2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاحکام القرآن

Ayah 2:191

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکہ سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل و خونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کر ڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے

ارشاد باری (واقتلوھم حیث تقفتموھم واخرجوھم من حیث اخرجو کم) میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مشرکین جہاں کہیں بھی قابو میں آ جائیں انہیں نہ چھوڑو بلکہ ا ن کی گردنیں اڑا دو یہ حکم تمام مشرکین سے جنگ کرنے کے متعلق عام ہے۔ خواہ وہ ہم سے برسر پیکار ہوں یا نہ ہوں البتہ وہ جنگ میں حصہ لینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ اس لئے کہ عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت ایک متفقہ مسئلہ ہے نیز حضور ﷺ نے گرجا گھروں کے باسیوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اگر ارشاد باری (وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم) سے مراد ہم سے جنگ کرنے والوں سے جنگ کرنا ہے اور جو جنگ کے قابل نہیں ان سے ہاتھ روکنا ہے اور قول باری (ولا تعتدوا ان اللہ لایحب المعتدین ) میں ان لوگوں سے جنگ کرنے کی ممانعت ہے جو ہم سے جنگ نہیں کرتے تو لامحالہ اس آیت کو قول باری (واقتلوھم حیث ثقفتموھم) کی وجہ سے منسوخ ماننا پڑے گا اس لئے کہ اس آیت میں ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم ہے جن کے قتل کی پہلی آیت میں ممانعت تھی اور (ولا تعبدوا) میں اعتداد کا اس جگہ مفہوم جنگ نہ کرنے والوں سے جنگ کرنا ہوگا اور قول باری (اخرجوھم من حیث اخرجوکم) کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تمہارے لئے ممکن ہو تو ان مشرکین کو مکہ سے نکال دو ۔ اس لئے کہ ان مشرکین نے مسلمانوں کو مکہ میں اس قدر تکلیفیں دیں کہ انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور ک ردیا۔ اس طرح یہ مشرکین مسلمانوں کو نکالنے والے بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (واذیمکربک الذین کفروا لیتبتوک اویقتلوک او یخرجوک ) اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ منکرین حق آپ کے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کردیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کردیں) پھر جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر قتال فرض کردیا تو انہیں یہ حکم دیا کہ ان منکرین حق کو طاقت کے ذریعے مکہ سے نکال دیں ۔ کیونکہ مسلمانوں کو مکہ کے اندر جنگ سے منع کردیا گیا تھا۔ الا یہ کہ مشرکین مکہ میں بھی جنگ پر کمر بستہ ہوجائیں۔ اس صورت میں قول باری (واقتلوھم حیث ثقفتموھم) تمام مشرکین کے متعلق ایک عام حکم ہوگا۔ البتہ اس حکم سے وہ مشرکین مستثنیٰ ہوں گے جو مکہ میں رہتے ہوں۔ ان کو مکہ سے نکال دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان میں سے صرف ان لوگوں کے خلاف جنگ کی اجازت تھی جو جنگ پر کمربستہ ہوجاتے۔ اس کی دلیل خطاب کے تسلسل میں وہ ارشاد باری ہے جس میں فرمایا گیا کہ (ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام حتی یقاتلو کم فیہ) اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ قول باری (واقتلوھم حیث ثقفتموھم) ان مشرکین کے متعلق ہے جو مکہ کے سوا دوسری جگہوں پر رہنے والے تھے۔ ارشاد باری ہے (وائفتنہ اشد من القتل۔ قتل اگرچہ برا ہے لیکن فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے) سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ فتنہ سے مراد کفر ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مشرکین مسلمانوں کو اذیتیں دے دے کر آزمائشوں میں مبتلا کرتے اور انہیں کفر پر مجبور کرتے تھے اور جب ایک صحابی حضرت واقد بن عبداللہ نے ماہ حرام یعنی رجب میں ایک مشرک عمرو بن الحضرمی کو قتل کردیا تھا تو مشرکین مسلمانوں کو طعنے دیتے تھے کہ محمد (ﷺ ) نے ماہ حرام میں قتال کو حلال کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (والفتنۃ اشد من القتل) یعنی ان مشرکین کا کفر اور بلد حرام مکہ کے اندر اور ماہ حرام کے دوران مسلمانوں کو اذیتیں دینا ماہ حرام میں کسی کو قتل کردینے سے بڑھ کر گناہ اور سنگین جرم ہے۔ قول باری (ولاتقاتلوھم عند المسجد الحرام حتی یقاتلوکم فیہ) میں (حتی یقاتلوا کم فیہ) سے مراد یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں سے تم میں سے کسی کا خون بہہ جائے جس طرح کہ قول باری (ولا تلمزوا انفسکم) میں مراد یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی عیب جئوی نہ کرو۔ کیونکہ یہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مشرکین کے قتل کا حکم دے جبکہ تمام مسلمان پہلے ان کے ہاتھوں قتل ہوجائیں۔ آیت سے یہ مفہوم مستفاد ہوتا ہے کہ مکہ میں ایسے شخص کے قتل پر پابندی ہے جس نے وہاں کسی کو قتل نہیں کیا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی مشرک حربی مکہ میں پناہ لے لے اور سا نے جنگ میں بھی شرکت نہ کی ہو تو اسے وہاں قتل نہیں کیا جاسکتا۔ آیت کے عموم سے یہ بھی استدلال کیا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو قتل کر کے مکہ میں پناہ لے لے تو اسے وہاں اس جرم میں قتل نہیں کیا جائے کیونکہ ہر قسم کے انسان کے قتل کی ممانعت کے حکم میں یہ فرق نہیں کیا گیا کہ کون وہاں کسی کو قتل کرنے کے بعد آگیا ہے اور کون اس کے بغیر آیا ہے۔ آیت کے مضمون سے یہ بات لازم ہوگئی کہ حرم میں ہم کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے خواہ وہ حرم سے باہر سکی کو قتل کرنے کے بعد وہاں آگیا ہو یا اس کے بغیر وہاں داخل ہوگیا ہو۔ البتہ جس شخص نے حرم کے اندر کسی کا خون بہایا ہو اسے قصاص میں حرم کے اندر قتل کردیا جائے گا۔ کیونکہ قول باری ہے (فان قاتلوکم فاقتلوھم) اگر یہ کہا جائے کہ درج بالا آیت قول باری صوقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین للہ، اور تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہوجائے) سے منسوخ ہوگئی ہے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جب دونوں آیتوں پر عمل ممکن ہو تو نسخ ثابت نہیں ہوگا۔ خاص کر جب کہ اہل علم کے درمیان اس کے نسخ کے بارے میں اختلاف ہو۔ اس صورت مں (وقاتلوھم حتی لاتکو نفتنۃ) کا حکم غیر حرم کے لئے ہوگا، حرم میں پناہ لینے والے انسان خواہ وہ مجرم ہی کیوں نہ ہوں، کے قتل کی ممانعت کے سلسلے میں اس آیت کی نظیر قول باری ومن دخلہ کان امناً جو شخص بھی اللہ کے گھر میں داخل ہوگا وہ مامون ہوجائے گا) ہے یہ فقرہ قتل ہوجانے کے خوف سے امن کے معنی پر بھی حاوی ہے۔ اس لئے آیت سے مراد یہ ہوئی کہ جو شخص قتل کئے جانے کا مستحق تھا جب حرم میں داخل ہوگا تو داخل ہوتے ہی مامون ہوجائے گا۔ اسی طرح قول باری (واذ جعلنا لابیت مثابۃ للناس وامناً اور یاد کرو جبکہ ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لئے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا) بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ قتل کا مستحق شخص جب حرم میں پناہ لے لے گا تو وہ مامون ہوجائے گا اور وہاں پہنچتے ہی اس سے قتل کا حکم ٹل جائے گا۔ علاوہ ازیں اگر (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین للہ) کا نزول سلسلہ خطاب کی ابتداء میں (ولاتقاتلوھم عند المسجد الحرام) کے ساتھ ہوتا تو بھی یہ درست نہ ہوتا کہ یہ موخر الذکر آیت کے لئے ناسخ بن جائے، اس لئے کہ نسخ اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک سابقہ حکم پر عمل کرنے کا موقعہ اور قدرت حاصل نہ ہوجائے۔ اس لئے ناسخ اور منسوخ دونوں کا ایک ہی سلسلہ خطاب میں پایا جانا درست نہیں ہے۔ اب جبکہ دونوں حسب تقاضائے سلسلہ تلاوت اور نظام تنزیل ایک ہی سلسلہ خطاب میں جمع ہوگئے ہیں تو اب کسی کے لئے یہ جائز نہ ہوگا کہ ان دونوں آیتوں کے نزول کی تاریخوں اور ان میں فاصلہ، زمانی کا نقل صحیح کے بغیر ثبوت پیش کرے جبکہ کسی کے لئے اس سلسلے میں سکی صحیح روایت کا دعویٰ کرنا ممکن ہی نہیں۔ صرف ربیع بن انس سے ایک قول منقول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوھم حتی لاتکو نفتنۃ) سے منسوخ ہوگئی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ یہ (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم) سے مسنوخ ہوگئی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ قتادہ کی یہ اپنی رائے اور ایک تاویل ہو۔ اس لئے کہ قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم) لامحالہ سورة بقرہ کے بعد نازل ہوا ہے۔ اس کے متعلق اہل نقل میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو نسخ پر دلالت کرتی ہو اس لئے کہ ان دونوں پر عمل ممکن ہے۔ وہ اس طرح کہ (فاقتلوا المشرکین) کو قول باری (ولا تقاتلوا ھم عند المسجد الحرام) پر مترب سمجھا جائے تو اس صورت میں معنی کے لحاظ سے فقرہ یوں بنے گاے ”(اقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم الاعنہ المسجد الحرام الا ان یقاتلوکم فیہ فان قاتلوکم فاقتلوھم “ (مشرکین کو جہاں کہیں بھی پائو قتل کرو ، مسجد حرام کے سوا) الایہ کہ وہ تم سے وہاں جنگ کریں۔ اگر وہ وہاں ایسا کریں پھر تم انہیں وہاں بھی قتل کرو۔ ) اس مفہوم پر حضرت ابن عباس ، حضرت ابو شریح خزاعی اور حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضور ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا (ایھا الناس ان اللہ تعالیٰ حرم مکۃ یوم خلق السماوات والارض لم تحل لاحد قبلی ولا تحل لاحد بعدی وانما احلت لی ساعۃ من نھارثم عادت حراماً الی یوم القیامۃ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے مکہ کو اس دن ہی حرمت کی جگہ بنادیا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی تھی پھر اس کی حرمت نہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے اٹھائی گئی اور نہ میرے بعد کسی کے لئے اٹھائی جائے گی اور میرے لئے بھی ایک گھڑی بھر کے لئے اس کی حرمت اٹھائی گئی تھی اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت لوٹ آئی ہے۔ بعض روایات میں یہ الفاظ بھی ہیں (فان ترخم مترخص بقتال رسول اللہ ﷺ فانما اھلت لی ساعۃ من نھار، اگر کوئی شخص اللہ کے رسول ﷺ کی جنگ کو دیکھتے ہوئے اس کی حرمت کے اٹھائے جانے کی گنجائش کا طلبگار ہو تو وہ سن لے کہ میرے لئے بھی اس کی حرمت گھڑی بھر کے لئے اٹھائی گئی تھی۔ ) اس حدیث کے ذریعے حرم میں قتال کی ممانعت ثابت ہوگئی۔ صرف اس صورت میں اس کا جواز رہ گیا کہ مشرکین مسلمانوں سے حرم میں ہی برسر پیکار ہوجائیں۔ عبداللہ بن ادریس نے محمد بن اسحق سے ، انہیں سعید بن ابی سعید المقبری نے ابوشریح خزاعی سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ اس میں یہ الفاظ آئے ہیں (وانما احل لی القتال بھا ساعۃ من نھار، میرے لئے بھی یہاں قتال دن کی ایک گھڑی کے لئے حلال کردیا گیا تھا) اس مفہوم پر حضور ﷺ سے مروی ایک دوسری روایت بھی دلالت کرتی ہے کہ آپ نے اس دن خطبہ دیتے ہوئے جبکہ آپ کو اطلاع ملی کہ قبیلہ خزاعہ کے ایک شخص نے قبیلہ بذیل کے ایک شخص کو قتل کردیا ہے۔ فرمایا (ان اعت یالنسا علی اللہ ثلالۃ رجل قتل غیر فاتلہ و رجل قتل فی الحرم و رجل قتل بذحل الجاھلیۃ اللہ کے ہاں تین قسم کے لوگ سب سے زیادہ سرکش شمار ہوتے ہیں، پہلا وہ شخص جو اس شخص کو قتل کر ڈالے جو اس کا قاتل نہ ہو یعنی اس کے دل میں اسے قتل کرنے کی نیت نہ ہو محض شک کی بنا پر وہ اس پر ہاتھ اٹھالے دوسرا وہ جو حرم میں قتل کرے اور تیسرا وہ جو زمانہ جاہلیت کی دشمنی یا خون کے بدلے کی بنا پر زمانہ اسلام میں کسی کو قتل کرے۔ ) یہ حدیث حرم میں اس شخص کے قتل کی حرمت پر جس نے وہاں کوئی جرم قتل نہیں کیا دو طریقوں سے دلالت کرتی ہے ۔ اول یہ کہ حرم میں قتل کرنے والے کی عمومی انداز میں مذمت کی گئی ہے۔ دوم یہ کہ اس کے ساتھ اس شخص کے قتل کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو قتل کا مستحق نہیں تھا تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اس سے مراد اس شخص کا قتل ہے جو قتل کا مستحق ہوگیا لیکن حرم میں پناہ حاصل کرلی اور اس طرح حضور ﷺ نے یہ بتادیا کہ حرم میں جو شخص بھی آ کر پناہ لے لے اس کے قتل پر پابندی ہے ۔ ہم نے حرم میں پناہ لینے والے کے قتل کی ممانتع کے سلسلے میں جن آیات کی تلاوت کی ہے ان کی دلالت صرف قتل کی ممانتع تک محدود ہے۔ ان میں جان لینے سے کم کے جرم سے متعلق حکم پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ اس لئے کہ قول باری (ولاتقتلوھم عند المسجد الحرام) صرف حکم قتلم پر مشتمل ہے۔ اسی طرح قول باری (ومن دخلہ کان امنا) اور قول باری (مثابۃ للناس و امناً ) کا ظاہری مفہوم قتل سے مامون ہونا ہے اور قتل کے سوا دوسری سزائوں سے امن کے حکم کا اس میں دخول کسی دلیل کی بنا پر ہوگا اس لئے کہ قول باری (ومن دخلہ) اور انسان کے لئے اسم ہے اور (کان امناً ) بھی اسی کی طرف راجع ہے۔ اس بنا پر آیت کا مقتضی یہ ہے کہ امن کا حکم انسا ن کے لئے ہے نہ کہ اس کے اعضاء کے لئے۔ اس کے باوجود اگر لفظ میں جا ناو جان سے کم یعنی اعضاء کے مفہوم کی گنجائش ہو تو ہم نے ان سے کم کی تخصیص دلیل کی بنا پر کی ہے اور جان کے متعلق لفظ کا حکم بحالہ باقی ہے۔ اب چونکہ اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر کسی شخص کے ذمے قرض کی رقمیں ہوں اور وہ بھاگ کر حرم میں چلا جائے تو اسے حرم میں قید کیا جاسکتا ہے اور حرم میں داخلے کی وجہ سے وہ قید سے بچ نہیں سکتا۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے کوئی شخص اگر کسی کا کوئی ایسا حق لے کر جو جان سے کم ہو حرم میں داخل ہوجائے تو حرم کی وجہ سے وہ اس حق کے سلسلے میں سزا سے بچ نہیں سکتا۔ ارشاد باری (فان انتھوا فان اللہ غفور رحیم اگر یہ باز آ جائیں تو اللہ غفور رحیم ہے ) یعنی اگر یہ کفر سے باز آ جائیں تو ان کی اللہ تعالیٰ بخشش کر دے گا اس لئے کہ لفظ (فان انتھوا) شرط ہے جو اب شرط کا متقاضای ہے۔ آیت کی اس پر دلالت ہو رہی ہے کہ اگر کسی شخص نے قتل عمد کا ارتکاب کیا ہو تو اس کے لئے بھی توبہ کی گنجاش ہے کیونکہ کفر قتل سے زیادہ سنگین گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ہے کہ وہ کفر سے توبہ کو قبول کرتا اور اس کا گناہ بھی معاف کردیتا ہے۔
Ayahs 2:192–193

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیے)

قول باری (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین للہ) کافروں سے قتال کی فرضیت کو ضروری قرار دیتا ہے حتیٰ کہ وہ کفر سے باز آ جائیں ۔ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ یہاں فتنہ سے مراد شرک ہے۔ ایک قول ہے کہ کفر کو اس لئے فتنہ کہا گیا ہے کہ یہ انسان کو ہلاکت تک لے جاتا ہے جس طرح فتنہ انسان کو ہلاکت کی راہ دکھاتا ہے۔ ایک قلو یہ بھی ہے کہ فتنہ سے مراد آزمائش ہے اور کفر سے مراد آزمائش کی گھڑی میں اظہار فساد ہے۔ دین کے معنی طاعات کے ذریعے اللہ کے سامنے جھک جانے اور فرماں برداری بجا لانے کے ہیں۔ لغت میں دین کا مفہوم دو معنوں میں منقسم ہے۔ اول انقیاد یعنی فرماں برداری۔ اعشیٰ کا شعر ہے۔ ھودان الدباب اذکر ھوالدب ن درا کا بغروۃ وصیال ثم دانت بعد الرباب وکانت کعذاب عقوبۃ الاقوال جب لوگوں نے جنگوں اور حملوں کے لگاتار سلسلے کے سامنے خود سپردگی کو ناپسند کیا تو اس نے اپنی محبوبہ رباب کی فرماں برداری اختیار کرلی اس کے بعد رباب نے اس کی فرما برداری اختیار کی لیکن وہ منہ سے نکالے ہوئے الفاظ کے نتیجے میں ملنے والی سزائوں والی عذاب بن گئیے۔ دوم۔ عادت ۔ شاعر کا شعر ہے تقول و قدد رأت لھا وضینی اھذا دینہ ابداً و دینی میں نے اپنا بالوں سے بنا ہوا نمدہ یا بسترہٹا لیا تو وہ کہنے لگی کیا ہمیشہ اس کی یہی عادت رہی ہے اور میری بھی۔ شریعت میں دین کا مفہوم اللہ کی دائمی طور پر فرماں برداری اور اسکے لئے خود سپردگی کی عادت ہے یہ آیت خاص طور پر مشرکین کے بارے میں ہے۔ اہل کتاب اس میں داخل نہیں ہیں۔ اس لئے کہ خطاب کی ابتداء ان مشرکین کے ذکر سے ہوئی ہے چناچہ فرمایا گیا (واقتلوھم حیث تقفتموھم واخرجوھم من حیث اخرجوکم) یہ کیفیت مشرکین مکہ کی تھی جنہوں نے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو مکہ سے نکالا تھا اس لئے اہل کتاب اس حکم میں داخل نہیں ہیں۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ مشرکین عرب سے اسلام یا تلوار کے سوا کوئی تیسری چیز قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ قول باری ہے (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنہ) عینی کفر باقی نہ رہے۔ اور (ویکون الدین للہ) اللہ کا دین اسلام ہے۔ قول باری ہے (ان الدین عند اللہ الاسلام ) دین اللہ کے ہاں اسلام ہے۔ اور قول باری (فان انتھوا فلاعدوان الا علی الظالمین، اگر یہ باز آ جائیں تو ظالموں کے سوا کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی) معنی یہ ہے کہ ان کے باز آ جانے کی صورت میں ظالموں کے سوا اور کسی کو قتل کی سزا نہیں ملے گی۔ اس سے مراد … واللہ اعلم … وہ قتل ہے جس کی ابتداء کا ذکر صوقاتلوھم) کے قول سے ہوا تھا۔ کفر کی وجہ سے مشرکین جس قتل کے سزا وار ٹھہر ی تھے اسے عدوان کا نام دیا گیا کیونکہ یہ ان کے ظلم کی سزا تھی۔ سزا کے لئے اصل جرم کا نام تجویز کیا گیا جس طرح کہ قول باری (وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا، اور بدی کا بدلہ اس جیسی بدی ہے۔ ) اسی طرح (فمن اعتدیٰ علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم جو شخص تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس کے ساتھ اسی طرح زیادتی سے پیش آئو جس طرح وہ تمہارے ساتھ پیش آیا ہے) حالانکہ بدی اور زیادتی کا بدلہ نہ بدی ہے اور نہ زیادتی ۔ ارشاد باری ہے (الشھر الحرام باشھر الحرام و الحرمات قصاص، ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا) حسن سے مروی ہے کہ مشرکین عرب نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ آیا آپ کو ماہ حرام میں ہمارے ساتھ جنگ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے اثبات میں جوا بدیا۔ مشرکین نے موقعہ غنیمت جان کر ماہ حرام میں مسلمانوں پر حملہ کرنے اور ان سے برسر پیکار ہونے کا ارادہ کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مقصد یہ ہے کہ اگر مشرکین نے ماہ حرام میں جنگ وجدل کا دروازہ کھول دیا تو تم بھی اسی طرح ان کے مقابلے میں جنگ وجدل کا راستہ اختیار کرو۔ حضرت ابن عباس، ربیع بن انس، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ قریش نے جب حضور ﷺ کو ذی قعدہ کے مہینے میں جو ماہ حرام تھا، حدیبیہ کے دن حالت احرام میں ہونے کے باوجود بلد حرام مکہ سے واپس کردیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے اسی ماہ ذی القعدہ میں مکہ میں داخل ہونے کی راہ ہموار کردی۔ آپ نے عمرہ ادا کیا اور حدیبیہ کے دن آپ کے اور مکہ کے درمیان جو رکاوٹ کھڑی کردی گئی تھی اس کا بدلہ لے لیا۔ اب یہاں آیت سے دونوں معنی مراد لینا ممتنع ہے۔ اس صورت میں ایک معنی کے لحاظ سے اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی گئی ہے کہ مشرکین نے ماہ حرام میں حضور ﷺ کو بلا حرام میں داخل ہونے سے روکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اگلے سال ماہ حرام میں حضور ﷺ کو بلا حرام میں لے جا کر اس کا بدلہ چکا دیا۔ اس کے ساتھ ہی آیت میں ماہ حرام کے اندر قتال کی اباحت کا مضمون بھی موجود ہے بشرطیکہ مشرکین مسلمانوں کے خلاف ایسا قدم اٹھا لیں۔ بیک وقت دونوں معنی مراد لینا اس لئے ممتنع ہے کہ ایک ہی لفظ بیک وقت امر اور خبر نہیں بن سکتا اور جب ایک معنی مراد ہ گا دوسرے معنی کی خود بخود نفی ہوجائے گی۔ البتہ اس کی گنجائش ہے کہ ماہ حرام میں کفار کی رکاوٹ کی وجہ سے فوت شدہ عمرے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اگلے سال ماہ حرام میں جو عمرہ کرا دیا تھا آیت میں اس کی خبر دی جا رہی ہے اور بدلے میں آنے والے ماہ حرام کی حرمت اسی طرح ہے جس طرح فوت شدہ ماہ حرام کی حرمت تھی۔ اسی واسطے فرمایا (والحرمات قصاص) اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا۔ اور اس کے بعد ہی فرمایا (فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم) لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو) اللہ نے یہ بتادیا کہ اگر مشرکین ماہ حرام میں جنگ کا دروازہ کھولیں تو مسلمان بھی ایسا ہی کریں اگرچہ مسلمانوں کو اس کی ابتداء کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ آیت میں بدلے کا نام بھی اعتداء رکھا گیا اس لئے اعتداء کا بدلہ اپنے جنس اور اس مقدار کے لحاظ سے جس کا وہ سزا وار ہوتا ہے ، اعتداء کی طرح ہوتا ہے۔ اس بنا پر مجازی طور پر بدلہ کو اعتداء کا نام دے دیا گیا اس لئے کہ زیادتی کرنے والا حقیقت میں ظالم ہوتا ہے اس بنا پر یہاں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مسلمانوں کو ظلم کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ آیت میں اس بارے میں عموم ہے کہ جو شخص کسی دوسرے کا مال استعمال میں لا کر ختم کر دے تو اس پر اس کا مثل واجب ہوگا۔ پھر اس مثل کی دو صورتیں ہیں۔ جنس میں مثل ہونا اور یہ بات ان چیزوں میں ہوتی ہے جو ناپ، تول اور گنتی کے ضمن میں آتی ہوں اور قیمت میں مثل ہوں اس لئے کہ حضور ﷺ نے ایک غلام کے جھگڑے میں جو دو شخصوں کی ملکیت میں تھا پھر ایک نے جو خوشحال تھا اسے آزاد کردیا۔ “ یہ فیصلہ دیا کہ آزاد کرنے والا تاوان کے طور پر دوسرے کو غلام کی نصف قیمت ادا کرے۔ آپ نے اعتداء یعنی زیادتی کی وجہ سے لازم ہونے والے مثل کو قیمت کی شکل دی۔ اس لئے اس باب میں اس کی حیثیت اصل کی ہوگی۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ مثل کا اطلاق قیمت پر بھی ہوتا ہے اور یہ اس کے لئے اسم بنتا ہے۔ نیز اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ مثل کا اطلاق کبھی اس چیز کے لئے اسم کے طور پر بھی ہوتا ہے جو اس کے جنس سے نہیں ہوتی بشرطیکہ وہ چیز اس مثل کا بدل اور مقدار میں اس کی نظیر بن سکتی ہو۔ اس کے لئے یہ صورت پیش کی جاسکتی ہے کہ جس شخص نے دوسرے کے ساتھ اس پر زنا کی تہمت لگا کر زیادتی کی تو اس صورت میں اس کے مثل یہ سزا نہیں ہ گی کہ اس پر بھی اسی قسم کی تہمت لگا دی جائے۔ بلکہ وہ جس مثل ک امستحق ہوگا وہ اسی کوڑے ہوں گے جو اسے لگائے جائیں گے۔ اسی طرح وہ اگر کسی کو ایسی گالی دے جو تہمت سے کم ہو تو اسے تعزیری سزا دی جائے گی۔ یہ تعزیری سزا اس کے جرم کا مثل ہوگی۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ مثل کے اسم کا اطلاق کبھی ایسی چیز پر بھی ہوتا ہے جو اس کے جنس میں سے نہیں ہوتی لیکن اس کا بدل اور عائد ہونے والی سزا کی مقدار میں اس کی نظیر بن سکتی ہو۔ اس سے اس مسئلے میں بھی استدلال کیا جاسکتا ہے جس میں کوئی شخص کسی کی ساگوان کی لکڑی غصب کر کے اپنی عمارت میں لگا دے تو اس پر اس لکڑی کی قیمت عائد ہوگی اس لئے کہ قیمت پر مثل کے اسم کا اطلاق ہوتا ہے چونکہ غاصب نے یہ لکڑی غصب کر کے زیادتی کی ہے اس لئے اس پر عموم حق کی وجہ سے اس کا مثل عائد ہوگا یعنی اسے لکڑی کی قیمت دینی پڑے گی۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہم اس شخص کا مکان گرا کر اگر غصب شدہ لکڑی نکال لیں تو ایسی صورت میں ہماری طر سے اس پر اتنی ہی زیادتی ہوگی جتنی اس نے ہم پر کی تھی اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ غاصب سے اپنی مملوکہ چیز بعینہ واپس لے لینا اس کے ساتھ زیادتی نہیں ہے جس طرح کہ ایک شخص کے پاس رکھی ہوئی امانت کی واپسی اس شخص کے ساتھ زیادتی نہیں کہلاتی۔ زیادتی تو اس صورت میں ہوگی جبکہ وہ چیز غاصب کی ملکیت سے اسی طرح نکال لی جائے جس طرح اس نے نکالی تھی یا اس چیز پر اس کا قبضہ اسی طرح ختم کر ا دیا جائے جس طرح اس نے اصل مالک کا قبضہ ختم کرا دیا تھا۔ لیکن اگر مالک اپنی مملوکہ چیز بعینہ واپس حاصل کرلیتا ہے تو وہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا اور نہ ہی اس میں مثل واپس ہوتا ہے۔ اس سے اس مسئلے میں بھی استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قصاص کی جن صورتوں میں مماثلت اور مساوات ممکن ہو ان میں پورا پورا قصاص واجب ہوتا ہے اور ان صورتوں میں نہیں ہوتا جہاں مماثلت ممکن نہیں ہوتی مثلاً نصف باز و قطع کردینے یا پیٹ اور سر پر زخم لگانے کے جرم میں قصاص ساقط ہوجاتا ہے اس لئے کہ ان صورتوں میں مماثلت متعذر ہوتی ہے اور ان کے مثل کی پوری وصول محال ہوتی ہے۔ امام ابوحنیفہ نے اسی اصول کی بنا پر یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کا ہاتھ کاٹ دے اور پھر اسے قتل کر دے تو مقتول کے ولی کو یہ حق پہنچنا ہے کہ وہ قاتل کو بھی اسی طریقے سے قتل کر دے کیونکہ قول باری ہے (فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم) آیت کا مقتضی یہ ہے کہ قاتل کے ساتھ بھی وہی سلوک ہونا چاہیے جو اس نے مقتول کے ساتھ کیا تھا۔ ارشاد باری ہے (وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلفوا بایدیکم الی التھلکۃ، اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں بہت سے اقوال ہیں۔ ایک وہ ہے جس کی روایت ہمیں محمد بن بکر نے کی، انہیں ابودائود نے ، انہیں احمد بن عمرو بن السرح نے ، انہیں ابن وہب نے حیوۃ بن شریح سے اور ابن لھیعہ نییزید بن ابی حبیب سے ان دونوں نے اسلم ابو عمران سے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا، عبدالرحمٰن بن ولید ہمارے سالار تھے ادھر رومی ہمارے مقابلے پر اس طرح آئے کہ انہوں نے اپنی پشت کو شہر کی دیوار سے چپکائے رکھا تھا ہمارے ایک آدمی نے دشمن پر حملہ کردیا، لوگوں نے اس سے رک جانے کے لئے کہا کہ یہ تو اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔ لوگوں کا اشارہ آیت (ولا تلقوا بایدفکم الی التھلکۃ) کی طرف تھا، حضرت ابو ایوب انصاری نے یہ سن کر فوراً محسوس کیا کہ لوگوں نے آیت کو بےمحل استعمال کیا ہے۔ اس لئے آپ نے ان کی تصحیح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس آیت کا نزول ہم انصار مدینہ کے سلسلے میں ہوا تھا بات یہ ہوئی کہ جب اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی نصرت فرمائی اور اپنے دین اسلام کو غلبہ عطا کیا تو ہم نے کہا کہ اب اسلام کے لئے زیادہ جدوجہد کی ضرورت نہیں ہے کیوں نہ ہم اپنے مال و اسباب میں مصروف ہو کر ان کی دیکھ بھال کریں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدکم الی التھلکۃ) اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے کاروبار اور مال و اسباب میں مصروف ہو کر ان کی فکر میں لگ جائیں اور جہاد چھوڑ بیٹھیں۔ ابو عمران کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاری مسسلل جہاد کرتے رہے حتیٰ کہ آپ کا وہیں انتقال ہوگیا اور قسطنطنیہ میں مدفون ہوئے حضرت ابو ایوب انصاری نے یہ بتایا کہ ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب ترک جہاد ہے اور آیت کا نزول اسی سلسلے میں ہوا تھا۔ حضرت ابن عباس، حضرت عذیفہ، حسن بصری، قتادہ، مجاہد اور ضحاک سے بھی سی طرح کی روایت ہے۔ حضرت براء بن عاذب اور عبیدہ سلمانی سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب معاصی کے ارتکاب پر بخشش سے مایوسی ہے۔ ایک روایت ہے کہ اس کا مطلب خرچ میں اسراف ہے۔ یہاں تک کہ اس کے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز باقی نہ رہ جائے اور فاقہ کشی میں اپنی جان گنوا بیٹھے ۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد دشمنوں کی صفوں میں اندھا دھند گھس پڑنا کہ جس سے دشمن کا کوئی نقصان تو نہ ہو لیکن اپنی جان چلی جائے۔ آیت کی یہ تاویل ان لوگوں نے کی تھی جنہیں حضرت ایوب انصاری نے ان کی غلطی سے آگاہ کر کے اصل شان نزول کی خبر دی تھی۔ اگر آیت سے درج بالا تمام معانی مراد لئے جائیں تو اس میں قباحت نہیں ہے کیونکہ آیت کے الفاظ میں ان سب کا احتمال موجود ہے اور چونکہ ان معانی کا آپس میں کوئی تضادیا منافاقت نہیں ہے اس لئے ان سب کا بیک وقت اجتماع جائز ہے۔ امام محمد بن الحسن شیبانی نے سیر کبیر میں بیان کیا ہے کہ اگر ایک مسلمان تن تنہا دشمن کے ایک ہزار افراد پر حملہ آور ہو جائیتو اس پر کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس مجاہد کے دل میں بذریعہ شہادت اپنی نجات یا بذریعہ شجاعت دشمن کو نقصان پہنچانے کا جذبہ موج زن ہو۔ اگر ان میں سے کوئی جذبہ بھی کار فرما نہ ہو تو میرے نزدیک اس کا یہ اقدام مکروہ ہوگا اس لئے کہ وہ اپنی جان ہلاکت میں ڈالے گا اور اس سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ایک انسان کو یہ قدم اسی وقت اٹھانا چاہیے جبکہ اسے اپنی نجات یا مسلمانوں کی منفعت مقصود ہو۔ اگر اسے نہ تو نجات کا طمع ہو نہ ہی دشمن کو نقصان پہنچانے کا جذبہ بلکہ وہ یہ قدم محض مسلمانوں میں حوصلہ اور جرأت پیدا کرنے کے لئے اٹھا رہا ہو تاکہ اس کی دیکھا دیکھی دوسرے مسلمان بی ایسا ہی قدم اٹھائیں اور یا تو دشمنوں کو نقصان پہنچائیں یا خود جام شہادت نوش کرلیں، تو ایسی صورت میں انشاء اللہ کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اگر اسے صرف دشمن کے ہاتھوں نقصان پہنچانے کا جذبہ یہ اس اقدام پر ابھارت ا اور اپنی نجات کا اسے کوئی خیال نہ ہوتا تو بھی اس کا دشمن پر حملہ کرنا میرے نزدیک کوئی غلط بات نہ ہوتی۔ ٹھیک اسی طرح اگر وہ دشمن کی صفوں میں گھس کر دوسروں کو نقصان پہنچانے کا جذبہ لے کر حملہ آور ہوتا ہے تو میرے نزدیک اس کا بھی یہی حکم ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اجر کا مستحق ہوگا مگر وہ صورت وہ ہوگی جبکہ اس کے اس اقدام میں منفعت کی کوئی بھ صورت نہ پائی جائے۔ اگر سا کے دل میں صرف دشمنوں کو مرعوب کرنے کا جذبہ ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ دشمن کو نقصان پہنچانے کی بہترین شکل ہے اور اس میں مسلمانوں کے لئے منفعت کا پہلو بھی موجود ہے۔ امام محمد نے فرد واحد کے حملے کی جتنی صورتیں بتائی ہیں وہی صورتیں درست ہیں۔ ان کے علاوہ اور کوئی صورت درست نہیں ہے اور ان ہی صورتوں پر ا نلوگوں کی تاویل کو محمول کیا جائے گا جن ہوں نے حضرت ابو ایوب انصاری کی حدیث میں اس شخص پر اس آیت کے مفہوم کو چسپاں کیا تھا جو تن تنہا دشمنوں پر حملہ کرنے کی نیت سے نکل کھڑا ہوا تھا۔ کیونکہ ان کے نزدیک اس شخص کے اس اقدام کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس لئے ایسی صورت میں اسے اپنی جان تلف نہیں کرنی چاہیے تھی اس سے نہ دین کو کوئی فائدہ پہنچتا نہ مسلمانوں کو۔ اگر اس کی جان جانے کی صورت میں دین کو کوئی نفع ہوتا تو یہ تو ایسا مرتبہ و مقام ہے جس کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی متعدد بار تعریف فرمائی۔ ارشاد باری ہے (ان اللہ اشتری من المئومنین انفسھم واموالھم بان لھوا الجنۃ یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون) اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جان و مال کی خرید داری کرلی ہے کہ انہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں اور پھر دشمنوں کو قتل بھی کرتے ہیں اور ان کے ہاتھوں قتل بھی ہوتے ہیں۔ ) اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہے (ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتاً بل احیاء عند ربھم یرزقون اور تم ان لوگوں کو ہرگز مردہ مت سمجھو جو اللہ کے راستے میں قتل ہوئے بلکہ وہ زندہ ہیں اور انہیں اپنے رب کی طرف سے رزق مل رہا ہے۔ ) ایک اور جگہ ارشاد ہے (ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا کے حصول کی خواہش میں اپنی جان کا سودا کر لیت یہیں) ان آیات اور ان جیسی دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان دے دیتے ہیں۔ ام بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم بھ یہی ہونا چاہیے کہ اگر کسی کو اس کام سے دین کو فائدہ پہنچنے کی امید ہو اور پھر وہ اس کام پر اپنی جان لگائے یہاں تک کہ اپنی زندگی بھی اس پر قربان کر دے تو وہ شہادت کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوجائے گا۔ قول باری ہے (وامر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک ان ذلک من عزم الامور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں اور اس س لسلے میں پہنچنے والی تکلیفوں کو صبر کے سات ھ برداشت کریں۔ بیشک یہ بڑے پختہ ارادے اور حوصلے کا کام ہے۔ عکرمہ کے واسطے سے حضرت ابن عباس سے حضور ﷺ کی یہ حدیث مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (افضل الشھداء حمزۃ بن عبدالمطلب ورجل تکلم بکلمۃ حق عند سلطان جائز فقتلہ، تمام شہیدوں میں سب سے افضل حمزہ بن عبدالمطلب ہیں نیز وہ شخص بھی ہے جس نے کسی ظالم سلطان کے سامنے حق بات کہہ دی اور اس وجہ سے سلطان نے اس کی گردن اڑا دی) حضرت ابو سعید خدری ؓ نے حضور ﷺ سے یہ روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (افضل الجھاد کلمۃ حق عند سلطان جائز، ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا بہترین جہاد ہے) محمد بن بکر نے ہمیں روایت کی، انہیں ابو دائود نے ، انہیں عبداللہ بن الجراح نے عبداللہ بنیزید سے، انہوں نے موسیٰ بن علی بن رباح سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے عبدالعزیز بن مروان سے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کو یہ فرمایت ہوئے سنا تھا کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ (شوما فی الرجل شح ھالع و جین خالع، ایک انسان میں بدترین چیز غم اگنیز شدت بخل اور قدم اکھاڑ دینے الی بزدلی ہے۔ ) بزدل کی مذمت سے بہادری اور جان بازی کے اقدام کی تعریف کا پہلو نکلتا ہے۔ ایسی بہادری اور جان بازی جس سے دین کو فائدہ پہنچنے اگرچہ خود اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہو۔ واللہ اعلم بالصواب