آیت اس قول باری کی نظیر ہے : ولا تکسب کل نفس الا علیھا ولا تزروازرۃ وزرا اخری ( ہر شخص جو بھی کمائے گا اس کی ذمہ داری اس پر ڈالی جائے گی اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا) آیت میں اس پر بھی دلالت موجود ہے کہ اگر کسی پر قرض کا بوجھ ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی وصییت کر جائے تو وہ آخرت کی پکڑ سے بری الذمہ ہوجائے گا۔ اگر اس کے ورثا اس کی موت کے بعد اس کے مذکورہ دین کی ادائیگی نہ کریں تو اسے کوئی گناہ لاحق نہیں ہوگا۔ یہ گناہ اس پر ہوگا جس نے اس وصیت کو بدل ڈالا ہو۔ آیت میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ جس شخص پر اپنے مال میں زکوٰۃ فرض ہو اور پھر اس کی ادائیگی کی وصیت کیے بغیر مرجائے، تو وہ کوتاہی کرنے والا نیز زکوٰۃ نادہندہ شمار ہوگا اور مانعین زکوٰۃ کے حکم کا سزا وار قرار پائے گا۔ اس لیے کہ اگر زکوٰۃ کی ادائیگی اس کے مال میں حلول کر جاتی جس طرح اس کے دیوان ان کے مال میں حلول کر جاتے ہیں تو اس کی حیثیت اس شخص کی طرح ہوجاتی جس نے موت کے وقت زکوٰۃ کی ادائیگی کی وصیت کی ہو۔ پھر وہ زکوٰۃ کی عدم ادائیگی کے گناہ سے بچ جاتا اور وصیت تبدیل کرنے والا اس گناہ کا مستحق قرار پاتا۔ لیکن چونکہ زکوٰۃ کا تحول اس کے مال میں نہیں ہوا اس لیے وہ عدم ادائیگی کے گناہ سے نہیں بچ سکے گا۔ اللہ سبحانہ نے مانع زکوٰۃ کے اس سوال اور التجا کو نقل فرمایا ہے جو وہ موت کے وقت واپسی کے سلسلے میں کرے گا۔ چناچہ ارشاد ہے : وانفقوا مما رزقناکم من قبل ان یاتی احدکم الموت فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصالحین ( اور ہم نے جو کچھ تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے چرچ کرلو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت آ کھڑی ہو، پھر وہ کہنے لگے۔ اے میرے پروردگار مجھے اور کچھ مہلت کیوں نہ دی کہ میں خیر خیرات دے لیتا اور نیک کاروں میں شامل ہوجاتا) اس آیت میں اللہ سبحانہ نے بتادیا کہ اس شخص سے کوتاہی ہوئی ہے اور ادائیگی کا موقعہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ کیونکہ اگر میت کی میراث سے زکوٰۃ کی ادائیگی کی ذمہ داری وارث یا وصی پر باقی ہوتی تو ادائیگی نہ کرنے پر وہ اس ملامت اور ڈانٹ کے مستحق قرار پاتے اور مرنے والا اس کی کوتاہی کے حکم سے خارج ہوتا۔ یہ بات ہمارے اس قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے کہ مرنے والے کی وصیت کے بغیر اس کے مال اور ترکہ سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا وجوب ممتنع ہے۔ اگر پوچھا جائے کو موصی کیی وصیت کی تنفیذ یا تبدیلی کی صورت میں اللہ کے نزدیک موصی کے حکم میں کوئی فرق پڑے گا یا دونوں حالتوں کے اندر وہ یکساں طور پر ثواب کا مستحق ہوگا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ موصی کی وصیت دو باتوں کو متضمن ہوتی ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ اپنی وصیت کی وجہ سے اسے اللہ سبحانہ سے ثواب حاصل کرنے کا استحقاق ہوجائے گا اور دوسری بات یہ کو موصیٰ لہ، تک وصیت پہنچ جانے کی صورت میں وہ اللہ کا شکر کرے گا نیز موصی کے حق میں دعائے خیر کرے گا۔ یہ بات اگرچہ موصی کے لیے ثواب کا باعث نہیں ہوگی، لیکن موصیٰ لہ کی طرف سے اس کے حق میں دعائے خیر اور اللہ کے لیے شکر کی بنا پر وہ ثواب تک رسائی حاصل کرلے گا۔ اس طرح موصی کو دو وجوہ سے فائدہ ہوگا بشرطیکہ اس کی وصیت نافذ کردی گئی ہو۔ لیکن اگر وصیت نافذ نہ کی جائے تو موصی کا فائدہ صرف اس ثواب تک محدود رہے گا جس کا وہ اپنی وصیت کی بنا پر مستحق قرار پائے گا۔ اگر پوچھا جائے کہ جب ایک شخص پر دین ہو، لیکن وہ اس کی ادائیگی کی وصیت نہ کرے اور پھر اس کے ورثا دین کی ادائگی کردیں تو اس صورت میں کیا مرنے والا گناہ سے بری الذمہ ہوجائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دین کی ادائیگی سے اس کا باز رہنا دو باتوں کی متضمن تھا۔ ایک تو اللہ کا حق اور دسورا آدمی کا حق ۔ جب آدمی اپنا حق وصول کرلے گا تو مرنے والا سزا سے بری ہوجائے گا، تا ہم اس پر آدمی کا وہ حق باقی رہے گا جو دین کی ادائیگی میں تاخیر نیز ظالمانہ رویہ کی بنا پر اس پر لازم ہوگا۔ اگر اس نے اس ظلم اور زیادتی سے توبہ نہ کی ہوگی تو آخرت میں اس سے مواخذہ ہوگا۔ وہ گیا اللہ کا حق یعنی زندگی کے دوران میں اس ظالمانہ رویہ جس کا اظہار اس نے دین کی ادائیگی میں تاخیر کے ذریعے کیا تھا اور جس سے اس نے توبہ نہیں کی تھی، وہ اس پر مواخذہ کا معاملہ اس کے اور اللہ کے درمیان رہے گا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر ایک شخص کسی کا مال غصب کرلے اور اسے واپس نہ کرنے پر اڑا رہے تو اپنے اس رویے سے وہ دو وجوہ سے گناہگار ہوگا۔ ایک تو اللہ کے حخق کا گناہ جس کا وہ مرکتب ہوا اور دوسرا آدمی ک حق کا گناہ جس پر اس نے ظلم کیا اور اسے نقصان پہنچایا۔ اگر مغصوب منہ غاصب سے اپنی چیز واپس لے لے جبکہ غاصب کو اس کی واپس یکا ارادہ نہ ہو، تو وہ اس کے حق سے بری الذمہ ہوجائے گا لیکن اللہ کا حق باقی رہے گا جس کے لیے اسے اللہ سے توبہ کی ضرورت ہوگی۔ اگر وہ توبہ کیے بغیر مرجائے گا، تو اس گناہ کا بوجھ اس کے ذمے باقی رہے گا اور یہ گناہ اس کے ساتھ چپکا رہے گا۔ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سمعہ فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ کا اطلاق اس شخص پر ہے جو ایس وصیت میں تبدیلی کرے جو جائز اور بمنی بر انصاف ہو، لیکن اگر وصیت ظلم اور جور پر مبنی ہو، تو اسے تبدیل کر کے مبنی بر انصاف کرنا واجب ہوگا۔ ارشاد باری ہے : غیر مضار وصیۃ من اللہ ( بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو، یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے) وصیت کا نفاذ اسی صورت میں واجب ہے جب وہ جائز اور مبنی بر انصاف ہو۔ اللہ سبحانہ نے یہ بات اگلی آیت میں بیان فرما دی ہے۔
Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے

وصیت میں ظلم کا علم ہوجائے تو وہ کیا کریں ارشاد باری ہے : فمن خاف من موص جنفا او اثما فاصلح بینھم فلا اثم علیہ ( البتہ جس شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن محمد اسحاق نے الحسن بن ابی ربیع سے، ان سے عبدالرزاق نے اور ان سے معمر نے قتادہ سے قول باری : فن خاف من موص جنفاً او اثما کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وصیت کرے، لیکن اپنی وصیت میں حق تلفی سے کام لے اور پھر ولی اس وصیت کو حق اور انصاف کی طرف لوٹا دے۔ ابو جعفر الرازی نے رلربیع بن انس سے نقل کیا ہے جنف خطا اور اثم عمد کے معنوں میں ہے ۔ ابن ابی البخیح نے مجاہد سے اور ابن طائوس نے اپنے والد سے اس آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ اس سے مراد وہ موصی ہے جو اپنے نواز سے کے لیے وصیت کرے اور ارادہ یہ ہو کہ اس طرح یہ وصیت اس کی بیٹی کو مل جائے ۔ المعتمر بن سلیمان نے اپنے والے سے، انہوں نے حسن بصری سے اس شخص کے بارے میں روایت بیان کی ہے جو اقارب کو نظر انداز کر ک اباعد کے لیے وصیت کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسے چاہیے کہ اپنی وصیت کے دو تہائی حصے اقارب کے لیے رکھے اور ایک تہائی اباعد کے لیے۔ طائوس سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جو اباعد کے لیے وصیت کرے ، اسے چاہیے کہ ان سے یہ وصیت لے کر اقارب کے حوالے کر دے الا یہ کہ اباعد میں کوئی شخص فقیر ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جنف غلطی اور نادانستہ طور پر حق سے ہٹ جانے کو کہتے ہیں۔ ہم نے اوپر الربیع بن انس سے جنف کے معنی خطا اور غلطی نقل کئے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ ان کی مراد غلطی کی بنا پر حق سے ہٹ جانا ہو۔ اثم عمداً اور قصداًٰ حق سے ہٹ جانے کا نام ہے۔ یہی تاویل درست ہے حسن بصری نے اس کی تاویل یہ کی ہے کہ وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ہونی چاہیے جو وارث نہ بن رہے ہوں۔ طائوس نے اس کی تاویل دو معنوں پر کی ہے۔ ایک تو یہ ک اباعد کے لیے وصیت کی جائے ایسی صورت میں یہ وصیت اقارت کی طرف لوٹا دی جائے گی۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنے نواسے کے لیے وصیت کرے اور اس کا ارادہ ہو کہ یہ وصیت اس کی بیٹی کو مل جائے ، حالانکہ والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کا وجوب منسوخ ہوچکا ہے۔ قول باری : ثمن خاف من موص جنفا او اثما۔ اس امر کا موجب نہیں ہے کہ یہ حکم اس وصیت تک محدود رہے جس کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا ہے کیونکہ آیت ایک مستقل بنفسہ کلام ہے اور اس کے ساتھ خطاب کی ابتدا درست ہے نیز یہ اپنے ما قبل کے ضمن میں نہیں ہے۔ یہ وصیت کی تمام صورتوں کے لیے عام ہے، جبکہ ان ک ذریعے انصاف سے ہٹ کر ظلم اور جور کی طرف میلان کا اظہار کیا گیا ہو، یہ اس وصیت کو بھی شامل ہے جو والدین اور رشتہ داروں کے لیے اسی وقت واجب تھی جب اس کا وجوب باقی تھا اور اس کے سوا دیگر وصیتوں کو بھی شامل ہے۔ اس لیے عوام الناس میں سے جو شخص بھی کسی وصیت کنندہ کے اندر حق و انصاف سے ہٹ جانے اور ظلم و جور کی طرف میلان محسوس کرے ۔ اس پر واجب ہوگا کہ وہ اسے عدل و انصاف کی راہ دکھائے اور اپنی اصلاح کرنے کی طرف اس کی توجہ مبذول کرائے۔ اس کام کے ساتھ شاہد یا وصی یا حاکم مختص نہیں ہیں، بلکہ تمام لوگ اس میں داخل ہیں۔ کیونکہ اس کا تعلق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باب سے ہے۔ اگر کہا جائے کہ قول باری : فمن خاف من موص جنافا او اثما کا کیا مفہوم ہے جبکہ خوف صرف اس امر کے ساتھ مختص ہوتا ہے جس کا مستقبل میں وقوع ممکن ہو۔ ماضی سے تعلق رکھنے والے کسی امر کے ساتھ خوف وابستہ نہیں ہوتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ متعلقہ شخص کے سامنے موصی کی کچھ ایسی حرکات ظاہر ہوگئی ہوں جنہیں دیکھ کر اس کا غلب گمان یہ ہو کہ وہ جو رکا ارادہ رکھتا ہے اور میراث کو ورثا کے حوالے کرنا نہیں چاہتا۔ اس بنا پر جس شخص کو یہ اندیشہ ہو اس پر لازم ہوگا کہ وہ موصی کو انصاف برتنے پر مائل کرے اور اسے ظلم وجور ک بُرے انجام سے ڈرائے یا اصلاح کی نیت سے موصی لہ، اور ورثا کے درمیان آ کر معاملہ درست کر دے۔ ایک قول باری : فمن خاف کے معنی یہ ہیں کہ اسے علم ہوجائے کہ وصیت کے اندر جور کا پہلو موجود ہے اور پھر وہ اسے انصاف کی طرف لوٹا دے۔ اللہ سبحانہ نے فلا اثمہ علیہ فرمایا اور یہ نہیں فرمایا کہ وصیت کو عدل اور صلاح کی طرف لوٹا دے۔ نہیں فرمایا اور نہ ہی اس کے لیے ثواب کے استحقاق کا ذکر کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جھگڑے کے دونوں فریقوں کے درمیان اصلاح کی نیت سے مداخلت کرنے والے کے اکثر احوال یہ ہوتے ہیں کہ انہیں ہر فریق کو سمجھانا پڑتا ہے، وہ اپے دعوے اور حق کا کچھ حصہ دوسرے فریق کی خاطر چھوڑ دے۔ ایسی صورت میں اصلاح کرنے والے کے ذہن میں بعض دفعہ یہ بات آ جاتی ہے کہ اسے ایسا کرنا نہیں تھا نیز یہ وجہ بھی ہے کہ وہ اکثر حالات میں اپن غالب ظن کی بنیاد پر اصلاح کا مذکورہ کام سرانجام دیتا ہے اور اس کا یہ عمل حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ سبحانہ نے فریقین کے درمیان اصلاح احوال کی خاطر مداخلت کرنے کی رخصت دے دی اور مصلح کے ذہن میں بیٹھے ہوئے اس ظن کو دور کردیا کہ اس کے لیے اس اقدام کا جواز ممتنع ہے۔ اسی بنا پر فرمایا : فلا اثم علیہ دوسرے مقام پر اس جیسے اقدام پر ثواب کا وعدہ کیا گیا، چناچہ ارشاد ہے : لا خیر فی کثیر من نجواھم الا من امر بصدقۃ او معروف او اصلاح بین الناس ، ومن یفعل ذلک ابتغاء مرضات اللہ فسوف نوتیہ اجراً عظیما ( لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی ، ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو ی البتہ بھلی بات ہے اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا اسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے۔ وصیت کے اندر جنف یعنی حق اور انصاف سے ہٹ کر اقدام کرنے کی سنگینی کے سلسلے میں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، ان سے احمد بن الحسن نے، ان سے عبدالصمد بن حسان نے ان سے سفیان ثوری نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ انہوں نے فرمایا : وصیت کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہوں میں شالم ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ( یہ اللہ کی مکر کردہ حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرنا) عبدالباقی ن ہی روایت بیان کی، ان سے القاسم بن زکریا اور محمد اب اللیث نے ، ان سے عبداللہ بن یوسف نے، ان سے عمر بن المغیرہ نے دائود بن ابی ہند سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : وصیت کے ذریعے نقصان پہنچانا کبائر میں سے ہے۔ عبدالباقی نے رواییت بیان کی کہ ان سے طاہر بن عبدالرحمن بن اسحق القاضی نے، ان سے یحییٰ بن معین نے، ان سے عبدالرزاق نے، ان سے معمر نے اشعث سے، انہوں نے شہر بن حوشب سے اور انہوں نے حضرت ابوہرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ایک شخص ستر برسوں تک خبتیوں والے عمل کرتا ہے۔ پھر جب وصیت کرتا ہے تو اپنی وصیت میں ظلم کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر اپنے بدترین عمل پر اس کا خاتمہ لکھ دیا جاتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہوتا ہے ۔ اسی طرح ایک شخص ستر برسوں تک جہنمیوں والے کام کرتا ہے پھر وہ اپنی وصیت کے اندر انصاف سے کام لیتا ہے اور پھر اپنے بہترین عمل پر اس کا خاتمہ لکھ دیاجاتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ محمد بن بکر نے روایت بیان کی، ان سے ابودائود نے ، ان سے عبدہ، بن عبداللہ نے، ان سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے، ان سے نصر بن علی الحدانی نے، ان سے الاشعث بن جابر نے، ان سے شہر بن حوشب نے، ان سے حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : مرد اور عورت دونوں ساٹھ برسوں تک اللہ کی اطاعت میں عمل کرتے رہتے ہیں، پھر دونوں کی موت کا وقت آ جاتا ہے اور وہ وصیت کے اندر ضرر رسانی کرتے ہیں اور ان کے لیے آگ ( جہنم) واجب ہوجاتی ہے۔ پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ آیت پڑھی : من بعد وصیۃ یوصی بھا او دین غیر مضار ( جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوریکر دی جائے اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے ، بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو) اور : ذلک الفوز العظیم ( اور یہی بڑی کامیابی ہے) یہ حدیثیں اور ان کے ساتھ دیگر اقوال و آثار جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اس شخص پر جسے کسی وصیت کنندہ کی وصیت میں حق اور انصاف سے ہٹ جانے کا علم ہوجائے یہ امر واجب کردیتے ہیں کہ وہ اسے انصاف کی طرف لوٹائے، اگر اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ قول باری : بینھم میں ضمیر کا مرجع کون بنے گا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب اللہ سبحان، نے موصی کا ذکر فرمایا تو اس خطاب کے ضمن میں یہ بات آگئی کہ ایک موصی لہ ہوگا اور ورثا ہوں گے اور ان کے مابین تنازعہ ہوگا تو ان کے درمیان اصلاح کرانے کی بنا پر ضمیر کا مرجع مذکورہ افراد بنیں گے۔ فراء نے یہ شعر پڑھے تھے۔ وما ادری اذا یممت ارضا ارید الخیر ایھما یلینی الخیر الذی انا ابتغیہ ام الشوالذی ھو یبتغینی ( جب میں خیر کے ارادے سے کسی سرزمین کا قصد کرتا ہوں تو میں نہیں جانتا کہ کو نسی چیز مجھے ملے گی۔ آیا وہ خیر جس کی تلاش میں میں یا وہ شر جو میری تلاش میں ہے۔ شاعر نے پہلے شعر میں صرف خیر کآذکر کیا لیکن اس کے ساتھ خیر اور شر دونوں کے لیے ضمیر لے آیا کیونکہ خیر کے ذکر کی بنا پر اس لفظ کے ضمن میں شر پر بھی دلالت موجود تھی۔ ایک قول کے مطابق ضمیر ان لوگوں کی طرف عائد ہے جن کا ذکر ابتدائے خطاب میں ہوا ہے، یہ افراد والدین اور رشتہ دار ہیں۔ اس آیت نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہی، حاکم ، وارث اور ہر اس شخص پر جسے وصیت کے اندر ظلم اور جور کا علم ہوجائے خواہ یہ ظلم نا دانتہ طور پر ہوا، ہو یا دانستہ طور پر، لازم ہے کہ وہ مذکورہ وصیت کو انصاف کی طرف لوٹا دے۔ نیز یہ دلالت بھی موجود ہے کہ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سمعہ عدل و انصاف پر مبنی وصیت کے ساتھ خاص ہے اور ناانصافی پر مبنی وصیت اس میں داخل نہیں ہے۔ اس میں اجتہاد رائے اور ظن غالب پر عمل کے جواز پر بھی دلالت ہے کیونکہ حق و انصاف سے ہٹ جانے کا اندیشہ خائف کے ظن غالب پر مبنی ہوگا۔ آیت میں فریقین کے درمیان اصلاح کی نیت سے مداخلت کرنے کی بھی رخصت ہے اور اس سلسلے میں فریقین کی باہمی رضا مندی سے اصل حق میں جو کمی بیشی کی جائے اس کی بھی اجازت ہے۔ واللہ الموفق۔
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

مومنو ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

روزے کی فرضیت ارشاد باری ہے ( یایھا الذین امنو کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون، اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروئوں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ہم پر روزے فرض کردیے اس لیے کہ قول باری ( کتب علیکم کے معنی فرض علیکم کے ہیں۔ یعنی تم پر فرض کر دئیے گئے۔ مثلاً قول باری ہے ( کتب علیکم القتال وھوا کرہ لکم ، تم پر قتال فرض کیا گیا اور وہ تمہیں ناگوار ہے) اسی طرح ارشاد باری ہے ( ان الصلوٰۃ کانت علی المومنین کتابا موقوتا، نماز در حقیقت ایسا فرض ہے جو مقرر وقت کے ساتھ الہ ایمان پر لازم ہے) یعنی ایسا فرض جس میں پابندی وقت کا اہتمام کیا جائے۔ لغت میں سیام ک معنی امساک یعنی رک جانے کے ہیں۔ ارشاد باری ہے ( انی نذرت للرحمن صوما فلن اکلم الیوم انسیا ، میں نے رحمن کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے پج میں کسی نے بولوں گی) حضرت مریم کے اس قول کا مطلب ہے کہ میں نے بات نہ کرنے کا تہیا کیا ہے۔ بولنے سے رُک جانے کو صوم کہا گیا ہے اور کہا جاتا ہے۔ خیل صیام اور گھوڑے رک جانے والے چارہ کھانے ، اور محاورہ ہے ۔ صامت الشمس نصف النھار ، سورج دوپہر کے وقت کھڑا ہوگیا، یہ اس بنا پر ہے کہ اس وقت سورج حرکت کرنے سے رکتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور صیام کے یہ لغوی معنی ہیں۔ اور وہ شریعت میں کھانے پینے سے رک جانے کا نام ہے۔ شریعت میں اسی مفہوم کے ساتھ دن کے روزے میں جماع سے باز رہنے کا حکم ہے اور وہ مجمل لفظ محتاج بیان ہے اپنے ورود کے لحاظ سے، کیونکہ ایسا شرعی نام وضع کیا گیا ہے مختلف معانی کے لیے جو لغت میں تفصیلی معنی کے ساتھ موجود نہیں ہے۔ آیت کے لیے اس کی توضیح و تشریح کردینے ک بعد جب شریعت میں روزے کی عملی شکل متعین ہوگئی تو اس لفظ کے وہ معنی سمجھ میں آگئے جس کے لیے اسے وضع کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول ( کما کتب علی الذین من قبلکم کے تین معانی ہیں جو سب ک سب سلف سے مروی ہیں۔ حسن، شعبی اور قتادہ سے منقول ہے کہ ہم سے پہلے لوگوں یعنی نصاریٰ پر بھی رمضان کے مہینے یا اس کے مساوی دوسرے دنوں کے روزے فرض کئے گئے تھے۔ پھر انہوں نے یہ دن بدل ڈالے اور انذ کی تعداد میں اپنی طرف سے اضافہ کردیا۔ ابن عباس، ربیع بن انس اور سدی سے منقول ہے کہ روزہ عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سے لے کر اگلی نماز عشاء تک کا ہوتا تھا اور سوجانے کے بعد دوبارہ اٹھ کر کھانا پینا اور ہمبستری کرنا حلال نہ ہوتا، پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ بعض دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ہم مسلمانوں پر اسی طرح چند دنوں کے روزے فرض کیے گئے تھے جس طرح ہم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس صورت میں روزوں کی مقدار میں یکسانیت پر آیت کے الفاظ دلالت نہیں کرتے بلکہ اس میں مقدار کی کمی بیشی جائز ہے۔ مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ الذین من قبلکم سے مراد اہل کتاب ہیں۔ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے واسطے سے حضرت معاذ بن جبل سے مروی ہے کہ ” روزے کی فرضیت تین مرحلوں سے گزری ، حضور ﷺ جب مدینہ تشریف لے گئے تو آپ ﷺ نے ہر ماہ تین دنوں کے روزے اور یوم عاشورہ یعنی دسویں محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ( کتب علیکم الصیام) کے حکم کے ذریعے رمضان کے روزے فرض کر دئیے “۔ آگے حضرت معاز بن جبل نے جو کچھ فرمایا وہ حضرت ابن عباس کے درج بالا قول سے ملتا جلتا ہے۔ مصنف کتاب ابوبکر جصاص فرماتے ہیں :” چونکہ ( کما کتب علی الذین من قبلکم) کے الفاظ اس پر دلالت نہیں کرتے کہ اس سے کتنی تعداد مراد ہے یا روزے کی کیفیت کیا ہے یا اس کا وقت کونسا ہے، اس لیے لفظ صیام اپنے مدلول کے لحاظ سے مجمل تھا۔ اور اگر ہمیں گزشتہ لوگوں کے روزوں کا وقت اور ان کی تعداد معلوم ہوجاتی تو اس صورت میں درج بالا قرآنی الفاظ سے روزے کی کیفیت اور سو کر اٹھنے کے بعد روزہ دار پر عائد ہوجانے والے محطورات یعنی پابندیاں مراد لینا جائز ہوتا۔ پھر ہمارے لیے ان لوگوں کے روزوں کی پیروی کرنے کے سلسلے میں ظاہر لفظ کے استعمال کی گنجائش باقی نہ رہتی، جب ک اس کے فوراً بعد یہ ارشاد باری موجود ہے ( ایاما معدودات گنتی کے چند دن) اس کا اطلاق تھوڑے دنوں پر بھی جائز ہے اور زیادہ دنوں پر بھی ۔ لیکن جب سلسلہ آیات میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد آگیا ہے کہ ( شھر رمضان الدین انزل فیہ القران ھدی للناس و بینات من الھدی والفرقان، فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے) تو اس سے ایام معدودات ، کی تعداد، ان کا وقت اور ان میں روزہ رکھنے کا حکم بیان ہوگیا، ابن ابی لیلیٰ سے بھی یہی معنی مروی ہیں۔ ابن عباس اور عطاء سے مروی ہے کہ ( ایاماً معدودات) سے مراد ہر ماہ کے تین روزے ہے جب تک رمضان کا حکم نازل نہیں ہوا، پھر نزول رمضان کے ساتھ ہی یہ منسوخ ہوگئے ( فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر، پس جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔